Baaghi TV

Category: پشاور

  • کے پی حکومت کا پولیس کے حوالے سے بڑا فیصلہ

    کے پی حکومت کا پولیس کے حوالے سے بڑا فیصلہ

    پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے پولیس کے اختیارات میں کمی کا فیصلہ کرلیا-

    باغی ٹی وی :خیبر پختونخوا حکومت پولیس ایکٹ میں ترامیم لا کر پولیس کے اختیارات میں کمی لا رہی ہے جو 2017 میں پرویز خٹک دور حکومت میں تفویض کیے گئے تھے خیبر پختونخوا کے آج ہونے والے کابینہ اجلاس میں ترامیم کی منظوری دی جائے گی، جسے آج ہی اسمبلی میں پیش کرنے کی توقع ہے۔

    خیبر پختونخوا کے آج ہونے والے کابینہ اجلاس میں پولیس ایکٹ میں ترامیم ایجنڈے میں شامل ہیں، ترامیم کی منظوری سے خیبر پختونخوا میں آئی جی پی سے اعلیٰ پولیس افسران کی تقرری و تبادلوں اور ان کو جزا و سزا دینے کا اختیار واپس لے لیا جائے گا جو کہ 2017 میں پرویز خٹک دور حکومت میں دیا گیا تھا، ترامیم کی منظوری سے یہ اختیارات واپس وزیر اعلی کے پاس چلے جائیں گے ۔

    سولہ نکاتی کابینہ ایجنڈے میں صوبائی زکوہ کونسل کی تشکیل، اسلحہ لائسنس ایکٹ اور لاء افسروں کی تقرری ایکٹ میں بھی ترامیم زیر غور آئیں گی،کابینہ خیبر پختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ ایکٹ میں ترامیم کی منظوری بھی دے گی، جیلوں میں خوراک کی فراہمی اورتوانائی کے 5 منصوبوں کی منظوری بھی ایجنڈے کا حصہ ہے جبکہ صوبائی کابینہ اجلاس میں دیگر اہم امور کی منظوری بھی شامل ہیں۔

  • خیبر پختونخوا میں برآمدات پر 2% سیس کا بوجھ برآمداتی عمل معطل، تاجروں کی ہڑتال کی دھمکی

    خیبر پختونخوا میں برآمدات پر 2% سیس کا بوجھ برآمداتی عمل معطل، تاجروں کی ہڑتال کی دھمکی

    پشاور(باغی ٹی وی رپورٹ) سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فضل مقیم خان نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے برآمدات پر 2 فیصد سیس کے نفاذ کے بعد صوبے سے برآمدات کے مکمل رکنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے نے نہ صرف ایکسپورٹرز کو کروڑوں روپے کے مالی نقصان سے دوچار کیا ہے بلکہ ملکی برآمدات پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

    فضل مقیم خان نے کہا کہ اس سیس کی وجہ سے برآمداتی عمل تقریباً مفلوج ہو گیا ہے جو نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ ملک کی معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اضا خیل ڈرائی پورٹ کی غیر فعالیت کی وجہ سے تاجروں اور ایکسپورٹرز کو اضافی مشکلات کا سامنا ہے۔ صوبے سے برآمدات کا عمل اب دوسرے صوبوں کی جانب منتقل ہو رہا ہے جس سے خیبر پختونخوا کی مقامی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ برآمدات کا دیگر صوبوں میں منتقل ہونا نہ صرف مقامی صنعتوں کو متاثر کر رہا ہے بلکہ بے روزگاری میں بھی اضافہ کا خدشہ ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اس سیس کو واپس لے تاکہ صوبے میں برآمداتی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو سکیں اور بے روزگاری اور مالی مشکلات کا سدباب کیا جا سکے۔

    فضل مقیم خان نے اضا خیل ڈرائی پورٹ کی حالت زار پر بھی روشنی ڈالی، کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ پورٹ تاجروں کو سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پورٹ کو فعال نہ کرنے کی وجہ سے تاجروں کو اپنی مصنوعات کی برآمدات کے لیے متبادل ذرائع تلاش کرنے پڑ رہے ہیں جس سے ان کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے اور انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔

    انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ڈرائی پورٹ کو فوری طور پر فعال کریں اور تاجروں کو درپیش مسائل کا حل نکالیں تاکہ برآمدات اور تجارت کا عمل بلا تعطل جاری رہ سکے۔

