Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • کوئٹہ ایک بار پھر بڑی تباہی سے بچ گیا

    کوئٹہ ایک بار پھر بڑی تباہی سے بچ گیا

    کوئٹہ ایک بار پھر بڑی تباہی سے بچ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سی ٹی ڈی اورحساس ادارے نے مشترکہ کارروائی کی، اوربارودی گاڑی کی شہرمیں داخلے کی کوشش ناکام بنا دی،

    سی ٹی ڈی حکام کے مطابق اغبرگ کے مقام پر گاڑی کو روکا گیا تو گاڑی میں سوار افراد نے فائرنگ کر دی، فائرنگ کے تبادلے کے نیتجے میں 3دہشتگرد ہلاک ہو گئے، گاڑی سے 35 کلو دھماکا خیزمواد برآمد ہوا ہے ، سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق گاڑی سے 2 ایس ایم جیز،پستول، دستی بم بھی برآمد ہوئے ہیں.

    واقعہ کی اطلاع ملنے پر مزید سیکورٹی فورسز جائے وقوعہ پر پہنچیں اور جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، لاشوں‌کو پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے

  • کوئٹہ احتجاجی دھرنا۔

    سید غوث اللہ آغا جو کہ کوئٹہ کے رہائشی تھے جن کو
    چودہ اگست کو اغواء کیا گیا جب کے کچھ اطلاعت کے مطابق افغانستان سے اس کے گھر والوں کو کالز موصول ہوئیں اور ان سے تین لاکھ ڈالر کا مطالبہ کیا گیا جیسا کے اتنی بڑی رقم کا مطالبہ پورا کرنا ان گھر والوں کے بس میں نہ تھا جس کے بعد آج اس بچے کی لاش افغان سرحد کے قریب قلعہ عبداللہ میں پھینک دی گئی۔ اور پاکستان کے ان سب علاقوں میں غیر ملکیوں کی بھرمار ہے جن کی اکثریت ملک دشمن اجنسیوں کے لیے رضاکارانہ طور پر کام کرتی ہے۔ اس معصوم لڑکے کا گناہ یہ تھا کے یہ سوشل میڈیا پر پاکستان کا سپاہی تھا اور پی ٹی ایم سمیت تمام قوم پرست اس سے نفرت کرتے تھے ان کی فیملی کو جو فون کالز آتی تھیں ان میں یہی اصرار کیا جاتا تھا کہ پیسے دو گے تو تمہارے بچے کی حرکتیں معاف ہو سکتی ہیں اور اس کی جان بچ سکتی ہے تو اب اس واقع کے خلاف کچھ گھنٹوں سے بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں مختلف سیاسی افراد اور شہریوں کی بڑھی تعداد کی جانب سے احتجاج کیا جارہا ہے اور ملزمان کی گرفتاری اور واقع میں ملوث افراد اور تنظیموں کے خلاف جلد سے جلد کروائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے کے آیندہ ایسے وقیات سے بلوچستان کے محب وطن عوام کو تحفظ مل سکھے کیوں کے بلوچستان میں محب وطن بلوچ اور پشتون مسلسل دشمن اجنسیوں نشانے پر رہتے ہیں۔
    پھر ان کو شہید کر کے دہشت گرد تنظیمیں فوراً سوشل میڈیا پر ان کی شہادت کی زمہ داری ریاست پر ڈال کر پراپیگینڈا شروع کر دیتی ہیں۔

  • کوئٹہ سے ١۴اگست کو لاپتہ ہونے والا نوجوان قتل

    کوئٹہ سے ١۴اگست کو لاپتہ ہونے والے نوجوان کو نامعلوم افراد نے قتل کرکے لاش قلعہ عبداللہ میں پھینک دیاہے نوجوان کی شناخت غوث اللہ ولد کریم آغا کے نام سے ہوئی ہے نوجوان کا تعلق کوئٹہ کے علاقے شیخ ماندہ سے بتایا جاتا ہے نوجوان کو گولیاں مارکر قتل کیا گیا عمر 18 سال کے لگ بھگ ہے.اطلاع ملتے ہی اسسٹنٹ کمشنر کے حکم پر لیویز تھانہ میزئی اڈہ کے انچارج محمد نسیم اچکزئی نے نفری کے ہمراہ لاش قبضے میں لیکر ہسپتال منتقل کردیا. قلعہ عبداللہ.انتظامیہ مزید تفتیش کررہی ہے .

