Baaghi TV

Category: پشاور

  • مشتاق غنی کی حفاظتی ضمانت کی درخواست،عدالت کا پاسپورٹ جاری کرنیکا حکم

    مشتاق غنی کی حفاظتی ضمانت کی درخواست،عدالت کا پاسپورٹ جاری کرنیکا حکم

    پشاور ہائی کورٹ نے اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی مشتاق غنی کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    وکیل درخواستگزار نے عدالت میں کہا کہ مشتاق غنی بیرون ملک ہیں اور وہ آنا چاہتے ہیں لیکن خدشہ ہے کہ انہیں گرفتار کیا جائے گا، ان کا پاسپورٹ بھی زائد المعیاد ہے، لہٰذا حفاظتی ضمانت دی جائے،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ مشتاق غنی کو ہائی کورٹ نے 27 دسمبر تک سفری ضمانت دی تھی تاہم 27 دسمبر تک حفاظتی ضمانت کے باوجود وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے، اگر پاسپورٹ زائد المعیاد ہے تو وہ ایف آئی اے سے رابطہ کریں،

    عدالت نے وفاقی وزارت داخلہ اور پاسپورٹ آفس کو درخواست گزار کو پاسپورٹ جاری کرنے کا حکم دیا، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ درخواست گزار سپیکر صوبائی اسمبلی ہے پاسپورٹ کے لئے اپلائی کیا ہے لیکن ان کو پاسپورٹ جاری نہیں کیا جارہا۔ ہم نے ارجنٹ پاسپورٹ فیس بھی جمع کیا ہے, اس کے باوجود پاسپورٹ جاری نہیں کیا جارہا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ درخواست گزار کہا ں پر ہے۔? وکیل درخواست گزار نے کہا کہ درخواست گزار لندن میں ہے, ان کا نام ای سی ایل پر ہے اور پاسپورٹ ایکسپائر ہوا ہے۔ پاسپورٹ جاری کیا جائے گا تو وہ واپس آئے گا۔درخواست گزار کو عبوری ضمانت دی جائے کہ ان کو واپسی پر گرفتار نہ کیا جائے۔ عدالت نے وفاقی وزارت داخلہ اور پاسپورٹ آفس کو درخواست گزار کو پاسپورٹ جاری کرنے کا حکم دے دیا،سماعت جسٹس کامران حیات میاں خیل نے کی.

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

  • اے این پی کے رہنما کا  پیپلزپارٹی میں شمولیت کا فیصلہ

    اے این پی کے رہنما کا پیپلزپارٹی میں شمولیت کا فیصلہ

    پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کے ناراض رہنما عدنان جلیل نے پیپلزپارٹی میں شمولیت کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے عدنان جلیل نے کہا کہ آصف زرداری اور بلاول نے پیار اور عزت دی، ان دونوں کے پیارکے سبب پی پی میں جانےکا فیصلہ کیا ہے، وزارت کے دوران ایمل ولی نےکرپٹ افسرکو سپورٹ کرنےکا کہا جس پر انکارکیا، کرپٹ افسر کو سپورٹ سے انکار پرپارٹی قیادت خفا ہوئی اور وزرات سے ہٹادیا گیا۔

    واضح رہے کہ مرحوم رہنما حاجی عدیل کے بیٹےعدنان جلیل نے پی کے 81 سے کاغذات نامزدگی جمع کرا رکھے ہیں اور چند روز قبل آصف زرداری نے ان سے ملاقات کرکے انہیں پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی تھی،عدنان جلیل اسی ہفتے آصف زرداری سےملاقات میں پارٹی میں شامل ہونےکا اعلان کریں گے جبکہ اےاین پی نےبھی عدنان جلیل کو منانے کے لیے جرگہ بھیجا تھا۔

    نئے سال کے آغاز پر پیٹرول کی قیمت میں کمی کا امکان

    اوور سیز پاکستانی کے بینک اکاؤنٹ سے 41 کروڑ روپے غائب ہو گئے

    لیگی امیدوار کا حامیوں سے قرآن پر حلف

  • پشاور ہائیکورٹ نے تحریکِ انصاف کا انتخابی نشان "بلا” بحال کر دیا

    پشاور ہائیکورٹ نے تحریکِ انصاف کا انتخابی نشان "بلا” بحال کر دیا

    پشاور ہائیکورٹ،تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم ہونے کا معاملہ ،الیکشن کمیشن کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    پشاور ہائیکورٹ نے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم اور پارٹی نشان واپس لینے کے فیصلے کو عبوری معطل کردیا،عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن کے فیصلے پر حکم امتناع جاری کردیا،عدالت نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ ہونے تک الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل ہوگا،پشاور ہائی کورٹ نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ چھٹیوں کے ختم ہونے کے بعد پہلے ڈبل بینچ میں کیس سنا جائے۔