    فضل مقیم خان نے وفاقی و صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ خیبر پختونخوا میں کاروبار اور تجارت کے عمل کو آسان بنانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو صوبے کی برآمدات مزید متاثر ہوں گی اور معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت برآمدات اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پر سیس کے نفاذ کو فوری واپس لے تاکہ صوبے کی تجارت بحال ہو سکے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت کو نہ صرف برآمدات کو آسان بنانے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے بلکہ صوبے میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور صنعتی ترقی کے لیے بھی فوری توجہ دینی چاہیے۔ ان اقدامات سے نہ صرف صوبے کی معیشت مضبوط ہوگی بلکہ لوگوں کو روزگار کے بہتر مواقع بھی میسر آئیں گے۔

    پاک افغان جائنٹ چیمبر کے سینئر نائب صدر ضیاء الحق سرحدی نے بھی برآمدات اور تجارت میں درپیش مسائل پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پاک افغان باہمی تجارت اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے اضا خیل ڈرائی پورٹ پر سہولیات کے فقدان اور پاک افغان تجارتی راستوں پر درپیش رکاوٹوں کا بھی ذکر کیا۔

    فضل مقیم خان نے پشاور تا کراچی کارگو ٹرین کے اجراء اور افغانستان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ کی بحالی کے لیے (GITA) سمیت دیگر تجارتی راستوں پر سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان راستوں پر سہولیات کے فقدان کی وجہ سے تجارت اور برآمدات کا عمل سست روی کا شکار ہے۔

    فضل مقیم خان اور سرحد چیمبر کے دیگر عہدیداران سے ملاقات کے دوران فرنٹیئر کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے صدر ضیاء الحق سرحدی نے انہیں پاک افغان تجارت اور برآمدات میں حائل رکاوٹوں سے آگاہ کیا۔ فضل مقیم خان نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے سامنے ان مسائل کو مؤثر انداز میں پیش کریں گے تاکہ تاجروں اور ایکسپورٹرز کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔

    بعد ازاں سرحد چیمبر کے صدر فضل مقیم خان، سینئر نائب صدر عبدالجلیل جان، نائب صدر شہریار خان اور ایگزیکٹو ممبران ندیم رؤف، اشفاق احمد اور حاجی آفتاب اقبال نے ضیاء الحق سرحدی کو پاک افغان جائنٹ چیمبر کے سینئر نائب صدر منتخب ہونے پر پھولوں کے ہار پہنا کر مبارکباد بھی پیش کی۔

  • خیبر پختونخوا،سینیٹ انتخابات کروانے کیلئے درخواست پر سماعت ملتوی

    خیبر پختونخوا،سینیٹ انتخابات کروانے کیلئے درخواست پر سماعت ملتوی

    پشاور ہائی کورٹ، سینیٹ الیکشن کرانے کیلئے دائر درخواست کی سماعت 15 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سینیٹ انتخابات تمام صوبوں میں ہوگئے خیبرپختونخوا میں نہیں ہوئے ،سینیٹ میں خیبر پختونخوا کی نمائندگی نہیں ہے، سینیٹ مکمل نہیں ہے، پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مخصوص نشستوں کے کیس کا تفصیلی فیصلہ آیا ہے؟ وکیل نے کہا کہ مخصوص نشستوں کا فیصلہ بھی آیا ہوامگر اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس کیس میں ہم نے نظرثانی دائر کرکے عدالت سے رائے مانگی ہے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سینیٹ کے منتخب نمائندوں کا وقت6سال کے لئے ہوتا ہے، خیبرپختونخوا سے ابھی تک سینیٹ ممبران منتخب نہیں ہوئے، پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کافیصلہ فائل پر لگا لیں، جو بھی ضروری ڈاکومنٹس ہیں وہ بھی لگا لیں،ہم نے ایک اور کیس میں اٹارنی جنرل کو طلب کیا ہے، یہی سوال ہے کہ خیبرپختونخوا میں سینیٹ الیکشن نہیں ہوا ،آئینی ترامیم نہیں ہوسکتی، اس کیس کے ساتھ اُس کو بھی سنیں گے، کیس کی سماعت چیف جسٹس پشاورہائی کورٹ اشتیاق ابراہیم اور جسٹس وقار احمد نے کی

    خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین پر پی ٹی ایم کے جلسے میں شرکت کی پابندی: نوٹیفکیشن جاری

    عطا تارڑ کا پی ٹی ایم پر کالعدم تنظیموں سے روابط کا الزام

    ملک دشمن تنظیم پی ٹی ایم کی حمایت میں فتنہ الخوارج سامنے آ گیا

  • کالعدم پی ٹی ایم جرگہ،ٔپولیس کا دھاوا،متعدد گرفتار

    کالعدم پی ٹی ایم جرگہ،ٔپولیس کا دھاوا،متعدد گرفتار

    پشاور: ریگی میں کالعدم پی ٹی ایم جرگہ ،عدالت کے لئے قائم کیمپ پر رات گئے پولیس نے دھاوا بول دیا

    قومی جرگہ / عدالت کے آس پاس کے علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت بند کر دی گئی، ضلعی انتظامیہ کے مطابق کالعدم تنظم کا سارا سامان قبضہ میں لیکر قائم کیمپ ختم کر دیا گیا ،ڈپٹی کمشنر خیبر نے ضلع بھر میں دفعہ 144 نافذ کردیا،وزارت داخلہ کی جانب سے کالعدم قرار دئیے جانے کے بعد گزشتہ روز چیف سیکرٹری کے پی نے اعلامیہ جاری کیا،اعلامیہ کے مطابق سرکاری و غیر سرکاری اہلکار پشتون قومی جرگہ/عدالت میں شرکت نہ کرے،کالعدم پی ٹی ایم جرگہ/ عدالت میں شرکت یا مالی تعاون کرنے پر کاروائی ہوگی، چیف سیکرٹری کے پی آفس اعلامیہ کے بعد پولیس نے کالعدم پی ٹی ایم کے عدالت کے لئے قائم کیمپ کو اکھاڑ دیا، کالعدم پی ٹی ایم کے متعدد ممبران گرفتار ہوئے

    کالعدم تنظیم کا کسی بھی طرح ساتھ دینا یا اس کی مدد یا سہولت کاری کرنا قانوناً جرم ہے جس کی بہت سخت سزا ہے۔ بالخصوص طالب علم محتاط رہیں کیونکہ کالعدم تنظیم کا ساتھ دینے کی صورت میں انکا نام ای سی ایل میں چلا جائیگا جس کی وجہ سے نا صرف بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہیں گے بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سرکاری نوکری کیلئے بھی نا اہل ہو جائیگے۔

    خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین پر پی ٹی ایم کے جلسے میں شرکت کی پابندی: نوٹیفکیشن جاری

    عطا تارڑ کا پی ٹی ایم پر کالعدم تنظیموں سے روابط کا الزام

    ملک دشمن تنظیم پی ٹی ایم کی حمایت میں فتنہ الخوارج سامنے آ گیا

  • خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین پر پی ٹی ایم کے جلسے میں شرکت کی پابندی: نوٹیفکیشن جاری

    خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین پر پی ٹی ایم کے جلسے میں شرکت کی پابندی: نوٹیفکیشن جاری

    خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری ملازمین کے کالعدم پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے جلسے میں شرکت پر پابندی عائد کر دی ہے، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایت میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم کے لئے کالعدم تنظیم کے پروگرام یا سرگرمیوں میں جسمانی، مالی یا دوسری صورت میں شرکت کرنا غیر قانونی ہوگا۔ ایسی صورت میں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
    وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے اس پابندی کے پس منظر میں کہا کہ پی ٹی ایم نے پاکستان کے قومی جھنڈے کو نذر آتش کیا ہے اور بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں پر حملے کیے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پی ٹی ایم کو بیرون ملک سے بھی فنڈنگ کی جاتی ہے، جس کی وجہ سے وفاقی وزارت داخلہ نے اسے کالعدم قرار دیا ہے۔
    نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام سرکاری محکمے اور ملازمین اس پابندی سے آگاہ رہیں اور کسی بھی کالعدم تنظیم کے پروگراموں میں شرکت نہ کریں۔ یہ پابندی ان افراد کے لئے بھی ہے جو سرکاری محکموں میں کام کرتے ہیں، اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی جو ان ہدایات کی خلاف ورزی کریں گے۔
    پشتون تحفظ موومنٹ کو کالعدم قرار دینے کے بعد، اس کے 52 افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ افراد خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع جیسے جنوبی وزیرستان، صوابی، باجوڑ، خیبر، مالاکنڈ اور مہمند سے تعلق رکھتے ہیں۔ عطااللہ تارڑ نے مزید کہا کہ پی ٹی ایم کے افغان طالبان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے روابط ہیں، جس کی بنا پر اس تنظیم کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ کسی بھی تنظیم کے خلاف ثبوت کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی، اور ان کے ساتھ رابطہ کرنے والی تنظیموں کے لئے یہ ایک واضح وارننگ ہے کہ کسی بھی صورت میں پاکستان کے نظریے کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی ایم کی حمایت کسی بھی صورت میں نہیں کی جا سکتی، اور انہوں نے ان کے مظاہرین کی سرگرمیوں پر شدید تنقید کی، خاص طور پر بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں پر حملوں کے واقعات کو اجاگر کیا۔ یہ پابندی خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے امن و امان کی بحالی اور سرکاری ملازمین کی فعالیت کی نگرانی کے لئے ایک اہم قدم ہے۔

