Baaghi TV

Category: پشاور

  • مولانا فضل الرحمان اور ایمل ولی کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھنے والے دو خود کش حملہ آور گرفتار

    مولانا فضل الرحمان اور ایمل ولی کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھنے والے دو خود کش حملہ آور گرفتار

    سی ٹی ڈی کی بڑی کاروائی، مولانا فضل الرحمان اور ایمل ولی پر خود کش حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کرنیوالوں کو گرفتار کر لیا

    سی ٹی ڈی نے پشاور کے علاقے متنی میں کاروائی کرتے ہوئے دو خود کش حملہ آوروں کو گرفتار کیا ، ایس ایس پی آپریشنز سی ٹی ڈی نجم الحسنین لیاقت نے پریس کانفرنس میں تفصٰلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقہ متنی سےگرفتار خودکش حملہ آور کی شناخت عادل خان کے نام سے ہوئی، گرفتار دہشت گرد کی نشاندہی پر اس کے دوسرے ساتھی طاہر کو اچینی سے گرفتار کیا ہے،گرفتار دہشت گردوں کا تعلق داعش خراسان سے ہے، دہشت گردوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کو نشانہ بنانا تھا

    نجم الحسنین نے کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے منصوبہ بندی کے تحت بعض مقامات کی ریکی بھی کی تھی، حملہ آوروں نے مفتی محمود مرکز کی ریکی بھی کی تھی،دہشتگردوں کی نشاندہی پر 2 خودکش جیکٹس، 3 عدد ہیند گرنیڈ اور پستول برآمدکر لئے گئے،گرفتار دہشتگردوں کی نشاندہی پر زیرزمین دفنائے گئے 2 ہینڈ گرنیڈ برآمد کئے گئے، اچینی پشاور کے ضلع خیبر سے متصل باونڈری سے 2 عدد خوکش جیکٹس بھی برآمد کر لی گئیں، برآمد بارود کو بم ڈسپوزل یونٹ نے ناکارہ بنایا،دہشتگردوں نے پکتیا افغانستان مرکز سے فدائی ٹریننگ حاصل کی ہے

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    مسلم لیگ ن نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق دیور احمد رضا مانیکا کو بھی ٹکٹ جاری کر دیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    پیپلز پارٹی کی ایک کارنر میٹنگ میں اپنے ہی جیالوں کو دھمکی

  • ایمل ولی خان نے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ سے معذرت کر لی

    ایمل ولی خان نے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ سے معذرت کر لی

    پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے توہین عدالت کیس میں چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ ابراہیم خان سے معذرت کرلی۔

    باغی ٹی وی : ایک بیان میں ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ میرے بیان سے چیف جسٹس ابراہیم خان کی دل آزاری ہوئی ہے تو معذرت خواہ ہوں، عدالت کے اندر واقعے پر بھی معذرت خواہ ہوں، اے این پی چار نسلوں سے عدم تشدد کے فلسفے پر یقین رکھتی ہے، ساتھ ہی ایمل ولی خان نے پارٹی کارکنان کو ہدایت کی ہے کہ اے این پی کارکن جمہوریت کو جمہوریت رہنے دیں۔

    واضح رہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کےکارکنان توہین عدالت کے درخواست گزار پی ٹی آئی رہنما اور سابق رکنِ قومی اسمبلی فضل محمد خان کے ساتھ لڑ پڑے تھے،ے این پی کارکنان نے پشاور ہائیکورٹ کے احاطے میں فضل محمد کو تشدد کا نشانہ بنایا تاہم پولیس نے مداخلت کر کے فضل محمد خان کو بچالیا۔

    الیکشن کمیشن نے بی اے پی کا گائے کا نشان بحال کردیا

    ایران نے خلیج عمان میں امریکی تیل بردار جہاز کو تحویل میں لےلیا

    ن لیگ اور آئی پی پی میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق

  • شمالی وزیرستان میں گیس کے ذخائر دریافت

    شمالی وزیرستان میں گیس کے ذخائر دریافت

    پشاور: ماڑی پیٹرولیم نے خیبر پختونخوا کے علاقے شمالی وزیرستان سے گیس دریافت کرلی ہے۔

