Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • بلوچستان یونیورسٹی میں رہائش پذیر ایف سی اہلکاروں کو نکالنے کا حکم

    پاکستان میں صوبہ بلوچستان کی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال
    خان مندوخیل نے کہا ہے کہ یونیورسٹی آف بلوچستان میں ہراسانی کے حوالے سے جو دعوے سامنے آئے ہیں وہ خدا کرے کہ درست نہ ہوں کیونکہ اگر وہ درست ہوئے تو پھر ہم اس قابل نہیں کہ انسان کہلوائیں۔
    چیف جسٹس نے کہا کہ ایسی باتیں بھی سامنے آئی ہیں کہ ‘اے گریڈ چاہیے یا فیل ہونا ہے، سکالر شپ پر آسٹریلیا جانا ہے یا امریکہ جانا ہے یا کہیں نہیں جانا۔’
    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ہم سب نے مل کر دو کام کرنے ہیں ایک یہ کہ یونیورسٹی کی ساکھ بحال ہواور دوسرا یہ کہ جو لوگ ہراسانی کے واقعات میں ملوث رہے ہیں ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ یہ ریمارکس انھوں نے یونیورسٹی میں طالبات کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دیے۔
    کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم دو رکنی ڈویژنل بینچ نے کی۔
    سماعت کے موقع پر بلوچستان اسمبلی کے پارلیمانی کمیٹی کے اراکین، یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر محمد انور پانیزئی، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے نمائندوں کے علاوہ وکلا کی بہت بڑی کمرہ عدالت میں موجود تھی۔
    سماعت کے دوران ایف آئی اے کے حکام نے ایک مرتبہ پھر یونیورسٹی میں خفیہ کیمروں کے استعمال کے حوالے سے ایک رپورٹ اس درخواست کے ساتھ پیش کی کہ تحقیقات مکمل ہونے تک اسے افشاں نہ کیا جائے، تاہم چیف جسٹس نے ایف آئی اے کی رپورٹ سے بلوچستان اسمبلی کے اراکین کو آگاہ کرنے کے لیے انھیں اپنے چیمبر میں طلب کیا۔
    قائم مقام وائس چانسلر کی بے بسی
    سماعت کے دوران جب چیف جسٹس نے قائم مقام وائس چانسلر سے کہا کہ وہ قانون کی مطابق کارروائی کریں تو وہ اپنی بے بسی کا اظہار کرتے رہے۔ چیف جسٹس نے انھیں کہا کہ قانون کے تحت انہیں ہراسانی سے متعلق معاملات کی تحقیقات اور اس کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مکمل اختیار ہے. انھوں نے وائس چانسلر کو کہا کہ اگر وہ قانونی کے مطابق کارروائی نہیں کر سکتے تو وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔
    بلوچستان اسمبلی کے اراکین نے کیا کہا؟
    بلوچستان اسمبلی کی تحقیقاتی کمیٹی کے اراکین چیئر پرسن مہ جبین شیران کی قیادت میں پیش ہوئے۔ چیئر پرسن نے کہا کہ انہیں ہراسانی کے حوالے سے بہت ساری شکایتیں فون اور واٹس ایپ پر موصول ہوئیں لیکن متائثرین میں سے تاحال کوئی بھی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوا۔
    کمیٹی کے رکن ثنا بلوچ نے کہا کہ یونیورسٹی میں بڑی تعداد میں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں لیکن ان کو استعمال کے حوالے سے کوئی سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی میں جو لوگ سکیورٹی یا سی سی ٹی وی کو آپریٹ کرنے پر معمور ہیں ان کی اخلاقی اور ہمارے سماجی اقدار کے حوالے سے تربیت ہونی چاہیے۔
