Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • استعفیٰ لیکر احتجاج ختم کریں گے – جمعیت علماء اسلام بلوچستان.

    جمعیت علمائے اسلام ف کا بلوچستان سے آزادی مارچ کا مرکزی قافلہ کل صبح روانہ ہوگا، جے یو آئی ف کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع کا کہنا ہے کہ رکاوٹیں کھڑی نہ کی گئیں تو پُرامن طریقے سے وزیراعظم کا استعفیٰ لیکر واپس آجائیں گے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام ف کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کے آزادی مارچ کا مرکزی قافلہ کل کوئٹہ سے روانہ ہوگا، انتظامیہ کی جانب سے گوادر، تربت، چاغی، نوشکی سمیت مختلف علاقوں میں کارکنوں کو مرکزی قافلے میں شامل ہونے سے روکا جارہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو خبردار کررہے کہ وہ اپنے نمبرز بنانے کیلئے اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال نہ کرے، رکاوٹوں سے رکنے والے نہیں، گاڑی نہ ہوئی تو پیدل جائیں گے، مگر ہر صورت اپنی منزل پر پہنچیں گے جے یو آئی ف کے رہنماء کا کہنا تھا کہ گرفتاریوں کی دھمکیاں مل رہی ہیں، مگر عہد کر رکھا ہے کہ کٹھ پتلی حکومت کے خاتمے کیلئے ہر حد تک جائیں گے مولانا عبدالواسع نے واضح کیا کہ کارکنوں سے کہہ دیا کہ رہنماؤں کی گرفتاریوں کی پرواہ نہ کریں، جہاں بھی روکا جائے وہیں دھرنا دے دیا جائے، ہماری جماعت شخصیات کی نہیں نظریہ کی جماعت ہے، وزیراعظم سے استعفیٰ لیکر احتجاج پُرامن طور پر ختم کردیں گے۔

  • غیرملکی قرار دینے کے بعد حافظ حمد اللہ کا بیان سامنے آگیا.

    جمعیت علماءاسلام کے مرکزی رہنماءوسابق سینیٹر حافظ حمداللہ نے کہاہے کہ نادرا کی جانب سے مجھے غیر ملکی قراردینا آئین کی خلاف ورزی ہے ملک میں اعلیٰ عہدوں پر فائزرہا بلاک شناخت کارڈ کابہانہ بنا کر شناختی کارڈ کو ضبط کر کے مجھے غیر ملکی قرار دیا گیا تمام تر دستاویزات کے باوجود میرے ساتھ اس طرح رویہ رکھنا انتہائی غیر انسانی عمل ہے حالات کا مقابلہ کرینگے ان خیالات کااظہار انہوں نے بات چیت کرتے ہوئے کیا حافظ حمد اللہ نے کہا کہ 2018میں میرا شناختی کارڈ بلاک ہواتھا اور اس حوالے سے مجھے کوئی نوٹس نہیں دیاگیا تھا فروری 2019میں مجھے بلاک شناختی کارڈ کی اطلاع ملی تھی تو قانون کے مطابق نادرا سے رجوع کیا تو نادرا کے حکام نے ہمیں بتا یا کہ شناختی کارڈ بلاک ہونا کوئی مسئلہ نہیں ہے اس کو جلد بحال کر دیا جائے اور نادرا حکام نے بتا یا کہ آپ پروسس کے ذریعے دستاویزات فراہم کرے تو یہ مسئلہ حل ہوجائے گا بلاک شناختی کارڈ فارم لیااوراس کوپر کر کے 1960-1965اور 1973کے دستاویزات لگا کر نادرا میں جمع کرادیئے جس کے بعد 24اپریل کو کمیٹی کے سپرد کر دیا جس کے بعد رمضان المبارک اور عید کے بعدجب دوبارہ معلومات حاصل کی تو نادرا حکام نے بتا یا کہ جلدان پر عملدرآمد ہوجائے گا اور کوئٹہ سے دستاویزات کلیئر ہونے کے بعداسلام آباد بھیجے گئے وہاں پر شناختی کارڈ کے معاملے پر کمیٹی کااجلاس منعقد کیا جب ہم وہاں پہنچیں تو متعلقہ سیکرٹری کراچی چلے گئے تھے اور نادرا حکام نے ہم سے معذرت کرلی 10دن کے بعد وزارت داخلہ کو ہمارے شناختی کارڈسے متعلق دستاویزات بھیجے گئے تھے اور نادرا نے جلد بازی کامظاہرہ کرتے ہوئے ہمیں غیر ملکی قرار دیاانہوں نے کہا کہ ہم کسی کے دباﺅ میں نہیں آئیں گے اور ہمارے ساتھ جو کچھ کیا اس کا حساب ضرور لیناہوگا انہوں نے کہا کہ ہمارے والد نے اس ملک کیلئے بہت قربانیاں دی اگر ہمیں اس لئے سزاءدی جارہی ہے کہ ہم سچ بولناچھوڑ دینگے تو یہ ان لوگوں کی غلط فہمی ہے ہر قربانی دینے کیلئے تیار ہوں.

  • بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر ناشناس لہڑی نی کہا کیا؟۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر ناشناس لہڑی نے کہا ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی کا معاملہ معاشرے کے چہرے پر نما داغ ہے بلوچستان میں رہنے والے تمام اقوام اپنے ننگ و ناموس پر مر مٹتے ہیں بی این پی (عوامی) ہر اس عمل کی مذمت کرے گی جس سے بلوچستان کی ننگ و ناموس پر آنچ آتی ہو یکم نومبر کو اس شرمناک واقعہ کیخلاف بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) ضلع کا احتجاجی جلسہ اس کے ذمہ داروں کے منہ پر طمانچہ ہوگا ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع کوئٹہ کے سینئر باڈی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کوئٹہ شہر کے غیور عوام اور سیاسی کارکنوں سے پر زور اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس احتجاجی جلسہ میں شریک ہوکر یہ ثابت کریں کہ ہم کسی کو اپنے ننگ و نا موس سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے انہوں نے کہا کہ بی این پی (عوامی) حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود کسی کو یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ بلوچستان کے عوام کی تقدیر اور ان کے عزت نفس سے کھیلے یکم نومبر کو تاریخی جلسہ یونیورسٹی واقعہ کے ذمہ داروں کے منہ پر طمانچہ ہوگا قبل ازیں بی این پی (عوامی) ضلع کوئٹہ کی سینئر باڈی کا اجلاس زیر صدارت ضلعی آرگنائزر عبدالوکیل مینگل منعقد ہوا مہمان خصوصی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر ناشناس لہڑی تھے اجلاس سے اراکین مرکزی کمیٹی ڈاکٹر یاسر نصیر شاہوانی،سنگ الہیٰ بخش بلوچ سینئر کارکنان قیوم بلوچ،بہادر ناشناس لہڑی،سعید لہڑی،افتخار بلوچ،حاجی علی نواز لہڑی،ٹکری غلام محمد سمالانی،میر ستار شاہوانی،لالا حسن بلوچ،بلوچ خان لہڑی،خدائیداد لہڑی،فتح لہڑی،شوکت لہڑی،امجد محمد شہی،کاکا رئیسانی،ذوالفقار سمالانی،حمید اللہ مینگل،شبیر احمد لہڑی،میر حاتم لہڑی و دیگر نے خطاب کیا اجلاس میں 28اکتوبر بروز پیر سہ پہر 3بجے پریس کلب کوئٹہ کے سامنے یونیورسٹی واقعہ کیخلاف احتجاجی مظاہرہ منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیااور یکم نومبر بروز جمعہ ڈاکٹر ناشناس کالونی میں سہ پہر 3بجے منعقد ہونے والے جلسہ عام کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا اور اس حوالے سے مختلف کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی۔

