Baaghi TV

Category: پشاور

  • کرم سانحہ اور سیاست کا گھناؤنا کھیل

    کرم سانحہ اور سیاست کا گھناؤنا کھیل

    21 نومبر کو کرم میں پیش آنے والا المناک واقعہ پوری قوم کے لیے ایک صدمے سے کم نہیں تھا۔ اس حادثے کے بعد ہر دل دعاگو تھا کہ حالات پر قابو پا لیا جائے اور نقصان کو کم سے کم رکھا جا سکے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایسے حساس موقع پر بھی کچھ افراد نے اپنی ذاتی سیاست چمکانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔

    پی ٹی آئی سے وابستہ دو بھائی، سابق آئی جی پولیس سید ارشاد حسین اور ریٹائرڈ ائیر مارشل قیصر حسین، نے اس سانحے کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ متاثرہ قافلے کی سیکیورٹی فوج کی گاڑیاں کر رہی تھیں، جنہوں نے مبینہ لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لوگوں کی جان بچانے میں ناکامی دکھائی۔یہ دعویٰ سراسر جھوٹ اور بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قافلے کی حفاظت پولیس کی گاڑیاں کر رہی تھیں، جبکہ فوج اس مقام سے میلوں دور موجود تھی۔ حادثے کے فوری بعد، فرنٹیئر کور اور فوج نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں انجام دیں اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا۔

    سابق آئی جی سید ارشاد حسین، جو پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کے پی کے حلقہ 96 سے امیدوار بھی رہ چکے ہیں، کا یہ رویہ ان کی غیر ذمہ داری اور جھوٹ بولنے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایسے حساس مواقع پر جب قوم متحد ہو کر مسائل کا سامنا کرنے کی کوشش کرتی ہے، سیاسی مفادات کے لیے جھوٹ پھیلانا نہایت گھناؤنا عمل ہے۔یہ وقت اتحاد اور حقائق کو سمجھنے کا ہے، نہ کہ افواہوں اور جھوٹ کی بنیاد پر الزام تراشی کا۔ کرم کے عوام اور پاکستانی قوم کو چاہیے کہ ایسی سازشوں سے ہوشیار رہیں اور ان عناصر کو مسترد کریں جو اپنی سیاست کے لیے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فرحان ورک کہتے ہیں کہ حالیہ دو ماہ سے پاراچنار اور کرم کی سڑک بند تھی، اختلاف شدت پر تھا۔ اب دو قبائل کی لڑائی کو فوج نے نہیں بلکہ سول انتظامیہ نے جرگے کے ذریعے حل کرنا تھا۔ آپ مجھے بتائیں کہ دو بڑے شہروں کا رابطہ بند ہے، کیا گنڈاپور سمیت کوئی ایک تحریک انصاف کا صوبائی عہدیدار صلح کروانے گیا؟ کسی نے جرگہ بلایا؟اب یہ جرگہ بلانا عطا تارڑ، رانا ثنا، شہباز شریف یا جنرل عاصم منیر کی ذمہ داری تھی یا خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت کی؟

    صوبائی حکومت کتنی سنجیدہ ہے؟
    انکی سنجیدگی کا آپ اس بات سے اندازہ لگائیں کہ اتنا افسوس ناک واقعہ ہونے کے باوجود آج بھی وہ عمران خان کے لئے دھرنوں کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ وزیر اعلی سے لیکر صوبائی کابینہ کا ایک بندا وہاں نہیں پہنچا۔ میں آپ سے ابھی کا گنڈاپور کا بیان شئیر کر رہا ہوں تاکہ آپ کو سنجیدگی کے عالم کا اندازہ ہوجائے۔

