Baaghi TV

Category: پشاور

  • پشاور ہائیکورٹ،اسد قیصر،صنم جاوید،شاندانہ گلزار و دیگر کی ضمانت منظور

    پشاور ہائیکورٹ،اسد قیصر،صنم جاوید،شاندانہ گلزار و دیگر کی ضمانت منظور

    پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا اسمبلی کے سپیکر بابر سلیم سواتی اور ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی اور صنم جاوید کو بھی ضمانت دے دی، تینوں کو 2 ہفتے تک کسی بھی کیس میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا

    پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنماء سلمان اکرم راجہ، شاندانہ گلزار، ارباب شیر علی، ارباب عامر ایوب اور آصف خان کو 24 دسمبر تک ضمانت دیدی،پشاور ہائیکورٹ نے اسد قیصر کو تین مقدمات میں 31 دسمبر تک راہداری ضمانت دیدی، گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا

    اسلام آباد ڈی چوک کے مقدمات میں ایم این اے سہیل سلطان ایڈووکیٹ سمیت پاکستان تحریک انصاف کے دیگر ایم این ایز صاحبزادہ صبغت اللہ، شہریار آفریدی، جنید اکبر، محبوب شاہ، ساجد مہمند اور احسن جمال ضمانت 24 تاریخ تک منظور ہوگئی۔

    ڈی چوک احتجاج پر گرفتار14 سالہ بچے سمیت146 کارکنان کو جوڈیشل کردیاگیا،انسداد دہشتگری عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کیس پر سماعت کی،10 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر 146 ورکرز عدالت میں پیش کرتے ہوئےملزمان کے 20 روزہ مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی جو عدالت نے مسترد کر دی

    پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب پانچ مقدمات میں عبوری ضمانتیں کرانے اسلام آباد کچہری پہنچ گئے،عمر ایوب کی 3 مقدمات میں عبوری ضمانت 21 دسمبر تک منظو ر کر لی گئی،سیشن عدالت نے دس دس ہزار روپے کے مچلکوں کی عوض ضمانت منظور کی

  • مالم جبہ کیس،عاطف خان کے وارنٹ گرفتاری معطل

    مالم جبہ کیس،عاطف خان کے وارنٹ گرفتاری معطل

    پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عاطف خان کے وارنٹ گرفتاری معطل کر دیے ہیں۔ یہ فیصلہ مالم جبہ اور فضل گارڈن کیس کے حوالے سے کیا گیا، جس میں عاطف خان کے خلاف اینٹی کرپشن کے مقدمات درج ہیں۔

    پشاور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس وقار احمد کی سربراہی میں عاطف خان کی درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت عاطف خان کے وکیل نے عدالت میں مؤقف پیش کیا کہ ان کے موکل کے خلاف بدنیتی پر مبنی کیس درج کیا گیا ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے جاری کیے گئے وارنٹ منفی مقاصد کے تحت ہیں۔وکیل درخواست گزار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عاطف خان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وارنٹ گرفتاری کو معطل کیا جائے۔عدالت نے درخواست پر غور کرتے ہوئے عاطف خان کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کا حکم دیا اور اینٹی کرپشن حکام کو ان کی گرفتاری سے روک دیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ عاطف خان کے حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، اور تحقیقات کے دوران انہیں گرفتار کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ اینٹی کرپشن نے مالم جبہ اور فضل گارڈن کیس میں عاطف خان کے خلاف کارروائی شروع کی تھی اور انہیں کال آف نوٹس اور وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ ان الزامات کے تحت عاطف خان پر بدعنوانی اور سرکاری اراضی کی غیر قانونی خریداری کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔عدالت کی جانب سے وارنٹ گرفتاری معطل کیے جانے کے بعد عاطف خان کے وکیل نے کہا کہ یہ فیصلہ انصاف پر مبنی ہے اور ان کے موکل پر عائد الزامات بے بنیاد ہیں۔ اس فیصلے کے بعد عاطف خان اور ان کے حامیوں نے عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔

    خیبر پختونخوا حکومت، پی ٹی آئی رہنما عاطف خان کو دوسرے کیس میں نوٹس جاری

    عاطف خان کی طلبی، پی ٹی آئی میں اختلافات

    اینٹی کرپشن میں طلبی،عاطف خان بولے،اب کھل کو بولوں گا

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان

  • جمرود: سرکاری سکول ٹیچر کے قتل پر احتجاج، پاک افغان شاہراہ بند

    جمرود: سرکاری سکول ٹیچر کے قتل پر احتجاج، پاک افغان شاہراہ بند

    جمرود (باغی ٹی وی رپورٹ)جمرود میں مقتول سرکاری سکول ٹیچر روح الامین کو انصاف دلانے کے لیے شاہ کس لیوی سنٹر اور ڈی پی او خیبر کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں سیاسی و غیر سیاسی افراد، اساتذہ، اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے پاک افغان شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔ مظاہرین نے قاتلوں کی فوری گرفتاری اور مقتول کے لواحقین کو انصاف کی فراہمی کے مطالبات کیے۔

    مقتول ٹیچر روح الامین، جو کوکی خیل قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، کو چند دن قبل تحصیل باڑہ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ مظاہرین نے پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی عدم فعالیت پر شدید تنقید کی، اور سوال اٹھایا کہ عوام کی حفاظت کون کرے گا، اگر پولیس اور سیکیورٹی اہلکار اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کرتے۔

    ڈی پی او خیبر نے مظاہرین سے مذاکرات کے بعد ان کے مطالبات تسلیم کیے، جن میں 20 دن کے اندر قاتلوں کی گرفتاری، مقتول کے لواحقین کو شہداء پیکج کی فراہمی، ایک سرکاری نوکری، اور ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعات شامل کرنا شامل ہیں۔ مظاہرین نے ان مطالبات کی منظوری کو زبانی قرار دیتے ہوئے عملی اقدامات پر زور دیا۔

    جمرود سیاسی اتحاد کے صدر ملک واحد شاہ نے مظاہرے میں جمرود کے مشران اور دیگر جماعتوں کی عدم شرکت پر افسوس کا اظہار کیا اور اسے مقتول کے خاندان کے ساتھ ناانصافی قرار دیا۔ مظاہرین نے انصاف کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔

  • خواہش ہے عمران خان کو خیبرپختونخوا منتقل کیا جائے،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    خواہش ہے عمران خان کو خیبرپختونخوا منتقل کیا جائے،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    پشاور: خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ہماری خواہش ہے کہ عمران خان کو خیبرپختونخوا منتقل کیا جائے اور ان کی رہائی جلد ممکن ہو۔

    پشاور میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کے حوالے سے جو باتیں کی جا رہی ہیں، وہ غیر مناسب ہیں اور اس پر ہمیں کسی صورت بھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔و لوگ پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کی باتیں کر رہے ہیں، وہ اپنی حد میں رہیں۔ ہم سول نافرمانی کی تحریک پر ابھی فیصلہ نہیں کر پائے ہیں، اس پر بات چیت عمران خان سے ملاقات کے بعد کی جائے گی۔”میں کسی ایسی عورت کو وہ ماں ماننے کیلئے تیار نہیں ہوں جس کے پاؤں کے نیچے جنت ہے جو کرپشن کو پروموٹ کرتی ہے.

    نومبر کے آخری ہفتے میں تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران بشریٰ بی بی کو اکیلے چھوڑ جانے کے حوالے سے سوال پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا، "اس سوال کا جواب بشریٰ بی بی خود دے سکتی ہیں۔”

    وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے انسداد بدعنوانی کے حوالے سے نشتر ہال پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیب پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ "نیب پر اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں اور اس کا کردار کرپشن کے خاتمے کے بجائے کرپشن کو پروموٹ کرنے کا بن چکا ہے۔ نیب کا کردار صرف انتقامی کارروائیوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔”ہم نے ابھی تک اپنے اندر سے احتساب شروع نہیں کیا۔ جب ہم کرپشن کو بُرا ماننا شروع کریں گے تو ہی کرپشن کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے کرپشن کے خاتمے کے لیے ایک نظام بنانے کی بات کی تھی، مگر اس کے باوجود کرپشن کے مسائل حل نہیں ہو پائے ہیں۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا وپر نے ملک کے مختلف اداروں میں کرپشن کے معاملات کو سامنے لاتے ہوئے کہا کہ "تھانوں میں رشوت چلتی ہے، پٹواری پیسے لیتا ہے اور لوگوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ اگر 8 کروڑ روپے جمع کروا دیے جائیں تو جیل جانے سے بچا جا سکتا ہے۔”

