Baaghi TV

Category: پشاور

  • مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت

    مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت

    مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت
    اب کھل کے مزاروں پہ یہ اعلان کیا جائے

    قتیل شفائی

    قتیل شفائی یا اورنگزیب خان (پیدائش 24 دسمبر، 1919ء – وفات 11 جولائی، 2001ء) پاکستان کے ایک مشہور و معروف اردو شاعر تھے۔ قتیل شفائی خیبر پختونخوا، ہری پور، ہزارہ میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد لاہور میں سکونت اختیار کی۔ یہاں پر فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے اور بہت سی فلموں کے لیے گیت لکھے۔
    ابتدائی زندگی اور کیرئر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    قتیل شفائی 1919ء میں برطانوی ہند (موجوہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا پیدائشی نام محمد اورنگ زیب تھا، انھوں نے 1938ء میں قتیل شفائی اپنا قلمی نام رکھا اور اردو دنیا میں اسی نام سے مشہور ہیں، اردو شاعری میں وہ قتیل تخلص کرتے ہیں، شفائی انھوں نے اپنے استاد حکیم محمد یحیی شفاؔ کانپوری کے نام کی وجہ سے اپنے نام کے ساتھ لگایا۔ 1935ء میں ان کے والد کی وفات ہوئی اور ان پر اعلیٰ تعلیم چھوڑنے کا دباؤ بنا۔ انھوں نے کھیل کے سامان کی ایک دکان کھول لی مگر تجارت میں وہ ناکام رہے اور انھوں نے اپنے چھوٹے سے قصبے سے راولپنڈی منتقل ہونے کا فیصلہ کیا جہاں انھوں نے ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کے لیے کام کرنا شروع کیا۔ بعد میں 1947ء میں انھوں نے پاکستانی سنیما میں قدم رکھا اور نغمہ لکھنے لگے۔ ان کے والد ایک تاجر تھے اور ان کے گھر میں شعر و شاعری کا کوئی رواج نہ تھا۔ ابتدا میں انھوں حکیم یحیی کو اپنا کلام دکھانا شروع کیا اور بعد میں احمد ندیم قاسمی سے اصلاح لینے لگے اور باقاعدہ ان کے شاگرد بن گئے، قاسمی ان کے دوست بھی تھے اور پڑوسی بھی۔
    فلمی دنیا
    ۔۔۔۔
    1948ء میں ریلیز ہونے والی پاکستان کی پہلی فلم ’’تیری یاد‘‘ کی نغمہ نگاری سے ان کے فلمی سفر کا آغاز ہوا۔ جس کے بعد انھوں نے مجموعی طور پر 201 فلموں میں 900 سے زائد گیت تحریر کیے۔ وہ پاکستان کے واحد فلمی نغمہ نگار تھے جنھیں ہندستانی فلموں کے لیے نغمہ نگاری کا اعزاز بھی حاصل ہوا تھا۔ انھوں نے کئی فلمیں بھی بنائیں جن میں پشتو فلم عجب خان آفریدی کے علاوہ ہندکو زبان میں بنائی جانے والی پہلی فلم ’’قصہ خوانی‘‘ شامل تھی۔ انھوں نے اردو میں بھی ایک فلم ’’اک لڑکی میرے گائوں کی‘‘ بنانی شروع کی تھی مگر یہ فلم مکمل نہ ہوسکی تھی۔ فلمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ قتیل شفائی کا ادبی سفر بھی جاری رہا۔ اپنی عمر کے آخری دور میں متعدد مرتبہ ممبئی کا بھی سفر کیا اور ’سر‘، ’دیوانہ تیرے نام کا‘، ’بڑے دل والا‘ اور ’پھر تیری کہانی یاد آئی‘ جیسی ہندستانی فلموں کے لیے بھی عمدہ گیت لکھے۔

    اُن کے گیتوں کی مجموعی تعداد ڈھائی ہزار سے زیادہ بنتی ہے، جن میں ’صدا ہوں اپنے پیار کی‘، ’اے دل کسی کی یاد میں ہوتا ہے بے قرار کیوں‘، ’یوں زندگی کی راہ سے ٹکرا گیا کوئی‘ کے ساتھ ساتھ ’یہ وادیاں، یہ پربتوں کی شاہزادیاں‘ جیسے زبان زدِ خاص و عام گیت بھی شامل ہیں۔ ان میں سے کئی گیتوں پر اُنھیں خصوصی اعزازات سے نوازا گیا-

    کلام کی خصوصیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    قتیل شفائی نہایت ہی مقبول اور ہردلعزیز شاعر ہیں، ان کے لہجے کی سادگی و سچائی، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام الناس کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ہی ان کی مقبولیت کا راز ہے یوں تو انھوں نے مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی مگر ان کا اصل میدان غزل ہے، ان کی شاعری میں سماجی او رسیاسی شعور بھی موجود ہے، اور انھیں صف اول کے ترقی پسند شعرا میں اہم مقام حاصل ہے فلمی نغمہ نگاری میں بھی انھوں نے ایک معتبر مقام حاصل کیا ان کا کلام پاکستان اور ہندستان دونوں ملکوں میں یکساں طور پر مقبول ہے۔