    اب میں آپ سے سوال پوچھتا ہوں!کیا آپ جانتے ہیں خیبر پختونخواہ میں کس کی حکومت ہے؟12 سال سے تحریک انصاف کی،کیا آپ جانتے ہیں خیبر پختونخواہ میں کتنی پولیس ہے؟4 لاکھ،کیا آپ جانتے ہیں کہ اس 4 لاکھ پولیس کو کون چلاتا ہے؟وزیر اعلی خیبر پختونخواہ- انہوں نے پچھلے ماہ قانون بنا کر آئی جی کا رول بھی صفر کردیا ہے۔ایک مرتبہ سیاست کی پٹی اتار کر اپنی عقل سے سوچیں کہ جرگہ کروانا، امن و امان بحال کروانا، صوبے کے عوام کی خفاظت کرنا، مظلوموں کے جنازوں میں شریک ہونا، یہ سب سے زیادہ کس کی ذمہ داری تھی؟

    جس بندے کی ذمہ داری تھی وہ اسلام آباد میں حملے پلان کر رہا تھا
    اب یہ نمونے لانچ کردیتے ہیں، کبھی آئی جی ارشاد حسین جو خود تحریک انصاف کا امیدوار رہا ہے اور کبھی علامہ راجہ ناصر جو تحریک انصاف کی طفیل سیٹ لے گئے۔بیشرمی کی جو آخری حد ہے، یہ لوگ وہ حد بھی کراس کرچکے ہیں۔ کل یہی لوگ نک دا کوکا پر ناچ ناچ کر اسلام آباد داخل ہونگے جبکہ پاراچنار میں مظلوم رو رہے ہیں!
    اب ایک سوال لازمی اٹھنا چاہئے!فوج کیا کر رہی ہے؟فوج نے آپریشن عزم استحکام کا اعلان کیا، جس کو خود تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے رد کیا اور دہشتگردی کے خلاف آپریشن سے روک دیا۔ اب فوج صرف اپنی موجودہ حالت پر قائم ہے جہاں دہشتگرد کھلم کھلا حملے کر رہے ہیں اور پرسوں 12 جوان شہید ہوئے۔فوج اگر خیبر پختون خواہ میں کوئی آپریشن کرنا چاہے تو اسکے لئے آئین کے مطابق صوبائی حکومت کی درخواست موجود ہونا ضروری ہے۔اگر فوج کو ذمہ دار ٹھہرانا ہے تو صوبائی حکومت استعفی دے دے اور ساری ذمہ داری فوج کے حوالے کردیں، پھر فوج ذمہ دار۔12 سال حکومت یہ کریں گے، 4 لاکھ پولیس سے پروٹوکول یہ لیں گے اور صوبے کا امن و امان تباہ ہونے پر ذمہ دار پاک فوج اور وفاق ہونگے؟یہ کہاں کا انصاف ہے؟خدارا اس منافقین کے ٹولے کو پہچانیں۔

    کرم واقعہ،ایرانی صدر،ترجمان امریکی سفارتخانہ کی مذمت

    کرم واقعہ، خود غرض بیانیے،سچائی کہیں نظر نہیں آئے گی

  • پی ٹی آئی احتجاج کیس وکلاء لڑ پڑے، ججز سماعت چھوڑ گئے

    پی ٹی آئی احتجاج کیس وکلاء لڑ پڑے، ججز سماعت چھوڑ گئے

    پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی احتجاج کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل اور وکلاءالجھ پڑے تو ججز سماعت ادھوری چھوڑ کر چلے گئے.

