Baaghi TV

Category: پشاور

  • ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا بھاگے کیوں ؟کارکن کے سوال پر علی امین پھر بھاگ نکلے

    ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا بھاگے کیوں ؟کارکن کے سوال پر علی امین پھر بھاگ نکلے

    کے پی کے کے ضلع مانسہرہ میں پی ٹی آئی کارکنان نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کے سامنے آنے پر سوالات کی بوچھاڑ کردی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ شب سکیورٹی فورسز نے اسلام آباد مظاہرین سے خالی کرالیا، آپریشن شروع ہوتے ہی وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی موقع سے فرار ہوگئیں اور کارکن بھی بھاگ نکلے تھے۔علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی اسلام آباد سے فرار کے بعد مانسہرہ پہنچے تھے۔مانسہرہ میں پریس کانفرنس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور سے سوالات کی بوچھاڑ کردی۔ایک کارکن کی جانب سے سوال کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے نئی حکمت عملی کیا ہے؟ اس پر علی امین کا کہنا تھاکہ نئی حکمت عملی بانی پی ٹی آئی خود دیں گے۔ایک اور کارکن نے پوچھاکہ آپ کیسے یہاں پہنچے ؟ جبکہ ایک کارکن نے شعر پڑھ کر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے سوال کیا۔ کارکن نے شہاب جعفری کا ’تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا‘ شعرپڑھا تاہم وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کارکنوں کے جواب دیے بغیر وہاں سے روانہ ہوگئے۔

    ہم مستقبل کیلیے تیار سندھ تشکیل دے رہے ہیں، مراد علی شاہ

    کرم:سیز فائر میں توسیع، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تعیناتی کا فیصلہ

    بانی کی ہدایت نہ ماننے پر پی ٹی آئی کمیٹی کا اظہار تشویش

    بیلاروس کے صدر کا قربانیوں پرپاک فوج کو خراج تحسین

  • کرم:سیز فائر میں توسیع، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تعیناتی کا فیصلہ

    کرم:سیز فائر میں توسیع، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تعیناتی کا فیصلہ

    ضلع کرم میں متحارب فریقین کے درمیان سیز فائر میں تین روز کی توسیع کردی گئی ہے اور سیز فائر اب دس دنوں کے لئے ہوگا جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تعیناتی کا فیصلہ کر لیا گیا.

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیر اعلی علی امین گنڈا پور کی زیر صدارت مانسہرہ میں سپیکر بابر سلیم سواتی کی رہائش گا پر ہونے والے اجلاس میں ضلع کرم کی تازہ ترین صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں چیف سیکرٹری، آئی جی پی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور دیگر نے شرکت کی۔حکام کی طرف سے وزیر اعلیٰ کو کرم کی تازہ صورتحال پر بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ کرم میں متحارب فریقین کے درمیان دس دنوں کے لئے سیز فائر ہوا ہے جو پہلے سات دنوں کے لئے ہوا تھا جبکہ مسلئے کے پر امن حل کے لئے مزاکرات کا عمل جاری ہے۔امن برقرار رکھنے کے لئے تمام اہم مقامات پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دستے تعینات کئے جائیں گے۔اسی طرح علاقے میں ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لئے تخمینہ لگایا جائے گا۔ بند شاہراہوں کو کھولنے کے لئے علاقے میں محفوظ نقل و حمل کے لئے سکیورٹی پلان اور ایس او پیز جاری کئے جارہے ہیں۔وزیر اعلی علی امین نے کہا کہ فریقین کے درمیان جنگ بندی خوش آئند اقدام ہے۔علاقے میں ہونے والے مالی نقصانات کا سروے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے تاکہ متاثرین کے نقصانات کا جلد ازالہ کیا جاسکے ۔وزیر اعلی نے ھدایت کی کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کو مالی امداد کی ادائیگیاں جلد یقینی بنائی جائیں۔علی امین نے کہا کہ علاقے میں پائیدار امن کا قیام صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔صوبائی حکومت اس مقصد کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔

    بانی کی ہدایت نہ ماننے پر پی ٹی آئی کمیٹی کا اظہار تشویش

    پر تشدد احتجاج،عمران،بشریٰ،گنڈاپور و دیگر پر اسلام آباد میں 8 مقدمے درج

    بشری بی بی کا پریس کانفرنس،گنڈاپور کے ساتھ جانے سے گریز

    فسادیوں اور ملک دشمنوں کو مزید موقع نہیں دینا، وزیراعظم

  • عمران خان کی کال پر دھرنا جاری رہے گا،علی امین گنڈا پور

    عمران خان کی کال پر دھرنا جاری رہے گا،علی امین گنڈا پور

    مانسہرہ: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ عمران خان کی کال پر دھرنا جاری رہے گا۔

    باغی ٹی وی : مانسہرہ میں وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہمارے لیڈر کو جیل میں ڈالا گیا، ہم نے ہمیشہ حقیقی آزادی کی بات کی ہے، ڈھائی سال سے ہماری جماعت پر ظلم کیا جارہا ہے، تشدد نہ ہوتا تو ہمارے لوگ جواب نہ دیتےہم نے اسلام آباد میں احتجاج کے لیے پرامن کال دی، ہم اپنے جائز حقوق کی بات کررہے ہیں، ہماری پارٹی کے ساتھ جبر کیا گیا ہے، ہمیں بانی پی ٹی آئی نے ڈی چوک جانے کی اجازت دی۔

    علی امین نے کہا کہ یہ جنگ ہماری نسلوں کی جنگ ہے، پورے ملک کو بتانا چاہتا ہوں ہمارا دھرنا جاری ہےمیں اپنے ورکرز کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں، جو کارکن گرفتار ہیں انہیں رہا کروائیں گے جیسے پہلے کرایا تھا، عمران خان نے کہا ہےکہ جب وہ کہیں گے تب دھرنا ختم ہوگا، تو یہ بات یاد رکھیں یہ دھرنا ابھی جاری ہے، یہ دھرنا عمران خان کے اختیار میں ہے ہمارا دھرنا ایک تحریک ہے جو جاری ہے-

    انہوں نے کہا ہےکہ عمران خان کی کال تک دھرنا جاری رہےگا، ہمیں عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا، اور نہ ہی اسمبلی کا فلور یا پارلیمان کا تقدس ہے نہ اس کا اس ملک میں کوئی احترام رہ گیا ہےہمارا لیڈر جیل میں ہے، اس کی اہلیہ کو بھی جیل میں ڈالا گیا، مجھ پر 9 مئی کے درجنوں مقدمات درج ہیں، کوئی ایک ویڈیو دکھا دیں جہاں میں ہوں، جس ملک کے وزیراعلیٰ کو انصاف نہ مل سکے تو عام آدمی کو کیا انصاف ملے گا، یہ صوبہ اپنا حق اور اپنا مینڈیٹ لینا جانتا ہے۔

    وزیر اعلیٰ کے پی نے کہا کہ ہماری پارٹی پاکستان تحریک انصاف اور ہمارے لیڈر عمران خان نے ہمیشہ کہا ہے کہ ہم ایک پرامن پارٹی ہیں اور ہم پاکستان کی واحد پارٹی ہیں کہ جنہوں نے ہمیشہ ہماری نوجوان نسل اور ہماری آنے والی نسل کے لیے ملک میں قانون کی بالادستی، اپنے آئین کا تحفظ، اپنی حقیقی آزادی، اپنی خودداری اور حقیقی جمہوریت کی بات ہے۔

    وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ اب ہمارے پاس کیا چوائس ہے؟ ظاہر ہے ہمارے پاس یہی چوائس ہے کہ جلسے کی اجازت نہ ملے تو ہم جاکر مظاہرہ کرکے اپنا ایک بیانیہ دیں؟بات یہ ہے کہ ہم لوگوں نے اس سے پہلے جب جلسے کا اعلان کیا ہم نے ایک پُرامن کال دی، بارہا میں نے اور عمران خان نے کہا کہ ہم ڈی چوک جائیں گے، پرامن طریقے سے جائیں گے اور پرامن طریقے سے ڈی چوک سے آگے نہیں جائیں گے۔