    اعزازت
    ۔۔۔۔۔
    صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی 1994ء، آدم جی ادبی انعام، امیر خسرو ایورڈ، نقوش ایورڈ۔ نیز ہندستان کی مگدھ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے ’’قتیل اور ان کے ادبی کارنامے‘‘ کے عنوان سے ان پر پی ایچ ڈی کی۔ صوبہ مہاراشٹر میں ان کی دو نظمیں شامل نصاب ہیں۔ علاوہ ازیں بہاول پور یونیورسٹی کی دو طالبات نے ایم اے کے لیے ان پر مقالہ تحریر کیا۔
    فلمی نغمہ نگاری
    ۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد سے نغمہ نگاری کا آغاز کیا۔ اڑھائی ہزار سے زائد نغمے لکھے۔ انہیں نیشنل فلم ایورڈ کے علاوہ دو طلائی تمغے اور بیس ایورڈ بھی دیے گئے۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)ہریالی
    ۔ (2)گجر
    ۔ (3)جلترنگ
    ۔ (4)روزن
    ۔ (5)جھومر
    ۔ (6)مطربہ
    ۔ (7)چھتنار
    ۔ (8)گفتگو
    ۔ (9)پیراہن
    ۔ (10)آموختہ
    ۔ (11)ابابیل
    ۔ (12)برگد
    ۔ (13)گھنگرو
    ۔ (14)سمندر میں سیڑھی
    ۔ (15)پھوار
    ۔ (16)صنم
    ۔ (17)پرچم
    انتخاب (منتخب مجموعہ)
    کلیات
    ۔۔۔۔۔
    رنگ خوشبو روشنی (تین جلدیں)
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    11 جولائی 2001ء کو قتیل شفائی لاہور میں وفات پاگئے اور علامہ اقبال ٹائون کے کریم بلاک کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے
    منسوبات
    ۔۔۔۔۔
    لاہور جہاں رہتے تھے وہاں سے گزرنے والی شاہراہ کو ان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے جبکہ ہری پور میں ان کے رہائشی محلے کا نام محلہ قتیل شفائی رکھ دیا گیا۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
    میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو
    میں جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن
    میں ہوں گر پھول تو جوڑے میں سجا لے مجھ کو
    ترک الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسم
    تو کبھی یاد تو کر بھولنے والے مجھ کو
    مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی
    یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو
    میں سمندر بھی ہوں موتی بھی ہوں غوطہ زن بھی
    کوئی بھی نام مرا لے کے بلا لے مجھ کو
    تو نے دیکھا نہیں آئینے سے آگے کچھ بھی
    خود پرستی میں کہیں تو نہ گنوا لے مجھ کو
    باندھ کر سنگ وفا کر دیا تو نے غرقاب
    کون ایسا ہے جو اب ڈھونڈ نکالے مجھ کو
    خود کو میں بانٹ نہ ڈالوں کہیں دامن دامن
    کر دیا تو نے اگر میرے حوالے مجھ کو
    میں کھلے در کے کسی گھر کا ہوں ساماں پیارے
    تو دبے پاؤں کبھی آ کے چرا لے مجھ کو
    کل کی بات اور ہے میں اب سا رہوں یا نہ رہوں
    جتنا جی چاہے ترا آج ستا لے مجھ کو
    بادہ پھر بادہ ہے میں زہر بھی پی جاؤں قتیلؔ
    شرط یہ ہے کوئی بانہوں میں سنبھالے مجھ کو

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں
    لیکن یہ سوچتا ہوں کہ اب تیرا کیا ہوں میں
    بکھرا پڑا ہے تیرے ہی گھر میں ترا وجود
    بے کار محفلوں میں تجھے ڈھونڈتا ہوں میں
    میں خودکشی کے جرم کا کرتا ہوں اعتراف
    اپنے بدن کی قبر میں کب سے گڑا ہوں میں
    کس کس کا نام لاؤں زباں پر کہ تیرے ساتھ
    ہر روز ایک شخص نیا دیکھتا ہوں میں
    کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام
    دنیا سمجھ رہی ہے کہ سچ مچ ترا ہوں میں
    پہنچا جو تیرے در پہ تو محسوس یہ ہوا
    لمبی سی ایک قطار میں جیسے کھڑا ہوں میں
    لے میرے تجربوں سے سبق اے مرے رقیب
    دو چار سال عمر میں تجھ سے بڑا ہوں میں
    جاگا ہوا ضمیر وہ آئینہ ہے قتیلؔ
    سونے سے پہلے روز جسے دیکھتا ہوں میں

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے
    ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ

    آخری ہچکی ترے زانوں پہ آئے
    موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں

    جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ
    جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں

    چلو اچھا ہوا کام آ گئی دیوانگی اپنی
    وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے

    اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن
    دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں

    یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہو جانا
    جس طرح پھول سے خوشبو کا جدا ہو جانا

    دل پہ آئے ہوئے الزام سے پہچانتے ہیں
    لوگ اب مجھ کو ترے نام سے پہچانتے ہیں

    دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا
    اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا

    ہم اسے یاد بہت آئیں گے
    جب اسے بھی کوئی ٹھکرائے گا

    یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں
    خدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے

    تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو
    اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں

    گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں
    ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں

    تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں
    ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں

    میرے بعد وفا کا دھوکا اور کسی سے مت کرنا
    گالی دے گی دنیا تجھ کو سر میرا جھک جائے گا

    اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
    ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا

    گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
    لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا

    احباب کو دے رہا ہوں دھوکا
    چہرے پہ خوشی سجا رہا ہوں

    کچھ کہہ رہی ہیں آپ کے سینے کی دھڑکنیں
    میرا نہیں تو دل کا کہا مان جائیے

    اچھا یقیں نہیں ہے تو کشتی ڈبا کے دیکھ
    اک تو ہی ناخدا نہیں ظالم خدا بھی ہے

    لے میرے تجربوں سے سبق اے مرے رقیب
    دو چار سال عمر میں تجھ سے بڑا ہوں میں

    کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام
    دنیا سمجھ رہی ہے کہ سچ مچ ترا ہوں میں

    وہ میرا دوست ہے سارے جہاں کو ہے معلوم
    دغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے

    مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی
    یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو

    رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر
    یہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے

    جو بھی آتا ہے بتاتا ہے نیا کوئی علاج
    بٹ نہ جائے ترا بیمار مسیحاؤں میں

    ابھی تو بات کرو ہم سے دوستوں کی طرح
    پھر اختلاف کے پہلو نکالتے رہنا

    نہ جانے کون سی منزل پہ آ پہنچا ہے پیار اپنا
    نہ ہم کو اعتبار اپنا نہ ان کو اعتبار اپنا

    ستم تو یہ ہے کہ وہ بھی نہ بن سکا اپنا
    قبول ہم نے کیے جس کے غم خوشی کی طرح

    حالات سے خوف کھا رہا ہوں
    شیشے کے محل بنا رہا ہوں

    حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں
    ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں

    وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے
    میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے

    گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں
    کوئی بدلی تری پازیب سے ٹکرائی ہے

    میں اپنے دل سے نکالوں خیال کس کس کا
    جو تو نہیں تو کوئی اور یاد آئے مجھے

    جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
    اس کو دفناؤ مرے ہاتھ کی ریکھاؤں میں

    وہ تیری بھی تو پہلی محبت نہ تھی قتیلؔ
    پھر کیا ہوا اگر وہ بھی ہرجائی بن گیا

    مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت
    اب کھل کے مزاروں پہ یہ اعلان کیا جائے

    کیا مصلحت شناس تھا وہ آدمی قتیلؔ
    مجبوریوں کا جس نے وفا نام رکھ دیا

    رابطہ لاکھ سہی قافلہ سالار کے ساتھ
    ہم کو چلنا ہے مگر وقت کی رفتار کے ساتھ

    جیت لے جائے کوئی مجھ کو نصیبوں والا
    زندگی نے مجھے داؤں پہ لگا رکھا ہے

    یوں تسلی دے رہے ہیں ہم دل بیمار کو
    جس طرح تھامے کوئی گرتی ہوئی دیوار کو

    ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے
    اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں

    آیا ہی تھا ابھی مرے لب پہ وفا کا نام
    کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھا لیے

    شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے
    ہم اسی آگ میں گم نام سے جل جاتے ہیں

    تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی
    تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے

    اپنے لیے اب ایک ہی راہ نجات ہے
    ہر ظلم کو رضائے خدا کہہ لیا کرو

    انگڑائی پر انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کی
    تم کیا سمجھو تم کیا جانو بات مری تنہائی کی

    حوصلہ کس میں ہے یوسف کی خریداری کا
    اب تو مہنگائی کے چرچے ہیں زلیخاؤں میں

    مانا جیون میں عورت اک بار محبت کرتی ہے
    لیکن مجھ کو یہ تو بتا دے کیا تو عورت ذات نہیں

    ترک وفا کے بعد یہ اس کی ادا قتیلؔ
    مجھ کو ستائے کوئی تو اس کو برا لگے

    کس طرح اپنی محبت کی میں تکمیل کروں
    غم ہستی بھی تو شامل ہے غم یار کے ساتھ

    ثبوت عشق کی یہ بھی تو ایک صورت ہے
    کہ جس سے پیار کریں اس پہ تہمتیں بھی دھریں

    کیوں شریک غم بناتے ہو کسی کو اے قتیلؔ
    اپنی سولی اپنے کاندھے پر اٹھاؤ چپ رہو

    دشمنی مجھ سے کئے جا مگر اپنا بن کر
    جان لے لے مری صیاد مگر پیار کے ساتھ

    یوں برستی ہیں تصور میں پرانی یادیں
    جیسے برسات کی رم جھم میں سماں ہوتا ہے

    ہم ان کے ستم کو بھی کرم جان رہے ہیں
    اور وہ ہیں کہ اس پر بھی برا مان رہے ہیں

    اپنی زباں تو بند ہے تم خود ہی سوچ لو
    پڑتا نہیں ہے یوں ہی ستم گر کسی کا نام

    قتیلؔ اب دل کی دھڑکن بن گئی ہے چاپ قدموں کی
    کوئی میری طرف آتا ہوا محسوس ہوتا ہے

    یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے
    کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے

    تھوڑی سی اور زخم کو گہرائی مل گئی
    تھوڑا سا اور درد کا احساس گھٹ گیا

    اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
    میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو

    نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ بت خانہ
    تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے

    تم آ سکو تو شب کو بڑھا دو کچھ اور بھی
    اپنے کہے میں صبح کا تارا ہے ان دنوں

    داد سفر ملی ہے کسے راہ شوق میں
    ہم نے مٹا دئے ہیں نشاں اپنے پاؤں کے

    میں گھر سے تیری تمنا پہن کے جب نکلوں
    برہنہ شہر میں کوئی نظر نہ آئے مجھے

    یارو یہ دور ضعف بصارت کا دور ہے
    آندھی اٹھے تو اس کو گھٹا کہہ لیا کرو

    بہ پاس دل جسے اپنے لبوں سے بھی چھپایا تھا
    مرا وہ راز تیرے ہجر نے پہنچا دیا سب تک

    رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں
    ہم نے خوش ہو کے بھنور باندھ لیا پاؤں میں

    میں جب قتیلؔ اپنا سب کچھ لٹا چکا ہوں
    اب میرا پیار مجھ سے دانائی چاہتا ہے

    سوچ کو جرأت پرواز تو مل لینے دو
    یہ زمیں اور ہمیں تنگ دکھائی دے گی

    زندگی میں بھی چلوں گا ترے پیچھے پیچھے
    تو مرے دوست کا نقش کف پا ہو جانا

    قتیل اپنا مقدر غم سے بیگانہ اگر ہوتا
    تو پھر اپنے پرائے ہم سے پہچانے کہاں جاتے

    سوکھ گئی جب آنکھوں میں پیار کی نیلی جھیل قتیلؔ
    تیرے درد کا زرد سمندر کاہے شور مچائے گا

    نہ چھاؤں کرنے کو ہے وہ آنچل نہ چین لینے کو ہیں وہ بانہیں
    مسافروں کے قریب آ کر ہر اک بسیرا پلٹ گیا ہے

    تیز دھوپ میں آئی ایسی لہر سردی کی
    موم کا ہر اک پتلا بچ گیا پگھلنے سے
    Cp

  • 8 فروی کو  پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہےگا ،پرویز خٹک

    8 فروی کو پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہےگا ،پرویز خٹک

    نوشہرہ: پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز (پی ٹی آئی پی) کے سربراہ پرویز خٹک نےکہا ہےکہ بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

    باغی ٹی وی : نوشہرہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پرویز خٹک نےکہا کہ پی ٹی آئی کی پارٹی ماضی کا حصہ بن جائے گی، کیونکہ ماضی میں جن پارٹیوں نے ملکی اداروں کے خلاف نفرت کی سیاست کی و ہ پارٹیاں یا تو ختم ہوگئیں یا وہ پارٹیاں صرف صوبے یا ضلع کی پارٹی بن کر رہ گئیں تبدیلی خان کی تبد یلی کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے، نہ بلا رہا اور نہ بلے سے کھیلنے والا کھلاڑی، الیکشن کمیشن نے بلےکے نشان کو ختم کردیا،8 فروی کو پاکستان تحریک انصاف کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہےگا بانی پی ٹی آئی اصل میں آصف علی زرداری اور نواز شریف سے بھی دو ہاتھ آگے تھے، تبدیلی اور احتساب تو بس ایک ٹوپی ڈرامہ تھا، اصل میں تو وہ خود کرپشن کے کنگ تھے۔

    ملک میں چند مقامات پر ہلکی بارش کا امکان

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے فیصلہ سناتے ہوئے تحریک انصاف سے انتخابی نشان ،بلے کا نشان واپس لے لیا،اور انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دے دیئے، اب الیکشن کمیشن کے پاس تحریک انصاف نام کی کوئی پارٹی رجسٹر ڈ نہیں ہے،الیکشن کمیشن کے فیصلے کےبعد تمام عہدیداروں کے عہدے بھی ختم ہو چکے ہیں،الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کروانے میں ناکام رہی اور پی ٹی آئی نے انٹراپارٹی انتخابات آئین کے مطابق نہیں کرائے، جس پر پی ٹی آئی کو بلے کا نشان نہیں ملے گا۔

    عوام چار سال میں مہنگائی کا ظلم ڈھانے والوں کا سیاسی طور پر صفایا کردیں …

  • امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے این اے 7 کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرا دی

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے این اے 7 کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرا دی