    میڈیا رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی احتجاج کے خلاف کیس کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس ارشدعلی اور جسٹس وقار احمد نے کی،عدالت نے 24نومبر احتجاج کیلئے سرکاری وسائل کے استعمال پر ایڈووکیٹ جنرل سے رپورٹ طلب کرلی۔ججز نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا الزام ہے کہ صوبائی حکومت سرکاری وسائل لے کر اسلام آباد جاتی ہے، کیا صوبائی حکومت نے ہدایات جاری کی ہے کہ مشینری کا استعمال کیا جائے۔ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا عدالت میں پیش ہوئے تو عدالت نے روسٹرم پر بلالیا۔ ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ یہ غلط بیانی ہے۔حکومت نے کوئی ہدایت نہیں دی اس لئے درخواست قابل سماعت نہیں خارج کی جائے۔جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیئے کہ درخواستگزار کا الزام ہے کہ آپ سرکاری وسائل استعمال کررہے ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخواہ نے کہاکہ اسلام آباد میں اس نوعیت کا کیس چل رہا ہے سر یہ درخواست قابل سماعت نہیں۔وکیل درخواستگزار نے کہاکہ حیات آباد انڈسٹریل سٹیٹ میں آگ لگی تو ریسکیو گاڑیاں کم پڑ گئی تھیں۔پی ٹی آئی احتجاجوں میں ریسکیو گاڑیاں لے کر گئی۔گاڑیاں اب اسلام آباد پولیس کی تحویل میں ہیں۔جسٹس ارشد نے ریمارکس دیئے کہ درخواست میں ہے سرکاری وسائل اور ملازمین کو احتجاج میں آنے کا حکم دیا گیا۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہا ہم نے سرکاری وسائل سے متعلق کوئی احکامات جاری نہیں کئے۔جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیئے کہ چیف سیکرٹری سے پوچھ کر بتائیں کہ ان کو ایسے احکامات ملے ہیں یا نہیں؟۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہاکہ میں گزشتہ روز وزیراعلیٰ کے پی کے ساتھ بیٹھاتھا ایسے کوئی احکامات جاری نہیں ہوئے، میں پھر بھی پوچھ لیتا ہوں۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ ہمیں کچھ دیر تک آگاہ کریں کہ کیا معاملہ ہے۔وقفے کے بعد کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیئے کہ ایڈووکیٹ جنرل صاحب کیا احکامات ہیں؟۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ یہ درخواست درست نہیں، ان کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہیں۔جسٹس ارشدعلی نے ریمارکس دیئے کہ ہم دائرہ اختیار پر بات نہیں کر رہے ہیں۔
    جسٹس ارشد علی نے سوال کیا کہ یہ بتائیں حکومتی اداروں کو کوئی احکامات جاری ہوئے یا نہیں؟۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ نہیں، سرکاری اداروں اور اہلکاروں کو کوئی احکامات جاری نہیں ہوئے۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ایسے معاملات میں تحریری احکامات جاری نہیں ہوتے۔جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیئے کہ اگر سرکاری ملازمین خود جاتے ہیں تو ہم ان کو تو نہیں روک سکتے۔جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دئیے کہ ایسا احتجاج نہ ہو کہ سڑکیں بند ہو لوگوں کو مشکلات نہ ہو ۔جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیئے کہ احتجاج سے تکلیف تو ہمیں بھی ہوتی ہے،ایک دفعہ سوات سے آرہے تھے تمام راستے بند تھے،کن کن راستوں سے آنا پڑا۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ہمارے گھر کو آگ لگے گی اور انہوں نے مشینری احتجاج پر لگائی ہوگیہم ایسا آرڈر کیسے کر سکتے ہیں جو کل نافذالعمل نہ ہو۔ان کو روڈ بند کرنے سے روکیں، سرکاری وسائل استعمال کرنے سے روکیں۔ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے 800 کنٹینرز لگا رکھے ہیں، شہری حقوق سلب ہورہے ہیں تو جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دئیے کہ عوام صوبائی اور مرکزی حکومت دونوں سے تنگ ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آئین مجھے جلسے کرنے کی اجازت دیتا ہے اور یہ کسی اور کے کہنے پر رٹ پٹیشن دائر کی گئی ہے۔درخواست گزار کے وکلا اور ایڈوکیٹ جنرل آپس میں الجھ پڑے جس پر پشاور ہائیکورٹ کے ججز احتجاجاً اٹھ کر چلے گئے اور سماعت کو ادھورا چھوڑ دیا۔

    سعودی عرب کے خلاف زہر آلودہ بات کی معافی نہیں، وزیر اعظم

    اسلام آباد احتجاج، کراچی سے پولیس نفری روانہ

    چیمپئینز ٹرافی بلدیہ عظمی کراچی کے صدر دفتر پہنچ گئی

  • کرم واقعہ،  خود غرض بیانیے،سچائی کہیں نظر نہیں آئے گی

    کرم واقعہ، خود غرض بیانیے،سچائی کہیں نظر نہیں آئے گی

    کرم واقعہ – خود غرض بیانیوں کی ایک کلاسیکل مثال
    اپنے ذاتی مفادات کے تحت، کوئی اسے دہشت گردی قرار دیتا ہے، کوئی فرقہ واریت کا مسئلہ کہتا ہے، اور کچھ اسے پشتونوں کا قتل قرار دیتے ہیں۔دوسری جانب، کچھ لوگ حکومت کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں تو کچھ پوچھتے ہیں کہ سیکیورٹی کہاں تھی؟

