والدین کی شکایات اور گزشتہ کچھ عرصے سے ہونے والے نقصانات کے سبب چھرے والی کھلونا پستول کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور اس کی خرید و فروخت مکمل طور پر ممنوع قرار دے دی گئی ہے۔اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ سٹی سیدہ ندا کاظمی نے بتایا کہ وہ تمام لوگ جو اس کاروبار کا حصہ ہیں انہیں آگاہ کیا جاتا ہے کے پچھلے کچھ عرصے میں اس خطرناک کھلونے کی وجہ سے بہت سے بچوں کی آنکھیں ضائع ہوئی ہیں اور کچھ شریر بچوں نے اس کھلونے کو والدین کے لیئے وبال جان بنا دیا ہے۔ لہذا اپنی دکان پر یہ کھلونا ہرگز نہ رکھیں ورنہ آپ کی دکان کو ایک ماہ کے لیئے سیل کر دیا جائے گا۔ شہر کے مختلف مقامات پر نوٹس کی تقسیم کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ کسی بھی قسم کی شکایات کے لئے ڈپٹی کمشنر آفس سے رابطہ کریں ۔
Category: کوئٹہ
-
حکومت بلوچستان نے صوبے میں سمارٹ لاک ڈاﺅن میں مزید 15 دن کی توسیع کر دی
محکمہ داخلہ کی جانب سے سمارٹ لاک ڈاﺅن میں 30 جولائی تک توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا اور سمارٹ لاک ڈاﺅن کے تحت مذہبی،سیاسی و دیگر اجتماعات پر مکمل پابندی برقرار رہے گی، جب کے کاروباری مراکز صبح 9 بجے سے شام 7 بجے تک کھلے رہینگےاور عوامی مقامات ،دفاتر اور دکانوں پرماسک کا استعمال لازمی قرار دیا گیا تفریحی مقامات،سینماگھر،کھیلوں کے میدان،شادی ہال اور جمز پر پابندی بھی برقرار، نوٹیفکیشن
-
بلوچستان میں سمارٹ لاک ڈاون 45 ویں روز میں داخل
انتظامیہ کے مطابق صوبے میں سمارٹ لاک ڈاون کا آج آخری روز ہے اور صوبائی حکومت کی جانب سے سمارٹ لاک ڈاون میں توسیع کے حوالے سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا اب سمارٹ لاک ڈاون کے تحت شاپنگ سینٹرز اور دکانیں ہفتے میں 6دن کھلی رہے گی جمعے کے روز تمام کاروباری مراکز ،مارکیٹیس اورشاپنگ سینٹرز بند رہیں گے، جب کے شاپنگ مالز ،مارکیٹس دکانوں، آٹو ریپئر شاپس سمیت دیگر دکانیں صبح9 بجے سے شام09 بجے تک کھلی رہے گی، تندور ڈیری پروڈکٹس شاپس میڈیکل سٹورز بلڈ بینک اور ٹیلر شاپس کو 24 گھنٹے کھلا رکھنے کی اجازت ہو گی ریسٹورنٹس اور ہوٹلز کو بھی صرف ہوم ڈیلیوری اور ٹیک آوے سروس کے لیئے 24 گھنٹے کھلا رکھنے کی اجازت ہو گی، کسی بھی دکان میں ایک وقت میں 4 سے زائد افراد نہیں ہونگے،کوروناوائرس کے حوالے پہلے سے جاری کی گئے تمام ہدایات پر عملدرآمد کو یقینی بنانا لازم ہو گا.
