Baaghi TV

Category: مظفرآباد

  • سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے پی ٹی آئی کی عبوری رجسٹریشن کا فیصلہ معطل کردیا

    سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے پی ٹی آئی کی عبوری رجسٹریشن کا فیصلہ معطل کردیا

    سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے پی ٹی آئی کی عبوری رجسٹریشن کا فیصلہ معطل کردیا۔

    چیف جسٹس آزاد کشمیر جسٹس سعید اکرم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا فل بینچ قائم کردیا گیا، جودو جولائی کو سماعت کرے گا۔آزاد کشمیر ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ کرنے کا حکم دیا تھا۔سپریم کورٹ نے 23 جون کو ہائیکورٹ سے دیا گیا فیصلہ معطل کیا۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کی اپیل پر چیف جسٹس جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے فل بینچ تشکیل دے دیا۔ بدھ کو ہونے والی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا 23 جون کا فیصلہ فی الحال معطل کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت نے فریقین کو آئندہ سماعت پر دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ کیس کی مزید سماعت 2 جولائی 2026 کو ہوگی۔دوران سماعت
    الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ نے درخواست سے زیادہ ریلیف دے دیا تھا، جو قانون کے مطابق نہیں ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کے وکلاء نے ہائی کورٹ کے فیصلے کا مکمل دفاع کیا اور کہا کہ عبوری رجسٹریشن کا معاملہ جماعتی حقوق سے جڑا ہے۔سپریم کورٹ نے دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے عبوری ریلیف کی صورت میں ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا۔

  • آزادکشمیر کے اینٹری پوائنٹس بند ہونے کا شرپسند عناصر کا جھوٹا پروپیگنڈا دم توڑ گیا

    آزادکشمیر کے اینٹری پوائنٹس بند ہونے کا شرپسند عناصر کا جھوٹا پروپیگنڈا دم توڑ گیا

    آزادکشمیر کے اینٹری پوائنٹس بند ہونے کا شرپسند عناصر کا جھوٹا پروپیگنڈا دم توڑ گیا

    آزادکشمیرسے پاکستان کے اینٹری پوائنٹس مکمل فعال،گاڑیوں اورعوام کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے،مانسہرہ کےعلاقہ برارکوٹ کی چوکی سے آزاد کشمیر اور کے پی کے عوام کی بلا روک ٹوک نقل وحرکت دیکھی جاسکتی ہے،پولیس چوکی برارکوٹ کے انچارج کے مطابق؛ضروری دستاویزی اور سیکیورٹی چیکنگ کے بعد دونوں اطراف کے شہریوں کو نقل وحرکت کی مکمل آزادی ہےمال بردار گاڑیوں بھی حسب معمول اشیائے خورونوش کی ترسیل میں مصروف ہیں،دوسری جانب ڈپٹی کمشنرمظفرآباد منیرقریشی کا کہنا ہے کہ؛ مظفرآباد میں اشیائے خورونوش کی نہ تو کوئی کمی ہے اور نہ ہی ان کی ترسیل میں کوئی رکاوٹ ہے،ایس ایس پی مظفرآباد ریاض مغل کے مطابق: اینٹری پوائنٹس پر تعینات نفری صرف معمول کی سیکیورٹی چیکنگ کیلئے ہے،عوام یا گاڑیوں کی آمدورفت پر کوئی پابندی نہیں ،اس موقع پر ڈرائیورز اور اشیائے خورونوش کی ترسیل سے منسلک تاجروں نے بھی سپلائی کی بلاتعطل آمدورفت پر مکمل اطمینان کا اظہارکیا۔

  • عوامی حقوق کا ڈرامہ فلاپ، کوٹلی کے عمائدین کا کالعدم ایکشن کمیٹی سے لاتعلقی کا اعلان

    عوامی حقوق کا ڈرامہ فلاپ، کوٹلی کے عمائدین کا کالعدم ایکشن کمیٹی سے لاتعلقی کا اعلان

