Baaghi TV

Category: پشاور

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے جمعہ کا پبلک ڈے منسوخ کر دیا،

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے جمعہ کا پبلک ڈے منسوخ کر دیا،

    پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور نے جمعہ کے روز ہونے والے پبلک ڈے کو منسوخ کرتے ہوئے اپنے کارکنان اور عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر جلسے کی تیاری کریں۔ انہوں نے اس سلسلے میں ایک مختصر پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے واضح کیا کہ جمعہ کا دن عموماً عوامی ملاقات کے لیے مخصوص ہوتا ہے، لیکن اس جمعہ کو ملاقات نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلے جمعہ کو عوام سے ملاقات کی جائے گی۔گنڈاپور نے اپنے پیغام میں کارکنان کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور آنے کی زحمت نہ کریں اور جلسے کی تیاری پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا، "آپ سب کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ سی ایم ہاؤس پشاور آنے کی زحمت نہ کریں اور جلسے کے لیے تیاری کریں۔
    ایک مختصر میڈیا ٹاک کے دوران، وزیراعلیٰ نے 26 ویں آئینی ترمیم کو وفاقی حکومت کی من پسند ترمیم قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا، "پی ٹی آئی اس بار پورے پاکستان کو بند کرے گی۔ یہ حکومت آئین کو بار بار توڑ رہی ہے اور اس کے خلاف ہم مکمل بندوبست کر چکے ہیں۔پی ٹی آئی کے ذرائع کے مطابق، علی امین گنڈاپور نے پارٹی قائدین اور کارکنان کو 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف بھرپور احتجاج کے لیے تیاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ عمران خان سے جیل میں ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں، جہاں وہ احتجاج کے حوالے سے آگاہ کریں گے اور عمران خان کی ہدایت پر تاریخ کا اعلان کریں گے۔پارٹی قیادت نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ اسلام آباد میں احتجاج یا دھرنے کے لیے کارکنان کو نکالنا مشکل ہو گا۔ اس تناظر میں، علی امین گنڈاپور نے بڑے شہروں اور اضلاع میں ضلعی قیادت کی نگرانی میں احتجاج کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ذرائع کے مطابق، وزیراعلیٰ گنڈاپور احتجاج کے لیے تیاریوں کے حوالے سے پارٹی قیادت سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے پورے پاکستان میں بھرپور احتجاج کے لیے انتظامات کرنے کی ہدایت کی ہے اور کارکنان کو زیادہ سے زیادہ نکلنے کی ترغیب دی ہے۔

  • ضلع  خیبر میں 28 اکتوبر سے سات روزہ انسداد پولیو مہم کا آغازکیا جائے گا

    ضلع خیبر میں 28 اکتوبر سے سات روزہ انسداد پولیو مہم کا آغازکیا جائے گا

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی) ضلع خیبر میں سات روزہ انسداد پولیو مہم 28 اکتوبر سے شروع ہو رہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر خیبر کیپٹن (ر) ثناء اللہ خان اور ضلعی پولیس سربراہ رائے مظہر اقبال نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر مہم کا افتتاح کر دیا۔ اس مہم کے دوران پولیو ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں کو حفاظتی قطرے پلائیں گی۔

    ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) ثناء اللہ خان کی زیر صدارت انسداد پولیو کمیٹی کا اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس میں منعقد ہوا، جس میں ضلعی پولیس سربراہ رائے مظہر اقبال، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر احسان اللہ، محکمہ صحت کے ضلعی سربراہ ڈاکٹر ظفر علی خان، محکمہ تعلیم، عالمی ادارہ برائے صحت، پولیس اور دیگر اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں انسداد پولیو حکام نے مہم کے انتظامات، ٹیموں کی سیکیورٹی، والدین میں آگاہی اور انکاری والدین کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

    مہم کے دوران 945 پولیو ٹیمیں ضلع بھر میں دو لاکھ 8 ہزار سے زائد بچوں کو قطرے پلائیں گی۔ یہ مہم 3 نومبر تک جاری رہے گی۔ ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ محکمہ صحت کی ٹیموں سے تعاون کریں اور اپنے بچوں کو قطرے ضرور پلائیں تاکہ انہیں عمر بھر کی معذوری سے بچایا جا سکے اور ضلع خیبر کو پولیو سے پاک بنایا جا سکے۔

