Baaghi TV

Category: پشاور

  • تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو ، اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں

    تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو ، اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں

    حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا
    ٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتا

    قتیل شفائی

    قتیل شفائی یا اورنگزیب خان (پیدائش 24 دسمبر، 1919ء – وفات 11 جولائی، 2001ء) پاکستان کے ایک مشہور و معروف اردو شاعر تھے۔ قتیل شفائی خیبر پختونخوا، ہری پور، ہزارہ میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد لاہور میں سکونت اختیار کی۔ یہاں پر فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے اور بہت سی فلموں کے لیے گیت لکھے۔

    ابتدائی زندگی اور کیرئر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    قتیل شفائی 1919ء میں برطانوی ہند (موجوہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا پیدائشی نام محمد اورنگ زیب تھا۔ انھوں نے 1938ء میں قتیل شفائی اپنا قلمی نام رکھا اور اردو دنیا میں اسی نام سے مشہور ہیں۔ اردو شاعری میں وہ قتیل تخلص کرتے ہیں۔ شفائی انھوں نے اپنے استاد حکیم محمد یحیی شفاؔ کانپوری کے نام کی وجہ سے اپنے نام کے ساتھ لگایا۔ 1935ء میں ان کے والد کی وفات ہوئی اور ان پر اعلیٰ تعلیم چھوڑنے کا دباؤ بنا۔ انھوں نے کھیل کے سامان کی ایک دکان کھول لی مگر تجارت میں وہ ناکام رہے اور انھوں نے اپنے چھوٹے سے قصبے سے راولپنڈی منتقل ہونے کا فیصلہ کیا جہاں انھوں نے ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کے لیے کام کرنا شروع کیا۔ بعد میں 1947ء میں انھوں نے پاکستانی سنیما میں قدم رکھا اور نغمہ لکھنے لگے۔ ان کے والد ایک تاجر تھے اور ان کے گھر میں شعر و شاعری کا کوئی رواج نہ تھا۔ ابتدا میں امھوں حکیم یحیی کو اپنا کلام دکھانا شروع کیا اور بعد میں احمد ندیم قاسمی سے اصلاح لینے لگے اور باقاعدہ ان کے شاگرد بن گئے۔ قاسمی ان کے دوست بھی تھے اور پڑوسی بھی۔

    فلمی دنیا
    ۔۔۔۔
    1948ء میں ریلیز ہونے والی پاکستان کی پہلی فلم ’’تیری یاد‘‘ کی نغمہ نگاری سے ان کے فلمی سفر کا آغاز ہوا۔ جس کے بعد انھوں نے مجموعی طور پر 201 فلموں میں 900 سے زائد گیت تحریر کیے۔ وہ پاکستان کے واحد فلمی نغمہ نگار تھے جنھیں ہندستانی فلموں کے لیے نغمہ نگاری کا اعزاز بھی حاصل ہوا تھا۔ انھوں نے کئی فلمیں بھی بنائیں جن میں پشتو فلم عجب خان آفریدی کے علاوہ ہندکو زبان میں بنائی جانے والی پہلی فلم ’’قصہ خوانی‘‘ شامل تھی۔ انھوں نے اردو میں بھی ایک فلم ’’اک لڑکی میرے گائوں کی‘‘ بنانی شروع کی تھی مگر یہ فلم مکمل نہ ہوسکی تھی۔ فلمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ قتیل شفائی کا ادبی سفر بھی جاری رہا۔ اپنی عمر کے آخری دور میں متعدد مرتبہ ممبئی کا بھی سفر کیا اور ’سر‘، ’دیوانہ تیرے نام کا‘، ’بڑے دل والا‘ اور ’پھر تیری کہانی یاد آئی‘ جیسی ہندستانی فلموں کے لیے بھی عمدہ گیت لکھے۔

    اُن کے گیتوں کی مجموعی تعداد ڈھائی ہزار سے زیادہ بنتی ہے، جن میں ’صدا ہوں اپنے پیار کی‘، ’اے دل کسی کی یاد میں ہوتا ہے بے قرار کیوں‘، ’یوں زندگی کی راہ سے ٹکرا گیا کوئی‘ کے ساتھ ساتھ ’یہ وادیاں، یہ پربتوں کی شاہزادیاں‘ جیسے زبان زدِ خاص و عام گیت بھی شامل ہیں۔ ان میں سے کئی گیتوں پر اُنھیں خصوصی اعزازات سے نوازا گیا

    کلام کی خصوصیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    قتیل شفائی نہایت ہی مقبول اور ہردلعزیز شاعر ہیں۔ ان کے لہجے کی سادگی و سچائی، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام الناس کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ہی ان کی مقبولیت کا راز ہے۔ یوں تو انھوں نے مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی مگر ان کا اصل میدان غزل ہے۔ ان کی شاعری میں سماجی او رسیاسی شعور بھی موجود ہے۔ اور انھیں صف اول کے ترقی پسند شعرا میں اہم مقام حاصل ہے۔ فلمی نغمہ نگاری میں بھی انھوں نے ایک معتبر مقام حاصل کیا۔ ان کا کلام پاکستان اور ہندستان دونوں ملکوں میں یکساں طور پر مقبول ہے۔

    اعزازت
    ۔۔۔۔۔
    صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی 1994ء، آدم جی ادبی انعام، امیر خسرو ایورڈ، نقوش ایورڈ۔ نیز ہندستان کی مگدھ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے ’’قتیل اور ان کے ادبی کارنامے‘‘ کے عنوان سے ان پر پی ایچ ڈی کی۔ صوبہ مہاراشٹر میں ان کی دو نظمیں شامل نصاب ہیں۔ علاوہ ازیں بہاول پور یونیورسٹی کی دو طالبات نے ایم اے کے لیے ان پر مقالہ تحریر کیا۔

    فلمی نغمہ نگاری
    ۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد سے نغمہ نگاری کا آغاز کیا۔ اڑھائی ہزار سے زائد نغمے لکھے۔ انہیں نیشنل فلم ایورڈ کے علاوہ دو طلائی تمغے اور بیس ایورڈ بھی دیے گئے۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)ہریالی
    ۔ (2)گجر
    ۔ (3)جلترنگ
    ۔ (4)روزن
    ۔ (5)جھومر
    ۔ (6)مطربہ
    ۔ (7)چھتنار
    ۔ (8)گفتگو
    ۔ (9)پیراہن
    ۔ (10)آموختہ
    ۔ (11)ابابیل
    ۔ (12)برگد
    ۔ (13)گھنگرو
    ۔ (14)سمندر میں سیڑھی
    ۔ (15)پھوار
    ۔ (16)صنم
    ۔ (17)پرچم
    انتخاب (منتخب مجموعہ)
    کلیات
    ۔۔۔۔۔
    رنگ خوشبو روشنی (تین جلدیں)
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    11 جولائی 2001ء کو قتیل شفائی لاہور میں وفات پاگئے اور علامہ اقبال ٹائون کے کریم بلاک کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے
    منسوبات
    ۔۔۔۔۔
    لاہور جہاں رہتے تھے وہاں سے گزرنے والی شاہراہ کو ان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے جبکہ ہری پور میں ان کے رہائشی محلے کا نام محلہ قتیل شفائی رکھ دیا گیا۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
    میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو
    میں جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن
    میں ہوں گر پھول تو جوڑے میں سجا لے مجھ کو
    ترک الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسم
    تو کبھی یاد تو کر بھولنے والے مجھ کو
    مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی
    یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو
    میں سمندر بھی ہوں موتی بھی ہوں غوطہ زن بھی
    کوئی بھی نام مرا لے کے بلا لے مجھ کو
    تو نے دیکھا نہیں آئینے سے آگے کچھ بھی
    خود پرستی میں کہیں تو نہ گنوا لے مجھ کو
    باندھ کر سنگ وفا کر دیا تو نے غرقاب
    کون ایسا ہے جو اب ڈھونڈ نکالے مجھ کو
    خود کو میں بانٹ نہ ڈالوں کہیں دامن دامن
    کر دیا تو نے اگر میرے حوالے مجھ کو
    میں کھلے در کے کسی گھر کا ہوں ساماں پیارے
    تو دبے پاؤں کبھی آ کے چرا لے مجھ کو
    کل کی بات اور ہے میں اب سا رہوں یا نہ رہوں
    جتنا جی چاہے ترا آج ستا لے مجھ کو
    بادہ پھر بادہ ہے میں زہر بھی پی جاؤں قتیلؔ
    شرط یہ ہے کوئی بانہوں میں سنبھالے مجھ کو

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں
    لیکن یہ سوچتا ہوں کہ اب تیرا کیا ہوں میں
    بکھرا پڑا ہے تیرے ہی گھر میں ترا وجود
    بے کار محفلوں میں تجھے ڈھونڈتا ہوں میں
    میں خودکشی کے جرم کا کرتا ہوں اعتراف
    اپنے بدن کی قبر میں کب سے گڑا ہوں میں
    کس کس کا نام لاؤں زباں پر کہ تیرے ساتھ
    ہر روز ایک شخص نیا دیکھتا ہوں میں
    کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام
    دنیا سمجھ رہی ہے کہ سچ مچ ترا ہوں میں
    پہنچا جو تیرے در پہ تو محسوس یہ ہوا
    لمبی سی ایک قطار میں جیسے کھڑا ہوں میں
    لے میرے تجربوں سے سبق اے مرے رقیب
    دو چار سال عمر میں تجھ سے بڑا ہوں میں
    جاگا ہوا ضمیر وہ آئینہ ہے قتیلؔ
    سونے سے پہلے روز جسے دیکھتا ہوں میں

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے
    ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ

    آخری ہچکی ترے زانوں پہ آئے
    موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں

    جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ
    جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں

    چلو اچھا ہوا کام آ گئی دیوانگی اپنی
    وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے

    اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن
    دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں

    یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہو جانا
    جس طرح پھول سے خوشبو کا جدا ہو جانا

    دل پہ آئے ہوئے الزام سے پہچانتے ہیں
    لوگ اب مجھ کو ترے نام سے پہچانتے ہیں

    دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا
    اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا

    ہم اسے یاد بہت آئیں گے
    جب اسے بھی کوئی ٹھکرائے گا

    یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں
    خدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے

    تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو
    اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں

    گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں
    ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں

    تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں
    ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں

    میرے بعد وفا کا دھوکا اور کسی سے مت کرنا
    گالی دے گی دنیا تجھ کو سر میرا جھک جائے گا

    اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
    ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا

    گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
    لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا

    احباب کو دے رہا ہوں دھوکا
    چہرے پہ خوشی سجا رہا ہوں

    کچھ کہہ رہی ہیں آپ کے سینے کی دھڑکنیں
    میرا نہیں تو دل کا کہا مان جائیے

    اچھا یقیں نہیں ہے تو کشتی ڈبا کے دیکھ
    اک تو ہی ناخدا نہیں ظالم خدا بھی ہے

    لے میرے تجربوں سے سبق اے مرے رقیب
    دو چار سال عمر میں تجھ سے بڑا ہوں میں

    کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام
    دنیا سمجھ رہی ہے کہ سچ مچ ترا ہوں میں

    وہ میرا دوست ہے سارے جہاں کو ہے معلوم
    دغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے

    مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی
    یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو

    رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر
    یہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے

    جو بھی آتا ہے بتاتا ہے نیا کوئی علاج
    بٹ نہ جائے ترا بیمار مسیحاؤں میں

    ابھی تو بات کرو ہم سے دوستوں کی طرح
    پھر اختلاف کے پہلو نکالتے رہنا

    نہ جانے کون سی منزل پہ آ پہنچا ہے پیار اپنا
    نہ ہم کو اعتبار اپنا نہ ان کو اعتبار اپنا

    ستم تو یہ ہے کہ وہ بھی نہ بن سکا اپنا
    قبول ہم نے کیے جس کے غم خوشی کی طرح

    حالات سے خوف کھا رہا ہوں
    شیشے کے محل بنا رہا ہوں

    حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں
    ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں

    وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے
    میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے

    گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں
    کوئی بدلی تری پازیب سے ٹکرائی ہے

    میں اپنے دل سے نکالوں خیال کس کس کا
    جو تو نہیں تو کوئی اور یاد آئے مجھے

    جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
    اس کو دفناؤ مرے ہاتھ کی ریکھاؤں میں

    وہ تیری بھی تو پہلی محبت نہ تھی قتیلؔ
    پھر کیا ہوا اگر وہ بھی ہرجائی بن گیا

    مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت
    اب کھل کے مزاروں پہ یہ اعلان کیا جائے

    کیا مصلحت شناس تھا وہ آدمی قتیلؔ
    مجبوریوں کا جس نے وفا نام رکھ دیا

    رابطہ لاکھ سہی قافلہ سالار کے ساتھ
    ہم کو چلنا ہے مگر وقت کی رفتار کے ساتھ

    جیت لے جائے کوئی مجھ کو نصیبوں والا
    زندگی نے مجھے داؤں پہ لگا رکھا ہے

    یوں تسلی دے رہے ہیں ہم دل بیمار کو
    جس طرح تھامے کوئی گرتی ہوئی دیوار کو

    ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے
    اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں

    آیا ہی تھا ابھی مرے لب پہ وفا کا نام
    کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھا لیے

    شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے
    ہم اسی آگ میں گم نام سے جل جاتے ہیں

    تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی
    تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے

    اپنے لیے اب ایک ہی راہ نجات ہے
    ہر ظلم کو رضائے خدا کہہ لیا کرو

    انگڑائی پر انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کی
    تم کیا سمجھو تم کیا جانو بات مری تنہائی کی

    حوصلہ کس میں ہے یوسف کی خریداری کا
    اب تو مہنگائی کے چرچے ہیں زلیخاؤں میں

    مانا جیون میں عورت اک بار محبت کرتی ہے
    لیکن مجھ کو یہ تو بتا دے کیا تو عورت ذات نہیں

    ترک وفا کے بعد یہ اس کی ادا قتیلؔ
    مجھ کو ستائے کوئی تو اس کو برا لگے

    کس طرح اپنی محبت کی میں تکمیل کروں
    غم ہستی بھی تو شامل ہے غم یار کے ساتھ

    ثبوت عشق کی یہ بھی تو ایک صورت ہے
    کہ جس سے پیار کریں اس پہ تہمتیں بھی دھریں

    کیوں شریک غم بناتے ہو کسی کو اے قتیلؔ
    اپنی سولی اپنے کاندھے پر اٹھاؤ چپ رہو

    دشمنی مجھ سے کئے جا مگر اپنا بن کر
    جان لے لے مری صیاد مگر پیار کے ساتھ

    یوں برستی ہیں تصور میں پرانی یادیں
    جیسے برسات کی رم جھم میں سماں ہوتا ہے

    ہم ان کے ستم کو بھی کرم جان رہے ہیں
    اور وہ ہیں کہ اس پر بھی برا مان رہے ہیں

    اپنی زباں تو بند ہے تم خود ہی سوچ لو
    پڑتا نہیں ہے یوں ہی ستم گر کسی کا نام

    قتیلؔ اب دل کی دھڑکن بن گئی ہے چاپ قدموں کی
    کوئی میری طرف آتا ہوا محسوس ہوتا ہے

    یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے
    کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے

    تھوڑی سی اور زخم کو گہرائی مل گئی
    تھوڑا سا اور درد کا احساس گھٹ گیا

    اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
    میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو

    نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ بت خانہ
    تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے

    تم آ سکو تو شب کو بڑھا دو کچھ اور بھی
    اپنے کہے میں صبح کا تارا ہے ان دنوں

    داد سفر ملی ہے کسے راہ شوق میں
    ہم نے مٹا دئے ہیں نشاں اپنے پاؤں کے

    میں گھر سے تیری تمنا پہن کے جب نکلوں
    برہنہ شہر میں کوئی نظر نہ آئے مجھے

    یارو یہ دور ضعف بصارت کا دور ہے
    آندھی اٹھے تو اس کو گھٹا کہہ لیا کرو

    بہ پاس دل جسے اپنے لبوں سے بھی چھپایا تھا
    مرا وہ راز تیرے ہجر نے پہنچا دیا سب تک

    رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں
    ہم نے خوش ہو کے بھنور باندھ لیا پاؤں میں

    میں جب قتیلؔ اپنا سب کچھ لٹا چکا ہوں
    اب میرا پیار مجھ سے دانائی چاہتا ہے

    سوچ کو جرأت پرواز تو مل لینے دو
    یہ زمیں اور ہمیں تنگ دکھائی دے گی

    زندگی میں بھی چلوں گا ترے پیچھے پیچھے
    تو مرے دوست کا نقش کف پا ہو جانا

    قتیل اپنا مقدر غم سے بیگانہ اگر ہوتا
    تو پھر اپنے پرائے ہم سے پہچانے کہاں جاتے

    سوکھ گئی جب آنکھوں میں پیار کی نیلی جھیل قتیلؔ
    تیرے درد کا زرد سمندر کاہے شور مچائے گا

    نہ چھاؤں کرنے کو ہے وہ آنچل نہ چین لینے کو ہیں وہ بانہیں
    مسافروں کے قریب آ کر ہر اک بسیرا پلٹ گیا ہے

    تیز دھوپ میں آئی ایسی لہر سردی کی
    موم کا ہر اک پتلا بچ گیا پگھلنے سے

  • چارسدہ،مکان کے تنازعے پر  بھتیجے نے چچا کو قتل کر دیا

    چارسدہ،مکان کے تنازعے پر بھتیجے نے چچا کو قتل کر دیا

    ضلع چارسدہ مکان کے تنازعہ پر فائرنگ کے نتیجے میں سکول استاد مسیح اللہ قتل کر دیئے گئے، پولیس کے مطابق فائرنگ متقول کے بھتیجے نے کی جس کے نتیجے میں چا چا مسیح اللہ مو قع پر جاں بحق ہو گئے، واقع رجڑ بائی پاس چارسدہ میں پیش آیا ،مقتول مسیح اللہ سکول ٹیچر تھے،پولیس نے ،ملزم کے خلاف سٹی تھانہ میں رپورٹ درج کر کے تعتیش شروع کر دی،ملزم واردات کر کے موقع سے فرار ہو گیا،جس کے لئے پولیس کی جانب سے کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے،

  • دین کا لباس اوڑھے ملک کا جو حشر کیا ہے، ایک دن اس کا جواب دینا ہوگا، ایمل ولی خان

    دین کا لباس اوڑھے ملک کا جو حشر کیا ہے، ایک دن اس کا جواب دینا ہوگا، ایمل ولی خان

    خیبر پختونخوا میں اے این پی اور جے یو ائی ف آمنے سامنے ،اے این پی خیبرپختونخوا کے صدر ایمل ولی خان کا مولانا فضل الرحمان کی صحافیوں سے گفتگو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پختونخوا کی حکومت ہے کوئی حلوہ نہیں کہ ہر کوئی کھائے، ایمل ولی خان نے کہا حکومتوں کے بھوکے اور بھکاری نہیں، میں نے کسی بزرگ کی بڑی کرپشن کی بات نہیں کی، پختونخوا میں مذہب کے نام پر جو من و سلویٰ جاری ہے، ابھی اس کا ذکر بھی نہیں کیا،صوبائی صدر اے این پی نے کہا میں نے صرف گورنر کی بات کی، قوم کو پتہ ہے کہ وہ مولانا اور انکی پارٹی کیلئے شرم کا باعث بن چکا ہے، خود کا کیا دوسروں پر ڈالنا آسان ہے، اپنے سمدھی اور فیصلوں کو اپنانے کی ہمت پیدا کریں، ایمل ولی خان نے اے این پی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میری عظیم غلطی ہے کہ غلام علی کی حمایت کی اور میں اپنی یہ غلطی مانتا ہوں، اس نے مولانا کو کہا مجھ معلوم نہیں تھا کہ کے پی کے گورنر غلام علی کیسا بندہ ہے، آپ کے گھر کا بندہ ہے ، آپ انہیں خوب جانتے تھے، پھر بھی آپ نے انکو عوام پر مسلط کر دیا،ایمل ولی نے کہا کہ گورنر کے پی کے پر عدم اعتماد کرنے سے پیغام دیا جارہا ہے کہ میں سب کچھ اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر کررہا ہوں، جبکہ میں صرف حقیقت بیان کررہا ہوں، ایمل ولی نے مولانا فضل الرحمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا دین کا لباس اوڑھے ملک کا جو حشر کیا ہے، ایک دن اس کا جواب دینا ہوگا، ایمل ولی خاننے ایک بار پھر دہرایا ، گورنرپختونخوا جے یو آئی کیلئے باعث شرمندگی بن رہا ہے ،اس نے
    آنیوالے انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کا عزم ظاہر کیا اور کہا زیادہ تر امیدواران نامزد ہوچکے ہیں، ایمل ولی خان نے کہا اے این پی کسی بھی بیساکھی کی محتاج نہیں، عوام ہماری طاقت ہے اور رہے گی،ہم حکومت کے بھوکے نہیں، عوامی خدمت، حقوق اور امن کیلئے صف اول کا کردار ادا کرتے رہیں گے، ایمل ولی خان نے کہا کہ قوم نے موقع دیا تو اسی طرح خدمت کریں گے جس طرح ماضی میں کی ہے،

  • نگران وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے زیر صدارت امن وامان صورتحال کے متعلق اجلاس

    نگران وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے زیر صدارت امن وامان صورتحال کے متعلق اجلاس

    نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اعظم خان کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق اجلاس ہوا ہے اجلاس میں انسپکٹر جنرل آف پولیس اختر حیات خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری زبیر اصغر قریشی سمیت دیگر اعلیٰ حکام کی شرکت کی ،
    اجلاس میں صوبے بالخصوص ضلع کرم میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ضلع کرم میں جاری کشیدگی پر وزیر اعلیٰ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ انتظامیہ اور پولیس حکام کو کرم میں جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے،اور کہا کہ ضلع کرم میں تمام تنازعات و مسائل پر امن طریقے سے حل کیے جائیں ، نگران وزیر اعلی کے پی کے شہریوں سے اپنے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر امن کے لیے کوشاں رہنے کی اپیل کی ہے،

  • ‎مولانا فضل الرحمان کی صحافیوں سے آف دی ریکارڈ گفتگو کو توڑ موڑ کر چلایا جارہا ہے

    ‎مولانا فضل الرحمان کی صحافیوں سے آف دی ریکارڈ گفتگو کو توڑ موڑ کر چلایا جارہا ہے

    ترجمان جے یوآئی ف کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کے بیان کے حوالے سے وضاحت پیش کر کے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا بیان توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے، ‎دبئی میں ہونے والے مذاکرات سے صرف جے یو آئی ہی نہیں بلکہ پوری پی ڈی ایم بے خبر ہے۔محمداسلم غوری نے اگے کہا کہ ‎دبئی میں ہونے والے مذاکرات پر اعتماد میں نہ لینے پر تحفظات ہمارا حق ہے ۔اور ‎جے یوآئی کے نزدیک اسمبلیوں کی مدت بڑھانا اور الیکشن کا التواء سیاسی نقصان ہوگا ۔ترجمان جے یو آئی نے کہا کہ ‎عام انتخابات کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے واضح موقف دیا ہے
    ‎پنجاب اور خیبرپختونخواہ الیکشن کے بارے میں اتحادی حکومت کا موقف مشترکہ تھا۔ترجمان جے یو آئی نے کہا کہ ‎جے یوآئی پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد فوری الیکشن کرانےکی حامی تھی ۔اور ہمارا موقف اسٹریٹ پاور سے حکومت گرانا اور الیکشن کرانا تھا۔ترجمان جےیوآئی
    ‎عدم اعتماد کا راستہ ہمارا نہیں آصف علی زرداری کا تھا ۔وقت بتائے گا کہ عدم اعتماد کے موقف کے پیچھے کون کون سی طاقتیں تھی۔ترجمان جے یوآئی نے مزید کہا کہ وزیراعظم کا اسمبلیوں کی مدت کے خاتمے کا بیان باہمی مشاورت سے تھا۔اور ‎اسمبلیوں کی تحلیل کے بارے میں وزیراعظم کے موقف کی مولانا فضل الرحمان نے کل تائید کی ہے۔

  • تخت بھائی فائرنگ، میاں بیوی جاں بحق

    تخت بھائی فائرنگ، میاں بیوی جاں بحق

    تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مردان تخت بھائی کے علاقے جلالہ برے شاہ میں فائرنگ کے نتیجے میں میاں بیوی جاں بحق ہو گئے، ریسکیو1122 گولی لگنے سے عبداللّٰہ اور زوجہ عبداللّٰہ موقع پر ہی جانبحق ہو گئے،۔اطلاع موصول ہونے پر ریسکیو1122 ایمبولینس اور میڈیکل ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔ریسکیو1122 میڈیکل ٹیم نے ٹی ایچ کیو تخت بھائی منتقل کر دیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کے موت کی تصدیق کر دی۔

  • مردان،ایک طرف شدید لوڈ شیدنگ،دوسری جانب کنڈا کلچر کا راج

    مردان،ایک طرف شدید لوڈ شیدنگ،دوسری جانب کنڈا کلچر کا راج

    ضلع مردان میں غیر اعلانیہ اور بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ تھم نہ سکا،جبکہ دوسری طرف کنڈا کلچر بھی عروج پر ہے، ضلع مردان میں ایک طرف اگر عوام بد ترین لودشیڈنگ کا شکار ہے تو دوسری جانب مردان میں غیر قانونی کنڈا کلچر بھی زور و شور سے جاری ہے ،باغی ٹی وی کے مطابق ضلع مردان کے مختلف علاقے جس میں غیر قانونی طور پر بجلی حاصل کی جا رہی ہے ان میں سکندری کورونہ،پار ہوتی،پوردل آباد، سر فہرست ہے،یہاں کےکچھ لوگ گرمی سے بچاؤ کے لئے ائیر کنڈیشنز کا ستعمال کرتے ہے ،تاہم زیادہ بلز ادا کرنے سے بچنے کے لئے ان شہریوں کے گھروں میں کنڈوں کے زریعے بجلی جا رہی ہے،جسکی وجہ سے ان علاقوں میں رہنے والے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ،کیونکہ واپڈا کی جانب سے ان علاقوں میں بجلی کی وولتیج کم دینے سے آئے روز ٹرانسفر مر کے خراب ہونے کے شکایات سامنے آتے ہے، یہاں کے عوام کا گلہ ہے کہ ہم بھاری بل ادا تو کرتے ہے لیکن کنڈے کے زریعے بجلی چوری کرنے والوں کی وجہ سے یہ لوگ ایک طرف بھاری بل ادا تو کر رہے ہے لیکن دوسری جانب بجلی بھی نہ ہونے کے برابر ہے،اس وقت شمسی روڈ اور گردانواح میں صبح سے تاحال بجلی غائب ہے جسکی وجہ سےعوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، مساجد اور گھروں میں پانی ناپید ہے ،،عوام گرمی سے بے حال ہے ،مردان کے عوام نے اعلی حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے،عمل درامد نہ ہونے کے صورت میں عوام کا سڑکوں پہ نکل آنے اور شدید احتجاج کی دھمکی دی ہے،

  • چار ماہ قبل اغوا شدہ خاتون بچوں سمیت بازیاب

    چار ماہ قبل اغوا شدہ خاتون بچوں سمیت بازیاب

    کوہاٹ پولیس نے کامیاب کارروائی کے دوران 4ماہ قبل اغواء ہونی والی خاتون کو بچوں سمیت کراچی سےبازیاب کر کے اغواء کار گرفتار کر لیا،پولیس کے مطابق ملزم نے خاتون کو ورغلا کر بچوں سمیت کوہاٹ سے اغواء کیا تھا جسکی گمشدگی کا مقدمہ شوہر کی مدعیت میں درج کر لیا گیا تھا، واقعہ کے بعد ڈی ایس پی صدر یوسف خان کی سربراہی میں ایس ایچ او ایم آر ایس اسلام الدین خان نے مسلسل محنت کے بعد خاتون کو بچوں سمیت کراچی سے بازیاب کرکے اغواء کار کو گرفتار کرلیا،

  • پشاور پولیس نے منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث 4829  افراد کو گرفتار کر لیا ہے

    پشاور پولیس نے منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث 4829 افراد کو گرفتار کر لیا ہے

    پشاور پولیس کی منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف کریک ڈاون، 6 ماہ کے دوران 4829 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے گرفتار ملزمان میں بین الصوبائی منشیات سمگلرز نیٹ ورکس سمیت مخصوص گاہک کو پشاور اور دیگر مختلف اضلاع کو منشیات سپلائی کرنے والے ملزمان بھی شامل ہیں رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران ہونے والی کاروائیوں میں 30 کلو گرام سے زائد آئس ، 137 کلو سے زائد ہیروئن ، 271 کلو گرام افیون، 1652 کلوگرام چرس اور 1358 بوتل شراب بھی برآمد کی گئی ہے
    ایس ایس پی آپریشنز ہارون الرشید خان نے منشیات کے خلاف جاری کریک ڈاون کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کی ہے، انہوں نے نواجوان نسل خصوصًا طلباء کو منشیات کے مضر اثرات سے آگاہ کرنے کی خاطر عوامی سطح پر شہریوں میں شعور اجاگر کرنے کے لئے بھی خصوصی اقدامات کی ہدایت کی ہے۔

  • سوات مینگورہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 2 بچے جاں بحق

    سوات مینگورہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 2 بچے جاں بحق

    سوات مینگورہ کے علاقے وتکے گل آباد میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 4 بچے دب گئے ہے، جن میں دو بچے جاں بحق ہو گئے، ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 میڈیکل و ڈیزاسٹر ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر سرچ آپریشن شروع کردیا، پولیس، مقامی لوگوں اور ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے امدادی کارروائی کرتے ہوئے ملبے سے 2 بچوں کی لاشیں اور 2 زخمیوں کو نکال کر سیدوشریف اسپتال منتقل کردیا گیا۔ جاں بحق اور زخمی بچوں کی عمریں 8 سے لے کر 12 سال کے درمیان بتائی جارہی ہے۔