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 7 لوئر دیر سے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے۔ اس موقع پر سراج الحق نے کہا کہ شیڈول آنے کے بعد شکوک و شبہات بھی ختم ہوگئے، کچھ لوگ ایسے ہیں جو الیکشن نہیں چاہتے تھے۔ سراج الحق نے کہا ان لوگوں کو الیکشن میں شکست نظر آتی تھی۔ جن کے مقدمات عدالتوں میں ہے ان کے ساتھ انصاف اور عدل کے ساتھ معاملات طے کرنا چاہیے۔ سراج الحق نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر اپنے حلف کی پاسداری کرتے ہوئے شفاف الیکشن کے انعقاد کو یقینی بنائے، تمام سیاسی جماعتوں کو الیکشن کیلئے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔سراج الحق نے کہا کہ 8 فروری کا الیکشن آئین کا تقاضہ ہے، شیڈول آنے کے بعد شکوک و شبہات بھی ختم ہوگئے ہیں، کچھ لوگ ایسے ہیں جو الیکشن نہیں چاہتے تھے، ان کی خواہش تھی کہ کسی بھی طریقے سے الیکشن ملتوی ہو جائیں، ان لوگوں کو الیکشن میں شکست نظر آتی تھی۔ امیر جماعت اسلامی کا مزید کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات پوری قوم کیلئے باعث شرم ہیں، ان واقعات سے پاکستان کو پوری دنیا کیلئے ایک تماشا بنایا گیا، جن کے مقدمات عدالتوں میں ہیں ان کے ساتھ انصاف اور عدل کے ساتھ معاملات طے کرنے چاہئیں۔

  • انٹرا پارٹی انتخابات، پشاور ہائیکورٹ کا 22 دسمبر سے پہلے فیصلے کا حکم

    انٹرا پارٹی انتخابات، پشاور ہائیکورٹ کا 22 دسمبر سے پہلے فیصلے کا حکم

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان کیس،پشاور ہائیکورٹ نے مختصر فیصلہ سنادیا

    عدالت نے الیکشن کمیشن کو 22 دسمبر سے پہلے فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے کہا کہ ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ الیکشن کمیشن فیصلہ دے،عدالت نے کچھ دیر قبل فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے

    عدالتِ عالیہ میں کیس کی سماعت جسٹس عتیق شاہ اور جسٹس شکیل احمد نے کی ،چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوھر اور الیکشن کمیشن وکیل عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ اپ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس کیوں دائر نہیں کیا، اس پر بیرسٹر گوھر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آنٹرا پارٹی انتخابات پشاور میں ہوئے اسلئے یہاں ائے، فیڈریشن ہمیں یہاں پیٹیشن کرنے کی اجازت دیتے ہیں، بیرسٹرگوہر نے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن ہر جگہ ہے کیس ہر جگہ کر سکتے ہیں، خیبرپختونخوا ہمارے لئے پنجاب سے زیادہ محفوظ ہے وہاں لیڈرز نہیں جاسکتے، کل تک انتخابی نشان نہ ملا تو ہمارے امیدوار آزاد تصور ہوں گے، انٹرا پارٹی انتخابات کا طریقہ کار پارٹی نے خود طے کرنا ہوتا ہے، اگر انٹرا پارٹی انتخابات کو تسلیم نہ کیا گیا تو انتخابی نشان بلا نہیں ملے گا، الیکشن کمیشن معاملات کو تاخیر کا شکار کرتا آ رہا ہے، تمام سیاسی جماعتوں کو چھوڑ کر ایک پارٹی کے ساتھ ایسا سلوک ہو رہا ہے، پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے، کیا 32 سوالات کسی اور پارٹی سے بھی پوچھے گئے؟ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے بتایا کہ اپ اب چیئرمین ہے اسطرح بیانات کی اپ سے توقع نہیں کررہے، جس پر بیر سٹر گوہر نے کہا کہ زمینی حقائق یہ ہے کہ ہمارے رہنماؤں کو وہاں گرفتار کیا جاتا ہے،جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ آپ کو نہیں لگتا کہ الیکشن کمیشن کو شکایات پر خود فیصلہ کرنا چاہیے؟ اس موقع پر بیرسٹر گوہر نے عدالت کو پی ٹی آئی کے رجسٹرڈ ارکان کی فہرست فراہم کر دی اورکہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات پر الیکشن کمیشن نے ہمیں نوٹس جاری کیا ہے، کل کاغذاتِ نامزدگی کے لیے آخری دن ہے، ہمیں انتخابات سے باہر کرنا چاہتے ہیں،1962ء کے پولیٹکل پارٹی ایکٹ میں انٹرا پارٹی کا کوئی تصور نہیں تھا،2002ء میں انٹرا پارٹی انتخابات سیکرٹ بیلٹ کے ذریعے کرانے کا کہا گیا۔عدالت نے استفسار کیا کہ انٹرا پارٹی انتخابات ویب سائٹ اور گزٹ میں شائع نہ کرنے سے کیا نقصان ہوا ہے؟

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پھر ہمیں ہمارا انتخابی نشان نہیں دیا جائے گا۔ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن میں جب پیش ہوئے تو وہ مطمئن نہیں ہوئے؟بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے جوابات جمع کیے وہ پھر بھی مطمئن نہیں ہوئے، الیکشن کمیشن نے الیکشن کمشنر کی تعیناتی پر بھی اعتراض کیا، ن لیگ نے جولائی میں انٹرا پارٹی انتخابات کیے، ن لیگ کے سرٹیفکیٹ کو ویب سائٹ پر جاری کیا گیا، درخواست گزار پلانٹڈ لوگ تھے، عدالت سے امید ہے کہ انصاف ہو گا، فیصلہ ہمارے حق میں ہو گا، ہم الیکشن کمشنر کے مستعفی ہونے کے مطالبے کی حمایت نہیں کرتے، اس وقت الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ درست نہیں، ہمارے 8 لاکھ 37 ہزار رجسٹرڈ ووٹرز ہیں، عثمان ڈار کی والدہ پر ہاتھ اٹھایا گیا، یہ نہیں ہونا چاہیے تھا، پنجاب میں ہمارے لوگوں کو پکڑا جاتا ہے، الیکشن سر پر ہیں، اس وقت الیکشن کمشنر کے استعفے کامطالبہ درست نہیں، چیف الیکشن کمشنر عہدے سے ہٹے تو الیکشن میں تاخیر ہو گی، الیکشن کمیشن میں انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف درخواست گزار پلانٹڈ ہیں، کے پی میں پولیس پکڑتی بھی ہے تو صوبےکی روایات کو برقرار رکھتی ہے، کے پی میں ہمیں کچھ نہ کچھ تحفظ حاصل ہے، پنجاب اور دیگر جگہوں پر جو ہو رہا ہے افسوس ناک ہے۔