  • خیبر پختونخوا اسمبلی میں جانوروں کی فلاح و بہبود کا بل   2024 پاس

    خیبر پختونخوا اسمبلی میں جانوروں کی فلاح و بہبود کا بل 2024 پاس

    پشاور ، خیبر پختونخوا اسمبلی میں جانوروں کی فلاح و بہبود کا بل 2024 پاس کر لیا گیا ہے

    بل کے مطابق جانور پر زیادہ بوجھ ڈالنے ، تکلیف پہنچانے پر 3 ماہ تک قید یا 50 ہزار روپے جرمانہ کی تجویز دی گئی، جانوروں پر تشدد یا دوبارہ تکلیف پہنچانے پر سزا 6 ماہ، جرمانہ ایک لاکھ تک بڑھ سکتا ہے،ایکٹ کے تحت جرم کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ درجہ اول کرے گا ،جانوروں کو ذبح خانوں میں رحم دلی سے ذبح کیا جائے گا ، جانوروں کو تفریح کیلئے لڑانے پر بھی 3 ماہ قید کی سزا ہوگی،مستند یا لائسنس یافتہ ویٹرینیرین کے علاوہ کسی کو جانور کی سرجری کی اجازت نہیں ہوگی، جانوروں کے حقوق سے متعلق کوئی بات چھپانے پرمالک کو 10 ہزار جرمانہ یا 3 ماہ قید کی سزا تجویز کی گئی ہے

    یہ بل پشاور کی خیبر پختونخوا اسمبلی میں جانوروں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے ایک مثبت قدم ہے۔ اس میں جانوروں پر ظلم و تشدد کی روک تھام کے لیے سخت سزاؤں کا تعین کیا گیا ہے، جو کہ ایک اچھا اقدام ہے۔بل کے تحت جانوروں کے حقوق کی حفاظت کے لیے قوانین وضع کیے گئے ہیں، جیسے کہ جانوروں کو ذبح خانوں میں رحم دلی سے ذبح کرنا اور غیر مستند افراد کو جانوروں کی سرجری کرنے کی اجازت نہ دینا۔ یہ تمام نکات جانوروں کی بہبود کے لیے اہم ہیں اور ان کی فلاح و بہبود کو یقینی بناتے ہیں۔علاوہ ازیں، جانوروں کی لڑائی پر پابندی اور اس کے لیے سزا کا تعین کرنا بھی اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت جانوروں کے حقوق کے بارے میں سنجیدہ ہے۔ اگر یہ بل مؤثر طریقے سے نافذ کیا جائے تو یہ جانوروں کے لیے بہتر ماحول پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

  • خواجہ سرا ؤں کو بے حیائی پھیلانے پر "ذبح” کیا،گرفتار ملزمان کا اعتراف

    خواجہ سرا ؤں کو بے حیائی پھیلانے پر "ذبح” کیا،گرفتار ملزمان کا اعتراف

    خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں دو خواجہ سراؤں کو ذبح کرنے والے تین ملزمان کوپولیس نے گرفتار کر لیا ہے

    ڈی پی او مردان ظہور بابر آفریدی نے خواجہ سراؤں کے قاتلوں کی گرفتاری کے حوالہ سے میڈیا سے بات چیت کرتے تفصیلات سے آگاہ کیا ہے،ڈی پی او کا کہنا تھا کہ 21 اکتوبر کو 3 ملزمان نے 2 خواجہ سراؤں کو ان کے بالا خانے میں تیز دھار آلے سے قتل کر دیا تھا،ایک خواجہ سرا نے چھپ کر جان بچائی تھی، اسی خواجہ سر ا کی مدعیت میں پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا،اندران مقدمہ کے بعد پولیس نے تین ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے ملزمان کا تعلق کاٹلنگ سے ہے، ملزمان نے دوران تحقیقات پولیس کو بتایا کہ خواجہ سرا معاشرے میں بے حیائی پھیلا رہے تھے اس لئے انہیں قتل کیا،ملزمان نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا گیا ہے.

