Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • مزید چار اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف۔

    سول سنڈیمن اسپتال سے ایڈمن و ٹیکنیکل اسٹاف سمیت مزید چار اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا نوٹیفکیشن جاری برطرف ملازمین عادی غیر حاضر تھے جو اسلام آباد، لاہور اور دیگر شہروں میں گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرتے رہے برطرفی سے قبل بارہا مرتبہ تحریری و زبانی تنبیہ اور نوٹس اظہار وجوہ کے باوجود غیر حاضری سے باز نہیں آئے برطرف ملازمین میں پیسنگ لیب ٹیکنیشن شہریار ،الیکٹریشن محمد قاسم، الیکٹرو میڈیکل ٹیکنیشن مشتاق، اور جونئیر کلرک عمران خان شامل ہیں ایمرجنسی سروسز میں غیر حاضری اور فرائض میں غفلت قابل برداشت نہیں بلا امتیاز کارروائی جاری رکھیں گے اہلکار گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرتے رہیں جبکہ مریض دھکے کھاتے پھریں ایسا عمل قطعی برداشت نہیں کرسکتے تنخواہیں لینی ہیں تو ڈیوٹی بھی کرنی ہوگی جو اہلکار ڈیوٹی نہیں کرسکتے ریٹائرمنٹ لے لیں غریب مریضوں کی بددعائیں نہ لیں ایم ایس سول سنڈیمن اسپتال ڈاکٹر محمد سلیم ابڑو ۔

  • بلوچستان یونیورسٹی پر "اخلاقی خودکش” حملہ.