    انہوں نے کہا کہ اس وقت لوگوں کی نگاہیں عدلیہ، بلوچستان اسمبلی اور ایف آئی اے پر لگی ہوئی ہیں۔ اسمبلی کی رکن شکیلہ نوید دیوار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کچھ عرصہ بیشتر سکیورٹی اہلکار گرلز ہاسٹل میں رات کو آئے اور وہاں کمرہ نمبر دو کو خالی کرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہاسٹل میں لڑکیاں چیختی رہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور رات کو یہ لوگ کیوں آئے ہیں؟
    انھوں نے بتایا کہ جب کمیٹی کے اراکین نے ہاسٹل کے چوکیدار سے پوچھا کہ انھوں نے سکیورٹی اہلکاروں کو کیوں چھوڑا تو ان کا جواب یہ تھا کہ وہ ہاسٹل کے دروازے سے نہیں آئے بلکہ سیڑھیاں لگا کر اندر داخل ہوئے. انھوں نے کہا کہ اس کی ویڈیو بھی ہے جسے وہ چیمبر میں فاضل ججوں کو دکھائیں گی۔
    اس بات پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وائس چانسلر سے کہا کہ سکیورٹی اہلکار وہاں حفاظت کے لیے ہیں یا لوگوں کو ہراساں کرنے کے لیے۔
    عدالت کو بتایا گیا کہ ‘ایک ڈیپارٹمنٹ کی طالبہ کو اس کے ایک ٹیچر نے کہا کہ آپ کا سمسٹر ڈراپ ہو رہا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو میں اس کو ڈراپ نہیں ہونے دوں گا۔اس طالبہ کو اس کے ڈیپارٹمنٹ کے دو ٹیچروں نے تین گھنٹے تک اپنے پاس بٹھائے رکھا۔’
    انھوں نے کہا کہ ہراسانی کے حوالے سے اب تک یونیورسٹی کے چھوٹے گریڈ کے چار اہلکاروں کو معطل کیا گیا لیکن معاملے کو اس سے آگے کیوں نہیں بڑھا گیا۔
    انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ کل ایف آئی اے والے آئیں گے اور یہ بتائیں گے کہ متاثرین میں سے کوئی سامنے نہیں آیا اس لیے کسی کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ اس کے ساتھ وہ یہ بھی بتائیں گے کہ آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے فلاں فلاں گائیڈ لائنز پر عملدرآمد کیا جائے ۔
    تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت ایسا نہیں ہونے دے گی کیونکہ یہ معاملہ نہ صرف اس بینچ کے اراکین دیکھ رہے ہیں بلکہ عدالت کے تمام جج اس کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔
    چیف جسٹس نے وائس چانسلر اور ایف آئی اے کے حکام کو کہا کہ ‘جو بھی ان واقعات میں ملوث ہو ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں خواہ اس میں میں خود (چیف جسٹس ) ہی کیوں نہ ہوں۔’
    انھوں نے کہا کہ متاثرین کو ایف آئی اے یا بلوچستان اسمبلی کی کمیٹی کے سامنے پیش ہونا چاہیے تاکہ ان واقعات میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
    عدالت نے کیا احکامات دیے؟
    عدالت نے کیس کی سماعت 15دن بعد تک ملتوی کرتے ہوئے ایف آئی اے کے حکام کو حکم دیا کہ وہ اپنی تحقیقات جاری رکھیں۔ عدالت نے وائس چانسلر کو حکم دیا کہ وہ یونیورسٹی کی جمنازیم، وائس چانسلر کے گھر اور ٹیچرز ہاسٹل سمیت ان تمام مقامات کو ایف سی اہلکاروں سے خالی کرائیں جو کہ طلبا اور اساتذہ کے لیے مختص ہیں۔
    عدالت نے کہا کہ کیس کی سماعت کے دوران یہ دلائل بھی سامنے آئے کہ یونیورسٹی کے اندر فرنٹیئر کور کی ضرورت نہیں۔ عدالت نے کہا کہ چیف سیکرٹری، وائس چانسلر، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کواس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ اگر ایف سی کی ضرورت ہے تو ان کے لیے یونیورسٹی کے باہر کون سی جگہ مختص ہونا چاہیے۔

  • کوئٹہ سے جدہ کیلئے براہ راست فلائٹس کا آغاز، ڈپٹی سپیکر نے کیا افتتاح

    کوئٹہ سے جدہ کیلئے براہ راست فلائٹس کا آغاز، ڈپٹی سپیکر نے کیا افتتاح

    ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ کوئٹہ سے جدہ کے لئے براہ راست فلائٹس بلوچستان کے عوامی کا دیرینہ مطالبہ تھا،

    کوئٹہ ۔ 29 اکتوبر (اے پی پی)ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ کوئٹہ سے جدہ کے لئے براہ راست فلائٹس بلوچستان کے عوامی کا دیرینہ مطالبہ اور بنیادی حق تھا جس کے افتتاح پر بلوچستان کے عوام اور عمرے پر جانے والوں کی خوشی دیدنی ہے ہم جہاں بھی رہے ہمیں اپنے ووٹ اور مٹی کا حق ادا کرنا ہوگا۔ قومی اسمبلی سیکرٹیڑیٹ کے مطابق یہ بات ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کوئٹہ ائیرپورٹ پر کوئٹہ سے ڈائریکٹ جدہ فلائٹس کی افتتاح کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری سردار خادم حسین وردگ ، سیکرٹری جنرل باری بڑیچ ، سید بسم اللہ آغا ،نوابزادہ شریف جوگیزئی، سیکرٹری اطلاعات محمد آصف ترین ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری سید میر علی آغا ، غفار کاکڑ ، سیف اللہ کاکڑ ، اختر مندوخیل و دیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے عمرہ ادا کرنے والوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ خوش قسمت ہوں جو تاریخ میں پہلی مرتبہ کوئٹہ سے براہ راست جدہ بغیر کسی تکلیف اور پریشانی کے پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان جنہیں پچھلے ادوار میں لاوارث اور محروم رکھا گیا ان کے ازالے کے لئے ہم قائد انقلاب عمران خان کی قیادت میں ہر فورم پر اس کے سفیر بن کر اس کا مقدمہ لڑیںگے اور آج کی اس کامیابی کی طرح ہر میدان میں سرخرو ہوں گے۔

    قاسم خان سوری نے پی آئی اے کے مینجنگ ڈائریکٹر بلوچستان خلیل احمد کھوسہ ، کوئٹہ ائرپورٹ کے مینیجر قاسم خلجی ، چیف سیکورٹی آفیسر اے ایس ایف مقبول احمدو دیگر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم امید رکھتے ہیں یہ انتظامی بنیادوں پر بلوچستان کے عوام کے لئے ہر طرح کے وسائل بروئے کا ر لا کر آسانیاں پیدا کریں گے جو ان کا دیرینہ اور بنیادی حق ہے۔ اس موقع پر موجود پاکستان تحریک انصاف کے سینئر قائدین نے قاسم خان سوری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بلوچستان کے عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا کردیا جو بلوچستان سے عمرہ کی ادائیگی کے لئے جانے والوں کے لئے آسانی کا سبب ہوگا جو نہ صرف بلوچستان کے باشندوں کے لئے باعث خوشی ہے بلکہ اس سے پاکستان تحریک انصاف کا عوامی خدمت کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے،