    حقیقت میں، یہ کچھ اور نہیں بلکہ قبائلی انتقام کی روایتی جھلک تھی۔ وہ قبائل جو اپنے پیدائشی حق کے طور پر غیر رجسٹرڈ اسلحہ رکھنے اور آزادی سے گھومنے اور روایات کے نام پر قتل کو جائز سمجھتے ہیں۔یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں، بلکہ دہائیوں سے جاری ہے۔ اب انتظار کریں کہ دوسرا فریق کس طرح اس حساب کو برابر کرے گا۔پھر ایک بار خود غرض بیانیوں کی عارضی گونج ہوگی، لیکن افسوس! سچائی کہیں نظر نہیں آئے گی۔

    سچ بولو! ہم کیسی قوم بن گئے ہیں؟

    سچ بولیں! ہم کس قسم کی قوم بن چکے ہیں؟
    کچھ لوگ آزادی چاہتے ہیں کہ وی پی این کے ذریعے غیر اخلاقی مواد دیکھ سکیں!
    کچھ روایات اور انتقام کے نام پر قتل کو اپنا حق سمجھتے ہیں!
    ‼️ کچھ آئینی حقوق کے نام پر ملک کی سڑکیں جام کرنا چاہتے ہیں!
    اور کچھ آزادیِ اظہار کے نام پر جھوٹ پھیلانے اور نفرت انگیزی کو فروغ دیتے ہیں!

    یہ قتل و غارت کے لیے ہم سب ذمہ دار ہیں۔

  • خیبر: کمشنر پشاور کی زیرنگرانی قبائلی مشران کا جرگہ، امن و ترقی پر مشاورت

    خیبر: کمشنر پشاور کی زیرنگرانی قبائلی مشران کا جرگہ، امن و ترقی پر مشاورت

    خیبر(باغی ٹی وی رپورٹ)کمشنر پشاور کی زیرنگرانی قبائلی مشران کا جرگہ، امن و ترقی پر مشاورت

    تفصیل کے مطابق خیبر میں کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی سربراہی میں ضلعی انتظامیہ خیبر کی زیرنگرانی قبائلی مشران کا اہم جرگہ منعقد ہوا۔ یہ اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس خیبر میں منعقد کیا گیا، جس میں کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر پشاور قاسم خان، ڈپٹی کمشنر خیبر کیپٹن (ر) بلال شاہد راو، ضلعی پولیس سربراہ رائے مظہر اقبال، اور دیگر اہم سیاسی و سماجی شخصیات سمیت قبائلی مشران نے شرکت کی۔

    جرگہ میں ضلع خیبر کی مجموعی سیکورٹی صورتحال، خاص طور پر تیراہ اور باغ میدان میں حالیہ واقعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کمشنر ریاض خان محسود نے مشران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں امن قائم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، جو صرف قبائلی اقوام، نوجوانوں، اور بلدیاتی نمائندوں کے تعاون سے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور سیکورٹی فورسز علاقے میں امن کے قیام کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہیں۔

    اجلاس میں اعلان کیا گیا کہ بھوٹان شریف اور پیر میلہ کے متاثرین کے لیے صوبائی حکومت نے 1 کروڑ 30 لاکھ روپے کی مالی امداد منظور کی ہے، جو جلد متاثرہ خاندانوں کو فراہم کی جائے گی۔ مشران نے جرگہ کے دوران قومی سطح پر خصوصی کمیٹیوں کے قیام پر اتفاق کیا، جو اعلیٰ سول اور عسکری حکام کے ساتھ جرگہ میں شرکت کر کے اپنی سفارشات پیش کریں گی۔

