Baaghi TV

Category: پشاور

  • خیبر کےکوکی خیل قبیلے کا دھرنا اور مارچ ختم کرنے کا اعلان

    خیبر کےکوکی خیل قبیلے کا دھرنا اور مارچ ختم کرنے کا اعلان

    پشاور: خیبر کےکوکی خیل قبیلے نے دھرنا اور مارچ ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے ضلع خیبر کےکوکی خیل قبیلے کے عمائدین پر مشتمل جرگے نے ملاقات کی، جس میں ایم این اے اقبال آفریدی، ایم پی ایز سہیل آفریدی اور عبدالغنی آفریدی کے علاوہ کمشنر پشاور اور ڈپٹی کمشنر خیبر نے شرکت کی۔

    ملاقات میں کوکی خیل قوم کے عارضی بے گھر افراد کی اپنے علاقوں کو واپسی کے مسئلے پر طویل مشاورت ہوئی شرکا نے کلیئر ہوجا نے والے علاقہ کے لوگوں کی واپسی کے لیے رجسٹریشن کا عمل فوری شروع کرنے پر اتفاق کیا جبکہ باقی ماندہ لوگوں کی واپسی کے لئے متعلقہ اداروں کے ساتھ اگلے ہفتے اجلاس منعقد کرکے واپسی کا لائحہ عمل اور ٹائم لائن طے کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    آئی سی سی ٹیسٹ پلیئرز کی رینکنگ جاری،بابراعظم کی ایک درجہ …

    وزیر اعلیٰ کی یقین دہانی پر جرگے نے تیراہ کی طرف بے گھر افراد کے کل مجوزہ مارچ کو کینسل کرنے کا اعلان کیا جرگے نے 75 دنوں سے طورخم شاہراہ پر جاری دھرنا بھی ختم کرنے کا اعلان کردیاجرگے نے بے گھر افراد کی واپسی کا لائحہ عمل طے کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے 11 اکتوبر کا مسئلہ پُرامن انداز میں حل کرنے پر وزیر اعلیٰ کے قائدانہ کردار کو خراج تحسین پیش کیا۔

    جرگہ عمائدین نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے انتہائی دانشمندی اور اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے لوگوں کو خون خرابے سے بچالیا، وزیر اعلیٰ نے جس احسن طریقے سے 11 اکتوبر اور بنوں کا معاملہ حل کیا وہ ہمارا مسئلہ بھی ضرور حل کریں گے، ہمیں ان پر مکمل اعتماد ہے۔

    ملک میں سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    علی امین گنڈاپور نے کہا کہ مسئلے کے حل کے لئے مجھ پر اعتماد کرنے پر کوکی خیل کے عمائدین کا مشکور ہوں، میں ان کے اعتماد پر پورا اترنے کی بھر پور کوشش کروں گا اگلے ہفتے متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ اجلاس منعقد کرکے بے گھر افراد کی بحالی کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا،وزیر اعلی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ان بے گھر افراد کی واپسی اور دوبارہ آبادکاری کے لئے درکار سامان کی خریداری اور دیگر لوازمات کا عمل شروع کیا جائے۔

  • خیبر سپورٹس فیسٹیول 2024 کا شاندار اختتام،کھلاڑیوں میں انعامات بھی تقسیم

    خیبر سپورٹس فیسٹیول 2024 کا شاندار اختتام،کھلاڑیوں میں انعامات بھی تقسیم

    جمرود(باغی ٹی وی رپورٹ) محکمہ کھیل خیبرپختونخوا اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے منعقد ہونے والا خیبر سپورٹس فیسٹیول 2024 اختتام پذیر ہوگیا۔ اختتامی تقریب اور انعامات کی تقسیم کی شاندار تقریب جمرود سپورٹس کمپلیکس میں منعقد ہوئی، جس میں کھلاڑیوں اور شائقین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل خیبر، احسان اللہ مہمان خصوصی تھے۔ تقریب میں اسسٹنٹ کمشنر جمرود ڈاکٹر عامر زیب، صوبائی وزیر سی اینڈ ڈبلیو کے فوکل پرسن نوید آفریدی، ڈی ایس او راہد گل ملاگوری، اور ایڈیشنل ایس ایچ او غفار خان سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ شخصیات بھی موجود تھیں۔