    کوٹلی میں کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی کو ایک اور بڑا دھچکا اس وقت لگا جب علاقے کی متعدد معروف شخصیات نے تنظیم سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے خود کو قانون پسند اور محبِ وطن شہری قرار دیا۔

    رہنماؤں نے واضح کیا کہ وہ ریاستی قوانین کا احترام کرتے ہیں اور پاکستان کے استحکام، امن اور ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ کوٹلی کی نامور شخصیات نے کالعدم ایکشن کمیٹی کی مبینہ انتشار انگیز پالیسیوں اور سرگرمیوں سے خود کو الگ کرتے ہوئے اس سے ہر قسم کی وابستگی ختم کرنے کا اعلان کیا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عوامی حقوق کے نام پر کسی بھی غیر قانونی یا اشتعال انگیز سرگرمی کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔سابق رکن محمد آزاد نے کہا کہ وہ ماضی میں ایکشن کمیٹی کا حصہ رہے، تاہم تنظیم پر پابندی عائد ہونے کے بعد قانون کی پاسداری کرتے ہوئے اس سے مکمل لاتعلقی اختیار کر لی۔ انہوں نے کہا کہ اب ان کا کالعدم کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں اور وہ ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    اسی طرح حامد محمود نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ پابندی سے قبل تک ایکشن کمیٹی کے ساتھ وابستہ تھے، لیکن اب ان کا اس تنظیم سے کسی قسم کا تعلق یا وابستگی نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ ملکی قوانین کا احترام ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ظفر اقبال نے بھی کالعدم تنظیم سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد ان کا اس سے کوئی تعلق باقی نہیں رہا۔ انہوں نے عوام سے بھی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے مسائل کے حل کے لیے پرامن اور آئینی راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی۔

    مقامی مبصرین کے مطابق کوٹلی کی اہم شخصیات کی جانب سے کالعدم ایکشن کمیٹی سے علیحدگی کے اعلانات تنظیم کے لیے ایک بڑا دھچکا ہیں، جبکہ اس پیش رفت کو علاقے میں امن، استحکام اور قانون کی بالادستی کے لیے مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

  • کالعدم ایکشن کمیٹی کی تمام سازشیں ناکام،آزادکشمیرمیں انتخابی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئیں

    کالعدم ایکشن کمیٹی کی تمام سازشیں ناکام،آزادکشمیرمیں انتخابی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئیں

    کالعدم ایکشن کمیٹی کی تمام سازشیں ناکام،آزادکشمیرمیں انتخابی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئیں

    آزادجموں وکشمیرقانون سازاسمبلی کے آئندہ انتخابات کے حوالے سے سیاسی سرگرمیوں میں مسلسل تیزی دیکھنے میں آرہی ہے۔چیف الیکشن کمشنرآزادکشمیرجسٹس (ر)غلام مصطفیٰ مغل کے مطابق؛ الیکشن کمیشن نے انتخابی انتظامات مکمل کرلئے، امیدواروں کی بڑی تعداد کاغذات نامزدگی جمع کرارہی ہے،کسی بھی پولنگ ایریا میں500 سے زائد ووٹرزکی موجودگی پروہاں2 پولنگ بوتھ بنائے جائیں گے،

    سیکریٹری الیکشن کمیشن آزاد کشمیرراجہ شکیل خان کے مطابق؛کاغذات نامزدگی23جون تک جمع ہونگے،ریٹرننگ آفیسراتوارکوبھی موجود ہوتے ہیں،آزاد کشمیرمیں اب تک518 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں،مہاجرین کی نشستوں پر114اورراولاکوٹ سے130امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے،

    سابق وزیرخزانہ آزاد کشمیرماجد خان کے مطابق آزاد کشمیرالیکشن کمیشن نے انتخابات کیلئے تسلی بخش انتظامات کئے ہیں، مہاجرین کی نشستوں پربھی لوگ بڑی تعداد میں الیکشن میں حصہ لیں گے جوکہ خوش آئند ہے،

  • کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ دھرنا بری طرح فلاپ

    کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ دھرنا بری طرح فلاپ

    آزاد کشمیر میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام راولاکوٹ میں دیے گئے دھرنے کو عوامی سطح پر خاطر خواہ پذیرائی نہ مل سکی۔ دریک عیدگاہ میں منعقدہ احتجاجی اجتماع میں شرکاء کی کم تعداد اور خالی کرسیاں نمایاں رہیں، جسے مبصرین نے عوامی عدم دلچسپی اور لاتعلقی کی علامت قرار دیا۔

    موصولہ تصاویر کے مطابق دھرنے کے لیے لگایا گیا پنڈال بڑی حد تک خالی دکھائی دیا، جبکہ اجتماع میں صرف محدود تعداد میں افراد شریک ہوئے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ عوام کی اکثریت نے اس احتجاجی سرگرمی میں شرکت نہیں کی۔ تصاویر میں پنڈال کا بیشتر حصہ خالی نظر آ رہا ہے، جسے ناقدین تنظیم کے عوامی اثر و رسوخ میں کمی کی علامت قرار دے رہے ہیں۔راولاکوٹ دریک عیدگاہ میں کالعدم کمیٹی کے دھرنے میں خالی پنڈال نے شرپسند ٹولے سے عوامی لاتعلقی کوواضح کردیا،شرپسند ایکشن کمیٹی کے نام نہاد دھرنے میں صرف چند کرائے کے شرپسند ہی موجود ہیں اورتقریباً سارا میدان خالی پڑا ہے،دھرنے کا ویران میدان اورخالی کرسیاں واضح ثبوت ہیں کہ عوام کی بھاری اکثریت نے اس انتشاری گروہ کو مسترد کردیا ہے،تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ منظرنامہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام انتشار اور اشتعال انگیز بیانیوں سے دور رہتے ہوئے امن، استحکام اور تعمیری سیاسی عمل کو ترجیح دے رہے ہیں۔

  • ہیلی حادثہ،پاک فوج کے شہید افسران،جوانوں کی نماز جنازہ ادا

    ہیلی حادثہ،پاک فوج کے شہید افسران،جوانوں کی نماز جنازہ ادا

    پاکستان آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر کے حادثے میں شہید ہونے والے افسران اور جوانوں کی نمازِ جنازہ مظفر آباد میں ادا کر دی گئی۔

    شہداء کی نمازِ جنازہ میں قائم مقام صدر و وزیرِ اعظم آزاد کشمیر، کور کمانڈر راولپنڈی، اعلیٰ سول و عسکری حکام اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی،پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے شہداء کو سلامی بھی پیش کی،شرکاء نے شہداء کی عظیم قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی،بعد ازاں شہداء کے جسدِ خاکی آبائی علاقوں کو روانہ کر دیے گئے جہاں انہیں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جائے گا۔

  • مظفرآباد کے قریب پاک فوج کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار، تمام اہلکار شہید

    مظفرآباد کے قریب پاک فوج کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار، تمام اہلکار شہید

    پاک فوج کا ایک Mi-17 ہیلی کاپٹر مظفرآباد کے قریب ٹیک آف کے دوران تکنیکی خرابی کے باعث حادثے کا شکار ہو گیا، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام اہلکار شہید ہو گئے-

    آئی ایس پی آر کے مطابق حادثہ آج اس وقت پیش آیا جب آرمی ایوی ایشن کا Mi-17 ہیلی کاپٹر معمول کی پرواز کے دوران ٹیک آف کر رہا تھا کہ تکنیکی خرابی کے باعث کنٹرول برقرار نہ رہ سکا اور ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا،حادثے کے فوراً بعد ریسکیو اور ریلیف ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں، تاہم تمام اہلکاروں کی شہادت کی تصدیق کر دی گئی ہے، واقعے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے بورڈ آف انکوائری تشکیل دے دیا گیا ہے جو تکنیکی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے گا۔

    پاک فوج کے سربراہ (COAS) اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (CDF) سمیت تمام رینکس نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شہید ہونے والے اہلکاروں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے اور ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے۔