    تحریر
    پروفیسر نیلم مومل
    مرکزی جوائٹ سیکرٹری براہوئی اکیڈمی۔

    کچھ دنوں سے بلوچستان یونیورسٹی میں ادارے کی تاریخ کا بدترین اسکینڈل میڈیا اور عوام الناس میں زیر بحث ہے۔ یہ اخلاقی پستی کی اعلی’ مثال قائم کرتا ہوا اسکینڈل شاید اپنی سنگینی میں اُس معاشی بحران سے بھی سنگین ہے، جس سے مادر علمی آج کل دوچار ہے۔ معاشی بحران کی تو شاید دیر بدیر کہیں سے بھر پائی ھو جائے، لیکن طلباء و طالبات کو غیر اخلاقی اور نازیبا ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کرنے پر مبنی یہ اسکینڈل یونیورسٹی کو ایک ایسا زخم ھے
    جس سے برسون خون رستے رہنے کا امکان ہے۔ جس کے آثار ابھی سے بلوچستان کے تمام طبقات کی طرف سے شدید مذمت اور والدین میں پائی جانے والی تشویش کی صورت میں ابھی سے نظر آرہی ہے *بلوچستان، جہاں مجموعی طور پر تعلیمی اعداد و شمار پہلے ہی کچھ اچھی نہیں وہاں لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم تو ایک ایسا راستہ ہے جو کہ کئی طوفانوں سے ھو کر گذرتا ہے ۔بلوچستان جس کی مجموعی معاشی اور تعلیمی ترقی کے اینڈیکیٹر پہلے ہی کمزور ہیں۔ ایک طرف یہاں وسائل کی کمی ہے تو دوسری طرف یہاں تعلیم کی صورتحال pathetic ہے. یہاں عمومن” 5 ویں تک لڑکی کو تعلیم دے کر کہا جاتا ہے کے بہت ہو گئی یہ تعلیم ، اب اسے کسی کے پلو باندھ کر رخصت کر دیا جانا چاہئے ۔بہت کم لڑکیاں fA/BAتک تعلیم حاصل کر پاتی ہیں۔کچھ پڑھے لکھے باشعور گھرانے اور افراد اپنی بچیوں کو آگے پڑھنے کے لیے یونیورسٹی کی اجازت دیتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں اگر یونیورسٹی پر اخلاقی "خود کش” حملہ کیا جائے تو اُس کی لہریں بڑی دور تک جانے کا امکان لاحق ھو جاتا ہے۔ انتہائی دکھ اور قرب سے کہنا پڑتا ہے کہ مادر علمی پر وہ افتاد آن پڑی ہے، یا پھر اسے جان بوجھ کر اس بدناموسی سے دوچار کیا گیا ہے۔ یہ حملہ نہ فقط ایک ایسے عظیم ادارے پر کیا گیا کہ جس نے اپنی کوکھ سے بلوچستان کے متعدد تعلیمی اداروں کو جنم دیا ہے، بلکہ یہ حملہ صوبے کہ دوردراز علاقوں میں بسنے والے باہمت والدین اور طلبہ و طالبات پر کیا گیا ہے جنہوں نے تمام تر روایتوں کی قیود اور رکاوٹوں کو پار کرتے ھوئے، اس درسگاہ کو تعلیم اور آگاہی کا ابھرتا مرکز بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ گذشتہ برسوں میں بلوچستان یونیورسٹی میں طالبات کی تعداد بڑھ کر کل تعداد کا چالیس فی صد ہونا، اس بات کا واضع ثبوت ہے کہ کس طرح ہماری بچیوں اور بہنوں نے آگے بڑھ کر اپنے گھرانوں اور اقوام کی شان کو اونچا کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔
    گو کہ مجموعی طور پر ہمارے لئے یہ بڑی شرمندگی اور درد کا مقام ہے، لیکن باشعور اقوام ہر قسم کے بحرانوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے حقوق کے حاصلات اور ترقی کی راہیں دوبارہ سے متعین کرتے ہیں۔
    یہ وقت مایوس ھونے اور منہ چھپانے کا نہیں بلکہ مقابلہ کرنے اور یونیورسٹی کے چہرے کو داغدار کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا ہے۔ حکومت وقت، تمام سیاستی و سماجی تنظیموں ، اُدبا، دانشوروں اور والدین کو سامنے آکر اپنے بچوں خاص طور پر بہنوں اور بیٹیوں کے مستقبل کا دفاع کرنا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کے چند افراد اس اِشو کو سیڑھی بنا کر بچیوں کی حوصلہ افزائی کرنے اور ان کے قدم مضبوط کرنے کے برعکس، ان پر تعلیم کے دروازے بند کرنے کے درپے ہیں جو کے اس یونیورسٹی کے واقعے سے زیادہ افسوسناک ہے۔ کسی انسانی آبادی میں اگر کچھ "بیھڑئیے” گھس آئیں اور انسانوں کو اپنی بھوک کا شکار بنائیں تو ان سے خوفزدہ ھو کر آبادیاں خالی نہیں کی جاتیں*
    *بلکہ ان بھیڑیوں کا موئثر تدارک کیا جاتا ھے۔پوری دنیا میں اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں مگر معاشرے ایک نئے اور جوش ولولے کے ساتھ اس کا مقابلہ کر کے یہ ثابت کرتے ہیں کے ایسے عناصر ہمارہ راستہ نہیں روک سکتی ۔میں اپنی بہنوں اور بچیوں کی ہر ممکنہ مدد کا یقین دلاتے ہوئے کہنا چاہتی ہوں کے وہ اپنے حوصلے بلند رکھیں اور اپنی تعلیم کی راہ میں آنے والی ہر روکاوٹ کو عبور کرتے ہوئے اپنے منزل مقصود تک پھنچیں کیونکہ ایک عورت ہی آنے والی نسل کی سوچ تبدیل کرسکتی ہے۔ جس طرح سردار بھادر خان یونیورسٹی پر خونی خودکش حملے سے ھمارے بچیوں کے حوصلے پست ھونے کہ بجائے اور بلند ھوئے تھے، میں امید کرتی ھوں کہ ھماری مادر علمی بلوچستان یونیورسٹی بھی اس "اخلاقی خود کش” حملے سے نبردآزما ھوکر تعلیم، ترقی اور آگاھی کی نئی راہیں متعین کرے گی۔

  • چہلم امام حسینؓ کا جلوس صبح برآمد ہوگا

    چہلم امام حسینؓ کا جلوس کل صبح 8 بجے علمدار روڈ سے برآمد ہوگا, جلوس مختلف راستوں سے گزرتا ہوا بہشت زینب قبرستان پر اختام پزیز ہوگا, جلوس کے روٹ اور اطراف کی تمام دکانیں سیل کر دی گئی، شہر میں صبح 7 بجے سے رات 9 بجے تک سروس بھی معطل رہے گی چہلم امام حسین کے سلسلے میں مرکزی جلوس کل صبح 8 بجے عملدار روڈ سے برآمد ہوگا، جلوس کی سربراہی بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر داود آغا کریں گے جلوس مختلف راستوں سے ہوتا ہوا شام کو بحشت زینب قبرستان پہنچے گا جہاں مختلف علماء کرام خطاب کریں گے اور نواسہ رسولؐ حضرت امام حسین اور انکے اصحاب کی قربانیوں پر روشنی ڈالیں گے جس کے بعد جلوس اختتام پزیز ہوجائے گا، ضلعی انتظامیہ کے مطابق جلوس کے روٹ اور اطراف کے تمام روڈ اور دُکانیں سیل ہونگی جبکہ ایف سی، بلوچستان پولیس، RRG, بی سی، اسپیشل برانچ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان جلوس کی سیکورٹی کے انتظامات سنبھالیں گے، جلوس کے فضائی نگرانی بھی کی جائے گی جبکہ کسی بھی ناخوشگوار واقع سے بچنے کے لیے موبائل سروس صبح 7بجے سے رات 9 بجے تک بند رہے گی۔

  • بلوچستان میں کتوں کے کتنے کے واقعات بڑھ گئے

    بلوچستان میں کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے اور ایک سال کے دوران 19 ہزار سے زائد مریضوں کو سول ہسپتال لایا گیا بیشتر مریضوں کا تعلق کوئٹہ جبکہ باقی صوبے کے مختلف علاقوں سے ہیں جس پر محکمہ بلدیات حکام نے فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے کتا مار مہم نہیں چلائی جاسکی لیکن واقعات کی روک تھام کیلئے کتا مار مہم ضروری ہے جب کے انتظامیہ کی طرف سے انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

  • کوئٹہ ڈیزل پیٹرول پر لگی پابندی

    کوئٹہ چیف سیکرٹری بلوچستان نے ایرانی ڈیزل پیٹرول کی اوپن اسمگلنک پر پابندی لگادی جس پر
    بلوچستان کے غریب عوام نے ایرانی پیٹرولیم کی سمگلنگ پر پابندی کی مزمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پابندی کے بجائے سنگل روڈوں کودوریہ کیا جائے ایکسیڈنٹ کی آڑ میں بلوچستان کی پسماندہ صوبے کی غریب عوام پر روزگار کی دروازے بند کرنا زندہ لوگوں کا معاشی قتل ہے روز روز کی ایکسڈنٹ سے بچنے کیلیے حکومت کویٹہ کراچی شہراہ کو دوریہ کرنے پر توجہ دی جائے ،،،،
    اور چیف سیکرٹری بلوچستان ڈیزل پر پابندی پر نظر ثانی کی جائے ،،،

  • ہسپتال میں ڈاکٹر نہیں،کچرے کے ڈھیر پر بچے کی پیدائش

    ہسپتال میں ڈاکٹر نہیں،کچرے کے ڈھیر پر بچے کی پیدائش

    ہسپتال کے گیٹ کے بعد اب کچرے کے ڈھیر پر بچے کی پیدائش

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تنگوانی میں خاتون نے کچرے کے ڈھیر پر بچے کو جنم دے دیا ۔ نومولود بچے کی حالت نازک ہے ۔خاتون کے ورثہ نے بتایا کہ ڈیلیوری کے لیے سرکاری ہسپتال گئے تھے مگر ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کے باعث نجی اسپتال جا رہے تھے کہ بچے کا جنم ہوا ۔

    خاتون کے ہاں بیک وقت چار بچوں کی پیدائش پر والد نے کیا اپیل کر دی؟ جانیے تفصیل میں

    بگٹی قبیلے سے تعلق رکھنے والے خاتون نے تنگوانی میں کچرے کے ڈھیر پر نومولود بچے کو جنم دے دیا بچے کی حالت نازک ہونے پر پہلے انہیں نجی اسپتال داخل کرا لیا گیا جہاں انہیں گیس کی سہولت دینے کے بعد بچے کو ورثہ اپنے ساتھ آبائی گاؤں بھٹائی کالونی لے گئے ۔ خاتون کی ڈلیوری کے وقت پر لوگ آتے اور جاتے رہے مگر کسی کو خاتون پر رحم نہیں آیا ۔

    خاتون کے ورثہ نے آن کیمیرا موقف اور میڈیا کوریج کرنے سے انکار کردیا ۔ جبکہ اس سلسلے میں تنگوانی رولر ہیلتھ سینٹر کے ایم ایس ڈاکٹر شاہنواز ڈاہانی سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ہسپتال میں ڈلیوری کے لیے کوئی خاتون نہیں پہنچی ۔ ایم ایس نے بتایا کہ اسپتال میں لیڈی ڈاکٹر اور ڈاکٹرز موجود ہیں مگر ڈلیوری کے لیے یہاں کوئی بھی خاتون نہیں آئی۔

    تنگوانی رولر ہیلتھ سینٹر کے ایم ایس ڈاکٹر شاہنواز ڈاہانی نے بھی اپنا موقف آن کیمرا دینے سے صاف صاف انکار کردیا ۔ بکہ ڈی ایچ او کندھکوٹ نذیر احمد عوان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے اس بارے میں کچھ بھی علم نہیں ہے ۔

  • کشمیریوں سے اظہار یکجہتی، بھارتی جارحیت کے خلاف بلوچستان میں ریلی کا انعقاد

    کشمیریوں سے اظہار یکجہتی، بھارتی جارحیت کے خلاف بلوچستان میں ریلی کا انعقاد

    ہرنائی۔ (اے پی پی)ڈپٹی کمشنر ہرنائی عظیم جان دمڑ کی قیادت میں ضلعی کمپلیکس سے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی اور بھارت جارحیت کے خلاف ایک بہت بڑا احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں محکمہ تعلیم سمیت ضلعی محکموں کے آفیسران، طلباء، اور بلوچستان عوامی پارٹی کے عہدیداروں اور کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ریلی کی شرکانے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیر یوں سے اظہار یکجہتی اور کشمیر بن کے رہے گا پاکستان کے نعرے درج تھے۔ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عظیم جان دمڑ نے کہا ہے کہ آج کے ریلی کامقصد کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرنا ہے بھارت نے کشمیریوں پر ظلم و بربریت کی انتہا کر دی ہے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظمیں خاموش ہیں کشمیریوں کے حقوق کی آواز ہر فورم پر بلند کرتے رئیں گے مودی سرکار نے انسانی حقوق کی تمام حد پار کی ہے پاکستان سے جنگ کی صورت میں منہ توڑ جواب دیں گے۔ انہوں کہاکہ کشمیرپاکستان کاحصہ ہے اور رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستانی عوام پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہوکر بھارتی مظالم کے خلاف ملکر کشمیریوں کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیریوں پر ظلم کرنے سے پہلے تاریخ سے سبق سیکھے کیونکہ ظلم کا انجام ہمیشہ برا ہو تا ہے مقررین نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طورپر کشمیریوں پر بھارتی مظالم، مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیوں کا نوٹس لے اور بھارت کو ایسا کرنے سے روکے بصورت دیگر پاکستان کا بچہ بچہ کشمیر کے دفاع کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا۔

  • المناک حادثے میں کمشنر مکران ڈویژن کی وفات پر اظہار افسوس

    المناک حادثے میں کمشنر مکران ڈویژن کی وفات پر اظہار افسوس

    کوئٹہ۔ (اے پی پی)صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو،پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنماء اور صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ میر محمد عمر خان جمالی اور سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے قلات میں المناک حادثے میں کمشنر مکران ڈویژن کیپٹن ریٹائرڈ طارق زہری کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کمشنر مکران ڈویژن کی خدمات کو زبر دست خراج عقیدت پیش کیا ہے، انھوں نے کہا کہ طارق زہری صوبے کے لیے کسی سرمائے سے کم نہیں تھا۔طارق زہری کی شہادت پر پوراصوبہ غم زدہ ہے،کیپٹن طارق زہری قابل محنتی اور ایماندار افسر تھے۔انھوں نے مرحوم کے لواحقین سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ تعالی ان کے درجات بلند اور انھیں جنت الفردوس میں مقام عطا فرمائے۔

  • بلوچستان یونیورسٹی میں پیش ہونے والے افسوسناک واقعہ کی مکمل تحقیقات کی جائے، محمد اکرم رئیسانی

    بلوچستان یونیورسٹی میں پیش ہونے والے افسوسناک واقعہ کی مکمل تحقیقات کی جائے، محمد اکرم رئیسانی

    کوئٹہ۔(اے پی پی) جامعہ بلوچستان ایڈمنسٹریٹو آفیسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد اکرم رئیسانی نے کہا ہے کہ جامعہ بلوچستان ہماری مادر علمی ہے جس کی تقدس کو کسی صورت میں پامال نہیں ہونے دیا جائے گا،بلوچستان یونیورسٹی میں پیش ہونے والے افسوسناک واقعہ کی آڑ میں سوشل میڈیا پر معزز آفیسران،اساتذہ کرام اور دیگر ملازمین کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کی جارہا ہے،ان خیالا ت کااظہار انہوں نے جمعرات کو بلوچستان یونیورسٹی ایڈمنسٹریٹو آفیسرز ایسوسی ایشن کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوتے ہوئے کیا، اجلاس میں وائس چیئرمین نذیر لہڑی،جوائنٹ سیکرٹری عزیز لانگو،پریس سیکرٹری محمد اسماعیل پرکانی،فنانس سیکرٹری چاند حسین،مجلس عملہ کے ممبران عبداللہ مینگل سید احمد کاسی،قیصر محمود،لیاقت شاہ اور دیگر نے شرکت کی،اجلاس میں بلوچستان یونیورسٹی میں پیش ہونے والے واقعہ جس میں طلباء وطالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی سیکنڈل منظرعام آنے پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی،اجلاس کے شرکاء نے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی میں طلباء وطالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا سیکنڈل شرم ناک عمل ہے جس کی مکمل تحقیقات کی جائے جس میں ایسوسی ایشن بھر پور تعاون کریگی مگر بدقسمتی سے کچھ عناصر اس واقعہ کی آڑ میں سوشل میڈیا کے ذریعے جامعہ بلوچستان کے بعض آفیسران،اساتذہ کرام اور دیگر ملازمین کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کررہے ہیں اس لیے اس طرح کے عمل سے گریز کیا جائے اور جو لوگ بھی واقعہ میں ملوث ہے ان کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔

  • آزادی مارچ، کتنے لوگ گرفتار کئے جائیں گے؟ خبر سن کر مولانا پریشان

    آزادی مارچ، کتنے لوگ گرفتار کئے جائیں گے؟ خبر سن کر مولانا پریشان

    نیشنل پارٹی کے سربراہ حاصل بزنجو نے ایسی پیشنگوئی کی مولانا فضل الرحمان پریشان ہو گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیشنل پارٹی کے سربراہ حاصل بزنجو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مکران ڈویژن میں جیسی دھاندلی ہوئی ، ملک میں کہیں نہیں ہوئی،مولانا فضل الرحمان کو جلسہ کرکے واپس نہیں جانا چاہیے ، حکومت  کی اہم وزارتوں میں کوئی بھی منتخب شخصیت نہیں ہے ،جلسہ کر کے گھر جانے سے حکومتیں نہیں جاتیں

    آزادی مارچ، جے یو آئی نے بھی بڑا یوٹرن لے لیا، شیخ رشید بھی مسکرائے بغیر نہ رہ سکے

    حاصل بزنجو نے مزید کہا کہ حکومت کو گرانے کےلیے سڑکوں پر آنا ہوگا م13ماہ میں معیشت کا دیوالیہ نکل گیا ہے، حکومت  کے خلاف ہم سب متحد ہیں،ہمارامطالبہ ہےملک میں دوبارہ الیکشن کرائے جائیں،

    شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کی پیشکش……..ملکی سیاست میں کھلبلی مچ گئی

    جیل جا کر بڑے بڑے سیدھے ہو جاتے ہیں، مریم نواز بھی جیل جا کر”شریف” بن گئیں

    حاصل بزنجو کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا دھرنا فرمائشی اور طے شدہ تھا ،موجودہ حکومت کے خاتمے کیلیے ایجی ٹیشن کی ضرورت ہے،اسلام آباد پہنچتے پہنچے لوگ گرفتارکرلیے جائیں گے ,آپ کو کوئی اسلام آباد نہیں آنے دے گا،

    آزادی مارچ، سراج الحق نے بھی حکومت سے بڑا مطالبہ کر دیا

    حاصل بزنجو نے مزید کہا کہ اتفاق رائے سے فیصلہ کیا اپوزیشن کے ساتھ  ملکرآزادی مارچ کاحصہ بنیں گے ,بلوچستان میں جس قسم کی دھاندلی ہوئی اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، سات ہزارووٹ کو 37ہزار ووٹ بنایا گیا،