    قبائلی مشران نے جرگہ کے انعقاد اور ان کی رائے سننے پر کمشنر پشاور، سی سی پی او پشاور، اور ضلعی انتظامیہ خیبر کا شکریہ ادا کیا۔ جرگہ نے امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات خطے کو امن کا گہوارہ بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔

  • سرکاری حکام غیر سیاسی رہ کرآئین کی حکمرانی کی ذمہ داریاں نبھائیں،چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا

    سرکاری حکام غیر سیاسی رہ کرآئین کی حکمرانی کی ذمہ داریاں نبھائیں،چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا

    پشاور: چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا (کے پی) ندیم اسلم چوہدری نے صوبائی انتظامیہ اور پولیس کو خط لکھا ہے-

    باغی ٹی وی: چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے آئی جی خیبرپختونخوا، صوبائی سیکرٹریز ، کمشنرز اور پولیس افسران کو خط لکھا ہے خط میں کہا گیا ہےکہ پولیس اور انتظامی افسران سیاسی قیادت کے صرف وہ احکامات مانیں، جو آئینی دائرے میں ہوں کسی سیاسی جماعت کے غیر قانونی احکامات پرتعاون کرنے کے نتائج ہوں گے، افسران کسی دباؤ یا لالچ میں سرکاری وسائل، اثاثوں، یا اختیارات کا غلط استعمال نہ کریں۔

    خط میں کہا گیا ہےکہ تمام افسران پیشہ وارانہ ضابطہ اخلاق کی پاپندی کریں، قانون کو بغیرکسی خوف، حمایت یا تعصب کے برقرار رکھنا ہماری ذمہ داری ہے قائداعظم محمد علی جناح کا پاکستان کے لیے وژن ہماری رہنمائی کی روشنی ہے قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ غیر سیاسی، غیر جانبدار رہنا، ثابت قدمی سے قانون کی حکمرانی کے لیے پرعزم رہنا، عوامی اعتماد کے رکھوالوں کے طور پر ہم اس کے پابند ہیں۔

    چیف سیکرٹری نے انتباہ کیا ہےکہ سیاسی منظر نامے سے قطع نظر غیر جانبداری سے اپنے فرائض سرانجام دیں، ہمارا حلف آئین اور ریاست کے لیے ہے ،کسی سیاسی جماعت یا لیڈر کے لیے نہیں، آپ کو کسی سے متاثر نہیں ہونا چاہیے، کسی بھی سیاسی جماعت یا فرد کے دباؤ میں نہیں آناچاہیے۔

    چیف سیکرٹری نے کہا ہےکہ آپ نے بے خوف ہوکر اپنی ساکھ، اپنے وقار کو برقرار رکھنا ہے سرکاری وسائل، اثاثوں، یا اختیار کا غلط استعمال کسی دباؤ یا لالچ میں نہ کریں سرکاری حکام غیر سیاسی رہ کرآئین کی حکمرانی کی ذمہ داریاں نبھائیں کوئی بھی سرکاری املاک، سامان اور اتھارٹی کے استعمال پر دباؤ قبول نہ کرے، کسی بھی سیاسی جماعت کی ڈائریکٹ یا ان ڈائریکٹ سپورٹ نہ کی جائے، ایسے اقدامات سے بحیثیت پبلک سرونٹ ہمارا احترام بڑھےگا، احکامات نہ ماننے پر کار روائی کی جائے گی۔

  • لنڈی کوتل:طورخم مزدوروں کا احتجاج، پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ

    لنڈی کوتل:طورخم مزدوروں کا احتجاج، پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ)طورخم مزدوروں کا احتجاج، پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ

    لنڈی کوتل بازار کے باچا خان چوک میں طورخم بارڈر کے مزدوروں نے اپنے حقوق کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں سیاسی رہنماؤں، بلدیاتی نمائندوں، تاجروں اور مزدوروں کے مشران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرے کے شرکاء نے طورخم بارڈر پر مزدوروں پر عائد پابندیاں ختم کرنے اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ وہ اپنے بچوں کے لیے حلال روزگار کما سکیں۔

    احتجاج میں جمعیت علمائے اسلام کے مفتی محمد اعجاز شینواری، تحصیل کونسل کے ڈپٹی چیئرمین ولی محمد شینواری، چیئرمین عبدالرؤف شینواری اور مزدور رہنماؤں حضرت سلام شینواری، فرمان شینواری، اشرف گل تڑون، مولانا رحمت اللہ ناصح، قاری جہاد شاہ آفریدی سمیت عوامی نیشنل پارٹی کے عبدالجبار آفریدی اور دیگر قائدین نے بھی شرکت کی۔

    مظاہرین نے دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ طورخم بارڈر پر مزدوروں کے مسائل حل کیے جائیں تاکہ ان کی معاشی مشکلات کم ہو سکیں۔

  • لنڈی کوتل: چیف کلکٹر کا دورہ طورخم، تجارتی مسائل پر بات چیت

    لنڈی کوتل: چیف کلکٹر کا دورہ طورخم، تجارتی مسائل پر بات چیت

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ)چیف کلکٹر خیبر پختونخوا اپریزمنٹ خواجہ خرم نعیم نے طورخم بارڈر کے کسٹم اسٹیشن کا دورہ کیا اور وہاں کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس کو درپیش مسائل پر تفصیلی بات چیت کی۔

    طورخم کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر حاجی مجیب شینواری، ٹرانسپورٹ یونین کے صدر حاجی عظیم اللہ شینواری، سابق صدر اور سینئر کسٹم ایجنٹ حاجی ایمل شینواری سمیت دیگر نمایاں افراد نے ملاقات میں حصہ لیا۔

    ملاقات کے دوران بارڈر پر گیٹ ان اور گیٹ آؤٹ کی موجودہ صورتحال، گاڑیوں کی کلیئرنس کے معاملات اور کسٹم ایجنٹس کو پیش آنے والے چیلنجز پر گفتگو کی گئی۔ چیف کلکٹر نے یقین دہانی کرائی کہ ان مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی اور کسٹم حکام عملی اقدامات اٹھائیں گے تاکہ بارڈر پر تجارت کے عمل کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

    کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس نے چیف کلکٹر کے دورے کو سراہتے ہوئے ان کے اقدامات کا خیرمقدم کیا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ دورہ تجارت کی بہتری اور مسائل کے حل میں معاون ثابت ہوگا۔

  • بانی پی ٹی آئی کوسیاست سے دور رکھنے کیلئے جیل میں رکھا گیا ہے،بیرسٹرسیف

    بانی پی ٹی آئی کوسیاست سے دور رکھنے کیلئے جیل میں رکھا گیا ہے،بیرسٹرسیف

    پشاور: خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹرسیف نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے تانے بانے افغانستان سے ملتےہیں، مقامی طورپر بھی ان دہشت گردوں کے سہولت کار موجودہیں۔

    باغی ٹی وی: مشیر اطلاعات بیرسٹرسیف نے کہا کہ زیادہ ترکارروائیوں میں دہشت گرد مارے جاتےہیں، خیبر پختونخوا پولیس کومضبوط کیا جارہاہے، پولیس کیلئے بھاری فنڈز مختص کیے گئے ہیں ،کے پی کے حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سنجیدہ ہے، قومی سلامتی کا معاملہ وفاقی حکومت کا بنتاہے، تاہم وفاقی حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی ہے، دہشت گردی کا مسئلہ پرانا ہے، دہشت گردوں کے تانے بانے افغانستان سے ملتےہیں، مقامی طورپر بھی ان دہشت گردوں کے سہولت کار موجودہیں۔

    مشیر اطلاعات نے مزید کہا کہ وفاق کی جانب سے ہمیں فنڈز نہیں دیئےجارہے، سرحد کے معاملات بھی وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہیں، ٹیلی کمیونیشن بھی اسی کےحصےمیں آتاہے، موجودہ حکومت کونہ ہٹایا گیا تومسائل حل نہیں ہوں گے بانی پی ٹی آئی کے خلاف کوئی کیس درست نہیں ہے، 9 مئی کےکیسز میں تاحال عدالتوں میں چالان پیش نہیں ہوئے ہیں، حکمراں صرف الزامات کی سیا ست کررہے ہیں، بانی پی ٹی آئی کوسیاست سے دور رکھنے کیلئے جیل میں رکھا گیا ہے، احتجاج کے حوالےسے ہماری بھرپور تیاریاں جاری ہیں ۔