  • بلوچستان اسمبلی کیا کچھ خرچ کیا۔

    بلوچستان اسمبلی نے گذشتہ چار ماہ کے دوران عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے 21 کروڑ 7 لاکھ 67 ہزار 971 روپے خرچ کیے ہیں جس میں جولائی کے ماہ میں 12 لاکھ 38 ہزار پانچ سو آٹھ روپے، جبکہ اگست میں 86352 ہزار روپے، ستمبر میں 34 لاکھ 48 ہزار 476 روپےجبکہ اکتوبر میں 20 کروڑ کروڑ 59 لاکھ 94ہزار ہزار چھ سو چالیس روپے خرچ کئے گئے ہیں،
    ریکارڈ کے مطابق یہ رقم جن جن مدوں میں خرچ کی گئی ہے ان میں قانون سازی الاونس کی مد میں ایک کروڑ 61 ہزار روپے، سیشن الاوئنس کی مد میں ایک کروڑ 98 لاکھ 76 ہزار 748 روپے ، اور خوراک کی مد میں 92 لاکھ 24 سو روپے، میڈیکل کی مد میں چوبیس لاکھ 55 ہزار 442 روپے، کنوینس الاونس کی مد میں 44 لاکھ 23 ہزار 671 روپے،
    ٹیلی فون کی مد میں آٹھ لاکھ 85 ہزار 948 روپے، جبکہ بجلی کی قیمت میں 30 لاکھ 63 ہزار 650 روپے خرچ کئے گئے ہیں لیکن اب یہ نہیں معلوم کہ کونس قانون سازی کی گئی، اور کتنے نئے ایکٹ متعارف کرائے گئے.

  • تیل بردار گاڑیاں کو راستہ نہیں دیا تو کیا ہوجائیگا۔

    پنجگور میں روکے گئے تیل بردار چھوٹی گاڑیوں کو راستہ نہیں دیا گیا تو سی پیک پر دھرنا ہوگا صوبائی وزیر میراسداللہ بلوچ چیف سکریٹری بلوچستان مسلے کا کوئی حل نکالیں ہمارا روزگار ایرانی تیل سے وابستہ ہے لاکھوں گھروں کے چولہے ایرانی بارڈر اور تیل پر چلتے ہیں دس دنوں سے سیکنڑوں ڈرائیور پنجگور میں محصور ہیں بھوک اور پیاس کی شدت سے اب وہ نڈھال ہوچکے ہیں اگر کسی کو کچھ ہوگیا تو ذمہ دار کوں ہوگا انجمن تاجران کمیٹی کے صدر حاجی خلیل دہانی چیرمین سمیع اللہ جنرل سکریٹری حاجی عمر کشانی محمد اشرف ریکی فیاض احمد نے قلات حادثے کے بعد پنجگور میں روکے گئے چھوٹی گاڑی مالکان اور دیگر سینکڑوں گاڑی ڈرائیوروں کے ہمراہ سی پیک روڑ دارو ہوٹل میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تیل بردارچھوٹی گاڑیوں سے ہزاروں غریبوں کا روزگار وابستہ ہے قلات حادثے کے بعد سے لیکر آج تک تیل بردار چھوٹی گاڑیوں پر پابندی عائد کرنے وجہ سے ہزاروں ڈرائیورز جو بلوچستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں پنجگور میں پھنس کر رہ گئے ہیں اور دس دنوں سے وہ بھوک اور پیاس کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں اب نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ ان پھنسے ہوئے لوگوں کے پاس پیسے بھی موجود نہیں کہ وہ اپنے لیے کھانے پینے کی اشیاء کا بندوبست کرسکیں انہوں نے کہا کہ حادثات قدرت کی طرف سےآتے ہیں اگر ان حادثات کو بنیاد بناکر لوگوں کے روزگار پر قدغن لگایا جائے تو اس کے منفی اثرات مرتب ہونگے اور اس بات کا کوئی منطق بھی نہیں ہوگا کہ کسی حادثے پر گاڑیوں کو جبرا روک کر لوگوں کو اذیت میں مبتلا کیا جائے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں روزگار کے دوسرے ذرائع موجود نہیں روزگار کا واحد ذریعہ بارڈر اور ایرانی تیل ہےپھنسے ہوئے ڈرائیور مشکلات کا شکار ہیں اگر گاڑیوں کو اجازت نہیں دی گئی تو سی پیک پر دھرنا دے کر روڑ بلاک کردیں گے انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر میراسداللہ اور چیف سکریٹری مسلے کو حل کرائیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں حادثات کی بڑی وجہ سڑکوں کی تنگی ہے اگر سڑکیں ڈبل اور کشادہ ہوتیں توحادثات میں کمی آتی انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی معیشت کا درمدار ایران بارڈر سے وابستہ ہے بلوچستان کے نوجوان متبادل ذرائع موجود نہ ہونے کی وجہ سے ایران بارڈر پر زلیل و خوار ہورہے ہیں کسی کو شوق نہیں ہے کہ وہ مصیبتیں جھیل کر خود کو منہ کے منہ میں دھکیل دیں بارڈر کی بندش اور چھوٹی گاڑیوں کو راستہ نہ دینے پر بلوچستان کے لوگ معاشی بدحالی سے دوچار ہونگے انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ بڑی گاڑیوں اور آئل ٹینکر کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ تیل لے جائیں وہ بھی یہاں کے لوگ ہیں ہمیں بھی زندہ رہنے کا حق دیا جائے ہمارے بھی چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جب کام نہیں کریں گے تو کھائیں گے کہاں سے روزی کا واحد ذریعہ بارڈر اور ایرانی تیل ہے اس پر پابندی اور گاڑیوں کو روکنا ظلم ہے.

