چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حقیقی جمہوریت کی بنیاد امن، انصاف اور عوامی حقوق ہیں، اس لیے جمہوریت کے نام پر ناانصافی کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔
مظفر آباد میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کے بارے میں عوام خود فیصلہ کریں کہ آیا یہ حقیقی جمہوری عمل تھا یا نہیں،میرپور ڈویژن کے عوام نے مشکل حالات کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی پر اعتماد کا اظہار کیا، جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں، انہوں نے چودھری یاسین، ملک ظفر، قاسم مجید، سردار سلطان، چودھری اخلاق، اور دیگر کامیاب امیدواروں کو مبارکباد بھی پیش کی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض حلقوں میں عوامی مینڈیٹ تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی اور کہا کہ میرپور اور کوٹلی کے عوام کے ووٹ پر کسی کو ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی بعض پولنگ اسٹیشنوں پر پیپلز پارٹی کے پولنگ ایجنٹس کو مبینہ طور پر باہر نکالا گیا، حملوں کے واقعات پیش آئے اور سیکیورٹی انتظامات مؤثر نظر نہیں آئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان واقعات اور ایک کارکن کے قتل کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔
انہوں نے واقعات کی تحقیقات کے لیے عدالتی یا آزاد تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائےریاستی فیصلوں میں قومی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے اور کسی جماعت کے مفاد کو پاکستان کے مفاد پر ترجیح نہیں دی جا سکتی، پیپلز پارٹی ریاست پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے، تاہم عوامی مینڈیٹ، جمہوری حقوق اور آزاد کشمیر کے وقار کے تحفظ کی جدوجہد بھی پوری قوت سے جاری رکھے گی۔
آخر میں انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ آئندہ مرحلوں میں مزید متحرک رہیں، عوام تک پارٹی کا پیغام پہنچائیں اور ووٹ کے حق کے تحفظ کے لیے پرامن جمہوری جدوجہد جاری رکھیں کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کے ووٹ سے ہونا چاہیے، کسی بھی شہری کو ووٹ کے حق سے محروم یا بائیکاٹ پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، جبکہ عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے پارٹی اپنی آئینی، قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عوام کسی جماعت کے بجائے اپنے علاقے اور مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے بہترین امیدوار کا انتخاب کریں اور ووٹ ڈالتے وقت امیدوار کی صلاحیت، کردار اور عوامی خدمت کو مدنظر رکھیں مایوسی کا شکار ہونے کے بجائے بھرپور انداز میں حقِ رائے دہی استعمال کریں کیونکہ ووٹ کا بائیکاٹ کسی مسئلے کا حل نہیں، جمہوری عمل میں بھرپور شرکت ہی مؤثر راستہ ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ میرپور میں عوامی مینڈیٹ متاثر ہوا اور کہا کہ موجودہ صورتحال کی شفاف تحقیقات کے لیے آزاد کمیشن قائم کیا جائے۔ کسی بھی پولنگ اسٹیشن پر قبضہ یا عوامی مینڈیٹ پر حملہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، جبکہ اپنے کارکنوں اور امیدواروں کے خلاف تشدد بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی پرامن اور جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے، اس لیے کسی کو اشتعال انگیزی کی کوشش نہیں کرنی چاہیے،انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی ہر فورم پر عوام کے حقِ رائے دہی اور عوامی مینڈیٹ کا دفاع کرے گی اور 2 اگست کے انتخابات میں کسی کو عوام کا ووٹ چوری نہیں کرنے دیا جائے گا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے 30 جولائی کو مظفرآباد میں ہونے والے پارٹی کے عوامی جلسے میں بھرپور شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کارکن خود بھی آئیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ساتھ لائیں تاکہ کشمیری عوام کا مؤقف دنیا کے سامنے بھرپور انداز میں پیش کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی طاقت ہی جمہوری جدوجہد کی اصل قوت ہے اور عوامی مینڈیٹ کی کامیابی کا جشن بھی عوام کے ساتھ مل کر منایا جائے گا۔
