Baaghi TV

Category: پشاور

  • لنڈی کوتل :کالج  طلباء نےفاٹا یونیورسٹی سے الحاق مسترد کردیا، احتجاجی دھرنے کا اعلان

    لنڈی کوتل :کالج طلباء نےفاٹا یونیورسٹی سے الحاق مسترد کردیا، احتجاجی دھرنے کا اعلان

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی رپورٹ)کالج طلباء نےفاٹا یونیورسٹی سے الحاق مسترد کردیا، احتجاجی دھرنے کا اعلان

    تفصیل کے مطابق گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج لنڈی کوتل کے طلباء نے فاٹا یونیورسٹی کے ساتھ الحاق کو مسترد کرتے ہوئے پشاور یونیورسٹی سے الحاق بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    کالج کے سٹوڈنٹس یونین کے صدر داؤد شینواری، نائب صدر محمد آصف ریان، جنرل سیکرٹری قاسم اور سابق صدر عبید خان نے لنڈی کوتل پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا یونیورسٹی کے ساتھ الحاق کی وجہ سے طلباء کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور یونیورسٹی صوبے کی نمبر ون یونیورسٹی ہے اور کالج کی دو ڈیپارٹمنٹس زوالوجی اور اردو پہلے ہی پشاور یونیورسٹی سے ملحق ہیں۔

    طلباء کے رہنماؤں نے کہا کہ وہ اس مسئلے کو لے کر صوبائی وزیر تعلیم مینا خان اور عدنان قادری سمیت دیگر متعلقہ حکام سے متعدد بار مل چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی مثبت پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔

    انہوں نے اعلان کیا کہ اگر ان کا مطالبہ جلد منظور نہ کیا گیا تو وہ کل بروز جمعرات صبح 8 بجے کالج کے مین گیٹ پر احتجاجی دھرنا دیں گے۔ انہوں نے سیاسی قائدین، بلدیاتی نمائندگان، قومی مشران اور صحافیوں کو اس دھرنے میں شرکت کی دعوت دی ہے۔

  • پشاور ہائیکورٹ، بشریٰ بی بی کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    پشاور ہائیکورٹ، بشریٰ بی بی کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    پشاور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ان کی حفاظتی ضمانت میں توسیع کر دی اور سماعت 16 جنوری تک ملتوی کر دی۔

    بشری بی بی کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کے حوالے سے دائر کی گئی درخواست پر 2 رکنی بنچ نے سماعت کی، جس میں جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس وقار احمد شامل تھے۔درخواست گزار کے وکیل عالم خان ادینزئی ایڈوکیٹ نے عدالت میں پیش ہو کر کہا کہ بشری بی بی کو آج اسلام آباد میں توشہ خانہ ٹو کے کیس میں پیش ہونا ہے، اور وہ وہاں پر پیش ہوں گی۔ وکیل نے عدالت سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی جس میں استدعا کی گئی کہ حفاظتی ضمانت میں مزید توسیع دی جائے تاکہ درخواست گزار کو قانونی کارروائی سے تحفظ حاصل ہو سکے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بشری بی بی کے خلاف دو مختلف کیسز عدالت کے سامنے زیر سماعت ہیں، اور پہلے کیس میں انہوں نے رپورٹ جمع کروا دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں مزید کاروائی کے لیے رپورٹ تیار کی جا رہی ہے۔سپیشل ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے بھی عدالت میں اپنی رپورٹ جمع کروا دی اور بتایا کہ بشری بی بی کے خلاف نیب کے تین مختلف کیسز زیر تفتیش ہیں۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ ان کی نئی درخواست پر بھی رپورٹ جمع کی جائے۔عدالت نے اس موقع پر ریمارکس دیے کہ بشری بی بی کی نئی درخواست پر بھی رپورٹ جمع کی جائے اور مزید قانونی کارروائی کو جاری رکھا جائے۔ اس کے بعد عدالت نے بشری بی بی کی حفاظتی ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے سماعت 16 جنوری 2024 تک ملتوی کر دی۔

    یہ مقدمات بشری بی بی اور ان کے شوہر عمران خان کے خلاف جاری تحقیقات کا حصہ ہیں، جن میں نیب اور دیگر ادارے کرپشن اور دیگر الزامات کی تفتیش کر رہے ہیں۔اب بشری بی بی کو اس عرصے میں قانونی معاملات میں راحت ملے گی اور انہیں حفاظتی ضمانت کی توسیع کا فائدہ حاصل ہوگا۔ ان کی آئندہ پیشیوں کا فیصلہ عدالت کی جانب سے 16 جنوری 2024 کو کیا جائے گا۔

  • ادویات کی عدم دستیابی، پاراچنار میں 29 بچوں کی موت

    ادویات کی عدم دستیابی، پاراچنار میں 29 بچوں کی موت

    پاراچنار کے عوام اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہیں، جہاں 65 دنوں سے محاصرے کی حالت برقرار ہے۔ علاقے میں بنیادی ضروریاتِ زندگی بشمول ادویات، خوراک، اور پیٹرول کی کمی کے باعث انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ عوام فاقوں پر مجبور ہیں، اور کئی معصوم بچے علاج نہ ملنے کے باعث اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

    ضلع ہیڈکوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سید میر حسن جان نے بتایا کہ یکم اکتوبر سے ہسپتال میں دواوں اور بنیادی سہولتوں کی کمی کے باعث مریضوں کو مناسب علاج فراہم نہیں کیا جا سکا ہے۔ اُنہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال صحت کے شعبے میں سنگین بحران پیدا کر سکتی ہے۔ڈاکٹر سید میر حسن جان نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا کہ "ہسپتال میں دواوں کا ذخیرہ پشاور ہیلتھ ڈائریکٹریٹ سے موصول ہوا تھا، لیکن یہ مقدار ہسپتال کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔” اُنہوں نے مزید کہا کہ علاقے میں ہونے والی جھڑپوں کے باعث دواوں اور سرجیکل سامان کا استعمال بہت زیادہ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے ہسپتال میں دواوں کی کمی شدت اختیار کر گئی ہے۔ڈاکٹر حسن جان نے بتایا کہ "اس وقت ہسپتال کے مختلف یونٹس میں دواوں کی شدید کمی ہے اور اس مسئلے کو انسانیت کے ناطے فوراً حل کرنے کی ضرورت ہے۔” بیان میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ یکم اکتوبر 2024 سے اب تک 29 بچے ہسپتال میں زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ دواوں کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ تھل-پاراچنار روڈ بند ہونے کے باعث دوا فراہم کرنے والی کمپنیاں دواوں کو پاراچنار تک پہنچانے میں ناکام ہیں۔ اس روڈ کی بندش کو 69 دن ہو چکے ہیں، جس سے نہ صرف دوا کی فراہمی متاثر ہوئی ہے بلکہ پاراچنار اور اپر کرم کے علاقے میں ضروری اشیاء جیسے کہ کھانے پینے کی چیزیں، ایندھن اور گیس کی کمی بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔

    سماجی کارکن اسد اللہ نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر افغان سرحد اور اہم شاہراہوں کو فوراً کھولا نہ گیا تو علاقے میں ایک بڑا انسانی سانحہ پیش آ سکتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ "ہمیں فوری طور پر ضرورت مند افراد کے لیے کھانے پینے کی امداد فراہم کرنی چاہیے کیونکہ سڑکوں کی بندش کی وجہ سے مقامی لوگ شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔”مقامی انتظامیہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کی کوششیں کر رہی ہیں۔ ضلع انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ کوہاٹ میں ملتوی ہونے والی گرینڈ جرگہ کو دوبارہ طلب کیا جائے گا تاکہ شاہراہوں کی بحالی اور دیگر مسائل پر بات چیت کی جا سکے۔ اس جرگہ کا مقصد علاقے میں امن و امان قائم کرنے اور ضروری خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