    باغی ٹی وی : ماڑی پیٹرولیم کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں شیوا 2 کنویں کی کھدائی کے دوران گیس دریافت کی گئی شیوا 2 کنویں سے تقریباً 6 لاکھ کیوبک فٹ یومیہ گیس حاصل ہوگی کنویں کی کھدائی 2 جون 2023 کو شروع کی گئی، جبکہ 4 ہزار 577 میٹر تک کھدائی کرنے پر گیس دریافت ہوئی تھی،نئی دریافت سے ملک میں گیس ذخائر میں بہتری آئے گی۔

    دوسری جانب کراچی کی لیاری کھڈہ مارکیٹ کی رہائشی عمارت میں گیس لیکج کے سبب زوردار دھماکہ ہوا جس کے نیتجے میں ایک لڑکا اور 2 لڑکیاں جھلس کر شدید زخمی ہو گئیں رہائشی عمارت میں گیس لیکج ہو رہی تھی مگر اس کی پرواہ نہ کی جس پر زوردار دھماکہ ہو گیا ،ریسکیو اہلکاروں نے زخمیوں کو شدید زخمی حالت میں سول برنز وارڈ میں منتقل کر دیا۔

    جے یو آئی نظریاتی کے امیدوار پر قاتلانہ حملہ

    فرح گوگی کا سسر ن لیگ کا امیدوار،جہانگیر ترین کے مدمقابل بھی امیدوار آ گیا

    اسٹیل مل بند،41 مساجد، 37 امام، وہ بھی تنخواہوں سے محروم

  • میں نے بیماری یا خودکش حملے میں مر جانا ہے یہ فیصلہ اللہ کا ہو گا،وزیراعظم

    میں نے بیماری یا خودکش حملے میں مر جانا ہے یہ فیصلہ اللہ کا ہو گا،وزیراعظم

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے پشاور میں پولیس دربار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے بیماری یا خودکش حملے میں مر جانا ہے یہ فیصلہ اللہ کا ہو گا،

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ کے پی پولیس کے جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں، کے پی پولیس کے شہداء کے ورثاء کوئی معمولی نہیں بہت بڑے لوگ ہیں، میں ایک مقروض کی حیثیت سے یہاں آیا ہوں،آپ لوگوں کا مجھ پر بہت بڑا قرض ہے، بعض اوقات ہم لوگ آپ کو وہ مالی امداد نہیں دے پاتے جو دینی چاہیئے،یہ گرے ہوئے لوگ ہیں جنہوں نے اس شہر میں بچوں کو قتل کیا، یہ دین اور اسلام کے نام پر لوگوں کو ڈراتے ہیں،کچھ خیر کا اور کچھ بدبخت شر کا ساتھ دیتے ہیں، بدبخت قرآن و حدیث کا حوالہ دیتے ہیں اور فساد برپا کرتے ہیں، اے پی ایس میں بچوں کے ٹکڑے کیے، ہم ان سے نہیں ڈرتے،یہ لوگ دس حملے کریں گے، ہزار بار جواب دیں گے، یہ کس کو ڈراتے ہیں، خیبرپختونخوا کے باہمت اور باوفا پولیس اہلکاروں کو سلام پیش کرتا ہوں، لوگ کہتے ہیں کہ 20 دن بعد آپ نہیں ہوں گے، سخت باتیں نہ کریں،دہشت گرد بزدل ہیں جو چھپ چھپ کر حملہ کرتے ہیں، بے غیرت ہیں، کیا کریں سجدہ ریز ہو جائیں ان کے سامنے اگر ان میں غیرت اور حیا ہو تو سامنے آکر لڑیں کوئی بھی مسلح کارروائی کرے، اس کو روکنا پولیس کی ذمے داری ہے،خوشی ہے کہ شہید ملک سعد اور صفوت غیور کے ورثاء میرے سامنے ہیں

