Baaghi TV

Category: پشاور

  • کرم کشیدگی پر جرگہ: امن وامان کے لیے ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،گورنر خیبرپختونخوا

    کرم کشیدگی پر جرگہ: امن وامان کے لیے ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،گورنر خیبرپختونخوا

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ امن وامان کے لیے ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن قیام امن کی کوششوں میں ہم سب ایک ہیں۔

    باغی ٹی وی: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی صوبے کی سیاسی قیادت کے ہمراہ کوہاٹ جرگہ کے لیے پہنچے انہوں نے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جرگے میں آنے پر سیاسی قائدین اور مشران کا مشکور ہوں،امن وامان کے لیے ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن قیام امن کی کوششوں میں ہم سب ایک ہیں، 5 دسمبر کو آل پارٹیز کانفرنس بلا رکھی ہے، اس اے پی سی میں کرم کی صورتحال پر غور ہوگا کسی بھی مسئلے کا پہلا حل مذاکرات ہیں۔

    کرم میں قبائلی جھڑپوں کا 11 واں روز،ہلاکتوں کی تعداد 130 اور 186 زخمی ہو چکے

    وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے جرگے سے خطاب میں کہا کہ صوبے میں امن کیلئے ہم سب کو ایک پیج پر آنا ہوگا، خیبرپختونخوا حکومت کو کرم کی صورتحال پر توجہ دینی چاہیے،ہم امن وامان کے قیام کیلئے صوبائی حکومت کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں، لوگ ملک میں امن وامان چاہتے ہیں، لوگ ملک میں بدامنی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

    گورنر خیبرپختونخوا کے ہمراہ سیاسی قائدین کا قافلہ بھی گورنر ہاؤس پشاور سے کوہاٹ پہنچا، جرگہ وفد میں مسلم لیگ کے صوبائی صدر وفاقی وزیر امیر مقام ، اے این پی کے میاں افتخار حسین شامل ہیں،جرگے میں قومی وطن پارٹی کے سکندر شیرپاؤ ، جے یو آئی (س) کے حافظ عبدالرافع بھی شامل ہیں، وفد میں جے ہو آئی (س)، جماعت اسلامی، شیعہ علمائے کونسل، مسلم لیگ ق اور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنما موجود ہیں۔

    لکی مروت میں تھانے پر دہشتگردوں کا حملہ،ایک پولیس اہلکار شہید

  • لکی مروت میں تھانے پر دہشتگردوں کا حملہ،ایک پولیس اہلکار شہید

    لکی مروت میں تھانے پر دہشتگردوں کا حملہ،ایک پولیس اہلکار شہید

    لکی مروت: خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں تھانے پر رات گئے دہشت گردوں کے حملے میں ایک پولیس اہلکار شہید ہوگیا جبکہ پولیس کی جوابی فائرنگ سے دہشت گر فرار ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : پولیس ذرائع کے مطابق لکی مروت کے علاقے تھانہ درہ پیزو پر رات کی تاریکی میں دہشت گردوں نے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے دو اطراف سے حملہ کیا اور اسنائپر گن سے پولیس کانسٹیبل کرامت اللہ کو نشانہ بنا کر شہید کر دیا،دہشت گردوں اور پولیس کے درمیان مقابلہ ایک گھنٹے تک جاری رہا، پولیس کی بھرپور جوابی فائرنگ کے بعد دہشت گرد فرار ہو گئے، واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا،شہید اہلکار کی لاش ریسکیو حکام کی مدد سے اسپتال منتقل کر دی گئی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لکی مروت پہاڑ خیل پکہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پنجاب پولیس کے سب انسپکٹر سمیت 3 افراد جاں بحق ہوئے تھے شہید پولیس اہلکار چھٹی پر گھر آیا ہوا تھا جو اس دہشت گردی کا شکار بن گیا، وزیراعلیٰ اور گورنر خیبر پختونخوا نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔

  • کرم میں قبائلی جھڑپوں کا 11 واں روز،ہلاکتوں کی تعداد 130 اور 186 زخمی ہو چکے

    کرم میں قبائلی جھڑپوں کا 11 واں روز،ہلاکتوں کی تعداد 130 اور 186 زخمی ہو چکے

    پاراچنار : ضلع کرم میں قبائل کے درمیان جھڑپیں گیارہویں روز بھی جاری ہیں جس میں مزید 6 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق فائرنگ کے واقعات میں اب تک 130 افراد جاں بحق اور 186 زخمی ہو چکے ہیں قبائلی جھڑپوں کے باعث پشاور پاراچنار مرکزی شاہراہ سمیت آمدورفت کے دیگر راستے بھی بند ہیں جبکہ مرکزی شاہراہ اور پاک افغان خرلاچی بارڈر پر آمدورفت بھی معطل ہے،شاہراہوں کی بندش سے تیل، اشیائے خورونوش اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

