پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں زلزلے کے ہلکے سے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ مقامی لوگوں نے صبح و شام کے اوقات میں زمین کے ہلنے کی شکایت کی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی نقصان یا بڑے مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم شہریوں میں خوف و تشویش پائی گئی۔
محکمہ موسمیات اور سویلین ڈیفنس حکام نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری خطرناک مقامات پر نہ جائیں اور محفوظ مقامات پر رہیں۔ مزید معلومات اور زلزلے کی شدت کی تصدیق کے لیے سٹیشنری اور موبائل سیسمک سینسرز سے ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے۔
Category: پشاور

پشاور اور خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس

پی ٹی آئی دھرنا ختم کروانے پر ڈی پی او کا خیبر پختونخوا حکومت نے کیاتبادلہ
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما ،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ اور ان کی جماعت عدلیہ کا احترام کرتی ہے اور صوابی انٹرچینج پر جاری دھرنا رضاکارانہ طور پر ختم کیا گیا۔تاہم دھرنا ختم ہونے کے فوری بعد خیبرپختونخوا پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلوں نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق ڈی پی او صوابی سمیت متعدد پولیس افسران کے تبادلے کر دیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق صوابی موٹروے پر تحریک انصاف کے دھرنے کے خاتمے کے بعد “آفٹر شاکس” کے طور پر ڈی پی او صوابی ضیاءالدین کو تبدیل کر کے ڈی آئی خان تعینات کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح ایس ایس پی پشاور کا تبادلہ کر کے انہیں باجوڑ بھیج دیا گیا ہے۔پولیس حکام کی جانب سے تبادلوں کو معمول کی انتظامی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم سیاسی حلقوں میں اسے صوابی موٹروے پر دھرنا ختم کرانے کی کارروائی سے جوڑا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز دھرنے کے مقام پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد کارکنان کو منتشر کیا تھا، جس میں ڈی پی او صوابی سمیت دیگر افسران پیش پیش تھے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف عدلیہ کے احترام اور رضاکارانہ طور پر دھرنا ختم کرنے کا بیان سامنے آیا، تو دوسری جانب متعلقہ پولیس افسران کے تبادلوں نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔

احتجاج اور دھرنوں سے عمران خان کا علاج نہیں ہوگا، گورنر خیبرپختونخوا
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ احتجاج، دھرنوں اور سڑکیں بند کرنے سے بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا علاج ممکن نہیں۔
جیو پاکستان پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہروں میں محدود تعداد میں لوگ شریک ہو رہے ہیں اور مختلف مقامات پر صرف 20 سے 25 افراد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج میں شامل افراد کی تعداد ایک قیدیوں کی وین کے برابر بھی نہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ عمران خان کی آنکھ کا معاملہ سنجیدہ ہے، تاہم اس مسئلے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق صوبہ اس وقت سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے جبکہ خیبرپختونخوا کی کابینہ احتجاجی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی مشینری مظاہرین کی پشت پناہی کر رہی ہے، جبکہ وفاقی حکومت عمران خان کو مناسب طبی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور خود کہہ چکے ہیں کہ وہ ماضی میں محسن نقوی کے اچھے تعلقات میں رہے ہیں۔
رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس پشاور میں شروع
رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس پشاور میں شروع ہوگیا، جس کی صدارت چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد کررہے ہیں۔
مولانا عبدالخبیر آزاد کے مطابق زونل رویت ہلال کمیٹیاں لاہور، کراچی، کوئٹہ اور اسلام آباد میں الگ الگ اجلاس منعقد کریں گی، انہوں نے کہاکہ حالیہ سالوں میں رمضان کا آغاز ایک ہی دن ہوتا رہا ہے، اور انشااللہ اس بار بھی یہی صورت حال متوقع ہے،وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، محکمہ موسمیات اور سپارکو بھی رویت ہلال کمیٹی کا حصہ ہیں اور چاند دیکھنے میں معاونت فراہم کریں گے۔
سپارکو کے مطابق رمضان المبارک کا چاند آج نظر آنے کا قوی امکان ہے، جس کے باعث 19 فروری کو پاکستان میں پہلا روزہ ہونے کا امکان ہےغروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر قریباً 25 گھنٹے اور 48 منٹ ہوگی ساحلی علاقوں میں سورج غروب ہونے اور چاند غروب ہونے کے درمیان قریباً 59 منٹ کا فرق ہوگا، جس سے آنکھ سے چاند دیکھنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔‘

پشاور ہائیکورٹ کے حکم پرموٹروے ٹریفک کے لیے کھول دی گئی
6 روز بعد موٹروے پر ٹریفک بحال ہو گئی جب پشاور ہائیکورٹ کے احکامات کے بعد پولیس نے پشاور اسلام آباد موٹروے (ایم ون) کو ٹریفک کے لیے کھول دیا-
صوابی پولیس کی ایک ٹیم صوابی انبار انٹرچینج پہنچی اور مظاہرین کو ہائیکورٹ کے حکم سے آگاہ کیا پولیس حکام کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز نے ایم ون موٹروے پر صوابی کے مقام پر دھرنا دے کر موٹروے بند کر رکھی تھی،جس وقت پولیس ٹیم پہنچی، اس وقت ورکرز کی تعداد انتہائی کم تھی، اور پولیس نے ورکرز کو ہٹا کر موٹروے کھول دی، جس کے بعد 6 روز بعد ٹریفک کی روانی بحال ہوگئی۔
پولیس کے مطابق موٹروے کھولنے کی کارروائی کے دوران پی ٹی آئی ورکرز نے کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی اور پرامن رہے جبکہ پولیس نے موٹروے پر رکھی گئی تمام رکاوٹیں ہٹا کر ٹریفک کو بحال کردیا مظاہرین اس وقت بھی موٹروے کے صوابی ریسٹ ایریا پر موجود ہیں، تاہم ان کی تعداد کم ہے اس وقت موٹروے مکمل طور پر ٹریفک کے لیے بحال ہے اور پولیس ٹیم نگرانی کر رہی ہے۔
لاہور: فاطمہ جناح میڈیکل کالج کی طالبہ نے چھت سے کود کر خودکشی کرلی
گزشتہ روز پشاور ہائیکورٹ میں روڈ بندش کے حوالے سے دائر درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے پولیس اور صوبائی حکومت پر برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیےکہ حکومت روڈ کھولنے کے حوالے سے کیا اقدامات کر رہی ہے سماعت کے دوران چیف سیکریٹری اور آئی جی عدالت میں پیش ہوئے، اور ہائیکورٹ نے کارروائی کرنے اور روڈ کھولنے کا حکم دیا-
وفاقی و صوبائی حکومتیں عوام کو کا رمضان میں کیا ریلیف پیکج دے رہی ہیں؟
واضح رہے کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے اپوزیشن اتحاد نے احتجاج کے اعلان کے بعد پی ٹی آئی خیبر پختونخوا نے جمعے سے صوبے کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر دھرنے دے رکھے ہیں پی ٹی آئی کے مطابق اس وقت بھی دھرنا جاری ہےڈی آئی خان سے کوہستان تک دھرنے ہو رہے ہیں، جبکہ احتجاج ختم کرنے کے حوالے سے پارٹی کی جانب سے کوئی ہدایت موصول نہیں ہوئی۔

پشاور ہائیکورٹ کا سڑکیں بند کرنے پر شدید ردعمل، آج ہی کھلوانے کا حکم
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے ساتھ ساتھ احتجاجی مظاہروں کے باعث سڑکیں بند ہونے پر پشاور ہائیکورٹ نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور آج ہی سڑکیں کھلوانے کا حکم جاری کر دیا۔
عدالت نے آئی جی اور چیف سیکریٹری کو سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ جہاں فوری ایکشن لینا ہوتا ہے وہاں تھری ایم پی او کے تحت کارروائی کرتے ہیں، اور جہاں ضرورت نہیں وہاں کچھ نہیں کرتے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ صوبے کے لوگ اپنے ہی حکمرانوں کو احتجاج اور روڈ بندش پر تنقید کر رہے ہیں۔
پشاور ہائیکورٹ نے 2 صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جاری کیا، جس میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ پولیس اور صوبائی حکومت نے احتجاج کی وجہ سے بند سڑکوں کے حوالے سے مؤثر کارروائی نہیں کی۔ آئی جی اور چیف سیکریٹری نے عدالت میں اعتراف کیا کہ احتجاج کی وجہ سے اہم سڑکیں بند ہیں، لیکن احتجاجی مظاہرین کے خلاف مناسب کارروائی کے بارے میں عدالت کو مطمئن نہیں کر سکے۔
سی ٹی ڈی، ایلیٹ اور ضلعی پولیس کاشانگلہ میں مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن
سی ٹی ڈی، ایلیٹ اور ضلعی پولیس کا کبل گرام ضلع شانگلہ میں مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن
کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے افسران کی زیر قیادت، مقامی پولیس شانگلہ اور ایلیٹ فورس نے انٹیلیجنس کی بنیاد پر کبل گرام کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے میں دہشت گردوں کے خلاف ایک بڑا اور مؤثر جوائنٹ آپریشن کیا آپریشن کبل گرام کے مختلف علاقوں میں فتنۃ الخوارج (FAK) کے تشکیل شدہ گروہ کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات پر کیا گیا، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اہم قومی منصوبوں کے لیے سنگین خطرہ بنے ہوئے تھے۔
خفیہ اطلاعات کے مطابق یہ انتہائی مطلوب دہشت گرد قدرتی غاروں میں پناہ لیے ہوئے تھے، جنہیں مقامی سطح پر سہولت کاری میسر تھی۔ یہ گروہ ماضی میں چینی باشندوں پر ہونے والے VBIED حملوں میں بھی ملوث رہے ہیں اور شاہراہِ ریشم سے نزدیکی کے باعث یہ سٹرٹیجک روڈ کوریڈور اور چینی منصوبوں کے لیے مستقل خطرہ تھے۔
اسی کے پیشِ نظر گزشتہ روز سی ٹی ڈی اور ڈسٹرکٹ پولیس نے مشترکہ حکمت عملی کے تحت آپریشن کا آغاز کیا جب پولیس غاروں میں موجود فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کی طرف بڑھی تو دہشت گردوں سے آمنا سامنا ہوا، جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فائرنگ کے اس تبادلے میں تین (03) دہشت گرد ہلاک ہوئے جن میں نور اسلام عرف سلمان عرف خوگ بچہ ولد زمان ولی ساکن کبل گرام شانگلہ میں فتنۃ الخوارج کا سرغنہ تھا، جس کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر تھی۔
اسی طرح ایک نامعلوم دہشت گرد جس کی شناخت کا عمل جاری ہے جبکہ تیسرے دہشت گرد نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ ان تین دہشت گردوں کی ہلاکت کے بعد بقیہ شرپسندوں نے ایک ڈھلوان کے نیچے پناہ لی جہاں اُنہیں براہِ راست نشانہ بنانا مشکل تھا سی ٹی ڈی اور ایلیٹ فورس کے جوانوں نے پیشہ ورانہ مہارت دکھاتے ہوئے جب گرفتاری کے لیے پیش قدمی کی، تو دہشت گردوں کے دیگر ساتھیوں نے آر پی جی RPG اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کر دیا تاکہ اپنے ساتھیوں کو فرار کا راستہ فراہم کر سکیں مگر سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی سے اس حملے کو پسپا کر دیا۔
تاہم فرض کی راہ میں بہادری سے لڑتے ہوئے پولیس کے تین جوانوں نے اس آپریشن میں جامِ شہادت نوش کیا جسمیں ایل ایچ سی مقبول احمد نمبر 438، ایل ایچ سی فدا حسین اور ایل ایچ سی سعید الرحمان شامل ہیں اور اس کے علاوہ ایلیٹ فورس کا ایک جوان زخمی ہوا جو زیرِ علاج ہے۔

شہید پولیس جوان
کبل گرام میں اس منظم نیٹ ورک کی موجودگی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یہ گروہ خطے کے سٹرٹیجک انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا جسے بروقت کارروائی سے ناکام بنا دیا گیا ہے۔ علاقے میں سرچ آپریشن اور سیکیورٹی فورسز کی نگرانی بدستور جاری ہے انسپکٹر جنرل ذوالفقار حمید نے آپریشنز میں شہید اور زخمی جوانوں کی ہمت کی داد دیتے ہوئے کہا کہ کے پی پولیس نے کبھی پیٹھ نہیں دکھائی اور ہمیشہ قوم کے لئے اپنی جانوں کی قربانی دی ہے۔

خیبرپختونخوا میں سڑکوں کی بندش سے سبزیوں کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں
خیبرپختونخوا میں مختلف شاہراہوں کی بندش کی وجہ سے دوسرے صوبوں سے آنے والی سبزیوں کی ترسیل متاثر ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں منڈیوں میں قیمتیں بڑھی ہیں۔
پیاز کی فی کلو قیمت 60 روپے سے بڑھ کر 80 روپے ہو گئی، ٹماٹر 80 سے بڑھ کر 100 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ کھیرے کی قیمت 40 روپے سے بڑھ کر 70 روپے اور شملہ مرچ 160 روپے سے بڑھ کر 240 روپے فی کلو ہو گئی ہے۔
تجارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ شاہراہوں کی بندش اور ترسیل میں تاخیر کی وجہ سے منڈی میں رسد کم ہو گئی، جس کا براہِ راست اثر صارفین پر پڑا ہے۔
خیبر پختونخوا: بھارتی ترانہ گانے پر 4 طلبہ یونیورسٹی سے فارغ
یونیورسٹی نے ڈسپلنری کمیٹی کی سفارش پر طلبہ کو جامعہ اور ہاسٹل قواعد کی خلاف ورزی پر نکالا اور باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا۔
خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں واقع باچا خان یونیورسٹی نے بھارتی قومی ترانہ گانے کی ویڈیو وائرل ہونے پر شعبۂ فارمیسی کے چار طلبہ کو جامعہ اور ہاسٹل سے نکال دیا انتظامیہ کے مطابق کارروائی ڈسپلنری کمیٹی کی رپورٹ اور انکوائری کی روشنی میں کی گئی۔
2 روز قبل یونیورسٹی کے ایک فیسٹیول کے دوران پیش آیا تھا، تاہم ویڈیو آن لائن وائرل ہونے کے بعد ہی باضابطہ انکوائری شروع کی گئی۔ سوشل میڈیا پر فوٹیج کے بعد شدید بحث چھڑ گئی، جس کے نتیجے میں تادیبی کارروائی کی گئی۔
یونیورسٹی کے ایک اہلکار نے بتایا کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خان عالم نے خود انکوائری کی نگرانی کی اور معاملے کو حساس قرار دیا۔ ان کے مطابق ریاست کے خلاف اقدامات ناقابلِ برداشت ہیں، اسی لیے انکوائری مکمل ہونے کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔

کوہاٹ بڑی تباہی سے بچ گیا، سیکیورٹی فورسز نے بارود سے بھری گاڑی بروقت ناکارہ بنا دی
کوہاٹ: شہر ایک بڑی تباہی سے بال بال بچ گیا جب سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بارودی مواد سے بھری ایک پک اپ گاڑی کو ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی ناکارہ بنا دیا۔ بروقت اور مؤثر حکمت عملی کے باعث ممکنہ دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق حساس اداروں کو مشکوک گاڑی کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی، جس کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز حرکت میں آئیں اور جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ضلع بھر کی پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا جبکہ داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندیاں بھی قائم کر دی گئیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پک اپ گاڑی میں بڑی مقدار میں بارودی مواد نصب تھا، جسے کسی حساس مقام پر استعمال کیے جانے کا خدشہ تھا۔ تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے دہشت گردوں کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے۔بم ڈسپوزل اسکواڈ کو فوری طور پر طلب کیا گیا، جنہوں نے انتہائی مہارت اور پیشہ ورانہ انداز میں گاڑی میں نصب بارودی مواد کو ناکارہ بنایا۔ اس دوران علاقے کو مکمل طور پر خالی کرا لیا گیا تھا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
سیکیورٹی اہلکاروں نے نہایت احتیاط اور مستعدی کا مظاہرہ کیا، جس کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ کارروائی مکمل ہونے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو کلیئر قرار دے دیا۔حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور بارودی مواد نصب کرنے میں ملوث عناصر کی تلاش جاری ہے۔ سیکیورٹی اداروں نے واضح کیا ہے کہ امن و امان کو خراب کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔شہریوں نے سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مستعدی کی بدولت ایک بڑا سانحہ ٹل گیا، جس سے قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو سکتی تھیں۔