  • فائنل کال احتجاج :لیڈر شپ میں مشاورت اور رابطہ کاری نظر نہیں آئی،شوکت یوسفزئی

    فائنل کال احتجاج :لیڈر شپ میں مشاورت اور رابطہ کاری نظر نہیں آئی،شوکت یوسفزئی

    پشاور:پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے فائنل کال احتجاج کو لے کر پارٹی قیادت پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے پھٹ پڑے-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے تصدیق کی کہ بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور مانسہرہ میں ہیں اور محفوظ ہیں،پی ٹی آئی لیڈرشپ نے مایوس کیا، علی امین کے علاوہ کوئی لیڈر سامنے نہیں آیا، لیڈر شپ میں مشاورت اور رابطہ کاری نظر نہیں آئی، پلاننگ کا بھی فقدان تھا،بیرسٹرگوہر اور سلمان اکرم راجہ کہاں تھے؟ شیر افضل مروت بھی غائب تھے، جب لیڈر شپ کے پاس فیصلےکا اختیار نہیں تھا تو اتنے زیادہ کارکنوں کو کیوں لےکرگئی؟

    شوکت یوسفزئی نے کہا کہ پارٹی کے اندر تحقیقات ہونی چاہیے کہ ڈی چوک کو ہی جانے کیلئے کیوں چناگیا،انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت نے مذاکرات کا کہا تو کیوں نہیں کیے گئے؟ حکومت کی مذاکرات کی پیشکش پر مشاورت کیوں نہیں کی گئی؟-

    ایک اور بیان میں شوکت یوسفزئی نے کہا کہ معاملات تو مذاکرات سے ہی حل ہوتے ہیں،سنگجانی میں احتجاج سے متعلق غلط فہمی پیدا ہوئی البتہ ڈی چوک احتجاج کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی کا نہیں تھا، حکومت اور پی ٹی آئی دونوں سے غلطیاں ہوئیں، احتجاج میں صرف علی امین گنڈاپور نظر آئے۔ جبکہ پی ٹی آئی لیڈر شپ احتجاج میں نظر نہیں آئی جس پر افسوس ہے۔

  • ڈی چوک سے فرار علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی مانسہرہ میں ہنگامی پریس کانفرنس کریں گے

    ڈی چوک سے فرار علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی مانسہرہ میں ہنگامی پریس کانفرنس کریں گے

    مانسہرہ: ڈی چوک میں احتجاج سے فرار ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈا پور اور بشریٰ بی بی نے مانسہرہ پہنچ کر پناہ لے لی۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور کے ساتھ عمر ایوب خان بھی موجود ہیں، علی امین خان گنڈا پور ،بشریٰ بی بی اور عمر ایوب خان مانسہرہ میں ہنگامی پریس کانفرنس کریں گے،پریس کانفرنس سپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی کی رہائش گاہ پر انصاف سکرٹریٹ میں 11 بجے ہوگی۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے احتجاج کے باعث مظاہرین کے خلاف اسلام آباد کے بلیو ایریا میں گرینڈ آپریشن کیا گیا، وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی موقع سے فرار ہوگئے، اطلاعات کے مطابق دونوں ڈی چوک ایریا سے اکھٹے فرار ہُوئے۔

    ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی اورعلی امین گنڈا پور کیسے اور کدھر فرار ہُوئے، حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا،بلیو ایریا میں گرینڈ آپریشن میں رینجرز، اے ٹی ایس کمانڈوز اور پنجاب پولیس شامل تھی، گرینڈ آپریشن میں ڈیڑھ ہزار کے قریب پنجاب اور اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں نے حصہ لیا، خیبر چوک اور کلثوم پلازہ کے درمیان آپریشن کے دوران پولیس نے تمام ہٹائے گئے کنٹینرز کو واپس نصب کر دیا، تحریک انصاف کے مرکزی کنٹینر کو آگ لگ گئی، تحریک انصاف کے 450 سے زائد کارکنوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔

  • کرم تنازعہ: گورنر خیبرپختونخوا  کی  متاثرہ افراد کیلئےامدادی سامان فراہم کرنے کی ہدایت

    کرم تنازعہ: گورنر خیبرپختونخوا کی متاثرہ افراد کیلئےامدادی سامان فراہم کرنے کی ہدایت

    پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ہلال احمر اور ضم شدہ اضلاع کی ٹیموں کو کرم تنازعہ کے متاثرہ افراد کے لیے خیمے اور دیگر امدادی سامان فراہم کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔

    باغی ٹی وی: گورنر خیبرپختونخوا کی ہدایات پر ہلال احمر خیبرپختونخوا اور ضم شدہ اضلاع کی ٹیمیں متحرک ہوگئیں، ہلال احمر ضم شدہ اضلاع کے چیئرمین کو مستحقین کو فوری خیمے پہنچانے کا حکم جاری کیا گیا،ہلال احمر ضم شدہ اضلاع کے چیئرمین عمران وزیر نے نقصانات اور ضروریا ت کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی جس کے مطابق بگن کے 250 خاندان اور علیزئی کے 175 خاندان نقل مکانی کر گئے ہیں-

    ہلال احمر خیبرپختونخوا کے چیئرمین ملک حبیب اورکزئی کی رپورٹ کے مطابق 915 آئی ڈی پیز کو گزشتہ دو روز میں کھانا اور پینے کا پانی فراہم کیا گیا، گورنر کی ہدایات پر ہلال احمر ضم شدہ اضلاع کا وفد متاثرین کے نمائندوں سے ملاقات کرے گا۔

    دوسری جانب امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ روڈز کی بندش امدادی کاموں میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے مزید امدادی سامان تیار ہے لیکن روڈز کی بندش کے خاتمہ کا انتظار کیا جارہا ہے۔

  • لنڈی کوتل: پولیس کی بڑی کارروائی، 3 کلو آئس برآمد، دو اسمگلرز گرفتار

    لنڈی کوتل: پولیس کی بڑی کارروائی، 3 کلو آئس برآمد، دو اسمگلرز گرفتار

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی رپورٹ)لنڈی کوتل میں پولیس کی بڑی کارروائی، 3 کلو آئس برآمد، دو اسمگلرز گرفتار

    تفصیل کے مطابق ضلع خیبر کی لنڈی کوتل پولیس نے آئس کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بناتے ہوئے پاک افغان شاہراہ پر ناکہ بندی کے دوران ایک مشکوک موٹر کار سے 3 کلوگرام آئس برآمد کر لی۔ پولیس نے کارروائی کے دوران نور خان ولد محمد اشرف (سکنہ افغانستان) اور سلمان خان ولد آفتاب عالم (سکنہ ولی بیگ خیل) کو گرفتار کر کے مزید تفتیش کے لیے حوالات منتقل کر دیا۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر رائے مظہر اقبال کی قیادت میں منشیات کے خلاف مہم کامیابی سے جاری ہے۔ ایس ایچ او لنڈی کوتل کی ہدایت پر ایڈیشنل ایس ایچ او عظمت ولی شینواری اور ان کی ٹیم نے زیڑے پوسٹ پر یہ کامیاب کارروائی کی۔ مشکوک گاڑی (نمبر D2402) کے خفیہ خانوں سے آئس برآمد کی گئی۔

    پولیس نے کہا ہے کہ ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور منشیات کے خاتمے کے لیے یہ مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی۔

  • وزیر اعلیٰ صوبے کے وسائل جلسے جلوسوں کیلئے استعمال کر رہے ہیں،میاں افتخار حسین

    وزیر اعلیٰ صوبے کے وسائل جلسے جلوسوں کیلئے استعمال کر رہے ہیں،میاں افتخار حسین

    کرم:عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ صوبے میں دہشتگردی کے پیچھے منظم قوتیں ہیں، کرم میں دہشتگردی کے پیچھے امریکا کا ہاتھ ہے،امریکا سی پیک کے خلاف مسلسل سازشیں کر رہا ہے-

    باغی ٹی وی:عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے خیبر پختونخوا میں بدامنی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، مظاہرے میں صوبائی قیادت اور کارکنان کی شرکت نے بڑی تعداد میں شرکت کی،مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے کہا کہ امریکا سی پیک کے خلاف مسلسل سازشیں کر رہا ہے، کرم واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ منظم طریقے سے پارا چنار میں فرقہ وارانہ فسادات کرائے جا رہے ہیں ، وزیر اعلیٰ کو صوبے کی کوئی فکر نہیں ، صوبے کے عوام اپیل کرتا ہوں کہ دہشتگردوں کے سازشوں میں نہ آئیں،وزیر اعلیٰ صوبے کے وسائل جلسے جلوسوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں ، وفاق اور صوبے کے درمیان گٹھ جوڑ ہے، کوئی خیبرپختونخوا کو نہیں پوچھ رہا ہے۔

    میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہمیں دشمن کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہونا پڑے گا ، ہم کرم کے عوام کے ساتھ ہیں، ہم صرف امن چاہتے ہیں ، عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ فرقہ وارانہ فسادات میں ایک دوسرے کو مت ماریں، سب سے آسان ٹارگٹ فرقہ وارانہ فسادا ت ہیں ، بنوں، ڈی آئی خان اور باجوڑ میں منظم منصوبے کے تحت دہشت گردی کی جا رہی ہےہمیں زبردستی اسمبلیوں سے نکالا گیا، وزیراعلیٰ گنڈا پور ہروقت احتجاج سے بھاگ جاتا ہے، ایک دفعہ پھر یہ احتجاج سے بھاگ کرواپس آ جائے گا۔

    عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سربراہ نے کہا کہ صوبائی حکومت دہشت گرد حکومت ہے ، وزیر داخلہ صرف مذمت کے لیے بیٹھا ہوا ہے، دہشت گردی فیض حمید کی باقیات کر رہے ہیں ہم جنرل فیض حمید اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہیں، ہم پارا چنارکے عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں ، ہم نے واقعے کے لیے جرگہ تشکیل دیدیا ہے ، ہم پارا چنار میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے آخری حد تک جائیں گے۔

    اے این پی کے رہنما سردار حسین بابک نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم کرم واقعہ کے خلاف پورے صوبے میں نکلے ہوئے ہیں، پختون قوم نے اپنا سرمایہ پنجاب منتقل کیا ہوا ہے ، جسے واپس لانا ہوگا، پختونوں کو پارلیمنٹ سے باہرکردیا گیا ، دہشت گردوں کا پہلا ٹار گٹ پولیس ہے جو دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کر رہی ہے۔

  • گنڈا پور کا قافلہ صوابی سے روانہ، بشری بی بی ہمراہ

    گنڈا پور کا قافلہ صوابی سے روانہ، بشری بی بی ہمراہ

    پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد میں احتجاج میں شرکت کیلئے خیبرپختونخوا سمیت مختلف شہروں سے قافلے روانہ ہوچکے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور صوابی انٹرچینج پار کر گئے ہیں، جبکہ بشریٰ بی بی بھی ان کے ساتھ قافلے میں موجود ہیں۔