    پاراچنار کی صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ یہاں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مقامی افراد اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بات کا بار بار مطالبہ کر رہی ہیں کہ علاقے کے راستے کھولے جائیں تاکہ متاثرین کو ادویات، خوراک، اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا جا سکے۔ لیکن محاصرے کی وجہ سے ان تک امداد پہنچنا مشکل ہو گیا ہے۔ پاراچنار میں ادویات کی شدید کمی کے باعث مریضوں کا علاج معالجہ ممکن نہیں ہو پا رہا۔ کئی بچے جنہیں معمولی علاج کی ضرورت تھی، وہ اس کمی کے باعث اپنی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ اس کے علاوہ، علاقے میں خوراک کی کمی کی وجہ سے روزے رکھنے والے عوام کے لئے حالات اور بھی بدتر ہو گئے ہیں۔پاراچنار میں پیٹرول اور دیگر ضروری اشیائے خورد و نوش کی شدید کمی ہو چکی ہے، جس کے باعث عوام کو روزمرہ کی زندگی گزارنے میں سخت مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ علاقے کے مختلف حصوں میں پیٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، اور لوگ اپنی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ روزانہ کی ضروریات کو پورا کرنے میں بھی دشواری محسوس کر رہے ہیں۔

    فیصل ایدھی ایئر ایمبولینس کے ہمراہ پارا چنار پہنچ گئے
    پاراچنار میں جاری اس انسانی بحران کے حل کے لئے ایدھی فاؤنڈیشن نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ ایدھی ایئر ایمبولینس کی پہلی پرواز پاراچنار ایئرپورٹ پر پہنچی ہے، جس میں فیصل ایدھی بھی اپنی ٹیم کے ہمراہ پاراچنار پہنچے۔ فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ وہ خود یہاں آ کر عوام کی مشکلات کا جائزہ لینے کے لیے آئے ہیں اور اس بحران کے حل کے لیے اپنے ادارے کی طرف سے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائیں گے۔ایدھی ایئر ایمبولینس کی پرواز کے ذریعے پشاور سے ادویات پاراچنار پہنچائی جائیں گی اور ساتھ ہی مقامی مریضوں کو پشاور منتقل کر کے ان کا علاج کیا جائے گا۔ فیصل ایدھی نے کہا کہ ان کی ٹیم پاراچنار کے ہسپتالوں میں ضروری امداد فراہم کرے گی اور جلد از جلد مزید امدادی کارروائیاں شروع کی جائیں گی۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر صحافی وقار ستی کہتے ہیں کہ خیبر پختونخواہ کے علاقے پارہ چنار ہسپتال میں ادویات کی عدم دستیابی کے باعث 29 معصوم بچوں نے دم توڑ دیا، مگر انسانی حقوق کے ٹھیکیدار اور نام نہاد جعلی انقلابی سب کے سب خاموش ہیں۔ لگتا ہے ان بچوں کی موت میں کوئی “سیاسی فائدہ” نہیں تھا، اس لیے نہ کوئی مارچ نکلا، نہ کوئی ٹویٹ ہوا۔ انسانیت یہاں مر گئی اور ضمیر کہیں بیچا جا چکا ہے۔

  • سول نافرمانی تحریک عمران خان جب حکم دیں گے،شروع ہو گی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    سول نافرمانی تحریک عمران خان جب حکم دیں گے،شروع ہو گی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی ایک ماہ کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی ہے۔

    یہ فیصلہ عدالت میں علی امین گنڈاپور کی درخواست پر سماعت کے بعد دیا گیا، جس میں انہوں نے اپنے خلاف درج مقدمات کی تفصیل پیش کرنے کی درخواست کی تھی۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے خلاف درج مقدمات پر بات کی، جس کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے انہیں ایک ماہ کے لیے حفاظتی ضمانت دینے کا فیصلہ کیا۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو درج مقدمات میں گرفتار نہ کیا جائے۔

    وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کے خلاف اسلام آباد میں 32 اور پنجاب میں 33 مقدمات درج ہیں، وفاقی حکومت کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں رپورٹ جمع کروا دی گئی

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سول نافرمانی تحریک صرف اس وقت شروع ہوگی جب پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اس کا حکم دیں گے۔ انہوں نے کہا، "بانی پی ٹی آئی جب بتائیں گے، تب سول نافرمانی تحریک شروع ہوگی۔ ان کے احکامات آئیں گے، پھر اس پر عمل ہوگا۔”علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ انہیں گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے سے روکا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے پہنچنے کے باوجود انہیں کہا گیا کہ "آپ کو ملاقات کی اجازت نہیں ہے”۔ وزیراعلیٰ کے پی کا کہنا تھا کہ وہ پورے خیبرپختونخوا کے نمائندہ ہیں اور انہیں کسی سے کلیئرنس کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ جو افراد اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں، کیا ان کی کلیئرنس ہے؟میری عمران خان سے ملاقات ہو جائے گی،جو عمران خان کا حکم ہو گا اس پر عمل ہو گا، میں صوبے کا نمائندہ ہوں مجھے ضمانت کی ضرورت نہیں پھر بھی کروا رہا ہوں،

    واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور نے کل (پیر کے روز) عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل گئے تھے تاہم انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اس واقعے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں ملاقات سے روکا جانا ایک غیر مناسب عمل تھا۔

    شہباز شریف ہرجانہ کیس، عمران خان کی درخواست ناقابل سماعت قرار

    عمران کے چھ، بشریٰ کی ایک مقدمے میں‌عبوری ضمانت میں توسیع

    توہین الیکشن کمیشن کیس،عمران خان کو پیش نہ کیا جا سکا،سماعت ملتوی

  • لنڈی کوتل پریس کلب میں جنرل باڈی اجلاس، نئے ممبران کو رکنیت دی گئی

    لنڈی کوتل پریس کلب میں جنرل باڈی اجلاس، نئے ممبران کو رکنیت دی گئی

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ) پریس کلب میں جنرل باڈی اجلاس، نئے ممبران کو رکنیت دی گئی

    تفصیل کے مطابق لنڈی کوتل پریس کلب (رجسٹرڈ) میں جنرل باڈی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس کی صدارت سابق صدر شاہ رحمان اور کابینہ نے کی، جہاں تین نکاتی ایجنڈا پیش کیا گیا۔

    ایجنڈے میں 2024 کے کابینہ کا احتساب، الیکشن کمیٹی کی تشکیل، اور نئے ممبران کو رکنیت دینا شامل تھا۔ اجلاس کے دوران متفقہ طور پر تینوں نکات کو منظور کیا گیا۔

    نئی رکنیت حاصل کرنے والوں میں صائم افریدی، خان زیب، عمر خٹک، اجمیر خان، منصور، اور رحیم افریدی شامل ہیں، جبکہ جواد شینواری کی رکنیت بحال کر دی گئی۔

    اجلاس میں الیکشن کمیٹی بھی تشکیل دی گئی، جس کے چیئرمین اشرف الدین پیرزادہ مقرر ہوئے، جبکہ ممبران میں اکمل قادری، ابو زر افریدی، اور شاہد افریدی شامل ہیں۔

    الیکشن کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین اشرف الدین پیرزادہ نے شفاف انتخابات کے انعقاد کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پریس کلب کے وسیع تر مفاد کے لیے اجتماعی کوششوں کو جاری رکھا جائے گا۔

  • مولانا پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کا مسیحا بنا ہوا ہے،فیصل کریم کنڈی

    مولانا پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کا مسیحا بنا ہوا ہے،فیصل کریم کنڈی

    کرم: گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کرم کے مسئلہ پر صوبائی حکومت نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کی ہوئی۔