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کرپشن معاشرتی سطح پر گہرا اثر ڈال رہی ہے اور اس کا خاتمہ ممکن نہیں ہو رہا۔ "ہم سب کا اس کا حصہ بننا ایک المیہ ہے۔ اتنے سال گزرنے کے باوجود کرپشن کا خاتمہ نہیں ہو سکا، مگر حکومت نے آئندہ کے لیے اقدامات کیے ہیں اور 44 فیصد ریونیو بڑھایا ہے۔”علی امین گنڈاپور نے حکومت کی جانب سے کرپشن کے خلاف عملی اقدامات کے بارے میں کہا کہ "ہم اس نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے لیے حکومتی سطح پر کام جاری ہے۔”

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 7ملزمان کیخلاف مقدمات درج

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 13 ملزمان کیخلاف مقدمات

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

  • دینی مدارس میں سرکار کی مداخلت نہیں مانتے،مولانا فضل الرحمان

    دینی مدارس میں سرکار کی مداخلت نہیں مانتے،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ دینی مدارس کے بل پر دستخط نہ کرنا بدنیتی پر مبنی ہے، ہم مدارس کا ایک اجلاس بلا رہے ہیں، جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائےگا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پشاور میں ’اسرائیل مردہ باد‘ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کارکنوں سے وعدہ لیا کہ اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دینے کی صورت میں وہ تیار رہیں۔ ہم موجودہ حکومتوں کو تسلیم نہیں کرتے، کیونکہ یہ اسٹیبلشمنٹ کی حکومتیں ہیں، ہم نے اگر اسلام آباد کی جانب بڑھنے کا فیصلہ کرلیا تو کوئی ہمیں روک نہیں سکے گا۔ حکومت 56 شقوں پر مشتمل جو آئینی ترمیم پاس کرنا چاہتی تھی اگر وہ پاس ہوجاتی تو نہ ملک بچتا اور نہ ادارے بچتے، لیکن ہم نے مشاورت کے ذریعے حکومت کو 34 شقوں سے دستبردار کرایا، اور پھر کچھ شقیں اپنی بھی شامل کیں جو سود اور وفاقی شرعی عدالت سے متعلق ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس کے علاوہ مدارس کے حوالے سے ایک بل جو پہلے سے تیار تھا، اس پر حکومت سے اتفاق رائے ہوگیا، اور وہ دونوں ایوانوں سے پاس بھی ہوا لیکن صدر نے اس پر دستخط نہیں کیے۔مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ آپ جانتے ہیں کہ ہم دینی مدارس میں سرکار کی مداخلت نہیں مانتے، مدارس آزاد حیثیت سے کام کریں گے۔انہوں نے کہاکہ مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر ڈائریکٹوریٹ بنانے کا جو فیصلہ ہوا یہ معاہدے میں کہیں موجود نہیں تھا۔سربراہ جے یو آئی نے کہاکہ ایک جرنیل جس شناختی کارڈ کی بنیاد پر پاکستانی ہے میں اور میرا کارکن بھی اسی کی بنیاد پر پاکستانی ہیں، ہم ملک کی بقا اور تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ اور حکمرانوں نے ہمیشہ پاکستان کے نظریے کا انکار کیا، پاکستان ہمارے کچھ سرکاری محکموں کا نام نہیں، یہ ریاست عوام کی بنیاد پر ریاست کہلاتی ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ مولوی صاحبان تھک جائیں گے تو یہ ان کی بھول ہے، ہم جدوجہد جاری رکھیں گے اور یہ جنگ ہم ہی جیتیں گے۔انہوں نے کہاکہ فلسطین میں مسلمانوں کا قتل عام ہورہا ہے لیکن مغربی دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، ان کو اب انسانی حقوق کی بات کرنے کا کوئی حق نہیں۔انہوں نے کہاکہ اسرائیل فلسطینی مجاہدین کا مقابلہ نہیں کرسکتا، وہ معصوم اور بے بس مسلمانوں پر بمباری کررہا ہے، اس صورت حال میں ہم فلسطینی بھائیوں کے شانہ بشانہ ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ حکمرانو زرا سوچو مودی تو ڈٹ کر کہتا ہے کہ ہم اسرائیل کے ساتھ ہیں، آپ کو فلسطینیوں کے حق میں کھل کر کھڑے ہونے کی جرات کیوں نہیں ہورہی۔

