Baaghi TV

Category: پشاور

  • افغانستان سے متعلق فیصلے ہماری مشاورت کے بغیر ممکن نہیں،علی امین گنڈا پور

    افغانستان سے متعلق فیصلے ہماری مشاورت کے بغیر ممکن نہیں،علی امین گنڈا پور

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان اور ترقی ہماری اولین ترجیح ہے، خیبرپختونخوا میں امن و امان قائم کرنے کے لیے ہر حد تک جائیں گے-

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ وفاق خیبرپختونخوا پر اپنے نام نہاد فیصلے مسلط نہیں کرسکتا، صوبے میں کسی بھی قسم کا نیا آپریشن قابل قبول نہیں، وفاق کو دوٹوک پیغام ہے بارڈر سیکیورٹی وفاق کی ذمہ داری ہےخیبرپختونخوا میں امن و امان اور ترقی ہماری اولین ترجیح ہے، خیبرپختونخوا میں امن و امان قائم کرنے کے لیے ہر حد تک جائیں گے، وفاق خیبرپختونخوا پر اپنے نام نہاد فیصلے مسلط نہیں کرسکتا۔

    راولپنڈی:غیرت کے نام پر قتل 17 سالہ لڑکی کی پورٹ عدالت میں پیش

    علی امین گنڈا پور نے کہا کہ افغانستان سے متعلق فیصلے ہماری مشاورت کے بغیر ممکن نہیں، خیبرپختونخوا میں امن وامان کی بحالی کے لیے اپنا جرگہ بنا رہے ہیں، وفاق خیبرپختونخوا کے وسائل پر قابض ہے، ضم اضلاع کو بھی فنڈز فراہم نہیں کیے جارہے، صوبے میں کسی بھی قسم کا نیا آپریشن قابل قبول نہیں، وفاق کو دوٹوک پیغام ہے بارڈر سیکیورٹی وفاق کی ذمہ داری ہے، اگر آپ لوگ ناکام ہورہے ہیں تو صوبائی پولیس سیکیورٹی سنبھال لے گی۔

    ہمایوں سعید شوٹنگ کے دوران شدید زخمی

  • ہنگو ، ڈی پی او خالد خان پر حملے میں ملوث دہشت گرد ہلاک

    ہنگو ، ڈی پی او خالد خان پر حملے میں ملوث دہشت گرد ہلاک

    ہنگو ،نریاب کے علاقے میں پولیس نے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کریک ڈاؤن آپریشن کیا۔ اس دوران ڈی پی او ہنگو خالد خان پر حملے میں ملوث ایک دہشت گرد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔

    پولیس حکام نے بتایا کہ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں دہشت گرد کو نشانہ بنایا گیا لیکن یہ دہشت گرد خود اپنے گروپ کے افراد کی فائرنگ کا نشانہ بنا۔ خوش قسمتی سے اس موقع پر پولیس کے اہلکار مکمل طور پر محفوظ رہے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔یہ آپریشن اس وقت شروع کیا گیا جب مقامی سیکیورٹی اداروں کو ہنگو کے نریاب علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ فورسز نے فوری طور پر محاصرہ کر کے کارروائی کی، جس میں دہشت گردوں کی مزاحمت کے باوجود پولیس اہلکاروں نے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا۔

    سات روز قبل بھی ہنگو میں دہشت گردوں کے خلاف ایک بڑے آپریشن کے دوران ڈی پی او خالد خان زخمی ہوئے تھے۔ اس پچھلے آپریشن میں فائرنگ کے تبادلے میں کم از کم پانچ دہشت گرد مارے گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں انسداد دہشت گردی کے مزید سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔پولیس اور دیگر سیکیورٹی ادارے اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف ہر ممکنہ کارروائی کرنے کے لیے تیار ہیں اور عوام کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہے۔

  • سوات میں کامیاب آپریشن، تین مطلوب دہشت گرد ہلاک

    سوات میں کامیاب آپریشن، تین مطلوب دہشت گرد ہلاک

    خیبرپختونخوا کے ضلع سوات میں پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے مشترکہ کارروائی کے دوران تین اہم مطلوب دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

    ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) سوات کے ترجمان معین فیاض کے مطابق، تحصیل کبل کے علاقے شلخو سر میں انٹیلیجنس بیسڈ مشترکہ آپریشن کیا گیا، جس کے دوران دہشت گرد اجمل عرف وقاص، مطیع اللہ عرف اسحٰق اور رحیم اللہ عرف روح کو ہلاک کر دیا گیا۔ اجمل عرف وقاص ملوک آباد کا رہائشی تھا اور دہشت گردی کے 9 مقدمات میں مطلوب تھا، جن میں 8 افراد کے قتل کا الزام بھی شامل ہے۔ مطیع اللہ عرف اسحٰق کے خلاف ضلع شانگلہ میں دہشت گردی کے دو مقدمات درج تھے، جب کہ رحیم اللہ رحمانی عرف روح بھی دو مقدمات میں مطلوب تھا۔

    ترجمان نے بتایا کہ ڈی پی او سوات محمد عمر کی ہدایت پر وادی کی مختلف تحصیلوں میں دہشت گردوں کے خلاف سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن جاری ہے، جب کہ سوات کے داخلی و خارجی راستوں پر پولیس کی سخت چیکنگ برقرار ہے۔ڈی پی او سوات کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ ضلع کا امن ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا اور کسی کو بھی حالات خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    وزیراعظم نے اسکلز ایمپیکٹ بانڈ کی منظوری دے دی

    نیو میکسیکو کی یونیورسٹی میں فائرنگ، ایک شخص ہلاک، کیمپس بند

    لیاری عمارت حادثہ: سعید غنی نے ذمہ داری قبول کر لی

    چلاس میں آلودہ پانی سے پیٹ کے امراض میں اضافہ

  • خیبرپختونخوا حکومت آل پارٹیز کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ جاری

    خیبرپختونخوا حکومت آل پارٹیز کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ جاری

    خیبرپختونخوا حکومت آل پارٹیز کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا

    اعلامیہ میں کہا گیاکہ شہداء اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ گہرے رنج و غم اور مکمل یکجہتی کا اظہارکرتے ہیں، دیرپا امن کی بحالی کے لیے جامع اور مربوط اقدامات فوری طور پر کیے جائیں، خوارج کے خاتمے کے لیے خفیہ معلومات کی بنیاد پر ہدفی کارروائیاں (اینٹیلجنس بیسڈ کاروائی )عمل میں لائی جائیں ، دیرپا امن کی کاوش اور دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے تمام سیاسی جماعتیں، مشران، عوام، حکومت خیبر پختونخوا، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بلاتفریق بھر کاروائی کا اعادہ کرتے ہیں، صوبے کو عسکریت پسندی کے چنگل سے نجات دلائی جائے گی اور امن بحال کیا جائے گا، جو علاقے میں خوشحالی اور پائیدار ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا، اِس سلسلے میں تمام سیاسی جماعتیں اور عوامی نمائندے ضلعی سطح پر انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مسلسل اور بھر پور تعاون کا اعادہ کریں

  • ہم کسی بھی وفاقی فورس کو صوبے میں کارروائی کی اجازت نہیں دیں گے،علی امین گنڈاپور

    ہم کسی بھی وفاقی فورس کو صوبے میں کارروائی کی اجازت نہیں دیں گے،علی امین گنڈاپور

    پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کو کسی بھی فیصلے پر اعتماد میں نہ لینا آئین کی خلاف ورزی ہے۔

    آل پارٹیز کانفرنس کے بعد علی امین گنڈاپور نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اے پی سی کا جنہوں نے بائیکاٹ کیا، ان کے لیے ہمارے دروازے کھلے ہیں، آج کی کانفرنس صرف امن و امان کے حوالے سے تھی، ماضی میں دہشتگردی کے خلاف آپریشن ہوا دہشت گردی سے ہمارے صوبے کا بے حد نقصان ہوا ہےقبائلی علاقوں کے مشیروں سے مشاورت کے بعد گرینڈ جرگہ بلا رہے ہیں آپریشن کی اجازت نہ ہی دی جائے گی او نہ ہی کوئی آپریشن قبول ہے۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ گڈ طالبان کی اجازت نہیں دیں گے،ہمارے ادارے گڈ طالبان کو سپورٹ کررہے ہیں، یہاں گڈ طالبان کی کوئی گنجائش نہیں ہے پہلے ادارے ڈرون سے کارروائی کررہے تھے، اب دہشت گرد بھی ڈرون کے ذریعے حملے کررہے ہیں ہم صوبے میں ڈرون کے ذریعے کارروائی کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔

    ظاہر جعفر نفسیاتی طور پر صحت مند قرار

    انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں 300 پولیس اہلکار مقامی اقوام کے ذریعے تعینات کریں گے سرحدوں کی حفاظت وفاقی حکومت کی ذمے داری ہے، وفا قی ادارے سرحدوں کی حفاظت کریں، ہم اپنی سرزمین کی حفاظت کر سکتے ہیں،صوبے اور قبائلی علاقوں سے جو وعدے کیے گئے تھے وہ پورے کیے جائییں اگست میں این ایف سی کا وعدہ کیا گیا، ہم اس کے لیے آئینی مطالبہ کررہے ہیں۔صوبے کے جو اثاثے ہیں وہ ہمارے ہیں، ہمارے اختیار میں ہیں ، مائنز اینڈ منرلز بل میں ایسی کوئی شق نہیں ہے کہ صوبے کا اختیار چھینا جارہا ہے۔

    ممبئی ٹرین دھماکہ کیس: مسلمان نوجوانوں کی رہائی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

    وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کو وفاقی فورس بنانے کے خلاف عدالت جارہے ہیں ہم کسی بھی وفاقی فورس کو صوبے میں کارروائی کی اجازت نہیں دیں گے یہاں کوئی آپریشن نہیں ہونے دیا جائے گا آل پارٹیز کانفرنس کا بائیکاٹ کرنے والی جماعتوں کو اگر فیصلوں کا علم تھا تو وہ بھاگ گئے ہیں ہم اپنے فیصلے خود کریں گے جوصوبے کے عوام کے لیے ہوں گے یہ چاہتے ہیں دہشت گرد کارروائی کریں، ڈرون حملے ہوں اور آپریشن ہو،محسن نقوی ان کی آنکھوں کا تارا ہے، یہ کرکٹ کے فیصلے کرسکتا ہے، فلائی اوور بنا سکتا ہے لیکن ہمارے صوبے کے فیصلے نہیں کر سکتا۔

    اسحاق ڈار کل امریکی ہم منصب سے ملاقات کریں گے، دفتر خارجہ

  • خیبر پختونخوا سے نو منتخب سینیٹرز کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری

    خیبر پختونخوا سے نو منتخب سینیٹرز کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری

    لیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا سے نو منتخب سینیٹرز کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    پی ٹی آئی کے 6، جے یو آئی، پی پی کے 2 اور ن لیگ کے ایک سینیٹر کا نوٹیفکیش جاری ہوا،روبینہ خالد، روبینہ ناز، اعظم خان سواتی، مولانا عطا الحق درویش، نور الحق قادری کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا؛فیصل جاوید، مراد سعید، نیاز احمد مرزا محمد آفریدی طلحہ محمود کی کامیابی کا بھی نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق نوٹیفکیشن کے بعد نومنتخب سینیٹرز حلف اٹھائیں گے، نومنتخب سینیٹرز کی مدت اپریل 2030 کو ختم ہوگی، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سینیٹرز کو آزاد قرار دیا گیا۔

  • پیپلز پارٹی، اے این پی اور جے یو آئی کا  اے پی سی کا بائیکاٹ

    پیپلز پارٹی، اے این پی اور جے یو آئی کا اے پی سی کا بائیکاٹ

    خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) سے پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام نے شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اسے محض نمائشی اقدام قرار دے دیا۔

    اپوزیشن لیڈر خیبرپختونخوا اسمبلی ڈاکٹر عباداللہ خان کا کہنا ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتوں نے متفقہ طور پر اے پی سی میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر سید محمد علی شاہ باچا نے کہا کہ صوبے میں حکومت صرف دھرنوں اور مظاہروں میں مصروف ہے، عوامی مسائل پر توجہ نہیں دی جا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہوتی تو متعدد بار ہونے والی مشاورتوں کا کوئی نتیجہ ضرور نکلتا۔

    دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے بھی واضح الفاظ میں کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی بلائی گئی کانفرنس میں شرکت کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ حکومت پہلے ہی اپنے فیصلے کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ کانفرنس تحریک انصاف کی سیاسی حیثیت میں بلائی جاتی تو اے این پی ضرور شرکت کرتی۔جے یو آئی (ف) کی جانب سے بھی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے صوبائی حکومت کی جانب سے امن و امان کے مسئلے پر سیاسی اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کو دھچکا پہنچا ہے۔

    واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے تمام سیاسی جماعتوں کو اے پی سی میں مدعو کیا تھا، لیکن بڑی اپوزیشن جماعتوں کی عدم شرکت سے کانفرنس کی اہمیت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

    ایران نے آئی اے ای اے کی تکنیکی ٹیم کے دورے کی اجازت دے دی
    ایئر انڈیا حادثے میں برطانیہ کو غلط میتیں بھیجنے کا معاملہ، بھارتی وضاحت

    ایرانی صدر کا پاکستان کا متوقع دورہ، تیاریاں حتمی مراحل میں

    اٹلی: چھوٹا طیارہ ہائی وے پر گر کر تباہ، خاتون سمیت 2 افراد ہلاک

  • جماعتِ اسلامی کا خیبر پختونخوا حکومت کی اے پی سی میں شرکت کا اعلان

    جماعتِ اسلامی کا خیبر پختونخوا حکومت کی اے پی سی میں شرکت کا اعلان

    خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں جماعتِ اسلامی نے شرکت کا اعلان کر دیا ہے۔

    جماعتِ اسلامی خیبر پختونخوا کے صوبائی امیر وسطی عبدالواسع نے تصدیق کی ہے کہ ان کی جماعت امن و امان سے متعلق مجوزہ اے پی سی میں بھرپور شرکت کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ اس وقت بدترین بدامنی کا شکار ہے اور جماعت اسلامی ہمیشہ سے امن کی ہر کوشش کی حمایت کرتی آئی ہے۔عبدالواسع نے مزید کہا کہ سینیٹ الیکشن میں تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر متحد تھیں، تو امن کے قیام کے لیے بھی انہیں متحد ہونا چاہیے۔

    جماعتِ اسلامی کے ترجمان نورالواحد جدون نے بتایا کہ جماعت کی نمائندگی نائب امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان کریں گے، جو اے پی سی میں جماعت کا مؤقف پیش کریں گے۔واضح رہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر تمام سیاسی جماعتوں کو اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی ہے، تاکہ صوبے میں امن کے قیام کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔

    اٹلی: چھوٹا طیارہ ہائی وے پر گر کر تباہ، خاتون سمیت 2 افراد ہلاک

    استنبول میں روس یوکرین مذاکرات شروع، جنگ بندی کی امید

    اسلام آباد احتجاج کیس: عارف علوی، گنڈاپور سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری

  • خیبر پختونخوا، لوئر کرم اور صدہ قبائل کے امن معاہدے پر دستخط

    خیبر پختونخوا، لوئر کرم اور صدہ قبائل کے امن معاہدے پر دستخط

    خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر کرم اور صدہ کے قبائل نے صدہ فرنٹیئر کور قلعہ میں منعقدہ جرگے میں ایک سال کے لیے امن معاہدے پر اتفاق رائے اور دستخط کر دیے ہیں، جس میں مقامی معززین اور قبائلی سرداروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    مارچ کے مہینے میں کرم ضلع کے قبائلی رہنماؤں نے عیدالفطر سے پہلے آٹھ ماہ کے لیے امن معاہدے پر بھی اتفاق کیا تھا، جو اب ایک سال تک بڑھا دیا گیا ہے۔یہ امن معاہدہ دہائیوں پرانے زمین کے تنازعات کے باعث ہونے والے تشدد کے خاتمے کی کوششوں کا نتیجہ ہے، جس نے اس حساس ضلع میں کم از کم 130 افراد کی جانیں لے لی تھیں۔ اس سے پہلے جنوری میں مہینوں کے جاری تنازع کے بعد جنگ بندی کا ایک معاہدہ طے پایا تھا۔

    ڈپٹی کمشنر لوئر کرم اشفاق خان، جنہوں نے اس جرگے کی صدارت کی، نےبتایا کہ انتظامیہ، سیکیورٹی فورسز، پولیس اور قبائلی رہنماؤں کی مسلسل کوششوں کے باعث امن کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’لوئر کرم اور صدہ کے مقامی قبائل کے درمیان ایک سال کے لیے امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔‘‘

    جرگہ صدہ فرنٹیئر کور قلعہ میں اہل سنت اور توری بنگش قبائل کے اہم سرداروں کے درمیان منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، سیکیورٹی فورسز، پولیس کے اعلیٰ افسران اور اسسٹنٹ کمشنرز بھی شریک تھے۔اشفاق خان نے بتایا کہ قبائلی عمائدین نے کوہاٹ معاہدے کی روشنی میں اس امن معاہدے پر دستخط کیے اور معاہدے کی تمام شرائط کو تسلیم کیا گیا ہے، جس سے علاقے میں دیرپا امن کے قیام کی امید بڑھ گئی ہے۔

    ایرانی صدر کا پاکستان کا متوقع دورہ، تیاریاں حتمی مراحل میں

    اٹلی: چھوٹا طیارہ ہائی وے پر گر کر تباہ، خاتون سمیت 2 افراد ہلاک

    استنبول میں روس یوکرین مذاکرات شروع، جنگ بندی کی امید

    اسلام آباد احتجاج کیس: عارف علوی، گنڈاپور سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری

  • 5 اگست سے ایک نئی تحریک آزادی کا آغاز ہوگا ،علی امین گنڈاپور

    5 اگست سے ایک نئی تحریک آزادی کا آغاز ہوگا ،علی امین گنڈاپور

    پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی غیر قانونی اور غیر آئینی گرفتاری اور سزا کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سزائیں عوام کی رائے اور آئین پر ایک واضح حملہ ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ تمام غیر قانونی فیصلے فوری طور پر واپس لیے جائیں۔

    علی امین گنڈاپور نے کہا کہ پاکستان میں 5 اگست سے ایک نئی تحریک آزادی کا آغاز ہوگا جو ملک کی حقیقی آزادی کے لیے سرگرم ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ پی ٹی آئی کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ جلد ماضی کا حصہ بن جائیں گے اور پی ٹی آئی اپنی طاقت سے مزید مضبوط ہوگی۔

    وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ وہ سچ کے ساتھ کھڑے ہیں اور ملک و قوم کی خدمت کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