Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • کوئٹہ روڈ مارکنگ کا آغاز کر دیا گیا ہے

    صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں مختلف شاہراہوں پر زیبرا کراسنگ اور روڈ مارکنگ کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔گزشتہ روز ایڈمنسٹریٹر کوئٹہ طارق جاوید مینگل ،ایس ایس پی ٹریفک پولیس نزید احمد کرد، ایس پی ٹریفک پولیس محمد جاوید ملک نے منان چوک سے زیبرا کراسنگ اور روڈ مارکنگ کا آغاز کیا، انھوں نے جاری کام کا معائنہ بھی کیا اور متعلقہ انجینئر کو ہدایات جاری کی۔ اس کے علاوہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے مختلف شاہراہوں جن میں لیاقت بازار ،یٹ روڈ ،جناح روڈ ،فاطمہ جناح روڈ ،انسکمب روڈ ،قندھاری بازار سمیت دیگر سڑکوں پر ٹریفک پولیس کے ڈیمانڈ کے مطابق روڈ مارکنگ کی جائیںگی ،اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ زیبرا کراسنگ اور روڈ مارکنگ کے علاوہ ٹریفک قوانین کی پاسداری سے ہی ٹریفک کی روانی بحال ہو گی اور لوگوں کو درپیش مشکلات کے حل میں مدد ملے گی ۔دریںاثناء گزشتہ روز ایڈمنسٹریٹر کوئٹہ طارق جاوید مینگل ، ایس ایس پی ٹریفک پولیس نزید احمد کرد، ڈی ایس پی ٹریفک پولیس محمد جاوید ملک نے بلوچستان ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ایس پی ایلیٹ فورس، ڈی ایس پی سٹی، میونسپل مجسٹریٹ، ضلعی پٹواری، اور میٹروپولیٹن متعلقہ افسران کی نگرانی میں ہونے والی کارروائی جو کہ جناح روڈ بلمقابل اسٹیورٹ روڈ پر قائم دیواروں کو مسمار کر کے ملبہ ہٹائے جانے کے کام کا بھی مشترکہ دورہ کیا، ایڈمنسٹریٹر کوئٹہ کا کہنا تھا کہ لنک روڈ کے کھلنے سے کواری روڈ، سائنس کالج چوک سے ہاکی چوک اور ریلوے اسٹیشن کی جانب جانے والا ٹریفک اکرام ہسپتال کے ساتھ یو ٹرن کی بجائے آسانی سے اس لنک روڈ کے ذریعے اپنے منزل مقصود کو پہنچینگے، انھوں نے کہا کہ یہاں ٹوٹل 2 سڑکوں کو بحال کیا جائے گا ان سڑکوں کی بحالی سے لوگوں کو درپیش ٹریفک کے مسائل میں کمی لائی جا سکے گی، انھوں نے کہا کہ اس وقت کوئٹہ کے شہری ٹریفک کے مسائل سے ذہنی دباو کا شکار ہیں اور عدالت عالیہ کے اس فیصلے سے کافی حد تک ٹریفک کی روانی بحال ہو گی، ایڈمنسٹریٹر کوئٹہ کا کہنا تھا کہ پٹواری کے رپورٹ کے مطابق یہ لنک روڈ 22 فٹ کشادہ ہیں، اس سڑک کو جلد ٹریفک کے آمد و رفت کے لئے بحال کر دیا جائے گا۔