    عمران خان نے حکومت سے مذاکرات کیلیے کمیٹی بنا دی

    کچے کے ڈاکوؤں کو اسلحہ فراہم کرنے والے 5 ملزمان گرفتار

    شوہر نے دوسری بیوی کے ساتھ مل کر پہلی کو قتل کردیا

    گورنر سندھ سے اٹلی کی سفیراور وزارت دفاع کے مشیرکی ملاقات

  • خیبر: تنظیم اساتذہ کا اجلاس، اساتذہ کے تحفظ اور شہید روح الامین کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ

    خیبر: تنظیم اساتذہ کا اجلاس، اساتذہ کے تحفظ اور شہید روح الامین کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ

    خیبر (باغی ٹی وی رپورٹ) تنظیم اساتذہ ضلع خیبر کی پریس ریلزکے مطابق تنظیم اساتذہ نے حکومت سے اساتذہ کے تحفظ کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے اور شہید استاد روح الامین کے قاتلوں کی گرفتاری کی درخواست کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے شہید کے لیے شہداء پیکج کا اعلان کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

    تنظیم اساتذہ ضلع خیبر کا ایک اہم اجلاس تنظیم منزل جمرود میں منعقد ہوا، جس کی صدارت ضلعی صدر شریف اللہ آفریدی نے کی۔ اجلاس میں اساتذہ کے تحفظ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ضلع نے کہا کہ حکومت اساتذہ کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کے لیے حفاظتی تدابیر نہ ہونے کی وجہ سے تدریس کا عمل متاثر ہونے کا خطرہ ہے، جس کا اثر طلبہ کی تعلیم پر بھی پڑ سکتا ہے۔

    اس موقع پر تنظیم اساتذہ ضلع خیبر کی سالانہ کارکردگی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ رپورٹ میں اس بات کا ذکر کیا گیا کہ تنظیم نے گزشتہ سال اساتذہ اور طلبا کی خدمت اور تربیت کے لیے بہترین اقدامات کیے اور اس سلسلے کو آئندہ سال بھی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔ اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ اساتذہ کی فلاح و بہبود اور تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

    اجلاس کے آخر میں استاد شہید روح الامین کی مغفرت اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ اس موقع پر تنظیم کے ذمہ داران نے ایک آواز ہو کر حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اساتذہ کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرے اور شہید روح الامین کے قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

  • مدارس رجسٹریشن ،کل لائحہ عمل دیں گے،مولانا فضل الرحمان

    مدارس رجسٹریشن ،کل لائحہ عمل دیں گے،مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر حکومت مدارس رجسٹریشن پر سیدھی نہیں ہوتی تو کل لائحہ عمل دیں گے،