  • 
جے اے اے سی کے دو رہنماؤں کے وارنٹ جاری، بغاوت کے الزامات پر تحقیقات شروع

    
جے اے اے سی کے دو رہنماؤں کے وارنٹ جاری، بغاوت کے الزامات پر تحقیقات شروع

    ‎آزاد جموں و کشمیر حکومت نے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے دو مرکزی رہنماؤں شوکت نواز میر اور خواجہ مہران ارشد کے خلاف بغاوت اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے الزامات پر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں تحقیقات کی باضابطہ منظوری دی گئی ہے جبکہ دونوں رہنماؤں کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
    ‎محکمہ داخلہ آزاد کشمیر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق شوکت نواز میر اور خواجہ مہران ارشد سمیت دیگر افراد کے خلاف دفعہ 124 اے کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ دستیاب شواہد اور معلومات مزید تفتیش کی متقاضی ہیں، جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
    ‎نوٹیفکیشن میں دونوں رہنماؤں کی گرفتاری میں معاونت فراہم کرنے والوں کے لیے انعامی اسکیم کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزمان پر تقاریر، تحریروں اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو ریاست کے خلاف اکسانے اور بغاوت پر آمادہ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
    ‎حکومت نے ایس ایس پی مظفرآباد کو شوکت نواز میر کے خلاف فوری تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت جاری کی ہے، جبکہ ایس ایس پی میرپور کو خواجہ مہران ارشد کے خلاف لگائے گئے الزامات کی مکمل چھان بین کا حکم دیا گیا ہے۔
    ‎یہ پیش رفت ایک مبینہ آڈیو کال منظرعام پر آنے کے بعد سامنے آئی ہے، جسے حال ہی میں وزیر مملکت طلال چوہدری نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا تھا۔ آڈیو میں مبینہ طور پر دونوں رہنماؤں کے درمیان ایسی گفتگو سنائی دیتی ہے جس میں آزاد کشمیر میں بدامنی اور انتشار سے متعلق منصوبہ بندی پر بات کی جا رہی ہے۔
    ‎حکومتی مؤقف کے مطابق آڈیو میں راولاکوٹ میں ممکنہ پرتشدد واقعات اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے سے متعلق گفتگو بھی شامل ہے۔ تاہم اس آڈیو کی آزادانہ تصدیق اور فرانزک جانچ کے نتائج ابھی سامنے نہیں آئے۔
    ‎سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، جبکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

  • 
حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 35 مطالبات مان لیے

    
حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 35 مطالبات مان لیے

    ‎آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے ساتھ جاری تنازع کے تناظر میں وفاقی حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ کمیٹی کے 38 میں سے 35 مطالبات تسلیم کر لیے گئے تھے، جبکہ باقی تین مطالبات آئینی ترمیم یا نئی قانون سازی سے مشروط ہونے کے باعث فوری طور پر منظور نہیں کیے جا سکے۔
    ‎حکومتی ذرائع کے مطابق متعدد دور کے مذاکرات کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق رائے ہو چکا تھا اور کئی مطالبات پر عملی اقدامات بھی شروع کیے جا چکے تھے۔ تاہم بعض حساس معاملات پر اختلافات برقرار رہے جس کے باعث صورتحال میں کشیدگی پیدا ہوئی۔
    ‎منظور کیے گئے مطالبات میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمات، جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے معاوضہ، زخمیوں کے لیے مالی امداد، شہداء کے خاندانوں کے لیے سرکاری ملازمتوں اور خصوصی معاونت کی فراہمی شامل ہے۔ اسی طرح شفاف تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا۔
    ‎تعلیم کے شعبے میں مظفرآباد اور پونچھ میں دو نئے تعلیمی بورڈز کے قیام، اسکولوں اور کالجوں کی بہتری، میرٹ پر داخلوں اور تعلیمی سہولیات میں اضافے کی تجاویز بھی منظور کی گئیں۔ صحت کے شعبے میں ہیلتھ کارڈ کی فراہمی، ہر ضلع میں سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی مشینوں کی تنصیب، اسپتالوں کی اپ گریڈیشن اور صحت کے لیے اضافی فنڈز شامل ہیں۔
    ‎انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے سڑکوں، سرنگوں اور پلوں کے منصوبوں کی فزیبلٹی اسٹڈیز، صاف پانی کی فراہمی، دیہی علاقوں میں واٹر سپلائی اسکیموں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور میرپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ منصوبے پر بھی پیش رفت کی یقین دہانی کرائی گئی۔
    ‎حکومت نے بجلی کے ترسیلی نظام کی بہتری کے لیے 10 ارب روپے مختص کرنے، پن بجلی منصوبوں سے متعلق فیصلوں پر عملدرآمد، سرکاری اخراجات میں کمی، بیوروکریسی میں اصلاحات، احتسابی اداروں کی تنظیم نو اور شفاف احتسابی نظام کے قیام پر بھی آمادگی ظاہر کی۔
    ‎مزید برآں کاروباری طبقے کے لیے ایڈوانس ٹیکس میں ریلیف، پراپرٹی ٹیکس میں کمی، مقامی حکومتوں کی بحالی، منگلا ڈیم سے متاثرہ اراضی کے مسائل کے حل اور معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے خصوصی کمیٹی کے قیام جیسے مطالبات بھی منظور کیے گئے۔

