Baaghi TV

Category: پشاور

  • پشاور ہائیکورٹ،کے پی ہاؤس اسلام آباد کو سیل کرنے کیخلاف دائر درخواست واپس

    پشاور ہائیکورٹ،کے پی ہاؤس اسلام آباد کو سیل کرنے کیخلاف دائر درخواست واپس

    پشاور ہائیکورٹ نے کے پی ہاؤس اسلام آباد کو سیل کرنے کیخلاف دائر درخواست واپس کر دی

    پشاورہائیکورٹ نےایڈووکیٹ جنرل کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی،درخواست پر سماعت چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس وقار احمد نے کی،ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ پختونخوا ہاؤس کو سی ڈی اے نے سیل کیا ہے، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ سی ڈی اے ایک خودمختار باڈی ہے، ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ یہ اقدام سی ڈی اے نے کیا ہے یہ تو کسی وفاقی ادارے نے نہیں کیا، کے پی ہاؤس اسلام آباد میں خیبر پختونخوا کی پراپرٹی ہے، اسلام آباد میں تمام صوبوں کے ہاؤسز موجود ہیں صرف کے پی ہاؤس نہیں ہے، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل صاحب ہم اس میں آپ کے ساتھ ہیں، یہ ایکشن ایک خودمختار اتھارٹی نے لیا ہے وہ وہاں کی ایک ریگولیٹر اتھارٹی ہے،جسٹس وقار احمد نے استفسار کیا کہ آپ فیڈرل گورنمنٹ کے کسی آرڈر سے متاثر ہیں،چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ یہ ہاؤس آپ کی حکومت کا نہیں ہے یہ اس صوبے کے عوام کا ہاؤس ہے، آپ سی ڈی اے کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کریں، ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ یہ ہاؤس کے پی کا ہے اور اس کو سیل کیا گیا ہے،چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ یہ ہمارے دائر اختیار میں نہیں ہے، ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ کے پی ہاؤس 1975 میں بنا ہے، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ آپ درخواست واپس لیں اور کل اسلام آباد ہائیکورٹ جائیں وہاں پر اس کو جمع کریں،

  • بیرسٹر  سیف کا علی امین گنڈاپور کی گمشدگی پر رؤف حسن کو جواب

    بیرسٹر سیف کا علی امین گنڈاپور کی گمشدگی پر رؤف حسن کو جواب

    مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے سابق پارٹی ترجمان رؤف حسن کو جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی پراسرار گمشدگی کے معاملے پر اپنی وضاحت پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ہدایات کے مطابق احتجاج ریکارڈ کروانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر سیف نے کہا کہ یہ بات درست نہیں ہے کہ علی امین گنڈاپور نے کسی قسم کی ڈیل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "در حقیقت، وہ لوگ جو ڈیل کر رہے ہیں، وہ فارم 47 کے تحت اقتدار میں ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ "حالات کے مطابق حکمت عملی تبدیل ہوتی ہے، اور اگر ریاستی جبر کا استعمال ہو رہا ہے تو کیا کسی نے رؤف حسن کو فون کرنا تھا؟”
    بیرسٹر سیف نے اس بات پر زور دیا کہ اگر علی امین گنڈاپور کے خلاف وارنٹ ہوتے، تو وہ خود سرینڈر کر دیتے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ "جب رینجرز چلی گئی، تو وہ باہر نکلے ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے صرف ڈی چوک پر احتجاج کرنے کا کہا تھا، دھرنے کا ذکر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام سینیٹرز اور اراکین اسمبلی کو ہدایت کی گئی تھی کہ علی امین گنڈاپور احتجاج میں شرکت نہ کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ "جب علی امین خیبر پختونخوا ہاؤس میں مشاورت کر رہے تھے، تب ان پر حملہ ہوا، اور اس دوران وزیراعلیٰ کا فون وہیں رہ گیا۔” بیرسٹر سیف نے بتایا کہ "ہم نے اس معاملے میں ان لوگوں سے رابطہ کیا جن کے بارے میں ہمیں معلوم تھا، تو جواب ملا کہ علی امین گنڈاپور ہماری کسٹڈی میں نہیں ہیں۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ضمانت پر تھے، لہذا ان کی گرفتاری کا کوئی جواز نہیں تھا۔یہ وضاحتیں اس وقت سامنے آئیں جب رؤف حسن نے علی امین گنڈاپور کی گمشدگی پر سوالات اٹھائے تھے، جس کے بعد مشیر اطلاعات نے اس معاملے کی وضاحت کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ ان کا یہ بیان موجودہ سیاسی حالات میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی صورت حال کی عکاسی کرتا ہے اور پارٹی کے اندرونی اختلافات کو بھی نمایاں کرتا ہے۔

  • اسلام آباد: خیبر پختونخوا ہاؤس کو سیل کرنے پر کے پی حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف کا شدید ردعمل

    اسلام آباد: خیبر پختونخوا ہاؤس کو سیل کرنے پر کے پی حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف کا شدید ردعمل

    اسلام آباد انتظامیہ اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے خیبر پختونخوا ہاؤس کو سیل کرنے پر خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ پختونخوا ہاؤس کو سیل کرنا غیر قانونی اقدام ہے اور یہ وفاقی اکائی پر ایک جعلی حکومت کی جانب سے حملہ ہے۔بیرسٹر سیف نے کہا کہ خیبر پختونخوا ہاؤس خیبر پختونخوا حکومت کی ملکیت ہے اور جعلی حکومت کا یہ اقدام غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت اس غیر قانونی اقدام کے خلاف ہر ممکن قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ اس سے پہلے بھی وفاقی حکومت کے احکامات پر خیبر پختونخوا ہاؤس پر دھاوا بولا گیا تھا اور عمارت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جعلی حکمران خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف فسطائیت کے ہر حربے کا استعمال کر رہی ہے، لیکن ان غیر قانونی اقدامات کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔بیرسٹر سیف نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت اس معاملے کو عدالت میں لے کر جائے گی اور جعلی حکومت کے غیر قانونی اقدامات کو چیلنج کرے گی۔خیال رہے کہ اس واقعے کے بعد خیبر پختونخوا حکومت اور وفاق کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ قانونی کارروائی کے بعد معاملہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔

  • پشاور: پورے صوبے میں ہزاروں پرائمری اساتذہ سراپا احتجاج ، اپ گریڈیشن کا مطالبہ

    پشاور: پورے صوبے میں ہزاروں پرائمری اساتذہ سراپا احتجاج ، اپ گریڈیشن کا مطالبہ

    پشاور(باغی ٹی وی رپورٹ) پورے صوبے میں ہزاروں پرائمری اساتذہ سراپا احتجاج ، اپ گریڈیشن کا مطالبہ ، 31 اکتوبر تک کا ڈیڈ لائن ،اپ گریڈیشن کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہواتو5 نومبر 2024 کو پشاور میں ایک بڑا دھرناہوگا

    تفصیلات کے مطابق آج اپٹا پشاور نے پشاور پریس کلب کے سامنے تاریخی احتجاج کرتے ہوئے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ پورے خیبر پختونخوا میں ہزاروں پرائمری اساتذہ اسکول بند کر کے احتجاج میں شامل ہوئے، جس میں خواتین اساتذہ نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر اپٹا کے صوبائی صدر عزیز اللہ خان نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 17 جنوری کو سابق صوبائی کابینہ نے پرائمری اساتذہ کی اپ گریڈیشن کی منظوری دی تھی مگر تاحال اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔

    عزیز اللہ خان نے بتایا کہ انہوں نے متعدد بار موجودہ حکومت کے ایم پی ایز اور وزراء سے ملاقاتیں کیں مگر فائنانس ڈیپارٹمنٹ غلط اعداد و شمار پیش کر کے حکومت کو گمراہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرائمری اساتذہ کی اپ گریڈیشن پر تین ارب روپے کے اخراجات ہیں جو حکومت کے لیے کوئی بڑی بات نہیں۔

    آج کے احتجاج میں پورے صوبے کے ہر ضلع میں اساتذہ نے اسکول بند کر کے 11 بجے تاریخی احتجاج ریکارڈ کیا۔ عزیز اللہ خان نے حکومت کو 31 اکتوبر تک کا ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا کہ اگر اپ گریڈیشن کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا تو 5 نومبر 2024 کو پشاور میں ایک بڑا دھرنا دیا جائے گا، جس میں ایک لاکھ پرائمری اساتذہ شرکت کریں گے اور 26 ہزار پرائمری اسکول مکمل طور پر بند کر دیے جائیں گے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ریگولرائزیشن کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی گئی ہے اور 30 جون 2022 تک سی پی فنڈ قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پروموشنز میں فارگو آپشن بحال کیا جائے، ضم اضلاع میں گریڈ 14 کی پوزیشن کوڈ دیا جائے، اور انٹر ڈسٹرکٹ و یو سی ٹرانسفر کا مسئلہ فوری حل کیا جائے۔

    احتجاج سے پشاور کے صدر رفاقت اللہ، جنرل سیکرٹری صاحبزادہ ندیم جان، چیئرمین منظور باچا، اور اے ٹی اے کے نوید گل ہزار خوانی نے بھی خطاب کیا۔

  • لنڈی کوتل:پرائمری اساتذہ کا احتجاج,مطالبات کی منظوری  تک خیبرپختون خواکے تمام سکول بند

    لنڈی کوتل:پرائمری اساتذہ کا احتجاج,مطالبات کی منظوری تک خیبرپختون خواکے تمام سکول بند

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ)پرائمری اساتذہ کا احتجاج,مطالبات کی منظوری تک کے پی کے تمام سکول بند

    تفصیلات کے مطابق آل پرائمری اساتذہ ایسوسی ایشن کے صوبائی صدر عزیز اللہ کی کال پر پورے صوبے میں تمام پرائمری سکول بند ہوگئے۔ اس سلسلے میں لنڈی کوتل میں بھی پرائمری سکول بند رہے اور اساتذہ نے لنڈی کوتل پریس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ان کے مطالبات درج تھے۔

    احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ضلع خیبر کے جنرل سیکرٹری اجمل خان اور تنظیم اساتذہ ضلع خیبر کے صدر شریف اللہ نے کہا کہ پچھلی صوبائی حکومت نے کابینہ سے پرائمری اساتذہ کی اپگریڈیشن کی منظوری دی تھی لیکن ابھی تک اساتذہ کو اس کا فائدہ نہیں پہنچا۔ اساتذہ نے اسکولوں کی نجکاری کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ مفت تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے نجکاری سے لاکھوں طلبہ متاثر ہوں گے۔

    مقررین نے پنشن اصلاحات کے نام پر اساتذہ کے معاشی قتل عام کی روک تھام کا مطالبہ کیا اور کہا کہ سی پی فنڈ سے نئی بھرتی ہونے والے اساتذہ مایوسی کا شکار ہیں، سی پی فنڈ کو ختم کر کے جی پی فنڈ جاری کیا جائے۔

    اساتذہ نے پرائمری اسکولوں میں سٹاف کی کمی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ہائیر اساتذہ کو فارغ کرنے سے پرائمری اسکولوں کے مسائل میں مزید اضافہ ہوا ہے ان کو بحال کیا جائے اور سٹاف کی کمی کو پورا کیا جائے۔

  • وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی نااہلی کے لیے درخواست دائر

    وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی نااہلی کے لیے درخواست دائر

    وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی نااہلی کے لیے درخواست دائر کر دی گئی

    درخواست ایڈوکیٹ عزیز الدین کاکا خیل کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ وزیر اعلی علی امین گنڈا پور نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی، آرٹیکل 62 کے تحت نااہل کیا جائے، علی امین گنڈا پور نے جلسوں کے لیے سرکاری وسائل استعمال کیا ،وزیر اعلی کے منصب پر فائز سرکاری وسائل سیاسی مقاصد کے کے لیے استعمال نہیں کیے جا سکتےعلی امین گنڈا پور نے لشکر کے ساتھ وفاقی حکومت پر چڑھائی کی،جو تشویش ناک ہےدرخواست میں وزیر اعلی کو کام سے روکنے کے لیے حکم امتناع کی استدعا بھی کی گئی ہے، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ وزیر اعلی کے ذاتی اکاؤنٹ سے سرکاری وسائل کے استعمال کی ریکوری کی جائے، گنڈاپور وفاق کیخلاف عوام کو اُکسا رہے ہیں، وہ ریاست کو ریاست کے ساتھ لڑوانا چاہتے ہیں، برطرفی کا حکم دیا جائے

    واضح رہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اسلام آباد میں احتجاج کی کال دی تھی، خود قیادت کرتے آئے اور سرکاری وسائل کا استعمال کیا، خیبر پختونخوا کی پولیس کو بھی احتجاج میں استعمال کیا گیا، گنڈا پور اسلام آباد آ کر روپوش ہو گئے اور پھر پی ٹی آئی لاپتہ ہونے کا الزام عائد کرتی رہی تا ہم گنڈا پور اگلے دن اسمبلی اجلاس جا پہنچے.

    پی ٹی آئی والے اب گنڈاپور کو کیوں گالیاں دے رہے؟عظمیٰ بخاری

    علی امین گنڈاپور کی کے پی کے خزانے کی چوری کی آڈیو سامنے آ گئی

    علی امین گنڈاپور نے گمشدگی کا ڈراما رچایا، وفاقی وزیر اطلاعات

    علی امین گنڈا پور منظر عام پرآ گئے،خیبر پختونخوا اسمبلی میں خطاب، حکومت پر تنقید

    گنڈا پورکے خیبر پختونخوا ہاؤس سے غائب ہونے کے حقائق منظر عام پر

  • خیبر پختونخوا کی جیلیں خواتین کیلئے محفوظ،لڑکی کی عزت لوٹ لی گئی

    خیبر پختونخوا کی جیلیں خواتین کیلئے محفوظ،لڑکی کی عزت لوٹ لی گئی

    خیبر پختونخوا میں جیلوں میں بھی خواتین محفوظ نہ رہیں، جیل میں خاتون کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے

    واقعہ بٹگرام کی سب جیل میں پیش آیا، جیل میں قید 20 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے، لڑکی نے جیل سپرنٹنڈنٹ پر زیادتی کا الزام عائد کیا تو میڈیکل کروایا گیا، میڈیکل رپورٹ میں لڑکی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہو گئی ہے ،لڑکی کے مطابق جیل سپرنٹنڈنٹ نے اسے اپنے دفتر بلایا اور عزت لوٹ لی،واقعہ کے بعد جیل سپرنٹنڈنٹ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے.ڈی پی او کا کہنا ہے کہ جیل سپرنٹنڈنٹ نے مقامی عدالت سےضمانت قبل ازگرفتاری کروالی ہے تاہم جیل سپرنٹنڈنٹ کےخلاف محکمانہ انکوائری کی جارہی ہے۔

    جیل میں لڑکی کے ساتھ زیادتی کے واقعہ پر عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر جیلوں میں قید خواتین بھی محفوظ نہیں تو اسکا ذمہ دار کون ہے، ایسے اہلکاروں کو کڑی سزا ملنی چاہئے جو گھناؤنا کام کرتے ہیں یہ کسی معافی کے لائق نہیں، معاشرے سے ایسی درندگی کے خاتمے کے لئے کڑی سزائیں ضروری ہیں.

  • خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ24 گھنٹے کہاں تھے؟

    خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ24 گھنٹے کہاں تھے؟

    پشاور(باغی ٹی وی رپورٹ)خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور 24 گھنٹے "گمشدہ” رہنے کے بعد خیبر پختونخوا اسمبلی پہنچ گئے۔ حالیہ واقعات کے بعد ان کی غیر موجودگی کے حوالے سے کافی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔

    اسمبلی کے فلور پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے اپنی 24 گھنٹوں کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ "اسلام آباد پولیس کی کارکردگی دیکھیں میں ساری رات وہیں تھا لیکن وہ مجھے نہیں ڈھونڈ سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسلام آباد پولیس نے خیبر پختونخوا ہاؤس پر دھاوا بولا، شیلنگ کی اور توڑ پھوڑ کی۔

    علی امین گنڈا پور نے اسلام آباد پولیس کے آئی جی سے اسمبلی کے فلور پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا آئی جی اسلام آباد کو یہاں آکر معافی مانگنی ہوگی اگر گرفتار کرنا ہے تو کریں، میں یہاں کھڑا ہوں۔”

    وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ وہ کالا شاہ کاکو پہنچ چکے تھے اور مختلف مقامات پر انہیں روکا گیا لیکن وہ وقت پر پہنچنے میں کامیاب رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈی چوک بھی پہنچے، جہاں پولیس نے شدید شیلنگ کی۔

    انہوں نے اسلام آباد پولیس کے آئی جی پر شدید تنقید کی اور کہا کہ "ہماری بےعزتی کا بدلہ لیا جائے گا۔” انہوں نے اس بات کا عندیہ دیا کہ آئی جی اسلام آباد کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وزیر اعلیٰ کی گرفتاری کی متضاد خبریں گردش کر رہی تھیں تاہم وزیر داخلہ محسن نقوی نے وضاحت دی تھی کہ وزیر اعلیٰ کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور ان کے بھاگنے کی ویڈیو موجود ہے۔

  • علی امین گنڈاپور  کی کے پی کے خزانے کی چوری کی آڈیو سامنے آ گئی

    علی امین گنڈاپور کی کے پی کے خزانے کی چوری کی آڈیو سامنے آ گئی

    خیبر پختونخوا کے وزارت خزانہ کے ایک اعلیٰ افسر اور علی امین گنڈاپور کی فروری 2023 کی آڈیو منظر عام پر آ گئی.

    وائرل آڈیو میں صاف سنا جا سکتا ہے کہ علی امین گنڈاپور صوبائی عہدے دار سے پیسے وصول کرنے کی بات کر رہے ہیں جبکہ وہ اُس وقت قومی اسمبلی کے ممبر تھے – علی امین گنڈاپور نے افسر سے کہا کہ سولہ کروڑ آپ کے اکیلے کے ہیں – سولہ کروڑلڑکے کے ہاتھ میرے گھر بھجوا دو اور باقی 25 کروڑ کا بھی جلدی کچھ کرو، ٹھیک ہے دوسرامیں نے کہا ایک اور کیس ہمارا گیا ہوا ہے فنانس ڈپارٹمنٹ 25 کروڑ میرا ہے 25 کروڑ CM (محمود خان) صاحب کا ہے۔ فنانس میں اس نے بلایا ہے اس سے جا کہ مل لینا۔ اس میں یہ تھا کہ یہ پیسے پڑے تھے ریلیف والے کہ یہ ڈی جی کے اکاونٹ میں ہیں۔ اس کو ریلیف سے کلوز کرو اپنے اکاونٹ میں لاو فنانس میں۔

    جواب میں افسر کا کہنا تھا کہ کہا کہ اصل میں آجکل وہ فائنانس والے ہماری بات ہی نہیں مان رہے۔ کل سے ہم لگے ہوئے ہیں ان پی ایم ڈی والوں کے ساتھ آج بھی ان کی میٹنگ تھی نئے CM (اعظم خان) کے ساتھ۔ تو میں انشاللہ آپکا یہ کیس پوچھتا ہوں کہ کیا پوزیشن ہے اور 16 کروڑ اپکو بھجواتا ہوں ابھی لڑکوں سے کہتا ہوں۔ مگر سوچنے کی بات ہے کہ علی امین صاحب اگر صوبائی اسمبلی سے باہر رہ کے اگر اتنا کما سکتے ہیں تو بحثیت وزیر اعلیٰ کیا کر رہے ہوں گے جب صوبے کی ساری دولت ان کے ہاتھ سے گزرتی ہے-دوسروں پر چوری کے الزام اور گالم گلوچ کرنے والے خود ہی چور نکل رہے ہیں اسی وجہ سے 15 سال سے صوبے کا بیڑہ غرق ہو رہا ہے.پی ٹی آئی کی کرپشن کا اپنا ہی لیول ہے عوام کو احتجاج پر لگا کے خود موجیں کر رہے ہیں –

    کراچی ایئرپورٹ کے قریب دھماکا، ایک شخص جاں بحق، 10 زخمی

    غزہ میں 10 ہزار سے زائدلاشیں لاکھوں ٹن ملبے تلے دبی ہونے کا انکشاف

  • علی امین گنڈا پور منظر عام پرآ گئے،خیبر پختونخوا اسمبلی میں خطاب، حکومت پر تنقید

    علی امین گنڈا پور منظر عام پرآ گئے،خیبر پختونخوا اسمبلی میں خطاب، حکومت پر تنقید

    پشاور (باغی ٹی وی) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور اچانک خیبر پختونخوا اسمبلی پہنچے، جہاں انہوں نے اراکین اسمبلی سے مصافحہ کیا اور پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی نے پرجوش نعرے بازی کی۔

    اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے کہا کہ انہیں اپنے ایوان پر فخر ہے اور وہ تحریک انصاف کا ساتھ دینے پر پاکستان کے عوام کے شکر گزار ہیں جو مشکل حالات میں عمران خان اور تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان ہماری نسلوں کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

    علی امین گنڈا پور نے اپنے خطاب میں حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں جلسے کی اجازت نہیں دی گئی اور پرامن احتجاج کا حق نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی کے ذاتی ملکیت نہیں بلکہ سب کا ملک ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف سے پارٹی نشان چھیننے کی کوشش کی گئی اور ان کے لوگوں کو اغوا کیا گیا۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ان پر حملے کیے گئے۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہیں لاہور میں جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، اور صرف مویشی منڈی میں جلسے کی اجازت ملی۔

    وزیر اعلیٰ نے اسمبلی کے موجودہ اراکین پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ اسمبلی میں چھ سے زائد ایسے لوگ نہیں ہیں جو عوامی مینڈیٹ کے ذریعے منتخب ہوئے ہوں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران علی امین گنڈا پور خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں موجود تھے، جہاں ان کے غائب ہونے کی متضاد اطلاعات بھی سامنے آئیں تھیں۔