    نوشہرہ میں‌مولانا فضل الرحمان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سے اتفاق ہوا تھا کہ مدارس جس صوبے میں چاہیں رجسٹر ہو سکتے ہیں، اب ایوان صدر سے اعتراض آ رہے ہیں، آصف زرداری خود لاہور اجلاس میں موجود تھے جب بلاول کے ساتھ اس پر اتفاق ہوا تھا،اب ان کے اعتراض کو میں ہاتھ لگانا تو کیا چمٹے سے بھی پکڑنے کو تیار نہیں ہوں ،میرے مدرسے کا طالب علم کالج یونیورسٹی کے نصاب کا امتحان دیتا ہے، اسکی شرح نکالی جائے کہ ہمارا کتنا نوجوان عصری علوم حاصل کر رہا ہے، ہماری شرح بہت زیادہ ہے، اگر بیٹے کے لئے انگریزی پڑھانا مفید سمجھتا ہوں تو امت کے بچوں کے لئے کیوں مفید نہیں سمجھوں گا، کیا دارالعلوم دیوبند نے عصری علوم کا کبھی انکار کیا، تاریخ بھی تو پڑھیے گا، مدرسہ کیوں وجود میں آیا، جو مدرسہ برصغیر میں ہے وہ 1857 سے پہلے کیوں برصغیر میں نہ تھا، اس پر سوچنا چاہیے، اسلام ،علما ہر جگہ ہیں، آج بھی کہنا چاہتا ہوں میری بیوروکریسی جتنی بھی خوش نما، خوبصورت اور معصوم الفاظ میں ہمدردی کے الفاظ استعمال کریں کہ مدارس کو مین سٹریم میں لانا چاہتے ہیں، فضلا کو روزگار دلانا چاہتے ہیں ،یہ وہ زہر ہیں جو آپ ہمیں دینا چاہ رہے، ہمیں آپ پر کوئی اعتماد نہیں، یہ الیکشن دھاندلی کا الیکشن ہے اور یہ حکومت قانونی اور آئینی نہیں ہے، بس ایک زبردستی والی حکومت ہے، اگر خیبرپختونخوا میں کوئی تبدیلی آئےگی تو ہم اس کا حصہ نہیں ہونگے،مدارس کو رجسٹرڈ کروانا چاہتے ہیں لیکن ریاست سے تصادم نہیں چاہتے ،دینی مدارس کو حکومت کے اثرورسوخ سے آزاد رکھنا چاہتے ہیں ،

    جے یو آئی کی 8 دسمبر کے بعد اسلام آباد کا رخ کرنے کی دھمکی،وزیراعظم کا مولانا سے رابطہ

    مولانا سے بلاول کی ملاقات،ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

    پاکستان کے فیصلے ٹرمپ نہیں کرے گا،مولانا فضل الرحمان

    ہم اس ملک میں غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں، مولانا فضل الرحمان

  • میں بشریٰ بی بی کے ساتھ” فل ٹائم” تھا،علی امین گنڈا پور

    میں بشریٰ بی بی کے ساتھ” فل ٹائم” تھا،علی امین گنڈا پور

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ میں بشریٰ بی بی کے ساتھ فل ٹائم تھا،آخر تک تھااور ان کو وہاں سے لے کر آنا، سب کچھ میں نے کیا، اب اُس کے علاوہ کسی اور کے بارے میں ان کی کوئی رائے ہے، تو وہ ان کی ذاتی رائے ہے،وہی جواب دے سکتی ہیں

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ ہماری تو تاریخ ہے پانی پت پر کتنے حملے ہوئے تھے ابھی تو ہم نے پانچ کئے ہیں ابھی تو بہت رہتے ہیں انشااللہ فتح کریں گے اسطرح نہیں مانیں گے تو فتح کرکے دکھائیں گے، پانی پت کے برابر آ چکے ،سومنات کی طرف بڑھیں گے،ہم مذاکرات کرنے کی بات ملک کے لئے کر رہے ہیں، آئین نے ہمیں احتجاج کا حق دیا ہے، مذاکرات کرنے ہیں تو کر لیں،نہیں کرنے تو بھی ہم احتجاج کر رہے ہیں،ایک ایسا شخص، جس کی پارٹی نے بلوچستان اور سندھ میں ہماری پارٹی پر پابندی کی قراردادیں منظور کروائیں، اور گولیاں چلانے کے احکامات دینے میں بھی ان کی پارٹی شامل تھی، میں ایسے شخص کی اے پی سی میں جاؤں گا ،ایسا نہیں ہو سکتا، ایسی پارٹی اپنے آپ کو جمہوری کہتی ہے،یہ فارغ ہے، کوٹ ،ٹائی پہنے اور فوٹو نکلوائے بس،جتنی سختی کر لیں ہم اب بہت آگے بڑھ چکے ہیں.اس پیپلز پارٹی نے 1977 میں لاہور کے اندر وہی بھٹو، جسے ہم شہید کہتے ہیں، کرسی کے لیے لوگوں کو مروایا، ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ ن نے جو کیا، وہ بھی سب کے سامنے ہے اوران انہوں نے مل کر جو حرکت کی ہے، اس کا حساب لیا جائے گا،یہ نفرت پیدا کروا رہے ہیں،کیا چاہتے ہیں کہ لوگ اپنا حق نہ مانگیں، مینڈیٹ چور ہیں یہ غیر آئینی اقدامات کر رہے ہیں،

