Baaghi TV

Category: پشاور

  • حکومت کے پاس عمران خان کو رہا کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں،عارف علوی

    حکومت کے پاس عمران خان کو رہا کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں،عارف علوی

    پشاور: سابق صدر اور رہنما پی ٹی آئی عارف علوی کا کہنا ہے کہ عمران خان کو رہا کرنا پڑے گا اور حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے،بانی پی ٹی آئی کے لیے جان دینےکو تیار ہوں۔

    باغی ٹی وی : تحریک انصاف کے پشاور سے نکلنے والے قافلے میں شریک سابق صدر عارف علوی نے کہا کہ آج تک بانی پی ٹی آئی کی کوئی کال ناکام نہیں ہوئی، مذاکرات کا وقت ختم ہوگیا، حکومت کو عمران خان کو رہا کرنا پڑے گا کیونکہ ان کے اس کے علاوہ کئی اور چارہ نہیں ہے، بانی پی ٹی آئی نے آج تک کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، اسی لیے اگر الیکشن کے دن 70 فیصد لوگ ہمارے ساتھ تھے تو آج 90 فیصد لوگ ہمارے ساتھ ہیں ، دنیا سوال اٹھا رہی ہےکہ یہ لوگ اپنے ملک کے ساتھ کیا کر رہے ہیں، بانی پی ٹی آئی کے لیے جان دینےکو تیار ہوں۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے آج اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دے رکھی ہے جبکہ انتظامیہ نے احتجاج کے پیش نظر دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف راستوں کو بند کردیا ہے جب کہ تمام راستوں پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری تعینات ہے، آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور قانون ہاتھ میں لینے والوں پر سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ کسی بھی شر انگیزی سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں، اسلام آباد میں کسی قسم کے احتجاج، ریلی یا مجمعے پر پابندی ہے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی،سکیورٹی پلان کا مقصد شر انگیزی کو روکنا ہے-

  • جعلی سلطنت کو دوام دینے کے لئے چچا بھتیجی لاشیں گرانا چاہتے ہیں، بیرسٹرسیف

    جعلی سلطنت کو دوام دینے کے لئے چچا بھتیجی لاشیں گرانا چاہتے ہیں، بیرسٹرسیف

    پشاور: مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹرسیف نے کہا ہے کہ جعلی سلطنت کو دوام دینے کے لئے چچا بھتیجی لاشیں گرانا چاہتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: پشاور سے جاری بیان میں مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا کہ جعلی حکومت نے بوکھلاہٹ میں پنجاب میں بھی لاشیں گرانے کا پلان بنایا ہوا ہے پرامن احتجاج روکنے کے لئے جعلی حکومت نے ایک ہفتے سے پورے ملک کو کنٹیرستان بنا یا ہوا ہے ڈی چوک میں کنٹینرز پر سبز کپڑا چڑھانا جعلی حکومت کے مذموم عزائم ظاہر کرتی ہےسندھ اور بلوچستان سے آنے والے قافلوں پر سیدھی فائرنگ کی گئی راستے میں رکاوٹوں کے باعث مریضوں کے ہسپتال نہ پہنچنے کے باعث بچوں اور حاملہ خواتین کی اموات رپورٹ ہوئی ہیں-

    بیرسٹرسیف کا کہنا تھا کہ سندھ اور بلوچستان سے آنے والے قافلوں پر سیدھی فائرنگ قابل مذمت ہے، جعلی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے، پنجاب میں بھی جعلی حکومت نے لاشیں گرانے کا پلان بنایا ہوا ہے، جعلی سلطنت کو دوام دینے کے لیے چچا اور بھتیجی لاشیں گرانا چاہتے ہیں، حواس باختہ حکومت نے پاکستان کو کنٹنرستان بنایا ہوا ہے، کنٹینرز کے پہاڑ کھڑے کرنے سمیت خندقیں بھی کھودی گئی ہے۔