-
اٹھارویں ترمیم کوئی صحیفہ نہیں، ”را“ فنڈڈ لشکر وں کے خاتمے کے بغیر امن وامان اور مسنگ پرسنز کا مسئلہ نہیں ہوسکتا،سرفراز بگٹی
کوئٹہ: بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما سینیٹر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم کوئی صحیفہ نہیں جس پر بات نہیں کی جاسکتی اگر 18ویں ترمیم پر پارلیمنٹ میں بات نہیں ہوگی تو کہاں ہوگی،بلوچستان میں جب تک ”را“ فنڈڈ لشکر وں کا خاتمہ نہیں ہوگا تب تک امن وامان اور مسنگ پرسنز کا مسئلہ نہیں ہوسکتابراہمدغ اور حیربیار مری کے ترجمان قومی اسمبلی اور سینٹ میں انکی بات کرتے نظرآتے ہیں انہیں فوجی کا خون خون نہیں لگتا،بچی کی حوالگی کیس میں دونوں خاندانوں نے آپس میں افہام وتفہیم سے معاملہ طے کرلیا ہے اس کیس میں میری کردار کشی کی گئی جس پر اسلام آباد کے میڈیا سے گلہ ہے۔ یہ بات انہوں نے منگل کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ جس انداز میں دوخاندانوں کے درمیان ایک رنجش کو بچی اغواء کیس کا نام دیکر اس میں میری کردار کشی کی گئی اس پر مجھے افسوس ہے کسی کی بھی پگڑی اچھالنا اچھی بات نہیں ہے اسلام آباد سے جس طرح معاملے کو پیش کیا گیااس سے بہت سے ابہام پیدا ہوئے جوکہ اچھی بات نہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ایک باپ اور بچی کی نانی کے درمیان بچی کی حوالگی کا تھا بلوچستان کی سیاسی و سماجی روایات کے تحت بچی کا والد عدالت کی اجازت سے میرے گھرآیا تھا چونکہ میں گھر پر نہیں تھا میرے ملازمین نے انکی خدمت کی اورانکا والد بچی کے ہمراہ پانچ بجے سے پہلے میرے گھر سے جاچکا تھامجھے اس بات کا ادراک ہے کہ توکل بگٹی کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا لیکن یہ انکا ذاتی مسئلہ تھا اس لئے میں نے اس پر کوئی بات نہیں کی میں پہلے دن سے ہی اس معاملے سے لاتعلق ہوں جس طرح مجھے اس معاملے میں گھسیٹا گیا وہ غلط تھا لیکن میں نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے جبکہ خوش آئند بات یہ ہے کہ دونوں فریقین نے آؤٹ آف کورٹ معاملے کوسلجھالیا ہے میں سپریم کورٹ کا بھی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میری ضمانت کی درخواست اگرقبول نہیں کی تو اسے مسترد بھی نہیں کیامیں پہلے بھی عدالتوں کا سامنا کرچکا ہوں اورانہی عدالتوں سے بری ہواہوں پانچ سال وزیرداخلہ اور اب سینیٹر بننے کے بعد میں قانون کو کسی صورت ہاتھ میں لینے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ایک سوال کے جواب میں سینیٹر سرفراز بگٹی نے کہا کہ 18ویں ترمیم پارلیمنٹ سے ہی منظور ہوئی تھی یہ بہت اچھی ترمیم ہے لیکن ہرقانون میں بہتری کی گنجائش ہوتی ہے18ویں ترمیم میں اگر کچھ سقم ہیں تو اس پرپارلیمنٹ میں ہی بات ہوگی اپوزیشن کہتی ہے کہ 18ویں ترمیم پر بالکل بات ہی نہ کی جائے جوکہ غلط ہے18ویں ترمیم پوری غلط نہیں البتہ اس میں بہتری کی گنجائش ہے۔انہوں نے کہا کہ جعلی ڈومیسائل کے معاملے پرسنجیدگی سے اقدامات کئے جارہے ہیں ا س معاملے کی جانچ پڑتال جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ میں فیڈریشن کا حامی اور پاکستان پرست ہوں ہمیشہ سے مذہبی یا لسانی بنیادوں پر دہشت گردی کرنے والوں کو کھلا چیلنج دیا ہے لیکن کچھ لوگ سینٹ اور نیشنل اسمبلی میں بیرون ملک بیٹھ کر بلوچستان میں شرپسندی کرنے والوں کی آواز بن رہے ہیں انکی آوازیں ہم بھی سن رہے ہیں جب فوجی مارا جاتا ہے تواس کے لئے کوئی تقریرنہیں ہوتی لیکن مسنگ پرسنز کے نام پر واویلا کیا جاتا ہے کیا فوجی کا خون ٹماٹر ہے انکا خون خون نہیں۔