    قبل ازیں گومل میڈیکل کالج کے سالانہ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ ملک کو ایسی قیادت دیں جو اس ملک کو عظیم بنائے، دور دراز علاقوں میں ہیلتھ یونٹ کو فعال بنائیں گے، امن و امان کی صورتِ حال اور دور ہونے سے لوگ ڈیوٹی کرنے نہیں جاتے،جن لوگوں نے تاریخ رقم کی انہوں نے کچھ غیر معمولی کام کیا، آپ بھی وہی لوگ بنیں اور پسماندہ علاقوں میں جا کر خدمت کریں،مجھے خوشی ہے کہ چانسلر کی حیثیت سے موجود ہوں، اگر آپ کا ماضی ٹھیک نہیں ہے تو آپ اپنے حال کو ٹھیک کر لیں، جب دماغ سے سوچیں گے تو تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔

    ڈی چوک سے کون بھاگا؟ بشریٰ یا پی ٹی آئی قیادت

    عدالت پیش نہ ہونیوالی بشریٰ بی بی ایک بار پھر سیاسی طور پر متحرک

    رقص و سرور کی محفل،بیٹے موسیٰ اور سابق شوہر خاورمانیکا کو بشریٰ بی بی کب "تبلیغ” کریں گی

    بشریٰ بارے انٹرویو، مشال یوسف زئی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

    بشریٰ بی بی کی سیاسی انٹری نئی نہیں،عمران خان کی بہن پھٹ پڑی

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

  • صوابی میں گولیاں چل گئیں، میاں بیوی سمیت 3 قتل

    صوابی میں گولیاں چل گئیں، میاں بیوی سمیت 3 قتل

    صوابی کی تحصیل ٹوپی کے علاقے ڈھیرو لار گدون میں فائرنگ کے ایک دردناک واقعے میں تین افراد جاں بحق جبکہ ایک بچی زخمی ہوگئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حملہ پرانی دشمنی کے سبب کیا گیا۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کا یہ واقعہ 7 دسمبر 2024 کو صبح کے وقت پیش آیا۔

    پولیس حکام کے مطابق ملزمان نے ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس میں گاڑی کے اندر سوار افراد شدید زخمی ہوگئے۔ گاڑی کا رخ ڈھیرو لار گدون کے علاقے کی طرف تھا، جہاں ملزمان نے فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی میں سوار تین افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ہلاک ہونے والوں میں ایک مرد اور ایک خاتون شامل ہیں جو میاں بیوی تھے، جبکہ ان کے ساتھ موجود ایک قریبی رشتہ دار بھی اس فائرنگ کی زد میں آ کر جاں بحق ہوگیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کی زد میں آنے والی بچی، جو تقریباً 8 سے 9 سال کی عمر کی ہے، شدید زخمی ہوگئی، تاہم وہ زندہ بچ گئی ہے اور اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ زخمی بچی کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی طبی امداد کی جا رہی ہے۔

    پولیس نے فوراً موقع پر پہنچ کر تحقیقات کا آغاز کردیا۔ پولیس حکام کے مطابق ابتدائی طور پر یہ واقعہ پرانی دشمنی کا شاخسانہ لگتا ہے، کیونکہ علاقے میں ماضی میں دونوں فریقوں کے درمیان دشمنی رہی ہے۔ اس سلسلے میں پولیس نے مختلف زاویوں سے تفتیش شروع کر دی ہے اور علاقے کی ناکہ بندی کر کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں۔صوابی پولیس کے ڈی ایس پی نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمی بچی اور جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشوں کو ٹوپی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھا کیے جا رہے ہیں تاکہ اس دہشت گردانہ حملے کے ملزمان تک پہنچا جا سکے۔

    ذرائع کے مطابق اس واقعے کا تعلق ممکنہ طور پر دونوں فریقوں کے مابین ایک طویل عرصے سے چلتی آرہی دشمنی سے ہے، جو مختلف چھوٹے بڑے تنازعات کی شکل میں کئی مرتبہ سامنے آ چکی تھی۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ حملہ کسی انتقامی کارروائی کا نتیجہ ہو سکتا ہے، جس میں ملزمان نے اپنی پرانی دشمنی کے بدلے فائرنگ کی۔صوابی کے اس علاقے میں اس طرح کے واقعات ایک سنجیدہ مسئلہ بنتے جا رہے ہیں، خاص طور پر جب یہ دشمنیاں مسلسل بگڑتی جارہی ہیں۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ اس واقعے کے بعد سیکیورٹی کے مزید اقدامات کیے جائیں گے اور علاقے میں گشت کو بڑھایا جائے گا تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

    صوابی کے ضلعی انتظامیہ نے اس واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ تعزیت کی ہے۔ ضلعی پولیس افسران نے ایک پریس کانفرنس میں عوام کو یقین دلایا کہ اس واقعے کی تحقیقات کو تیز کیا جائے گا اور ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔صوابی کے عوام نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور غصے کا اظہار کیا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس علاقے میں پرانی دشمنیاں اور تنازعات پہلے بھی دیکھنے کو ملے ہیں، لیکن اس نوعیت کی فائرنگ نے عوام میں خوف اور بے چینی کو بڑھا دیا ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور پولیس اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے مزید سخت اقدامات کریں تاکہ ایسے المیے کی دوبارہ تکرار نہ ہو۔

  • لنڈی کوتل:ایس پی ایل کا اختتام، ایم ڈی کے کرکٹ کلب نے ٹرافی جیت لی

    لنڈی کوتل:ایس پی ایل کا اختتام، ایم ڈی کے کرکٹ کلب نے ٹرافی جیت لی

    لنڈی کوتل( باغی ٹی وی رپورٹ)ایس پی ایل کا اختتام، ایم ڈی کے کرکٹ کلب نے ٹرافی جیت لی

    تفصیل کے مطابق وی سی 3 ریلوے اسٹیشن کرکٹ گراؤنڈ پر اسٹیشن پریمیئر لیگ (SPL) کے سنسنی خیز مقابلوں کا اختتام ہوا، جس کے فائنل میں ایم ڈی کے کرکٹ کلب نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیراہ زلمی کرکٹ کلب کو شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کر لی۔

    فائنل میچ میں تیراہ زلمی نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ایم ڈی کے کلب کو ایک معتدل ہدف دیا، جسے ایم ڈی کے کلب نے باآسانی حاصل کر کے فتح حاصل کی۔

    تقریب کے مہمان خصوصی تحصیل چیئرمین شاہ خالد شینواری تھے جبکہ طورخم کسٹم ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر مجیب شینواری، کابینہ ممبران، تحصیل کونسل ممبران، عمائدین علاقہ، اور کثیر تعداد میں شائقین نے شرکت کی۔

    مہمان خصوصی نے فاتح ٹیم کو موٹر سائیکل اور نقد انعام سے نوازا جبکہ رنر اپ ٹیم کو کیش انعام دیا گیا۔ مین آف دی میچ اور مین آف دی ٹورنامنٹ کو بھی خصوصی نقد انعامات پیش کیے گئے۔ شاہ خالد شینواری نے پچاس ہزار روپے نقد انعام کا اعلان کیا جبکہ مجیب شینواری نے مزید 20 ہزار روپے دیے۔

    ٹورنامنٹ آرگنائزر شاہ فہد شینواری نے تمام مہمانوں، اسپانسر ضیاء الدین شینواری، اور ڈے نائٹ ہوٹل کے مالک کا شکریہ ادا کیا اور ٹورنامنٹ کی کامیابی پر مسرت کا اظہار کیا۔

    ایس پی ایل کے اس ایونٹ نے کرکٹ کے شائقین کو سنسنی خیز لمحات فراہم کیے اور کھیل کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