  • غیرمعیاری اشیاءکی فروخت پر کینٹینزکو وارننگ نوٹس.

    کوئٹہ میں بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے مضر صحت و غیر معیاری اشیاء کی فروخت پر بولان میڈیکل کالج کی کینٹینز وارننگ نوٹس جاری کر دیا۔
    ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مطابق فوڈ سیفٹی ٹیم نے بولان میڈیکل کالج کی کینٹینز و جنرل اسٹور، فیصل ٹاؤن میں قائم مختلف ڈیپارٹمنٹل اسٹورز اور کھانے پینے کے مراکز کا معائنہ کیا ڈائریکٹر آپریشنز غلام مرتضیٰ کی سربراہی میں بی ایف اے کی ٹیم نے معائنے کے دوران مذکورہ کھانے پینے کے مراکز میں فروخت ہونے والی مختلف اشیاء خورونوش کے معیار کا جائزہ لیا صفائی کے ناقص انتظامات اور عوام کو مضر صحت و غیر معیاری اشیاء کی فروخت پر بی ایم سی کالج کی کینٹین و جنرل اسٹور سمیت مختلف ڈیپارٹمینٹل و سپر اسٹورز کو وارننگ نوٹسز جاری کیے گئے علاوہ ازیں کارروائی کے دوران برآمد ہونے والی زائد المعیاد و غیر معیاری غذائی اشیاء، چائنیز نمک اور گٹکا پان پراگ وغیرہ کو موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔
    معائنہ ٹیم کی جانب سے ان مراکز کے مالکان و اسٹاف کو صفائی کی صورتحال بہتر بنانے اور محفوظ و حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق اشیاء خور و نوش کی فروخت یقینی بنانے کیلئے خصوصی ہدایات دی گئیں۔

  • عوام سے لاکھوں لوٹنے والے کی پلی بارگین منظور.

    احتساب عدالت نے جعلی ہاﺅسنگ سوسائٹی کے نام پر لوگوں کو لوٹنے والے ملزم کی پلی بارگین کی درخواست منظور کر لی۔ پلی بارگین کے تحت ملنے والی رقم متاثرین میں تقسیم کی جائے گی۔
    قومی احتساب بیورو (نیب) کے ترجمان کے مطابق احتساب عدالت کوئٹہ کے جج منور شاہوانی نے جعلی ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر لوگوں کو لوٹنے والے ملزم سجاد علی شاہ کی پلی بارگین کی درخواست منظور کرلی ہے۔ پلی بارگین کے تحت ملزم 52 لاکھ 52 ہزار 600 روپے واپس کرے گا۔ نیب ترجمان نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ ملزم نے عوام سے کتنی رقم بٹوری ہے اور یہ رقم اس کے برابر ہے یا اس سے کم ہے۔
    احتساب عدالت نے نیب کے قانون کے مطابق ملزم سجاد علی شاہ کو سزا بھی سنا دی ہے جس کے تحت ملزم 10 سال کے لئے کوئی بھی سرکاری عہدہ، الیکشن لڑنے کے ساتھ ساتھ بینک سے قرض بھی حاصل نہیں کر سکتا ترجمان کے مطابق ملزم سجاد علی شاہ نے لوگوں سے جعلی ہاؤسنگ اسکیم کے نام پر لاکھوں روپے ہڑپ کر لئے جس پر متاثرین نے نیب بلوچستان سے رجوع کیا۔ نیب نے تحقیقات مکمل کر کے احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا۔
    کافی ثبوتوں کی روشنی میں ملزم نے تمام لوٹی گئی رقم کی واپسی کے لئے پلی بارگین کی درخواست دی جسے عدالت نے منظور کر لیا ہے۔ قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد تمام رقم متاثرین کے حوالے کر دی جائے گی۔

