Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • بھارت کی بزدلانہ حرکت پر پاک فوج نے بھرپور جواب دیا، صدر مملکت

    بھارت کی بزدلانہ حرکت پر پاک فوج نے بھرپور جواب دیا، صدر مملکت ,پچھلے 10، 15 سالوں سے پاکستان دنیا کو نظر نہیں آ رہا تھا مگر اب مطلع صاف ہو چکا ہے اور خوبصورت پاکستان نظر آ رہا ہے۔

    کوئٹہ۔ 18 نومبر (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے اندر بالخصوص اور پورے پاکستان کے اندر بالعموم ترقی کے راستے بڑی تیزی سے کھل رہے ہیں، بلوچستان میں معدنیات، ماہی گیری اور دیگرشعبوں میں سرمایہ کاری کے کافی مواقع موجود ہیں، وزیراعظم عمران خان کے اقوام متحدہ میں موثر خطاب نے پوری امت مسلمہ کی عکاسی کی، وزیراعظم کے ایران اور سعودی عرب کے درمیان مصالحانہ کردار اور پاکستان کا ترکی اور ملایشیاءکے ساتھ مل کر انگریزی چینل کھولنے کا فیصلہ خوش آئندہ امر ہے، بھارت اپنے مذموم مقاصد کے باعث دلدل میں پھنستا جا رہا ہے اور بھارت کی بزدلانہ حرکت پر پاک فوج نے بھرپور جواب دیا ہے، کشمیر کے معاملہ پر پاکستان نے دنیا بھر میں بڑا موثر کردار ادا کیا ہے، آزادی مارچ اور دھرنے کے پرامن اختتام پر حکو مت کو مبارکباد دیتا ہوں۔

    کشمیریوں کے ساتھ کھڑے تھے ،ہیں اور رہیں گے، پاک فوج کا کشمیریوں‌ کو پیغام

    ‏اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر

    یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ کشمیر پر کسی قسم کی کوئی ڈیل ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیرکو اپنے دورہ کوئٹہ کے دوران مقامی ہوٹل میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان، گورنر بلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی اور صوبائی وزراءکے ہمراہ صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ بھارت اپنے مذموم مقاصد کے باعث دلدل میں پھنستا جا رہا ہے اور بھارت کی بزدلانہ حرکت پر پاک فوج نے بھرپور جواب دیا ہے، کشمیر کے معاملہ میں پاکستان نے بڑا اہم کردار ادا کیا اور ہمارا پڑوسی ملک ان گڑھوں میں گر رہا ہے، پاکستان منافرت کی سیاست سے نکل چکا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ بطور صدر میں وفاق کی علامت ہوں، اس لئے کوئی سیاسی بیان دینا مناسب نہیں مگر میری خواہش ہے کہ پارلیمنٹ موثر قانون سازی کے متعلق اپنا کام کرتی رہے اور محاذآرائی کم ہو، وفاق اور صوبوں بالخصوص بلوچستان حکومت کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے۔

    پاکستان محفوظ ملک بن دیا، سیکورٹی اداروں کو مبارکباد دیتا ہوں، صدر مملکت،

    انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے کام سے بہت متاثر ہوں، بلوچستان میں معدنیات، ماہی گیری اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے کافی مواقع موجود ہیں، گوادر رپورٹ کے بننے سے برآمدات میں مزید اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مقام اور وزن دنیا میں بہت بہتر ہو چکا ہے، پچھلے 10، 15 سالوں سے پاکستان دنیا کو نظر نہیں آ رہا تھا مگر اب مطلع صاف ہو چکا ہے اور خوبصورت پاکستان نظر آ رہا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کا اپنے قدرتی ذخائر، سیکورٹی کی بہتر صورتحال اور اچھی حکمرانی کی وجہ سے دنیا میں مقام اور وزن بہت بڑھ گیا ہے،