  • کوئٹہ واسا حکام کی نااہلی۔

    کوئٹہ کے بیشتر علاقے پانی کی بوند بوند کو ترس گئے اور اوپر سے واپڈا والوں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی
    تفصیلات کے مطابق پچھلے چند ماہ سے مختلف علاقوں کا آبنوشی کے ٹیوب ویل خراب ہے جس کی وجہ سے لوگ پینے کے پانی کے لئے خوار ہوگئے ہیں. کوئٹہ کے بیشتر علاقوں کے ٹیوب ویلوں کی بجلی واپڈا والوں نے منقطع کردی ہے اور لوگ ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے. واپڈا والوں نے کوئٹہ کے تقریبا چالیس سے زائد ٹیوب ویلوں کی بجلی منقطہ کر دی. اب گھریلو صارفین تو تکلیف میں تھے اب ہسپتالوں, بچوں اور بچیوں کے اسکول بھی بری طرح سے متاثر ہو رہے ہے کیونکہ اسکولوں میں پانی نہ ہونے کی وجہ بچوں کو بہت مشکلات کا سامنا ہے.
    اوپر سے واسا اور ٹینکر مافیا کا گٹھ جوڑ سے عوام مزید رل گئی ہے. واسا عوام کو پانی فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہو چکا ہے. اوپر سے واپڈا والوں نے لوڈ شیڈنگ کے ساتھ ساتھ اب عوام کو پانی سے بھی محروم کر دیا ہے. نچاری روڈ, غلزئئ روڈ, کاسی روڈ, میکانگی روڈ, علمدار روڈ, طوغی روڈ, سمندر خان روڈ, پیر محمد خان روڈ ،بلوچ اسٹریٹ ، سریاب روڈ ۔اسپنی روڈ ، منوجان روڈ ،بروری روڈ ، اور کوئٹہ کے دیگر علاقوں میں پانی گزشتہ تین دنوں سے نہیں آرہا ہے اور اس وقت ٹینکر مافیا کی موجیں ہوگئی ہے. اہلیاں کوئٹہ واسا کے منسٹر حاجی نور محمد دومڑ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس مسلہ پر خصوصی توجہ دیں اور عوام کو اس عذاب اور ٹینکر مافیا کے عتاب سے بچا کر عوام دوستی کا ثبوت دیں اگر وہ کچھ نہیں کرسکتے تو پھر بلند بانگ دعوے کرنے سے گریز کریں. اہلیاں کوئٹہ اس اہم مسلہ پر وزیراعلی کی بھی خصوصی توجہ چاہتے ہے کہ وہ اس مسلہ پر بھی کابینہ اور محکموں کو خصوصی ہدایات جاری کریں تاکہ عوام کا یہ اہم مسلہ جلد از جلد ہو سکیں.
    *اہلیان کوئٹہ*

  • مسز جام کمال کے زیرِ اہتمام بریسٹ کینسر سے متعلق عوام کی آگہی کے لئے سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی میں ایک روزہ سیمنار کا انعقاد

    وبائی مشیر و چیئرپرسن کیو ڈی اے محترمہ بشری’ رند رکن صوبائی اسمبلی ماجبین بلوچ رکن صوبائی اسمبلی محترمہ شاہینہ رکن صوبائی اسمبلی زینت شاہوانی مسز گورنر بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ وسیم اشرف کی صاحبزادی اور بڑی تعداد میں استازہ اور طالب علموں نے شرکت کی۔

    اس موقع پر صوبائی مشیر و چیئرپرسن کیو ڈی اے محترمہ بشری’ نے کہا کہ بریسٹ کینسر سے متعلق آگہی کی کمی پاکستانی خواتین کی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بریسٹ کینسر سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس بیماری کے بارے میں کھل کر بات کی جائے اور ان کے تدارک کے لیے جامع اقدامات کئے جائیں۔ اس بیماری کے حوالے سے میڈیا کے اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بریسٹ کینسر کے بارے میں مفاد عامہ کے پیغامات کے ذریعے بنیادی معلومات خواتین تک پہنچانے کے لیے ٹیلی وژن،ریڈیو اور سوشل میڈیا ایک بھر پور کر دار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف میڈیا کے مؤثر استعمال سے ہی اس قابل علاج بیماری کے بارے میں آگہی دی جا سکتی ہے اور اس بیماری کے بارے میں عوام میں پائے جانے والے خدشات کو دور کیاجا سکتا ہے۔ انہوں نے مسز جام کمال کو اس کامیاب سیمنار کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس بیماری کے تدارک اور آگہی کے لئے کئے جانے والے اقدامات کو سراہا۔۔۔

  • استعفیٰ لیکر احتجاج ختم کریں گے – جمعیت علماء اسلام بلوچستان.