  • آزادی مارچ، مولانا کے لئے بلوچستان میں بھی بڑی مشکل

    آزادی مارچ، مولانا کے لئے بلوچستان میں بھی بڑی مشکل

    مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے لئے ایک اور مشکل ، بلوچستان حکومت نے ایسا فیصلہ کیا کہ اپوزیش جماعتوں نے سر پکڑ لیے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ بلوچستان نے آزادی مارچ کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ،بلوچستان کے صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو کا کہنا ہے کہ ملکی حالات کے پیش نظر آزادی مارچ کی اجازت نہیں دی جاسکتی ،ہمسایہ ملک کی جانب سے دہشت گردی کی دھمکیاں موجود ہیں،

    آزادی مارچ کا قصہ ہوا تمام، مولانا فضل الرحمان 27 اکتوبرکو ہوں گے پاکستان سے فرار

    مولانا وزیراعظم کی خواہش پر اسلام آباد آ رہے ہیں، خبر نے کھلبلی مچا دی

    صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو نے مزید کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر عوام کو اکٹھا ہونے نہیں دیا جاسکتا،جمعرات کواجلاس میں باقاعدہ طور پر آزادی مارچ روکنے کا فیصلہ کیا جائےگا،صوبائی حکومت اپنےعوام کوخطرے میں نہیں ڈال سکتی ہے،

    آزادی مارچ مولانا کا پلان بی تو حکومت کا پلان سی سامنے آ گیا

    نواز اور شہباز میں ختم نہ ہونے والی جنگ چھڑ گئی

    آزادی مارچ کی ابھی تیاریاں جاری اور حکومت کےاستعفے آنا شروع ہو گئے، کس نے استعفیٰ دیا؟ اہم خبر

    واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان حکومت کے خلاف 27 اکتوبر کو اسلام آباد میں آزادی مارچ لے کر آ رہے ہیں جو 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہو گا، مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے مولانا کے آزادی مارچ کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اسلام آباد میں جلسہ کریں گے

    بلاول حمایت کا اعلان تو کرتے ہیں لیکن مارچ میں شامل نہیں ہوتے مسلم لیگ ن بھی شدید اختلافات کا شکار ہے، نوا زشریف مولانا کو آزادی مارچ میں شرکت کے لئے خط لکھ دیتے ہیں تو شہباز شریف قمر درد کا بہانہ بنا کر نواز شریف سے ملنے جیل نہیں جاتے.

    اسلام آباد میں اب یہ کام نہیں ہو سکتا…آزادی مارچ سے قبل حکومت نے لگائی بڑی پابندی