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گرد ہمدردی کے لائق نہیں ہیں، کیا صفت صاحب شہید ہوگئے تو یہ جنگ ختم ہوگئی؟ 2 ہزار سے زیادہ دہشت گرد مر چکے ہیں کسی کو ان کا نام یاد نہیں، شہداء کے نام یاد ہیں یہ جیتی ہوئی جنگ ہے، یہ جنگ آپ جیت چکے ہیں، صرف جیت کااعلان باقی ہے، جیت کے اعلان میں کچھ وقت لگے گا، شرعی طور پر آپ درست سائڈ پر ہیں، آپ غازی بھی ہیں اور شہید بھی، میری دعا ہے آپ میں غازی زیادہ ہوں، ہم حماقت سے نہیں، ہمت اور حکمت سے یہ لڑائی لڑیں گے، ہم ایک دوسرے کا سہارا بنیں گے، ایک دوسرے سے سیکھیں گے

     پشاور ہائیکورٹ نے تاریخی فیصلہ دیا

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • گلہ مرد نہیں کرتے عورتیں کرتی ہیں،پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا ایمل ولی سے مکالمہ

    گلہ مرد نہیں کرتے عورتیں کرتی ہیں،پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا ایمل ولی سے مکالمہ

    پشاور ہائیکورٹ میں اے این پی رہنما ایمل ولی خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    دوران سماعت اے این پی کارکنان کی جانب سے عدالت میں ہنگامہ آرائی کی گئی جس پر چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ابراہیم خان نے غیر ضروری افراد کو کمرہ عدالت سے باہر جانے کا حکم دیا،سماعت کے دورا ن چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اور اے این پی رہنما ایمل ولی خان کے مابین دلچسپ مکالمہ بھی ہوا،

    جسٹس ابراہیم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کی کردار کشی کی گئی ہے، ایمل ولی کون ہے، کیا وہ عدالت حاضر ہوا ہے؟چیف جسٹس ابراہیم خان نے سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیو سکرین پر چلانے کی ہدایت کی،ویڈیو عدالت میں چلائی گئی، ویڈیو دیکھنے کے بعد پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ابراہیم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "میں اپنی ذات کی فکر نہیں کرتا، اگر یہ پٹھان ہے تو میں بھی پٹھان ہوں، یہ عدالت کے تقدس کا معاملہ ہے، میں انہیں کچھ نہیں کہتا میرا چھوٹا بھائی ہے، لیکن یہ ابراہیم خان کا مسئلہ نہیں عدالت کا مسئلہ ہے”

    وکیل درخواستگزار نے عدالت میں کہا کہ جو ماحول بنا ہے چیف جسٹس کو ہیرو بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، چیف جسٹس ابراہیم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 15 اپریل کو میں ریٹائر ہونے جارہا ہوں، کسی پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کررہا،پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ابراہیم خان نے ایمل ولی کو سامنے آنے کی ہدایت کی اور کہا کہ جس وقت میں جج تھا آپ اس وقت بھی چھوٹے تھے،ایمل ولی خان نے عدالت میں کہا کہ "میں معافی چاہتا ہوں ، لیکن یہ بات زدعام ہے، میں نے صرف گلہ کیا ہے” ایمل ولی خا ن کے بیان پر چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ ابراہیم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "گلہ مرد نہیں کرتے عورتیں کرتی ہیں” جو غلط فہمی ہے وہ ختم کرنا چاہتا ہوں، 31 سال سے روزے میں ہوں کبھی کسی سے پانی نہیں پیا،دو مرتبہ ایمل ولی کی رٹ لگی ہے ان کے وکیل نے سماعت ملتوی کی ہے،ایمل ولی نے عدالت میں کہا کہ آپ میرا میڈیا ٹرائل کررہے ہیں، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ عامر خان نے کہا کہ میں اس کیس کو لارجر بینچ کو بھیجتا ہوں، میں نے آپ کے کزن کے کیس میں میرٹ پر فیصلہ کیا ہے،جس پر ایمل ولی خان نے عدالت میں کہا کہ "ہم آپ سے خوش ہیں آپ کے ہر فیصلے کا احترام کرتے ہیں، باچا خان اور ولی خان پر غداری کیس تھے وہ بھی نکال لیں” چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ ابراہیم خان نے کہا کہ اگر آپ ایڈونس ووٹ لینا چاہتے ہیں وہ بھی آپ کو دے دوں گا، ایمل ولی خان نے عدالت میں کہا کہ میں نے عدالت کی توہین نہیں کی ہے، میں نے گلہ کیا ہے

    چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ کو برخوردار کہا ہے، اپنے وکلاء سے پوچھ لیں یہ انسداد دہشت گردی کا کیس ہے، آپ کے ذہین میں بالکل نہ آئے کہ جانبداری کررہے ہیں، آپ نے جو اسٹیٹمنٹ عدالت میں دیا ہے،باہر اس کی تردید کردیں، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے رٹ نمٹادی.

     پشاور ہائیکورٹ نے تاریخی فیصلہ دیا

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • لکی مروت میں 11 افراد کا قتل،ایف آئی آر درج

    لکی مروت میں 11 افراد کا قتل،ایف آئی آر درج

    پشاور: خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں پیش آئے سانحہ تختی خیل کی ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز تختی خیل میں گھر سے خاندان کے 11 افراد کی لاشیں ملی تھیں، جاں بحق ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل تھے جنہیں نیند میں سر پر وار کر کے قتل کیا گیا تھا، مقتولین عملدار اور تابعدار کے چچا عمر گل کی مدعیت میں درج کروائی گئی ایف آئی آر کے مطابق تمام قتل مقتول عملدار کے رشتہ دار مدر خان نے کئے ہیں،ملزم مدر خان کی بہو ناراض ہو کر میکے رہ رہی تھی، جس کا قاتل کو رنج تھا،مدر خان رات گزارنے عملدار کے گھر مہمان بن کر آیا تھا، رات کو خوابیدہ حالت میں مدر خان نے اپنی بہو سمیت تمام رشتہ داروں کو قتل کیا، پولیس نے ایف آئی آر درج کر کے قاتل کی گرفتاری کیلئے کوششیں شروع کردی ہیں۔

    پولیس کے مطابق قتل ہونے والوں میں 2 مرد، 2 خواتین اور 6 بچے بھی شامل ہیں اور تمام افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے پولیس حکام کے مطابق ایک ہی خاندان کے 11 افراد کے قتل میں نامزد ملزم مدر خان کی گرفتاری کیلئے کوششیں جاری ہیں۔

     

    شدید دھند کے باعث مزید پروازیں منسوخ، کئی مقامات سے موٹرویز ٹریفک کیلئے بند

    غزہ: اسرائیلی فوج کا ایمبولینس پر حملہ،فلسطینی ہلال احمر کے 4 کارکن …

    فحاشی کے اڈوں کی سرپرستی اور بھتہ وصول کرنے کاالزام،پولیس ملازمین گرفتار،مقدمہ درج

  • لکی مروت میں  دہشتگردوں سے جھڑپ،2 جوان شہیدجبکہ 2 دہشتگرد ہلاک

    لکی مروت میں دہشتگردوں سے جھڑپ،2 جوان شہیدجبکہ 2 دہشتگرد ہلاک

    خیبر پختونخوا: لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان جھڑپ میں پاک فوج کے 2 جوان شہید جبکہ 2 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا، دہشت گردوں کی فائرنگ سے 2 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے،سپاہی محمد افضل اور سپاہی ابرار حسین نے دہشت گردوں کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا کامیابی سے محاصرہ کیا، جھڑپ کے دوران 2 دہشت گرد آفتاب ملنگ اور مسعود شاہ بھی مارے گئے دہشت گرد سیکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں سرگرم تھے، دہشتگرد معصوم شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں بھی سرگرم رہے جبکہ دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولا بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے سینی ٹائزیشن آپریشن کیا جا رہا ہے، سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں، ہمارے بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

  • پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کو ایک بار پھر بلے کا نشان واپس کردیا

    پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کو ایک بار پھر بلے کا نشان واپس کردیا

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے اور انتخابی نشان واپسی کیخلاف کیس،پشاور ہائیکورٹ میں درخواست پر سماعت ہوئی

    پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق 22 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، بلے کا نشان بحال ہو گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور سید ارشد علی نے فیصلہ سنا دیا ۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو بلے کے نشان پر انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کر لی

    جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ارشد علی نے سماعت کی، کیس میں فریق جہانگیر کے وکیل نوید اختر ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور کہا کہ آج سپریم کورٹ میں بھی کیس لگا ہے، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ یہ بات کل ختم ہوچکی ہے، انہوں نے بتایا وہ وہاں کیس نہیں کررہے، اگر کل یہ نہ بتایا ہوتا تو ہم پھر پرسوں کی تاریخ دیتے، بیرسٹر ظفر نے سپریم کورٹ میں کیس پرسو نہ کرنے کی یقین دہانی کرادی،

    قاضی جواد ایڈوکیٹ نے کہا کہ میرے موکل پی ٹی آئی کے سابقہ ضلعی جنرل سیکرٹری رہے ہیں،میرے موکل کو میڈیا سے پتہ چلا کہ انٹرا پارٹی انتخابات ہورہے ہیں،وہ الیکشن میں حصہ لینا چاہتے تھے لیکن ان کو موقع نہیں دیا گیا،جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپ نے یہ نہیں کہا کہ انٹرا پارٹی الیکشن دوبارہ کرائے جائے، الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا تو آپ کو چاہیئے تھا کہ دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کرتے،آپ اگر پارٹی سے تھے تو پارٹی نشان واپس لینے پر آپ کو اعتراض کرنا چاہیئے تھا آپ نے نہیں کیا،قاضی جواد نے کہا کہ ہمیں تو انتخابات میں موقع نہیں دیا گیا اس کے خلاف الیکشن کمیشن گئے،انٹرا پارٹی انتخابات پورے ملک کے لیے ہے، ہائیکورٹ صرف صوبے کو دیکھ سکتا ہے، جسٹس ارشد علی نے استفسار کیا کہ کیا ہر صوبے میں الگ الگ کیس کرنا چاہئے تھا انکو۔?انٹرا پارٹی الیکشن پشاور میں ہوا تو یہاں پر کیسے کیس نہیں کرسکتے۔ جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ جو الیکشن ہوئے اس میں تمام ممبران الیکٹ ہوئے یا صرف صوبے کی حد تک,قاضی جواد ایڈوکیٹ نے کہا کہ پورے ملک کے نمائندے منتخب ہوئے۔

    جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ اچھا آپ یہ بتائیں آپکی پارٹی ہے تو کیا انکو انتخابی نشان ملنا چایئے،قاضی جواد نے کہا کہ میں رولز کی بات کرتا ہوں جو قانون ہے وہی ہونا چاہئے،جسٹس ارشد علی نے کہا کہ نہیں ویسے آپ کیا چاہتے ہیں ان کیخلاف انتخابی نشان واپسی کی کارروائی ٹھیک ہے،قاضی جواد ایڈوکیٹ نے کہا کہ میں تو قانون کی بالادستی کی بات کرتا ہوں قانون کے مطابق کارروائی کو سپورٹ کرتا ہوں،ماضی میں ایک پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہوئی اور ایک ہی انتخابی پر مسئلہ کھڑا ہوا،الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان پر مسئلہ حل کیا کیونکہ اس کا اختیار حاصل تھا،میں چاہتا ہوں کہ دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات ہوں اور اس میں حصہ لوں ،مختلف ادوار میں پارٹیز کو ختم کیا گیا تو نئی بن گئی،جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ دیکھ لیں وہ مارشل لا کا وقت تھا،

    کیس میں فریق کوہاٹ کے شاہ فہد کے دوسرے وکیل احمد فاروق بھی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ یہ پارٹی جیسے ہی بنی وہیں سے لاڈلہ پن شروع ہوا، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپ قانونی بات کریں، یہاں پر کبھی ایک اور کبھی دوسرا لاڈلہ بن جاتا ہے،احمد فاروق ایڈوکیٹ نے کہا کہ اپنے کارکنوں کو لیول پلینگ فیلڈ نہیں دیا ، انٹرا پارٹی انتخابات کا اچانک بلبلا اٹھا اور اعلان کیا گیا کہ کابینہ بن گئی، جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ وہی بلبلا ابھی پھٹا ہے، جسٹس اعجاز انور کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے، احمد فاروق ایڈوکیٹ نے کہا کہ انتخابات آئین کے مطابق نہیں کرائے گئے،الیکشن کمیشن فیصلہ کے خلاف بھی سول کورٹ جانا چاہیئے تھا،

    وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ارشد علی سماعت کر رہے ہیں، پشاور ہائیکورٹ نے تحرہک انصاف انٹرا پارٹی انتخابات کے شواہد دیکھنے سے انکار کر دیا، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ ہم نے انٹرا پارٹی الیکشن پر بات کی اجازت نہیں دے سکتے اگر اس پر دلائل کی اجازت دی تو بات شواہد پر آئے گی۔نوید اختر نے کہا کہ میں نے اس پر بات کرنی ہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات کیسے ہوئے،جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ نہیں آپ اس پر بات نہیں کرسکتے ہیں، ہم نے انکو بھی اس پر نہیں سنا، الیکشن کیسے ہوا یہ شواہد پر پھر بات جائیگی،

    کیس میں فریق چارسدہ کے جہانگیر کے وکیل نوید اخترنے دلائل دیئے، جسٹس ارشد علی نے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات پر جرمانہ ہوسکتا ہے، کیا الیکشن کمیشن نے یہ کارروائی کی ہے،نوید اختر نے کہا کہ نہیں، الیکشن کمیشن نے الیکشن ایکٹ 215 کے تحت کارروائی کی، جسٹس ارشد علی نے کہا کہ اس سکیشن میں تو انٹرا پارٹی انتخابات کی بات نہیں ہے،نوید اختر نے کہا کہ قانون کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات پارٹی آئین اور الیکشن ایکٹ کے مطابق ہونے چاہئے،اس رو سے انٹرا پارٹی انتخابات خود بخود 215 سکشن میں آتے ہیں، میرے موکل نے پہلے انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کیلئے درخواست دی تھی، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ وہ بات تو ختم ہوگئی نا، جب الیکشن کمیشن نے 20 دن کا وقت دیدیا، جسٹس سید ارشد علی نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے کونسے سیکشن کے تحت اس پارٹی کے خلاف کارروائی کی، وکیل شکایت کنندہ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ سکیشن 215 کے تحت کارروائی کی گئی،عدالت نے کہا کہ 209 کی اگر خلاف ورزی ہو تب ہوسکتا ہے 208 پر تو 215 کے تحت کارروائی نہیں ہوسکتی، سیکشن 209 کہتا ہے رزلٹ 7 دن کے اندر کمیشن میں جمع کیے جائیں انھوں نے تو رزلٹ سات دن کے اندر جمع کیے، وکیل شکایت کنندہ نوید اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے دیکھنا تھا کہ سیکشن 208 کے تحت انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے یا نہیں.میرے موکل کی بات اہم ہے،جب آنکھ کھلی تو تب سے اس پارٹی میں ہیں، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپکا مطلب ہے کہ نظریاتی ہے،نوید اختر نے کہا کہ متنازع انتخابات ہوئے، سب نے کہا قبول ہے قبول ہے، سب نے کہا کہ جو بانی چئیرمین کہیں گا وہی ہوگا، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ یہاں تو سب جماعتیں ایک ہی لوگ چلاتے آرہے ہیں، صرف یہی اور ایک اور پارٹی ہے جو ورکر کو آگے آنے دے رہی ہے،

    بیرسٹر علی ظفر ایک بار پھر دلائل کے لیے روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ اسلام آباد ہو یا پشاور ہائیکورٹ، کہی بھی چیلنج ہوسکتا ہے،انتخابات یہاں ہوئے اور سیکرٹری جنرل عمر ایوب کا تعلق بھی اس صوبے سے ہے،اس صوبے میں 2 بار اس پارٹی نے حکومت بھی کی ہے،پورے ملک کی مخصوص سیٹیں اس سے متاثر ہونگی،