    بیرسٹر سیف نے بتایا کہ ضلع کرم کے معاملے پر اہم پیشرفت ہوئی ہےجلد اچھی خبریں ملنے کا امکان ہے، مثبت پیشرفت کے بارے میں جلد آگاہ کردوں گا، عمائدین اور فریقین کے ساتھ مثبت پیشرفت کی طرف بڑھ رہے ہیں وزیراعلی کو تمام پیشرفت سے وقتا فوقتا آگاہ کیا جارہا ہے، وزیر اعلی حکومتی جرگے کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔

    خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں دو روز قبل پارا چنار سے پشاور جانے والی مسافر گاڑیوں پر فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 44 تک پہنچ گئی ہے پشاور اور پارا چنار کے درمیان مسافروں کی آمد و رفت کے سلسلے میں چلنے والے گاڑیوں پر دہشت گردوں کے حملے میں 44 افراد جاں بحق جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوئے مذکورہ واقعہ کے بعد کرم سے آمد و رفت کا سلسلہ منقطع جبکہ وہاں کے حالات کشیدہ ہیں، سانحے کے بعد بازار بند جبکہ واقعہ میں جاں بحق افراد کی تدفین کردی گئی۔

    کمشنر کوہاٹ کے مطابق گزشتہ شب اسی تسلسل مہں جھڑپوں میں مزید 18 افراد جاں بحق ہوئے جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے مذکورہ واقعہ کا فوری طور پر نوٹس لیاگیا اور ان کی ہدایت پر مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف ، وزیر قانون آفتاب عالم ، چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری ، آئی جی پی اختر حیات ، کمشنر کوہاٹ اور ڈی آئی جی کوہاٹ ہفتہ کے روز ہیلی کاپٹر کے ذریعے کرم پہنچے انہوں نے جرگہ ارکان اور عمائدین سے ملاقاتیں کیں۔

  • کرم کی صورتحال کی خود نگرانی کر رہا ہوں، علی امین گنڈاپور

    کرم کی صورتحال کی خود نگرانی کر رہا ہوں، علی امین گنڈاپور

    پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ کرم کی صورتحال کی خود نگرانی کر رہا ہوں۔

    باغی ٹی وی: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواعلی امین گنڈاپور کی زیر صدارت ویڈیو لنک اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں ضلع کرم کی تازہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا، ضلع کرم کا دورہ کرنے والے حکومتی وفد نے وزیر اعلیٰ کو ابتدائی رپورٹ پیش کی۔

    حکومتی وفد نے علی امین گنڈاپور کو پاراچنار میں اہل تشیع کے عمائدین سے ملاقات کے بارے میں آگاہ کیا، وزیر اعلیٰ نے تنازعے کے حل کے لئے تجاویز لیں حکومتی وفد نے تجاویز اور مطالبات سے آگاہ کیا،حکومتی وفد کل صدہ میں اہل سنت عمائدین سے بھی ملاقات کرکے ان سے بھی تجاویز لے گا۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ کرم واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے، سوگوار خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں، کوشش ہے کہ اس طرح کے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں،فریقین کے جو بھی جائز مطالبات ہوں گے ، وہ پورے کئے جائیں گے، صوبائی حکومت علاقہ عمائدین کی مشاورت اور تجاوز کی روشنی میں آگے کا لائحہ عمل طے کرے گی۔

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومتی وفد فریقین اور علاقہ عمائدین کے ساتھ بیٹھ کر حتمی تجاویز پیش کرے، تنازع کے حل کی طرف جانے کے لئےعلاقے میں سیز فائر ناگزیر ہے فریقین سے اپیل ہے کہ سیز فائرکریں تاکہ تنازعے کے حل کی طرف پیشرفت ہوسکے، علاقہ عمائدین اور مشران حکومتی وفد اور مقامی انتظامیہ سے بھر پور تعاون کریں علاقے میں امن کا قیام صوبائی حکومت کی سب سے پہلی ترجیح ہے، جس کے لئے تمام دستیاب آپشنز بروئے کار لائے جائیں گےمذاکرات تمام مسائل کے بہترین حل ہیں، پشتون روایات کے مطابق جرگے کے ذریعے اس مسئلے کا پر امن حل نکالیں گے۔

  • مرکزی اور صوبائی حکومت کی لڑائی کی وجہ سے خیبرپختونخوا سینڈوچ بن گیا ہے،سراج الحق

