Baaghi TV

Category: پشاور

  • خواجہ سرا ؤں کو بے حیائی پھیلانے پر "ذبح” کیا،گرفتار ملزمان کا اعتراف

    خواجہ سرا ؤں کو بے حیائی پھیلانے پر "ذبح” کیا،گرفتار ملزمان کا اعتراف

    خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں دو خواجہ سراؤں کو ذبح کرنے والے تین ملزمان کوپولیس نے گرفتار کر لیا ہے

    ڈی پی او مردان ظہور بابر آفریدی نے خواجہ سراؤں کے قاتلوں کی گرفتاری کے حوالہ سے میڈیا سے بات چیت کرتے تفصیلات سے آگاہ کیا ہے،ڈی پی او کا کہنا تھا کہ 21 اکتوبر کو 3 ملزمان نے 2 خواجہ سراؤں کو ان کے بالا خانے میں تیز دھار آلے سے قتل کر دیا تھا،ایک خواجہ سرا نے چھپ کر جان بچائی تھی، اسی خواجہ سر ا کی مدعیت میں پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا،اندران مقدمہ کے بعد پولیس نے تین ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے ملزمان کا تعلق کاٹلنگ سے ہے، ملزمان نے دوران تحقیقات پولیس کو بتایا کہ خواجہ سرا معاشرے میں بے حیائی پھیلا رہے تھے اس لئے انہیں قتل کیا،ملزمان نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا گیا ہے.

    واضح رہے کہ دو روز قبل مردان میں خواجہ سراؤں کی لاشیں ملی تھیں جن کی گردنیں کاٹی ہوئی تھیں اور انکو تیز دھار آلے سے ذبح کیا گیا تھا، عینی شاہد کے مطابق تین نامعلوم افراد نے بالا خانے آکر دروازوں کو بند کرکے دونوں خواجہ سراؤں کو چھری سے ذبح کیا اور بھاگ گئے، مرنے والے خواجہ سراؤں کی شناخت سلمیٰ اور نازوکہ کے طور پر ہوئی تھی،

    میہڑ:خواجہ سرا کے گھر سے چوری سرچ آپریشن کہ دوران پولیس پر فائرنگ

    خیبر پختونخوا میں خواجہ سراؤں کے لئے مفت قانونی اقدامات

    اوچ شریف: جعلی خواجہ سراؤں کا ڈانس پارٹی گروپ کے نام پر مبینہ طورشی میل اور لڑکیاں سپلائی کرنے کا انکشاف

    مس پرتگال مقابلہ حسن،خواجہ سرا نے جیتا مقابلہ

    میک اپ کے بغیر خاتون نے مقابلہ حسن جیت لیا

    خواجہ سراؤں نے بھی خود کو بطور ووٹرز رجسٹرڈ کرالیا

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    خیبرپختونخوا کے خواجہ سراوں کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل

    خواجہ سراؤں سمیت ڈانس،موسیقی اور ہوائی فائرنگ پر پابندی 

  • پشاور ہائیکورٹ کا عدالتوں، ججز کی سکیورٹی پر تفصیلی رپورٹ جمع کرنے کا حکم

    پشاور ہائیکورٹ کا عدالتوں، ججز کی سکیورٹی پر تفصیلی رپورٹ جمع کرنے کا حکم

    پشاور ہائیکورٹ نے عدالتوں اور ججز کی سکیورٹی سے متعلق درخواست پر صوبائی اور وفاقی حکومت سے جواب طلب کر لیا-

    باغی ٹی وی: پشاور ہائیکورٹ میں عدالتوں اور ججز کے سیکیورٹی سے متعلق کے پی بار کونسل کی درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس وقار احمد نے درخواست کی سماعت کی، ایڈووکیٹ جنرل کے پی اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔

    ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے کہاکہ عدالت نے سکیورٹی پر 6سوالات پوچھے تھے،آئی جی پی نے تفصیلی جواب جمع کرنے کیلئے 2دن مانگے ہیں،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایک کے بعد دوسرا واقعہ پیش آتا ہے،اب کیا کریں، ہم بندوقیں اٹھائیں کیا؟حکومت کو ججز کی سکیورٹی کا معاملہ سنجیدگی سے لینا ہوگا، وفاق بھی سنجیدگی سے غور کرے، یہ ان کا بھی کام ہے۔

    پشاور ہائیکورٹ نے عدالتوں، ججز کی سکیورٹی پر تفصیلی رپورٹ جمع کرنے کا حکم دیدیا،عدالت نے صوبائی اور وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 30اکتوبر تک ملتوی کردی۔

  • خیبرپختونخوا حکومت کا وزرا  اور مشیروں کی تنخواہوں اور مراعات کا ترمیمی بل 2024 اسمبلی میں پیش

    خیبرپختونخوا حکومت کا وزرا اور مشیروں کی تنخواہوں اور مراعات کا ترمیمی بل 2024 اسمبلی میں پیش

    پشاور:خیبرپختونخوا حکومت نے وزرا اور مشیروں کے مراعات میں مزید اضافے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : کے پی کے وزرا اور مشیروں کے مراعات میں مزید اضافے کے حوالے سے تنخواہوں اور مراعات کا ترمیمی بل 2024 اسمبلی میں پیش کردیا گیا ہے،صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کابینہ اراکین کو رہائش گاہ فراہم کرنے کی پابند ہے، حکومت میں آئے تو وزرا کے لئے صرف 7 گھر دستیاب تھے، وزیراعلیٰ نے قرعہ اندازی کے ذریعے وہ گھر تقسیم کئے۔

    انہوں نے کہا کہ نگران وزرا کو سرکاری گھر کی سہولت حاصل نہیں تھی، پہلے تزئین و آرائش کے لئے 5 لاکھ روپے مختص تھے جس میں سے تین ساڑھے تین لاکھ روپے دیئے جاتے تھے، تین لاکھ میں تو گھر کے لئے صرف پردے بھی نہیں آتے2014 سے ہاؤس رینٹ کی مد میں 70 ہزار روپے ملتے تھے، حکومت نے اس 70 ہزار کو صرف دو لاکھ کردیا ہے، 2 لاکھ میں کسی پوش علاقہ میں ایک اوسط گھر ہی مل سکتا ہے پنجاب حکومت نے وزرا کے لئے الگ رہائش گاہوں کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے، اس ایک ایک رہائش گاہ پر 50 کروڑ کی لاگت آئے گی، اس صوبے میں معمولی اضافہ پر واویلا نہ کیا جائے۔

    اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا کہ صوبے کے حالات کو دیکھتے ہوئے میں اپنی تمام مراعات نہ لینے کا اعلان کرتا ہوں، میں نے نہ کوئی سرکاری رہائش گاہ لی ہے اور نہ ہی کرایہ کی مد میں پیسے لوں گا۔

    واضح رہے کہ نئی ترامیم کے تحت وزراء کو سرکاری گھر میں تزئین و آرائش کیلئے ایک دفعہ 10 لاکھ دیئے جائیں گے، 10 لاکھ روپے کی اس تزئین و آرائش میں قالین، پردے، ائیر کنڈیشن اور ایک ریفریجریٹر شامل ہوگا سرکاری گھر نہ ہونے کی صورت میں وزیر کو کرائے پر گھر لینے کے لئے ماہانہ 2 لاکھ روپے دیے جائیں گے، کرائے کے گھر میں بھی وزرا تزئین و آرائش کیلئے ایک دفعہ 10 لاکھ روپے خرچ کرسکیں گے کوئی وزیر رہائش کیلئے اپنا ذاتی گھر استعمال میں لانے پر 2 لاکھ روپے کرایہ وصول کرسکے گا، لیکن سرکاری یا کرائے کی رہائش گاہ خالی کرنے پر ترئین و ارائش کی اشیاء واپس کرنی ہوں گی۔

  • آئینی ترمیم کو نہیں مانتے ،اس بار ہم پاکستان بلاک کریں گے،علی امین

    آئینی ترمیم کو نہیں مانتے ،اس بار ہم پاکستان بلاک کریں گے،علی امین

    پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخواعلی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ہم آئینی ترمیم کو نہیں مانتے اور اس کے خلاف احتجاج کریں گے۔

    باغی ٹی وی : پشاور میں عدالت میں پیشی کے موقع پر علی امین گنڈا پور نے کہا کہ آئینی ترمیم نہیں مانتے یہ آزاد عدلیہ پرحملہ ہے، من پسند لوگوں کولگاکرسسٹم پرقبضہ کیا جاتا ہے، آزاد عدلیہ پرحملہ ہوا، اس کی مذمت کرتے ہیں،یہ ثابت ہوگیا میرافیصلہ درست تھا،میں نے لوٹے پہچان لیےتھےمبارک زیب کو ٹکٹ نہ دینے کا فیصلہ میرا ٹھیک تھا، مبارک زیب نے بانی پی ٹی آئی کی تصویر لگا کر پارٹی کے ساتھ غداری کی، باجوڑ کے لوگوں کو بتا رہا ہوں کہ مبارک زیب نے آپ کا ووٹ نہیں آپ کا حق بیچا ہے، جنہوں نے عمران خان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ان کو پارٹی سے نکالیں گے، ووٹ بیچنے والوں کے نام سامنے آئے ہیں، آج شوکاز جاری کیا جائے گا، جو غدار ہے اس کی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں۔