    ذرائع کے مطابق عمر ایوب کی قیادت میں قافلہ اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہے، عمر ایوب کے اسلام آباد پہنچنے پر علی امین کا قافلہ اسلام آباد میں داخل ہوگا۔دوسری جانب قافلے میں آئے لوگ اٹک کے مقام پر موٹروے کے اطراف گھنے درختوں میں چھپ گئے، اور علی امین گنڈا پور کے قافلے کا انتظار کر رہے ہیں۔علی امین گنڈاپور صوابی ریسٹ ایریا پہنچے تو نعرے لگا کر کراؤڈ چارج کیا اور کہا کہ کارکن سب آگے چلیں، اپنی طاقت راستہ کھولنے میں لگانی ہے، سب متحد ہو کر چلیں، ایک دوسرے کی طاقت بنو، پہلے مشینری کو راستہ دیں۔علی امین گنڈاپور سے سوال ہوا کہ راستے بند ہے کیسے جائیں گے؟ جس پر ان کا کہنا تھا کہ سب راستے کھول دیں گے، ہم اسلام آباد پہنچیں گے، فکر نہ کریں۔صوابی سے احتجاج کی قیادت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کر رہے ہیں۔ گنڈا پور سہ پہر کے وقت پشاور سے اپنی گاڑی میں صوابی پہنچے جہاں سے وہ کنٹینر پر سوار ہوئے۔علی امین گنڈا پور کی روانگی کے وقت ان کی بشریٰ بی بی سے تلخ کلامی کی خبریں بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئیں۔ان خبروں کے باوجود بشریٰ بی بی بھی تحریک انصاف کے قافلے میں شامل ہیں۔ بشریٰ بی بی کی بہن مریم ریاض وٹو نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر کہا ہے کہ سب بی بی کو منع کر رہے تھے کہ وہ نہ نکلیں ان کی جان کو خطرہ ہے مگر رب کے راستے پر چلنے والوں کو کہاں ان چیزوں کی فکر ہوتی ہے۔ایک روز قبل خبریں آئی تھیں کہ ناسازی طبیعت کی بنا پر بشریٰ بی بی احتجاج میں شریک نہیں ہو رہیں۔اب اس حوالے سے ترجمان پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی پشاور سے نکلنے والے پی ٹی آئی قافلے کا حصہ ہیں، قافلہ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں پشاور سے روانہ ہوچکا ہے، بشریٰ بی بی ورکرز کے شانہ بشانہ اسلام آباد جارہی ہیں، بشریٰ بی بی کا کہنا ہے کہ ورکر کو اس وقت اکیلا نہیں چھوڑا جاسکتا۔اسد قیصر اور شہرام خان ترکئی انبار ریسٹ ایریا کے مقام پر موجود ہیں جہاں سے وہ صوابی کے قافلے کی قیادت کریں گے۔

    اٹک میں گاڑی نذر آتش

    پی ٹی آئی کے کارکنوں نے غازی ٹول پلازہ کے قریب آگ لگانے کی کوشش کی، جس کے باعث غازی انٹرچینج پر کھڑی ایک گاڑی کو بھی آگ لگ گئی، گاڑی میں سوار 4 افراد جھلس کر زخمی ہوگئے، پی ٹی آئی ورکرز نے ہی زخمیوں کو گاڑی سے باہر نکالا۔

    ڈیرہ اسماعیل خان

    ڈیرہ اسماعیل خان میں ایم 14 سی پیک داؤد خیل میپل لیف سیمنٹ کے قریب پل کے اوپر موجود پولیس نے نیچے موجود کارکنوں پر دھاوا بول دیا، پنجاب پولیس کی جانب سے شدید شیلنگ کی گئی جبکہ ربڑ بلٹ سے بھی فائرنگ کی گئی، جس کے باعث کارکن واپس جانے لگے۔ کچھ کارکن شیلنگ ماسک اور غلیل اٹھائے آگے بڑھتے رہے۔کارکنان نے میپل لیف سیمنٹ کے قریب روڈ کے کنارے کھڑی خشک گھاس کو آگ لگا دی۔ڈیرہ اسماعیل خان میں عیسیٰ خیل انٹرچینج کے مقام پر سی پیک کو بھاری مشینری سے کھولا جا رہا ہے، سی پیک پر رکھے گئے کنٹینرز کو ہٹا کر روڈ کھول دیا گیا ہے، قافلہ رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے اسلام آباد کی طرف روانہ ہو چکے ہیں۔

    پشاور
    پشاور سے پی ٹی آئی کا مرکزی قافلہ ایک کنٹینر اور کچھ دیگر گاڑیوں کے ساتھ روانہ ہوا۔ کنٹینر کے ساتھ ایک ٹرک میں دو بہت بڑے پنکھے بھی سفر کر رہے ہیں۔ یہ پنکھے ممکنہ طور پر آنسوگیس کا رخ موڑنے کیلئے مرکزی کنٹینر کے ساتھ ہیں۔

    سوات
    اسلام آباد میں میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے لیے پی ٹی آئی کا قافلہ سوات سے روانہ ہوگیا، قافلہ صوبائی وزیر فضل حکیم کی قیادت میں روانہ ہوا۔قافلے میں کارکنان کی بڑی تعداد شریک ہے، قافلہ چکدرہ انٹر چینج پہنچے گا جہاں دیگرعلاقوں کے کارکنان بھی قافلے میں شامل ہوں گے۔

    مانسہرہ
    بانی پی ٹی آئی کی فائنل کال پر ضلع مانسہرہ کی مختلف تحصیلوں سے قافلے مانسہرہ پہنچنا شروع ہوگئے، بالاکوٹ ، بفہ پکھل ، اوگی اور تورغرسے قافلہ مانسہرہ کی طرف آنا شروع ہوگئے۔مانسہرہ اور ریسٹ ایریا سے کچھ ہی دیر بعد قافلہ موٹروے ریسٹ ایریا سے ڈی چوک کے لیے روانہ ہوگا جبکہ مانسہرہ اور برہان انٹرچینج پر خیبرپختونخواہ کے تمام جلوس اکھٹے ہوں گے۔

    نوشہرہ
    نوشہرہ میں اسلام آباد جانے والے راستے کنٹینرز لگا کر سیل کردیے گئے، اٹک پل پر پنجاب کے سائیڈ پر بڑے بڑے کنٹینرز لگا دیے گئے۔
    پنجاب پولیس کی بھاری نفری اٹک پل پر تعینات ہے، پنجاب پولیس پی ٹی آئی کے قافلوں سے نمٹنے کے لیے تیار ہے جبکہ پی ٹی آئی کے قافلے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے روانہ ہوگئے۔

    موٹروے ٹول پلازہ اسٹاف کیبن چھوڑ کر دفتر چلے گئے

    پی ٹی آئی کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر موٹروے ٹول پلازہ اسٹاف کیبن چھوڑ کر دفتر چلے گئے، گاڑیاں ٹول پلازہ پر ٹیکس ادا کیے بغیر موٹروے پر جانے لگیں،ٹول پلازہ اسٹاف کا کہنا ہے کہ ہدایات جاری کی گئیں کہ ٹول پلازہ چھوڑ کر چلے جائیں۔اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے آج اسلام آباد میں احتجاج کے باعث موٹروے ایم ون پشاور ٹول پلازہ جو ہر قسم کے ٹریفک کے لیے مکمل طور بند کر دی گئی تھی، پولیس کی جانب سے اچانک کھول دی گئی۔پی ٹی آئی کے آج اسلام آباد میں احتجاج کے باعث پنجاب اور خیبرپختونخوا کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، جی ٹی روڈ اٹک خورد کے مقام کو دونوں اطراف سے کنٹینر لگا کر مکمل سیل کردیا گیا، اٹک خورد چیک پوسٹ پر رینجر، ایف سی اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔قبل ازیں موٹروے پولیس کی جانب سے موٹروے ایم ون پشاور کو ٹول پلازہ کو 3 مختلف مقامات سے دنوں اطراف سے ہرقسم کے ٹریفک کے لیے مکمل طور بند کر دیا گیا تھا۔اس حوالے سے موٹروے پولیس کا کہنا تھا کہ موٹروے دھند کے باعث بند کردی گئی ہے، دھند میں کمی کے بعد موٹروے ٹریفک کے لیے کھول دی جائے گی۔تاہم اب موٹروے ایم ون پشاور ٹول پلازہ کھولے جانے کے بعد پی ٹی آئی کارکنان پشاورٹول پلازہ پہنچنا شروع ہوگئے۔واضح رہے کہ عمران خان کے حکم پر 24نومبر(آج) کو پی ٹی آئی کی اسلام آباد کی جانب احتجاجی کال کے باعث جڑواں شہروں میں کاروبار زندگی عملاً معطل ہے۔دونوں شہروں کی مرکزی شاہراہیں، پبلک ٹرانسپورٹ اور فیض انٹرچینج کوبند کر دیا گیا ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