انہوں نے کہا کہ مسنگ پرسنز کا معاملہ کنویں میں پڑے کتے کی طرح ہے جب تک ”را“ فنڈڈ لشکر بلوچستان سے ختم نہیں ہوتے تب تک یہ معاملات چلتے رہیں گے ہمارے ہاں پراسیکیوشن کمزور ہونے کی وجہ سے دہشت گرد عدالتوں سے بری ہوجاتے ہیں میں خود بھی مسنگ پرسن رہا ہوں لیکن جب تک بیرون ملک سے بیٹھ کر بلوچستان کے نوجوانوں کو دہشت گردی اور پہاڑوں پر جانے پر اکسانے والے موجود ہیں اس مسائل کا حل ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی کرسی کانٹوں کا تخت ہے جس پر بیٹھنا بہت مشکل ہے ہر پارٹی میں ناراضگیاں ہوتی رہتی ہیں بلوچستان عوامی پارٹی مضبوط ہے اس میں کوئی دراڑ نہیں ہے اور نہ ہی پارٹی کی حکومت کو کوئی خطرہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نوابزادہ حاجی لشکر ی رئیسانی کے وزیراعلیٰ کے امیدوار ضرور ہونگے لیکن وہ 2023کے الیکشن کے بعد آئندہ انتخابات میں نظر آئیں گے بلوچستان میں تحریک عدم اعتماد آتی نظر نہیں آرہی البتہ ان ہاوس تبدیلی جمہوری عمل ہے نوابزاہ لشکری رئیسانی کی پارٹی کے سربراہ کے خلاف بھی یہ تحریک آچکی ہے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وزیراعلیٰ جام کمال خان کو ابھی کوئی خطرہ ہے۔انہوں کہا کہ بلوچستان میں وفاداریاں اور بے وفائیاں بکتی ہیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بے وفائی کرنے والوں کو زیادہ پذیرائی مل رہی ہے ڈیرہ بگٹی میں کھڑے ہوکر کہتے تھے کہ یہاں اگر ایک گولی چلی تو وڈھ میں 10گولیاں چلیں گی آج تک وڈھ میں پٹاخہ تک نہیں سنا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فی الحال اسلام آباد میں بارشیں ہورہی ہیں آگے کے موسم کا معلوم نہیں.
-
انجمن تاجران بلوچستان کی ریلی احتجاجی دھرنے میں تبدیل
تاجران نے بڑی تعداد میں منان چوک پر دھرنا دے دیا
انجمن تاجران بلوچستان کے عہدے داروں نے احتجاجی دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا اور کہا کے
اگر جہازوں میں لوگوں کو بیھٹنے کی اجازت ہے تو ریسٹورنٹس میں کیوں نہیں کوئٹہ انتظامیہ کی تاجر دشمن پالیسی منظور نہیں کئی دنوں سے تاجر برادری انتظامیہ کی رویہ کے خلاف احتجاج کررہے ہیں انتظامیہ کی جابب سے تاجر برادری کو بلاجواز تنک کیاجارہا ہے۔چار ماہ سے شادی ہال بند ہے کروڈو کا نقصان ہورہا ہے اور اسکول کھولنے کی باتیں کی جاری ہے لیکن شادی ہال بند ہے اگر مطالبات نہ مانے گئے تو بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنا دینگے
جب کے ان کا کہنا یہ بھی کہنا تھا کے لاک ڈاون سے تنگ تاجروں جو بار بار جرمانہ بھی کیا جارہاہے۔ -

غدار برامداغ بگٹی اور انکے ساتھی اگر اصل بلوچ ہیں تو پاکستان آئیں، نوابزادہ جمال خان رئیسانی
غدار برامداغ بگٹی اور انکے ساتھی اگر اصل بلوچ ہیں تو پاکستان آئیں، نوابزادہ جمال خان رئیسانی
باغی ٹی وی رپورٹکے مطابق نوابزادہ جمال خان رئیسانی نے کہا ہے کہ غدار برامداغ بگٹی، ہربیار مری اور اُن کے ساتھی جو خود کو بلوچ کہلواتے ہیں۔ اگر وہ اصل بلوچ ہیں تو وہ پاکستان آئیں پر یہ ڈرپورک لوگ پاکستان آتے وقت اس لیے ڈرتے ہیں کیونکہ اِن کو بلوچ قوم نے رد کر دیا ہے۔ بابا جان شہید سراج رئیسانی انہی غداروں کیخلاف میدان جنگ میں پیش پیش رہے
https://twitter.com/SonOfShaeed/status/1282205083502022658?s=20بلوچ قبائل کو بارڈر پر تعینات کیا جائے پھر دیکھیں ہم بھارت کا کیا حشر کرتے ہیں، جمال خان رئیسانی
-

انتہائی اہم شخصیت کے عدالت نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے
انتہائی اہم شخصیت کے عدالت نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیرداخلہ سینیٹر سرفراز بگٹی کے عدالت نے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے
کوئٹہ کی عدالت نے سابق وزیرداخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی کے بچی کے اغوا میں معاونت کے کیس میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوئٹہ نے پولیس کو سینیٹر سرفراز بگٹی کو گرفتار کر کے عدالت پیش کرنے کا حکم دیا ہے، ان پر کوئٹہ کی 9 سالہ بچی کے اغواء میں مدد دینے کا الزام ہے، ماریہ نامی بچی کی نانی نے سرفراز بگٹی کو اغواء کے مقدمے میں نامزد کیا تھا۔
سپریم کورٹ نے گزشتہ روز سینیٹر سرفراز بگٹی کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ سینیٹرسرفراز بگٹی ضمانت قبل گرفتاری کی درخواست پر سماعت 14 جولائی تک ملتوی کر دی گئی،جسٹس قاضی امین نے کہا کہ سینیٹر سرفراز بگٹی کی کیس میں ضمامت بنتی ہوئی تودیں گے،سینیٹرسرفرازبگٹی کو 6 ماہ سے کسی نے گرفتار نہیں کیا،اب سرفراز بگٹی کو کون گرفتار کرے گا؟،
جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ سرفراز بگٹی با اثر شخص ہیں،کوشش کریں بچی مل جائے،جسٹس قاضی امین نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ سمجھ سکتے ہیں،ہم کیا کہہ رہے ہیں،
بچی اغوا کیس میں بلوچستان کے سابق صوبائی وزیر داخلہ سینیٹر سرفراز بگٹی کی ضمانت 23 جون کو بلوچستان ہائیکورٹ نے منسوخ کر دی تھی،بلوچستان ہائیکورٹ نے سرفراز بگٹی کی ضمانت کی توثیق سے متعلق دائر درخواست پرفیصلہ سنایا تھا، عدالت نے سرفراز بگٹی کی درخواست ضمانت منسوخ کر دی تھی
قبل ازیں 17 جنوری کو بلوچستان ہائیکورٹ نے سینیٹر سرفراز بگٹی کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی تھی ۔ عدالت نے سینیٹر کو 3 لاکھ کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا تھا
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوئٹہ سید منیر احمد آغا نے بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر میر سرفراز بگٹی سے متعلق درج مقدمے میں ان کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری خارج کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا
واضح رہے کہ سینیٹر سرفراز بگٹی پر 10 سالہ ماریہ کے اغواء میں معاونت کا مقدمہ درج ہے۔ انہوں نے ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت سے گرفتاری کے حکم پر ہائی کورٹ سے عبوری ضمانت لی تھی۔
-
باکسر محمد وسیم نے دوبارہ رنگ میں اترنے کو ہدف بنالیا
بلوچستان سے تعلق رکھنے والا پروفیشنل باکسر محمد وسیم نے ستمبر میں دوبارہ رنگ میں اترنے کو ہدف بنالیا۔ ویڈیو لنک پر بات کرتے ہوئے محمد وسیم کا کہنا تھا کہ 28 مارچ کو طے فائٹ کے لیے دبئی میں ٹریننگ کررہا تھا لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے اسے ملتوی کرنا پڑا۔ ان دنوں گھر پر ہی اپنی فٹنس کو برقرار رکھنے کے لیے سخت محنت کررہا ہوں، کورونا سے پیدا ہونے والے حالات میں بہتری آنے پر اسکاٹ لینڈ میں جاکر باقاعدہ ٹریننگ شروع کرنے کا ارادہ ہے۔ محمد وسیم نے بتایا کہ ان کے پروموٹر ستمبر میں دوبارہ انٹرنیشل فائٹ کی تیاریاں کررہے ہیں۔ کوشش کروں گا کہ پہلے کی طرح اس مقابلے میں بھی پاکستان کا پرچم بلند کروں۔ نوجوان باکسر نے ساتھی پاکستانی باکسرز کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے فیڈریشن اور حکومت سے اپیل کی کہ ملک میں باکسنگ کے فروغ کے لیے اقدامات پر توجہ دی جائے۔
-

میٹرک، ایف ایس سی کے طلبا کو پروموٹ کرنیکی سمری منظور
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق میٹرک اور ایف ایس سی کے طلبہ کو پروموٹ کرنے کا معاملہ ،طلبہ کو پروموٹ کرنے کی سمری وزیراعلی بلوچستان نے منظور کرلی،
چیئرمین بلوچستان بورڈ پروفیسر یوسف بلوچ کا کہنا ہے کہ وزیراعلی کو سمری منظوری کیلئے بھیجی گئی تھی،طلبہ کو پاس کرنے میں کچھ قانونی پیچیدگیاں ہیں،قانونی پیچیدگیاں دور کرنے کے بعد نتائج کا اعلان کیا جائیگا،
واضح رہے کہ بلوچستان پہلا صوبہ ہے جہاں طلبا کو پروموٹ کرنے کی سمری منظور کی گئی ہے، پاکستان میں کرونا کے پھیلاؤ کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند کئے گئے تھے جو تاحال بند ہیں، تعلیمی اداروں کی بندش کی وجہ سے امتحانات ملتوی کر دیئے گئے تھے بعد ازاں امتحانات کو ختم کر کے طلبا کو پروموٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا
پاکستان بھر مین تمام تعلیمی ادارے کرونا کی وجہ سے تاحال بند ہیں، پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ جاری ہے، کرونا میں کمی آنے کے بعد تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کیا جائے گا
-

بلوچستان حکومت کے عید الاضحی کیلئے لگائے جانے والی مویشی منڈی کیلئے ایس او پیز تیار
بلوچستان حکومت کے عید الاضحی کیلئے لگائے جانے والی مویشی منڈی کیلئے ایس او پیز تیار
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان حکومت نے کورونا کے پھیلاؤکے پیش نظر عید الاضحی کیلئے لگائے جانے والی مویشی منڈی کیلئے ایس او پیز تیار کرلئے
صوبے بھر میں شہروں کے اندر بکرا پیڑی لگانے کی اجازت نہیں ہوگی،مویشی منڈی کے ملازمین اور یہاں آنے والوں کیلئے ماسک اور کلوز پہننا لازمی،جبکہ بچوں اور بوڑھوں کا داخلے ممنوع ہوگا، محکمہ داخلہ بلوچستان کے ذرائع کے مطابق بلوچستان حکومت نے عید قربان کیلئے لگائی جانے والی مویشی منڈیوں کے حوالے سے ایس او پیزتیار کرلئے ہیں جو حتمی منظوری کے بعد جاری کئے جائیں گے،
تیار کردہ ایس او پیز کے مطابق کوئٹہ میں صرف ایک مویشی منڈی مشرقی بائی پاس پر لگائی جائے گی،کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں شہر یوں کے اندر مویشی منڈی لگانے کی اجازت نہیں ہوگی،ہر مویشی منڈی کو تین حصوں میں تقیسم کیا جائے گا،پی ڈی ایم اے مویشی منڈی میں ضروری الات مہیا کرے گا،جبکہ ٹائیگر فورس اور سول ڈیفینس کے رضاکار مویشی منڈیوں میں شہریوں کو آگاہی دیں گے،
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہر مویشی منڈی میں مجسٹریٹ تعینات کئے جائیں گے جو ایس پی پیز کی خلاف ورزی پر کارروائی کریں گے۔