    علی امین نے کہا کہ اس طرح کی ترامیم رات کی تاریکی میں ہی کی جاتی ہے،اس بار ہم پاکستان بلاک کریں گے، اس باراحتجاج کےلیے پورے پاکستان سے لوگ نکالیں گے نشست یا حلقہ اہم نہیں، نظریہ اہم ہوتاہے، ہمارااحتجاج حکومت سے جان چھڑانے تک جاری رہے گا ،پورے پاکستان سے لوگ اسلام آباد کی طرف بڑھیں گے۔

  • خیبر پختونخوا میں جانوروں سے انسانوں کو لگنے والی بیماریوں کے تدارک کے لیے قانون سازی کا فیصلہ

    خیبر پختونخوا میں جانوروں سے انسانوں کو لگنے والی بیماریوں کے تدارک کے لیے قانون سازی کا فیصلہ

    خیبر پختونخوا حکومت نے جانوروں سے انسانوں کو لگنے والی بیماریوں کے تدارک کے لیے قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد انسانی صحت کی حفاظت کے ساتھ ساتھ جانوروں کی صحت کو بھی یقینی بنانا ہے۔ صوبائی اسمبلی میں وزیر لائیو اسٹاک، فضل حکیم، نے جانوروں کی بیماریوں کے تدارک کے لیے ایک اہم بل ایوان میں پیش کیا۔ یہ بل متعدد محکموں کی منظوری کے بعد اسمبلی میں پیش کیا گیا، جو کہ ایک ہم آہنگی اور مشترکہ کوشش کا مظہر ہے۔بل کے مطابق، ایک 13 رکنی کمیٹی قائم کی جائے گی، جس کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل لائیو اسٹاک کریں گے۔ یہ کمیٹی جانوروں کی 16 بیماریوں کا جائزہ لے گی اور ان کے تدارک کے لیے مخصوص مقامات کا تعین کرے گی۔ کمیٹی کا مقصد یہ بھی ہوگا کہ وہ دیگر متعلقہ محکموں کو مرحلہ وار آگاہی فراہم کرے، تاکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
    مجوزہ بل میں واضح کیا گیا ہے کہ مختلف اضلاع اور علاقوں میں ویٹرنری آفیسرز تعینات کیے جائیں گے، جو بیمار جانوروں کی نگرانی کریں گے۔ ویٹرنری آفیسرز کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ بیمار جانوروں اور ان کے فارموں کو تحویل میں لے کر جرمانہ عائد کریں، اور بیمار جانوروں کے گوشت، دودھ اور دیگر مصنوعات کو تلف کر سکیں۔بل کے مطابق، ویٹرنری آفیسرز بیمار جانوروں کے مالکان پر 20 ہزار روپے تک کا جرمانہ عائد کر سکیں گے۔ اس اقدام کا مقصد جانوروں کی صحت کی حفاظت کے ساتھ ساتھ انسانی صحت کو بھی محفوظ بنانا ہے۔وزیر لائیو اسٹاک فضل حکیم نے اس قانون سازی کو ایک تاریخی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بل نہ صرف جانوروں کی صحت کی بہتری کے لیے اہم ہے، بلکہ اس سے انسانوں کی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی آگاہی اور تعاون کے بغیر یہ اقدامات مؤثر نہیں ہو سکتے، اور اس لیے عوام سے درخواست کی کہ وہ اپنے جانوروں کی صحت کے حوالے سے ہر ممکن احتیاط کریں۔یہ قانون سازی خیبر پختونخوا میں جانوروں اور انسانوں کی صحت کے تحفظ کے لیے ایک مثبت قدم ہے، جو کہ نہ صرف موجودہ صورتحال کو بہتر بنائے گی بلکہ مستقبل میں بیماریوں کے پھیلاؤ کو بھی روکے گی۔

  • خیبر پختونخوا حکومت کا پولیس ترمیمی بل 2024 پر فیصلہ تبدیل

    خیبر پختونخوا حکومت کا پولیس ترمیمی بل 2024 پر فیصلہ تبدیل

    خیبر پختونخوا حکومت نے پولیس ترمیمی بل 2024 پر فیصلہ تبدیل کر لیا ہے۔ 16 اکتوبر کو پیش کیا گیا یہ بل پانچ روز بعد واپس لے لیا گیا اور اس کی جگہ ترمیم شدہ بل ایوان سے منظور کیا گیا۔پولیس ترمیمی بل 2024 کے مطابق، پولیس میں تعیناتیاں اور تبادلے خیبر پختونخوا حکومت کے قواعد وضوابط 1985 کے تحت ہونے تھے۔ مجوزہ بل میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ آئی جی پولیس اپنی مرضی سے ڈی پی اوز کی تعیناتی نہیں کرسکتے تھے۔ اگر وزیر اعلیٰ چاہتے، تو وہ تعیناتیوں اور تبادلوں کے حوالے سے اپنے اختیارات آئی جی کو تفویض کرسکتے تھے۔بل کے تحت گریڈ 17 اور گریڈ 18 کے افسران کی تعیناتی اور تبادلے کا اختیار آئی جی کے پاس دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ، ایک انڈیپینڈنٹ پولیس کمپلینٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لانے کی تجویز دی گئی تھی، جسے پولیس افسران کو سزائیں دینے کا اختیار دیا جانا تھا۔ یہ اتھارٹی چھ ممبران پر مشتمل ہونا تھی۔

    مجوزہ بل کے تحت گریڈ 18 سے اوپر کے پولیس افسران کی تعیناتیوں اور تبادلوں کا اختیار وزیراعلیٰ کے پاس تھا۔ تاہم، خیبر پختونخوا حکومت نے پولیس کے تحفظات کو مسترد کرتے ہوئے یہ بل واپس لینے کا فیصلہ کیا۔یہ پیشرفت صوبے میں پولیس کے نظام کی اصلاحات کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس بل میں پولیس افسران کی تعیناتیوں میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے کئی اقدامات تجویز کیے گئے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس ترمیم شدہ بل کے ذریعے پولیس اصلاحات کے عمل کو کس طرح آگے بڑھائے گی۔حکومت کے اس اقدام سے صوبے کے عوام میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے، اور مختلف سیاسی جماعتوں نے اس بل کی واپسی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے بلوں کی بار بار واپسی سے پولیس کے نظام میں تبدیلیوں کی رفتار سست ہو سکتی ہے، جبکہ دوسرے کہتے ہیں کہ حکومت کو پولیس کی کارکردگی اور شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

  • پشاور: اپٹا نے 5 نومبر کے دھرنے کی توثیق کر دی، 26 ہزار اسکول بند کرنے کا اعلان

    پشاور: اپٹا نے 5 نومبر کے دھرنے کی توثیق کر دی، 26 ہزار اسکول بند کرنے کا اعلان

    پشاور (باغی ٹی وی رپورٹ) آل پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن (اپٹا) خیبر پختونخوا کے صوبائی کونسل کا اجلاس پشاور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت صوبائی صدر عزیزاللہ خان نے کی۔ اجلاس میں خواتین اساتذہ سمیت تمام ضلعی صدور اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔

    اجلاس میں متفقہ طور پر 5 نومبر کو جناح پارک پشاور میں احتجاجی دھرنے کی تاریخ کی توثیق کی گئی۔ دھرنا اساتذہ کی آپ گریڈیشن کے نوٹیفکیشن، 13,500 اساتذہ کی ریگولرائزیشن، جبری پروموشنز کی بحالی اور پرائمری اسکولوں کی نجکاری روکنے کے مطالبات کے حق میں ہوگا۔

    عزیزاللہ خان نے کہا کہ یہ دھرنا ایک نئی تاریخ رقم کرے گا اور غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا۔ اگر مسائل حل نہ کیے گئے تو 5 نومبر سے 26 ہزار پرائمری اسکول بند کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے چاہتے ہیں تاہم اساتذہ اپنے حقوق کے لیے بھرپور طاقت کے ساتھ میدان میں آئیں گے۔

    دھرنا 5 نومبر کو دوپہر 1 بجے جناح پارک پشاور میں شروع ہوگا۔

  • خیبر: جمرود پولیس کی کارروائیاں، 6 کلو سے زائد آئس برآمد، 3 ملزمان گرفتار

    خیبر: جمرود پولیس کی کارروائیاں، 6 کلو سے زائد آئس برآمد، 3 ملزمان گرفتار

    خیبر (باغی ٹی وی رپورٹ)جمرود پولیس نے آئس کے خلاف دو مختلف کارروائیوں میں بڑی کامیابی حاصل کی، جن کے دوران مجموعی طور پر 6 کلوگرام سے زائد آئس برآمد کی گئی۔ کارروائیوں میں ملوث 3 ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) رائے مظہر اقبال کے احکامات پر ضلع بھر میں منشیات کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ ایس ایچ او جمرود، شاہ خالد کی قیادت میں انچارج نواب شاہ شہید، بخت منیر، اور گل امین نے خفیہ اطلاع پر خصوصی ناکہ بندی کی۔ اس دوران مشتبہ موٹر سائیکل سواروں کی تلاشی کے دوران 5 کلوگرام آئس برآمد کی گئی اور ملوث افراد ساجد خان اور شاہ زمین کو گرفتار کر کے حوالات منتقل کر دیا گیا۔

    ایک اور کارروائی میں اسسٹنٹ انچارج بھگیاری شکیل خان نے بھگیاری خوڑ میں خصوصی ناکہ بندی کے دوران ایک مشتبہ پیدل شخص سے 1015 گرام آئس برآمد کی۔ ملزم محمد آصف کو موقع پر گرفتار کرکے حوالات منتقل کیا گیا اور اس سے مزید تفتیش جاری ہے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ منشیات کے خلاف اس کریک ڈاؤن کا مقصد علاقے کو نشے کی لعنت سے پاک کرنا ہے اور یہ کارروائیاں آئندہ بھی بھرپور طریقے سے جاری رہیں گی۔

  • جےیوآئی فاٹا کی لنڈی کوتل میں تنظیم سازی، علاقے کے مسائل حل کرنے کا عزم

    جےیوآئی فاٹا کی لنڈی کوتل میں تنظیم سازی، علاقے کے مسائل حل کرنے کا عزم

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی) جےیوآئی فاٹا کے سینئر نائب امیر مفتی اعجاز شینواری نے لنڈی کوتل پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام (جےیوآئی) کے دستور کے مطابق پہلے رکنیت سازی اور پھر تنظیم سازی کی گئی ہے۔

    اس عمل کے دوران لنڈی کوتل کے نومنتخب عہدیداران کا انتخاب بھی کیا گیا، جن میں مولانا محمد عاقب کو امیر، مولانا عظیم شاہ کو جنرل سیکرٹری، مولانا عظمت اللہ شینواری کو سینئر نائب امیر، مولانا عبدالرحیم فقیر کو فنانس اور ذاکر اللہ قریشی کو سالار منتخب کیا گیا۔

    مفتی اعجاز شینواری نے مزید کہا کہ جمعیت علمائے اسلام لنڈی کوتل میں امن کے قیام اور اقتصادیات کی بحالی کے لیے کام کرے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جےیوآئی علاقے کے لوگوں کی غیرقانونی گرفتاریوں کے خلاف اور دیگر مسائل کے حل کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے گی۔

    نومنتخب امیر مولانا محمد عاقب نے کہا کہ جمعیت کا مقصد خدا کی زمین پر خدا کا نظام نافذ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جےیوآئی اور مولانا فضل الرحمن کی سیاست اصولوں کی بنیاد پر کامیاب ہوتی ہے اور ملک کے تمام سیاستدان ان کے گرد گھومتے ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ہم لنڈی کوتل کے عوام کے لیے ہر پلیٹ فارم پر آواز بلند کریں گے اور فرنٹ لائن پر کھڑے ہوں گے۔

    آخر میں جنرل سیکرٹری مولانا عظیم شاہ نے کہا کہ وہ طورخم بارڈر پر مزدوروں اور عوام کے مسائل سے بخوبی واقف ہیں اور انشاءاللہ جلد تمام مسائل کے حل کے لیے لائحہ عمل طے کریں گے۔

  • خیبر پختونخوا کے 17 اضلاع میں ضمنی بلدیاتی انتخابات،پولنگ جاری

    خیبر پختونخوا کے 17 اضلاع میں ضمنی بلدیاتی انتخابات،پولنگ جاری

    پشاور:خیبر پختونخوا کے 17 اضلاع میں ضمنی بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل شروع ہو گیا ہے ، پولنگ شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔

    باغی ٹی وی : سوات، مانسہرہ، ڈیرہ اسماعیل خان، ایبٹ آباد، شانگلہ، لوئردیر ، باجوڑ، بونیر، کرک، مانسہرہ، کوہاٹ، نوشہرہ اور لکی مروت میں ضمنی بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں،الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ضمنی بلدیاتی انتخابات کے لیے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 3 لاکھ 45 ہزار 604 ہیں ، 260 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی کیمرے بھی لگائے گئے ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ضمنی بلدیاتی الیکشن کے لیے 6500 سے زیادہ اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ پشاور میں 800 سے زیادہ اہلکار تعینات ہیں۔