    ڈپٹی کمشنرجاویداللہ محسود کا کہنا ہے کہ لوئر کرم کے مختلف مقامات پر پولیس، فورسز کے دستے تعینات ہیں، باقی علاقوں میں بھی آج فائر بندی کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کمشنر ہاؤس کوہاٹ میں کرم میں امن امان سے متعلق گرینڈ جرگے سے خطاب میں ضلع کرم کے عوام کو پرُامن رہنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام غیرت مند اور پُرامن ہیں، امن و امان کے لیے حکومت کسی بھی حد جانے کے لیے تیار ہے۔

    انہوں نے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہدا یت دی کہ جو بھی امن کو خراب کرے گا اس کے ساتھ دہشت گردوں والا سلوک کیا جائے صوبائی حکومت کی درخواست پر فوج علا قے میں امن کے لیے تعینات ہے، فوج، پولیس اور انتظامیہ مل کر علاقے میں پائیدار امن کے لئے مربوط کوششیں کر رہے ہیں، علاقے میں قائم تمام کے تمام مورچے بلا تفریق ختم کیے جائیں۔

    وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان سیاسی اختلافات اپنی جگہ، علاقے میں امن کے لئے وفاقی حکومت ایف سی کے پلاٹونز فراہم کرے، گرینڈ جرگہ مکمل امن کے قیام تک علاقے میں رہے، صوبائی حکومت ہر ممکن سپورٹ فراہم کرے گی، جو لوگ علاقے میں امن خراب کر رہے ہیں مقامی کمیونٹی اس کی نشاندہی کرےفریقین کے درمیان نفرت کی فضا کو ختم کرنے کے لئے مقامی عمائدین اپنا کردار ادا کریں انہوں نے ہدایت دی کہ علاقے میں لوگوں کے پاس موجود بھاری اسلحہ جمع کیا جائے جبکہ سرحدی علاقے کے لوگوں کے پاس موجود اسلحہ بھی امانتاً جمع کیا جائے۔

    علی امین گنڈاپور نے کہا کہ جو بھی ہتھیار اٹھائے گا وہ دہشت گرد کہلائے گا، دہشت گردوں کا انجام جہنم ہے، علاقے کے عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کے لئے فنڈز ترجیحی بنیادوں پر جاری کئے جائیں، صوبائی حکومت ان بے گھر افراد کی باعزت واپسی یقینی بنائے گی۔

  • صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان کا ہے ،گورنر خیبر پختونخوا

    صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان کا ہے ،گورنر خیبر پختونخوا

    پشاور:گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان کا ہے۔

    باغی ٹی وی: پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کل مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سےجرگہ لے کر کوہاٹ جا رہے ہیں، اس سےقبل بھی وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کو کوہاٹ جانے کی دعوت دی، وزیر اعلیٰ آج کوہاٹ گئے، اچھی با ت ہے، زیادہ اچھا ہوتا اگر وزیر اعلیٰ دیگر سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر جاتے، کے پی کو امن اور ترقی چاہیے-

    انہوں نےکہا کہ ہمارے صوبے کے پیسے اور ملازمین جلوس میں استعمال ہوتے ہیں، صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان کا ہے امن پر سیاست نہیں ہو نی چاہیے، یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ اسلام آباد جاکر آگ لگا دیں، ڈی آئی خان میں عصر کے بعد باہر نہیں جا سکتے، امن کے معاملے پر ایک ہونا چاہیے۔

    گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ لیڈر آگ لگانے سے نہیں، عدالت کے ذریعے آزاد ہوگا، ڈی چوک دھرنا اور جلوس کسی کو جیل سے رہا نہیں کرے گا، کل وزیر اعلیٰ کا اسمبلی خطاب سیاسی شخص کا خطاب نہیں تھا، صوبے میں امن و امان کی صورتحال کی ذمہ داری آپ پر ہے، کیا آپ نے امن و امان کیلئے اے پی سی بلائی؟پی ٹی آئی جلوس میں صرف ورکرز گرفتار ہوجاتے ہیں۔

  • جو بھی ہتھیار اٹھائے گا وہ دہشت گرد کہلائے گا،علی امین گنڈاپور

    جو بھی ہتھیار اٹھائے گا وہ دہشت گرد کہلائے گا،علی امین گنڈاپور

    کوہاٹ: وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ جو بھی ہتھیار اٹھائے گا وہ دہشت گرد کہلائے گا، دہشت گردوں کا انجام جہنم ہے-

    باغی ٹی وی: دورہ کوہاٹ میں کُرم کے معاملے پر قائم گرینڈ جرگے میں شرکت کے خطاب میں انہوں نے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہدا یت دی کہ جو بھی امن کو خراب کرے گا اس کے ساتھ دہشت گردوں والا سلوک کیا جائے صوبائی حکومت کی درخواست پر فوج علا قے میں امن کے لیے تعینات ہے، فوج، پولیس اور انتظامیہ مل کر علاقے میں پائیدار امن کے لئے مربوط کوششیں کر رہے ہیں، علاقے میں قائم تمام کے تمام مورچے بلا تفریق ختم کیے جائیں۔

    وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان سیاسی اختلافات اپنی جگہ، علاقے میں امن کے لئے وفاقی حکومت ایف سی کے پلاٹونز فراہم کرے، گرینڈ جرگہ مکمل امن کے قیام تک علاقے میں رہے، صوبائی حکومت ہر ممکن سپورٹ فراہم کرے گی، جو لوگ علاقے میں امن خراب کر رہے ہیں مقامی کمیونٹی اس کی نشاندہی کرےفریقین کے درمیان نفرت کی فضا کو ختم کرنے کے لئے مقامی عمائدین اپنا کردار ادا کریں انہوں نے ہدایت دی کہ علاقے میں لوگوں کے پاس موجود بھاری اسلحہ جمع کیا جائے جبکہ سرحدی علاقے کے لوگوں کے پاس موجود اسلحہ بھی امانتاً جمع کیا جائے۔

    علی امین گنڈاپور نے کہا کہ جو بھی ہتھیار اٹھائے گا وہ دہشت گرد کہلائے گا، دہشت گردوں کا انجام جہنم ہے، علاقے کے عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کے لئے فنڈز ترجیحی بنیادوں پر جاری کئے جائیں، صوبائی حکومت ان بے گھر افراد کی باعزت واپسی یقینی بنائے گی۔

  • پی ٹی آئی کے اندر اختلافات ، شوکت یوسفزئی کا بیان سامنے آگیا

    پی ٹی آئی کے اندر اختلافات ، شوکت یوسفزئی کا بیان سامنے آگیا

    پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ایسے اختلافات نہیں جس کی وجہ سے پارٹی ٹوٹ جائے۔

    باغی ٹی وی: پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشال یوسفزئی کو ہٹانے سے متعلق علم نہیں ،اس سے متعلق صوبائی حکومت کا ترجمان ہی بتا سکتا ہے، مشال یوسفزئی نے کہا کہ میں نے میڈیا کو انٹریو دیا اس لیے ہٹایا گیا۔

    کچھ دن پہلے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شوکت یوسفزئی نے ناکام احتجاج پر کہا تھا کہ احتجاج کے دوران بڑے بڑے عہدوں والے کہاں تھے؟ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ سمیت پنجاب کی لیڈر شپ کہاں غائب رہی ؟ علی امین اور عمر ایوب کے سوا احتجاج میں کوئی سیاسی لیڈر شپ موجود نہیں تھی۔

    شوکت یوسفزئی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور حکومت سنگجانی میں احتجاج پر راضی تھے لیکن بشریٰ بی بی نے بات کیوں نہیں مانی؟ ہم ڈی چوک کیوں گئے؟ پارٹی کو سیاسی لیڈرشپ چلائے گی یا بشریٰ بی بی،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ مشال یوسفزئی کو وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کی معاون خصوصی کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہےمشال یوسفزئی نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ انہیں معاونِ خصوصی کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہےمجھے نجی ٹی وی کو انٹرویو کی بنیاد پر ڈی نوٹیفائی کیا گیا ہے۔

  • ایسے اختلافات نہیں جن کی وجہ سے پارٹی ٹوٹ جائے۔شوکت یوسفزئی

    ایسے اختلافات نہیں جن کی وجہ سے پارٹی ٹوٹ جائے۔شوکت یوسفزئی

    تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شوکت یوسفزئی نے پارٹی میں موجود اختلافات کے بارے میں وضاحت پیش کی ہے اور کہا ہے کہ ایسے اختلافات نہیں ہیں جن کی وجہ سے پارٹی ٹوٹ جائے۔

    پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے اس بات کی تردید کی کہ پارٹی میں شدید اختلافات کی وجہ سے کوئی تقسیم یا ٹوٹ پھوٹ واقع ہو سکتی ہے۔شوکت یوسفزئی نے مشال یوسفزئی کی برطرفی کے بارے میں بھی اظہارِ خیال کیا اور کہا کہ انہیں اس حوالے سے کوئی معلومات نہیں۔ مشال یوسفزئی کی برطرفی کے بارے میں صوبائی حکومت کا ترجمان ہی وضاحت دے سکتا ہے۔شوکت یوسفزئی نے پی ٹی آئی کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ واقعات اور پارٹی کی موجودہ صورتحال نے انہیں مایوس کیا ہے۔ تحریکِ انصاف کی قیادت سے انہیں کچھ زیادہ توقعات تھیں لیکن اب وہ ان توقعات پر پورا نہیں اترے۔

    شوکت یوسفزئی کے بیانات اور مشال یوسفزئی کی برطرفی کے بعد پی ٹی آئی کی داخلی سیاست میں مزید کشیدگی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ پارٹی کی قیادت کی طرف سے اس حوالے سے ابھی تک کوئی مکمل وضاحت نہیں آئی، جس کے باعث پارٹی کے اندرونی معاملات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

  • وفاق میں ہمت ہےتو  گورنر راج لگا کر دکھائے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

    وفاق میں ہمت ہےتو گورنر راج لگا کر دکھائے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ وہ وفاق کی جانب سے صوبے میں گورنر راج لگائے جانے سے ڈرتے نہیں ہیں، وفاق میں ہمت ہے تو لگا کر دکھائے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرسی نہیں عزت اور خودداری چاہیے، اپنے حق کےلئے پرامن طریقے سے جدوجہد کرتے رہیں گے۔ ہمت ہے تو خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگا کر دکھائیں، ہم گورنر راج سے نہیں ڈرتے۔واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ کچھ دیر قبل وزیراعظم کے مشیر برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا تھا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ گورنر راج لگانا مناسب اقدام ہوگا اور کچھ عرصے کے لیے خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے پر غور کیا جا رہا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف خیبر پختونخوا میں گورنر راج پر کلیئر ہیں، وفاقی کابینہ کے اراکین کی اکثریت گورنر راج کی حامی ہے۔بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ کچھ عرصے کے لیے گورنر راج لگانے پر غور کر رہے ہیں، پہلی کوشش ہے کہ صوبائی اسمبلی میں قرارداد لائی جائے۔ہ اسمبلی میں قرارداد نہیں آتی تو دوسرا راستہ بھی ہے، وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر گورنر راج لگاسکتے ہیں اور یہ معاملہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں لایا جاسکتا ہے۔وزیراعظم کے مشیر برائے قانون نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 10 روز میں بلایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ 5 اکتوبر کو گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں گورنر راج لگائے جانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ معاملات حد سے بڑھ گئے تو گورنر راج لگانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔جو چیز آئین میں موجود ہو (گورنر رول) اس کا آپشن ضرور موجود ہوتا ہے، گورنر رول ماضی میں لگائے گئے ہیں، جب مرض لاعلاج ہوجاتا ہے تو نہ چاہتے ہوئے بھی فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔یاد رہے کہ 24 نومبر کو سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی اور دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا مرکزی قافلہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں اسلام آباد جانے کے لیے نکلا تھا۔تاہم، 26 نومبر کو رات گئے رینجرز اور پولیس نے اسلام آباد کے ڈی چوک سے جناح ایونیو تک کے علاقے کو پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے کارکنوں سے مکمل طور پر خالی کرالیا تھا اور متعدد مظاہرین کو گرفتار کرلیا تھا۔اگلے روز وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ملک میں انتشار پھیلانے کے لیے اسلام آباد پر لشکر کشی کی گئی، اس کا مقصد ملکی استحکام کو تباہ کرنا تھا۔شہباز شریف نے مزید کہا تھا کہ اسلام آباد پر لشکر کشی کرنے والے شرپسند ٹولے کے خلاف فوری قانونی چارہ جوئی کی جائے، استغاثہ کے نظام میں مزید بہتری لاکر شرپسند عناصر کی فوری شناخت کی جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔آج وزیر اعظم شہباز شریف نے مستقبل میں شرپسندوں کی اسلام آباد میں آمد کو روکنے، گزشتہ دنوں وفاقی دارالحکومت میں انتشار و فساد پھیلانے والوں کی نشاندہی، ان کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی سربراہی میں ٹاسک فورس قائم کر دی ہے۔

    پی ٹی آئی شرپسندوں کا پولیس سے زبردستی نعرے لگوانے کا قابل مذمت واقعہ

    انڈونیشیا اور ملائیشیا میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، 30 افراد جاں بحق

    پی ٹی آئی پر پابندی ،قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع

    الیکشن ایکٹ ،لاپتہ افراد ،آئی پی پیز ،قرضے معافی ،درخواستیں سماعت کیلیے مقرر

    پیپلزپارٹی گورنر راج ،پارٹی پر پابندی کے حق میں نہیں، وزیراعلیٰ سندھ

  • پشاورمیں رواں برس قتل واقدام قتل کے واقعات میں اضافہ

    پشاورمیں رواں برس قتل واقدام قتل کے واقعات میں اضافہ

    شاور پولیس نے رواں سال کے دوران پیش آنے والے قتل و اقدام قتل کے واقعات کے بارے میں تفصیلی ڈیٹا جاری کیا ہے، جس کے مطابق اب تک 574 افراد، جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہیں، قتل ہو چکے ہیں۔ ان افراد میں 415 مرد، 49 خواتین اور 11 بچے شامل ہیں۔

    پولیس رپورٹ کے مطابق، 804 ایسے واقعات بھی مختلف تھانوں میں رپورٹ ہوئے ہیں جن میں اقدام قتل کی کوشش کی گئی۔ ان اعداد و شمار کے مطابق خواتین کے قتل کے واقعات میں 33 فیصد کمی جبکہ اقدام قتل کے واقعات میں 25 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔مزید برآں، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مردوں کے قتل کے واقعات میں 4 فیصد کمی جبکہ اقدام قتل کے واقعات میں 6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں 2023 میں قتل کے واقعات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن اقدام قتل کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال 618 افراد قتل ہوئے تھے جبکہ اقدام قتل کے 773 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔

    کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) قاسم علی خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قتل و اقدام قتل کے بیشتر واقعات جائیداد اور زمینی تنازعات کی وجہ سے پیش آ رہے ہیں۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس قسم کے تنازعات کو افہام و تفہیم سے حل کریں اور پولیس کے ساتھ تعاون کریں تاکہ ان جرائم کی روک تھام کی جا سکے۔

    پولیس کے مطابق، قتل اور اقدام قتل کے واقعات میں اضافے کی ایک بڑی وجہ زمینوں کی ملکیت، جائیداد کے تنازعات اور خاندانی جھگڑے ہیں۔ یہ واقعات بعض اوقات مقامی سطح پر غیر قانونی قبضوں اور لینڈ مافیا کے ساتھ بھی منسلک ہوتے ہیں، جو امن و امان کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔

    سی سی پی او قاسم علی خان نے عوام سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قتل و اقدام قتل کے واقعات میں کمی لانے کے لیے ضروری ہے کہ عوام پولیس کے ساتھ مل کر ان معاملات کو حل کرنے میں کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اپنے طور پر تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اس قسم کے جرائم کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے، مگر اس میں عوام کا تعاون بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔پشاور پولیس نے عوام کو آگاہ کرنے کے لیے ایک مہم بھی شروع کی ہے تاکہ وہ جرائم کی روک تھام میں اپنا حصہ ڈال سکیں اور معاشرتی مسائل کو مل کر حل کیا جا سکے۔

  • خیبرپختونخوا اور آزادکشمیر  میں  زلزلے کے جھٹکے

    خیبرپختونخوا اور آزادکشمیر میں زلزلے کے جھٹکے

    پشاور: خیبرپختونخوا اور آزادکشمیر کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : خیبرپختونخوا کے علاقوں پشاور،شمالی وزیرستان، چترال، سوات،شانگلہ، چارسدہ، بٹگرام، مانسہرہ، تورغراور مالاکنڈکے علاقے میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں آزادکشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے، زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے پر لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیااور کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 5.2ریکارڈ کی گئی،زلزلے کی گہرائی 212کلومیٹر تھی،زلزلے کا مرکز پاک افغانستان تاجکستان کا سرحدی علاقہ تھا۔