کوٹلی میں کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی کو ایک اور بڑا دھچکا اس وقت لگا جب علاقے کی متعدد معروف شخصیات نے تنظیم سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے خود کو قانون پسند اور محبِ وطن شہری قرار دیا۔
رہنماؤں نے واضح کیا کہ وہ ریاستی قوانین کا احترام کرتے ہیں اور پاکستان کے استحکام، امن اور ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ کوٹلی کی نامور شخصیات نے کالعدم ایکشن کمیٹی کی مبینہ انتشار انگیز پالیسیوں اور سرگرمیوں سے خود کو الگ کرتے ہوئے اس سے ہر قسم کی وابستگی ختم کرنے کا اعلان کیا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عوامی حقوق کے نام پر کسی بھی غیر قانونی یا اشتعال انگیز سرگرمی کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔سابق رکن محمد آزاد نے کہا کہ وہ ماضی میں ایکشن کمیٹی کا حصہ رہے، تاہم تنظیم پر پابندی عائد ہونے کے بعد قانون کی پاسداری کرتے ہوئے اس سے مکمل لاتعلقی اختیار کر لی۔ انہوں نے کہا کہ اب ان کا کالعدم کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں اور وہ ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
اسی طرح حامد محمود نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ پابندی سے قبل تک ایکشن کمیٹی کے ساتھ وابستہ تھے، لیکن اب ان کا اس تنظیم سے کسی قسم کا تعلق یا وابستگی نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ ملکی قوانین کا احترام ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ظفر اقبال نے بھی کالعدم تنظیم سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد ان کا اس سے کوئی تعلق باقی نہیں رہا۔ انہوں نے عوام سے بھی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے مسائل کے حل کے لیے پرامن اور آئینی راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی۔
مقامی مبصرین کے مطابق کوٹلی کی اہم شخصیات کی جانب سے کالعدم ایکشن کمیٹی سے علیحدگی کے اعلانات تنظیم کے لیے ایک بڑا دھچکا ہیں، جبکہ اس پیش رفت کو علاقے میں امن، استحکام اور قانون کی بالادستی کے لیے مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
