Baaghi TV

Category: پشاور

  • علی امین گنڈاپور کی گرفتاری کیخلاف  پشاور ہائیکورٹ سے رجوع

    علی امین گنڈاپور کی گرفتاری کیخلاف پشاور ہائیکورٹ سے رجوع

    پشاور: وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی گرفتاری کیخلاف پی ٹی آئی وکلا ونگ نے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔

    باغی ٹی وی: وزیراعلی کے وکیل عالم خان ادینزئی ایڈوکیٹ نے بتایا کہ وزیراعلی کی بازیابی کے لئے درخواست تیار کرلی ہے، ہائیکورٹ عملہ آجائے تو درخواست دائر کریں گے، ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمانخیل نے کہا کہ رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ سے رابطہ ہوا ہے، چیف جسٹس سے آج درخواست پر سماعت کی استدعا کی ہے، امید ہے چیف جسٹس آج خصوصی بنچ تشکیل دیں گے۔

    عالم خان ادینزئی ایڈوکیٹ نے کہا کہ علی امین گنڈاپور صوبے کا وزیراعلی ہے، صوبے کے چیف ایگزیکٹیو کی گرفتاری سے وفاق کیا پیغام دینا چاہتی ہے-

    جب تک کپتان حکم نہیں دیتے احتجاج جاری رہے گا،شیخ وقاص اکرم

    دوسری جانب وزیراعلیٰ کی گمشدگی سےمتعلق اجلاس کے لیے ایڈووکیٹ جنرل کو اسپیکر ہاؤس طلب کیا گیا ہے اجلاس میں پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی اور قانونی ماہرین کو بھی طلب کیا گیا ہے اور اجلاس میں وزیراعلیٰ کی گمشدگی سے متعلق قانونی کارروائی پرمشاورت ہوگی۔

    ادھر علی امین گنڈا کی گرفتاری سے متعلق محسن نقوی کا کہنا تھا وزیراعلیٰ کے پی ہماری حراست میں نہیں ہیں، علی امین کسی اور ادارے کی حراست میں بھی نہیں ہیں، علی امین کے پی ہاؤس میں موجود نہیں، وہاں سے بھاگ گئے تھے، علی امین گنڈا پور خود بھاگے ہیں، ہم نے 2،3 چھاپے مارے تھے، شک تھا کہ وہ موجود ہوں گے لیکن وہ وہاں نہیں تھے، علم نہیں کہ علی امین کے پی پہنچ گئے یا نہیں، کے پی ہاؤس سے علی امین کے بھاگنے کی فوٹیج موجود ہے۔

    علی امین گنڈا پور پولیس یا کسی ادارے کی حراست میں نہیں، وزیر داخلہ

  • وسطی کرم میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے 7 ایف سی اہلکار شہید اور 2 زخمی

    وسطی کرم میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے 7 ایف سی اہلکار شہید اور 2 زخمی

    پشاور: خیبرپختونخوا کے ضلع کرم کی تحصیل وسطی کرم میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے 7 ایف سی اہلکار شہید اور 2 زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی :پولیس ذرائع کے مطابق ضلع کرم میں وسطی کرم کے تھانہ چنارک کے علاقے پستونی میں ایف سی 154 ونگ کے اہلکار قریبی بارانی ندی میں معمول کے گشت پر تھے کہ اس دوران گھات لگائے مسلح دہشت گردوں نے ایف سی اہلکاروں پر چارو ں اطراف سے فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں 7 ایف سی اہلکار جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔

    ذرائع کے مطابق جان بحق اور زخمیوں کو سی ایم ایچ ٹل روانہ کر دیا گیا، جاں بحق اہلکاروں میں نائس لائک جلال، عارف، وحدت، عمرا ن، مصطفٰی، جاوید اور سپاہی اویس شامل ہیں، ضلع کرم کے علاقے وسطی کرم میں گذشتہ کئی ماہ سے دہشت گردی کے اس قسم کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، یہ علاقہ ضلع خیبر اور ضلع اورکزئی کے قریب واقع ہے۔

    امارات ائیرلائنز کی پروازوں میں پیجر‘ واکی ٹاکی پر پابندی عائد

    وزارت داخلہ نے علی گنڈاپور کی گرفتاری کی خبریں بے بنیاد قرار دے دیں

    پی ٹی آئی احتجاج کاتیسرا روز،انٹرنیٹ سروس معطل،میٹرو بس سروس بند

  • گورنر خیبر پختونخوا نے صوبے میں گورنر راج لگانے کا اشارہ دے دیا

    گورنر خیبر پختونخوا نے صوبے میں گورنر راج لگانے کا اشارہ دے دیا

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں گورنر راج لگانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاملات حد سے بڑھ گئے توگورنرراج لگانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا نے یہ عندیہ نجی ٹی وی کے پروگرام گفتگو کرتے ہوئے دیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی جس میں ان کے دورہ امریکا کے علاوہ صوبے کے معاملات کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے ساتھ ہونے والی اس ملاقات میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج اور صوبے کی صورتحال سے متعلق ایک سوال کے جواب میں فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ چیزیں حد سے بڑھ گئیں تو ملک اور جمہوریت کی خاطر گورنر رول نافذ کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ جو چیز آئین میں موجود ہو (گورنر رول) اس کا آپشن ضرور موجود ہوتا ہے، گورنر رول ماضی میں لگائے گئے ہیں، جب مرض لاعلاج ہوجاتا ہے تو نہ چاہتے ہوئے بھی فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔

    اقوام متحدہ کی اسرائیل کی طولکرم پر بمباری میں 18افراد قتل کی مذمت

    پی ٹی آئی کے دھرنے کیخلاف درخواستیں 10سال بعد سماعت کیلئے مقرر

  • بھارتی وزیر خارجہ  کو پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت اور خطاب کی دعوت دیں گے

    بھارتی وزیر خارجہ کو پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت اور خطاب کی دعوت دیں گے

    پشاور: خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کو دعوت دیں گے ہمارے احتجاج میں شرکت کریں اور ہمارے لوگوں سے خطاب کریں-

    باغی ٹی وی: نجی چینل کے پروگرام میں دوران گفتگو بیرسٹر سیف نے کہا کہ علی امین گنڈا پور ڈی چوک پہنچیں گے اور وزیر داخلہ محسن نقوی کو چائے پلائیں گے، ڈی چوک پر ہم احتجاج ریکارڈ کرائیں گے اور بانی پی ٹی آئی کی کال پر احتجاج ختم ہوگا،وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس بیان کی تردید کی کہ ان کے کارکن احتجاج میں اسلحہ لے کر آئیں ہم ایسا کیوں کریں گے جبکہ اس کے بغیر ہی ہمارے مقاصد پورے رہے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی وزیراعظم آرہے ہیں، وہ بہت بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، اس کو یہ دکھا رہے ہیں آپ نے احتجاج کو کینسل کردیا، 10 ہزار کنٹینرز کے پہاڑ اسلام آباد میں کھڑے کیے ہوئے ہیں، اگر وہ دکھانا چاہ رہے ہیں یہ آپ کی جمہوریت کی شکل ہے، ہم جے شنکر کو دعوت دیں گے ہمارے احتجاج میں شرکت کریں اور ہمارے لوگوں سے خطاب کریں، دیکھیں پاکستان کی جمہوریت کتنی مضبوط جمہوریت ہے جہاں پر ہر کسی کو احتجاج کا حق ہے۔