    باغی ٹی وی: فیصل کریم کنڈی نے ریجنل پاسپورٹ آفس ڈیرہ میں جدید سہولیات کے منصوبہ کا افتتاح کرنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی اضلاع کے شہریوں کو پاسپورٹ کے حوالے مشکلات کا سامنا تھا آج 5 ڈیسک کا افتتاح کیا ہے میری کوشش ہے کہ وفاقی اداروں کے مسائل حل کرسکوں گورنر نے گلوٹی کے مقام پر نیشنل ائیرپورٹ کے جلد افتتاح کا بھی اعلان کر دیا، 16 دسمبر کے شہدا کو سلام پیش کرتا ہوں، امن کیلئے ہر شہری نے قربانیاں دی ہیں، حق تو بنتا ہے کہ صوبائی اسمبلی کا اجلاس بنوں اور ڈیرہ میں ہونا چاہئے۔

    کرم کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے گورنر کا کہنا تھا کہ کرم کے مسئلہ پر کے پی حکومت نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کی ہوئی ہے صوبائی حکومت کرم کے آئی ڈی پیز کے ساتھ تعاون کرے، کرم کے روڈ کے حوالے سے تحفظات ہیں پی ٹی آئی کو این آر او نہیں ملے گا ان سے مذاکرات اتحادی جماعتوں کے تعاون سے ہوگا، مولانا پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کا مسیحا بنا ہوا ہے۔

    فیصل کریم کنڈی نے وزیر اعلیٰ علی امین سے متعلق کہا کہ جو دو بوتل شراب کے ساتھ دوڑ رہا ہو، وہ بانی کو کیا آزاد کرائے گا؟

  • خیبر پختونخوا میں پولیو ٹیموں پر حملے،پولیس اہلکار سمیت دو کی موت

    خیبر پختونخوا میں پولیو ٹیموں پر حملے،پولیس اہلکار سمیت دو کی موت

    بنوں کے علاقے کالا خیل مستی خان میں نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کر کے انسداد پولیو مہم پر مامور ایک پولیو ورکر کو قتل کر دیا۔کرک میں پولیو ٹیم پر حملے میں پولیس اہلکار شہید ہو گیا ہے

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیو ورکر اپنی معمول کی ڈیوٹی پر جا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، ملزمان نے پولیو ورکر کو اس کے راستے میں گھات لگا کر نشانہ بنایا اور اس پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔پولیس کے مطابق مقتول پولیو ورکر کا نام گلزار خان تھا اور وہ پولیو مہم کے دوران بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی ذمہ داری پر مامور تھا۔ گلزار خان اپنی ڈیوٹی کے لیے جا رہا تھا جب اسے ملزمان نے نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق، فائرنگ کے بعد ملزمان فوراً فرار ہو گئے اور وہ جائے وقوعہ سے غائب ہو گئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ واقعے کی حقیقی وجہ سامنے آ سکے۔پولیس نے بتایا کہ اس حوالے سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے اور ملوث افراد کو جلد گرفتار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں اس نوعیت کے واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں اور یہ حملہ اسی قسم کی دشمنی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب بنوں تھانہ صدر کی حدود میں پولیو ورکر پر فائرنگ ہوئی ہے، فائرنگ سے پولیو ورکر حیات اللہ خان زخمی ہوگیا ، زخمی ورکر کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ، واردات کے بعد ملزمان فرار ہوگئے۔

    خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں پولیو ٹیم پر حملہ ہوا ہے ، جس میں ایک کانسٹیبل شہید ہوگیا،کرک میں ٹیری کے علاقے شیخان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے کانسٹیبل شہید ہوگیا، جبکہ پولیو ورکر زخمی ہوا۔

    یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب پاکستان بھر میں انسداد پولیو مہم کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس مہم کا مقصد ملک بھر میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ہے اور لاکھوں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس مہم کے تحت، تمام صوبوں میں پولیو ورکرز گھروں، اسکولوں اور دیگر عوامی مقامات پر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے دیں گے۔پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے گزشتہ کئی سالوں سے کوششیں جاری ہیں، لیکن اس دوران پولیو ورکرز کو مختلف علاقوں میں دہشت گردوں، مسلح گروپوں اور مخالفین کی طرف سے خطرات کا سامنا رہا ہے۔ اس نوعیت کے حملے پولیو مہم کی کامیابی کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔پولیو ورکرز اور مہم میں شریک دیگر افراد کی حفاظت ہمیشہ ایک سنگین مسئلہ رہا ہے، اور اس واقعے نے اس بات کو مزید اجاگر کیا ہے کہ انسداد پولیو مہم کے دوران ورکرز کو زیادہ تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ مقامی انتظامیہ اور پولیس حکام نے کہا ہے کہ وہ پولیو ورکرز کی حفاظت کے لیے مزید سخت اقدامات اٹھانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ بنوں کے شہریوں اور پولیو ورکرز کے نمائندوں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ مقامی رہنماؤں نے اس واقعے کو علاقے کی سلامتی کے لیے ایک بڑا دھچکہ قرار دیا ہے اور حکومت سے پولیو ورکرز کی حفاظت کے لیے موثر اقدامات کرنے کی درخواست کی ہے۔

    یہ واقعہ نہ صرف بنوں بلکہ پورے ملک میں پولیو مہم پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔ پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت کی کوششیں جاری ہیں، لیکن اس قسم کے حملے ان کوششوں کو ناکام بنانے کی کوششیں ہیں۔ اس وقت حکومت اور مقامی اداروں کے لیے سب سے بڑی چیلنج پولیو ورکرز کی حفاظت اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے انجام دے سکیں۔

    خیبر پختونخوا میں پولیو ورکرز پر حملے، صدر مملکت،وزیراعظم کی مذمت
    صدر مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخواہ کے ضلع کرک میں پولیو ورکرز پر حملے کی مذمت کی ہے،صدر مملکت نے حملے میں سکیورٹی اہلکار کی شہادت پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ دہشت گرد ملک و قوم کے مستقبل کے دشمن ہیں ، دہشت گرد پاکستان کے عوام کو صحت مند اور خوشحال نہیں دیکھنا چاہتے ، پاکستان کی عوام بڑھ چڑھ کر پولیو مہم میں حصہ لے، عوام سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں، صدر مملکت نے ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے تک کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا.

    پولیو ورکرز پر حملہ باعث تشویش ہے،وزیراعظم
    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں انسداد پولیو ٹیم پر دہشتگرد حملے، اور اس میں ایک پولیس اہلکار کی شہادت پر اظہار افسوس کیا ہے،وزیراعظم نے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ پولیو کو پاکستان سے ختم کرنے کے لئے ہماری سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی. قوم کو پولیو کے مرض سے پاک کرنے کے لیے سرگرم عمل پولیو ورکرز پر حملہ باعث تشویش ہےاس قسم کی کاروائیاں ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتیں،حکومت ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے اور پولیو ورکرز کی حفاظت کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی.

    گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی نے کرک میں پولیو ٹیم پر حملے کی رپورٹ طلب کر لی،گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ کرک میں پولیو ٹیم پر حملہ انتہائی افسوسناک ہے،حملے میں پولیس اہلکار کی شہادت پر دلی افسوس ہوا، زخمی پولیو ورکر کو ہر ممکن علاج کی فراہمی یقینی بنائی جائے،پولیو ورکرز پر حملہ پاکستان اور انسانیت دشمن قوتوں کی سازش ہے۔

    پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ کرک میں پولیو ورکرز اور ان کی حفاظت کیلیےڈیوٹی پر مامور کانسٹیبل پر فائرنگ کی شدید مذمت کرتی ہوں ،پولیو ٹیم پر حملے میں شہید پولیس اہلکار کی شہادت افسوسناک ہے ، پولیو ٹیمیں اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتی ہیں ،اس نیک مقصد کے دوران ان پولیو ٹیموں پر حملہ انہتائی شرمناک ہے ،کے پی حکومت حملے میں زخمی ہو نے والے پولیو ورکرز کو علاج کیلئے بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے، حملے میں شہید کانسٹیبل کے لیے بلندی درجات اور اہلخانہ کے لیے صبرو جمیل کی دعا کرتی ہوں،

  • راج کپور کی 100 ویں سالگرہ پشاور میں منائی گئی

    راج کپور کی 100 ویں سالگرہ پشاور میں منائی گئی

    پشاور: آنجہانی فلمسٹار، پروڈیوسر اور ڈائریکٹر راج کپور کی 100 ویں سالگرہ پشاور میں منائی گئی۔

    باغی ٹی وی:اس موقع پر کلچرل ہیریٹیج کونسل کے سیکریٹری شکیل وحیداللہ نے راج کپور کی سالگرہ کے موقع پر کیک کاٹا کونسل کے سیکریٹری کا کہنا تھا کہ راج کپور کی سالگرہ منانے کا مقصد پاکستان اور ہندوستان کے لوگوں کے مابین فاصلے کم کرنا ہےہماری تنظیم کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ اپنی تاریخ اور ہیریٹیج کے بچاؤ اور عوام میں آگاہی کےلیے کوئی نہ کوئی سرگرمی ہوتی رہے۔

    راج کپور 14 دسمبر 1924 کو پشاور کے علاقہ ڈھکی منور شاہ میں پیدا ہوئے تھے راج کپور کے والد پرتھوی راج کپور بھی معروف اداکار تھے لیجنڈری اداکار 1932 کو پشاور سے بمبئی (ممبئی) منتقل ہوئے راج کپور کی عمر تقریباً 10 سال تھی جب انھیں اپنی زندگی کی پہلی فلم ’’انقلاب‘‘ میں کام کرنے کا موقع ملا ،1990 میں راج کپور کے بیٹے رشی کپور اور رندھیر کپور جب فلم ’’حنا‘‘ بنا رہے تھے تو دونوں بھائی پشاور آئے تھے اور اپنی حویلی بھی گئے تھے اطلاعات کے مطابق رشی کپور پاکستان سے واپسی پر اپنے ساتھ گھر کی مٹی بھی ساتھ لے گئے تھے۔

  • علی امین گنڈاپور سے سابق سنیٹر محمد علی درانی  کی ملاقات

    علی امین گنڈاپور سے سابق سنیٹر محمد علی درانی کی ملاقات

    پشاور: خیبرپختونخوا (کے پی) کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور سے سابق وفاقی وزیر اور سابق سنیٹر محمد علی درانی نے ملاقات کی –

    باغی ٹی وی : وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور سے محمد علی درانی کی ملاقات کے موقع پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف بھی موجود تھےملاقات میں ملک کے موجودہ سیاسی حالات اور سیاسی مفاہمتی عمل آگے بڑھانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر ملک کے سیاسی میدان میں مفاہمت کے عمل کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا گیا۔

    درایں اثنا وزیراعلیٰ نے جماعت اسلامی کے سنئیر رہنما لیاقت بلوچ اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے مرکزی رہنما صفدر عباسی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ملک کی سیاسی صورت حال میں مفاہمت کے عمل کو موقع دینے اور اس سلسلے میں کوششوں کو تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

  • پشاور ہائیکورٹ سے سلمان اکرم راجہ کو بھی ضمانت مل گئی

    پشاور ہائیکورٹ سے سلمان اکرم راجہ کو بھی ضمانت مل گئی

    پی ٹی آئی کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ26 نومبر کو گرفتار افراد کو 9 مئی کے مقدمات میں بھی شامل کیا جا رہا ہے۔

    پشاور ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ ہم قانون اور آئین کی بالادستی کی جنگ لڑ رہے ہیں، ایف آئی آر کا مقصد سیاسی نہیں ہونا چاہیے، ہم مذاکرات بھی کریں گے اور سیاسی سطح پر راستہ بھی نکالنا چاہتے ہیں،زخمی اور شہداء کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ نے سلمان اکرم راجہ کو ایک ماہ کی حفاظتی ضمانت دے دی،عدالت نے درج مقدمات میں سلمان اکرم راجہ کو گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا،درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ کے خلاف 8 ایف آئی آرز درج ہیں، 8 مقدمات میں راہداری ضمانت حاصل کر لی ہے، 8 مقدمات معلوم ہیں، باقی کا پتہ نہیں۔