آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے ساتھ جاری تنازع کے تناظر میں وفاقی حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ کمیٹی کے 38 میں سے 35 مطالبات تسلیم کر لیے گئے تھے، جبکہ باقی تین مطالبات آئینی ترمیم یا نئی قانون سازی سے مشروط ہونے کے باعث فوری طور پر منظور نہیں کیے جا سکے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق متعدد دور کے مذاکرات کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق رائے ہو چکا تھا اور کئی مطالبات پر عملی اقدامات بھی شروع کیے جا چکے تھے۔ تاہم بعض حساس معاملات پر اختلافات برقرار رہے جس کے باعث صورتحال میں کشیدگی پیدا ہوئی۔
منظور کیے گئے مطالبات میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمات، جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے معاوضہ، زخمیوں کے لیے مالی امداد، شہداء کے خاندانوں کے لیے سرکاری ملازمتوں اور خصوصی معاونت کی فراہمی شامل ہے۔ اسی طرح شفاف تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا۔
تعلیم کے شعبے میں مظفرآباد اور پونچھ میں دو نئے تعلیمی بورڈز کے قیام، اسکولوں اور کالجوں کی بہتری، میرٹ پر داخلوں اور تعلیمی سہولیات میں اضافے کی تجاویز بھی منظور کی گئیں۔ صحت کے شعبے میں ہیلتھ کارڈ کی فراہمی، ہر ضلع میں سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی مشینوں کی تنصیب، اسپتالوں کی اپ گریڈیشن اور صحت کے لیے اضافی فنڈز شامل ہیں۔
انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے سڑکوں، سرنگوں اور پلوں کے منصوبوں کی فزیبلٹی اسٹڈیز، صاف پانی کی فراہمی، دیہی علاقوں میں واٹر سپلائی اسکیموں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور میرپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ منصوبے پر بھی پیش رفت کی یقین دہانی کرائی گئی۔
حکومت نے بجلی کے ترسیلی نظام کی بہتری کے لیے 10 ارب روپے مختص کرنے، پن بجلی منصوبوں سے متعلق فیصلوں پر عملدرآمد، سرکاری اخراجات میں کمی، بیوروکریسی میں اصلاحات، احتسابی اداروں کی تنظیم نو اور شفاف احتسابی نظام کے قیام پر بھی آمادگی ظاہر کی۔
مزید برآں کاروباری طبقے کے لیے ایڈوانس ٹیکس میں ریلیف، پراپرٹی ٹیکس میں کمی، مقامی حکومتوں کی بحالی، منگلا ڈیم سے متاثرہ اراضی کے مسائل کے حل اور معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے خصوصی کمیٹی کے قیام جیسے مطالبات بھی منظور کیے گئے۔
حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 35 مطالبات مان لیے
