Baaghi TV

Category: پشاور

  • خیبر پختونخوا اسمبلی نے ‘خیبر پختونخوا یونیورسٹیز ترمیمی بل 2024’ منظور کر لیا

    پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی نے ‘خیبر پختونخوا یونیورسٹیز ترمیمی بل 2024’ کو منظور کر لیا ہے۔ اس بل کو خیبر پختونخوا کی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم، مینا خان نے ایوان میں پیش کیا، جسے تمام ارکان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔خیبر پختونخوا یونیورسٹیز ترمیمی بل 2024 کے تحت، صوبے کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے چانسلر کی ذمہ داری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے پاس ہوگی۔ اس سے قبل مختلف یونیورسٹیوں کے چانسلر مختلف افراد تھے لیکن اب یہ اختیار وزیراعلیٰ کے پاس منتقل کر دیا گیا ہے۔ وائس چانسلرز کی تقرری کا اختیار بھی وزیراعلیٰ کے پاس ہوگا۔ وائس چانسلر کے عہدے کے لیے، وزیراعلیٰ کو اکیڈیمک سرچ کمیٹی سے تین نام موصول ہوں گے، جن میں سے کسی ایک کو وائس چانسلر مقرر کیا جائے گا۔

    نئے ترمیمی بل کے مطابق وائس چانسلر کی مدت ملازمت کو چار سال تک محدود کر دیا گیا ہے۔ اس مدت کا جائزہ حکومت کی تشکیل کردہ مانیٹرنگ کمیٹی لے گی، جو وائس چانسلر کی کارکردگی کا تفصیلی تجزیہ کرے گی۔ اگر کسی وائس چانسلر کی کارکردگی 65 فیصد سے کم ہو تو ان کی مدت ملازمت ختم کی جا سکتی ہے۔اس بل کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ خواتین یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر کے عہدے کے لیے صرف خواتین ہی اہل ہوں گی۔ اس اقدام کا مقصد خواتین کی تعلیم اور قیادت کو فروغ دینا ہے۔

    اس ترمیمی بل کو منظور کر کے صوبے میں تعلیمی نظام میں بہتری لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس سے نہ صرف یونیورسٹیوں کی انتظامیہ میں شفافیت آئے گی بلکہ یونیورسٹیوں کی کارکردگی کو بھی بہتر بنانے کی توقع ہے۔ خواتین کی قیادت کے حوالے سے یہ بل ایک تاریخی قدم ہے، جو نہ صرف تعلیم کے شعبے میں خواتین کی موجودگی کو بڑھائے گا بلکہ معاشرتی سطح پر بھی ایک مثبت پیغام دے گا۔خیبر پختونخوا حکومت نے اس بل کے ذریعے تعلیمی اداروں میں اصلاحات لانے کی عزم کو مزید مستحکم کیا ہے اور اسے صوبے کی تعلیمی ترقی میں سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

  • انٹرنیٹ سست روی،پشاور ہائیکورٹ نے کیا جواب طلب

    انٹرنیٹ سست روی،پشاور ہائیکورٹ نے کیا جواب طلب

    پشاور ہائیکورٹ نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس کی سست روی پر وزارت داخلہ اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) سے جواب طلب کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک درخواست کی سماعت کے دوران کیا گیا، جس میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری کے باعث عوام کو درپیش مشکلات اور اس کے اقتصادی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

    پشاور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ میں جسٹس وقار احمد اور جسٹس کامران حیات میاں خیل شامل تھے، جنہوں نے اس درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملک میں انٹرنیٹ کی سست رفتار سے عوام کی روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انٹرنیٹ کی سست روی کے باعث ملک کی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے، اور اس کا اثر ملک کے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) پر بھی پڑ رہا ہے۔

    وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ اکثر احتجاج یا کسی سیاسی معاملے کے دوران حکومت انٹرنیٹ سروس کو جان بوجھ کر سست کر دیتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت انٹرنیٹ کی سست روی کو تسلیم کرتی ہے اور بعض اوقات ایسے اقدامات کو عوامی تحفظ کے لیے ضروری قرار دیتی ہے، لیکن اس کے باوجود انٹرنیٹ کی اس سست رفتاری سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    اس پر جسٹس وقار احمد نے سوال کیا کہ "آپ کا مطلب ہے کہ حکومت انٹرنیٹ کی سست رفتاری کو تسلیم نہیں کر رہی؟” جس پر وکیل نے جواب دیا کہ "جی ہاں، حکومت اکثر اوقات انٹرنیٹ سروس کو مخصوص حالات میں سست کرتی ہے، اور یہ پہلے سے عوام کو بتایا بھی جاتا ہے۔”

    عدالت نے اس معاملے کی مزید تفصیل جاننے کے لیے وزارت داخلہ اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو آئندہ سماعت تک انٹرنیٹ کی سست رفتار کے حوالے سے جواب داخل کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے اس اہم مسئلے پر مزید تحقیقات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کیس کی اگلی سماعت کا وقت مقرر کردیا۔

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • گورنر ہاؤس پشاور میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ جاری

    گورنر ہاؤس پشاور میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ جاری

    پشاور: گورنر ہاؤس پشاور میں گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی کی زیر صدرارت منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی : 1. صوبہ کی سیاسی قیادت صوبہ میں امن و امان کی خوفناک حد تک بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتی ہے جاری سال گزشتہ سال کی نسبت زیادہ خونریزی کا شکار رہا گزشتہ مہینہ 70 سے زیادہ سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت ہوئی کرم میں فرقہ وارانہ فسادات کی آگ میں 200 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں مرکزی اور صوبائی حکومت امن و امان کی صورتحال میں ناکام دکھائی دے رہی ہیں-

    2. یہ اجلاس صوبہ کی مالی اور سیاسی صورتحال اور صوبے کے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی پر سیاسی کمیٹی اور ٹیکنیکل کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کرتا ہے-

    3. ساتویں این ایف سی ایوارڈ تقریبا گزشتہ دو ڈھائی سال سے غیر موثر ہو چکا ہے لہذا فوری طور پر گیارواں این ایف سی ایوارڈ جاری کیا جائے این ایف سی ایوارڈ میں سابقہ فاٹا کے لیے مختص تین فیصد رقم گزشتہ پانچ سالوں میں ریلیز نہیں کی گئی فاٹا کے لیے مختص واجب الادا تین فیصد رقم سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کے مطابق جاری کیے جائیں اور سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر من و عمل کیا جائے نئے این ایف سی ایوارڈ صوبہ کی مردم شماری کے مطابق کی جائے اور فارمولا میں فارسٹ اور ماحولیات کو شامل کیا جائے-

    4. یہ فورم متفقہ طور پر اس تاریخی حقیقت کا اعادہ کرتا ہے کہ صوبے میں پائی جانے والی مائز اینڈ منرلز صوبوں کی عوام کی ملکیت اور انے والی نسلوں کی امانت ہے اور مطالبہ کرتے ہیں کہ صوبہ بھر میں دی گئی لیز اس کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں-

    5. پاک افغان بارڈر کے تمام تاریخی تجارتی راستوں کو ہر قسم کی تجارت کے لیے فوری طور پر کھول دیا جائے-

    6. وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 158 کے مطابق صوبے کی عوام کو ترجیحی بنیادوں پر گیس کی فراہمی یقینی بنائیں اور آئین کے آرٹیکل 161 کے مطابق این ایچ پی اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی آن آئل صوبے کو ادا کریں-

    7. مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس آئینی مدت کے مطابق باقاعدگی سے بلایا جائے –

    8. صوبائی حکومت پی ایف سی کی تشکیل کر کے باقاعدگی کے ساتھ ایوارڈ کا اجراء کرے-

    9. موثر بلدیاتی نظام اور بلدیاتی نمائندوں کو لوکل گورنمنٹ کے مطابق بلا تفریق فنڈ جاری کیے جائیں-

    10. صوبائی حکومت سے آئی ڈی سی جو دو فیصد لاگو کیا گیا ہے وہ افغان تجارت کو متاثر کر رہی ہے اس کو واپس لیا جائے-