  • خیبر: منشیات کے خلاف بڑی کارروائی، کروڑوں روپے مالیت کی افیون اور چرس برآمد

    خیبر: منشیات کے خلاف بڑی کارروائی، کروڑوں روپے مالیت کی افیون اور چرس برآمد

    خیبر (باغی ٹی وی رپورٹ) خیبر کے دور افتادہ علاقے تودہ میلہ چورا خوڑ میں علی مسجد پولیس نے انٹیلی جنس بیس کارروائی کے دوران منشیات کی بھاری مقدار برآمد کر لی۔ پولیس نے 38 کلوگرام افیون اور 122 کلوگرام چرس قبضے میں لے کر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا، اور ان کی گرفتاری کے لئے ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں۔

    تفصیلات کے مطابق، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر رائے مظہر اقبال کو خفیہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ ایک بین الصوبائی منشیات اسمگلنگ گروہ ملک کے دیگر حصوں میں منشیات سپلائی کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ایس ایچ او علی مسجد غفار خان اور ایڈشنل ایس ایچ اوز نصیب خان اور آفتاب خان کی قیادت میں پولیس ٹیم نے فوری کارروائی کی۔ تاہم، اسمگلروں نے پولیس کو دیکھتے ہی پہاڑی راستوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی، لیکن پولیس نے منشیات کی بڑی کھیپ اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔

    پکڑی گئی منشیات کی مالیت کروڑوں روپے ہے۔ ڈی پی او خیبر رائے مظہر اقبال نے قوم سے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کے تعاون سے علاقے کو منشیات کی لعنت سے پاک کر کے دم لیں گے۔

  • گنڈاپور کے خلاف نیب طلبی نوٹس کیس،عدالت نے درخواست نمٹا دی

    گنڈاپور کے خلاف نیب طلبی نوٹس کیس،عدالت نے درخواست نمٹا دی

    پشاور:وزیراعلی خیبر پختونخوا اعلی امین گنڈاپور کے خلاف نیب طلبی نوٹس کیس کی سماعت ہوئی

    پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سماعت کی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ نیب نے بطور سابق وفاقی وزیر علی امین کے خلاف انکوئری شروع کی ہوئی ہے،نئے ترمیمی قانون کے تحت تو نیب 500 ملین کے کیس میں انکوائری کر سکتا ہے،علی امین کے خلاف 304 ملین کا کیس ہے، پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اس کا مطلب ہے آپ بھی نیب ترامیم سے مطمئن ہیں، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جی ہم مطمین ہے،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ان کے خلاف ابھی انکوائری چل رہی ہے ان کو نوٹس بھیجا تھا،جو نوٹس بھیجا تھا وہ زائدالمیعاد ہوگیا ہے،ابھی انکوائری چل رہی ہے اس سٹیچ پر تو ہم نہیں بتا سکتے کہ کتنی رقم ہے ہوسکتی ہے، عدالت نے کہا کہ کوئی نیا نوٹس نہیں ہے تو پھر ہم اس کیس کو نمٹا دیتے ہیں، عدالت نے علی امین گنڈاپور کی درخواست غیر موثر ہونے پر نمٹا دی

    ہر بچہ کہہ رہا تھا زیادتی ہوئی مگر کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں،سرکاری وکیل

    پنجاب کالج سوشل میڈیامہم،عمران ریاض،سمیع ابراہیم سمیت 36 افراد پر مقدمہ

    راولپنڈی،طلبا کا احتجاج، توڑ پھوڑ،پولیس کی شیلنگ

    مبینہ زیادتی ،طلبا کا احتجاج، آئی جی پنجاب کو عدالت نے کیا طلب

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس،کالج انتظامیہ کی طلبا سے کلاسوں میں جانے کی اپیل

    لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