    اختتامی تقریب کے دوران زیڈ ایس کلب اور اسٹار کلب کے درمیان فٹبال کا فائنل میچ بھی کھیلا گیا۔ مقابلہ انتہائی سنسنی خیز رہا اور پینلٹی ککس کے ذریعے زیڈ ایس کلب نے اسٹار کلب کو شکست دے کر فتح اپنے نام کی۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل احسان اللہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 10 اکتوبر سے ضلع خیبر کے تینوں تحصیلوں جمرود، باڑہ، لنڈی کوتل اور ملاگوری میں مختلف کھیلوں کے مقابلے کامیابی کے ساتھ منعقد کیے گئے۔ ان مقابلوں میں کرکٹ، فٹبال، اور والی بال کے کھیل شامل تھے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ خیبر سپورٹس فیسٹیول کا مقصد نوجوانوں کو مثبت تفریح اور کھیل کے مواقع فراہم کرنا تھا تاکہ ان کے ٹیلنٹ کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا، "ضلع خیبر کھیلوں کے لحاظ سے زرخیز خطہ ہے، اور یہاں کے کئی کھلاڑیوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کیا ہے۔”

    احسان اللہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ کھیل خیبر کے ساتھ مل کر آئندہ بھی ایسے ایونٹس منعقد کیے جائیں گے تاکہ نوجوانوں کو مزید مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

    تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی نے تینوں تحصیلوں کے مختلف فائنل مقابلوں کے ونرز اور رنرز اپ ٹیموں میں ٹرافیاں اور نقد انعامات تقسیم کیے۔

  • جعلی حکمران علی گنڈاپور سے عوامی مسائل حل کرنا سیکھیں،بیرسٹر سیف

    جعلی حکمران علی گنڈاپور سے عوامی مسائل حل کرنا سیکھیں،بیرسٹر سیف

    پشاور: مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ جعلی فارم 47 والی حکومت کے پاس نہ سیاسی بصیرت ہے، نہ مسائل حل کرنے کی اہلیت-

    باغی ٹی وی : مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی مخلص قیادت میں جمرود جرگہ بطریق احسن منعقد ہوا، وزیراعلیٰ نے سیاسی اتفاق رائے قائم کیا جب کہ وفاقی حکومت نے انتشار پھیلایاوزیراعلیٰ نے حقیقی لیڈر کا کردار نبھاکر صوبے اور ملک کو ایک بحرانی کیفیت سے نکالا۔

    بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ جمرود جرگے کے پر امن انعقاد پر وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ایک مخلص لیڈر کی طرح علی امین نے اپنے مخالفین کو بھی ساتھ بٹھایا عوامی نمائندے ہی عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کا ہنر جانتے ہیں، جعلی فارم 47 والی حکومت کے پاس نہ سیاسی بصیرت ہے، نہ مسائل حل کرنے کی اہلیت۔

    شہر جہاں ہر دوسری عورت جڑواں بچے پیدا کرتی ہے

    مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا نے کہا کہ جو وفاقی وزیر وزیراعلیٰ کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہے تھے، وزیر اعلیٰ نے انہی کے ذریعے جرگے کا مسئلہ حل کرایا شریف خاندان نے ماڈل ٹاؤن کے ایک چھوٹے سے مسئلے میں حاملہ خواتین تک کی جانیں لی تھیں پنجاب میں پرامن احتجاج پر لاٹھیاں اور گولیاں برسانا معمول بن چکا ہے فارم 47 کے لیڈرز گولی اور لاٹھی سے مسائل کو مزید گھمبیر بنانے کے ماہر ہیں وفاق اور پنجاب کے جعلی حکمران علی امین گنڈا پور سے عوامی مسائل کا حل نکالنا سیکھیں۔

    ایس سی او کانفرنس:ٹریفک پلان جاری

  • وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا  یو ٹرن ، عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر مارچ کی دھمکی

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا یو ٹرن ، عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر مارچ کی دھمکی

    پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے اعلان کیا ہے کہ وہ کل اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج میں ضرور شرکت کریں گے۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ان کی اسلام آباد جانے کی بنیادی وجہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی صحت کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش ہے۔علی امین گنڈاپور نے کہا، "عمران خان کی صحت کے حوالے سے ہماری تشویش جائز ہے، اور اسی تشویش کے پیش نظر ہم اسلام آباد جارہے ہیں۔” انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ پورا ہو جائے گا۔وزیراعلیٰ نے مزید وضاحت کی کہ وہ حالیہ جرگے کی مصروفیات کے باعث پارٹی کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں شریک نہ ہوسکے، لیکن وہ پارٹی کے ہر فیصلے کو قبول کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "کچھ لوگوں کی جانب سے بیٹھ کر بیانیہ بنایا جاتا ہے، لیکن ہم تمام فیصلے پارٹی قیادت کے ساتھ مکمل ہم آہنگی سے کریں گے۔علی امین گنڈاپور نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دے کر تحریک انصاف کو احتجاج پر مجبور کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان سے ان کی بہن، ڈاکٹرز، یا پارٹی قائدین کی ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر انہیں اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔
    قبل ازیں پشاور میں وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگر عمران خان سے ملاقات نہ کرائی گئی تو 15 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کیا جائے گا۔ اجلاس میں تحریک انصاف کے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی سمیت دیگر قائدین نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے انتظامات اور تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت یقینی بنانے کے لیے حکمت عملی کو حتمی شکل دی گئی۔ اس مقصد کے لیے پارٹی قائدین اور منتخب عوامی نمائندوں کو مختلف ذمہ داریاں بھی سونپی گئیں۔
    دوسری جانب وفاقی حکومت نے اس احتجاج کے حوالے سے سکیورٹی خدشات کا اظہار کیا ہے۔ وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے اسلام آباد کے چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد کو مراسلہ ارسال کیا گیا ہے جس میں 15 اکتوبر کو ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کے دوران فول پروف سکیورٹی انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔وزارت داخلہ نے واضح کیا ہے کہ "اسلام آباد کی حدود میں کسی غیر قانونی اجتماع کی اجازت نہیں ہوگی۔” وزارت داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ ایس سی او اجلاس کے موقع پر کوئی احتجاج یا لاک ڈاؤن نہیں ہوسکتا، اور اس کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
    اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال کشیدہ ہوتی جارہی ہے۔ وفاقی حکومت نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اہم اجلاس کے دوران کسی بھی ممکنہ رکاوٹ یا ہنگامہ آرائی کے خدشے کے پیش نظر سخت سکیورٹی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنان کی جانب سے دی گئی دھمکیوں کے بعد حکومت کو سکیورٹی کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔

  • پاراچنار: قبائلی تصادم میں 18 افراد جاں بحق، ٹل پاراچنار روڈ تیسرے روز بھی بند

    پاراچنار: قبائلی تصادم میں 18 افراد جاں بحق، ٹل پاراچنار روڈ تیسرے روز بھی بند

    پاراچنار میں قبائلی تصادم کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 18 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ تصادم سے علاقے میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ واقعہ کنوائی کے مقام پر پیش آیا جہاں دو قبائل کے مابین فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔فائرنگ کا واقعہ گزشتہ روز پیش آیا، اور اب تک پولیس کے مطابق 18 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ میں ملوث 30 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس نے واقعے کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ امن و امان کی بحالی کے لیے مکمل آپریشن کیا جا رہا ہے تاکہ علاقے میں دوبارہ پرتشدد واقعات سے بچا جا سکے۔
    ضلعی انتظامیہ کے مطابق اس فائرنگ کے بعد سے ٹل پاراچنار مین روڈ تیسرے روز بھی مکمل طور پر بند ہے، جس سے لوگوں کی آمد و رفت میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ اس سڑک کی بندش سے نہ صرف مقامی شہری بلکہ علاقے کے دیگر افراد بھی متاثر ہو رہے ہیں جو اس سڑک پر سفر کرتے ہیں۔ڈپٹی کمشنر جاویداللہ محسود کے مطابق فائرنگ کا آغاز کنج علیزئی پہاڑی علاقے سے ہوا، جہاں دونوں قبائل کے درمیان پہلے سے چلی آنے والی دشمنی نے ایک بار پھر پرتشدد رخ اختیار کیا۔ فائرنگ میں پانچ افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں مقامی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ زخمیوں میں سے کچھ کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
    واضح رہے کہ دو روز قبل بھی ضلع کرم میں دو قبائل کے درمیان مسلح جھڑپ ہوئی تھی جس میں 15 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اس مسلسل تصادم نے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیلایا ہوا ہے اور مقامی افراد اپنے گھروں تک محدود ہو چکے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے علاقے میں امن و امان کی بحالی کے لیے اضافی سیکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں تاکہ مزید جانی نقصان کو روکا جا سکے۔پولیس اور مقامی حکام کی جانب سے فریقین کے مابین مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں، تاہم ابھی تک کوئی کامیاب حل سامنے نہیں آیا ہے۔ علاقے میں حالات تاحال کشیدہ ہیں اور فائرنگ کے مزید واقعات کے خدشے کے پیش نظر انتظامیہ ہنگامی صورتحال کے لیے تیار ہے۔

  • کے پی پولیس افسران کا  اختیارات بیوروکریسی کے پاس جانے پر اظہار تشویش

    کے پی پولیس افسران کا اختیارات بیوروکریسی کے پاس جانے پر اظہار تشویش

    پشاور: خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ میں ترامیم کی منظوری کے معاملے پر سینئر پولیس افسران نے ہنگامی اجلاس منعقد کیا –

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق سینئرپولیس افسران کا پولیس ایکٹ ترامیم کے خلاف پولیس لائنز پشاور میں ہنگامی اجلاس ہوا،جس میں سینئر پولیس افسران کے تحفظات پر بحث کرتے ہوئے کہا گیا کہ پولیس ایکٹ ترامیم منظوری کے لیے آئی جی پولیس کو اعتماد میں لیے بغیر کابینہ اجلاس میں پیش کیا گیا اجلاس میں پولیس کا اختیار بیوروکریسی کے پاس چلے جانے پر تشویش کا اظہار کیا گیاایکٹ میں ترمیم سے محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت ہوگی ایکٹ پر غور کے لیے حکومتی اپوزیشن اور پولیس افسران پر مشتمل کمیٹی بنانے پر بھی غور ہوا۔

    اجلاس کے بعد سینئر پولیس افسران نے اسپیکر کے پی اسمبلی بابر سلیم سواتی سے اسپیکر ہاؤس میں ملاقات کرکے پولیس ایکٹ میں ترامیم پر تحفظات سے آگاہ کیا سینئر پولیس افسران نے پولیس پوسٹنگ، ٹرانسفرز کے اختیارات بیوروکریسی کو دینے پر تحفظات ظاہرکیے تاہم وزیر اعلیٰ اور کابینہ کو اختیار ملنے پر کسی نے اعتراض نہ کیا۔

    سینئر افسران نے تحفظات پیش کیے کہ بیورو کریسی کو اختیار ملنے سے پولیس کا مورال ڈاؤن ہوگا انہوں نے اسپیکر کو آگاہ کیا کہ بیوروکریسی کو اختیار دینا سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف ہے اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے پولیس افسران کو مسئلے پر غور کرنے کی یقین دھانی کرائی ہے۔

    دوسری جانب ایکٹ کی منظوری پر چند پولیس افسران نے طویل چھٹی لینے کی تیاری بھی شروع کرلی ہے۔

  • پی ٹی ایم کا پختون جرگہ ناکام،نوجوانوں نے منظور پشتین کو مسترد کر دیا

    پی ٹی ایم کا پختون جرگہ ناکام،نوجوانوں نے منظور پشتین کو مسترد کر دیا

    پختون جرگہ، ناکامی سے دو چار ہو گیا

    غیور پشتونوں نے نسلی اور لسانی سوچ کے حامل منظور پشتین کے پشتون جرگہ کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔ معتبر ذرائع کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پنڈال میں صرف 4000-4500 افراد موجود ہیں جن میں سے زیادہ تر اے این پی، جے یو آئی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے حامی ہیں جن کے ساتھ پشتین کے ساتھیوں کی تعداد آٹے میں نمک کے مطابق ہے. منظور پشتین عوامی بائیکاٹ کو دیکھ کر پریشان ہے۔ اتنے شور شرابے اور مہم جوئی کے باوجود خبیرپختونخوا کی آبادی کا صرف 0.0001 فیصد حصہ ‘پختون جرگہ’  کا حصہ ہے. یہ صورتحال واضح ظاہر کرتی ہے کہ منظور پشتین کو قابل فخر پشتون نے سختی سے مسترد کر دیا ہے. جو اس بات کی دلیل ہے کہ غیور  اور محب الوطن پاکستانی پشتنوں افغانستان کے تابع نہیں ہیں،پختون عوام اور نوجوان آگاہ ہیں کہ انکے مسائل کا حل صرف دہشتگردی کے خاتمے اور صوبے کی ترقی میں ہے جبکہ پی ٹی ایم نے آج تک نا ہی کوئی سکول بنائے اور نا ہی کوئی ڈیولپمنٹ پراجیکٹس کئے،قبائل اور خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کا دشمن منظور پشتین پی ٹی ایم ہیں

