Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • پھل فروش کے ہاں بیک وقت 4 بچوں کی پیدائش

    پھل فروش کے ہاں بیک وقت 4 بچوں کی پیدائش

    کوئٹہ:سیٹلائٹ ٹاوٴن کے علاقے میں مقیم محنت کش شہری راز محمد کے گھر خوشیوں نے دستک دے دی۔

    تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن میں ایک نجی اسپتال میں چار بچوں (تین بیٹے اور ایک بیٹی) کی پیدائش ہوئی ہے۔خاندان اور اہلِ محلہ نے اس خیر و برکت پر خوشی کا اظہار کیا ہےراز محمد پیشے کے اعتبار سے فروٹ کی ریڑھی لگاتے ہیں اور محنت مزدوری کے ذریعے اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ پالتے ہیں، ان کے پہلے سے دو بچے تھے جس کے بعد اب بچوں کی مجموعی تعداد 6 ہو گئی ہے،خوشیوں کے ساتھ والدین پر ذمہ داریوں کا بوجھ بھی بڑھ گیا ہے۔ محدود آمدنی کے باعث بچوں کی پرورش ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

    قبل ازیں صوابی کے باچا خان میڈیکل کمپلیکس میں ایک خاتون کے ہاں بیک وقت چار بچوں کی پیدائش ہوئی تھی، 4 بچوں میں 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں شامل تھیں،ماں اور بچے دونوں صحت مند ہیں جبکہ بچوں کے والدین کا تعلق گاؤں سلیم خان سے تھا،بچوں کی پیدائش بغیر آپریشن (نارمل ڈیلیوری) کے ہوئی
    بچوں کے والد مقصودعلی کا کہنا تھا کہ ایک ساتھ چار بچوں کی پیدائش پر بےحد خوش ہوں،اسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹرز کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

  • سوئی،علیحدگی پسند رہنما نور علی چاکرانی نے ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال دیئے

    سوئی،علیحدگی پسند رہنما نور علی چاکرانی نے ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال دیئے

    ڈیرہ بگٹی ۔ پاکستان ہاؤس سوئی میں بی آر اے(براہمداغ بگٹی) کے سب سے بڑے کمانڈر وڈیرہ نور علی چاکرانی نے اپنے 100 سے زائد فراریوں کے ہمراہ سرنڈر ہوکر ہتھیار ڈال دئیے

    سوئی میں ایک اہم اور تاریخی لمحہ اس وقت رقم ہوا جب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی امن دوست اور دوراندیش قیادت کے زیرِ اثر وڈیرا نور علی چاکرانی اپنے 100 سے زائد ساتھیوں سمیت قومی دھارے میں شامل ہو گئے، ہتھیار رکھے اور پاکستان کا پرچم اٹھا کر اس کے ساتھ وفاداری نبھانے کا عہد کیا۔ اس شاندار اور پروقار تقریب کی صدارت وزیراعلیٰ کے بھائی میر آفتاب احمد بگٹی نے کی، جبکہ بگٹی قوم کے چیف صاحبان، معزز وڈیرگان، نوٹیبلز اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے اس دن کو واقعی ایک تاریخی موقع بنا دیا۔

    ٹاؤن چیئرمین سوئی عزت اللہ امان بگٹی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم اپنے ان بھائیوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خیرمقدم کرتے ہیں اور یہ تقریب اس بات کی واضح گواہی ہے کہ وزیراعلیٰ میر سرفراز احمد بگٹی اور ان کا خاندان ہمیشہ امن، استحکام اور بلوچستان کی اجتماعی ترقی کے علمبردار رہے ہیں۔

    آخر میں میر آفتاب احمد بگٹی نے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اب بھی پہاڑوں میں بھٹکے ہوئے ہیں اور بیرونی عناصر کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں، وہ واپس آ کر قومی دھارے میں شامل ہوں اور ڈیرہ بگٹی و بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور ایک پرامن مستقبل کی جدوجہد میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔

    یہ اقدام دہشتگرد تنظیم BRA کے ایک کلیدی کمانڈر سمیت دیگر افراد کی واپسی کی علامت ہے اور بلوچستان میں امن کی جانب ایک مضبوط قدم ہے۔وزیراعلیٰ میر سرفراز احمد بگٹی اور سیکیورٹی فورسز کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں یہ ممکن ہوا، اور نوجوانوں، وڈیروں اور معززین کی شرکت نے اس دن کو واقعی تاریخی بنا دیا۔

  • جنرل عاصم منیر کی تقرری ملکی سلامتی کے تقاضوں کے عین مطابق ہے،وزیراعلیٰ بلوچستان

    جنرل عاصم منیر کی تقرری ملکی سلامتی کے تقاضوں کے عین مطابق ہے،وزیراعلیٰ بلوچستان

    ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نےمبارکباد دی ہے

    وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں ایک مضبوط اسلامی فلاحی ریاست کے طور پر اُبھرا،پاک افواج نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی سربراہی میں دشمن کی ہر جارحیت کو ناکام بنا کر قوم کا سر فخر سے بلند کیا، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی تقرری قوم کی اُمنگوں اور ملکی سلامتی کے تقاضوں کے عین مطابق ہے، پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والا ہر جوان فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت پر بھرپور اعتماد رکھتا ہے، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا وژن ملکی دفاع، قومی سلامتی اور امن کے قیام کے لیے تاریخی سنگِ میل ثابت ہوگا، بلوچستان کی عوام فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی پیشہ ورانہ قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے، ملکی وحدت، یکجہتی اور دفاع کے سفر میں بلوچستان ہمیشہ پاک افواج کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کا مستقبل زیادہ محفوظ، مستحکم اور روشن دکھائی دیتا ہے،

  • بلوچستان حکومت کا بیرون ملک کالعدم تنظیموں کیخلاف گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ

    بلوچستان حکومت کا بیرون ملک کالعدم تنظیموں کیخلاف گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ

    حکومت بلوچستان نے بیرون ملک موجود کالعدم تنظیموں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس دوران دہشتگرد نیٹ ورک کے خاتمے کیلئے سخت اور غیرمعمولی اقدامات کی منظوری دی گئی، اجلاس میں بیرون ملک دہشتگرد قیادت کے مقامی سہولت کاروں سے رابطوں،کال ریکارڈنگز اور دیگر شواہد پیش کیے گئے جب کہ ساتھ ہی کالعدم تنظیموں کے سربراہان،کمانڈرز اور دہشتگردوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا،اجلاس میں کالعدم بی ایل اے، بی ایل ایف، یو بی اے، بی آر جی اور لشکربلوچستان کی قیادت کے خلاف درج مقدمات کی پراسیکیوشن تیز کرنے کی ہدایت کی گئی،وفاقی وزارت داخلہ اور خارجہ کی مدد سے انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹسز کی کارروائی تیزکرنےکی بھی ہدایت جاری کردی گئی ہے، دہشتگردی میں ملوث مقامی سہولت کاروں،کالعدم تنظیموں کی قیادت تک کے خلاف کارروائی ہوگی ، یہ کارروائی دہشتگردوں کیخلاف پروونشل ایکشن پلان کی گائیڈ لائن کے تحت کی جائے گی.

  • نبیل احمد کی گمشدگی، بی وائی سی اور بی ایل ایف کے بیانات میں تضاد

    نبیل احمد کی گمشدگی، بی وائی سی اور بی ایل ایف کے بیانات میں تضاد

    بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف سرگرم تنظیم "بلوچ یکجہتی کمیٹی نے حالیہ دنوں نبیل احمد کی مبینہ گمشدگی کی تفصیلات جاری کیں، جن کے مطابق نبیل احمد کو 23 مارچ 2025 کو صبح 5 بجے گوادر کے علاقے "دو بست و پنجہ” سے فوجی انٹیلیجنس (ایم آئی) نے اغوا کیا۔

    بی وائی سی نے نبیل کو ایک طالبعلم اور شاعر قرار دیا، اور اس واقعے کو "بلوچ نسل کشی” کی ایک کڑی کہا۔تاہم، سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک متنازعہ پوسٹ نے اس دعوے کو چیلنج کیا ہے۔ معروف صارف بہرام خان (@behram_91khan) نے ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ نبیل احمد دراصل بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF) کا سرگرم رکن تھا، جسے تنظیمی اصطلاح میں "سرمچار” کہا جاتا ہے۔ بہرام خان نے بی ایل ایف کی ایک پریس ریلیز کا حوالہ دیا، جس میں نبیل احمد کی عسکری وردی میں تصویر بھی شامل ہے۔

    اس تضاد نے بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی جدوجہد اور عسکریت پسندی کے بیانیوں کے درمیان موجود پیچیدگیوں کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔ ایک طرف بی وائی سی جیسے گروہ جبری گمشدگیوں کو ریاستی جبر قرار دیتے ہیں، تو دوسری طرف بعض افراد ان دعوؤں کو عسکری وابستگیوں سے جوڑ کر متنازعہ بناتے ہیں.

    ایرانی سرحد پر فائرنگ، روزگار کی تلاش میں گئے 10 افغان نوجوان جاں بحق

    شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، سات دہشت گرد ہلاک

    افغانستان میں طالبان دھڑوں کی خانہ جنگی،خطے میں نیا بحران

  • بلوچستان میں تعلیمی نصاب میں تبدیلیوں کا فیصلہ

    بلوچستان میں تعلیمی نصاب میں تبدیلیوں کا فیصلہ

    کوئٹہ: بلوچستان کے محکمہ تعلیم نے نئے تعلیمی سال کے لیے نصاب میں اہم اور وسیع تبدیلیاں متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

    سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ تبدیلیاں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے، جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور مذہبی و سماجی تربیت کو مضبوط بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔محکمہ تعلیم کے مطابق سالِ نو کے نصاب میں جماعت اول سے بارہویں جماعت تک ناظرہ قرآنِ مجید اور ترجمہ قرآنِ مجید کو باقاعدہ طور پر نصاب کا لازمی حصہ بنایا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد بچوں میں ابتدا ہی سے قرآن فہمی، دینی شعور اور اخلاقی تعلیمات کے فروغ کو یقینی بنانا ہے،اسی طرح چھٹی سے آٹھویں جماعت کے طلبہ کے لیے کمپیوٹر ایجوکیشن کی نئی کتابیں متعارف کرائی جائیں گی جن میں بنیادی آئی ٹی مہارتوں کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں آگاہی بھی شامل ہوگی۔ محکمہ تعلیم کے مطابق جدید دور میں ٹیکنالوجی کی سمجھ بوجھ ضروری ہے، لہٰذا طلبہ کو ابتدائی سطح پر ہی کمپیوٹر مہارتوں سے روشناس کرانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

    مزید برآں، سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے چھٹی سے بارہویں جماعت تک "سوشل میڈیا کے مثبت اور ذمہ دارانہ استعمال” کے عنوان سے علیحدہ نصابی کتب بھی تیار کی گئی ہیں۔ ان کتابوں میں طلبہ کو آن لائن خطرات، سائبر بُلیئنگ، ڈیجیٹل سکیورٹی، معلومات کی تصدیق، اور سوشل میڈیا کے اخلاقی استعمال کے بارے میں رہنمائی فراہم کی جائے گی،محکمہ تعلیم کے حکام کا کہنا ہے کہ نصاب میں یہ تبدیلیاں آئندہ تعلیمی سال کے آغاز سے نافذ العمل ہوں گی، جبکہ اساتذہ کے لیے تربیتی ورکشاپس بھی منعقد کی جائیں گی تاکہ وہ نئی کتب اور موضوعات کو مؤثر انداز میں پڑھا سکیں۔

    تعلیمی ماہرین نے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تبدیلیاں نہ صرف طلبہ کو مذہبی و سماجی طور پر مضبوط بنائیں گی بلکہ انہیں ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔

  • سبی ڈویژن رنگا رنگ اسپورٹس فیسٹیول  اختتام پذیر

    سبی ڈویژن رنگا رنگ اسپورٹس فیسٹیول اختتام پذیر

    سبی ڈویژن اسپورٹس فیسٹیول 27 تا 30 نومبر شاندار انداز میں منعقد ہوا، جس میں سبی، کوہلو، زیارت، ہرنائی اور ڈیرہ بگٹی کی ٹیموں نے شرکت کی۔ فیسٹیول میں کرکٹ، کبڈی، رسی کشی، بیڈمنٹن، ٹینس، فٹبال، فائر شوٹنگ، میوزیکل نائٹ اور آتش بازی سمیت مختلف مقابلوں نے عوام کی توجہ حاصل کی۔

    ایف سی بلوچستان نارتھ اور سول انتظامیہ کے اشتراک سے منعقدہ فیسٹیول کا افتتاح ڈپٹی کمشنر سبی اور مقامی کمانڈر نے کیا۔ اختتامی تقریب میں کمانڈنٹ سبی اسکاؤٹس نے نمایاں کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے اور کہا کہ ایسی سرگرمیاں نوجوانوں کو مثبت مواقع فراہم کرتی ہیں اور امن و بھائی چارے کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔تقریب کے آخر میں آئندہ بھی اس طرح کے پروگرام جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

  • آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) کا ضلع کوہلو میں ای کامرس کلاس اور گرلز ڈگری کالج کا دورہ

    آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) کا ضلع کوہلو میں ای کامرس کلاس اور گرلز ڈگری کالج کا دورہ

    ایف سی بلوچستان (نارتھ) کی جانب سے ایف سی پبلک اسکول کوہلو اور بارکھان میں ای کامرس تربیتی کلاسز 4 نومبر 2025سے جاری ہیں، جس میں 100 سے زائد طلباء و طالبات شرکت کر رہے ہیں،

    طلباء و طالبات کو ای کامرس، فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ویب ڈیزائننگ اور بزنس مینجمنٹ کی تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔ خواتین کی خود انحصاری پر خصوصی توجہ دی گئی تاکہ وہ گھروں میں رہ کر باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔

    آئی جی ایف سی بلوچستان نارتھ میجر جنرل عاطف مجتبٰی نے طلباء و طالبات سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا،”طلباء و طالبات کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہیں اور قیمتی سرمایہ ہیں ، نوجوان طلباء و طالبات کو تعلیم کے ساتھ ساتھ بہترین روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں گے ،ایف سی بلوچستان (نارتھ) جدید تعلیم و مہارتوں کے ذریعے ایک پرامن اور خوشحال بلوچستان کی بنیاد رکھ رہی ہے۔”

    ای کامرس کلاسز کے بعد آئی جی ایف سی بلوچستان نارتھ نے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کوہلو کا بھی دورہ کیا، جہاں پر کالج فیکلٹی اور طالبات کے ساتھ بھی معیاری تعلیم کے حصول کے بارے میں بات چیت کی۔آخر میں والدین،اساتذہ اور طلباء و طالبات نے ایف سی بلوچستان (نارتھ) کے اس اقدام کو نوجوانوں کی ترقی اور خودکفالت کی جانب مثبت قدم قرار دیا۔

  • چاغی میں  افغان مہاجرین کا کیمپ خالی، تمام افراد افغانستان منتقل

    چاغی میں افغان مہاجرین کا کیمپ خالی، تمام افراد افغانستان منتقل

    بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع سب سے بڑے افغان مہاجر کیمپ گردی جنگل کو ضلعی انتظامیہ اور دالبندین رائفل کی مشترکہ کارروائیوں کے بعد مکمل طور پر خالی کرا لیا گیا ہے، جس کے بعد تمام 70 ہزار افغان مہاجرین کو رجسٹریشن کے بعد افغانستان روانہ کر دیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ چاغی اور دالبندین رائفل نے کیمپ میں رہائش پذیر تمام افغان مہاجرین کی باقاعدہ دستاویزی کارروائی مکمل کرنے کے بعد انہیں سرحد پار منتقل کیا۔ کیمپ کے خالی ہونے کے بعد انتظامیہ نے یہاں موجود خالی گھروں، دکانوں اور دیگر غیر قانونی ڈھانچوں کو مسمار کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔موصولہ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیمپ کے اندر خالی عمارتوں کی توڑ پھوڑ جاری ہے۔ حکام کے مطابق تمام مہاجرین کو مکمل ریکارڈنگ اور تصدیق کے بعد ہی روانہ کیا گیا۔

    گردی جنگل کیمپ علاقائی سطح پر سب سے بڑا افغان مہاجر کیمپ تھا، جہاں تقریباً 70 ہزار افراد برسوں سے رہائش پذیر تھے۔ تمام مہاجرین کی واپسی کے بعد کیمپ اب مکمل طور پر خالی ہو چکا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ 26 نومبر 2025 سے لجّے افغان مہاجر کیمپ میں بھی کارروائیاں شروع ہو چکی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ اقدامات ریاستی پالیسی کے مطابق کیے جا رہے ہیں، اور جیسے ہی لجّے کیمپ خالی ہوگا، وہاں موجود تمام غیر قانونی تعمیرات بھی ہٹا دی جائیں گی

    بنگلادیش، خالدہ ضیاء کی حالت نازک، آئی سی یو میں زیر علاج

    چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن پرعمل شروع کر دیا گیا

  • پاک فوج کے زیر اہتمام کوئٹہ میں خواتین کی سائیکل ریس کا انعقاد

    پاک فوج کے زیر اہتمام کوئٹہ میں خواتین کی سائیکل ریس کا انعقاد

    پاک فوج اور کوئٹہ ڈسٹرکٹ سائیکلنگ ایسوسی ایشن کے اشتراک سے شولا اسپورٹس کمپلیکس کوئٹہ میں سائیکل ریس کا انعقاد کیا گیا

    کوئٹہ میں 5.9 کلومیٹر کی سائیکل ریس میں خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی ،سائیکل ریس میں خواتین شرکاء نے پُرکشش اور چیلنجنگ راستے پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا،تقریب کے اختتام پر پوزیشن ہولڈرز کو نقد انعامات، تمغے اور سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے،سائیکل ریس میں سب سے کم عمر اور معمر شرکاء کو بھی حوصلہ افزائی کیلئے انعامات دیے گئے،شرکاء نے بلوچستان میں صحت مند اور تعمیری سرگرمیوں کے انعقاد پر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا

    سائیکل ریس میں شرکاء کا کہنا تھا کہ سائیکل ریس میں خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی ہے جو کہ خوش آئند ہے،اس طرح کے ایونٹس خواتین کیلئے بہت ضروری ہیں، بلوچستان میں مزید ایونٹس کرائے جائیں،بلوچستان میں خواتین کی صلاحیتوں کے اظہار کیلئے اس طرح کے مزید ایونٹس بہت ضروری ہیں،

    پاک فوج قومی ترقی میں بلوچ خواتین کی شمولیت اور ان کو بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہے