آزاد جموں و کشمیر حکومت نے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے دو مرکزی رہنماؤں شوکت نواز میر اور خواجہ مہران ارشد کے خلاف بغاوت اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے الزامات پر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں تحقیقات کی باضابطہ منظوری دی گئی ہے جبکہ دونوں رہنماؤں کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
محکمہ داخلہ آزاد کشمیر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق شوکت نواز میر اور خواجہ مہران ارشد سمیت دیگر افراد کے خلاف دفعہ 124 اے کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ دستیاب شواہد اور معلومات مزید تفتیش کی متقاضی ہیں، جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
نوٹیفکیشن میں دونوں رہنماؤں کی گرفتاری میں معاونت فراہم کرنے والوں کے لیے انعامی اسکیم کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزمان پر تقاریر، تحریروں اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو ریاست کے خلاف اکسانے اور بغاوت پر آمادہ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
حکومت نے ایس ایس پی مظفرآباد کو شوکت نواز میر کے خلاف فوری تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت جاری کی ہے، جبکہ ایس ایس پی میرپور کو خواجہ مہران ارشد کے خلاف لگائے گئے الزامات کی مکمل چھان بین کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایک مبینہ آڈیو کال منظرعام پر آنے کے بعد سامنے آئی ہے، جسے حال ہی میں وزیر مملکت طلال چوہدری نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا تھا۔ آڈیو میں مبینہ طور پر دونوں رہنماؤں کے درمیان ایسی گفتگو سنائی دیتی ہے جس میں آزاد کشمیر میں بدامنی اور انتشار سے متعلق منصوبہ بندی پر بات کی جا رہی ہے۔
حکومتی مؤقف کے مطابق آڈیو میں راولاکوٹ میں ممکنہ پرتشدد واقعات اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے سے متعلق گفتگو بھی شامل ہے۔ تاہم اس آڈیو کی آزادانہ تصدیق اور فرانزک جانچ کے نتائج ابھی سامنے نہیں آئے۔
سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، جبکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
جے اے اے سی کے دو رہنماؤں کے وارنٹ جاری، بغاوت کے الزامات پر تحقیقات شروع