  • 
آزاد کشمیر حکومت کا ایکشن کمیٹی کو سخت انتباہ

    
آزاد کشمیر حکومت کا ایکشن کمیٹی کو سخت انتباہ

    ‎آزاد جموں و کشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) پر عوامی مسائل کے نام پر گمراہ کن بیانیہ پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
    ‎حکومت کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے ہمیشہ مذاکرات، عوامی ریلیف اور مطالبات پر عمل درآمد کا راستہ اختیار کیا، تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے لچک اور مکالمے کے بجائے دباؤ اور سڑکوں کی سیاست کو ترجیح دی۔
    ‎ترجمان کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے پیش کردہ 38 مطالبات میں سے 35 مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود احتجاج اور ہڑتالوں پر اصرار عوامی مفاد کے بجائے سیاسی ضد کو ظاہر کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے، لیکن سڑکیں بند کرنا، عوامی زندگی کو مفلوج کرنا اور ریاستی نظم و نسق میں رکاوٹ ڈالنا قابل قبول نہیں ہو سکتا۔
    ‎حکومت نے واضح کیا کہ عوامی مطالبات کی آڑ میں کسی بھی گروہ کو اپنی مرضی مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر کسی قسم کی ہٹ دھرمی کے ذریعے امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
    ‎بیان میں مزید کہا گیا کہ آزاد کشمیر کو مسلسل احتجاج، ہڑتالوں اور محاذ آرائی کی سیاست کے بجائے استحکام، مکالمے اور عملی حل کی ضرورت ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اسمبلی اور جمہوری اداروں کے فیصلوں کو سڑکوں پر دباؤ ڈال کر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
    ‎ترجمان نے کہا کہ 9 جون کو اعلان کردہ ہڑتال یا انتخابی عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ عوامی حقوق کا دفاع نہیں بلکہ جمہوری عمل کو متاثر کرنے کی کوشش تصور کی جائے گی۔ عوام کو بندشوں اور دباؤ کی سیاست کے بجائے ووٹ، آئینی عمل اور جمہوری اداروں پر اعتماد کرنا چاہیے۔
    ‎حکومت آزاد کشمیر کے مطابق مذاکرات کے دروازے آج بھی کھلے ہیں، تاہم عوامی ایکشن کمیٹی نے مذاکرات کے بجائے تصادم اور محاذ آرائی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے میں امن، استحکام اور قانون کی حکمرانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
    ‎واضح رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کے حق میں 9 جون کو ہڑتال کی کال دے رکھی ہے، جس کے باعث سیاسی اور سماجی حلقوں میں صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