  • کرم تصادم، فریقین نے 7 دن کے لئے سیز فائر پر اتفاق کر لیا

    کرم تصادم، فریقین نے 7 دن کے لئے سیز فائر پر اتفاق کر لیا

    خیبر پختنونخوا کے مشیراطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف کی سربراہی میں حکومتی جرگہ کرم سے واپس پشاور پہنچ گیا، جرگے نے گزشتہ روز اہل تشیع کے عمائدین سے ملاقات کی تھی۔

    میڈیا کو مشیراطلاعات بیرسٹرسیف نے بتایا کہ جرگے نے کرم میں اہل سنت کے مشران سے ملاقات کی ہے ، فریقین نے 7 دن کے لئے سیز فائر پر اتفاق کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایت پر حکومتی وفد ضلعی عمائدین کے ساتھ جرگہ کر رہا ہے، فریقین نے ایک دوسرے کے قیدی اور لاشیں واپس کرنے پر بھی مکمل اتفاق کیا ہے۔ڈاکٹر سیف نے کہا کہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اہل تشیع رہنماؤں سے ملاقات میں مسائل کے حل کے لیے مثبت گفتگو ہوئی ہے ۔ہماری اولین ترجیح دونوں فریقین کے درمیان سیز فائر کروا کر پائیدار امن قائم کرنا ہے، وزیراعلیٰ کی واضح ہدایات ہیں کہ تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کئے جائیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں مسافر گاڑیوں پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 45 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔دوسری طرف سرکاری ذرائع نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گاڑیوں پر حملوں کے بعد ہونے والی جھڑپوں میں مرنے والوں کی تعداد کم از کم 28 ہو گئی۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مرنے والوں کی تعداد اس سے زیادہ ہوسکتی ہے، مواصلاتی ذرائع منقطع ہیں اور اموات کے بارے میں تازہ معلومات موصول ہونے میں مشکلات ہیں۔سرکاری وفد کو لے جانے والے ہیلی کاپٹر پر بھی فائرنگ کی گئی لیکن وہ ہفتے کو بحفاظت لینڈ کرنے میں کامیاب رہا۔جھڑپوں کے دوران مسلح گروہوں نے ان علاقوں پر حملہ کیا جہاں حریف لوگ آباد تھے، کئی گھروں کو خالی کرا لیا گیا ہے جب کہ بازار اور اسکول بند ہیں، عہدیداروں نے بتایا کہ متعدد پٹرول پمپس کو نذر آتش کردیا گیا۔واضح رہے کہ ضلع کرم میں مسافر گاڑیوں پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 43 اموات کے بعد جھڑپوں میں شدت آگئی، پولیس نے بتایا کہ کو بگن، مندوری اور اوچت کے مقام پر 200 مسافر گاڑیوں پر فائرنگ کی گئی تھی جس سے 6 گاڑیاں نشانہ بنیں، فائرنگ کے واقعے میں خواتین اور بچوں سمیت 45 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔پولیس نے بتایا تھا کہ ضلع کرم کی تحصیل لوئر کرم کے علاقے علیزئی اور بگن کے قبائل کے درمیان شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا، اس کے علاوہ بالش خیل، خار کلی اور کنج علیزئی اور مقبل قبائل کے مابین بھی فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    یو اے ای، مغوی اسرائیلی ربی کی لاش مل گئی

    پی ٹی آئی سیاسی سے زیادہ انتشاری جماعت بن گئی ہے، سعید غنی