  • سابق پولیس چیف کراچی اور ایڈیشنل آئی جی سندھ شاہد حیات کی وفات پر تعزیتی بیان

    سابق پولیس چیف کراچی اور ایڈیشنل آئی جی سندھ شاہد حیات کی وفات پر تعزیتی بیان

    کوئٹہ۔ (اے پی پی) سابق پولیس چیف کراچی اور ایڈیشنل آئی جی سندھ شاہد حیات کی وفات پرڈی آئی جی نصیرآباد رینج شہاب عظیم لہڑی، ایس ایس پی سبی محمد فاروق فیض لہڑی،ایس ایس پی تربت میرحسین احمد لہڑی، ایس ایس پی نصیرآباد عرفان بشیر اورایس ایس پی نیشنل ہائی وے پولیس عبدالعزیزسرپرہ نے اپنے مشترکہ تعزیتی بیان میں انتہائی دکھ اورافسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاہد حیات کی محکمہ پولیس کے لیے گراں قدر خدمات تھے وہ ایک سنیئراور تجربہ کار پولیس آفیسر تھے ان کے وفات سے محکمہ پولیس سندھ ایک اچھے سنیئر اور قابل،دلیر پولیس آفیسر سے محروم ہوگیاہے انہوں نے کہاکہ اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے اوراہل خانہ کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی صبرواستقامت عطاء فرمائے۔

  • علیم کے معیار پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جائے گا

    علیم کے معیار پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جائے گا

    کوئٹہ۔ (اے پی پی) ڈپٹی کمشنر نصیر آباد ظفر علی ایم شہی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت تعلیمی نظام کو مزید موثر بنانے کیلئے تمام اقدامات کو حتمی شکل دے رہی ہے۔ تعلیمی ڈھانچے میں تبدیلی نا گزیر ہے ضلع نصیر آباد میں تعلیم کے معیار پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جائے گا ہم ملک کے مستقبل کو سنوارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے تمام اساتذہ اپنی حاضریوں کو یقینی بنائیں غیر حاضر اساتذہ تعلیمی نظام کیلئے نقصان دہ ہیں جس کی غیر حاضری سے ہمارے مستقبل کے معماروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے ایسے افراد کو کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی ان کے خلاف فی الفورکاروائی عمل میں لائی جائے ہمیں تعلیم کے نظام کو ٹھیک کرنے میں حائل دشواری کا ڈٹ کا مقابلہ کرنا ہوگا تاکہ ملک کے مستقبل کو مزید بہتر انداز میں تر قی یافتہ بنایا جاسکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرحفیظ اللہ کھوسہ، ڈی ایچ اوڈاکٹرعبدالمنان لاکٹی، ڈی اوای بختیاراحمدی، خزانہ آفیسربشیراحمد شیرازی سمیت دیگر آفیسران نے بھی شرکت کی اجلاس میں تعلیمی سرگرمیوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی اور تعلیم مسائل کو زیر غور لایا گیا. ڈپٹی کمشنر نصیر آباد ظفر علی ایم شہی نے کہا کہ غیر حاضراساتذاہ کی تنخواہوں سے کٹوتی کی جائے تعلیمی نظام میں پائی جانے والی خامیوں پر گہری نظر رکھی جائے اوران کی نشاندہی کرکے حکام بالا تک پہنچایا جائے. سکولوں میں حاضری کے نظام کو موثر بنایا جائے مانیٹرنگ کے اصول کو بھی تیز کرکے تعلیمی اداروں کا بھی دورہ کریں درس اورتدریس کے عمل کی بھی خصوصی نگرانی کی جائے بچوں کو بزم ادب کے پروگراموں میں شرکت پر زور دیں اورانہیں ایسے پروگرام میں حصہ لینے پر قائل کریں کیونکہ ہمیں تعلیمی میدان میں نصیرآباد کو دیگر اضلاع کے مقابلے میں آگے لانا ہوگا۔

  • بلوچستان یونیورسٹی میں طالبات ہراسمنٹ کیس میں اب ہوا کیا

    بلوچستان یونیورسٹی میں طالبات کو ہراسمنٹ اور بلیک میلنگ پر
    ایف آئی اے کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ بلوچستان یونیورسٹی میں ایک منظم منصوبے کے تحت طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ”بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال مندوخیل نے بعض شکایات پر از خود نوٹیس لیا ہے۔ چیف جسٹس نے ایف آئی اے کو اس حوالے سے تحقیقات کی ہدایت کی تھی۔ ہماری سائبر ونگ نے اس حوالے سے کارروائی کی ہے۔ یہ یقینا ایک بہت بڑا اسکینڈل ہے۔ اس حوالے سے اب تک جو تحقیقات ہوئی ہیں ان سے معلوم ہوا ہے کہ یونیورسٹی میں بڑے پیمانے پر طلبا اور خاص کر طالبات کو سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کے ذریعے بلیک میل کیا جاتا رہا ہے۔‘‘