  • ضلع خیبر میں سیکیورٹی خطرات کے باعث دفعہ 144 نافذ

    ضلع خیبر میں سیکیورٹی خطرات کے باعث دفعہ 144 نافذ

    ضلع خیبر: سیکیورٹی صورتحال اور خطرات کی شدت کے پیش نظر ضلع خیبر میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ڈپٹی کمشنر خیبر کیپٹن (ر) ثناء اللہ خان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کیا گیا ہے، جس میں انہوں نے موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور تھریٹ الرٹ کے پیش نظر یہ اقدام اٹھانے کی وضاحت کی ہے۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ضلع بھر میں غیر قانونی اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، پانچ یا اس سے زائد افراد کے ایک ساتھ اکٹھے ہونے پر بھی پابندی لگائی گئی ہے تاکہ عوامی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، دفعہ 144 کے تحت اسلحہ کی نمائش پر بھی سخت پابندی عائد کی گئی ہے، تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔
    دفعہ 144 کا نفاذ 9 اکتوبر 2024 سے شروع ہوگا اور یہ 7 نومبر 2024 تک 30 دنوں کے لیے برقرار رہے گا۔ خلاف ورزی کی صورت میں تعزیرات پاکستان کے سیکشن 188 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس حوالے سے ضلعی پولیس سربراہ خیبر اور تمام اسسٹنٹ کمشنروں کو ضروری کارروائی کے لیے مراسلہ جاری کیا گیا ہے۔یہ اقدام اس وقت کیا گیا ہے جب سیکیورٹی ادارے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں، اور حالیہ دنوں میں بعض واقعات نے سیکیورٹی کی صورتحال کو مزید نازک بنا دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومت کے احکامات کی پاسداری کریں اور کسی بھی غیر قانونی اجتماع سے گریز کریں تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔
    علاقے میں سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے اقدامات کے بعد یہ اقدام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ عوامی سیکیورٹی کے حوالے سے یہ احتیاطی تدابیر ضروری سمجھی جا رہی ہیں، اور حکومت کا مقصد علاقے میں امن و امان کی بحالی اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ضلع خیبر کے عوام کو اس بات کی بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔ سیکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر، عوامی تعاون کی ضرورت ہے تاکہ سیکیورٹی کے چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔

  • علی امین گنڈاپور کی 30 گھنٹوں کی گمشدگی پر لب کشائی

    علی امین گنڈاپور کی 30 گھنٹوں کی گمشدگی پر لب کشائی

    اسلام آباد میں پانچ اکتوبر کے احتجاج سے غائب ہونے اور 30 گھنٹوں تک منظر عام سے غائب رہنے کے حوالے سے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے تفصیلات بیان کر دیں۔ منگل کو صوبائی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس دوران پیش آنے والے واقعات اور اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کیا۔علی امین گنڈاپور نے بتایا کہ وہ اسلام آباد کے احتجاج کے بعد خیبرپختونخوا ہاؤس چلے گئے تھے تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کریں، تاہم اس دوران پولیس نے خیبرپختونخوا ہاؤس پر چھاپہ مارا اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ "میں نے کے پی ہاؤس میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ صورتحال کا جائزہ لے سکوں، مگر اچانک آئی جی نے کے پی ہاؤس پر دھاوا بولا، اور پولیس نے آنسو گیس اور فائرنگ شروع کر دی۔
    گنڈاپور نے مزید کہا کہ "میرے ایک ساتھی نے مجھے وہاں سے نکالا اور کے پی ہاؤس کے سامنے واقع ایک پکٹ میں پہنچا دیا۔ میں چار گھنٹے وہاں پکٹ میں بیٹھا رہا، میرے ساتھ میرا محافظ سمیع بھی تھا۔ اس دوران میرے گارڈ نے اطلاع دی کہ تمام گاڑیوں کے ٹائر پنکچر کر دیے گئے ہیں۔انہوں نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ "کچھ گھنٹوں بعد، گاڑی کا انتظام کیا گیا اور مونال کی طرف بھیجنے کا فیصلہ ہوا۔ شدید بارش ہو رہی تھی، اور پولیس کی گاڑیاں ہر جگہ موجود تھیں۔ میں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پکٹ سے چھلانگ لگائی اور پیدل ہی چلنے لگا تاکہ پولیس کی نظر میں نہ آسکوں۔ نہ میرے پاس موبائل تھا، نہ ایک روپیہ، بس اللہ کی مدد پر بھروسہ تھا۔”

    وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ "میں نے ایک گاڑی کو روکنے کے لیے اس پر پتھر مارا، اور خوش قسمتی سے وہ وہی گاڑی تھی جس کا انتظام کیا گیا تھا۔ گاڑی کو میرا سی ایم ہاؤس کا ڈرائیور افتخار چلا رہا تھا، جبکہ میرے گارڈ عارف خٹک اور طارق موٹر سائیکل پر تھے۔ طارق گاڑی میں میرے ساتھ بیٹھ گیا اور ہم پشاور کی طرف روانہ ہو گئے۔انہوں نے گاڑی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ "گاڑی کا نمبر ‘اے اے 4263’ تھا، جو کے پی ہاؤس اسلام آباد کی سرکاری گاڑی تھی، اور موٹر وے کے ایم ٹیگ کی رسید بھی موجود ہے۔علی امین گنڈاپور نے کہا کہ موٹر وے سے اترنے کے بعد انہوں نے ایک ضلع کے ڈی پی او کے گھر پناہ لینے کی کوشش کی، لیکن ڈی پی او کی عدم موجودگی کی وجہ سے ان کا منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ "میں نے ڈی پی او سے رابطہ کیا اور اسے کہا کہ مجھے پشاور سی ایم ہاؤس جانا ہے، مگر اسے کہا کہ کسی کو اس کا علم نہ ہو۔ تاہم، اس نے کہا کہ وہ اس بات کی گارنٹی نہیں دے سکتا۔”
    گنڈاپور نے مزید بتایا کہ "صبح جب میں نے دوبارہ اس ڈی پی او کو فون کیا تو اس نے کہا کہ میرے چھوٹے بچے ہیں، میرا نام مت لینا، ورنہ میری نوکری چلی جائے گی۔ یہ سن کر میں حیران ہوں کہ صوبے کا وزیر اعلیٰ جس کے وہ ماتحت ہے، وہ اس کے گھر آیا تو وہ ڈر رہا تھا کہ اس کی نوکری چلی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کارکنوں کی گرفتاریوں پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ "جتنے کارکن گرفتار ہوئے ہیں، سب کو رہا کرایا جائے گا۔ یہ گرتی ہوئی دیوار ہے، جسے اگلا دھکا ہم دیں گے۔ عمران خان کے حکم کا انتظار ہے، اور اگر حکم ملا تو شہباز شریف کے بیڈروم تک پہنچ جائیں گے۔ آئی جی اسلام آباد کو ہٹایا نہ گیا تو ہم دوبارہ دھاوا بولیں گے کیونکہ اس نے ہمارے صوبے پر حملہ کیا ہے۔”انہوں نے کارکنوں کو متحرک رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے نعرہ لگایا "سادا حق ایتھے رکھ” اور کہا کہ "تیار رہو، ہم دوبارہ آرہے ہیں۔”

  • خیبر پختونخوا اسمبلی میں ہنگامہ آرائی، ارکان میں تلخ کلامی اور ہاتھا پائی ،تین افراد گرفتار

    خیبر پختونخوا اسمبلی میں ہنگامہ آرائی، ارکان میں تلخ کلامی اور ہاتھا پائی ،تین افراد گرفتار

