پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے حالیہ پریس کانفرنس میں سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے جرگہ میں شرکت کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ہاؤس میں امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے یہ جرگہ بلایا گیا تھا، جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔گورنر کنڈی نے سپیکر اسمبلی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "میں شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس اہم مسئلے پر اجلاس بلایا۔” انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے امن کی بات کی اور اس حوالے سے آمادگی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ "امن و امان کی صورت حال بگڑتی جا رہی تھی، اس لئے ہمیں سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر اس جرگہ میں شرکت کرنی پڑی۔
جرگہ میں تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز کی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، تاکہ وہ مل کر امن و امان کی صورت حال پر غور و خوض کر سکیں۔ فیصل کریم کنڈی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ "احتجاج ہر کسی کا جمہوری حق ہے” اور اس کے ذریعے عوامی مسائل کو اجاگر کیا جا سکتا ہے۔گورنر نے اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی تاریخ پر بھی روشنی ڈالی، کہ پی پی پی نے ہمیشہ جمہوریت کی بات کی ہے اور اس کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا، "ہمارے پاس قربانیوں کا ریکارڈ ہے اور ذو الفقار علی بھٹو کو 50 سال بعد انصاف ملا۔اس جرگہ کا مقصد خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانا ہے، اور گورنر کنڈی کی جانب سے اس کی اہمیت کا اظہار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سیاسی قیادت اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس اجلاس کے ذریعے سیاسی جماعتیں مل کر مثبت تبدیلیاں لا سکیں گی۔ یہ پیش رفت سیاسی تناؤ کے دوران ایک مثبت اقدام سمجھا جا رہا ہے، جس سے عوام میں بھی اطمینان کی لہر دوڑنے کی توقع ہے۔
Category: پشاور
-

سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر جرگہ میں شرکت کی، گورنر کے پی
-

خیبر سپورٹس فیسٹیول 2024 کا آغاز، کھیلوں کی دنیا میں ضلع خیبر کا اہم قدم
لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ کے عوامی ایجنڈا کے تحت محکمہ کھیل خیبرپختونخوا اور ضلعی انتظامیہ خیبر کے تعاون سے خیبر سپورٹس فیسٹیول 2024 کا باقاعدہ افتتاح ہوگیا ہے۔ فیسٹیول میں کرکٹ ٹورنامنٹ کی افتتاحی تقریب حمزہ بابا سپورٹس گراؤنڈ جبکہ فٹبال ٹورنامنٹ کی افتتاحی تقریب ہائی اسکول گراؤنڈ میں منعقد ہوئی۔
افتتاحی تقاریب میں اسسٹنٹ کمشنر لنڈیکوتل عدنان ممتاز، تحصیلدار لنڈیکوتل حاجی تیمور آفریدی، ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر خیبر راہد گل ملاگوری، جنرل سیکریٹری خیبر سپورٹس کلب کلیم اللہ شینواری اور منظور شینواری نے شرکت کی۔ اس موقع پر کرکٹ اور فٹبال کے کھلاڑیوں سمیت بڑی تعداد میں شائقین بھی موجود تھے۔
فیسٹیول کا افتتاح 10 اکتوبر سے شروع ہو چکا ہے اور یہ 15 اکتوبر تک جاری رہے گا، جس میں تحصیل لنڈیکوتل، باڑہ، جمرود اور ملاگوری کے علاقوں میں ولی بال، فٹ بال اور کرکٹ کے میچز منعقد کیے جائیں گے۔ ان مقابلوں میں مجموعی طور پر 54 ٹیمیں اور 612 کھلاڑی شرکت کر رہے ہیں۔
اسسٹنٹ کمشنر لنڈیکوتل عدنان ممتاز نے افتتاحی تقریب میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبر سپورٹس فیسٹیول کا مقصد علاقے کے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا اور ان کے پوشیدہ ٹیلنٹ کو سامنے لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع خیبر ہمیشہ سے کھیلوں کی دنیا میں زرخیز رہا ہے اور یہاں کے کئی کھلاڑی نیشنل اور انٹرنیشنل سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔
ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر راہد گل ملاگوری نے کہا کہ محکمہ کھیل کی جانب سے اس قسم کے سپورٹس میلوں کا مقصد نوجوانوں کو منشیات جیسی لعنت سے بچانا اور انہیں صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا ہے تاکہ وہ اپنے علاقے کی ترقی اور خوشحالی میں کردار ادا کر سکیں۔
ادھرباڑہ میں ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے خیبر سپورٹس فیسٹیول 2024 کا آغاز منڈی کس گراؤنڈ میں کیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر باڑہ شہاب الدین اور تحصیلدار باڑہ داؤد آفریدی نے تقریب کے مہمانانِ خصوصی کے طور پر ایونٹ کا باضابطہ افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب میں مقامی افراد، نوجوانوں اور کھلاڑیوں نے بھرپور تعداد میں شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر شہاب الدین نے کہا کہ کھیل صحت مند معاشرے کی ضمانت ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیسٹیول کا مقصد علاقے کے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا ہے، جس سے نہ صرف ان کی جسمانی و ذہنی صحت میں بہتری آئے گی بلکہ وہ معاشرتی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکیں گے۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے خیبر سپورٹس فیسٹیول 2024 کے کامیاب انعقاد پر محکمہ کھیل خیبرپختونخوا اور ضلعی انتظامیہ خیبر کا شکریہ ادا کیا۔
-

چار مارخور پرمٹ فروخت کر کے خیبر پختونخوا حکومت نے 25 کروڑ کمالئے
خیبر پختونخوا حکومت نے چار مارخور پرمٹ فروخت کر کے 25 کروڑروپے کما لیے،
محکمہ جنگی حیات خیبر پختونخوا نے اس ضمن میں تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ مارخور ٹرافی ہنٹنگ کی سب سے بڑی بولی توشی 1 اور توشی 2 کے لیے لگائی گئی، دونوں جگہوں سے دو مارخوروں کے شکار سے 15 کروڑ روپے سے زائد کی آمدن ہو گی، اس کے علاوہ کوہستان کے علاقے کیگا میں ایک مارخور کے شکار سے 5 کروڑ 37 لاکھ روپے ملیں گے،گہریت، چترال سے ایک مارخور کے شکار سے 5 کروڑ 28 لاکھ روپے کی آمدن ہو گی ، ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کی آمدنی کا 80 فیصد حصہ متعلقہ علاقوں کے رہائشیوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جبکہ کمیونٹی ڈویلپمنٹ اور جنگلی حیات کے تحفظ کی سرگرمیوں کے لیے بھی رقم دی جاتی ہے،
مارخور کے لئے ایک مخصوص علاقہ ہے۔اس علاقہ میں مارخور سمیت دیگر جانور ہوتے ہیں ۔مارخور کی 1990 میں تعداد بالکل گر گئی تھی۔پاکستان کا 18% علاقہ مارخور اور برفانی چیتے کے لئے ہے ۔سن 2000 میں ٹرافی ہنٹنگ کے لئے لائحہ عمل بنایا گیا ۔شروع میں 6 اور بعد میں 12 مارخور کے شکار کا کوٹہ ہوا۔یہ شکار کا کوٹہ بین الاقوامی درجہ پر جاتا ہے۔گزشتہ برس مار خور کا سب سے مہنگا شکار پرمٹ 1 لاکھ 86 ہزار ڈالر کا بکا ۔اس رقم کا بیس فیصد حصہ محکمہ جنگلی حیات کو گیا ۔تین سے پانچ ہزار مارخور اس وقت پاکستان میں موجود ہیں۔منسٹری اس سب پر کارڈنیشن کا ادارہ ہے۔صوبائی وائلڈ لائف تمام کام دیکھتی ہے ۔
چترال: مارخور کی تیسری ہنٹنگ ٹرافی، امریکی شہری رابرٹ مائلز نے کشمیر مارخور کا شکار کر لیا
امریکی شہری نے ریکارڈ 232,000 ڈالر کا پرمٹ حاصل کر کے چترال میں مارخور کا شکار کر لیا
چترال میں مارخور کا غیر قانونی شکار کرنے والا ملزم گرفتار
بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے
سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری
سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا
چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم
سوتیلے باپ نے لڑکی کے ساتھ کی زیادتی، ماںنے جرم چھپانے کیلیے کیا تشدد
کم عمر لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے شوقین جعلی عامل کو عدالت نے سنائی سزا
کاروبار کے لئے پیسے نہ لانے پر بہو کو کیا گیا قتل
16 خواتین کو نازیبا و فحش ویڈیو ،تصاویر بھیج کر بلیک میل کرنے والا گرفتار
-

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی منظور پشتین سے ملاقات
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت سے اختیار مانگا ہے، پشتونوں کا مقدمہ میں لڑوں گا
پشاور میں علی امین گنڈاپور اور منظور پشتین کے درمیان ملاقات ہوئی ہے ،ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ میں نے کہہ دیا جرگہ ہوگا، اس کا میں میزبان ہوں، رکاوٹیں ہٹانے میں تو میں ویسے بھی تگڑا ہوں، رکاوٹیں ہٹا دوں گا، جنہوں نے پی ٹی ایم کو کالعدم قرار دیا وہ ملک کیساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں، وفاقی حکومت نے صوبے کی روایات پر حملہ کیا جو قابلِ مذمت ہے، قبائل نے پاکستان میں امن کے لیے قربانیاں دی ہیں، جرگہ اپنے طے شدہ مقام پر ہو گا جس میں مسائل پر مشاورت ہو گی، امن ہمارا بڑا مطالبہ ہے، پشتون روایات کے مطابق جرگہ ہو رہا تھا، امن کے لیے جدوجہد جاری رہے گی، جانی نقصان کا ازالہ نہیں ہو سکتا، وفاقی حکومت کو بتایا کہ جرگہ کروں گا، آج جرگہ ہو گا، میں اس جرگے کا میزبان ہوں، بڑے مقصد کے لیے چھوٹی باتوں کو درگزر کرنا پڑتا ہے،اب میری کوشش ہے کہ امن کو قائم کروں اور حل صرف مذاکرات ہی سے ممکن ہے،آج جو جرگہ ہوگا اس میں امن و امان قائم رکھنے کی ذمہ داری میں نے لی ہے،محسن نقوی نے اگر کسی کو سب سے زیادہ نقصان دیا تو مجھے دیا لیکن عوام کے لیے میں ہر ایک کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہوں،تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ رکھیں گے،جائز مطالبات ہر حال میں تسلیم کیے جائیں گے،
خیبرپختونخوا حکومت کا کالعدم پی ٹی ایم کی سرگرمیوں پر سخت پابندی کا اعلان
پی ٹی ایم کے ساتھ بیٹھنے والوں کے شناختی کارڈ بلاک ہوں گے، محسن نقوی
پشاور ہائی کورٹ اور خیبر ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے: کالعدم پی ٹی ایم سے متعلق پٹیشنز
کالعدم پی ٹی ایم جرگہ،ٔپولیس کا دھاوا،متعدد گرفتار
خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین پر پی ٹی ایم کے جلسے میں شرکت کی پابندی: نوٹیفکیشن جاری
عطا تارڑ کا پی ٹی ایم پر کالعدم تنظیموں سے روابط کا الزام
ملک دشمن تنظیم پی ٹی ایم کی حمایت میں فتنہ الخوارج سامنے آ گیا
-

وفاقی حکومت نے پی ٹی ایم سے جرگہ کا اختیار علی امین گنڈا پور کو دے دیا
پشاور،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی میزبانی میں گرینڈ جرگہ شروع ہو گیا
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی جرگے میں وفاقی حکومت کی نمائندگی کر رہے ہیں،گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی بھی جرگے میں شریک ہیں،مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین خیبر پختونخوا اسمبلی اور دیگر پارلیمنٹیرینز جرگے میں شریک ہیں،مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی جرگے میں اپنی اپنی جماعتوں کی نمائندگی کر رہے ہیں،ایمل ولی خان، پروفیسر ابراہیم ، محسن داوڑ، میاں افتخار حسین، سکندر شیرپاؤ، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی موجود ہیں.وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ اس جرگے کے ذریعے ہم درپیش مسئلے کے پر امن حل کے لئے راستہ نکالنے میں کامیاب ہونگے،جرگے میں شریک تمام سیاسی قائدین کی آراء اور تجاویز کا بھر پور احترام کیا جائے گا، میری دعوت پر جرگے میں شرکت کرنے پر تمام پارلیمنٹیرینز اور سیاسی قائدین کا مشکور ہوں،آج ہم سب سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر صوبے میں امن کے لئے یہاں جمع ہوئے ہیں، کسی بھی مسئلے کا حل تصادم یا تشدد نہیں بلکہ مذاکرات ہی سے ممکن ہے،اس مقصد کے لئے ہم نے پشتون روایات کے مطابق آج یہ جرگہ منعقد کیا ہے،
ہمارے سیاسی اختلافات موجود مگر صوبے کا امن اور عوام کی خوشحالی ترجیحات ہیں،گورنر خیبرپختونخوا
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے گرینڈ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کا امن ہماری ترجیحات اور آج کے جرگہ کا اکلوتا ایجنڈا ہے، جرگے کے انعقاد پر صوبائی حکومت کا شکر گزار ہوں، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی آمد پر ان کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں،ہمارے سیاسی اختلافات موجود ہیں مگر صوبے کا امن اور عوام کی خوشحالی ترجیحات ہیں،مذاکرات ہی تمام مسائل کا حل ہے ،ضلع خیبر میں افسوسناک واقعہ ہوا، ہمارے پاس وقت کم ہے ہم نے سب کو مذاکرات پر آمادہ کرنا ہے،جو لوگ اس ملک کے آئین اور قانون کو تسلیم کرتے ہیں ان سے مذاکرات کرنے چاہییں، وزیر اعلیٰ بھی بیٹھے ہیں وزیر داخلہ بھی اور سیاسی قیادت بھی موجود ہے، ہمیں آج اس مسئلہ کا حل نکالنا ہوگا،صوبے کے متعدد علاقوں میں آج بھی نوگو ایریاز ہیں، ہم سب نے متحد ہو کر اس صوبے کو امن دینا ہوگا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی میزبانی میں گرینڈ جرگہ ختم ہوگیا، وفاقی حکومت نے پی ٹی ایم سے جرگہ کا اختیار علی امین گنڈا پور کو دے دیا، کالعدم پی ٹی ایم عمائدین سے علی امین گنڈا پور خود جرگہ کریں گے
جرگے کے بعد بیرسٹر سیف نے بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ خیبرپختونخوا کی سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے امن کے قیام پر مکمل اتفاق کیا، تمام قائدین نے مسئلے کے پرامن حل کے لیے وزیر اعلیٰ کو مکمل اختیار سونپ دیا، تمام سیاسی جماعتی قائدین نے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا، چیئرمین پی ٹی آئی، وزیر اعلیٰ، وفاقی وزیر داخلہ، گورنر اور پارٹی سربراہان کی درمیان مشاورت جاری ہے، مشاورت کا مقصد آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کرنا ہے،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کل پشتون تحفظ موومنٹ کے جرگہ میں شریک ہوں گے
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے وفاقی حکومت کی جانب سے کالعدم پشتون تحفظ موومنٹ ( پی ٹی ایم) کی سرگرمیوں پر پابندی پر سختی سے عملدرآمد کا اعلان کر دیا ہے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ترجمان بیرسٹر سیف نے کہا کہ پی ٹی ایم آئین پاکستان اور ریاست پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے، انہیں کسی جلسے جلوس اور سرگرمی کی اجازت نہیں دے سکتے۔
خیبرپختونخوا حکومت کا کالعدم پی ٹی ایم کی سرگرمیوں پر سخت پابندی کا اعلان
پی ٹی ایم کے ساتھ بیٹھنے والوں کے شناختی کارڈ بلاک ہوں گے، محسن نقوی
پشاور ہائی کورٹ اور خیبر ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے: کالعدم پی ٹی ایم سے متعلق پٹیشنز
کالعدم پی ٹی ایم جرگہ،ٔپولیس کا دھاوا،متعدد گرفتار
خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین پر پی ٹی ایم کے جلسے میں شرکت کی پابندی: نوٹیفکیشن جاری
عطا تارڑ کا پی ٹی ایم پر کالعدم تنظیموں سے روابط کا الزام
ملک دشمن تنظیم پی ٹی ایم کی حمایت میں فتنہ الخوارج سامنے آ گیا
-

ٹانک،پولیس وین پر حملہ ،2 اہلکار شہید
خیبر پختونخوا کے علاقے ٹانک میں پولیس وین پر حملہ ہوا ، دو اہلکار شہید ہو گئے ہیں
واقعہ ٹانک کے علاقے پٹھا ن کوٹ کے قریب پیش آیا، نامعلوم افراد نے پولیس وین پر گولیاں چلا دیں،جس سے تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے، زخمیوں کو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں دو اہلکاروں کی موت ہو گئی،ڈی پی او کے مطابق پولیس وین معمول کے گشت پر تھی جب حملہ کیا گیا، واقعہ کے بعد نامعلوم افراد فرار ہو گئے ، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے.
وزیرداخلہ محسن نقوی نے ٹانک میں کوٹ پٹھان کے علاقے میں پولیس پوسٹ پر فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کی فائرنگ کی مذمت کی،محسن نقوی نےفائرنگ سے شہید ہونے والے والے 2 پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے، محسن نقوی نے شہیدپولیس اہلکاروں کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کے پوری قوم یکسو ہے
-

گورنر خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ ہاؤس میں جرگے میں شرکت کا اعلان
خیبر پختونخوا کی صورتحال پر گورنرفیصل کریم کنڈی اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے درمیان رابطہ ہوا ہے
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ امن و امان کی صورتحال سے متعلق جرگے میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے،وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے جرگے میں شرکت کرونگا، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی پشاور روانہ ہو گئے
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ حکومت نے پی ٹی ایم کو کالعدم تنظیم قرار دیا تو یہاں حالات کشیدہ ہوگئے، سب مل کر مسائل کا حل نکالیں گے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ وفاقی حکومت سے رابطہ کیا ہے اس نے اچھا جواب دیا ہے، سب مل کر متفقہ طور پر اس مسئلے کا پر امن حل نکالیں گے
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی آج پشاور پہنچ کر وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں شریک ہوں گے،علاوہ ازیں خیبرپختونخوا اسمبلی نے ضلع خیبر میں امن وامان کے معاملہ پر بھی خصوصی کمیٹی قائم کردی، خصوصی کمیٹی کی تحریک صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے پیش کی، کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے اراکین شامل ہوں گے جبکہ کمیٹی کا پہلا اجلاس آج اسمبلی سیکرٹریٹ میں ہوگا۔
خیبر پختونخوا حکومت نے وفاقی حکومت کی جانب سے کالعدم پشتون تحفظ موومنٹ ( پی ٹی ایم) کی سرگرمیوں پر پابندی پر سختی سے عملدرآمد کا اعلان کر دیا ہے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ترجمان بیرسٹر سیف نے کہا کہ پی ٹی ایم آئین پاکستان اور ریاست پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے، انہیں کسی جلسے جلوس اور سرگرمی کی اجازت نہیں دے سکتے۔
خیبرپختونخوا حکومت کا کالعدم پی ٹی ایم کی سرگرمیوں پر سخت پابندی کا اعلان
پی ٹی ایم کے ساتھ بیٹھنے والوں کے شناختی کارڈ بلاک ہوں گے، محسن نقوی
پشاور ہائی کورٹ اور خیبر ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے: کالعدم پی ٹی ایم سے متعلق پٹیشنز
کالعدم پی ٹی ایم جرگہ،ٔپولیس کا دھاوا،متعدد گرفتار
خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین پر پی ٹی ایم کے جلسے میں شرکت کی پابندی: نوٹیفکیشن جاری
عطا تارڑ کا پی ٹی ایم پر کالعدم تنظیموں سے روابط کا الزام
ملک دشمن تنظیم پی ٹی ایم کی حمایت میں فتنہ الخوارج سامنے آ گیا
-

خیبرپختونخوا حکومت کا کالعدم پی ٹی ایم کی سرگرمیوں پر سخت پابندی کا اعلان
پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے کالعدم پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی سرگرمیوں پر سختی سے عملدرآمد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ صوبائی مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پشتون تحفظ موومنٹ کو کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے، جس کے بعد پی ٹی ایم کو کسی بھی قسم کے جلسے، جلوس، اجتماع یا کسی اور سرگرمی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔بیرسٹر سیف نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ کالعدم پی ٹی ایم آئین پاکستان اور ریاست کے مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہی ہے، اور اس کی ہر سرگرمی پر مکمل پابندی عائد ہو چکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 11 سے 13 اکتوبر تک پی ٹی ایم کے اعلان کردہ اجتماع کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور اس سلسلے میں حکومت کے تمام قانونی اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کالعدم تنظیم کے ارکان کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث پائے گئے تو سخت کارروائی کی جائے گی۔
بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں ضلع خیبر میں ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جس پر فوری طور پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے نوٹس لیا۔ اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی وزیراعلیٰ نے اس مسئلے کے حل کے لیے تحریک انصاف ضلع خیبر کے ارکان اسمبلی کو ہدایت کی کہ وہ علاقے میں جا کر صورتحال کو سنبھالیں۔ مزید برآں، وزیراعلیٰ نے اپنی سرکردگی میں ایک جرگہ منعقد کرنے کا اعلان کیا، جس میں تمام متعلقہ فریقین کو مدعو کیا گیا ہے تاکہ مسئلے کو پشتون روایات کے مطابق جرگے کے ذریعے پرامن طور پر حل کیا جا سکے۔صوبائی مشیر اطلاعات نے بتایا کہ ضلع خیبر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے، تاہم اس کے باوجود کالعدم پی ٹی ایم نے علاقے میں اجتماع کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں تنظیم کے ارکان کا پولیس کے ساتھ تصادم ہوا۔ پولیس نے موقع پر موجود رہتے ہوئے امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کی، مگر اس تصادم کے دوران حالات ناخوشگوار ہو گئے۔
بیرسٹر سیف نے کہا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے ضلع خیبر میں پیش آئے ناخوشگوار واقعے کے حل کے لیے کوکی خیل قبیلے کے عمائدین کو بھی اس معاملے میں انگیج کیا ہے، تاکہ علاقے میں امن کی بحالی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام اقدامات کمشنر پشاور اور ضلعی انتظامیہ کی زیر نگرانی کیے جا رہے ہیں، اور حکومت کی کوشش ہے کہ ضلع خیبر میں امن عامہ کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھا جائے۔بیرسٹر سیف نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور اس پورے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں اور صوبائی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ خیبر پختونخوا کے تمام عوام، چاہے وہ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں، ان کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ وزیراعلیٰ نے تمام فریقین کو دعوت دی ہے کہ وہ ان کے زیر سرکردگی ہونے والے جرگے میں شامل ہوں اور افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں۔صوبائی مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے اپنے ویڈیو بیان میں یہ واضح کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت کالعدم پی ٹی ایم کی کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو برداشت نہیں کرے گی اور آئین پاکستان کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کریں تاکہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو سکے اور کسی قسم کی غیر قانونی سرگرمی کی گنجائش نہ رہے۔ -

کے پی اسمبلی میں لڑائی ، 4 سکیورٹی ملازمین معطل
خیبرپختونخوا اسمبلی میں ایم پی ایز کے درمیان ہونے والے لڑائی جھگڑے کے معاملے میں سپیکر نے اسمبلی کے 4 سکیورٹی ملازمین کو معطل کر دیا ہے۔ اسمبلی ذرائع کے مطابق ان سکیورٹی اہلکاروں پر معاون خصوصی برائے ریلیف نیک محمد کو پکڑنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔واقعے کے حوالے سے معاون خصوصی برائے ریلیف نیک محمد کا کہنا ہے کہ لڑائی کے دوران ان سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں پکڑ رکھا تھا، جس کے دوران مخالفین نے ان پر تشدد کیا۔ نیک محمد نے اس واقعے کی شکایت کرتے ہوئے سپیکر کے سامنے ان سکیورٹی اہلکاروں کی کارروائی پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔اسمبلی سیکرٹریٹ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ معطل کیے جانے والے 4 اہلکاروں کے خلاف انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ انکوائری کے دوران سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج سمیت دیگر شواہد کو بھی دیکھا جائے گا تاکہ واقعے کی حقیقت کو سامنے لایا جا سکے۔ سپیکر نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ انصاف کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی اور متاثرہ افراد کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔یہ واقعہ خیبرپختونخوا اسمبلی کی سکیورٹی کی صورتحال پر سوالات اٹھاتا ہے اور اسمبلی میں کام کرنے والے اہلکاروں کی پیشہ ورانہ مہارت پر بھی سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انکوائری کے نتائج کیا پیش کرتے ہیں اور اس کے بعد سکیورٹی کے نظام میں کسی بہتری کی ضرورت ہوگی یا نہیں۔
-

پشاور ہائی کورٹ اور خیبر ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے: کالعدم پی ٹی ایم سے متعلق پٹیشنز
پشاور ہائی کورٹ اور خیبر ڈسٹرکٹ کورٹ نے کالعدم پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) سے متعلق مختلف پٹیشنز پر فیصلے جاری کیے ہیں۔ یہ فیصلے صوبہ خیبر پختونخوا کے رہائشیوں کی جانب سے پی ٹی ایم کی متوازی عدالتی نظام کے قیام کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں کے نتیجے میں سامنے آئے۔خیبر کے رہائشی کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پی ٹی ایم نے متوازی عدالتی نظام قائم کر رکھا ہے، جو قانون کے خلاف ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پی ٹی ایم کو وفاق کی جانب سے کالعدم قرار دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اس کی ہر قسم کی سرگرمی پر قانونی طور پر پابندی عائد ہے۔
دوسری جانب، خیبر ڈسٹرکٹ کورٹ میں ایک شہری کی طرف سے دائر کی گئی پٹیشن میں دعویٰ کیا گیا کہ پی ٹی ایم کی جانب سے متوازی عدالتی نظام کے جلسے کے لیے چنی گئی جگہ متنازعہ ہے۔ کیس کی سماعت دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس عتیق شاہ اور جسٹس صاحب زادہ اسداللہ شامل تھے، نے کی۔عدالت نے فیصلہ دیا کہ پی ٹی ایم کی کسی بھی سرگرمی پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی قانونی طور پر جائز ہے۔ پشتون قومی عدالت کے لیے استعمال ہونے والی زمین بھی متنازعہ قرار دی گئی۔ اس کے نتیجے میں، عدالت نے متنازعہ زمین پر جلسے سے روکنے کے لیے سٹی آرڈر جاری کیا۔ پولیس کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کارروائی کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
عدالت نے پی ٹی ایم کے آرگنائزر اور مقامی کوکی خیل قبائلی رہنماؤں کو بھی زمین پر مداخلت سے روک دیا۔ اس فیصلے کے ذریعے عدالت نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی کالعدم تنظیم کے خلاف قانون نافذ کرنے والے ادارے کارروائی کر سکتے ہیں، اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔یہ فیصلے واضح کرتے ہیں کہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی تنظیم کے غیر قانونی اقدامات کو سختی سے روکا جائے گا۔ یہ پشاور ہائی کورٹ اور خیبر ڈسٹرکٹ کورٹ کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ عوامی مفاد میں قانون کی پاسداری کو یقینی بنائیں گے۔