  • چیف کلیکٹر ڈاکٹر نے اسٹاف کی کاروائی کو سراہا.

    کسٹمز ذرائع کے مطابق پاکستان کسٹمز کوئٹہ کلیکٹریٹ کے شعبہ انسداد اسملنگ نے ماہ اکتوبر کے دوران مختلف چیک پوسٹو اور چھاپوں کے دوران ایف سی کے تعاون سے تقریباً دس کروڑ روپےکے غیر ملکی سامان کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنا کر قبضے میں لے لی جن میں ٹائرز کپڑا چھالیہ سیگریٹس آٹو پارٹس پٹرول ڈیزل نان کسٹمز گاڑیا و دیگر سامان شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ ایف ٹی او کی ہدایات پر کویٹہ اور اطراف میں واقع غیر ملکی غیر قانونی پٹرول پمز بھی ناکارہ بنائے گئے جن کی تعداد دس کے قریب بنتی ہے اس کاروائ میں پولیس کی تعاون بھی کسٹمز حکام کو حاصل رہی ۔ واضح رہۓ حالیہ کارواہیو میں شدت کی وجہ ایف سی حکام کی جانب کسٹمز حکام کو بروقت اور بھر پور تعاون ہے ۔ چیف کلیکٹر ڈاکٹر چودھری ذوالفقار علی ، کلیکٹر پریوینٹو ڈاکٹر افتخار احمد نے اسٹاف کی کاروائی کو سراہا.

  • چیئرمین سینیٹ اپوزیشن سے مذاکرات کی بجائے اچانک کہاں پہنچ گئے؟ اہم خبر

    چیئرمین سینیٹ اپوزیشن سے مذاکرات کی بجائے اچانک کہاں پہنچ گئے؟ اہم خبر

    اپوزیشن سے مذاکراتی کمیٹی کے رکن چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی رہبر کمیٹی سے مذاکرات کی بجائے اچانک کہاں پہنچ گئے؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی چین کے وفد کے ہمراہ گوادر پہنچ گئے، چیئرمین سینیٹ وفد کے ہمراہ اہم منصوبوں کا افتتاح بھی کریں گے ،چین کا وفد چیئرمین نیشنل ڈیولپمنٹ اینڈ ریفامز کمیشن کی سربراہی میں پاکستان کے دورے پر ہے

    سی پیک کے تحت گوادر میں کن منصوبوں پر کام ہو رہا ہے؟ اہم خبر

    آصف زرداری کے دور میں سی پیک کی بنیاد رکھی گئی، چینی سفیر کی رحمان ملک سے گفتگو

    گوادر کیلیے 300 میگاواٹ کا کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کا افتتاح بھی کیا جائے گا ،گوادر پورٹ اتھارٹی کے کمرشل کمپلیکس منصوبے کا افتتاح بھی کیا جائے گا

    سی پیک کا سمندری دفاع ،نیول چیف گوادر پہنچ گئے

    پاک بحریہ کے سربراہ کا کریکس اور کوسٹل ایریا میں پاک بحریہ کی تنصیبات کا دورہ

    پاکستان نیوی کا بلوچستان کی عوام کے لئے شاندار کام، عوام کی دعائیں

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ خطے کی ترقی و خوشحالی ہمارا مشن ہے،گوادر تجارتی مرکز بننے جارہا ہے،خطے کے ممالک کیلیے موثر رابطہ کاری میں گوادر اہم کردار ادا کرے گا،سی پیک پاکستان ،چین دوستی اور اعتماد کی مثال ہے،گورنمنٹ فقیر کالونی مڈل اسکول کے توسیعی منصوبے کا افتتاح کیا جائے گا

  • کوئٹہ شہر میں کاروائی۔

    کوئٹہ شہر میں مختلف جگہ پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کیپٹن ریٹائرڈ طاہر ظفر عباسی کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ سیدہ ندا کاظمی اور مجسٹریٹ سٹی کی شہر میں نرخ نامے کی پابندی نہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی اور مختلف اشیاء کی قیمت ڈپٹی کمشنر آفس سے جاری کیے جانےوالے نرخ نامے کے مطابق نہ بیچنے والوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان پر جرمانے عائد کیے گئے جن چیزوں کے نرخ چیک کیے گئے ان میں دال، چینی، چاول ، دودھ، گوشت اور مختلف اشیاء خورد ونوش شامل ہیں۔ عوام کو ریلیف دینا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور کوئٹہ کی ضلعی انتظامیہ اب اس امر کے لیے کوشاں نظر آرہی ہے۔

  • بلوچستان یونیورسٹی میں رہائش پذیر ایف سی اہلکاروں کو نکالنے کا حکم

    پاکستان میں صوبہ بلوچستان کی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال
    خان مندوخیل نے کہا ہے کہ یونیورسٹی آف بلوچستان میں ہراسانی کے حوالے سے جو دعوے سامنے آئے ہیں وہ خدا کرے کہ درست نہ ہوں کیونکہ اگر وہ درست ہوئے تو پھر ہم اس قابل نہیں کہ انسان کہلوائیں۔
    چیف جسٹس نے کہا کہ ایسی باتیں بھی سامنے آئی ہیں کہ ‘اے گریڈ چاہیے یا فیل ہونا ہے، سکالر شپ پر آسٹریلیا جانا ہے یا امریکہ جانا ہے یا کہیں نہیں جانا۔’
    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ہم سب نے مل کر دو کام کرنے ہیں ایک یہ کہ یونیورسٹی کی ساکھ بحال ہواور دوسرا یہ کہ جو لوگ ہراسانی کے واقعات میں ملوث رہے ہیں ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ یہ ریمارکس انھوں نے یونیورسٹی میں طالبات کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دیے۔
    کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم دو رکنی ڈویژنل بینچ نے کی۔
    سماعت کے موقع پر بلوچستان اسمبلی کے پارلیمانی کمیٹی کے اراکین، یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر محمد انور پانیزئی، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے نمائندوں کے علاوہ وکلا کی بہت بڑی کمرہ عدالت میں موجود تھی۔
    سماعت کے دوران ایف آئی اے کے حکام نے ایک مرتبہ پھر یونیورسٹی میں خفیہ کیمروں کے استعمال کے حوالے سے ایک رپورٹ اس درخواست کے ساتھ پیش کی کہ تحقیقات مکمل ہونے تک اسے افشاں نہ کیا جائے، تاہم چیف جسٹس نے ایف آئی اے کی رپورٹ سے بلوچستان اسمبلی کے اراکین کو آگاہ کرنے کے لیے انھیں اپنے چیمبر میں طلب کیا۔
    قائم مقام وائس چانسلر کی بے بسی
    سماعت کے دوران جب چیف جسٹس نے قائم مقام وائس چانسلر سے کہا کہ وہ قانون کی مطابق کارروائی کریں تو وہ اپنی بے بسی کا اظہار کرتے رہے۔ چیف جسٹس نے انھیں کہا کہ قانون کے تحت انہیں ہراسانی سے متعلق معاملات کی تحقیقات اور اس کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مکمل اختیار ہے. انھوں نے وائس چانسلر کو کہا کہ اگر وہ قانونی کے مطابق کارروائی نہیں کر سکتے تو وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔
    بلوچستان اسمبلی کے اراکین نے کیا کہا؟
    بلوچستان اسمبلی کی تحقیقاتی کمیٹی کے اراکین چیئر پرسن مہ جبین شیران کی قیادت میں پیش ہوئے۔ چیئر پرسن نے کہا کہ انہیں ہراسانی کے حوالے سے بہت ساری شکایتیں فون اور واٹس ایپ پر موصول ہوئیں لیکن متائثرین میں سے تاحال کوئی بھی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوا۔