    خیبر پختونخوا اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کے باعث تین افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب تحریک انصاف کے نیک محمد اور تحریک انصاف پارلیمنٹیرین کے اقبال وزیر کے درمیان جھگڑا ہوا، دونوں ایم پی ایز کا تعلق شمالی وزیرستان سے ہے۔ اس لڑائی کے دوران ان کے حمایتی بھی شامل ہو گئے، جس کی وجہ سے ہنگامہ آرائی میں مزید اضافہ ہوا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے غیر متعلقہ افراد کو حراست میں لے لیا۔ گرفتار ہونے والے تین افراد ایم پی اے اقبال وزیر کے ساتھی بتائے جا رہے ہیں، جنہیں بعد ازاں پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
    خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں آج شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، جب شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دو ایم پی ایز نیک محمد اور اقبال وزیر کے درمیان تلخ کلامی بڑھتے بڑھتے ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ دونوں نے اسمبلی فلور پر ایک دوسرے کے خلاف لاتوں اور مکوں کا آزادانہ استعمال کیا، جس کے بعد ماحول مچھلی منڈی بن گیا۔اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے سپیکر سے بات کرنے کا وقت مانگا، تاہم انہیں موقع نہ ملنے پر تلخی شروع ہو گئی۔ سپیکر نے اجلاس 15 منٹ کے لیے ملتوی کر دیا، لیکن وقفے کے دوران دونوں ایم پی ایز میں گالم گلوچ اور ہاتھا پائی شروع ہو گئی۔ صورتحال مزید خراب اس وقت ہوئی جب ان کے حامی بھی گیلری سے نیچے آ کر لڑائی میں شامل ہو گئے۔
    ہنگامہ آرائی کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں کو فوری طور پر طلب کیا گیا، جنہوں نے دونوں فریقین اور ان کے حامیوں کو اسمبلی سے باہر نکال کر حالات قابو میں کیے۔ اس وقت اسمبلی ہال کے داخلی دروازے پر سخت سیکیورٹی تعینات کر دی گئی ہے، اور غیر متعلقہ افراد کو اسمبلی میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔سپیکر ابھی تک اپنے چیمبر میں موجود ہیں اور اجلاس کی کارروائی مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔ سیکیورٹی اہلکار مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کر رہے ہیں تاکہ اسمبلی کا ماحول معمول پر لایا جا سکے۔

  • صوابی میں  تربیتی طیارہ گر کر تباہ

    صوابی میں تربیتی طیارہ گر کر تباہ

    خیبر پختونخوا کے علاقے صوابی میں پاک فضائیہ کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے

    صوابی کے علاقے گندف میں تربیتی طیارہ گر کر تباہ ہوگیا ہے،طیارہ حادثے کے دوران دونوں پائلٹس محفوظ رہے ہیں، اطلاع پر ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا، پولیس کے مطابق طیارہ تربیتی مشقوں میں مصروف تھا کہ اچانک گر کر تباہ ہوگیا، حادثے کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آئیں ،طیارہ پہاڑی علاقے میں کھیتوں میں‌گرکر تباہ ہوا، اس موقع پر مقامی افراد بھی جائے وقوعہ پر پہنچے،

  • جعلی حکومت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کر رہی ہے،بیرسٹر سیف

    جعلی حکومت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کر رہی ہے،بیرسٹر سیف

    پشاور: ترجمان حکومت خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ جعلی حکومت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کر رہی ہے۔

    باغی ٹی وی:بیرسٹرسیف نے کہا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی سے خاندان اور وکلا سمیت کسی کو ملاقات کی اجازت نہیں جعلی حکومت کو خوف ہے کہ بانی پی ٹی آئی ورکرز کو احتجاج کی نئی حکمت عملی نہ دے دیں غاصب حکومت کو ڈر ہے کہ بانی پی ٹی آئی وکلاء کو آئین میں ناجائز ترمیم کے خلاف متحرک نہ کر دیں۔

    ترجمان خیبرپختونخوا حکومت نے مزید کہا کہ چور ٹولہ بشریٰ بی بی سے بھی خوف زدہ ہے ان پر بھی پابندی عائد کررکھی ہے مینڈیٹ چور ہوش کے ناخن لیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے باز آ جائیں صوبائی کابینہ کے اراکین کو غیرقانونی طور پر قید اور پی ٹی آئی ورکرز کو جیل میں رکھا گیا ہے جعلی حکومت نے جمہوریت کے چاروں ستونوں پر حملہ کردیا ہے شریف خاندان اپنی ناجائز حکومت بچانے کے لیے ہر حد تک گرچکا ہے ریاستی ظلم و بربریت کا حساب ضرور لیں گے۔

    ناسا کا عملہ کس طرح ووٹ ڈالے گا؟

    اسرائیل نے ایران کے فوجی اڈوں پر حملے کا منصوبہ بنا لیا ،امریکی میڈیا کا …

    پی آئی اے کا کمال،پرواز ڈھائی گھنٹے قبل روانہ،مسافر خوار