    پی ٹی ایم جرگے میں پاک فوج کے خلاف اور اسرائیلی فوج کے حق میں نعرے بازی،اب پی ٹی ایم کی سمجھ آئی؟
    ‏پشتون تخفظ موومنٹ کے جلسوں میں "پاک فوج مردہ باد” اور "اسرائیل آرمی زندہ باد” کے نعرے لگائے گئے، ‏چاہے عمران خان ہو، یا ماہرنگ لانگو ہو یا منظور پشتین ہو، سب کا مالک ایک ہی ہے۔‏اسرائیل کا مقصد دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی ریاست کو کمزور کرنا ہے اور یہ سب انکے ملازم اور نوکر ہیں،پی ٹی ایم پر پابندی عائد ہو چکی ہے اور پی ٹی ایم کے جلسے میں پاک فوج کے خلاف نعرے لگانا پی ٹی ایم کی پرانی مذموم روایت ہے، پی ٹی ایم کا ایجنڈہ ہے ملک دشمنی پر مبنی ہے، فتنہ الخوارج کے ساتھ بھی پی ٹی ایم رابطے میں ہے.

    پی ٹی ایم کا لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کے الزامات، فتنه الخوارج اورپی ٹی ایم ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور دونوں کا مقصد ریاست کے خلاف پروپیگنڈا کرنا ہے۔پی ٹی ایم جھوٹے اعدادوشمار کے ذریعے لاپتہ افراد کا مسئلہ بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگاتا ہے۔سیکورٹی فورسز کے آپریشنز میں مارے گئے دہشت گردوں کو لاپتہ افراد میں شمار کیا جا رہا ہے۔سیکورٹی فورسز کی انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں درستگی پر مبنی ہوتی ہیں اور ان کارروائیوں میں کوئی بے گناہ ہلاک نہیں ہوا۔فتنه الخوارج کی جانب سے سماجی اجتماعات کو نشانہ بنانے کے بعد مرنے والے افراد کو بھی لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل کیا جاتا ہے۔

    کالعدم فتنتہ الخوارج اور پی ٹی ایم کارندے کی ہوشربا کال منظر عام

    خیبرپختونخوا حکومت کا کالعدم پی ٹی ایم کی سرگرمیوں پر سخت پابندی کا اعلان

    پی ٹی ایم کے ساتھ بیٹھنے والوں کے شناختی کارڈ بلاک ہوں گے، محسن نقوی

    پشاور ہائی کورٹ اور خیبر ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے: کالعدم پی ٹی ایم سے متعلق پٹیشنز

    کالعدم پی ٹی ایم جرگہ،ٔپولیس کا دھاوا،متعدد گرفتار

    خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین پر پی ٹی ایم کے جلسے میں شرکت کی پابندی: نوٹیفکیشن جاری

    عطا تارڑ کا پی ٹی ایم پر کالعدم تنظیموں سے روابط کا الزام

    ملک دشمن تنظیم پی ٹی ایم کی حمایت میں فتنہ الخوارج سامنے آ گیا

  • ضلع کرم میں کشیدگی،فائرنگ سے خواتین سمیت 11 کی موت

    ضلع کرم میں کشیدگی،فائرنگ سے خواتین سمیت 11 کی موت

    ضلع کرم : کنج علیزئی پہاڑوں اور ٹل پاراچنار روڈ میں فائرنگ سے 11 افراد جاں بحق 6 زخمی ہو گئے ہیں

    خیبرپختونخوا کے ضلع کرم کے علاقے کنج علی زئی کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے مسافر گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں خواتین سمیت 11 افراد جانبحق ہوگئے ہیں،ڈپٹی کمشنر جاویداللہ محسود کے مطابق فائرنگ کی واقعات کی تحقیقات کی جارہی ہیں، پولیس ذرائع کے مطابق صبح مقبل قبائل کی جانب سے طوری قبائل پر فائرنگ کے واقعے کے بعد ضلع بھر میں حالات کشیدہ ہوگئے تھے، ضلع بھرمیں آمدورفت کے راستے محفوظ بنانے اور حالات معمول پر لانے کے لئے اقدامات اٹھارہے ہیں، علاقے میں پولیس و سیکیوریٹی فورسز کی نفری پہنچ گئی ہے۔

    خلیل الرحمان قمر کو تھپڑ کس نے مارا،خاتون اینکر سے غیر اخلاقی حرکت

    میں نے خلیل الرحمان قمر کو ہنی ٹریپ نہیں کیا،آمنہ کی درخواست ضمانت دائر

    خلیل الرحما ن قمر کیس،آمنہ عروج کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد، جیل بھجوا دیا گیا