    11. آبی وسائل میں صوبے کا جو حصہ 1991 ڈبلیو اے اے میں پیرا دو ، چار اور 10 کے مطابق بنتا ہے مرکز صوبے کو اس کے لیے انفراسٹرکچر فراہم کرے جس طرح باقی صوبوں کو مرکز نے فراہم کیا ہے –

    12. تمام قبائلی اضلاع میں آپریشنوں سے ہونے والے تمام آئی ڈی پیز کو باعزت اور وعدوں کے مطابق واپس اپنے علاقوں کو بھیج دیا جائے-

    13. صوبہ خیبر کے پرامن پشتونوں کو دوسرے صوبوں اورمرکز اسلام آباد میں بیجا تنگ نہ کیا جائے –

    14. صوبائی حکومت کی کارکردگی کی پرفارمنس آڈٹ کی جائے-

    خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی طلب کردہ آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

  • خیبرپختونخوا میں قیام امن کیلئے گورنر ہاؤس میں آل پارٹیز کانفرنس

    خیبرپختونخوا میں قیام امن کیلئے گورنر ہاؤس میں آل پارٹیز کانفرنس

    خیبرپختونخوا میں قیام امن، صوبائی حقوق کے حصول اور درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کے لیے آل پارٹی کانفرنس گورنر ہاوس پشاور میں جاری ہے

    کانفرنس کی صدارت و میزبانی گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کر رہے ہیں۔کانفرنس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما شریک ہیں جن میں آفتاب شیر پاؤ، میاں افتخار حسین، انجنیئر امیر مقام، مولانا لطف الرحمان، پروفیسر ابراہیم، محمد علی شاہ باچا، محسن داوڑ، سکندر شیر پاؤسمیت دیگر قائدین شامل ہیں۔۔افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کل جماعتی کانفرنس کا مقصد صوبے میں امن و امان اور اس کے وسائل کے بارے بات چیت کرنی ہے۔ صوبے کو بد امنی نے اپنے لپٹ میں لے رکھا ہے۔صوبائی حکومت کو کل جماعتی کانفرنس بلانی چاہیے تھی۔مجبور ہو کر ہم نے یہ اقدام اٹھایا۔ چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں مسائل کے حل کیلئے اپنی تجاویز   پیش کر سکیں ۔گورنر نے کہا جنوبی اضلاع اور کرم کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔انھوں نےُ کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے تجاویز پر غور کیا جائے گا اور آخر میں ایک اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس صوبے میں امن و استحکام اور سیاسی یکجہتی میں معاون ثابت ہوگی۔

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا خیبرپختونخوا میں حقیقی مسائل کے حل کی جانب پہلا قدم ہے۔ وزیر اعلیٰ کی غیرفعالیت اس کے برعکس عوام کے لیے مایوسی کا سبب بنی ہے،گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی قیادت نے صوبے میں امن و امان اور مسائل کے حل کے لیے ایک نئی امید پیدا کی ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس میں 16 سے زائد جماعتوں کو یکجا کرنا اتحاد کی جانب بڑا قدم ہے

    خیبر پختونخوا حکومت، پی ٹی آئی رہنما عاطف خان کو دوسرے کیس میں نوٹس جاری

    عاطف خان کی طلبی، پی ٹی آئی میں اختلافات

    اینٹی کرپشن میں طلبی،عاطف خان بولے،اب کھل کو بولوں گا

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان

  • گنڈاپور کا عاطف خان سے رابطہ،وزیراعلیٰ ہاؤس بلا لیا

    گنڈاپور کا عاطف خان سے رابطہ،وزیراعلیٰ ہاؤس بلا لیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں علی امین گنڈا پور اور عاطف خان کے درمیان اختلافات کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں ان اختلافات کو حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں، اسد قیصر اور شہرام ترکئی نے علی امین گنڈا پور کو عاطف خان سے رابطہ کرنے کے لیے قائل کیا۔ ان رہنماؤں کا خیال تھا کہ اگر یہ دونوں رہنما مل بیٹھ کر اپنے اختلافات حل کر لیں تو پارٹی کو فائدہ ہوگا اور اس کے اندرونی انتشار کو کم کیا جا سکے گا۔ علی امین گنڈا پور نے اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے اندرونی اختلافات کو حل کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ ان اختلافات کی وجہ سے تحریک انصاف کو نقصان ہو رہا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ علی امین گنڈا پور نے عاطف خان کو وزیر اعلیٰ ہاؤس آنے کی دعوت دی، جس پر عاطف خان نے اس دعوت کو قبول کر لیا اور جلد ہی ملاقات کے لیے وزیر اعلیٰ ہاؤس پہنچنے کی حامی بھری۔

    عاطف خان نے بھی علی امین گنڈا پور سے ٹیلیفونک رابطے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے درمیان بات چیت جاری ہے  

    یاد رہے کہ علی امین گنڈا پور اور عاطف خان کے درمیان ماضی میں سنگین نوعیت کے اختلافات سامنے آئے تھے اور دونوں رہنماؤں کی طرف سے ایک دوسرے پر سخت الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔ تاہم، اس وقت کی پیشرفت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں رہنما اپنے اختلافات کو پی ٹی آئی کے مفاد میں حل کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    خیبر پختونخوا حکومت، پی ٹی آئی رہنما عاطف خان کو دوسرے کیس میں نوٹس جاری

    عاطف خان کی طلبی، پی ٹی آئی میں اختلافات

    اینٹی کرپشن میں طلبی،عاطف خان بولے،اب کھل کو بولوں گا

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان

    فیض حمید عبرت کا نشان،عمران کا نشہ بند، بشریٰ پر فیض کا فیض

    فیض حمید کے بارے مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں محسن بیگ کے چشم کشا انکشافات

    فیض حمید کی گرفتاری پر نہ ڈرا ہوں نہ گھبرایا ہوں،عمران خان

  • پی ٹی آئی کاگورنر خیبر پختونخوا کی اے پی سی میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی کاگورنر خیبر پختونخوا کی اے پی سی میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے گورنر خیبر پختونخوا کی طلب کردہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی نمائندگی تحریک انصاف کے پاس ہے گورنر خیبر پختونخوا کی طلب کردہ اے پی سی میں عدم شرکت کا فیصلہ نہتے اور پرامن شہریوں کے قتل عام میں خاموش سہولت کاری پر کیا ہے۔

    شیخ وقاص اکرم نے مزید کہا کہ فیصلہ سیاسی اجرت کے عوض قاتلوں کی ہمنوائی کے پیشِ نظر کیا، پی ٹی آئی پر پابندی کے مذموم حکومتی ایجنڈے کی پیپلز پارٹی سرگرم پشت پناہ ہے پیپلز پارٹی نے بلوچستان اسمبلی سے پابندی کی قرارداد منظوری میں کردار ادا کیا، سندھ میں پی پی ہمارے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ اور ہراسانی میں مصروف ہے۔

    پی ٹی آئی ترجمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی بے جان نمائشی مجالس کرکے اپنی جمہوریت نوازی کا تاثر دینا چاہتی ہے، پی پی کا خیبر پختونخوا میں کوئی مینڈیٹ نہیں،خیبر پختونخوا کے عوام کی نمائندگی پی ٹی آئی کے پاس ہے، گورنر کسی معاملے پر سنجیدہ رائے کے پی حکومت کو بھجوائیں تو غور کریں گے۔

  • اس وقت پی ٹی آئی کی ساری قیادت خیبر پختونخوا میں بیٹھی ہوئی ہے، فیصل کریم کنڈی

    اس وقت پی ٹی آئی کی ساری قیادت خیبر پختونخوا میں بیٹھی ہوئی ہے، فیصل کریم کنڈی

    پشاور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں قتل و غارت ہو رہی ہے یہ ہر ہفتہ دس دن بعد سرکاری وسائل کا استعمال کرتے ہوئے مرکز پرچڑھائی کردیتے ہیں،لیکن صوبائی حکومت کے پاس ضلع کرم کی عوام کے لیے وقت نہیں۔

    باغی ٹی وی : فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے ہم نے کوہاٹ میں جرگہ ارکان سے ملاقات کی، صوبائی کابینہ میں کبھی امن وامان کی صورت حال پربات نہیں ہوئی، وہ سیاسی جماعتیں جو وزیراعلیٰ ہاؤس جانے کے لیے تیارنہیں وہ بھی ہمارے ساتھ رہیں کل گورنر ہاؤ س کی تاریخ میں پہلی آل پارٹیز کانفرنس ہونے جا رہی ہے کرم کے مسئلے پر سیاسی قائدین کا شکر گزار ہوں جو میرے ساتھ گئے۔

    ورنر پختونخوا نے مزید کہا پی ٹی آئی نے اپنے بڑے نظریاتی رہنماؤں کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں پناہ دے رکھی ہے ہم نے سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک، انجنیئر شوکت اللہ سابق گورنرکوبھی دعوت دی ہے 16 جماعتوں نے اے پی سی میں شرکت کی یقین دہانی کرائی ہے، پارلیمانی لیڈربھی شریک ہونگے، کوشش ہے کہ صوبہ کے تمام معاملات زیربحث لائیں اورمرکزوصوبہ کی توجہ دلائیں سیاسی اختیارات کوئی نہیں لے سکتا صوبائی حکومت لیتی رہے، وزیر اعلی کو اے پی سی میں آناچاہیے, ہم مرکزسے اختیارات لیں گے،ہم مرکز سے متعلقہ مسائل مرکزسے حل کرائیں گے،ہم اے پی سی میں جرگہ بنائیں گے جو وزیراعظم , صدراورکورکمانڈرسمیت تمام سٹیک ہولڈرز سے ملیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو سیاست سکھا رہا ہوں اور امید ہے ہماری اے پی سی کے بعد وزیر اعلیٰ بھی اے پی سی بلائیں گے خیبر پختونخوا میں قتل و غارت ہو رہی ہے صوبہ جل رہا ہے اور صوبائی حکومت اسلام آباد پر چڑھائی کرتی ہے لیکن صوبائی حکومت کے پاس ضلع کرم کی عوام کے لیے وقت نہیں۔

    فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ صوبائی وسائل سے سیاسی کارکنوں کو شہدا اور زخمی پیکج دینے جا رہے ہیں جبکہ ان کے نظریاتی اراکین وزیر اعلیٰ ہاؤس میں چھپے بیٹھے ہیں صوبائی حکومت جامعات کی زمینیں بیچنا چاہتی ہے لیکن میں جب تک گورنر ہوں ایک یونیورسٹی کی زمین فروخت نہیں ہونے دوں گا۔

    انہوں نے کہا کہ گورنر راج کے حوالے سے ابھی تک مجھ سے کوئی رابطہ نہیں ہوا وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں کھڑے ہو کر کہا بندوقیں خریدوں گا اور وفاق پر حملہ کروں گا اتنے بڑے دعوے کرنے والی پارٹی صرف خیبرپختونخوا سے لوگ لا سکی تو کیا پی ٹی آئی خیبرپختونخوا تک محدود ہو کر رہ گئی ہے پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے کتنے قافلے آئے؟

    گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ یہ احتجاج میں لوگوں کو پیسے دے کر لاتے ہیں جبکہ اس وقت پی ٹی آئی کی ساری قیادت خیبر پختونخوا میں بیٹھی ہوئی ہے اور یہاں پر اسکائپ پر آ کر بھاشن دیتے ہیں مگر جلوس میں شامل نہیں ہوتے مجھے علی امین گنڈاپور کی فرسٹریشن اور غصے کا احساس ہے جبکہ وزیر اعلیٰ کا غصہ اور پریشانی اس لیے ہے کہ ڈیفیکٹو وزیراعلیٰ آ گئی ہیں جو کام اس نے پنجاب میں کیے وہی کام خیبرپختونخوا میں بھی کر رہی ہیں،پی ٹی آئی میں گڈ اوربیڈ کاسلسلہ شروع ہوگیا ہے, احتجاج کانقصان عوام کوہوتاہے،بات چیت کے ذریعے پی ٹی آئی کومعاملات حل کرنے چاہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کودعوت نہیں دی ان پابندی ہے وہ سیاسی جماعت بنیں توضروردعوت دیں گے، کرم کے حوالے سے ہم نے تمام جماعتوں کو دعوت دے رکھی ہے، جو اختیارات حیات شیرپاؤکے پاس تھے وہ آج میرے پاس نہیں ہیں، یہاں تو شناختی کارڈ بھی چیک کرنے کے لیے تیاربیٹھے ہیں جو ہتھیاران لوگوں کے پاس ہیں وہ پولیس کے پاس بھی نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جو کارروائیاں پنجاب میں کی گئیں وہ خیبرپختونخوا میں بھی کی جا رہی ہیں یقینی طور پر ان کی آپس میں لڑائیاں ہو رہی ہیں اور چور چوری کے وقت اکٹھے ہوتے ہیں مگر مال کی تقسیم میں لڑائی ہوتی ہے وزیر اعلیٰ کہتے ہیں بانی پی ٹی آئی کو ساتھ لیے بغیر نہیں جاؤں گا لیکن شاید وزیراعلیٰ نے بشریٰ بی بی کو بانی سمجھ لیا ہے کیوں کہ وہ انہیں لائے حسب عادت لائٹیں بند کر کے بھاگ گئے اور غریب عوام وہاں رہے جبکہ ان کا کبھی احتجاج میں کوئی لیڈر گرفتار نہیں ہوتا صرف کارکنان مار کھاتے ہیں۔

  • پشاور ہائیکورٹ،شبلی فراز،زرتاج گل،خدیجہ شاہ و دیگر کی ضمانت منظور

    پشاور ہائیکورٹ،شبلی فراز،زرتاج گل،خدیجہ شاہ و دیگر کی ضمانت منظور

    پشاورہائیکورٹ، پی ٹی آئی رہنماؤں شبلی فراز، روف حسن، زرتاج گل، نادیہ خٹک، خدیجہ شاہ داور کنڈی کی راہداری ضمانت درخواستوں کی سماعت ہوئی

    پشاور ہائیکورٹ نے شبلی فراز، روف حسن، زرتاج گل، خدیجہ شاہ کو راہدرای ضمانت دے دی، عدالت نے درخواست گزاروں کو متعلقہ عدالتوں میں پیش ہونے کی ہدایت کر دی،پشاور ہائیکورٹ نے شبلی فراز، زرتاج گل، روف حسن، خدیجہ شاہ، نادیہ خٹک، داور کنڈی کی 27 دسمبر تک راہداری ضمانت منظور کر لی، راہداری ضمانت کی درخواستوں کی سماعت جسٹس شکیل احمد نے کی،عدالت نے تمام درخواست گزاروں کو متعلقہ عدالتوں میں پیش ہونے کا حکم بھی دیا،جسٹس شکیل احمد نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ کا خیال رکھنا چاہیے، نقصان ملک کا ہو رہا ہے، عدالت نے تمام درخواست گزاروں کو 27 دسمبر تک راہداری ضمانت دے دی

    پشاور ہائیکورٹ پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے شبلی فراز کا کہنا تھا کہہمارے پارٹی کے لیڈرز اور کارکن پشاور ہائیکورٹ انصاف کیلئے آئے ہیں، خوش قسمتی سے ہمیں یہاں سے انصاف مل جاتا ہے،ہمارے لیڈر نے ہمیں پر تشدد واقعات میں ملوث ہونے کا نہیں کہا،ہمارے کارکن پرامن جہدوجہد کررہے تھے،ہمارے کارکنوں پر سنگین دفعات کے تحت پانچ پانچ پرچے درج کیے گئے، ملک کو چلانے کا یہ کوئی طریقہ نہیں، جوڈیشل انکوائری ہونی چاہیے تاکہ ذمے داروں کو سزا مل سکے، اگلے لائحہ عمل کا اعلان عمران خان ہی کریں گے، مشہور سیاسی جماعت کے ساتھ برا سلوک کیا جا رہا ہے، ہمارے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے، ایسے سلوک کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہوں گے، ہمارا قصور یہ تھا کہ ہم کے پی سے تھے، ایسے رویے سے فائدہ ان کا ہوتا ہے جو ملک کی بھلائی نہیں چاہتے، ملک کے لیے سیاسی استحکام چاہیے، سیاسی استحکام کے لیے زیادہ کوشش حکومت کو کرنی چاہیے۔

  • علی امین گنڈاپور کا قیام امن پر سکیورٹی اداروں کو سلام

    علی امین گنڈاپور کا قیام امن پر سکیورٹی اداروں کو سلام

    وزیر اعلیٰ خیبر پی کے علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے ملک کے جانوں کا نذرانہ پیش کیا، انہیں قیام امن میں کردار ادا کرنے پر سلام پیش کرتے ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہار نہیں ماننی بلکہ مقابلہ کرنا سیکھنا ہو گا اور ہار کی وجہ سے مایوسی ایمان کی کمزوری ہے۔ اوورسیز پاکستانی نوجوانوں کو تعلیم اور دیگر شعبوں میں تعاون فراہم کریں۔انہوں نے کہا کہ افغان بارڈر پر وہ اقدامات نہیں کیے گئے جوکرنا چاہیے تھے اور غلط پالیسیوں کے باعث خیبرپختونخوا کے حالات خراب ہیں، افغانستان کے ساتھ پاکستان کا طویل بارڈر ہے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے ملک کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام نے بھی قربانیاں دیں، سیکیورٹی فورسز کو قیام امن میں کردار ادا کرنے پر سلام پیش کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ حکومت نجی سیکٹر کے تعاون کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی اور تعلیم کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا، ڈگری انسان کو نہیں بناتی بلکہ محنت بناتی ہے.

    جنوبی کوریا میں صدر نے مارشل لاء نافذ کردیا

    پنجاب میں سرکاری ملازمین کیلئے پنشن میں اضافہ ختم

    حکومت کر لی، اب آرام سے جیل کاٹو، مریم نواز کا عمران خان کو مشورہ

    پاکستان کا سکیورٹی کونسل میں مسلم ممالک کی مستقل نشست کا مطالبہ

  • ججز کی تقرری پر غور کیلئے  جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب

    ججز کی تقرری پر غور کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے ججز کی تقرری پر غور کیلئے 14 دسمبر کو جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی: لاہور ہائیکورٹ کے ججز کیلئے نامزد 7 امیدواروں کے نام سامنے آگئے ہیں، امیدواروں میں ایڈووکیٹ صدیق اعوان، ایڈووکیٹ علی مسعود حیات، ایڈووکیٹ حسن نواز مخدوم، ایڈووکیٹ عامر عجم ملک، ایڈووکیٹ ضیاء الرحمان، ایڈووکیٹ جواد ظفر اور ایڈووکیٹ ملک محمد اویس خالد شامل ہیں۔

    جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 14 دسمبر دوپہر 12 بجے سپریم کورٹ کے کانفرنس روم میں منعقد ہوگا علاوہ ازیں، 6 دسمبر کو پشاور اور سندھ ہائی کورٹس میں ججز کی تقرری کے بارے بھی جوڈیشل کمیشن کا اجلاس شیڈول ہے، 6 دسمبر کے اجلاس میں جسٹس شاہد بلال کی آئینی بینچ میں شمولیت پر بھی غور کیا جائے گا۔

    پشاور ہائیکورٹ میں ججز کے امیدواروں کے نام بھی سامنے آگئے ہیں، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے تجویز کردہ 9 امیدواروں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کلیم ارشد، سیشن جج فرح جمشید، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج انعام اللہ خان، ایڈووکیٹ جنید انور، ایڈووکیٹ سید مدثر امیر، ایڈووکیٹ اورنگزیب، ایڈووکیٹ قاضی جواد احسان اللہ، ایڈووکیٹ صلاح الدین اور ایڈووکیٹ صادق علی شامل ہیں۔