  • وزیراعلیٰ بلوچستان تقریب سے خطاب۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ بلوچستان متبادل ذرائع سے توانائی کی پیداوار کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، گڈانی میں 1320میگاواٹ بجلی کا پیداواری منصوبہ اہم پیشرفت ہے، چینی سرمایہ کار ماہی گیری، زراعت، معدنیات اور بلوچستان کے دیگر شعبوں میں بھی منافع بخش سرمایہ کاری کریں، سرمایہ کاروں کی سہولت کے لئے لسبیلہ میں اکنامک زون کا قیام عمل میں لایا جائے گا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گڈانی میں 1320میگاواٹ پاور پلانٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعظم عمران خان تھے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ چائنا پاور حب جنریشن کمپنی لمیٹڈ کا یہ منصوبہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ترجیحی منصوبوں میں شامل ہے اور سی پیک میں فلیگ شپ منصوبے کی حیثیت رکھتا ہے جو پاکستان کی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پورا کرنے میں موثر کردار ادا کرے گا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ سی پیک کے ترجیحی منصوبوں میں بلوچستان کے صرف دو منصوبے شامل تھے جن میں سے ایک کا افتتاح ہورہا ہے، بدقسمتی سے سی پیک کے آغاز میں بلوچستان کو وہ اہمیت نہ مل سکی جس کا وہ مستحق تھا تاہم ہمیں یہ یقین ہے کہ وزیراعظم اس کمی کو پورا کرنے کے لئے اپنا بھرپور کردار اداکریں گے کیونکہ بلوچستان کی ترقی وزیراعظم کی ترجیحات میں شامل ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی اور اقتصادی استحکام کے لئے وزیراعظم کا وژن، پالیسیاں اور اقدامات کسی سے ڈھکے چھے نہیں، وزیراعظم نے ملک کو ورثہ میں ملنے والے معاشی اور اقتصادی چیلنجز کا جرا¿ت اور کامیابی سے مقابلہ کرتے ہوئے پاکستان کو معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کردیا ہے، غربت کے خاتمے، ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے، ماحولیاتی مسائل کے حل، بدعنوانی کے تدارک، مسئلہ کشمیر پر دوٹوک موقف، کامیاب خارجہ اور معاشی پالیسی اور درست فیصلوں سے آئندہ چند برسوں میں پاکستان بحرانوں سے نکل آئے گا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان ملک کے معاشی اور اقتصادی استحکام کے لئے بھرپور کردار کا حامل صوبہ ہے اور ہم بلوچستان کے وسائل کو صوبے اور ملک کی ترقی کے لئے بروئے کار لانے کے لئے پرعزم ہیں، خاص طور سے شمسی اور دیگر متبادل ذرائع کوبروئے کارلاکر ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کیا جاسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان آئندہ چند برسوں میں سرمایہ کاری کا مرکز بننے جارہا ہے، جہاں اربوں روپے کی سرمایہ کاری ہوگی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت بلوچستان بھی توانائی کے شعبے کی ترقی کی جانب خصوصی توجہ دے رہی ہے، رواں مالی سال کے بجٹ میں متبادل ذرائع سے بجلی کی پیداوار کے منصوبوں کے لئے 1220ملین روپے جبکہ دیہاتوں کو بجلی کی فراہمی کے منصوبوں کے لئے 4226ملین روپے مختص کئے گئے ہیں، صوبائی حکومت نے اسکولوں، زرعی اور آبپاشی کے ٹیوب ویلوں اور اسٹریٹ لائٹس کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے منصوبوں کا آغاز کیا ہے جن کی تکمیل سے ہماری توانائی کی ضروریات پوری ہوں گی اور صوبہ سماجی اور معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے گا۔ تقریب میں وفاقی اور صوبائی وزرائ، چینی سفیر اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔

  • بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی دوبارہ کاروائیوں کا آغاز۔

    بلوچستان فوڈ اتھارٹی کا ناقص ،غیر معیاری ومضر صحت اشیاء خوردونوش کی تیاری و فروخت کے خلاف دوبارہ کاروائیوں کا آغاز۔

    بلوچستان یونیورسٹی میں قائم مختلف کینٹینز فوڈ پوائنٹس کی چیکنگ غیر معیاری اور مضر صحت اشیاء کی فروخت پر تین کینٹینز و فوڈ پوائنٹس سیل ،دیگرکو وارننگ نوٹسزجاری بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے ناقص و غیر معیاری اشیاء خوردنوش کی تیاری و فروخت کے خلاف دوبارہ کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے۔ ڈائریکٹر آپریشنز بی ایف اے غلام مرتضٰی کی سربراہی میں پیر کے روز کی جانے والی کارروائی کے دوران معائنہ ٹیم نے بلوچستان یونیورسٹی میں قائم مختلف فوڈ پوائنٹس، کینٹینزاورجنرل ا سٹورز میں کھانے پینے کی اشیاء کے معیار اور صفائی کے انتظامات کا جائزہ لیا۔کارروائی کے دوران ایک کینٹین اور ایک فوڈ پوائنٹ کو صفائی کی ناقص صورتحال، کھانے پینے کی اشیاء ڈھکی ہوئی و ان پر لیبلنگ نہ ہونے اور زائدالمیعاد اشیاء کی موجودگی، ایک اور کینٹین و جنرل ا سٹور کو گندگی،مضر صحت اشیاء اور گٹکا پان پراگ کی موجودگی وفروخت پر سیل کر دیا گیا جبکہ ان کھانے پینے کے مراکز سے برآمد ہونے والی مضر صحت اور غیر معیاری اشیاء کو موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔۔علاوہ ازیں فوڈ اتھارٹی حکام کی جانب سے یونیورسٹی میں قائم دیگرکینٹینز و فوڈ پوائنٹس کو وارننگ نوٹسز جاری کیے گئے جبکہ ان مراکز کے مالکان اور عملے کو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق اشیاء خوردونوش کی تیاری و فروخت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی جبکہ انہیں بی ایف اے کے وضع کردہ اسٹینڈرڈز سے متعلق خصوصی ہدایات نامے بھی دیے گئے.