    ایف آئی اے اہلکار نے بتایا کہ یونیورسٹی کے مختلف شعبوں میں چھاپوں کے دوران مختلف موبائل فونز، لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیوائسز کو قبضے میں لیا گیا ہے، جن کا فرانزک ٹیسٹ کرایا جارہا ہے.

  • صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو ڈبل روڈ بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت

    کوئٹہ:- صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو ڈبل روڈ پولیس کی گاڑی پر بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ان کی تمام تر ہمدردیاں بم دھماکے میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد کے لواحقین کے ساتھ ہیں بم دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کے طبی امداد میں کوئی کمی نہیں آنی چاہیے صوبائی وزیر داخلہ کی جانب سے دھماکے کی رپورٹ فوری طور پر طلب صوبے میں بدامنی پھیلانے کی ہر سازش کو ناکام بنائیں گے سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کی سکیورٹی مزید سخت کریں نہتے اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت نہیں دہشتگردی کیخلاف جنگ فیصلہ کن ہے، پاک فوج، سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردوں کو شکست سے دوچار کر رکھا ہے ، صوبائی وزیر داخلہ

  • کوئٹہ میں زوردار دھماکہ، کتنے افراد شہید و زخمی ہوئے؟ اہم خبر

    کوئٹہ میں زوردار دھماکہ، کتنے افراد شہید و زخمی ہوئے؟ اہم خبر

    کوئٹہ میں پولیس وین کے قریب دھماکہ ہوا ہے،

    خورشید قصوری نے پاک فوج کے متعلق ایسی کی بات کہ قوم کا سر فخر سے بلند ہو گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ دھماکہ ڈبل روڈ پرپولیس کی گاڑی کے قریب ہوا ہے، دھماکےمیں ایک پولیس اہلکارشہید ، سات زخمی ہوئے ہیں، دھماکہ کی آواز دور دور تک سنی گئی، ریسکیو ٹیمیں‌ موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کاروائیوں‌ کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحقیقات شروع کر دی ہیں،

    مہاتیر محمد نے بھارت سے تجارت کے متعلق اہم اعلان کر دیا

    بھارتی وزیر دفاع کی ہرزہ سرائی پر دیا ترجمان وزارت خارجہ نے منہ توڑ جواب

    دھماکہ میں زخمی ہونے والے اہلکاروں‌ کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے،

  • آزادی مارچ کے اسلام آباد پہنچنے سے قبل وزیراعظم خودکشی کر لیں، مولانا عبدالغفور حیدری

    آزادی مارچ کے اسلام آباد پہنچنے سے قبل وزیراعظم خودکشی کر لیں، مولانا عبدالغفور حیدری

    وزیراعظم عزت سے استعفیٰ دے دیں ورنہ انہیں ذلت سے استعفیٰ دینا پڑے گا، مولانا عبدالغفور حیدری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جمعیت علماء اسلام کے رہنما سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم  آزادی مارچ کے اسلام آباد پہنچنے سے قبل خود کشی کر لیں وزیراعظم نے کہا تھا کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس گئے تو خود کشی کر لیں گے .

    مولانا عبدالغفور حیدری کا مزید کہنا تھا کہ قوم موجودہ حکومت پر مطمئن نہیں، وزیراعظم کو استعفیٰ دینا چاہئے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت عزت سے نہیں بلکہ ذلت سے استعفیٰ دے گی، آزادی مارچ مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا.