    لائیو سٹاک کے شعبہ میں بہترین ایکسپو منعقد کرنے پر وزیراعلیٰ اورگورنر کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ معدنیات، ماہی گیری اور سیاحت کے شعبوں کی ترقی کے ذریعے معاشی استحکام میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان معدنیات، سیاحت اور وسائل کے حوالہ سے دنیا میں چھٹے بڑے ملک کی حیثیت سے ابھر رہا ہے، دنیا کو دیکھنا چاہئے کہ پاکستان اور بلوچستان کتنا زرخیز ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ عدالتیں آزاد ہیں اور ہر فرد اپنا معاملہ عدلیہ کے سامنے پیش کر سکتا ہے جس پر ہمیں خوشی ہے۔ اس موقع پر صوبائی وزراءظہور احمد بلیدی، عارف جان محمد حسنی، حاجی مٹھا خان، کاکڑ سردار عبدالرحمن کھیتران، چیف سیکرٹری بلوچستان کیپٹن (ر) فضیل اصغر بھی موجود تھے۔

  • صوبائی وزیر داخلہ ضیاء لانگو ہوۓ ناراض

    صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے اعزاز میں دیئے گئے ظہرانے سے بائیکاٹ کیا ذرائع کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے پروٹوکول اسٹاف کی غیر مناسب رویہ کی وجہ سے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے ظہرانے میں شرکت سے معذرت کی اور اٹھ کے چلے گئےاطلاعات کے مطابق صدر مملکت عارف علوی کے دورہ کوئٹہ کے موقع پر کوئٹہ سرینا ہوٹل میں ان کے اعزاز میں گورنر بلوچستان امان اللہ یاسین زئی وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان سمیت صوبائی وزراء اور کابینہ کے اراکین بھی مدعو تھے تاہم صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے ظہرانے کا بائیکاٹ کیا۔ صدر مملکت کے پروٹوکول اسٹاف کے نامناسب رویہ کےخلاف احتجاجا اٹھ کر چلے گئے۔

  • پاکستان محفوظ ملک بن گیا، سیکورٹی اداروں کو مبارکباد دیتا ہوں، صدر مملکت

    پاکستان محفوظ ملک بن گیا، سیکورٹی اداروں کو مبارکباد دیتا ہوں، صدر مملکت

    پاکستان محفوظ ملک بن دیا، سیکورٹی اداروں کو مبارکباد دیتا ہوں، صدر مملکت،
    پاکستان کی معیشت بہتر ہو رہی ہے، ملک میں لائیو اسٹاک کے شعبہ کے لئے بڑے وسیع مواقع ہیں، اس سے ملک کی ترجیحات پر اثر پڑے گا،

    کوئٹہ ۔ 18 نومبر (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے لائیو اسٹاک کے شعبہ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس شعبہ کی ترقی سے برآمدات میں اضافے، غربت کے خاتمے اور ملکی معاشی استحکام میں مدد ملے گی، سیکورٹی استحکام کے باعث پاکستان بیرون ملک سرمایہ کاروں کے لئے پرکشش مقام بن چکا ہے، ماہی گیری کے فروغ کے لئے جدید مشینری اور جدید ٹیکنالوجی بروئے کار لانے کی ضرورت ہے، بلوچستان میں ماہی گیری سمیت لائیو اسٹاک کے دیگر شعبوں سے استفادہ کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یونیورسٹی آف بلوچستان میں لائیو اسٹاک کی ایکسپو سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ دنیا میں جتنے بھی انبیاءآئے انہوں نے بکریاں چرانے کا پیشہ اختیار کیا، یہ پیشہ انبیاءکی سنت ہے، لائیو اسٹاک کا انسانوں کی زندگی سے گہرا تعلق ہے، وزیراعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہر گھرانے میں مرغیاں دی جائیں جس سے غربت ختم کرنے میں مدد ملے گی، لوگوں نے اس کا مذاق اڑایا حالانکہ افریقہ میں غربت کے خاتمے کے لئے مرغیاں اور بکریاں پالنا ایک زبردست پیشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خوراک کی بے انتہاءکمی ہے، بچے غذائی کمی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تک کی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ امیر، غریب اور مڈل کلاس طبقہ خوراک کی کمی کا شکار ہے، لائیو اسٹاک اہم شعبہ ہے جس سے دودھ اور گوشت ملتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دودھ بچوں کی صحت کے لئے اہم ہے، انسانی زندگی سے لائیو اسٹاک کا گہرا تعلق ہے، موری گالا دودھ کے شعبہ میں پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، وہ پاکستان میں اپنی دودھ کی ضروریات کو پورا کر سکتے ہیں اور بیرون ملک برآمد کر سکتے ہیں، اس شعبہ پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹر بیرون ملک خدمات سرانجام دے رہے ہیں، ڈاکٹرز، انجینئرز، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ماہرین کو بیرون ملک جانا چاہئے۔

    صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کی معیشت بہتر ہو رہی ہے، ملک میں لائیو اسٹاک کے شعبہ کے لئے بڑے وسیع مواقع ہیں، اس سے ملک کی ترجیحات پر اثر پڑے گا، غربت میں کمی آئے گی، خوراک میں بہتری آئے گی، برآمدات بڑھنے سے معیشت مستحکم ہوگی۔ اس شعبہ کی ترقی سے خاندان اور دیہی علاقوں کے لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری آئے گی، مویشیوں کو صحت مند رکھنے کے لئے اینٹی بائیوٹکس استعمال کی جاتی ہے، انسانی زندگی پر اس کے اثرات پڑے، دنیا اس معاملے کو سنجیدہ لے رہی ہے، لائیو اسٹاک کے حوالے سے آرگینک گرتھ اور بائیورسٹی اہمیت کی حامل ہے، بلوچستان میں وسیع مواقع موجود ہیں، ماضی میں ہماری لیڈر شپ کے غلط فیصلوں کے باعث پاکستان پیچھے رہ گیا۔

    انہوں نے کہا کہ غیر ذمہ داری کے باعث 70 فیصد مچھلیوں کے اسٹاک کو ختم کیا، کمرشل سطح پر اس کو زیادہ فروغ دیا گیا، مچھلیوں کی خوراک میں 98 فیصد بچہ مچھلی ہوتی ہے جس سے اس کی پیداواریت پر اثر پڑتا ہے، ہمیں ایکوا فشنگ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان نے بہترین لائیو اسٹاک پالیسی بنائی ہے، مسئلہ کی نشاندہی کر کے اس حوالے سے منصوبہ بندی کر کے بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں، اپنے اور دنیا کے تجربات کے مشترکہ استفادہ سے عمل درآمد میں آسانی رہتی ہے، بلوچستان پائیدار توانائی، فشریز، معدنیات سے مالا مال ہے، آئندہ پانچ سال میں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ماہی گیری کی صنعت میں جدید مشینری اور ٹیکنالوجی کے استعمال کی ضرورت ہے، ہمیں اپنے ماہی گیروںکو جدید تربیت دینے کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا پاکستان کو کاروبار کے حوالے سے خوبصورت ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دورہ جاپان کے دوران کئی سرمایہ کاروں اور اداروں کے سربراہان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ چین سے 45 سرمایہ کاروں اور وفود سے ملاقات ہوئی۔ پاکستان سرمایہ کاری اور ان کی سرمایہ کاری کے فروغ دینے والا ملک بننے جا رہا ہے، پاکستان کو محفوظ ملک بنانے پر سیکورٹی اداروں اور قوم کو مبارکباد دیتا ہوں اس سے پاکستان دنیا میں قابل فخر ملک بن کر سامنے آیا ہے۔

  • عوام کا مطالبہ وزیر اعلی نوٹس لے

    موسم سرما کے باوجود کوئٹہ شہر میں روزانہ کی 8 سے 10 گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جبکہ دیگر اضلاع 18 سے 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ کرتے ہوئے ون فیس بجلی فراہم کی جاتی ہے جس کے باعث معمولات زندگی بری طرح متاثر ہورہی ہے. عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ چیف کیسکو کے چارج سنبھالتے ہی لوڈشیڈنگ کے مسئلے سے سر اٹھالیا ہے لہذا وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان عالیانی چیف کیسکو کو فوری طور ہٹانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ بلوچستان کے شہری سکھ کا سانس لیں سکیں.