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن،یہ دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،مریم اورنگزیب

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • پشاور،خودکشی کرنے والے اطالوی شہری کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی،

    پشاور،خودکشی کرنے والے اطالوی شہری کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی،

    پشاور میں مبینہ طور پر خودکشی کرنے والے اطالوی شہری کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس کو موصول ہوچکی ہے، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اطالوی سیاح کی خودکشی کی تصدیق ہوگئی۔پشاور میں سیاحت کیلئے آنے والے اٹلی کے شہری نے 3 دسمبر کو مبینہ طور پر خودکشی کی تھی۔ پولیس کے مطابق واقعہ مراد آباد میں پیش آیا تھا۔پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اطالوی شہری جوشوا موائسز ورگاس کی موت لٹکنے سے ہوئی، ان کی گردن کے گرد پھندے کا نشان پایا گیا۔پولیس کے مطابق اطالوی سیاح عارضی طور پر نجی سوسائٹی کے فلیٹ میں مقیم تھا، جہاں اس کی لاش لٹکتی پائی گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق لاش کے دائیں کان کے نیچے پھندے کی گرہ تھی، پھندے کے نیچے گردن کا پٹھا متاثر ہوا اور گردن کی ہڈی بائیں جانب سے فریکچر ہوئی۔پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اطالوی شہری ٹینشن میں گولیاں استعمال کرتا تھا، متوفی کی شرٹ پر خون کے نشانات پائے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق لاش سڑنے اور منہ کی سوجن ایڈوانس اسٹیج پر تھی، ہاتوں کے انگوٹھے سیاہی مائل اور نیلا رنگ اختیار کرچکے تھے۔

  • سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر  مردان جیل سے رہا

    سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر مردان جیل سے رہا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد قیصر کو مردان جیل سے رہا کردیا گیا۔ پشاور ہائیکورٹ کے حکم پر تھری ایم پی او معطل کرنے پر اسد قیصر کو مردان جیل سے رہا کیا گیا۔ سابق اسپیکر قومی اسمبلی کو 18 دن کے بعد رہائی ملی ہے۔خیال رہے کہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر 3 ایم پی او کے تحت جیل میں تھے۔ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے نائب صدر ظاہر شاہ طورو نے 9 دسمبر کو تصدیق کی تھی کہ اسد قیصر کو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔اپنے بیان میں پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر کا کہنا تھا کہ اسد قیصر کو صوابی پولیس نے تین ایم پی او کے تحت گرفتار کیا ہے۔انہوں نے بتایا تھا کہ اسد قیصر کو سینٹرل جیل مردان سے حراست میں لیا گیا ہے۔خیال رہے کہ اس سے قبل اسد قیصر کو مردان پولیس نے 9 مئی توڑ پھوڑ کیس میں گرفتار کیا تھا۔

  • اسد قیصر کیخلاف تھری ایم پی او واپس لینے کا حکمنامہ جاری

    اسد قیصر کیخلاف تھری ایم پی او واپس لینے کا حکمنامہ جاری

    پشاور: ڈپٹی کمشنر صوابی نے عدالتی حکم پر سابق اسپیکر اسد قیصر کیخلاف تھری ایم پی او واپس لے لیا۔

    باغی ٹی وی: : پشاور ہائیکورٹ میں اسد قیصر کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری پر سماعت ہوئی، جس کے بعد ڈپٹی کمشنر صوابی نے تھری ایم پی او واپس لینے کا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسد قیصر کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا تھا، ملزم امن و امان میں خلل نہیں ڈالیں گے۔

    ڈپٹی کمشنر نے حکم نامے میں لکھا کہ ملزم اسد قیصر صوبائی حکومت کی جانب سے سیاسی ایس او پیز پر عمل درآمد کے پابند ہوں گے، ملزم اداروں کے خلاف مہم اور نعرے بھی نہیں لگائیں گے ملزم اسد قیصر ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرائیں گے، اگر دوسرے کیسز میں مطلوب نہ ہو تو ملزم کو مردان جیل سے رہا کیا جائے۔

    عالمی بینک کی پاکستان کیلئے 35 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری

    گزشتہ روز پشاور ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ کوئی جو بھی الزام لگائے اس کی پرواہ نہیں ہے، کیونکہ کسی سیاسی پارٹی سے کوئی دلچسپی نہیں،پشاور ہائی کورٹ میں سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور سابق رکن قومی اسمبلی مجاہد خان کی کئی مقدمات میں گرفتاری سے متعلق دائر کیس کی سماعت ہوئی، سماعت چیف جسٹس محمد ابراہیم خان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کی۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ کوئی جو بھی الزام لگائے اس کی پرواہ نہیں ہے، کیونکہ ان کی کسی سیاسی پارٹی سے کوئی دلچسپی نہیں ، کسی کو بچانے یا پھنسانے کے لئے سوالات نہیں کررہے ہیں، بلکہ صرف سب کچھ آئین و قانون کی پاسداری کے لئے کررہے ہیں۔

    سارہ انعام کیس، شاہنواز امیر نے سزائے موت کیخلاف اپیل کر دی

    عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سے کہا کہ ڈپٹی کمشنر سے بات کرکے آگاہ کریں کہ وہ سابق اسپیکر اسد قیصر کے خلاف تھری ایم پی او واپس لیں، اگر تھری ایم پی او آرڈر واپس نہیں لیتے تو پھر ڈی سی کے خلاف کارروائی کریں گے،بعد ازاں عدالت نے حکومت اور تحریک انصاف کے وکلا کی دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    واضح رہے کہ اسد قیصر کو جیل سے رہائی کے بعد ایک اور مقدمے میں پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے ایک لاکھ روپے کے مچلکے ےعوض اسد قیصر کی ضمانت منظور کی تھی ان کی 9 مئی واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں ضمانت ہوئی تھی اسد قیصر کو 23 نومبر کے دن چارسدہ پولیس نے جلاؤ گھیراؤ کیس میں گرفتار کیا تھا پولیس انہیں گرفتار کر کے سخت سکیورٹی میں چارسدہ لے گئی تھی پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد بینچ نے پی ٹی آئی رہنما کی ضمانت منظور کی تھی اس سے قبل بھی سابق اسپیکر قومی اسمبلی کو 3 نومبر کو اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا تھا،ان پر گجو خان میڈیکل کالج صوابی کیلیے طبی آلات کی خریداری میں کرپشن کا الزام ہے۔

    تااحیات نااہلی کا معاملہ،سماعت کیلئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل

  • کسی کو بچانے یا پھنسانے کے لئے سوالات نہیں کررہے ہیں،عدالت

    کسی کو بچانے یا پھنسانے کے لئے سوالات نہیں کررہے ہیں،عدالت

    پشاور:عدالت کا کہنا ہے کہ کوئی جو بھی الزام لگائے اس کی پرواہ نہیں ہے، کیونکہ کسی سیاسی پارٹی سے کوئی دلچسپی نہیں-

    باغی ٹی وی: پشاور ہائی کورٹ میں سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور سابق رکن قومی اسمبلی مجاہد خان کی کئی مقدمات میں گرفتاری سے متعلق دائر کیس کی سماعت ہوئی، سماعت چیف جسٹس محمد ابراہیم خان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کی۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ کوئی جو بھی الزام لگائے اس کی پرواہ نہیں ہے، کیونکہ ان کی کسی سیاسی پارٹی سے کوئی دلچسپی نہیں ، کسی کو بچانے یا پھنسانے کے لئے سوالات نہیں کررہے ہیں، بلکہ صرف سب کچھ آئین و قانون کی پاسداری کے لئے کررہے ہیں۔

    حلیم عادل شیخ مزید 3 مقدمات میں گرفتار

    عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سے کہا کہ ڈپٹی کمشنر سے بات کرکے آگاہ کریں کہ وہ سابق اسپیکر اسد قیصر کے خلاف تھری ایم پی او واپس لیں، اگر تھری ایم پی او آرڈر واپس نہیں لیتے تو پھر ڈی سی کے خلاف کارروائی کریں گے،بعد ازاں عدالت نے حکومت اور تحریک انصاف کے وکلا کی دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    بھارت کی طرف سے پانی چھوڑنے کے بعد نالہ ڈیک میں شدید طغیانی

    واضح رہے کہ اسد قیصر کو جیل سے رہائی کے بعد ایک اور مقدمے میں پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے ایک لاکھ روپے کے مچلکے ےعوض اسد قیصر کی ضمانت منظور کی تھی ان کی 9 مئی واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں ضمانت ہوئی تھی اسد قیصر کو 23 نومبر کے دن چارسدہ پولیس نے جلاؤ گھیراؤ کیس میں گرفتار کیا تھا پولیس انہیں گرفتار کر کے سخت سکیورٹی میں چارسدہ لے گئی تھی پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد بینچ نے پی ٹی آئی رہنما کی ضمانت منظور کی تھی اس سے قبل بھی سابق اسپیکر قومی اسمبلی کو 3 نومبر کو اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا تھا،ان پر گجو خان میڈیکل کالج صوابی کیلیے طبی آلات کی خریداری میں کرپشن کا الزام ہے اور وہ اس وقت بھی 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔

    وہ ممالک جو ہم سے کہیں پیچھے تھےآج آگے چلے گئے،نواز شریف

    دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو 21 دسمبر تک پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان بلے سے متعلق حتمی فیصلہ جاری کرنے سےروک دیا تھا،پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان بلے سےمتعلق الیکشن کمیشن کے نوٹس کے خلاف سماعت ہوئی تھی،جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس صاحبزادہ اسد اللّٰہ نے کیس کی سماعت کی تھی-

    الیکشن کمیشن کے وکیل محسن کامران نے کہا کہ ہم نے آج جواب جمع کیا ہے درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ یہ ہمیں بھی اس کی کاپی فراہم کرے، جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کہا کہ یہ آپ کا قانونی حق ہے، آپ کو کاپی فراہم کریں گے،بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن نوٹس کے خلاف عبوری ریلیف میں توسیع کی جائے عدالت نے الیکشن کمیشن نوٹس کے خلاف عبوری ریلیف میں 21 دسمبر تک توسیع کر دی-

    اے این پی کے رہنما ساتھیوں سمیت ن لیگ میں شامل

  • کرک:فائرنگ سے دو  افراد جاں بحق جبکہ ایک ذخمی ہو گیا

    کرک:فائرنگ سے دو افراد جاں بحق جبکہ ایک ذخمی ہو گیا

    خیبر پختونخوا کے ضلع کرک کے علاقے صابرآباد میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 2 افرادجاں بحق جبکہ ایک زخمی ہوگیا، پولیس کے مطابق واقعہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ ہے۔ کرک کے علاقے صابرآباد میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے دو افراد کو قتل کردیا، جب کہ فائرنگ کی زد میں آکر ایک شخص زخمی بھی ہوا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو کی ٹیمیں وقوعہ پر پہنچ گئیں اور لاشوں اور زخمی شخص کو اسپتال منتقل کردیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ تھانہ صابر آباد کے علاقے میں پیش آیا، اور سابقہ عداوت پر پیش آیا، پولیس نے شواہد جمع کرکے ملزمان کی گرفتاریوں کیلیے سرچ شروع کردیا ہے۔

  • امریکی شہری نے ریکارڈ 232,000 ڈالر کا پرمٹ حاصل کر کے چترال میں مارخور کا شکار کر لیا

    امریکی شہری نے ریکارڈ 232,000 ڈالر کا پرمٹ حاصل کر کے چترال میں مارخور کا شکار کر لیا

    امریکی شہری نے ضلع چترال کی توشی شاشا کنزروینسی میں ایک خوبصورت مارخور کا شکار کر لیا، امریکی شہری ڈیرون جیمز مل مین کو محکمہ جنگلی حیات سے 232,000 ڈالر جو پاکستانی کرنسی میں ساڑھے 6 کروڑ روپے بنتی ہے ٹرافی ہنٹنگ کا اجازت نامہ ملا، جو تاریخ کی سب سے بڑی بولی ہے۔ذرائع نے مزید کہا کہ مارخور کے شکار کے لیے اجازت نامہ اکتوبر میں حاصل کیا گیا تھا جو کہ وسطی ایشیا میں مون سون کے جنگلات میں رہنے والا جنگلی بکرا ہے۔محکمہ جنگلی حیات کا کہنا ہے کہ پہاڑی بادشاہ کے سینگ کا سائز 45 انچ تھا۔ گزشتہ سال اکتوبر میں، ملک کے انتہائی شمالی علاقے میں محکمہ جنگلی حیات نے ٹرافی اسکیم کے تحت استور مارخور کے شکار کے اجازت نامے ریکارڈ قیمتوں پر نیلام کیے تھے۔
    ہر سال مختلف علاقوں کے لیے شکار کے اجازت نامے جاری کیے جاتے ہیں، جن میں گلگت بلتستان، ضلع چترال میں توشی کنزروینسی، ضلع چترال میں گرہیت کنزروینسی اور ضلع کوہستان میں کائیگاہ کنزروینسی شامل ہیں۔پچھلے سال استور مارخور کی متعلقہ نسل کے لیے سب سے زیادہ بولی 167,525 ڈالر تھی۔ مارخور کی آبادی بڑھنے کے ساتھ ہی ٹرافی ہنٹنگ کے تصور نے مثبت نتائج برآمد کیے ہیں۔ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت، مقامی کمیونٹیز لائسنس فیس کا 80 فیصد وصول کرتی ہیں اور باقی حکومت اپنے پاس رکھتی ہے۔ رقم مختلف ہوتی ہے کیونکہ لائسنس بولی لگانے کے عمل کے ذریعے جاری کیے جاتے ہیں۔
    مزید یہ کہ صرف بوڑھے اور نر مارخور کو گولی ماری جاتی ہے اور ایسے جانوروں کو ان کے سینگوں، چال اور جسم کی ساخت سے پہچانا جا سکتا ہے۔ اس پروگرام کو پاکستان میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا گیا ہے۔ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے ذریعے پیدا کی جانے والی ترغیبات نے متعلقہ کمیونٹیز کے درمیان نئے اخلاقی معیارات متعارف کرائے ہیں جو اب اپنے جنگلی کھیل کی نسلوں کو معاشی اثاثے کے طور پر تحفظ فراہم کرتے ہیں۔پاکستان کے قومی جانور مارخور کو مقامی اور بین الاقوامی قوانین جیسے کہ خطرے سے دوچار نسلوں میں بین الاقوامی تجارت کے کنونشن (Cites) کے ذریعے تحفظ حاصل ہے۔