    مولانا دیکھتے رہ گئے. نواز شریف کے داماد نے آزادی مارچ کا افتتاح کر دیا

    شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کی پیشکش……..ملکی سیاست میں کھلبلی مچ گئی

    جیل جا کر بڑے بڑے سیدھے ہو جاتے ہیں، مریم نواز بھی جیل جا کر”شریف” بن گئیں

    مریم نواز کی تاریخ پیدائش کیا ہے؟ عدالت نے پوچھا تو مریم نے کیا جواب دیا؟

    مولانا عبدالغفور حیدری نے مزید کہا کہ صوبہ بلوچستان سے آزادی مارچ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہوں گے، بلوچستان سے قافلے جے یو آئی کے مقامی رہنماؤں کی سرپرستی میں چار دن قبل روانہ ہوں گے، قافلوں کی سیکورٹی ہمارے پر امن کارکنان کریں گے، ہم ریاستی اداروں کا احترام کرتے ہین لیکن اگر آزادی مارچ کو روکا گیا تو پھر تمام ذمہ داری حکومت پر ہو گی.امید ہے حکومت ایسی حماقت نہیں کرے گی.

    آزادی مارچ، جے یو آئی نے بھی بڑا یوٹرن لے لیا، شیخ رشید بھی مسکرائے بغیر نہ رہ سکے

  • بلوچستان یونیورسٹی کی تفصیلی خبر.