  • ایران سے ٹماٹر درآمد

    ٹماٹر سے لوڈ گاڑیاں ایران چمن اور تفتان باڈر سے پاکستان آئ تفتان اور چمن باڈر سے 20 ٹرک ٹماٹر ایران سے امپورٹ ہوئے ہیں ٹماٹر امپورٹ سے پاکستان میں ٹماٹر کی قیمت واپس معمول پر آنے کا امکان ہے حکومت نے مقامی منڈی میں ٹماٹر کے ہوش ربا اضافے کے پیش نظر ایران سے ٹماٹر درآمد کرنے کی اجازت دی تھی جس کے بعد ایران سے ٹماٹر درآمد کے گئیں جیسا کے حکومت پاکستان نے ایران سے ایک مہینے کے لیے ٹماٹر درآمد کرنے کی اجازت دے دی ہیں۔

  • جامعہ بلوچستان میں اسٹوڈنٹ اپس میں گتھم گتھا

    کوئٹہ میں جامعہ بلوچستان میں تحریک انصاف اسٹوڈنٹ فیڈریشن گتھم گتھا ہو گئے جس میں پی ٹی آئی کے صوبائی رہنماء ظہور آغا کا پی ایس ایف کے صدر داؤد شاہ کاکڑ پر حملہ، واقعہ آئی ایس ایف کے سرکل پر کیک کاٹنے کی تقریب کےدوران پیش آیا اور لڑائی جھگڑے میں تحریک انصاف اسٹوڈنٹ فیڈریشن کے کئی کارکن زخمی بھی ہوۓ جب کے انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن بلوچستان کے صوبائی صدر داود شاہ کاکڑ اسپتال منتقل ہوگئے اور واقعہ کے بعد پولیس نے ثناہ اللہ آغا کو گرفتار کر لیا ہے لیکن پی ٹی آئی کے صوبائی رہنماء سید ظہور آغا موقعے سے فرار ہوگئے ہیں۔

  • پلان بی پر عمل شروع کردیا گیا۔

    بلوچستان کے علاقہ چمن میں جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ میں پلان بی کے اعلان کے بعد اس پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے جمعیت علماء اسلام اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے کارکنوں نے سید حمید کراس کے مقام پر رکاوٹیں کھڑی کر کے کوئٹہ چمن شاہراہ بند کر دی ہے جس کی وجہ سے شاہراہ پر گاڑیوں کی قطاریں لگ گئی ھے اور نیٹو سپلائی اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی سپلائی بھی معطل ھوگئی ھے جس کے بعد قطاریں لگ گئیں ہیں۔