    فساد کی سیاست کی پاکستان میں گنجائش نہیں ہے،مصدق ملک

    جو بائیڈن کی جانب سے ایران پر حملوں کی حمایت نہ کرنا غلط ہے، ڈونلڈ …

    اوچ شریف :عباسیہ نہر ٹوٹنے سے پانی بستیوں میں داخل

  • فوج سے ہماری کوئی لڑائی نہیں ، بیر سٹر سیف

    فوج سے ہماری کوئی لڑائی نہیں ، بیر سٹر سیف

    خیبر پختونخوا حکومت کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ڈی چوک پہنچ کر احتجاج کریں گے اور محسن نقوی کو چائے پلائیں گے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کےدوران انہوں نے موجودہ سیاسی صورتحال اور حکومت کے اقدامات پر بات کی۔بیرسٹر سیف نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت ڈی چوک پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرائے گی اور یہ احتجاج تحریک انصاف کے بانی کی کال پر ختم ہوگا۔ انہوں نے اسلحہ لانے کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "وزیر داخلہ غلط بیانی کر رہے ہیں، ہم اسلحہ کیوں لائیں گے؟” ان کا مزید کہنا تھا کہ پر امن احتجاج ان کے مفاد میں ہے اور اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی ذمہ داری مخالفین پر ہوگی۔
    بیرسٹر محمد علی سیف نے فوج کے ساتھ مقابلے کی افواہوں کو بھی بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ "ہم فوج سے کیوں مقابلہ کریں گے؟ ہمارا ان سے کوئی جھگڑا نہیں ہے، بلکہ ہم ان کا احترام کرتے ہیں۔” انہوں نے واضح کیا کہ فوج تحریک انصاف کا احتجاج روکنے کے لیے نہیں بلکہ ایس سی او کی سیکیورٹی کے لیے آ رہی ہے۔
    جمہوریت میں احتجاج کے حق پر زور دیتے ہوئے بیرسٹر سیف نے کہا کہ آئین کے آرٹیکلز 17 اور 15 کے تحت ہر شہری کو پُرامن احتجاج کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے محسن نقوی کی جانب سے دیے گئے بیانات کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ "ہمیں ملک کی پرواہ ہے اور ہم آئینی حقوق کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کریں گے۔”

  • حکومت کے ریاستی جبر کا عوام بھرپور جواب دیں گے ،بیرسٹر سیف

    حکومت کے ریاستی جبر کا عوام بھرپور جواب دیں گے ،بیرسٹر سیف

    پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے رہنما بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے اپنے تازہ بیان میں ملک کی سیاسی صورتحال اور حکومت کے اقدامات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی کال پر عوام کا سمندر ڈی چوک کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق، خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کا قافلہ صوابی سے نکل کر اٹک کی طرف روانہ ہو چکا ہے، جس میں عوام کا جوش و خروش قابل دید ہے۔بیرسٹر سیف نے زور دے کر کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور عوام، جو کہ پُرامن احتجاج کی نیت سے نکلے ہیں، اپنی تحریک کو ڈی چوک تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی حقوق کے لیے یہ تحریک ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے جسے وفاقی اور صوبائی حکومتیں سنجیدگی سے نہیں لے رہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوابی سے آگے موٹروے پر کیل بچھائے گئے ہیں تاکہ احتجاج کرنے والوں کی پیش قدمی کو روکا جا سکے۔بیرسٹر سیف نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ پُرامن لوگوں سے خوفزدہ ہو چکی ہے اور اسی وجہ سے ایسے ہتھکنڈے اپنا رہی ہے جو جمہوری اصولوں کے منافی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام نے مینڈیٹ چوری کرنے والے حکمرانوں کے خلاف نکلنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور وہ ان سے حساب لینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ن لیگ نے پُرامن احتجاج کے دوران حالات کو بگاڑنے اور لاشیں گرانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق، مسلم لیگ (ن) کے مسلح کارکنان کو احتجاج میں شامل کرنے کے شواہد ملے ہیں، جو کہ تحریک انصاف کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔ بیرسٹر سیف نے اس حوالے سے برہان انٹرچینج کے قریب موٹروے کی کھدائی کا بھی ذکر کیا، جو ان کے بقول احتجاج کو زبردستی پُرتشدد بنانے کی ایک کوشش ہے۔
    پی ٹی آئی رہنما نے حکومت کے رویے کو ریاستی جبر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپنے حقوق کے لیے نکلنے والے عوام کے ساتھ ایسا سلوک ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی اور پنجاب حکومتیں پُرامن احتجاج کو پُرتشدد بنانا چاہتی ہیں تاکہ وہ تحریک انصاف کو بدنام کر سکیں، لیکن عوامی ردعمل ان تمام حربوں کا بھرپور جواب دے گا۔بیرسٹر سیف نے شریف خاندان کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ن لیگ اپنی "گندی سیاست” کے لیے قومی اداروں کا استعمال کر رہی ہے، جو کہ ملکی سیاست اور جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کو سیاسی اداروں تک محدود رہنا چاہیے اور شریف خاندان کو عوام پر مسلط کرنا ایک سنگین غلطی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ شریف خاندان بین الاقوامی سطح پر ایک کرپٹ سیاسی خاندان کے طور پر ثابت ہو چکا ہے، اور پاکستانی عوام کے لیے یہ خاندان کسی سزا سے کم نہیں ہے۔ ان کے مطابق، پاکستان کی سیاسی و اقتصادی صورت حال اس قدر بدتر ہو چکی ہے کہ اب شریف خاندان سے نجات ضروری ہو چکی ہے۔
    بیرسٹر سیف نے اپنے بیان کے اختتام پر زور دیا کہ تحریک انصاف عوام کی طاقت پر بھروسہ رکھتی ہے اور عوامی مینڈیٹ کے خلاف کی جانے والی تمام سازشوں کو ناکام بنا دے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک عوام کے حقوق کی بازیابی کی تحریک ہے، جسے کسی بھی قیمت پر نہیں روکا جا سکتا۔پاکستان میں اس وقت سیاسی کشمکش عروج پر ہے، اور تحریک انصاف کی قیادت یہ واضح پیغام دے رہی ہے کہ وہ عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ PTI کی یہ احتجاجی تحریک آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، اور دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کس طرح اس صورتحال سے نمٹتی ہے۔

  • پشاور ہائیکورٹ میں علی امین گنڈا پور کی 2مقدمات میں ضمانت منظور

    پشاور ہائیکورٹ میں علی امین گنڈا پور کی 2مقدمات میں ضمانت منظور

    پشاور:پشاور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی 2 مقدمات میں 25 اکتوبر تک راہداری ضمانت منظور کرلی-

    باغی ٹی وی:پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم نے لاہور جلسے اور راولپنڈی احتجاج کے بعد درج 2 مقدمات میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی راہداری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل عالم خان ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے راہداری ضمانت کے لیے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔

    وکیل نے مؤقف اپنایا کہ درخواست گزار کے خلاف اسلام آباد میں مقدمات درج کیے گئے ہیں، درخواست گزار متعلقہ عدالتوں میں پیش ہونا چاہتا ہے لیکن گرفتاری کا خدشہ ہے، درخواست گزار کو راہداری ضمانت دی جائے تاکہ وہ متعلقہ عدالتوں میں پیش ہو سکے۔

    بعدازاں عدالت نے وزیراعلی خیبرپختوںخوا علی امین گنڈاپور کو 25 اکتوبر تک راہداری ضمانت دے دی اور درخواست گزار کو متعلقہ عدالتوں میں پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر راہداری ضمانت کے لیے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی، لاہور جلسے اور راولپنڈی احتجاج کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف مقدمات درج کرلیے گئے تاہم انہوں نے درج مقدمات میں راہداری ضمانت کے لیے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی۔

    پشاور ہائیکورٹ میں دائر راہداری ضمانت کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار کے خلاف اسلام آباد میں مقدمات درج کیے گئے ہیں، درخواست گزار خیبرپختونخوا کا وزیر اعلی ہے درخواست گزار متعلقہ عدالتوں میں پیش ہونا چاہتا ہے لیکن گرفتاری کا خدشہ ہے، درخواست گزار کو راہداری ضمانت دی جائے تاکہ وہ متعلقہ عدالتوں میں پیش ہو سکے۔

    احتجاج ملتوی کرنے کا اختیار نہیں،اگر کسی نے تشدد کیا تو حالات کا وہ …

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے درخواست آج سماعت کے لیے مقرر کرنے کی بھی استدعا کی ہے،وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور عدالت سے راہداری ضمانت ملنے کے بعد پشاور ہائیکورٹ سے ڈی چوک پر احتجاج کے لیے روانہ ہوں گے۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ہرصورت ڈی چوک جائیں گے، اکیلا بھی رہ گیا، تب بھی جاؤں گا، اگر کسی نے تشدد کیا تو حالات کا وہ ذمہ دار ہوگا، میرے پاس احتجاج ملتوی کرنے کا اختیار نہیں،بانی قائدعمران خان کا حکم میرے لیے ریڈ لائن ہے، مجھ سے احتجاج کے حوالے سے رابطہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، میرے پاس احتجاج ملتوی کرنے کا اختیار نہیں ہے، میرا اختیار عمران خان کے پاس ہےجب تک بانی قائد کا حکم نہیں آتا میں آگے بڑھتا رہوں گا، اگر جلوس میں اکیلا بھی رہ جاتا ہوں تب بھی اگے بڑھتا رہوں گا۔

    پی ٹی آئی کا ی چوک پر احتجاج :موبائل سروس معطل، ڈبل سواری پر پابندی،سڑکیں …

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے آج اسلام آباد میں ڈی چوک پر احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے، حکومت نے بھی احتجاج سے نمٹنے کا پلان فائنل کرلیا ہےاسلام آباد کے تمام راستے کنٹینرز لگاکر بند کردیے گئے، وفاقی دارالحکومت میں تمام نجی اسکول آج بند ہیں، میٹروسروس معطل رہے گی جبکہ 60 افغانوں سمیت 400 سے زائد پی ٹی آئی کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا-

  • احتجاج ملتوی کرنے کا اختیار  نہیں،اگر کسی نے تشدد کیا تو حالات کا وہ ذمہ دار ہوگا،علی امین گنڈا پور

    احتجاج ملتوی کرنے کا اختیار نہیں،اگر کسی نے تشدد کیا تو حالات کا وہ ذمہ دار ہوگا،علی امین گنڈا پور

    پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ہرصورت ڈی چوک جائیں گے، اکیلا بھی رہ گیا، تب بھی جاؤں گا-

    باغی ٹی وی: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ن علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ڈی چوک احتجاج کیلئے ہماری تیاری مکمل ہے اور ہمارا احتجاج پُرامن ہے، اگر ہمارے جلوس پر کسی نے تشدد کیا تو حالات کا وہ ذمہ دارہوگا قائد عمران خان کا حکم میرے لیے ریڈ لائن ہے، مجھ سے احتجاج کے حوالے سے رابطہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، میرے پاس احتجاج ملتوی کرنے کا اختیار نہیں ہے، میرا اختیار عمران خان کے پاس ہےجب تک بانی قائد کا حکم نہیں آتا میں آگے بڑھتا رہوں گا، اگر جلوس میں اکیلا بھی رہ جاتا ہوں تب بھی آگے بڑھتا رہوں گا،اگر کسی نے تشدد کیا تو حالات کا وہ ذمہ دار ہوگا-

    پنجاب پولیس اپنی آئینی حدود میں رہے ورنہ قانونی طور پر آخری حد تک جائیں گے،بیرسٹر سیف

    مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ معلومات موصول ہو رہی ہیں کہ لیگی سرکار نے گلو بٹ تیار کر لئے ہیں، ہمارے پر امن احتجاج پر تشدد کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، گزشتہ روز بھی بدنام زمانہ پنجاب پولیس نے فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کی، ن لیگیوں نے جمہوریت کا جنازہ نکال دیا ہے، ن لیگ فاشزم اور جبر کی علامت بن چکی ہے، تشدد کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا-

    انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس اپنی آئینی حدود میں رہے ورنہ قانونی طور پر آخری حد تک جائیں گےپرامن لوگوں کو کمزور نہ سمجھا جائے اینٹ کا جواب پتھر سے دینا جانتے ہیں، قوم بخوبی جانتی ہے پنجاب پولیس اور ن لیگ کی ڈوریں کہاں سے ہلائی جا رہی ہیں، پر امن احتجاج کو کچھ اور رنگ دینے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے، ہم کاغذی شیروں کو جلا کر رکھ دیں گے۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے آج اسلام آباد میں ڈی چوک پر احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے، حکومت نے بھی احتجاج سے نمٹنے کا پلان فائنل کرلیا ہےاسلام آباد کے تمام راستے کنٹینرز لگاکر بند کردیے گئے، تمام نجی سکول آج بند ہیں، میٹروسروس معطل رہے گی-

  • بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا فیصل واوڈا کے بیان پر شدید ردعمل

    بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا فیصل واوڈا کے بیان پر شدید ردعمل

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے حالیہ بیانات پر شدید ردعمل دیا ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے فیصل واوڈا کے اس بیان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واوڈا خود ایک پیادہ ہیں اور انہیں یہ وضاحت دینی چاہیے کہ وہ کس کے کہنے پر "بھگوڑے” بنے ہیں۔ سیف نے سوال اٹھایا کہ واوڈا کن مقاصد اور کس ہدایت پر ایسے بیانات دے رہے ہیں جو نہ صرف پی ٹی آئی بلکہ ملک کی سیاسی صورتحال کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔بیرسٹر سیف نے کہا کہ واوڈا کی جانب سے عمران خان پر الزامات دراصل ایک منظم مہم کا حصہ ہیں جس کے پیچھے کچھ "پوشیدہ ہاتھ” ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیصلواوڈا کو یہ وضاحت دینی ہوگی کہ وہ کن قوتوں کے اشارے پر ایسی حرکات کر رہے ہیں جو ملک میں انتشار اور فساد پھیلانے کا باعث بن رہی ہیں۔
    پی ٹی آئی رہنما نے اپنے بیان میں مسلم لیگ (ن) کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ مسلسل سرکاری وسائل اور اداروں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اور مریم نواز کو اپنے ضمیر کا جائزہ لینا چاہیے اور یہ سوچنا چاہیے کہ وہ عوامی نمائندے بننے کے اہل ہیں یا نہیں۔بیرسٹر سیف نے ن لیگ کی ماضی کی سیاسی حکمت عملی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ن لیگ پنجاب کارڈ کا ہمیشہ سے غلط استعمال کرتی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نہتے مظاہرین پر گولیاں چلانا جمہوریت کے خلاف بغاوت کے مترادف ہے، اور ن لیگ نے ماڈل ٹاؤن کے سانحے میں نہتے لوگوں پر گولیاں برسائیں۔
    بیرسٹر سیف نے موجودہ وفاقی حکومت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے عوام کا مینڈیٹ چوری کرکے خود کو زبردستی عوام پر مسلط کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے ڈنڈا بردار جتھوں نے ماضی میں سپریم کورٹ پر حملہ کیا تھا اور آج بھی وہی ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اور ان کے "آلہ کار” ملکی اداروں کو سیاست کی بھینٹ چڑھا چکے ہیں، اور ملک کو اس وقت اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ سیاست کو صرف سیاسی اداروں کے حوالے کیا جا سکے۔
    بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ تصادم کی سیاست وفاقی حکومت کی جانب سے کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان نے ہمیں احتجاج کا حق دیا ہے، اور اس حق کو دبانے کے لیے ن لیگ طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ملک کے مختلف طبقات کو تقسیم کرنے اور اپنی مرضی کے فیصلے مسلط کرنے کے لیے مسلسل تشدد کا سہارا لیا ہے۔بیرسٹر سیف کے مطابق تمام قومیں پاکستانی ہیں اور کسی بھی سیاسی جماعت کو یہ حق نہیں کہ وہ عوامی مسائل کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاست میں اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ عوامی مسائل کو حل کرنے کے لیے سیاسی اداروں کو مضبوط کیا جا سکے۔آخر میں بیرسٹر سیف نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوری اداروں کی مضبوطی کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے سیاست کو گمراہ کن مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے اور ملکی اداروں کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
    واضح رہے کہ فیصل واوڈا نے عمران خان پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اقتدار کے لیے "لاشیں گرانے” کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ واوڈا کے مطابق عمران خان غریب عوام کے بچوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں اور اقتدار حاصل کرنے کے لیے ان کی قربانی دینے سے بھی گریز نہیں کر رہے۔ فیصل واوڈا کا یہ بیان پی ٹی آئی کے اندر اور باہر دونوں جانب ایک بڑی بحث کا باعث بنا ہے۔واوڈا نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ عمران خان صرف اپنے اقتدار کے لیے عوامی جانوں کو داو پر لگا رہے ہیں اور اپنی سیاست کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے انتہاپسندانہ رویوں کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، "عمران خان کہتے ہیں کہ میرے اقتدار کے لیے لاشیں گرا دو۔” یہ بیان ملک کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں تشویش کا باعث بنا ہے۔

  • پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس کا 10واں سالانہ اجلاس، نئے عہدیداروں کا انتخاب

    پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس کا 10واں سالانہ اجلاس، نئے عہدیداروں کا انتخاب

    پشاور(باغی ٹی وی رپورٹ) گزشتہ روز پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PAJCCI) کا 10واں سالانہ جنرل باڈی اجلاس چیئرمین محمد زبیر موتی والا کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سابق صدر پی اے جے سی سی آئی جاوید بلوانی نے میزبانی کے فرائض انجام دیے، جب کہ اجلاس میں موجودہ صدر قاضی زاہد حسین، نومنتخب صدر جنید اسماعیل مکڈا، کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر افتخار شیخ، سابق صدر محمد ادریس، اے کیو خلیل، طلعت محمود اور دیگر کئی اہم کاروباری شخصیات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

    اس اجلاس کا مقصد پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا اور دوطرفہ تجارت کو درپیش چیلنجز کو حل کرنا تھا۔ چیئرمین محمد زبیر موتی والا نے اپنے خطاب میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں حالیہ کمی پر تشویش کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ تجارت کی بحالی اور بزنس ٹو بزنس تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان زراعت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں باہمی تعاون کے ذریعے تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    اجلاس کے دوران پاک افغان جائنٹ چیمبر کے 2024-26 کی مدت کے لیے نئے عہدیداروں کا انتخاب بھی عمل میں آیا۔ متفقہ طور پر چیئرمین محمد زبیر موتی والا نے جنید اسماعیل مکڈا کو نیا صدر، ضیاء الحق سرحدی کو سینئر نائب صدر اور پرویز لالہ کو نائب صدر نامزد کیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ضیاء الحق سرحدی اس سے قبل بھی دو مرتبہ چیمبر کے سینئر نائب صدر رہ چکے ہیں اور اب وہ تیسری بار اس عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر بھی رہ چکے ہیں اور 2024-26 کے انتخابات میں چھٹی مرتبہ سرحد چیمبر آف کامرس کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن مقرر ہوئے ہیں۔

    نومنتخب صدر جنید اسماعیل مکڈا نے اپنے خطاب میں چیمبر کے اراکین کا شکریہ ادا کیا اور ان پر کیے گئے اعتماد کو سراہا۔ انہوں نے سابق صدر قاضی زاہد حسین کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں چیمبر ترقی کی نئی منازل طے کرے گا۔ جنید مکڈا نے پاک افغان تجارت میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ وہ خطے کے چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

    سینئر نائب صدر ضیاء الحق سرحدی نے اپنے خطاب میں چیمبر کے لیڈر محمد زبیر موتی والا کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان پر کیے گئے اعتماد پر پورا اترنے کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔ انہوں نے پاک افغان تجارت کو درپیش مسائل، خاص طور پر طورخم بارڈر پر لاجسٹک مسائل اور خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے عائد کیے گئے 2 فیصد سیس انفراسٹرکچر ٹیکس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جو کہ ایکسپورٹ اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پر لاگو کیا گیا ہے۔

    ضیاء الحق سرحدی نے اجلاس کے دوران اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ گزشتہ ایک ماہ سے پاک افغان شاہراہ کی بندش اور حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا کارگو ایران کی بندرگاہ بندرعباس اور چاہ بہار پورٹ منتقل ہو چکا ہے، جس سے افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کی باہمی تجارت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور پاک افغان شاہراہ کو فوری طور پر کھولنے کے لیے اقدامات کریں تاکہ تجارت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

    اجلاس کے اختتام پر نومنتخب نائب صدر پرویز لالہ نے لاہور اور پنجاب کے دیگر خطوں کے تاجروں کے لیے پاک افغان جائنٹ چیمبر کے کردار کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہموار تجارتی عمل کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ تاجروں کو درپیش مسائل کا فوری حل ممکن ہو سکے۔

    سابق صدر قاضی زاہد حسین نے بھی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نومنتخب کابینہ کی کاوشوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ ان کی قیادت میں پاک افغان جائنٹ چیمبر مزید ترقی کرے گا اور تمام تجارتی چیلنجز کو کامیابی سے حل کرے گا۔