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

  • بیر سٹر گوہر علی خان   پر امید، سپریم کورٹ کا  تحریک انصاف کو  بلے  کانشان دینے کی اپیل پر بینچ  کی تشکیل

    بیر سٹر گوہر علی خان پر امید، سپریم کورٹ کا تحریک انصاف کو بلے کانشان دینے کی اپیل پر بینچ کی تشکیل

    پشاور ہائیکورٹ میں سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما بیرسٹرگوہر نے کہا کہ پشاورہائیکورٹ نے 5 گھنٹے سماعت کی، کل بھی فریقین کو سنا جائے گا، پشاور ہائیکورٹ کل بلے کے نشان کے حوالے سے فیصلہ سنا دے گی، امید ہے فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی کو بلے کا نشان واپس نہ ملا تو ہمارے پاس پلان بی موجود ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمیں امید ہے بلے کا نشان واپس ملے گا، اگر فیصلہ حق میں آیا تو 12 جنوری تک امیدواروں میں ٹکٹ تقسیم کر دیں گے، وکلاء کو بھی ٹکٹ دیں گے، ان کا حصہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا کسی پارٹی کے ساتھ فی الحال کوئی اتحاد نہیں، ٹکٹوں کے حوالے سے خواتین کی تعداد زیادہ رکھی ہے۔ بیرسٹر گوہر کا یہ بھی کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے سامنے ایک آرڈر چیلنج کیا تھا، پشاورہائیکورٹ کا فیصلہ آتا ہے تو سپریم کورٹ کیس کی ضرورت نہیں۔
    دوسری جانب سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی بلا کانشان دینے کی اپیل پر بینچ تشکیل دیدیا۔چیف جسٹس قاضیٰ فائزعیسیٰ کی سربراہی میں 3رکنی بینچ کل تحریک انصاف کی اپیل پرسماعت کرے گا ۔واضح رہے کہ تحریک انصاف نے بلے کے نشان کیلئے سپریم کورٹ میں پشاورہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کی تھی ۔
    درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ پشاورہائیکورٹ کےجج نےقانون کی غلط تشریح کی جس کےباعث ناانصافی ہوئی، 26 دسمبر 2023 کو عارضی ریلیف دیا گیا تھا، عارضی ریلیف سے قبل فریقین کو نوٹس دیا جانا ضروری نہیں۔ناقابل تلافی نقصان کے خدشات کے تحت عبوری ریلیف دیا جاتا ہے، پشاور ہائیکورٹ کو بتایا کہ بلے کا نشان نہ ملنے سے ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔

  • شمالی وزیرستان میں  شہید ہونے والے حوالدار محمد ظاہر کی نماز جنازہ ادا

    شمالی وزیرستان میں شہید ہونے والے حوالدار محمد ظاہر کی نماز جنازہ ادا

    شمالی وزیرستان میں گزشتہ روز شہید ہونے والے حوالدار محمد ظاہر کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔ شہید کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں شہید ہونے والے حوالدار محمد ظاہر کی نماز جنازہ ان کے آبائی گاؤں میں ادا کردی گئی۔ نماز جنازہ کے بعد مردان سے تعلق رکھنے والے شہید حوالدار محمد ظاہر کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔نماز جنازہ میں سینئر حاضر سروس فوجی افسران، شہید کے لواحقین اور اہل علاقہ نے شرکت کی پاک فوج کے ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسلح افواج مادر وطن سے دہشت گردی کی لعنت کو ہر قیمت پر ختم کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیرستان میں دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں حوالدار محمد ظاہر شہید ہوگئے تھے، جب کہ ایک دہشت گرد زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔
    واقعہ کے بعد پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا تھا کہ ضلع شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا اور ایک دہشت گرد کو زخمی حالت میں گرفتار کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران حوالدار محمد ظاہر شہید ہوگئے، 41 سالہ شہید ضلع مردان کے رہائشی ہیں، جس نے بہادری سے لڑنے کے بعد شہادت کو گلے لگا لیا۔