  • تندور مالکان نے دھمکی دے  دی ہے

    آٹے کی قیمت میں اضافے کے بعد تندور مالکان نے روٹی کی قیمت بڑھانے کی دھمکی دے دی ہے ،روٹی 20 روپے سے بڑھا کر 30 روپے کا اعلان کیا ہے جس سے شہری سخت پریشان ہیں۔ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث نان بائیوں نے بھی روٹی کے قیمتوں میں اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ کوئٹہ میں بھی تندور مالکان نے روٹی 30 روپے میں کرنے کا عندیہ دیا ہےجبکہ بعض تندور مالکان نے اس پر عمل بھی شروع کر دیا ہے۔روٹی کی قیمت میں اضافے کے حوالے سے شہریوں کا کہنا ہے روٹی کی قیمت میں اضافے نے مزدور طبقے کی مشکلات میں مزید کر دیا ہے۔ملک میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے پر تندور مالکان کا کہنا ہے ،وہ 20 روپے میں روٹی فروخت نہیں کر سکتےکیونکہ گیس کے بل اور مزدوروں کی تنخواہوں میں بھی مہنگائی کے ساتھ ساتھ اضافہ کرنا پڑتا ہے ۔اکر حکومت تندور مالکان کو سبسڈی دے تو وہ مناسب دام روٹی فروخت کرنے کے لیے تیار ہیں-ملک میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت اور وفاقی کابینہ کی جانب سے پیٹرلیم مصنوعات پر ٹیکس کی وجہ سے اشیائے خورونوش سمیت 100 کلو آٹا کے فی بوری قیمت میں 1700 روپے تک اضافہ ہوا ہے۔یہ بھی پڑھیے: روٹی 6 روپے میں فروخت نہیں کر سکتے، نانبائی ایسوی ایشنآٹے کی قیمت میں اضافےکے باعث نان بائیوں کی جانب سے روٹی کی قیمت 20 روپے سے بڑھا کر 30 روپےکرنے کی دھمکی دے گئی ہے ۔ اس طرح غریب عوام سے دو وقت کی روٹی کھانے کا حق بھی چین لیا گیاہے۔

  • پی اے مبین خان خلجی کو خراج_تحسین پیش

    عرصہ دراز سے کوئٹہ کے شہری جس اذیت میں مبتلا تھے الحمداللہ ایم پی اے مبین خان خلجی کے کوششوں سے اپنے حلقے کے عوام اور کوئٹہ کے شہریوں کے لیے ایک اور احسن اقدام ہے کوئٹہ شہر میں ٹریفک کے سنگین مسئلے کے حل کیلئے روڈوں کی توسیع کا کام جاری ہے اسے سلسلہ میں مبین خان خلجی کے تعاون سے جناح_روڈ سے ڈائریکٹ زرغون_روڈ امداد چوک اور دیگر روڈو تک آسانی سے سفر کے لئے اقدام ہوا ایم پی اے مبین خان خلجی کی نگرانی میں کام تیزی سے جاری ہے آج مبین خان خلجی نے روڈ کا معائنہ بھی کیا ہے اہلیان علاقہ اور کوئٹہ کے عوام کی جانب سے اس احسن اقدام پر ایم پی اے مبین خان خلجی کو خراج_تحسین پیش کیا اور علاقے کے مکینوں کا کہنا تھا کہ مبین خان ایک عوامی نمائندہ ہے اور عوامی خدمت پر یقین رکھنے والا انسان ہے اور آج ہمیں فخر محسوس کررہے ہیں کہ ہم نے ووٹ صحیح جگہ استعمال کیا تھا اور ہمیں امید ہے انشاللہ خان صاحب اور ان کے کھلاڑی ہمیں مایوس نہیں کریں گے۔

  • گیس میٹر پر سیکورٹی چارجز کا اطلاق

    ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں گیس صارفین کے بلوں میں ہزاروں روپے گیس میٹر سیکورٹی چارجز کا اطلاق کر دیا صوبائی دارلحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں گیس صارفین کو رواں ماہ بھیجے گئے بلوں میں ہزاروں روپے گیس میٹر سیکورٹی چارجز کا اطلاق ہوا یہ اضافی چارجز گزشتہ کئی دہائیوں سے نصب شدہ ان میٹرز صارفین کو بھی بھجوائے گئے ہیں جنہوں نے عرصہ دراز قبل اس وقت رائج سیکورٹی فیس جمع کر دی تھی بغیر کسی اطلاع کے ایک ہی مہینے میں میٹر سیکورٹی کے نام پر صارفین کی جیب پر ڈاکہ گیس کمپنی کی بد نیتی اور نااہلی کا مظہر ہے اور صارفین نے چیف جسٹس بلوچستان سے گیس کمپنی کی اس مالیاتی بد دیانتی کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے