Baaghi TV

Category: پشاور

  • وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا  کا اسپیکر سے استعفیٰ کا مطالبہ، بابر سلیم سواتی کا انکار

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا اسپیکر سے استعفیٰ کا مطالبہ، بابر سلیم سواتی کا انکار

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا، تاہم اسپیکر نے اس مطالبے کو سختی سے مسترد کر دیا۔ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے اسپیکر کو وزیراعلیٰ ہاؤس بلا کر عہدہ چھوڑنے کا کہا، لیکن بابر سلیم سواتی نے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں اسپیکر شپ کا منصب بانی چیئرمین عمران خان نے دیا ہے، اس لیے وہ صرف انہی کی ہدایت پر استعفیٰ دیں گے اور اس حوالے سے براہِ راست عمران خان سے ملاقات کریں گے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل بھی بابر سلیم سواتی پر سینیٹر اعظم خان سواتی (سابق وفاقی وزیر اور عمران خان کے قریبی ساتھی) نے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ ان الزامات پر بابر سلیم سواتی نے وزیراعلیٰ سمیت مختلف اداروں کو خط لکھ کر تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، تاہم بعد میں پارٹی قیادت نے معاملہ دبا دیا تھا۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کے اندر بڑھتے اختلافات پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے اور مستقبل کی سیاست پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔

    بھارت،مغربی بنگال میں مودی پارٹی پر عوام کا حملہ، رکن پارلیمنٹ زخمی

    عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر کالعدم ٹی ٹی پی ترجمان کے ساتھ اسپیس، سنگین خدشات

    حماس کی اسرائیل کے ساتھ مذاکرات میں سخت شرائط

    مقبوضہ لداخ میں کشیدگی برقرار، لہہ اور کرگل اضلاع میں کرفیو نما پابندیاں

  • لنڈی کوتل: سودی لین دین سے تنازعات اور دشمنیاں بڑھنے لگیں

    لنڈی کوتل: سودی لین دین سے تنازعات اور دشمنیاں بڑھنے لگیں

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی)لنڈی کوتل میں لین دین کے معاملات میں سودی نظام کے باعث تنازعات، دشمنیاں اور قتل و قتال کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جب کہ عدالتی تاخیر اور نئے نظام کی کمزوریوں نے عوامی مسائل کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ مقررین نے کہا کہ فریقین کے درمیان لچک اور تحمل کے بغیر تنازعات کا حل ممکن نہیں، جب کہ پولیس صرف عوامی تعاون سے ہی امن و امان کے مسائل کو بہتر طور پر حل کر سکتی ہے۔

    یہ باتیں ڈسٹرکٹ پریس کلب لنڈی کوتل (رجسٹرڈ) میں منعقدہ “میٹ دی پریس” کے دوران صوبائی وزیر عدنان قادری کے پرسنل سیکرٹری مولانا شعیب قادری، پشاور ہائی کورٹ ضلع خیبر کے سابق ایگزیکٹو ممبر ایڈوکیٹ قبیس شینواری، جے یو آئی (فاٹا) کے سینئر نائب امیر مفتی اعجاز شینواری، ایس ایچ او عشرت شینواری، طورخم کسٹم ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر مجیب شینواری اور سماجی رہنما حاجی الیاس شینواری نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کیں۔

    مقررین نے کہا کہ لنڈی کوتل میں سودی لین دین خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے، جب کہ قرآن کریم میں سود کے خلاف اعلانِ جنگ کیا گیا ہے، اس لیے اس کے نتائج بھی تباہ کن ہوں گے۔ انہوں نے جرگوں کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض جرگہ ثالثان غیر جانبداری کے بجائے فریقین میں سے ایک کو سپورٹ کرتے ہیں اور پیسے لے کر فیصلے کرتے ہیں، جس سے تنازعات کم ہونے کے بجائے بڑھ رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ نیا پٹوار سسٹم فسادات کی جڑ بن چکا ہے، اس نظام کے تحت زمینوں کے معاملات میں دوگنا اضافہ ہوا ہے، جب کہ عدالتوں میں زیر التوا مقدمات نے عوام کو انصاف سے محروم کر رکھا ہے۔ مقررین نے افسوس کا اظہار کیا کہ جب تنازع خونریزی تک پہنچ جاتا ہے تو جرگہ یاد آتا ہے، حالانکہ اگر ابتداء ہی میں صلح جو رویہ اختیار کیا جائے تو بڑے سانحات سے بچا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایف سی آر کے وقت مقامی مشران اکثریتی تنازعات جرگے کے ذریعے حل کرتے تھے، مگر مرجر کے بعد حکومت نے نیا نظام تو نافذ کر دیا لیکن اس کے لیے عوامی تربیت، عدالتی سہولیات اور ادارہ جاتی تیاری نہیں کی۔ مرجر کے بعد اگرچہ عدلیہ اور وکالت کا نظام آیا ہے، مگر لاء فیکلٹی اور تربیت یافتہ عملہ نہ ہونے سے نظام کمزور ہے۔

    مقررین نے مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع کے کالجوں میں لاء فیکلٹی قائم کی جائے تاکہ نوجوان نئے نظام سے واقف ہوں، عدالتی عمل تیز ہو اور انصاف عام آدمی کی دہلیز تک پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، میڈیا، اور سول سوسائٹی کو مل کر عوامی آگاہی مہم شروع کرنی چاہیے تاکہ نیا نظام عوام کے حق میں مؤثر ثابت ہو۔

  • خیبرپختونخوا حکومت نے ایمل ولی کو سیکیورٹی اہلکار واپس دے دیے

    خیبرپختونخوا حکومت نے ایمل ولی کو سیکیورٹی اہلکار واپس دے دیے

    خیبرپختونخوا حکومت نے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ ایمل ولی خان کو سیکیورٹی اہلکار واپس فراہم کر دیے۔

    صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ ایمل ولی خان کی سیکیورٹی میں کسی قسم کی کمی یا واپسی نہیں کی گئی۔ ترجمان صوبائی حکومت نے بتایا کہ ایمل ولی خان سے ان کے اعتماد اور مرضی کے اہلکاروں کی فہرست حاصل کی گئی ہے تاکہ انہیں سیکیورٹی فراہم کی جا سکے۔ترجمان نے کہا کہ ایمل ولی خان کو پہلے ہی ضروری سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے، عوام بے بنیاد پراپیگنڈے کے بجائے سرکاری ذرائع سے جاری معلومات پر بھروسہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اے این پی سربراہ نے ریجنل پولیس آفیسر کو اپنے قابلِ اعتماد اہلکاروں کے نام فراہم کیے ہیں اور حالات کے مطابق ان ہی اہلکاروں کو سیکیورٹی پر مامور کیا جائے گا۔

    وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے ہدایت دی ہے کہ اگر ایمل ولی خان کو مزید اہلکار درکار ہوں تو فوری طور پر فراہم کیے جائیں۔ ترجمان کے مطابق صوبائی حکومت ان کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتی ہے اور کسی سطح پر غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

    اس سے قبل عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان نے بیان جاری کیا تھا کہ ایمل ولی خان سے وفاقی سیکیورٹی کے بعد صوبائی پولیس بھی واپس لے لی گئی ہے اور تعینات اہلکاروں کو لائن حاضر کر دیا گیا ہے۔ترجمان نے کہا تھا کہ ایمل ولی خان کو درپیش خطرات سے متعلق حکومت کو متعدد بار آگاہ کیا جا چکا ہے، اس کے باوجود سیکیورٹی ہٹانے کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

    شہباز شریف ملائیشیا کے سرکاری دورے پر کوالالمپور پہنچ گئے

    لاہور۔راولپنڈی ٹرین کرایوں میں اضافہ، نئی ریٹ لسٹ جاری

    غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، شہادتوں کی تعداد 19 ہوگئی

    پاکستان کا ابھرتی معیشتوں میں دوسرا نمبر، دیوالیہ ہونے کے خدشات ختم

  • خیبر پختونخوا میں 4.3 شدت کا زلزلہ محسوس

    خیبر پختونخوا میں 4.3 شدت کا زلزلہ محسوس

    محکمہ موسمیات کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں 4.3 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔

    پی ایم ڈی کا کہنا ہے کہ زلزلہ رات 8 بج کر 59 منٹ پر پٹن کے جنوب مشرق میں 22 کلومیٹر دور، 31 کلومیٹر کی گہرائی میں آیا۔یاد رہے کہ پاکستان تین بڑی ٹیکٹونک پلیٹوں — عربین، یورو-ایشین اور انڈین — کے سنگم پر واقع ہے، جس کے باعث ملک میں پانچ بڑے زلزلہ خیز زون موجود ہیں اور فالٹ لائنوں کی وجہ سے اکثر جھٹکے محسوس کیے جاتے ہیں۔

    اس ہفتے کے آغاز میں بھی کراچی کے مختلف حصوں میں 3.2 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جو ملیر کے شمال مغرب میں ریکارڈ ہوا۔ اس سے قبل ستمبر میں خیبر پختونخوا کے علاقوں میں 5.5 شدت کے جھٹکے بھی محسوس کیے گئے تھے، جو چترال، پشاور اور سوات تک پھیل گئے تھے۔

    برطانیہ میں کوویڈ کی دو نئی اقسام کے پھیلاؤ میں تیزی

    وزیراعظم ملائیشیا کے سرکاری دورے پر کل روانہ ہوں گے

    تھرپار میں بھارتی فوج کا جانوروں پرظلم، بکریاں ہلاک اور زخمی

    حماس تاخیر کرے تو شرائط ختم کر دوں گا،ٹرمپ کی پھر دھمکی

  • خیبر پختونخوا کابینہ،9مئی کیس واپس لینے کی منظوری

    خیبر پختونخوا کابینہ،9مئی کیس واپس لینے کی منظوری

    خیبرپختونخوا کابینہ نے 9 مئی کو مردان میں توڑ پھوڑ اور فائرنگ کا کیس واپس لینے کی منظوری دے دی

    خیبرپختونخوا حکومت نے پبلک پراسیکیوٹر کا تبادلہ کردیا اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل انعام اللہ کو 9 مئی کیس کےلیےاسپیشل پراسیکیوٹرمقرر کیا گیا ہے،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کیس واپس لینےکا ایڈیشنل ہوم سیکرٹری کا خط عدالت میں جمع کرادیا جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت کے لیے 15 اکتوبر کی تاریخ مقررکی ہے۔

    واضح رہے کہ مردان میں 9 مئی کو پتھراؤ اور فائرنگ کے واقعات میں کارکن، راہگیراورپولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے جب کہ اس کیس کے ملزمان میں ظاہر شاہ طورو، ایم این اے مجاہد خان اور دیگرشامل ہیں۔

  • فرنٹیئر کورخیبر پختونخوا (نارتھ) کے زیر اہتمام پشاورمیں گرینڈ خیبر جرگے کا انعقاد

    فرنٹیئر کورخیبر پختونخوا (نارتھ) کے زیر اہتمام پشاورمیں گرینڈ خیبر جرگے کا انعقاد

    فرنٹیئر کورخیبر پختونخوا (نارتھ) کے زیر اہتمام پشاورمیں گرینڈ خیبر جرگے کا انعقاد کیا گیا

    قلعہ بالاحصار میں منعقد گرینڈ جرگے میں آئی جی ایف سی نارتھ ، سول انتظامیہ اور معزز قبائلی عمائدین نے شرکت کی،جرگے میں ضلع خیبر کی موجودہ امن و امان کی صورتحال اور درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،جرگے میں قبائلی عمائدین نے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ قریبی تعاون کی یقین دہانی کرائی، مقامی نمائندوں نے عوامی مسائل اجاگر کیے اور ان کے حل کے لیے مشترکہ اقدامات پر زور دیا، جرگے میں قومی یکجہتی اور باہمی اعتماد کو فروغ دینے پر اتفاق رائے کیا گیا،گرینڈ خیبر جرگہ قومی یکجہتی اور علاقائی امن کے لیے سیکیورٹی اداروں کی سنجیدہ کاوشوں کا مظہر ہے،قبائلی عمائدین نے امن کے قیام میں فورسز کے کردار اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا، قلعہ بالاحصار کا یہ اجتماعی جرگہ قبائلی عوام اور فورسز کے درمیان اعتماد کی نئی مثال بن گیا،جرگے کا اختتام قومی اتحاد اور علاقائی استحکام کے حوصلہ افزا پیغام کے ساتھ ہوا

  • خیبر پختونخوا کابینہ میں مزید ردوبدل، وزراء کے محکمے دوبارہ تقسیم

    خیبر پختونخوا کابینہ میں مزید ردوبدل، وزراء کے محکمے دوبارہ تقسیم

    خیبر پختونخوا حکومت نے ایک بار پھر کابینہ میں تبدیلیاں کر دی ہیں اور وزراء کے محکمے تبدیل کر کے نئی ذمہ داریاں سونپ دی ہیں۔

    اس سلسلے میں صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن مینا خان کا قلم دان واپس لے کر انہیں کمیونیکیشن اینڈ ورکس کا محکمہ تفویض کیا گیا ہے۔اسی طرح وزیرِاعلیٰ کے معاونِ خصوصی محمد سہیل آفریدی کو باقاعدہ صوبائی وزیر بنا دیا گیا ہے اور انہیں ہائر ایجوکیشن کا محکمہ سونپ دیا گیا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کی ذمہ داری اب سہیل آفریدی کے پاس ہوگی۔ذرائع کے مطابق کابینہ میں اس ردوبدل کا مقصد انتظامی کارکردگی کو بہتر بنانا اور محکموں کی فعالیت میں تیزی لانا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل خیبر پختونخوا میں 2 وزراء کے استعفوں کے بعد 10 کابینہ ارکان کے محکمے بھی تبدیل کیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں کئی اہم وزارتوں میں ردوبدل دیکھنے میں آیا تھا۔

    مبصرین کے مطابق حالیہ تبدیلیاں صوبائی حکومت کی پالیسیوں کو مؤثر بنانے کی کوشش ہیں، تاہم بار بار کی ردوبدل سے انتظامی معاملات پر اثرات مرتب ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔خیبر پختونخوا کابینہ میں مزید تبدیلیوں کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جا رہا، جبکہ وزراء کو نئی ذمہ داریوں کے ساتھ کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

    ہندو انتہا پسند خاتون رہنماکے افئیر کے بعد تعلقات خراب، عاشق قتل کروا دیا

    پشاور ہائیکورٹ کا سرکاری ہسپتالوں کو آؤٹ سورس کرنے پر مزید کارروائی روکنے کا حکم

    یوٹیوبر ڈکی بھائی کی ضمانت کی درخواست پھر مسترد

    نیشنل پریس کلب پر پولیس حملے کے خلاف جمعہ کو یومِ سیاہ منانے کا اعلان

  • پشاور ہائیکورٹ کا سرکاری ہسپتالوں کو آؤٹ سورس کرنے پر مزید کارروائی روکنے کا حکم

    پشاور ہائیکورٹ کا سرکاری ہسپتالوں کو آؤٹ سورس کرنے پر مزید کارروائی روکنے کا حکم

    پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی محکمہ صحت کو سرکاری ہسپتالوں کو آؤٹ سورس کرنے پر مزید کارروائی سے روک دیا اور اس حوالے سے جواب طلب کر لیا۔ کیس کی سماعت جسٹس اعجاز انور کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔

    سماعت کے دوران وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ تحصیل تخت بھائی ہسپتال کو آؤٹ سورس کیا جا رہا ہے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اپنایا کہ سیکریٹری ہیلتھ ملک سے باہر ہیں جبکہ کابینہ اجلاس کے باعث دیگر افسران مصروف ہیں۔ اس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ عدالت صرف یہ جاننا چاہتی ہے کہ ہسپتالوں کو آؤٹ سورس کیوں کیا جا رہا ہے۔

    وکیل ہیلتھ فاؤنڈیشن نے وضاحت دی کہ آؤٹ سورسنگ میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں کی جا رہی بلکہ اسے بہتری کے لیے اپنایا جا رہا ہے۔ جس پر جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ اگر سیکریٹری اور ڈی جی ہیلتھ سخت ڈسپلن قائم کریں تو نظام بہتر ہو سکتا ہے، لیکن صورت حال یہ ہے کہ جمعہ یا ہفتہ کو ہسپتالوں میں سینئر ڈاکٹرز نظر نہیں آتے۔

    جسٹس اعجاز انور نے مزید کہا کہ آؤٹ سورس کا مطلب کیا ہے؟ کیا ہسپتال ٹھیکیدار کو دیے جائیں گے؟ وکیل ہیلتھ فاؤنڈیشن نے جواب دیا کہ دنیا بھر میں یہی ماڈل اپنایا جا رہا ہے۔عدالت نے محکمہ صحت کو ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ پر مزید کارروائی سے روکتے ہوئے جواب جمع کرانے کا حکم دیا اور کیس کی سماعت 23 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

    یوٹیوبر ڈکی بھائی کی ضمانت کی درخواست پھر مسترد

    نیشنل پریس کلب پر پولیس حملے کے خلاف جمعہ کو یومِ سیاہ منانے کا اعلان

    پنجاب میں بارشوں کا الرٹ، بالائی علاقوں میں ندی نالوں کے بھرنے کا خدشہ

    اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیاں، غزہ میں مزید 53 فلسطینی شہید

  • پشاور میں پولیس موبائل کے قریب دھماکا، 4 اہلکار زخمی

    پشاور میں پولیس موبائل کے قریب دھماکا، 4 اہلکار زخمی

    خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں کوہاٹ روڈ قمر دین گڑھی کے مقام پر پولیس موبائل کے قریب دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں 4 اہلکار زخمی ہوگئے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق کیپٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے بتایا کہ قمر دین چوک کے قریب پولیس موبائل معمول کے گشت پر تھی کہ اچانک سڑک کنارے نصب بارودی مواد پھٹ گیا۔دھماکے کے باعث پولیس موبائل کو نقصان پہنچا اور 4 اہلکار زخمی ہوئے۔ سی سی پی او کے مطابق پولیس ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ گئیں جبکہ زخمی اہلکاروں کو قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

    ٹرمپ کی حماس کو سخت وارننگ، وائٹ ہاؤس نے "سرخ لکیر” کھینچ دی

  • سیلابوں سےمتعلق فیصلہ کیا کہ فوری طور پر امداد نہیں مانگیں گے ،وزیرخزانہ

    سیلابوں سےمتعلق فیصلہ کیا کہ فوری طور پر امداد نہیں مانگیں گے ،وزیرخزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سیلابوں سےمتعلق فیصلہ کیا ہےکہ فوری طور پر امداد نہیں مانگیں گے اور کوشش ہےکہ اپنے زور بازو پر معاملات ٹھیک کریں۔

    پشاور میں پاکستان بزنس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ایف بی آر کا کام اب صرف ٹیکس اکٹھا کرنا ہوگا، اگلے سال کا بجٹ ٹیکس پالیسی آفس کی جانب سےدیا جائےگا اور یہ بجٹ مستحکم بجٹ ہوگا،کسی بھی ملک کی ترقی میں پرائیویٹ سیکٹر کا اہم کردار ہوتا ہے، حکومت نے پرائیویٹ سیکٹر کو سازگار ماحول فراہم کرنا ہے، ریگولیٹری میٹریل کی قیمتوں کو کم کیا تاکہ انڈسٹریز چل سکیں، پرائیویٹ سیکٹرکو آگے لے جانا ہے تو ٹیکسز اور دیگر معاملات کو دیکھنا ہوگا تاکہ لوگوں کا اعتماد معیشت پرقائم ہو، گزشتہ چند ہفتوں میں چین، سعودی عرب اور دیگر ممالک کےدورے کیے، ہم نے صرف چین میں 24 معاہدے کیے، امریکا میں ابھی مختلف شعبوں میں معاہدے کیے گئے، یہ سرمایہ کاری بہت اہم ہے، یہ اب امداد نہیں ہے بلکہ تجارت کی جارہی ہے،ہمیں موسمیاتی تبدیلی اور اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کےچیلنج کو دیکھنا ہوگا، آبادی 2.3 فیصد شرح سے بڑھ رہی ہے، ہمارے بچوں کی بڑی تعداد غذائی کمی کا سامنا کر رہی ہے،سیلابوں سےمتعلق فیصلہ کیا ہےکہ فوری طور پر امداد نہیں مانگیں گے، کوشش ہےکہ پہلے سیلاب متاثرہ علاقوں میں اپنے زور بازو پر معاملات کو ٹھیک کریں۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک میں معاشی استحکام آگیا ہے، گزشتہ سال ترسیلات زر ساڑھے3 کروڑ ڈالرز کی تھیں، ہمیں امید ہے اس سال ترسیلات زر مزید بڑھیں گی جب کہ نجکاری کے عمل کو حکومتی سطح پر بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ سرمایہ کاری کے مثبت نتائج مرتب ہوں۔