    وکیل تحریک انصاف بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 2 دسمبر کو انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد کو تسلیم کیا، الیکشن کے انعقاد میں کوئی بے ضابطگی کا نہیں کہا، الیکشن کمیشن نے انتخابات کو درست جبکہ اس کے انعقاد کرنے والے پر اعتراض کیا، الیکشن کمیشن نے ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی سے انتخابی نشان لیا، اب ہم الیکشن میں بطور پارٹی حصہ نہیں لے سکتے،مخصوص نشستیں بھی سیاسی جماعت کو بغیر انتخابی نشان نہیں مل سکتیں، سیاسی جماعت کو انتخابات سے باہر کردیا گیا، انتخابی نشان سیاسی پارٹی کی پہچان ہوتی ہے، اسکے بہت سنجیدہ ایشو ہوں گے،انتخابی نشان کے بغیر امیدوار میدان میں نہیں اُترسکتے، ریزرو سیٹ بھی اقلیتی امیدوار کو نہیں مل سکتی ،جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد کیلیے جنرل سیکرٹری کے کمیشن بنانے پر اعتراض کیا؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جی الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات کو صحیح جبکہ پارٹی کے جنرل سیکرٹری کیجانب سے کمیشن کی تقرری پر اعتراض کیا ، علی ظفر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو انٹرا پارٹی الیکشن کو سوالیہ نشان بنانے کا اختیار نہیں ،الیکشن کمیشن کو انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں ،پولیٹکل پارٹیز ایکٹ اور الیکشن ایکٹ واضح ہے اور ان میں اختیارات کا تعین ہے ،

    جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ میں نے فیصلہ نہیں پڑھا، کیا صرف یہی لکھا ہے کہ الیکشن کرانے والے کی تعیناتی غلط ہے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بالکل الیکشن کمیشن نے یہی لکھا ہے، الیکشن کمیشن پارٹی میں تعیناتیوں پر سوال نہیں اٹھا سکتا، الیکشن کمیشن انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم نہیں کرسکتا، اگر الیکشن کمیشن کو یہ اختیارات دیئے گئے تو آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی ہوگی۔الیکشن کمیشن کے پاس کسی بھی سیاسی پارٹی کے عہدیدار کی تقرری ، انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں ، الیکشن کمیشن کے پاس کورٹ کی طرح اختیارات نہیں ہیں ، الیکشن کے حوالے سے معاملات سول کورٹ باقاعدہ ٹرائل کے بعد طے کرتا ہے، 8 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جنہوں نے انٹرا پارٹی انتخابات پر اعتراض نہیں کیا ،عدالت نے استفسار کیا کہ اگر سیکرٹری جنرل مستعفی ہوجائے تو کیا ہوگا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایڈیشنل سیکرٹری جنرل عہدے سنبھالا لیتا ہےاس وقت عمر ایوب تھے،جسٹس کامران حیات نے کہا کہ کیا اسد عمر نے استعفیٰ دیا اور وہ منظور ہوا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جی بالکل ، جنوری میں اسد عمر گرفتار ہوئے اور جب واپس آئے تو استعفیٰ دیا، اسد عمر کے بعد عمر ایوب جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے،

    جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف درخواستگزار کون ہیں ؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف درخواست عام شہریوں کے طور پر دی گئی ،کسی بھی سیاسی پارٹی کو صرف سپریم کورٹ نکال سکتی ہے الیکشن کمیشن کمیشن نہیں، جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ آپ کی پارٹی کے آئین و رولز میں انٹرا پارٹی انتخابات کا کیا طریقہ کار ہے؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پارٹی چیئرمین کا انتخاب خفیہ بیلٹ پر ہوگا، رجسٹرڈ ووٹرز ہی الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں ، ، انٹرا پارٹی انتخابات رولز ہم نے بنائے ہیں ہم ہی اپ ڈیٹ کرینگے،الیکشن کمیشن ڈائریکشن نہیں دے سکتا، جسٹس کامران حیات نے کہا کہ الیکشن کمیشن یہ کہ رہی ہے کہ آئین کے مطابق الیکشن نہیں ہوا،آپ یہ کہنا جاتے ہیں کہ اگر الیکشن نہیں کروائیں گے تو پھر پارٹی جرمانہ ہوگا، علی ظفر نے کہا کہ یہاں تو اس سے بڑا فیصلہ ہوا ہے اور پارٹی کو الیکشن سے ہی باہر نکال دیا،ایک طرف ہمیں کہا جاتا ہے کہ 20دن میں انٹرا پارٹی انتخابات کروائیں دوسری جانب اعتراض کررہے ہیں ، انٹرا پارٹی کے خلاف 14بندوں نے الیکشن کمیشن میں درخواست دی ایک بھی پارٹی ممبر نہیں تھا، الیکشن کمیشن کو بتایا کہ درخواستگزار پی ٹی آئی ممبر شپ کو کوئی ثبوت دیں ، اگر انتخابی نشان نہیں ملا تو ہمیں اقلیتی اور خواتین کی مخصوص نشستیں نہیں ملے گی، 30دسمبر اسکروٹنی کا آخری دن ہے ہمیں نشان الاٹ کیا جائے،

    جسٹس کامران حیات نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ آج نہیں کرسکتے، کیونکہ یہ ڈویژنل بینچ کا کیس ہے،پی ٹی آئی کی آج ہی درخواست پر فیصلہ کرنے کی استدعا پشاور ہائیکورٹ نے مسترد کر دی،انٹرا پارٹی انتخابات پر الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف پشاور ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کچھ دیر کا وقفہ کر دیا گیا، بیرسٹر علی ظفر کے دلائل مکمل ہو گئے، عدالت نے کہا کہ سرکاری وکلاء کو وقفے کے بعد سنتے ہیں.

    دوبارہ سماعت ہوئی جسٹس کامران حیات میاں خیل نے وکیل الیکشن کمیشن سے کہاکہ آپ ادھر ادھر جاتے ہیں جو سوال کیا ہے اس پر آ جائیں،وکیل نے کہاکہ پارٹی کو نشان تب الاٹ ہوتا ہے جب وہ الیکشن کرائے اور سرٹیفکیٹ جمع کرائے،جسٹس کامران نے کہاکہ الیکشن شیڈول جاری ہو گیا ہے اب تو نشان نہیں روک سکتے،الیکشن شیڈول جاری ہو گیاہے نشان دینا ہوگا،

    قبل ازیں تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات پر الیکشن کمیشن کے فیصلے کوپشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا، درخواست میں پی ٹی آئی کے وکلاء نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے استدعا کی ہے،تحریک انصاف کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس پارٹی انتخابات کرانے کے طریقے پر فیصلے کا اختیار نہیں، پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو چیلنج کرنے والے پارٹی ممبر ہی نہیں، الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان بلا بھی واپس لے لیا ہے،تحریکِ انصاف نے اپنی درخواست میں الیکشن اور انٹرا پارٹی انتخابات کو چیلنج کرنے والے درخواست گزاروں کو بھی فریق بنایا ہے،عدالت سے سینئر ججز پر مشتمل بینچ بنانے اور درخواست آج ہی سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی گئی ہے،

    پشاور ہائی کورٹ نے ہمیشہ انصاف کا سر اونچا کیا ، بیرسٹر علی ظفر
    پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی وکیل بیرسٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کا بلے کا نشان بحال کردیا ہے، عدالت نے حکومتی وکیل سے پوچھا کہ الیکشن کمیشن نے کس شق کے تحت فیصلہ کیا؟ یقین ہے ہر فیصلہ قانون کے مطابق ہوتا ہے، التجا کرتا ہوں کہ آئین و قانون پر یقین رکھیں،پشاور ہائی کورٹ نے ہمیشہ انصاف کا سر اونچا کیا ہے عدالت نے الیکشن کمیشن کے بلے چھیننے کے آرڈر کو معطل کردیا ہے اور کہا کہ بلے کا نشان واپس کیا جائے،

    تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے پشاور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا تھا اور بلا ہی رہے گا،بانی پی ٹی آئی چیئرمین تھے اور رہیں گے، الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کر رہے ہیں سپریم کورٹ بھی توہین عدالت کا کیس دائر کرنے جا رہے ہیں، سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ الیکشن میں جو بھی رکاوٹ ڈالے گا، اس کے خلاف توہینِ عدالت کا مقدمہ ہو گا، پنجاب میں پی ٹی آئی کے ساتھ پری پول ریگنگ ہو رہی ہے، امیدواروں سے کاغذاتِ نامزدگی تک چھینے گئے

    قبل ازیں تحریک انصاف کے سینئر نائب صدر شیر افضل مروت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلا پی ٹی آئی کا نشان تھا اور رہے گا،پرویز خٹک کے بیان کا نوٹس لینا چاہیے، بیٹ کا نشان صرف الیکشن کمیشن ہی آفر کر سکتا ہے،بیٹ کا نشان آفر کرنے کی ضرورت کیوں تھی؟ پرویز خٹک نے تو تحریک انصاف کے مقابلے میں اپنی پارٹی بنائی ہے، پرویز خٹک کے بیان سے ان کے اور الیکشن کمیشن کے تانے بانے ملتے ہیں،بانی پی ٹی آئی نے این اے 32 پشاور سے الیکشن کے لیے مجھے نامزد کیا تھا، اپنے حلقے لکی مروت سے بھی قومی اسمبلی کے لیے کاغذات جمع کرائے ہیں، الیکشن کہاں سے لڑنا ہے یہ فیصلہ پارٹی کرے گی

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات پارٹی آئین کے مطابق نہ کرانے پر بلے کا نشان واپس لے لیا تھا،عام انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع ہو چکے ہیں ، تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ ان کو بلے کا نشان واپس مل جائے، بلے کا نشان واپس نہ ملنے کی صورت میں تحریک انصاف کے امیدواروں کو آزاد الیکشن لڑنا پڑے گا.ایسے میں سب امیدواروں کے انتخابی نشان مختلف ہوں گے.ہم عوام پاکستان پارٹی نے بھی الیکشن کمیشن سے بلے کا نشان مانگ رکھا ہے ، وہیں ن لیگی رہنما کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو بلے کی بجائے گھڑی کا انتخابی نشان دیا جائے تا کہ سب کو پتہ چلے کہ یہ گھڑی چور ہیں

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

  • بلے کے نشان کی واپسی کیلیے پی ٹی آئی کا عدالت جانے کا فیصلہ

    بلے کے نشان کی واپسی کیلیے پی ٹی آئی کا عدالت جانے کا فیصلہ

    انتخابی نشان بلے کی واپسی کے لئے تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کر لیا، پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف پشاور ہائیکورٹ میں کل درخواست دائر کرے گی.

    تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان معظم بٹ نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی نشان واپس لینے کے خلاف کل پشاور ہائیکورٹ جائیں گے،کیس سے متعلق پٹیشن تیارکرلی ہے، کوشش ہوگی کہ پٹیشن کل ہی سماعت کے لیے مقرر ہو، پٹیشن میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم کرنے کی استدعاکی گئی ہے اور پٹیشن میں مؤقف ہےکہ الیکشن کمیشن نے غیر قانونی فیصلہ کیا ہے، غیر متعلقہ شخص کی درخواست پر انتخابی نشان واپس لینا غیرقانونی ہے

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات پارٹی آئین کے مطابق نہ کرانے پر بلے کا نشان واپس لے لیا تھا،عام انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع ہو چکے ہیں ، تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ ان کو بلے کا نشان واپس مل جائے، بلے کا نشان واپس نہ ملنے کی صورت میں تحریک انصاف کے امیدواروں کو آزاد الیکشن لڑنا پڑے گا.ایسے میں سب امیدواروں کے انتخابی نشان مختلف ہوں گے.ہم عوام پاکستان پارٹی نے بھی الیکشن کمیشن سے بلے کا نشان مانگ رکھا ہے ، وہیں ن لیگی رہنما کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو بلے کی بجائے گھڑی کا انتخابی نشان دیا جائے تا کہ سب کو پتہ چلے کہ یہ گھڑی چور ہیں

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

  • مانسہرہ میں پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کی وکٹ گرا دی

    مانسہرہ میں پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کی وکٹ گرا دی

    پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے زر گل خان کی پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ، سابق ایم پی اے اور سابق مشیر زر گل خان یوسفزئی کی سینیٹر تاج حیدر سے ملاقات کی، مانسہرہ کےمنتخب سابق ایم اے نے پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کرلی ، زر گل خان یوسفزئی کا صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت پر اظہار اعتماد کیا ،زرگل خان نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا کے عوام کو شناخت دی ‘ بلاول بھٹو زرداری نوجوانوں کے بہترین مستقبل کی ضمانت ہیں ، سینیٹر تاج حیدر کا زر گل خان یوسفزئی کی پیپلزپارٹی میں شمولیت کا خیر مقدم کیا ،https://twitter.com/PPP_Org/status/1738929626347692464

  • ہری پور :  خواجہ سرا ایسوسی ایشن کی صدر صائمہ نے کاغذات نامزدگی  جمع کر ادئے

    ہری پور : خواجہ سرا ایسوسی ایشن کی صدر صائمہ نے کاغذات نامزدگی جمع کر ادئے

    ملک بھر سے خواتین اور مردوں کے ساتھ خواجہ سرا بھی الیکشن میں بھرپور حصہ لینے لئے پرجوش ہے ، ہری پور حلقہ پی کے چھیالیس سے خواجہ سرا شی میل ایسوسی ایشن کی صدر صائمہ شوکت نے بھی کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے۔ صائمہ شوکت نے کامیابی کے بعد حلقہ کی تعمیر و ترقی اور عوام کے مسائل حل کرنے کا عزم کیا ہے۔
    خواجہ سرا شی میل ایسوسی ایشن کی صدر صائمہ شوکت دو مرتبہ کونسلر کا الیکشن بھی جیت چکی ہیں۔ اس سے قبل 21 دسمبر کو پشاور میں پہلی بار خواجہ سرا نے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے صوبائی نشست پر آزاد حیثیت سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔اس موقع پر خواجہ سراء صوبیا خان نے کہا تھا کہ خواجہ سراؤں کے لئے علیحدہ سیٹ نہ ہونے کہ وجہ سے جنرل سیٹ پر کاغذات جمع کروائے ہیں۔پشاور سے تعلق رکھنے والی خواجہ سراء صوبیا خان نے حلقہ پی کے 81 سے صوبائی سیٹ پر آزاد حیثیت سے کاغذات نامزدگی کوہاٹ روڈ میں اسسٹنٹ کمشنر سید احسن علی شاہ کے دفتر میں جمع کرائے تھے۔

  • پی ٹی آئی کے روپوش رہنما مراد سعید نے کاغذات نامزدگی جمع کروادئے

    پی ٹی آئی کے روپوش رہنما مراد سعید نے کاغذات نامزدگی جمع کروادئے

    9 مئی کے واقعات میں نامزد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے روپوش رہنماء مراد سعید کے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے گئے۔مراد سعید کے سوات کے حلقے این اے 3 اور 4 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے گئے۔ پی ٹی آئی رہنما مراد سعید کے وکلاء نے ان کے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔ پشاور سمیت خیبر پختونخوا میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی مخصوص اور جنرل نشستوں پر کاغذات نامزدگی جمع کرنے کا عمل مکمل ہو چکا یے، جس کے بعد اسکروٹنی کل سے شروع ہوگی۔یاد رہے کہ پی ٹی آئی رہنما مراد سعید 9 مئی واقعات کے بعد سے رپوش ہیں، تاہم وہ 8 فروری 2024 کو شیڈول الیکشن لڑیں گے اور اس کے لئے ان کے کاغذات نامزدگی جمع کروائے گئے۔

  • پشاور ، پیپلز پارٹی نے اپنے روٹھے ہوئے اراکین کا منا لیا

    پشاور ، پیپلز پارٹی نے اپنے روٹھے ہوئے اراکین کا منا لیا

    پیپلز پارٹی نے ارباب عالمگیر اور عاصمہ عالمگیر کو منا لیا، ذرائع کے مطابق ارباب خاندان کو منانے میں سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
    جبکہ انکو پیپلز پارٹی میں دوبارہ لانے کے لئے پیپلز پارٹی خیبر پختون خوا کے صدر محمد علی شاہ باچا نے بھی خوب بھاگ دوڑ کی ، تاہم ارباب عالمگیر قومی اور ان کے بیٹے خیبر پختون خوا اسمبلی کی نشست سے انتخابات میں حصہ لیں گے۔جبکہ پیپلز پارٹی کی طرف سے خواتین کی مخصوص نشست عاصمہ عالمگیر کو ملے گی۔ ارباب عالمگیر نے این اے 31 اور زرک خان نے پی کے 80 کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے ہیں جبکہ عاصمہ عالمگیر نے قومی اسمبلی کے لیے خواتین کی مخصوص نشست پر کاغذات جمع کرا دیے۔مقامی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے ارباب عالمگیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت سے گلے شکوے تھے جو دور ہو گئے، پیپلز پارٹی جمہوری پارٹی ہے، اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے۔ارباب عالمگیر کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ طویل وابستگی ہے، آصف زرداری، بلاول بھٹو اور یوسف رضا گیلانی سے بہت پیار اور اپنائیت ملی۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ دونوں رہنماؤں نے پیپلز پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔عاصمہ عالمگیر نے میڈیا کو بتایا تھا کہ پارٹی قیادت کی پالیسیوں سے نالاں تھے، پارٹی کے مرکزی ڈپٹی اطلاعات کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

  • عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما  نے  پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی

    عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی

    عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما عابد اللہ نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی-

    باغی ٹی وی: اے این پی پشاور کے صدر عابد اللہ یوسفزئی نے پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کرلی، اور میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی پی پی میں شمولیت کی دعوت ملی تھی، جسے قبول کرتا ہوں اس موقع پر پیپلزپارٹی کے سابق صوبائی وزیر ظاہر علی شاہ نے کہا کہ عابد اللہ کو اپنی جماعت میں خوش آمدید کہتے ہیں، ان کو وہی عزت دیں گے جس کے حقدار ہے۔

    کورونا وائرس کا نیا ویریئنٹ 42 ممالک میں پھیل چکا ہے،عالمی ادارہ صحت نے خبردار …

    پی پی پی ڈویژنل صدر مصباح الدین کا کہنا تھا کہ جے یو آئی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر بات چیت جاری ہے، ایڈجسٹمنٹ ہوتی ہے تو ٹھیک ورنہ سب الیکشن لڑیں گے، ارباب عالمگیر خاندان پیپلزپارٹی کا حصہ تھا اور رہے گا۔

    واضح رہے کہ عابداللہ عوامی نیشنل پارٹی رہنما بشیر بلور کے حلقے میں ایک سرکردہ کارکن مانے جاتے تھے، جب کہ وہ بلور خاندان کے پرانے ساتھی بھی ہیں۔

    ایبٹ آباد :گھر میں آتشزدگی، ایک ہی خاندان کے 9 افراد جاں بحق

  • انتخابات 2024: اہلکاروں کی کمی، کے پی حکومت نے ایف سے مدد مانگ لی

    انتخابات 2024: اہلکاروں کی کمی، کے پی حکومت نے ایف سے مدد مانگ لی

    پشاور:خیبرپختونخوا حکومت کو انتخابات کیلئے 42 ہزار سکیورٹی اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق انتخابات کیلئے 1 لاکھ 34 ہزار سے زیادہ سکیورٹی اہلکار درکار ہیں، جبکہ صوبائی حکومت کے پاس 90 ہزار سے زیادہ سکیورٹی اہلکار موجود ہیں انتخابات کے دوران سیکیورٹی کیلئے صوبائی حکومت نے وفاق سے فرنٹیئرکانسٹیبلری(ایف سی) کی خدمات مانگ لیں ہیں-

    ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے میں 15 ہزار 737 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے، جن میں سے 4 ہزار 812 پولنگ اسٹیشنز حساس ترین، 6 ہزار581 کو حساس قرار دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب نگران وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ الیکشن میں تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں ماحول فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہیں، سیاسی جماعتیں انتخابی مہم کے دوران قواعد ضوابط پرعمل درآمد یقینی بنائیں۔

    عام انتخابات2024 : کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا آج آخری روز ہ

    واضح رہے کہ عام انتخابات 2024 کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا آج آخری روز ہے۔ ای سی پی کی جانب سے 2 روزہ توسیع آج ختم ہو جائے گی، چاروں صوبوں میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا سلسلہ آج مکمل ہوگا، گزشتہ روز الیکشن کمیشن نے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ میں 2 روز کی توسیع کی تھی، الیکشن کمیشن کے نظرثانی شدہ شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 25 سے 30 دسمبر تک ہوگی۔ ای سی پی کے مطابق ریٹرننگ افسر کے فیصلوں کیخلاف اپیل 3 جنوری تک دائر ہوگی، پولنگ شیڈول کے مطابق 8 فروری 2024 کو ہوگی۔

    حوثی باغیوں کا بحیرہ احمر میں بھارتی تیل بردار جہاز پر ڈرون حملہ