    واضح رہے کہ دو روز قبل مردان میں خواجہ سراؤں کی لاشیں ملی تھیں جن کی گردنیں کاٹی ہوئی تھیں اور انکو تیز دھار آلے سے ذبح کیا گیا تھا، عینی شاہد کے مطابق تین نامعلوم افراد نے بالا خانے آکر دروازوں کو بند کرکے دونوں خواجہ سراؤں کو چھری سے ذبح کیا اور بھاگ گئے، مرنے والے خواجہ سراؤں کی شناخت سلمیٰ اور نازوکہ کے طور پر ہوئی تھی،

    میہڑ:خواجہ سرا کے گھر سے چوری سرچ آپریشن کہ دوران پولیس پر فائرنگ

    خیبر پختونخوا میں خواجہ سراؤں کے لئے مفت قانونی اقدامات

    اوچ شریف: جعلی خواجہ سراؤں کا ڈانس پارٹی گروپ کے نام پر مبینہ طورشی میل اور لڑکیاں سپلائی کرنے کا انکشاف

    مس پرتگال مقابلہ حسن،خواجہ سرا نے جیتا مقابلہ

    میک اپ کے بغیر خاتون نے مقابلہ حسن جیت لیا

    خواجہ سراؤں نے بھی خود کو بطور ووٹرز رجسٹرڈ کرالیا

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    خیبرپختونخوا کے خواجہ سراوں کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل

    خواجہ سراؤں سمیت ڈانس،موسیقی اور ہوائی فائرنگ پر پابندی 

  • پشاور ہائیکورٹ کا عدالتوں، ججز کی سکیورٹی پر تفصیلی رپورٹ جمع کرنے کا حکم

    پشاور ہائیکورٹ کا عدالتوں، ججز کی سکیورٹی پر تفصیلی رپورٹ جمع کرنے کا حکم

    پشاور ہائیکورٹ نے عدالتوں اور ججز کی سکیورٹی سے متعلق درخواست پر صوبائی اور وفاقی حکومت سے جواب طلب کر لیا-

    باغی ٹی وی: پشاور ہائیکورٹ میں عدالتوں اور ججز کے سیکیورٹی سے متعلق کے پی بار کونسل کی درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس وقار احمد نے درخواست کی سماعت کی، ایڈووکیٹ جنرل کے پی اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔

    ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے کہاکہ عدالت نے سکیورٹی پر 6سوالات پوچھے تھے،آئی جی پی نے تفصیلی جواب جمع کرنے کیلئے 2دن مانگے ہیں،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایک کے بعد دوسرا واقعہ پیش آتا ہے،اب کیا کریں، ہم بندوقیں اٹھائیں کیا؟حکومت کو ججز کی سکیورٹی کا معاملہ سنجیدگی سے لینا ہوگا، وفاق بھی سنجیدگی سے غور کرے، یہ ان کا بھی کام ہے۔

    پشاور ہائیکورٹ نے عدالتوں، ججز کی سکیورٹی پر تفصیلی رپورٹ جمع کرنے کا حکم دیدیا،عدالت نے صوبائی اور وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 30اکتوبر تک ملتوی کردی۔

  • خیبرپختونخوا حکومت کا وزرا  اور مشیروں کی تنخواہوں اور مراعات کا ترمیمی بل 2024 اسمبلی میں پیش

    خیبرپختونخوا حکومت کا وزرا اور مشیروں کی تنخواہوں اور مراعات کا ترمیمی بل 2024 اسمبلی میں پیش

    پشاور:خیبرپختونخوا حکومت نے وزرا اور مشیروں کے مراعات میں مزید اضافے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : کے پی کے وزرا اور مشیروں کے مراعات میں مزید اضافے کے حوالے سے تنخواہوں اور مراعات کا ترمیمی بل 2024 اسمبلی میں پیش کردیا گیا ہے،صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کابینہ اراکین کو رہائش گاہ فراہم کرنے کی پابند ہے، حکومت میں آئے تو وزرا کے لئے صرف 7 گھر دستیاب تھے، وزیراعلیٰ نے قرعہ اندازی کے ذریعے وہ گھر تقسیم کئے۔

    انہوں نے کہا کہ نگران وزرا کو سرکاری گھر کی سہولت حاصل نہیں تھی، پہلے تزئین و آرائش کے لئے 5 لاکھ روپے مختص تھے جس میں سے تین ساڑھے تین لاکھ روپے دیئے جاتے تھے، تین لاکھ میں تو گھر کے لئے صرف پردے بھی نہیں آتے2014 سے ہاؤس رینٹ کی مد میں 70 ہزار روپے ملتے تھے، حکومت نے اس 70 ہزار کو صرف دو لاکھ کردیا ہے، 2 لاکھ میں کسی پوش علاقہ میں ایک اوسط گھر ہی مل سکتا ہے پنجاب حکومت نے وزرا کے لئے الگ رہائش گاہوں کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے، اس ایک ایک رہائش گاہ پر 50 کروڑ کی لاگت آئے گی، اس صوبے میں معمولی اضافہ پر واویلا نہ کیا جائے۔

    اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا کہ صوبے کے حالات کو دیکھتے ہوئے میں اپنی تمام مراعات نہ لینے کا اعلان کرتا ہوں، میں نے نہ کوئی سرکاری رہائش گاہ لی ہے اور نہ ہی کرایہ کی مد میں پیسے لوں گا۔

    واضح رہے کہ نئی ترامیم کے تحت وزراء کو سرکاری گھر میں تزئین و آرائش کیلئے ایک دفعہ 10 لاکھ دیئے جائیں گے، 10 لاکھ روپے کی اس تزئین و آرائش میں قالین، پردے، ائیر کنڈیشن اور ایک ریفریجریٹر شامل ہوگا سرکاری گھر نہ ہونے کی صورت میں وزیر کو کرائے پر گھر لینے کے لئے ماہانہ 2 لاکھ روپے دیے جائیں گے، کرائے کے گھر میں بھی وزرا تزئین و آرائش کیلئے ایک دفعہ 10 لاکھ روپے خرچ کرسکیں گے کوئی وزیر رہائش کیلئے اپنا ذاتی گھر استعمال میں لانے پر 2 لاکھ روپے کرایہ وصول کرسکے گا، لیکن سرکاری یا کرائے کی رہائش گاہ خالی کرنے پر ترئین و ارائش کی اشیاء واپس کرنی ہوں گی۔

  • آئینی ترمیم کو نہیں مانتے ،اس بار ہم پاکستان بلاک کریں گے،علی امین

    آئینی ترمیم کو نہیں مانتے ،اس بار ہم پاکستان بلاک کریں گے،علی امین

    پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخواعلی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ہم آئینی ترمیم کو نہیں مانتے اور اس کے خلاف احتجاج کریں گے۔

    باغی ٹی وی : پشاور میں عدالت میں پیشی کے موقع پر علی امین گنڈا پور نے کہا کہ آئینی ترمیم نہیں مانتے یہ آزاد عدلیہ پرحملہ ہے، من پسند لوگوں کولگاکرسسٹم پرقبضہ کیا جاتا ہے، آزاد عدلیہ پرحملہ ہوا، اس کی مذمت کرتے ہیں،یہ ثابت ہوگیا میرافیصلہ درست تھا،میں نے لوٹے پہچان لیےتھےمبارک زیب کو ٹکٹ نہ دینے کا فیصلہ میرا ٹھیک تھا، مبارک زیب نے بانی پی ٹی آئی کی تصویر لگا کر پارٹی کے ساتھ غداری کی، باجوڑ کے لوگوں کو بتا رہا ہوں کہ مبارک زیب نے آپ کا ووٹ نہیں آپ کا حق بیچا ہے، جنہوں نے عمران خان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ان کو پارٹی سے نکالیں گے، ووٹ بیچنے والوں کے نام سامنے آئے ہیں، آج شوکاز جاری کیا جائے گا، جو غدار ہے اس کی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں۔

    علی امین نے کہا کہ اس طرح کی ترامیم رات کی تاریکی میں ہی کی جاتی ہے،اس بار ہم پاکستان بلاک کریں گے، اس باراحتجاج کےلیے پورے پاکستان سے لوگ نکالیں گے نشست یا حلقہ اہم نہیں، نظریہ اہم ہوتاہے، ہمارااحتجاج حکومت سے جان چھڑانے تک جاری رہے گا ،پورے پاکستان سے لوگ اسلام آباد کی طرف بڑھیں گے۔

  • خیبر پختونخوا میں جانوروں سے انسانوں کو لگنے والی بیماریوں کے تدارک کے لیے قانون سازی کا فیصلہ

    خیبر پختونخوا میں جانوروں سے انسانوں کو لگنے والی بیماریوں کے تدارک کے لیے قانون سازی کا فیصلہ

    خیبر پختونخوا حکومت نے جانوروں سے انسانوں کو لگنے والی بیماریوں کے تدارک کے لیے قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد انسانی صحت کی حفاظت کے ساتھ ساتھ جانوروں کی صحت کو بھی یقینی بنانا ہے۔ صوبائی اسمبلی میں وزیر لائیو اسٹاک، فضل حکیم، نے جانوروں کی بیماریوں کے تدارک کے لیے ایک اہم بل ایوان میں پیش کیا۔ یہ بل متعدد محکموں کی منظوری کے بعد اسمبلی میں پیش کیا گیا، جو کہ ایک ہم آہنگی اور مشترکہ کوشش کا مظہر ہے۔بل کے مطابق، ایک 13 رکنی کمیٹی قائم کی جائے گی، جس کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل لائیو اسٹاک کریں گے۔ یہ کمیٹی جانوروں کی 16 بیماریوں کا جائزہ لے گی اور ان کے تدارک کے لیے مخصوص مقامات کا تعین کرے گی۔ کمیٹی کا مقصد یہ بھی ہوگا کہ وہ دیگر متعلقہ محکموں کو مرحلہ وار آگاہی فراہم کرے، تاکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
    مجوزہ بل میں واضح کیا گیا ہے کہ مختلف اضلاع اور علاقوں میں ویٹرنری آفیسرز تعینات کیے جائیں گے، جو بیمار جانوروں کی نگرانی کریں گے۔ ویٹرنری آفیسرز کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ بیمار جانوروں اور ان کے فارموں کو تحویل میں لے کر جرمانہ عائد کریں، اور بیمار جانوروں کے گوشت، دودھ اور دیگر مصنوعات کو تلف کر سکیں۔بل کے مطابق، ویٹرنری آفیسرز بیمار جانوروں کے مالکان پر 20 ہزار روپے تک کا جرمانہ عائد کر سکیں گے۔ اس اقدام کا مقصد جانوروں کی صحت کی حفاظت کے ساتھ ساتھ انسانی صحت کو بھی محفوظ بنانا ہے۔وزیر لائیو اسٹاک فضل حکیم نے اس قانون سازی کو ایک تاریخی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بل نہ صرف جانوروں کی صحت کی بہتری کے لیے اہم ہے، بلکہ اس سے انسانوں کی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی آگاہی اور تعاون کے بغیر یہ اقدامات مؤثر نہیں ہو سکتے، اور اس لیے عوام سے درخواست کی کہ وہ اپنے جانوروں کی صحت کے حوالے سے ہر ممکن احتیاط کریں۔یہ قانون سازی خیبر پختونخوا میں جانوروں اور انسانوں کی صحت کے تحفظ کے لیے ایک مثبت قدم ہے، جو کہ نہ صرف موجودہ صورتحال کو بہتر بنائے گی بلکہ مستقبل میں بیماریوں کے پھیلاؤ کو بھی روکے گی۔