    نازیبا ویڈیو”لیک” ہونے سے میری ساکھ کو نقصان پہنچا،خلیل الرحمان قمر کا دعویٰ

    خلیل الرحمان قمر کو زنا کے جرم میں کیوں نہیں پکڑا جارہا؟صارفین برہم

    خلیل الرحمان قمر کی ایک اور "ویڈیو "آنے والی ہے

  • جس نے میری وفات کا پروپیگنڈہ کیا،اللہ کرے اسکا لیڈرکینسر سے مرے،پرویز خٹک

    جس نے میری وفات کا پروپیگنڈہ کیا،اللہ کرے اسکا لیڈرکینسر سے مرے،پرویز خٹک

    سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی وفات کی خبریں سوشل میڈیا پر اچانک وائرل ہو گئی ہیں

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پرویز خٹک کی وفات کی خبریں سامنے آئی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ سابق وزیراعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک انتقال کر گۓ، پرویز خٹک کافی عرصے سے کینسر کی مرض میں مبتلا تھے،پرویز خٹک چار دنوں سے اسلام آباد میں نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے،پرویز خٹک وزیراعلی،وزیر دفاع رہ چکےہیں، تا ہم ان خبروں کی حقیقت اس وقت سامنے آئی جب پرویز خٹک کی جانب سے ایک آڈیو بیان سامنے آیا، صحافی کامران علی نے پرویز خٹک کا آڈیو بیان ایکس پر پوسٹ کیا جس میں وہ پشتو زبان میں بول رہے ہیں، کامران علی نے پرویز خٹک کے پشتو بیان کا ترجمہ لکھتے ہوئے کہا کہ جس نے میرے انتقال کا پروپیگنڈہ کیا، اللہ کرے ان کے لیڈر کو کینسر ہوجائے اور اس سے مر جائے، سابق وزیر اعلی خبیر پختونخوا پرویز خٹک نے انتقال کی فیک خبر پر آڈیو پیغام جاری کردیا

  • گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے نئے صوبائی وزیر اور مشیر کی تعیناتی کی منظوری

    گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے نئے صوبائی وزیر اور مشیر کی تعیناتی کی منظوری

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی جانب سے بھیجی گئی سمری کی منظوری دے دی ہے، جس میں صوبائی اسمبلی کے رکن سید فخر جہاں کو صوبائی وزیر بنانے اور بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمد مصدق عباسی کو وزیر اعلیٰ کا مشیر مقرر کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔سمری کی منظوری کے بعد گورنر خیبر پختونخوا نے دستاویز پر دستخط کر کے اسے واپس بھیج دیا ہے، جس کے نتیجے میں اب سید فخر جہاں کو باقاعدہ طور پر صوبائی کابینہ میں شامل کر لیا جائے گا اور محمد مصدق عباسی کی بطور مشیر تعیناتی کا عمل بھی مکمل ہو جائے گا۔
    گورنر فیصل کریم کنڈی نے سمری پر دستخط کرتے ہوئے اہم ریمارکس دیے ہیں، جن میں انہوں نے زور دیا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی نئے مشیر کی تعیناتی کے حوالے سے سمری اس وقت تک ارسال نہ کی جائے جب تک کہ پہلے سے تعینات مشیر کو ڈی نوٹیفائی نہیں کیا جاتا۔ اس ہدایت کا مقصد کابینہ کی مشاورت کے عمل کو بہتر اور منظم طریقے سے انجام دینا ہے تاکہ تعیناتیوں کے دوران کوئی قانونی پیچیدگیاں پیدا نہ ہوں۔یہ پیش رفت صوبے کی سیاسی سرگرمیوں میں ایک اہم تبدیلی سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ سید فخر جہاں کی بطور صوبائی وزیر شمولیت سے کابینہ میں ایک نیا چہرہ شامل ہو جائے گا۔ دوسری جانب بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) مصدق عباسی کی بطور مشیر تقرری صوبائی حکومت کی انتظامی ٹیم کو مزید مضبوطی فراہم کرے گی، جو ان کے تجربے اور فوجی پس منظر کی بنا پر صوبائی معاملات میں ایک نئی حکمت عملی کو فروغ دے سکتی ہے۔گورنر کی اس منظوری کے بعد خیبر پختونخوا میں سیاسی اور انتظامی سرگرمیوں میں مزید تیزی آنے کی توقع ہے، اور عوامی حلقے نئی کابینہ کے فیصلوں اور اقدامات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