    جمعیت علمائے اسلام ف کا بلوچستان سے آزادی مارچ کا مرکزی قافلہ کل صبح روانہ ہوگا، جے یو آئی ف کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع کا کہنا ہے کہ رکاوٹیں کھڑی نہ کی گئیں تو پُرامن طریقے سے وزیراعظم کا استعفیٰ لیکر واپس آجائیں گے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام ف کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کے آزادی مارچ کا مرکزی قافلہ کل کوئٹہ سے روانہ ہوگا، انتظامیہ کی جانب سے گوادر، تربت، چاغی، نوشکی سمیت مختلف علاقوں میں کارکنوں کو مرکزی قافلے میں شامل ہونے سے روکا جارہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو خبردار کررہے کہ وہ اپنے نمبرز بنانے کیلئے اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال نہ کرے، رکاوٹوں سے رکنے والے نہیں، گاڑی نہ ہوئی تو پیدل جائیں گے، مگر ہر صورت اپنی منزل پر پہنچیں گے جے یو آئی ف کے رہنماء کا کہنا تھا کہ گرفتاریوں کی دھمکیاں مل رہی ہیں، مگر عہد کر رکھا ہے کہ کٹھ پتلی حکومت کے خاتمے کیلئے ہر حد تک جائیں گے مولانا عبدالواسع نے واضح کیا کہ کارکنوں سے کہہ دیا کہ رہنماؤں کی گرفتاریوں کی پرواہ نہ کریں، جہاں بھی روکا جائے وہیں دھرنا دے دیا جائے، ہماری جماعت شخصیات کی نہیں نظریہ کی جماعت ہے، وزیراعظم سے استعفیٰ لیکر احتجاج پُرامن طور پر ختم کردیں گے۔

  • غیرملکی قرار دینے کے بعد حافظ حمد اللہ کا بیان سامنے آگیا.

    جمعیت علماءاسلام کے مرکزی رہنماءوسابق سینیٹر حافظ حمداللہ نے کہاہے کہ نادرا کی جانب سے مجھے غیر ملکی قراردینا آئین کی خلاف ورزی ہے ملک میں اعلیٰ عہدوں پر فائزرہا بلاک شناخت کارڈ کابہانہ بنا کر شناختی کارڈ کو ضبط کر کے مجھے غیر ملکی قرار دیا گیا تمام تر دستاویزات کے باوجود میرے ساتھ اس طرح رویہ رکھنا انتہائی غیر انسانی عمل ہے حالات کا مقابلہ کرینگے ان خیالات کااظہار انہوں نے بات چیت کرتے ہوئے کیا حافظ حمد اللہ نے کہا کہ 2018میں میرا شناختی کارڈ بلاک ہواتھا اور اس حوالے سے مجھے کوئی نوٹس نہیں دیاگیا تھا فروری 2019میں مجھے بلاک شناختی کارڈ کی اطلاع ملی تھی تو قانون کے مطابق نادرا سے رجوع کیا تو نادرا کے حکام نے ہمیں بتا یا کہ شناختی کارڈ بلاک ہونا کوئی مسئلہ نہیں ہے اس کو جلد بحال کر دیا جائے اور نادرا حکام نے بتا یا کہ آپ پروسس کے ذریعے دستاویزات فراہم کرے تو یہ مسئلہ حل ہوجائے گا بلاک شناختی کارڈ فارم لیااوراس کوپر کر کے 1960-1965اور 1973کے دستاویزات لگا کر نادرا میں جمع کرادیئے جس کے بعد 24اپریل کو کمیٹی کے سپرد کر دیا جس کے بعد رمضان المبارک اور عید کے بعدجب دوبارہ معلومات حاصل کی تو نادرا حکام نے بتا یا کہ جلدان پر عملدرآمد ہوجائے گا اور کوئٹہ سے دستاویزات کلیئر ہونے کے بعداسلام آباد بھیجے گئے وہاں پر شناختی کارڈ کے معاملے پر کمیٹی کااجلاس منعقد کیا جب ہم وہاں پہنچیں تو متعلقہ سیکرٹری کراچی چلے گئے تھے اور نادرا حکام نے ہم سے معذرت کرلی 10دن کے بعد وزارت داخلہ کو ہمارے شناختی کارڈسے متعلق دستاویزات بھیجے گئے تھے اور نادرا نے جلد بازی کامظاہرہ کرتے ہوئے ہمیں غیر ملکی قرار دیاانہوں نے کہا کہ ہم کسی کے دباﺅ میں نہیں آئیں گے اور ہمارے ساتھ جو کچھ کیا اس کا حساب ضرور لیناہوگا انہوں نے کہا کہ ہمارے والد نے اس ملک کیلئے بہت قربانیاں دی اگر ہمیں اس لئے سزاءدی جارہی ہے کہ ہم سچ بولناچھوڑ دینگے تو یہ ان لوگوں کی غلط فہمی ہے ہر قربانی دینے کیلئے تیار ہوں.

  • بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر ناشناس لہڑی نی کہا کیا؟۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر ناشناس لہڑی نے کہا ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی کا معاملہ معاشرے کے چہرے پر نما داغ ہے بلوچستان میں رہنے والے تمام اقوام اپنے ننگ و ناموس پر مر مٹتے ہیں بی این پی (عوامی) ہر اس عمل کی مذمت کرے گی جس سے بلوچستان کی ننگ و ناموس پر آنچ آتی ہو یکم نومبر کو اس شرمناک واقعہ کیخلاف بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) ضلع کا احتجاجی جلسہ اس کے ذمہ داروں کے منہ پر طمانچہ ہوگا ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع کوئٹہ کے سینئر باڈی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کوئٹہ شہر کے غیور عوام اور سیاسی کارکنوں سے پر زور اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس احتجاجی جلسہ میں شریک ہوکر یہ ثابت کریں کہ ہم کسی کو اپنے ننگ و نا موس سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے انہوں نے کہا کہ بی این پی (عوامی) حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود کسی کو یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ بلوچستان کے عوام کی تقدیر اور ان کے عزت نفس سے کھیلے یکم نومبر کو تاریخی جلسہ یونیورسٹی واقعہ کے ذمہ داروں کے منہ پر طمانچہ ہوگا قبل ازیں بی این پی (عوامی) ضلع کوئٹہ کی سینئر باڈی کا اجلاس زیر صدارت ضلعی آرگنائزر عبدالوکیل مینگل منعقد ہوا مہمان خصوصی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر ناشناس لہڑی تھے اجلاس سے اراکین مرکزی کمیٹی ڈاکٹر یاسر نصیر شاہوانی،سنگ الہیٰ بخش بلوچ سینئر کارکنان قیوم بلوچ،بہادر ناشناس لہڑی،سعید لہڑی،افتخار بلوچ،حاجی علی نواز لہڑی،ٹکری غلام محمد سمالانی،میر ستار شاہوانی،لالا حسن بلوچ،بلوچ خان لہڑی،خدائیداد لہڑی،فتح لہڑی،شوکت لہڑی،امجد محمد شہی،کاکا رئیسانی،ذوالفقار سمالانی،حمید اللہ مینگل،شبیر احمد لہڑی،میر حاتم لہڑی و دیگر نے خطاب کیا اجلاس میں 28اکتوبر بروز پیر سہ پہر 3بجے پریس کلب کوئٹہ کے سامنے یونیورسٹی واقعہ کیخلاف احتجاجی مظاہرہ منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیااور یکم نومبر بروز جمعہ ڈاکٹر ناشناس کالونی میں سہ پہر 3بجے منعقد ہونے والے جلسہ عام کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا اور اس حوالے سے مختلف کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی۔