    کمیٹی کے رکن ثنا بلوچ نے کہا کہ یونیورسٹی میں بڑی تعداد میں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں لیکن ان کو استعمال کے حوالے سے کوئی سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی میں جو لوگ سکیورٹی یا سی سی ٹی وی کو آپریٹ کرنے پر معمور ہیں ان کی اخلاقی اور ہمارے سماجی اقدار کے حوالے سے تربیت ہونی چاہیے۔
    انہوں نے کہا کہ اس وقت لوگوں کی نگاہیں عدلیہ، بلوچستان اسمبلی اور ایف آئی اے پر لگی ہوئی ہیں۔ اسمبلی کی رکن شکیلہ نوید دیوار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کچھ عرصہ بیشتر سکیورٹی اہلکار گرلز ہاسٹل میں رات کو آئے اور وہاں کمرہ نمبر دو کو خالی کرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہاسٹل میں لڑکیاں چیختی رہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور رات کو یہ لوگ کیوں آئے ہیں؟
    انھوں نے بتایا کہ جب کمیٹی کے اراکین نے ہاسٹل کے چوکیدار سے پوچھا کہ انھوں نے سکیورٹی اہلکاروں کو کیوں چھوڑا تو ان کا جواب یہ تھا کہ وہ ہاسٹل کے دروازے سے نہیں آئے بلکہ سیڑھیاں لگا کر اندر داخل ہوئے. انھوں نے کہا کہ اس کی ویڈیو بھی ہے جسے وہ چیمبر میں فاضل ججوں کو دکھائیں گی۔
    اس بات پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وائس چانسلر سے کہا کہ سکیورٹی اہلکار وہاں حفاظت کے لیے ہیں یا لوگوں کو ہراساں کرنے کے لیے۔
    عدالت کو بتایا گیا کہ ‘ایک ڈیپارٹمنٹ کی طالبہ کو اس کے ایک ٹیچر نے کہا کہ آپ کا سمسٹر ڈراپ ہو رہا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو میں اس کو ڈراپ نہیں ہونے دوں گا۔اس طالبہ کو اس کے ڈیپارٹمنٹ کے دو ٹیچروں نے تین گھنٹے تک اپنے پاس بٹھائے رکھا۔’
    انھوں نے کہا کہ ہراسانی کے حوالے سے اب تک یونیورسٹی کے چھوٹے گریڈ کے چار اہلکاروں کو معطل کیا گیا لیکن معاملے کو اس سے آگے کیوں نہیں بڑھا گیا۔
    انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ کل ایف آئی اے والے آئیں گے اور یہ بتائیں گے کہ متاثرین میں سے کوئی سامنے نہیں آیا اس لیے کسی کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ اس کے ساتھ وہ یہ بھی بتائیں گے کہ آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے فلاں فلاں گائیڈ لائنز پر عملدرآمد کیا جائے ۔
    تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت ایسا نہیں ہونے دے گی کیونکہ یہ معاملہ نہ صرف اس بینچ کے اراکین دیکھ رہے ہیں بلکہ عدالت کے تمام جج اس کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔
    چیف جسٹس نے وائس چانسلر اور ایف آئی اے کے حکام کو کہا کہ ‘جو بھی ان واقعات میں ملوث ہو ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں خواہ اس میں میں خود (چیف جسٹس ) ہی کیوں نہ ہوں۔’
    انھوں نے کہا کہ متاثرین کو ایف آئی اے یا بلوچستان اسمبلی کی کمیٹی کے سامنے پیش ہونا چاہیے تاکہ ان واقعات میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
    عدالت نے کیا احکامات دیے؟
    عدالت نے کیس کی سماعت 15دن بعد تک ملتوی کرتے ہوئے ایف آئی اے کے حکام کو حکم دیا کہ وہ اپنی تحقیقات جاری رکھیں۔ عدالت نے وائس چانسلر کو حکم دیا کہ وہ یونیورسٹی کی جمنازیم، وائس چانسلر کے گھر اور ٹیچرز ہاسٹل سمیت ان تمام مقامات کو ایف سی اہلکاروں سے خالی کرائیں جو کہ طلبا اور اساتذہ کے لیے مختص ہیں۔
    عدالت نے کہا کہ کیس کی سماعت کے دوران یہ دلائل بھی سامنے آئے کہ یونیورسٹی کے اندر فرنٹیئر کور کی ضرورت نہیں۔ عدالت نے کہا کہ چیف سیکرٹری، وائس چانسلر، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کواس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ اگر ایف سی کی ضرورت ہے تو ان کے لیے یونیورسٹی کے باہر کون سی جگہ مختص ہونا چاہیے۔

  • کوئٹہ سے جدہ کیلئے براہ راست فلائٹس کا آغاز، ڈپٹی سپیکر نے کیا افتتاح

    کوئٹہ سے جدہ کیلئے براہ راست فلائٹس کا آغاز، ڈپٹی سپیکر نے کیا افتتاح

    ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ کوئٹہ سے جدہ کے لئے براہ راست فلائٹس بلوچستان کے عوامی کا دیرینہ مطالبہ تھا،

    کوئٹہ ۔ 29 اکتوبر (اے پی پی)ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ کوئٹہ سے جدہ کے لئے براہ راست فلائٹس بلوچستان کے عوامی کا دیرینہ مطالبہ اور بنیادی حق تھا جس کے افتتاح پر بلوچستان کے عوام اور عمرے پر جانے والوں کی خوشی دیدنی ہے ہم جہاں بھی رہے ہمیں اپنے ووٹ اور مٹی کا حق ادا کرنا ہوگا۔ قومی اسمبلی سیکرٹیڑیٹ کے مطابق یہ بات ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کوئٹہ ائیرپورٹ پر کوئٹہ سے ڈائریکٹ جدہ فلائٹس کی افتتاح کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری سردار خادم حسین وردگ ، سیکرٹری جنرل باری بڑیچ ، سید بسم اللہ آغا ،نوابزادہ شریف جوگیزئی، سیکرٹری اطلاعات محمد آصف ترین ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری سید میر علی آغا ، غفار کاکڑ ، سیف اللہ کاکڑ ، اختر مندوخیل و دیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے عمرہ ادا کرنے والوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ خوش قسمت ہوں جو تاریخ میں پہلی مرتبہ کوئٹہ سے براہ راست جدہ بغیر کسی تکلیف اور پریشانی کے پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان جنہیں پچھلے ادوار میں لاوارث اور محروم رکھا گیا ان کے ازالے کے لئے ہم قائد انقلاب عمران خان کی قیادت میں ہر فورم پر اس کے سفیر بن کر اس کا مقدمہ لڑیںگے اور آج کی اس کامیابی کی طرح ہر میدان میں سرخرو ہوں گے۔

    قاسم خان سوری نے پی آئی اے کے مینجنگ ڈائریکٹر بلوچستان خلیل احمد کھوسہ ، کوئٹہ ائرپورٹ کے مینیجر قاسم خلجی ، چیف سیکورٹی آفیسر اے ایس ایف مقبول احمدو دیگر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم امید رکھتے ہیں یہ انتظامی بنیادوں پر بلوچستان کے عوام کے لئے ہر طرح کے وسائل بروئے کا ر لا کر آسانیاں پیدا کریں گے جو ان کا دیرینہ اور بنیادی حق ہے۔ اس موقع پر موجود پاکستان تحریک انصاف کے سینئر قائدین نے قاسم خان سوری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بلوچستان کے عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا کردیا جو بلوچستان سے عمرہ کی ادائیگی کے لئے جانے والوں کے لئے آسانی کا سبب ہوگا جو نہ صرف بلوچستان کے باشندوں کے لئے باعث خوشی ہے بلکہ اس سے پاکستان تحریک انصاف کا عوامی خدمت کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے،

  • کوئٹہ واسا حکام کی نااہلی۔

    کوئٹہ کے بیشتر علاقے پانی کی بوند بوند کو ترس گئے اور اوپر سے واپڈا والوں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی
    تفصیلات کے مطابق پچھلے چند ماہ سے مختلف علاقوں کا آبنوشی کے ٹیوب ویل خراب ہے جس کی وجہ سے لوگ پینے کے پانی کے لئے خوار ہوگئے ہیں. کوئٹہ کے بیشتر علاقوں کے ٹیوب ویلوں کی بجلی واپڈا والوں نے منقطع کردی ہے اور لوگ ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے. واپڈا والوں نے کوئٹہ کے تقریبا چالیس سے زائد ٹیوب ویلوں کی بجلی منقطہ کر دی. اب گھریلو صارفین تو تکلیف میں تھے اب ہسپتالوں, بچوں اور بچیوں کے اسکول بھی بری طرح سے متاثر ہو رہے ہے کیونکہ اسکولوں میں پانی نہ ہونے کی وجہ بچوں کو بہت مشکلات کا سامنا ہے.
    اوپر سے واسا اور ٹینکر مافیا کا گٹھ جوڑ سے عوام مزید رل گئی ہے. واسا عوام کو پانی فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہو چکا ہے. اوپر سے واپڈا والوں نے لوڈ شیڈنگ کے ساتھ ساتھ اب عوام کو پانی سے بھی محروم کر دیا ہے. نچاری روڈ, غلزئئ روڈ, کاسی روڈ, میکانگی روڈ, علمدار روڈ, طوغی روڈ, سمندر خان روڈ, پیر محمد خان روڈ ،بلوچ اسٹریٹ ، سریاب روڈ ۔اسپنی روڈ ، منوجان روڈ ،بروری روڈ ، اور کوئٹہ کے دیگر علاقوں میں پانی گزشتہ تین دنوں سے نہیں آرہا ہے اور اس وقت ٹینکر مافیا کی موجیں ہوگئی ہے. اہلیاں کوئٹہ واسا کے منسٹر حاجی نور محمد دومڑ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس مسلہ پر خصوصی توجہ دیں اور عوام کو اس عذاب اور ٹینکر مافیا کے عتاب سے بچا کر عوام دوستی کا ثبوت دیں اگر وہ کچھ نہیں کرسکتے تو پھر بلند بانگ دعوے کرنے سے گریز کریں. اہلیاں کوئٹہ اس اہم مسلہ پر وزیراعلی کی بھی خصوصی توجہ چاہتے ہے کہ وہ اس مسلہ پر بھی کابینہ اور محکموں کو خصوصی ہدایات جاری کریں تاکہ عوام کا یہ اہم مسلہ جلد از جلد ہو سکیں.
    *اہلیان کوئٹہ*

  • مسز جام کمال کے زیرِ اہتمام بریسٹ کینسر سے متعلق عوام کی آگہی کے لئے سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی میں ایک روزہ سیمنار کا انعقاد

    وبائی مشیر و چیئرپرسن کیو ڈی اے محترمہ بشری’ رند رکن صوبائی اسمبلی ماجبین بلوچ رکن صوبائی اسمبلی محترمہ شاہینہ رکن صوبائی اسمبلی زینت شاہوانی مسز گورنر بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ وسیم اشرف کی صاحبزادی اور بڑی تعداد میں استازہ اور طالب علموں نے شرکت کی۔

    اس موقع پر صوبائی مشیر و چیئرپرسن کیو ڈی اے محترمہ بشری’ نے کہا کہ بریسٹ کینسر سے متعلق آگہی کی کمی پاکستانی خواتین کی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بریسٹ کینسر سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس بیماری کے بارے میں کھل کر بات کی جائے اور ان کے تدارک کے لیے جامع اقدامات کئے جائیں۔ اس بیماری کے حوالے سے میڈیا کے اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بریسٹ کینسر کے بارے میں مفاد عامہ کے پیغامات کے ذریعے بنیادی معلومات خواتین تک پہنچانے کے لیے ٹیلی وژن،ریڈیو اور سوشل میڈیا ایک بھر پور کر دار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف میڈیا کے مؤثر استعمال سے ہی اس قابل علاج بیماری کے بارے میں آگہی دی جا سکتی ہے اور اس بیماری کے بارے میں عوام میں پائے جانے والے خدشات کو دور کیاجا سکتا ہے۔ انہوں نے مسز جام کمال کو اس کامیاب سیمنار کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس بیماری کے تدارک اور آگہی کے لئے کئے جانے والے اقدامات کو سراہا۔۔۔