    بلوچستان یونیورسٹی میں طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی شکایات سامنے آنے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)نے تحقیقات شروع کر دی ہیں ایف آئی اے حکام کے مطابق یونیورسٹی آف بلوچستان، کوئٹہ کے سکیورٹی انچارج سمیت درجنوں اہلکاروں سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور تحقیقات میں ہراساں کرنے سے متعلق شواہد بھی ملے ہیں یونیورسٹی کے اساتذہ کی تنظیم کا کہنا ہے کہ صرف طلبہ و طالبات ہی نہیں خواتین و مرد اساتذہ کو بھی ہراساں اور بلیک میل کیا جا رہا ہے۔عرب ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے کے کوئٹہ میں ایک سینئر آفیسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ تحقیقات کا یہ عمل بلوچستان ہائی کورٹ کے احکامات اور طالبات کی ویڈیوز بنا کر انہیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کی شکایات ملنے کے بعد شروع کیا گیا ہے۔اس سلسلے میں ایف آئی اے کی سائبر کرائم ٹیم نے کوئٹہ کے سریاب روڈ پر واقع یونیورسٹی آف بلوچستان کے سکیورٹی برانچ اور ہاسٹل سمیت مختلف شعبوں پر چھاپے بھی مارے ہیں۔ایف آئی اے آفیسر کے مطابق چھاپے کے دوران ایسے شواہد ملے ہیں جن سے ثابت ہو رہا ہے کہ طالبات کو واقعی ہراساں کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کی ٹیم کو یونیورسٹی میں واش روم سمیت مختلف مقامات سے خفیہ کیمرے ملے ہیں جو بجلی کے سوئچ بورڈ یا اس جیسے دیگر خفیہ مقامات پر نصب کیے گئے تھے۔ایف آئی اے آفیسر کے بقول یونیورسٹی کے سکیورٹی اور سرویلنس برانچ کے انچارج، آفیسروں اور اہلکاروں سمیت درجنوں افراد کو شامل تفتیش کیا گیا ہے اور ان میں سے بعض اہلکاروں کے موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیوائسز قبضے میں لے کر ان کا فارنزک کرایا جا رہا ہے۔ تاہم اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔انہوں نے مزید بتایا کہ یونیورسٹی میں انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی انتظامات کے تحت نصب کیے گئے کلوز سرکٹ کیمروں کا ریکارڈ بھی حاصل کیا جا رہا ہے جن کا جائزہ لے کر تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جائیگا۔ایف آئی اے آفیسر کے مطابق تحقیقاتی ٹیم جلد تحقیقات مکمل کرنے کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ ہائیکورٹ نے اس مہینے کے آخری ہفتے تک اس معاملے کی رپورٹ مانگی ہے۔یونیورسٹی آف بلوچستان کے ترجمان امیر حمزہ نے عرب ویب سائٹ کو بتایا کہ ایف آئی اے کی ٹیم نے گذشتہ روز یونیورسٹی کا دورہ کیا اور جن اہلکاروں کے خلاف شکایات تھیں ان کے بیانات قلمبند کیے۔ان اہلکاروں نے اپنے موبائل فون اور دیگر ڈیوائسز بھی ایف آئی اے کے حوالے کر دی ہیں اور وہ تحقیقات میں تعاون کر رہے ہیں۔بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار)کے صوبائی صدر اور یونیورسٹی آف بلوچستان میں ایم فل کے طالب علم گورگین بلوچ نے الزام لگایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کے بعض اہم عہدیدار اور اساتذہ طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کر رہے ہیں۔ہم سے کئی متاثرہ طالبات نے رابطہ کیا اور بتایا کہ طالبات کو خفیہ کیمروں سے بنائی گئی ویڈیوز وٹس ایپ کرکے کہا جاتا ہے کہ ہمارے پاس آئیں ورنہ یہ ویڈیوز عام کر دی جائیں گی یا پھر آپ کے والدین کو بھیجی جائیں گی۔گورگین بلوچ نے الزام لگایا کہ تین دن قبل گریجویٹ سٹڈیز آفس (جی ایس او)کے ایک سینئر عہدیدار کو ایم فل کی طالبہ کو بلیک میل کرکے ٹیچر ہاسٹل لے جاتے ہوئے پکڑا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ طالبات کو امتحان میں ناکام کرنے کی بھی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ یونیورسٹی میں پڑھنے والی طالبات اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتی ہیں۔ متاثرہ طالبات ایسے معاملات کو سامنے لانے سے خوفزدہ ہیں کیونکہ انہیں ہراساں کرنے والے طاقتور لوگ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم مسلسل ایسے معاملات کو سامنے لا رہے ہیں مگر اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا جارہا ہے۔ 2017 میں بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن اور ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن سمیت دیگر طلبہ تنظیموں نے احتجاجی کیمپ لگایا اور مطالبہ کیا کہ خفیہ کیمروں کے ذریعے طلبہ و طالبات کو بلیک میل کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے مگر حکومت نے کوئی توجہ نہیں دی۔اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے نائب سربراہ فرید خان اچکزئی نے بات کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی میں یہ سلسلہ اب سے نہیں بلکہ دو تین سالوں سے چل رہا ہے۔ ہم کافی عرصے سے محسوس کر رہے تھے کہ یونیورسٹی میں آخری حد تک غیر اخلاقی سرگرمیاں پروان چڑھ رہی ہیں۔ان کے بقول ہمیں طلبہ و طالبات کے ساتھ ساتھ مرد و خواتین اساتذہ کی طرف سے شکایات مل رہی تھیں کہ انہیں بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ ہم نے اس سلسلے میں گورنر بلوچستان اور وائس چانسلر تک اپنے تحفظات پہنچائے مگر کسی نے اس کا نوٹس نہیں لیا۔فرید اچکزئی کے مطابق اب جب ایک وفاقی تفتیشی ادارے نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے ہم اسے خوش آئند کہتے ہیں۔ ہم ان کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس معاملے کی ساری تفتیش غیر جانبدارانہ اور بلا تفریق ہونی چاہیے چاہے اس میں کوئی استاد ملوث ہو، آفیسر یا کوئی ملازم۔ جو بھی مجرم ثابت ہوں اسے قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس غیر اخلاقی عمل میں یونیورسٹی کے نچلے گریڈ کے اہلکار نہیں بلکہ بڑے افسران اور بڑی مچھلیاں ملوث ہیں، انہیں بھی شامل تفتیش ہونا چاہیے اور یہ معلوم کیا جانا چاہیے کہ یہ سب کچھ کس کی ایما پر اور کس لیے کیا جا رہا تھا۔ چوتھے گریڈ کا اہلکار کبھی بھی خفیہ کیمرہ لگانے کی جرات نہیں کر سکتا جب تک اسے کسی بڑے آفیسر کی پشت پناہی حاصل نہ ہو۔

  • زیارت ریزیڈنسی حملہ کیس.

    انسداد دہشت گردی عدالت نے زیارت ریزیڈنسی حملہ کیس میں نامزد تمام ملزمان کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔
    کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے زیارت میں قائم قائد اعظم ریزیڈنسی حملہ کیس میں نامزد تمام ملزمان کو بری کردیا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج جسٹس رحیم داد خلجی نے اس کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
    اے ٹی سی نے فریقین کے تمام دلائل سننے کے بعد ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر رہا بری کرنے کا حکم دیا۔ واضح رہے کہ کیس میں 13 ملزمان نامزد تھے، جس میں سے 10 ملزمان ضمانت پر تھے۔
    اس سے قبل کیس میں حربیار مری سمیت 33 ملزموں پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔
    واضح رہے کہ سال 2013 میں زیارت میں دہشت گردوں نے قائداعظم محمد علی جناح کی آخری قیام گاہ زیارت ریزیڈنسی میں بم سے تباہ کرنے کی کوشش کی، جب کہ آتشزدگی کے باعث لکڑی کی بنی عمارت کا آدھے سے زیادہ حصہ مکمل طور پر جل گیا تھا۔ دہشت گردوں نے ریزیڈنسی میں ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکار کو بھی فائرنگ کرکے شہید کیا تھا۔
    حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم کی جانب سے قبول کی گئی تھی۔ 4 سال قبل بلوچستان کے علاقے سنگان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران کالعدم تنظیم کے 10 دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے جن میں ریذیڈنسی حملے میں ملوث کمانڈر اسلم اچھو بھی شامل تھا،12دہشت گردوں کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔

  • زیارت ریزیڈنسی حملہ کیس: تمام ملزمان بری

    انسداد دہشت گردی عدالت نے زیارت ریزیڈنسی حملہ کیس میں نامزد تمام ملزمان کو بری کرنے کا حکم دے دیا کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے زیارت میں قائم قائد اعظم ریزیڈنسی حملہ کیس میں نامزد تمام ملزمان کو بری کردیا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج جسٹس رحیم داد خلجی نے اس کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
    اے ٹی سی نے فریقین کے تمام دلائل سننے کے بعد ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر رہا بری کرنے کا حکم دیا۔ واضح رہے کہ کیس میں 13 ملزمان نامزد تھے، جس میں سے 10 ملزمان ضمانت پر تھے۔
    اس سے قبل کیس میں حربیار مری سمیت 33 ملزموں پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔
    واضح رہے کہ سال 2013 میں زیارت میں دہشت گردوں نے قائداعظم محمد علی جناح کی آخری قیام گاہ زیارت ریزیڈنسی میں بم سے تباہ کرنے کی کوشش کی، جب کہ آتشزدگی کے باعث لکڑی کی بنی عمارت کا آدھے سے زیادہ حصہ مکمل طور پر جل گیا تھا۔ دہشت گردوں نے ریزیڈنسی میں ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکار کو بھی فائرنگ کرکے شہید کیا تھا۔
    حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم کی جانب سے قبول کی گئی تھی۔ 4 سال قبل بلوچستان کے علاقے سنگان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران کالعدم تنظیم کے 10 دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے جن میں ریذیڈنسی حملے میں ملوث کمانڈر اسلم اچھو بھی شامل تھا،12دہشت گردوں کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