    مرکزی اور صوبائی حکومت کی لڑائی کی وجہ سے خیبرپختونخوا سینڈوچ بن گیا ہے،سراج الحق

    پشاور: جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر سراج الحق نے خیبرپختونخوا(کے پی) اور وفاقی حکومت کے رویے پر تشویش کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی : جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر سراج الحق نے بیان میں کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومت کی لڑائی کی وجہ سے خیبرپختونخوا سینڈوچ بن گیا ہے اور کرم میں فرقہ واریت کے نام پر سینکڑوں لوگ شہید ہوگئے ہیں سڑکوں پر کانوائے کی موجودگی میں قتل عام ہوا، انتظامیہ کی موجودگی میں بستیاں جلائی گئیں، بچے اور خواتین بھی فسادات کی وجہ سے شہید ہوئے ہیں، فسادات کی وجہ سے خانہ جنگی کا مزید خدشہ ہے، حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی ہے، وفاقی اور صوبائی حکومت ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔

    سراج الحق کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو سیاسی جھگڑے ترک کرکے کرم جانا چاہیے تھا، اب تو بچہ بچہ کہہ رہا ہے کہ سب کچھ انتظامیہ خود کررہی ہے، کسی کو معلوم ہے کہ اس خانہ جنگی کے پیچھے کس کے مقاصد پورے ہورہے ہیں کیا انسانی خون اتنا سستا ہوگیا ہے کہ بے دریغ بہایا جا رہا ہے، ڈی آئی خان سے لے کر باجوڑ تک پورا علاقہ بدامنی کی لپیٹ میں ہے، اور مزید پھیلنے کا خدشہ ہے مگر صوبائی اور مرکزی حکومت آپس میں لڑ رہی ہیں،یہ لوگ مراعات اور مزے لیتے ہیں لیکن عوام کو تحفظ نہیں دے سکتے-

    انہوں نے کہا کہ جو عوام کو تحفظ فراہم نہیں کرسکتے ان کو مرکز اور صوبے میں حکومت کا حق نہیں ہے، اتنے لوگ غزہ میں شہید نہیں ہورہے ہیں جتنے یہاں ہورہے ہیں،عوام حیران ہیں کہ کس سے بات کریں لہٰذا مرکزی اور صوبائی حکومت جھگڑے چھوڑ کر اس آگ کو بجھانے میں کردار ادا کریں،مسائل کا حل ہم مذاکرات سمجھتے ہیں اور اس وقت گرینڈ جرگہ بلانے کی ضرورت ہے، خطرہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ یہ آگ پورے صوبے اور ملک میں نہ پھیل جائے۔

  • ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس کی کرم میں فرقہ وارانہ فسادات کی مذمت، صحافیوں کی حفاظت کا مطالبہ

    ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس کی کرم میں فرقہ وارانہ فسادات کی مذمت، صحافیوں کی حفاظت کا مطالبہ

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی رپورٹ) ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس نے ضلع کرم میں جاری فرقہ ورانہ فسادات اور بے گناہ شہریوں کے قتل عام کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور ارباب اختیار سے ضلع کرم کے صحافیوں اور عام شہریوں کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ صحافی جنان حسین کی شہادت کے بعد آج ایک اور صحافی محمد ریحان کے گھر کو نذر آتش کرنا تشویشناک ہے، جس نے صحافی برادری کو مزید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے۔

    ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی قیادت نے قاضی فضل اللہ کی صدارت میں ایک اجلاس میں ضلع کرم میں جاری خونریزی پر حکومتی غفلت پر تشویش کا اظہار کیا۔ قاضی فضل اللہ نے کہا کہ بے گناہ معصوم شہریوں کا قتل عام سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے، اور اب صحافی برادری بھی ان فسادات کی زد میں آ گئی ہے۔ جنان حسین کا قتل اور محمد ریحان کے گھر کی آتشزنی ان مسائل کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ضلع کرم کی مخدوش صورتحال میں صحافیوں کی جان و مال غیر محفوظ ہو چکے ہیں، اور یہ ارباب اختیار کی ذمہ داری ہے کہ وہ صحافیوں اور عام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس نے کورکمانڈر پشاور سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر کرم کے صحافیوں کی حفاظت کے لئے اقدامات کریں تاکہ علاقے کی صحافی برادری کو تحفظ مل سکے۔

  • لکی مروت ،پیپلز پارٹی رہنما قتل،بلاول کا ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ

    لکی مروت ،پیپلز پارٹی رہنما قتل،بلاول کا ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ

    ضلع لکی مروت کے علاقے سرائے گمبیلہ میں نامعلوم مسلح افراد نےپاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر کارکن مشال آزاد کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔

    نامعلوم موٹرسائیکل سوار واردات کے بعد آسانی سے فرارہو گئے،مشال آزاد پی پی پی کے ٹکٹ سے ڈسٹرکٹ کونسلر بھی منتخب ہوئے تھے،چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پی پی پی لکی مروت کے رہنما مشال آزاد کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کی ہے، بلاول زرداری نے مطالبہ کیا ہے کہ مشال آزاد کے قتل میں ملوث ملزمان کو قانون کے کٹہڑے میں لایا جائے،مشال آزاد کے خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے،مجھ سمیت پوری پیپلز پارٹی اس مشکل گھڑی میں مشال آزاد کے خاندان کے ساتھ ہے،دعاگو ہوں، اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس اور سوگوار خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے.آمین

  • ملک میں سولر پینلز اور بیٹریوں کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی

    ملک میں سولر پینلز اور بیٹریوں کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی

    کراچی: طلب میں کمی کے باعث ملک میں سولر پینلز اور بیٹریوں کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی دیکھی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان میں سولر پینل کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی کے ساتھ سولر بیٹری کی قیمتوں میں قابل ذکر کمی سامنے آئی ہےسولر بیٹری کی قیمت 20 فیصد تک کم ہونے کے بعد ساڑھے 4 لاکھ روپے والی لیتھیم سولر بیٹری اب 3 لاکھ 80 ہزار روپے میں دستیاب ہے۔

    مارکیٹ ذرائع کے مطابق جو بیٹری 3 یا 4 لاکھ روپے میں فروخت ہو رہی تھی، اس کی قیمت اب دو سے ڈھائی لاکھ روپے ہو گئی ہے۔ کیونکہ لیتھیم بیٹریوں کی انڈسٹری میں نئی کمپنیاں آگئی ہیں اور وہ آفرز بھی اچھی دے رہی ہیں، تاجروں کے مطابق سولر پینلز سمیت سولر بیٹریوں کی خرید و فروخت شدید متاثر ہوئی ہے جس کی وجہ سے سولر مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی کمی واقع ہوئی ہے

  • امن وامان صورتحال بہتر بنانے کیلئے خیبرپختونخوا وفد ضلع کرم روانہ ہو گیا ہے

    امن وامان صورتحال بہتر بنانے کیلئے خیبرپختونخوا وفد ضلع کرم روانہ ہو گیا ہے

    پشاور(باغی ٹی وی رپورٹ)امن وامان صورتحال بہتر بنانے کیلئے خیبرپختونخوا وفد ضلع کرم روانہ ہو گیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا سردار علی آمین گنڈا پور کی ہدایت پر امن وامان صورتحال بہتر بنانے کیلئے خیبرپختونخوا وفد ضلع کرم روانہ ہو گیا ہے، وفد کی سربراہی صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم ایڈوکیٹ کر رہے ہیں، دیگر اراکین میں چیف سیکرٹری خیبر پختون خوا ندیم اسلم چوہدری، کمشنر کوہاٹ، ڈی آئی جی کوہاٹ اور ڈی پی او سمیت دیگر اعلی افسران شامل ہیں۔

    روانہ ہونے والا وفد ضلع کرم کے حالات کا مکمل طور پر جائزہ لے گا اور امن وامان صورتحال بحال کرنے کے لیے جرگے کو دوبارہ فعال کرے گا، اس کے علاوہ دورے کے بعد وفد ضلع کرم کے امن وامان کے حوالے سے اپنی رپورٹ وزیراعلٰی خیبر پختون خوا کو پیش کرے گا۔

    صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کا اس موقع پر کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت، پولیس اور دیگر ادارے مل کر امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امن و امان کی بحالی کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں گے اور اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے۔

  • لنڈی کوتل: مشران کی پریس کانفرنس، خاندانی جائیداد پر کام شروع کرنے کا اعلان

    لنڈی کوتل: مشران کی پریس کانفرنس، خاندانی جائیداد پر کام شروع کرنے کا اعلان

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ) مشران کی پریس کانفرنس، خاندانی جائیداد پر کام شروع کرنے کا اعلان

    لنڈی کوتل پریس کلب میں سمین خان سدوخیل، آشنا گل آفریدی، خان اکبر، زرپور اور طارق شاہ نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ انہوں نے اپنی پدری جائیداد پر کام شروع کر دیا ہے جو پرانا سدوخیل پاٹک کے قریب واقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ مخالف فریق اسلام سدوخیل اور خیال مت آفریدی غیر قانونی طور پر ان کے کام میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور زمین پر ناجائز دعویٰ کرتے ہیں۔

    مشران نے مزید کہا کہ مخالف فریق نے پہلے دفعہ 107 اور پھر دفعہ 145 کے تحت ان کے خلاف کارروائی کی تھی، جس پر انہوں نے قانونی طور پر ضمانت حاصل کی اور عدالت سے دفعہ 145 کو ختم کروا لیا۔ سول جج کے فیصلے کے مطابق اگر کوئی بھی فریق اس زمین پر دعویٰ کرے گا تو اسے سول کورٹ میں درخواست دینی ہوگی۔

    انہوں نے بتایا کہ مخالف فریق نے عدالت سے رجوع کیے بغیر غیر قانونی طریقے سے رات کے اندھیرے میں ان کا تعمیراتی سامان اٹھا لیا، جسے انہوں نے ظلم قرار دیا۔ مشران نے لنڈی کوتل ایس ایچ او اور انتظامیہ کو نوٹس دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس معاملے میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی ذمہ داری مخالف فریق پر عائد ہوگی۔

    انہوں نے آئی جی پی، سی سی پی او اور ڈی پی او خیبر سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ ہم نے تمام قانونی تقاضے پورے کیے ہیں، لہذا مخالف فریق سے ہمارا تعمیراتی سامان واپس کیا جائے تاکہ ہم اپنے کام کو دوبارہ شروع کر سکیں۔

  • باجوڑ میں دو دھماکے، پولیس اہلکار سمیت دو افراد کی موت

    باجوڑ میں دو دھماکے، پولیس اہلکار سمیت دو افراد کی موت

    باجوڑ میں دہشت گردی کے واقعات، دو دھماکے، پولیس اہلکار سمیت دو افراد کی موت ہو گئی

    باجوڑ میں دھماکے الگ الگ مقامات پر ہوئے، ڈی پی او باجوڑ وقاص رفیق کے مطابق ضلع باجوڑ کے تحصیل ماموند میں دو الگ الگ بم دھماکوں میں 2 افراد کی موت ہوئی ہے، پہلا بم دھماکا تھانہ لوئی ماموند کی حدود کے علاقے ایراب میں ہوا جس میں ملک اصغر کی موت ہوئی ہے،دوسرا دھماکہ تھانہ لوئی ماموند کے علاقے مینہ خوڑ میں ہوا جس میں پولیس اہلکار احسان اللہ کی موت ہوئی ہے،

    شہید پولیس اہلکار احسان اللہ کی نمازِ جنازہ پولیس لائن باجوڑ میں پورے سرکاری اعزاز کیساتھ ادا کردی گئی۔پولیس جوانوں کے چاک وچوبند دستے نے شہید کو سلامی پیش کی اور انکے بلند درجات کیلئے اجتماعی دعا کی گئی۔

    ڈی پی او باجوڑ کا کہنا ہے کہ باجوڑ میں ہونے والے دو دھماکوں کے واقعات کے بعد پولیس نے تفتیش شروع کر دی ہے تاہم ابھی تک کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، علاقے میں سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے