Baaghi TV

Category: پشاور

  • امدای سامان پر مشتمل  450 سے زائد گاڑیوں کا قافلہ پارہ چنار روانہ

    امدای سامان پر مشتمل 450 سے زائد گاڑیوں کا قافلہ پارہ چنار روانہ

    کُرم: اشیا ضروریہ اور تجارتی سامان پر مشتمل 450 سے زائد گاڑیوں کا قافلہ سخت سیکورٹی میں ٹل سے پارہ چنار روانہ ہوگیا-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق ہنگو سے اشیا ضروریہ اور تجارتی سامان پر مشتمل 450 سے زائد گاڑیاں پارہ چنار روانہ ہوگیا، گاڑیوں کو سخت سیکورٹی میں ٹل سے روانہ کیا گیا ہے ہنگو کے علاقے ٹل سے سخت سیکورٹی میں بڑی اور چھوٹی گاڑیوں کے متعدد قافلے پارہ چنار روانہ کیے گئے جن میں اشیا ضروریہ اور تجارتی سامان شامل ہے۔

    حکام کے مطابق 450 گاڑیوں کو چھوٹے چھوٹے قافلوں کی شکل میں اور وقفے وقفے سے پارہ چنار کے لیے روانہ کیا گیا،اس دوران قومی شاہراہ پر پولیس اور ایف سی کے جوان تعینات تھے اور موبائل فون سروس بھی معطل رہی۔

    میں رابطوں کا حصہ نہیں، نہ کسی نے رابطہ کیا، جنید اکبر

    قبل ازیں کمشنر کوہاٹ اور آر پی او کے عمائدین اور سرکردہ شخصیات سے جرگہ بھی منعقد ہوا اور قومی شاہراہ پر قافلوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے لیے ان سے مشاورت بھی کی گئی۔

    صدر پاکستان کے خطاب پر بات کرنا چاہتا تھا مگر نہیں کرنا چاہتا،فاروق ستار

  • وزیر اعلی خیبر پختونخوا  سے  فٹبال پلئیر محمد ریاض کی ملاقات

    وزیر اعلی خیبر پختونخوا سے فٹبال پلئیر محمد ریاض کی ملاقات

    خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ضلع ہنگو سے تعلق رکھنے والے معروف فٹبال کھلاڑی محمد ریاض سے ملاقات کی، جنہوں نے فٹبال کے بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ محمد ریاض کا تعلق ایک غریب خاندان سے ہے اور حالیہ دنوں میں وہ اپنے خاندان کا گزر بسر کرنے کے لیے جلیبی کی دوکان پر کام کر رہے تھے۔

    محمد ریاض کی زندگی میں ایک نیا موڑ اُس وقت آیا جب سوشل میڈیا پر ان کی ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں وہ جلیبی کی دوکان پر کام کرتے نظر آ رہے تھے۔ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے اس کا نوٹس لیا اور محمد ریاض کو سی ایم ہاؤس بلا کر ملاقات کی۔وزیر اعلیٰ نے محمد ریاض کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں 10 لاکھ روپے کا امدادی چیک دیا تاکہ ان کی مالی حالت بہتر ہو سکے اور وہ اپنے فٹبال کے کیریئر پر توجہ مرکوز کر سکیں۔ اس کے علاوہ، وزیر اعلیٰ نے محمد ریاض کو محکمہ اسپورٹس کے تحت فٹبال کوچ کی ذمہ داری بھی سونپی، تاکہ وہ اپنے تجربات اور مہارت کو نئے کھلاڑیوں کے ساتھ شیئر کر سکیں اور خیبر پختونخوا میں فٹبال کے کھیل کو فروغ دے سکیں۔

    محمد ریاض کی یہ کہانی ایک مثال بن گئی ہے کہ کس طرح محنت اور لگن سے انسان حالات کا مقابلہ کر کے کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ کی طرف سے دی جانے والی امداد اور نئی ذمہ داری سے محمد ریاض کو نہ صرف مالی مدد ملی ہے بلکہ ان کے لیے ایک نئی زندگی کے دروازے بھی کھل گئے ہیں۔یہ اقدام خیبر پختونخوا حکومت کی اسپورٹس کے فروغ اور کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کے عزم کا عکاس ہے۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ وہ صوبے میں نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اس طرح کے اقدامات کرتے رہیں گے۔

  • سوات پولیس کی اہم کامیابی، مطلوب دہشت گرد اجمل ساتھیوں سمیت گرفتار

    سوات پولیس کی اہم کامیابی، مطلوب دہشت گرد اجمل ساتھیوں سمیت گرفتار

    سوات: مینگورہ میں پولیس نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے انتہائی مطلوب دہشت گرد اجمل کو دو ساتھیوں سمیت گرفتار کرلیا۔ اجمل ساکن ملوک آباد تھا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس کی طویل عرصے سے تلاش تھی۔

    پولیس کے مطابق اجمل اور اس کے ساتھی دہشت گرد مختلف دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے اور ان پر متعدد قتل اور دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔ یہ کارروائی سوات پولیس کی خصوصی ٹیم نے کی، جس میں خفیہ اطلاعات پر بروقت کارروائی کی گئی۔مذکورہ دہشت گرد گروہ علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے کے علاوہ امن و امان کی صورت حال کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ پولیس نے فوری طور پر انہیں گرفتار کر کے قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی سوات میں دہشت گردوں کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے، جس کے ذریعے امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف معلومات فراہم کرنے میں پولیس کا ساتھ دیں تاکہ ان کے نیٹ ورک کو مزید ختم کیا جا سکے۔یہ گرفتاری پولیس کی طرف سے دہشت گردوں کے خلاف کیے جانے والے موثر اقدامات اور سوات میں امن و سکون کے قیام کے لیے ایک اور اہم کامیابی ہے۔

  • بنوں کینٹ حملے میں ہلاک 16 دہشتگردوں میں افغان شہری بھی شامل

    بنوں کینٹ حملے میں ہلاک 16 دہشتگردوں میں افغان شہری بھی شامل

    بنوں کینٹ پر ہونے والے حملے کی تحقیقات میں پیش رفت ، حملے میں شامل 16 دہشت گردوں میں سے 2 حملہ آوروں کی شناخت ہوگئی ہے۔

    میڈیا رپورتس کے مطابق بنوں کینٹ پر ہونے والے حملے میں شامل 16 دہشت گردوں میں سے اب تک 2 حملہ آوروں کی شناخت ہوئی ہے، دونوں دہشت گردوں کی شناخت عبد الہادی عرف حماس مہاجر اور شمس اللہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ہلاک دہشت گردوں کا تعلق افغانستان کے صوبہ پکتیا سے تھا، ایک حملہ آور افغانستان کے صوبہ پکتیا کے گاؤں دروزی کا رہائشی تھا۔

    دوسری جانب تفتیشی ٹیم دیگر حملہ آوروں کی شناخت اور خاندانی تفصیلات اکھٹی کر رہی ہے۔یادر ہےکہ بنوں کینٹ کی دیوار کے قریب 4 مارچ کو 2 خودکش حملے ہوئے تھے جس کی ذمہ داری کالعدم تنظیم گل بہادر گروپ نے قبول کی تھی۔ بروقت اور مؤثر کارروائی کے نتیجے میں تمام 16 حملہ آور ہلاک ہوگئے تھے۔

    کے پی کے حکومت کا یوٹرن ، گاڑیوں کی خریداری پر پابندی واپس لینے کا فیصلہ

    سندھ کے سرکاری ملازمین کو ایڈوانس تنخواہیں دینے کا فیصلہ

    سونے کی قیمت 306,000 روپے فی تولہ پر مستحکم

    سوتیلے باپ نے 12 سالہ بیٹی کی 60 سالہ شخص سے شادی کرا دی

  • کے پی کے حکومت کا یوٹرن ، گاڑیوں کی خریداری پر پابندی واپس لینے کا فیصلہ

    کے پی کے حکومت کا یوٹرن ، گاڑیوں کی خریداری پر پابندی واپس لینے کا فیصلہ

    خیبرپختونخوا حکومت نے یوٹرن لیتے ہوئے گاڑیوں کی خریداری پر عائد پابندی واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے ایک بڑا یوٹرن لیا ہے اور خیبرپختونخوا میں گاڑیوں کی خریداری پر پابندی ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، یہ فیصلہ کل کابینہ کے اجلاس میں ہوگا۔ خیبرپختونخوا کابینہ کا اجلاس کل رات طلب کرلیا گیا، کابینہ کا 27واں اجلاس کل رات 09 بجے کیبنٹ روم سول سیکرٹریٹ میں منعقد ہوگا، کابینہ میں شامل 15 وزراء، 5 مشیر اور 12 معاون خصوصی کو دعوت نامے بھیج دیے گئے۔اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے آسامیوں کی تخلیق پر بھی پابندی ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے، ساتھ ہی کراچی میں ہونے والے 35 ویں نیشنل گیمز کے لیے فنڈز کی بھی منظوری دی جائے گی۔

    سونے کی قیمت 306,000 روپے فی تولہ پر مستحکم

    سوتیلے باپ نے 12 سالہ بیٹی کی 60 سالہ شخص سے شادی کرا دی

    سوچ عورت ایوارڈ .تحریر:عنبریں حسیب عنبر

  • لنڈی کوتل:پاکستانی جرگہ عمائدین کا دباؤ رنگ لایا، افغان تعمیراتی مشینری واپس

    لنڈی کوتل:پاکستانی جرگہ عمائدین کا دباؤ رنگ لایا، افغان تعمیراتی مشینری واپس

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ)پاکستانی جرگہ عمائدین کا دباؤ رنگ لایا، افغان تعمیراتی مشینری واپس

    تفصیل کے مطابق طورخم بارڈر پر ایک بار پھر کشیدگی، افغان حکام نے جرگہ کے فیصلوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی حدود میں چیک پوسٹ کی تعمیر شروع کر دی۔ تاہم، پاکستانی جرگہ عمائدین کے سخت دباؤ کے بعد افغان فورسز تعمیراتی مشینری واپس لے جانے پر مجبور ہو گئیں۔

    گزشتہ روز طورخم بارڈر پر پاکستانی اور افغان قبائلی عمائدین کے درمیان ایک تاریخی جرگہ ہوا تھا، جس میں سرحدی کشیدگی کو ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ دونوں فریقین نے متنازعہ تعمیراتی کام روکنے اور امن قائم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور ایک روز کا وقت مانگا تھا، جرگہ ممبران کے مطابق آج بروز پیر افغان جرگہ اور طالبان حکومت کے انتظار میں ہے کہ وہ ہمارے شرایط کے متعلق کیا رد عمل دیتے ہیں۔

    پاک جرگہ مشران کی طرف سے بھی سوشل میڈیا پر افغان حکام کی طرف سے اس خلاف ورزی پر تنقید کی گیی جس کے بعد افغان فورسز مشینری واپس کرنے پر مجبور ہوگئی۔

    واضح رہے کہ تورخم سے ملحقہ آبادی والے علاقہ باچا مینہ کے رہائشیوں میں خوف پھیل گیا جب متنازعہ چیک پوسٹ پر افغان فورسز نے کام شروع کیا لیکن جرگہ عمائدین کی مداخلت سے کشیدگی پھر ختم ہوگئی اور افغان فورسز نے مشینری واپس کردی۔

    انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی فلاحی تنظیموں کے رہنماؤں نے افغان طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وہ جرگہ کی پاسداری کریں،متنازعہ چیک پوسٹ پر کام بند کریں اور سیز فائر کریں تاکہ گزشتہ 17 دنوں سے بند تورخم بارڈر کو کھولا جاسکے۔

  • افغان حکام کا دوغلا پن و مکروہ چہرہ، جرگہ فیصلوں کو پاؤں تلے روند ڈالا، تعمیراتی کام جاری

    افغان حکام کا دوغلا پن و مکروہ چہرہ، جرگہ فیصلوں کو پاؤں تلے روند ڈالا، تعمیراتی کام جاری

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی)افغان حکام کا دوغلا پن و مکروہ چہرہ، جرگہ فیصلوں کو پاؤں تلے روند ڈالا، تعمیراتی کام جاری

    ایک دن پہلے تورخم بارڈر پر ایک تاریخی جرگہ ہوا، جس میں پاکستانی اور افغان قبائلی عمائدین نے سرحدی کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے اتفاق کیا۔ انہوں نے متنازعہ تعمیراتی کام کو روکنے اور امن قائم کرنے کا وعدہ کیا۔

    لیکن آج تصویریں ایک مختلف کہانی بیان کرتی ہیں۔ افغان فورسز نے جرگہ کے فیصلوں کو نظر انداز کرتے ہوئے متنازعہ زمین پر دوبارہ تعمیراتی کام شروع کر دیا ہے۔ یہ عمل نہ صرف جرگہ کی روایات کی توہین ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو بھی بڑھا رہا ہے۔

    اس تنازعہ کی وجہ سے تورخم بارڈر بند ہے، جس سے دونوں طرف کے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ تاجر اور عام شہری سرحد کی بندش سے پریشان ہیں۔

    دونوں جانب کے عوام اور جرگہ اراکین افغان حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستانی زمین پر تعمیراتی کام فوری طور پر بند کریں۔ تاکہ معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو سکے اور دونوں طرف کے لوگ آزادانہ تجارت اور نقل و حرکت کر سکیں۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان کوئی مسائل ہیں تو انہیں مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ تاکہ طورخم بارڈر پر دوبارہ حالات خراب نہ ہوں.

  • گورنر خیبر پختونخوا   کا دورہ صوابی، سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سے کی تعزیت

    گورنر خیبر پختونخوا کا دورہ صوابی، سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سے کی تعزیت

    صوابی: گورنر خیبر پختونخوا، فیصل کریم کنڈی نے جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی رہائش گاہ کا دورہ کیا۔ اس دوران گورنر نے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سے ان کے بھائی شکیل احمد کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ گورنر نے مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور مشتاق احمد خان سمیت دیگر لواحقین سے تعزیت کی۔

    گورنر نے تعزیت کے دوران کہا کہ "اس واقعے پر انتہائی افسوس ہوا ہے اور میں آپ کے دکھ میں برابر کا شریک ہوں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔”گورنر فیصل کریم کنڈی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ صوابی کی عوام کا دکھ اور غم دل سے محسوس کیا ہے اور ان کے ساتھ ہر مرحلے پر ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں۔

    دورے کے دوران، رکن قومی اسمبلی فتح اللہ خان میانخیل اور پیپلز پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری شجاع خانزادہ بھی گورنر کے ہمراہ تھے اور انہوں نے بھی سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سے تعزیت کا اظہار کیا۔

  • لنڈی کوتل:پاک افغان جرگے میں طورخم بارڈر کھولنے پر سیز فائر کا اتفاق

    لنڈی کوتل:پاک افغان جرگے میں طورخم بارڈر کھولنے پر سیز فائر کا اتفاق

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ)خیبر میں پاک افغان طورخم گزرگاہ کو کھلوانے کے لیے دونوں ممالک کے مشترکہ جرگے میں سیز فائر پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق طورخم گزرگاہ پر جاری کشیدگی کم کرانے اور اسے کھلوانے کے لیے پاک افغان عمائدین پر مشتمل جرگہ منعقد ہوا جس میں 11 مارچ تک فائر بندی پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    جرگہ ذرائع کے مطابق 11 مارچ تک سرحد کے دونوں جانب تعمیرات پر پابندی ہوگی۔ جرگہ ممبران 11 مارچ کو افغان فورسز کی متنازع تعمیرات کا جائزہ لیں گے اور اگر سرحد سے متصل تعمیرات کے تنازع کا حل نکالا گیا تو طورخم بارڈر کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

    کسٹم حکام کے مطابق طورخم گزرگاہ آج 17ویں روز بھی بند ہے اور اس بندش کے باعث یومیہ تقریباً 3 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ مزید برآں طورخم گزرگاہ سے یومیہ 10 ہزار افراد کی آمدورفت ہوتی ہے، جو اس وقت مکمل طور پر معطل ہے۔

    اس پیشرفت سے قبل پاک افغان کشیدگی ختم کرنے کے لیے ایک مشترکہ جرگہ منعقد کیا گیا تھا۔ گزشتہ روز اس جرگے کی پہلی نشست مکمل ہوئی تھی، جس میں پاکستان کی جانب سے لنڈی کوتل کے جرگہ مشران کو مکمل اختیار دیا گیا تھا۔ پاکستان کی طرف سے یہ مطالبات پیش کیے گئے کہ 11 مارچ تک فائر بندی کی جائے اور سرحد کے دونوں جانب فوجی تعمیرات پر پابندی عائد کی جائے، جس کے بعد بارڈر کو کھول دیا جائے گا۔ اسی جرگے میں فیصلہ کیا گیا کہ 11 مارچ کو افغان فورسز کی متنازعہ تعمیرات کا جائزہ لیا جائے گا۔

    لنڈی کوتل کے جرگہ مشران کے مطابق افغان جرگہ مشران کو مکمل اختیار حاصل نہیں تھا اور انہوں نے کہا کہ وہ طورخم کے کمیسار سے مشاورت کے بعد اس حوالے سے حتمی جواب دیں گے۔

    واضح رہے کہ افغانستان کی جانب سے ایک متنازعہ چیک پوسٹ پر تعمیری کام شروع کیے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔ اس کشیدگی کے نتیجے میں دونوں طرف سے چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا، جس سے سرحدی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔

    آج 17ویں روز بھی پاک افغان بارڈر طورخم ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے اور پاکستان کی طرف سے افغان طالبان کے جواب کے منتظر ہیں کہ وہ پاکستان کے جرگہ مشران کی پیش کردہ شرائط اور مطالبات کا کس طرح جواب دیتے ہیں۔ اگر افغان حکومت لچک کا مظاہرہ کرتی ہے تو امکان ہے کہ بارڈر آج ہی کھول دیا جائے۔

  • کوہاٹ ،مسلح افراد کی فائرنگ سے 2 سی ٹی ڈی اہلکار شہید

    کوہاٹ ،مسلح افراد کی فائرنگ سے 2 سی ٹی ڈی اہلکار شہید

    کوہاٹ کے علاقے تانڈہ ڈیم کے قریب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے 2 اہلکار شہید ہو گئے۔

    پولیس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب دونوں اہلکار اپنے گاؤں بڑھ سے ڈیوٹی کے لیے دفتر جا رہے تھے۔ ملزمان نے پہاڑی علاقے میں تاک میں بیٹھ کر حملہ کیا اور فرار ہو گئے.واقعے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ گئے اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ شہید ہونے والے اہلکاروں کی لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی تلاش کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور جلد ہی مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں دہشت گردی اور پرتشدد واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے پیش نظر سیکیورٹی اقدامات کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں تاکہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بروقت کارروائی کی جا سکے۔