  • خیبر پختونخوا حکومت کا پولیس ترمیمی بل 2024 پر فیصلہ تبدیل

    خیبر پختونخوا حکومت کا پولیس ترمیمی بل 2024 پر فیصلہ تبدیل

    خیبر پختونخوا حکومت نے پولیس ترمیمی بل 2024 پر فیصلہ تبدیل کر لیا ہے۔ 16 اکتوبر کو پیش کیا گیا یہ بل پانچ روز بعد واپس لے لیا گیا اور اس کی جگہ ترمیم شدہ بل ایوان سے منظور کیا گیا۔پولیس ترمیمی بل 2024 کے مطابق، پولیس میں تعیناتیاں اور تبادلے خیبر پختونخوا حکومت کے قواعد وضوابط 1985 کے تحت ہونے تھے۔ مجوزہ بل میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ آئی جی پولیس اپنی مرضی سے ڈی پی اوز کی تعیناتی نہیں کرسکتے تھے۔ اگر وزیر اعلیٰ چاہتے، تو وہ تعیناتیوں اور تبادلوں کے حوالے سے اپنے اختیارات آئی جی کو تفویض کرسکتے تھے۔بل کے تحت گریڈ 17 اور گریڈ 18 کے افسران کی تعیناتی اور تبادلے کا اختیار آئی جی کے پاس دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ، ایک انڈیپینڈنٹ پولیس کمپلینٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لانے کی تجویز دی گئی تھی، جسے پولیس افسران کو سزائیں دینے کا اختیار دیا جانا تھا۔ یہ اتھارٹی چھ ممبران پر مشتمل ہونا تھی۔

    مجوزہ بل کے تحت گریڈ 18 سے اوپر کے پولیس افسران کی تعیناتیوں اور تبادلوں کا اختیار وزیراعلیٰ کے پاس تھا۔ تاہم، خیبر پختونخوا حکومت نے پولیس کے تحفظات کو مسترد کرتے ہوئے یہ بل واپس لینے کا فیصلہ کیا۔یہ پیشرفت صوبے میں پولیس کے نظام کی اصلاحات کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس بل میں پولیس افسران کی تعیناتیوں میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے کئی اقدامات تجویز کیے گئے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس ترمیم شدہ بل کے ذریعے پولیس اصلاحات کے عمل کو کس طرح آگے بڑھائے گی۔حکومت کے اس اقدام سے صوبے کے عوام میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے، اور مختلف سیاسی جماعتوں نے اس بل کی واپسی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے بلوں کی بار بار واپسی سے پولیس کے نظام میں تبدیلیوں کی رفتار سست ہو سکتی ہے، جبکہ دوسرے کہتے ہیں کہ حکومت کو پولیس کی کارکردگی اور شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

  • پشاور: اپٹا نے 5 نومبر کے دھرنے کی توثیق کر دی، 26 ہزار اسکول بند کرنے کا اعلان

    پشاور: اپٹا نے 5 نومبر کے دھرنے کی توثیق کر دی، 26 ہزار اسکول بند کرنے کا اعلان

    پشاور (باغی ٹی وی رپورٹ) آل پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن (اپٹا) خیبر پختونخوا کے صوبائی کونسل کا اجلاس پشاور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت صوبائی صدر عزیزاللہ خان نے کی۔ اجلاس میں خواتین اساتذہ سمیت تمام ضلعی صدور اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔

    اجلاس میں متفقہ طور پر 5 نومبر کو جناح پارک پشاور میں احتجاجی دھرنے کی تاریخ کی توثیق کی گئی۔ دھرنا اساتذہ کی آپ گریڈیشن کے نوٹیفکیشن، 13,500 اساتذہ کی ریگولرائزیشن، جبری پروموشنز کی بحالی اور پرائمری اسکولوں کی نجکاری روکنے کے مطالبات کے حق میں ہوگا۔

    عزیزاللہ خان نے کہا کہ یہ دھرنا ایک نئی تاریخ رقم کرے گا اور غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا۔ اگر مسائل حل نہ کیے گئے تو 5 نومبر سے 26 ہزار پرائمری اسکول بند کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے چاہتے ہیں تاہم اساتذہ اپنے حقوق کے لیے بھرپور طاقت کے ساتھ میدان میں آئیں گے۔

    دھرنا 5 نومبر کو دوپہر 1 بجے جناح پارک پشاور میں شروع ہوگا۔