  • بلوچستان اسمبلی کیا کچھ خرچ کیا۔

    بلوچستان اسمبلی نے گذشتہ چار ماہ کے دوران عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے 21 کروڑ 7 لاکھ 67 ہزار 971 روپے خرچ کیے ہیں جس میں جولائی کے ماہ میں 12 لاکھ 38 ہزار پانچ سو آٹھ روپے، جبکہ اگست میں 86352 ہزار روپے، ستمبر میں 34 لاکھ 48 ہزار 476 روپےجبکہ اکتوبر میں 20 کروڑ کروڑ 59 لاکھ 94ہزار ہزار چھ سو چالیس روپے خرچ کئے گئے ہیں،
    ریکارڈ کے مطابق یہ رقم جن جن مدوں میں خرچ کی گئی ہے ان میں قانون سازی الاونس کی مد میں ایک کروڑ 61 ہزار روپے، سیشن الاوئنس کی مد میں ایک کروڑ 98 لاکھ 76 ہزار 748 روپے ، اور خوراک کی مد میں 92 لاکھ 24 سو روپے، میڈیکل کی مد میں چوبیس لاکھ 55 ہزار 442 روپے، کنوینس الاونس کی مد میں 44 لاکھ 23 ہزار 671 روپے،
    ٹیلی فون کی مد میں آٹھ لاکھ 85 ہزار 948 روپے، جبکہ بجلی کی قیمت میں 30 لاکھ 63 ہزار 650 روپے خرچ کئے گئے ہیں لیکن اب یہ نہیں معلوم کہ کونس قانون سازی کی گئی، اور کتنے نئے ایکٹ متعارف کرائے گئے.

  • تیل بردار گاڑیاں کو راستہ نہیں دیا تو کیا ہوجائیگا۔

    پنجگور میں روکے گئے تیل بردار چھوٹی گاڑیوں کو راستہ نہیں دیا گیا تو سی پیک پر دھرنا ہوگا صوبائی وزیر میراسداللہ بلوچ چیف سکریٹری بلوچستان مسلے کا کوئی حل نکالیں ہمارا روزگار ایرانی تیل سے وابستہ ہے لاکھوں گھروں کے چولہے ایرانی بارڈر اور تیل پر چلتے ہیں دس دنوں سے سیکنڑوں ڈرائیور پنجگور میں محصور ہیں بھوک اور پیاس کی شدت سے اب وہ نڈھال ہوچکے ہیں اگر کسی کو کچھ ہوگیا تو ذمہ دار کوں ہوگا انجمن تاجران کمیٹی کے صدر حاجی خلیل دہانی چیرمین سمیع اللہ جنرل سکریٹری حاجی عمر کشانی محمد اشرف ریکی فیاض احمد نے قلات حادثے کے بعد پنجگور میں روکے گئے چھوٹی گاڑی مالکان اور دیگر سینکڑوں گاڑی ڈرائیوروں کے ہمراہ سی پیک روڑ دارو ہوٹل میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تیل بردارچھوٹی گاڑیوں سے ہزاروں غریبوں کا روزگار وابستہ ہے قلات حادثے کے بعد سے لیکر آج تک تیل بردار چھوٹی گاڑیوں پر پابندی عائد کرنے وجہ سے ہزاروں ڈرائیورز جو بلوچستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں پنجگور میں پھنس کر رہ گئے ہیں اور دس دنوں سے وہ بھوک اور پیاس کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں اب نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ ان پھنسے ہوئے لوگوں کے پاس پیسے بھی موجود نہیں کہ وہ اپنے لیے کھانے پینے کی اشیاء کا بندوبست کرسکیں انہوں نے کہا کہ حادثات قدرت کی طرف سےآتے ہیں اگر ان حادثات کو بنیاد بناکر لوگوں کے روزگار پر قدغن لگایا جائے تو اس کے منفی اثرات مرتب ہونگے اور اس بات کا کوئی منطق بھی نہیں ہوگا کہ کسی حادثے پر گاڑیوں کو جبرا روک کر لوگوں کو اذیت میں مبتلا کیا جائے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں روزگار کے دوسرے ذرائع موجود نہیں روزگار کا واحد ذریعہ بارڈر اور ایرانی تیل ہےپھنسے ہوئے ڈرائیور مشکلات کا شکار ہیں اگر گاڑیوں کو اجازت نہیں دی گئی تو سی پیک پر دھرنا دے کر روڑ بلاک کردیں گے انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر میراسداللہ اور چیف سکریٹری مسلے کو حل کرائیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں حادثات کی بڑی وجہ سڑکوں کی تنگی ہے اگر سڑکیں ڈبل اور کشادہ ہوتیں توحادثات میں کمی آتی انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی معیشت کا درمدار ایران بارڈر سے وابستہ ہے بلوچستان کے نوجوان متبادل ذرائع موجود نہ ہونے کی وجہ سے ایران بارڈر پر زلیل و خوار ہورہے ہیں کسی کو شوق نہیں ہے کہ وہ مصیبتیں جھیل کر خود کو منہ کے منہ میں دھکیل دیں بارڈر کی بندش اور چھوٹی گاڑیوں کو راستہ نہ دینے پر بلوچستان کے لوگ معاشی بدحالی سے دوچار ہونگے انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ بڑی گاڑیوں اور آئل ٹینکر کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ تیل لے جائیں وہ بھی یہاں کے لوگ ہیں ہمیں بھی زندہ رہنے کا حق دیا جائے ہمارے بھی چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جب کام نہیں کریں گے تو کھائیں گے کہاں سے روزی کا واحد ذریعہ بارڈر اور ایرانی تیل ہے اس پر پابندی اور گاڑیوں کو روکنا ظلم ہے.

  • غیرمعیاری اشیاءکی فروخت پر کینٹینزکو وارننگ نوٹس.

    کوئٹہ میں بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے مضر صحت و غیر معیاری اشیاء کی فروخت پر بولان میڈیکل کالج کی کینٹینز وارننگ نوٹس جاری کر دیا۔
    ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مطابق فوڈ سیفٹی ٹیم نے بولان میڈیکل کالج کی کینٹینز و جنرل اسٹور، فیصل ٹاؤن میں قائم مختلف ڈیپارٹمنٹل اسٹورز اور کھانے پینے کے مراکز کا معائنہ کیا ڈائریکٹر آپریشنز غلام مرتضیٰ کی سربراہی میں بی ایف اے کی ٹیم نے معائنے کے دوران مذکورہ کھانے پینے کے مراکز میں فروخت ہونے والی مختلف اشیاء خورونوش کے معیار کا جائزہ لیا صفائی کے ناقص انتظامات اور عوام کو مضر صحت و غیر معیاری اشیاء کی فروخت پر بی ایم سی کالج کی کینٹین و جنرل اسٹور سمیت مختلف ڈیپارٹمینٹل و سپر اسٹورز کو وارننگ نوٹسز جاری کیے گئے علاوہ ازیں کارروائی کے دوران برآمد ہونے والی زائد المعیاد و غیر معیاری غذائی اشیاء، چائنیز نمک اور گٹکا پان پراگ وغیرہ کو موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔
    معائنہ ٹیم کی جانب سے ان مراکز کے مالکان و اسٹاف کو صفائی کی صورتحال بہتر بنانے اور محفوظ و حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق اشیاء خور و نوش کی فروخت یقینی بنانے کیلئے خصوصی ہدایات دی گئیں۔