Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • عوام سے لاکھوں لوٹنے والے کی پلی بارگین منظور.

    احتساب عدالت نے جعلی ہاﺅسنگ سوسائٹی کے نام پر لوگوں کو لوٹنے والے ملزم کی پلی بارگین کی درخواست منظور کر لی۔ پلی بارگین کے تحت ملنے والی رقم متاثرین میں تقسیم کی جائے گی۔
    قومی احتساب بیورو (نیب) کے ترجمان کے مطابق احتساب عدالت کوئٹہ کے جج منور شاہوانی نے جعلی ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر لوگوں کو لوٹنے والے ملزم سجاد علی شاہ کی پلی بارگین کی درخواست منظور کرلی ہے۔ پلی بارگین کے تحت ملزم 52 لاکھ 52 ہزار 600 روپے واپس کرے گا۔ نیب ترجمان نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ ملزم نے عوام سے کتنی رقم بٹوری ہے اور یہ رقم اس کے برابر ہے یا اس سے کم ہے۔
    احتساب عدالت نے نیب کے قانون کے مطابق ملزم سجاد علی شاہ کو سزا بھی سنا دی ہے جس کے تحت ملزم 10 سال کے لئے کوئی بھی سرکاری عہدہ، الیکشن لڑنے کے ساتھ ساتھ بینک سے قرض بھی حاصل نہیں کر سکتا ترجمان کے مطابق ملزم سجاد علی شاہ نے لوگوں سے جعلی ہاؤسنگ اسکیم کے نام پر لاکھوں روپے ہڑپ کر لئے جس پر متاثرین نے نیب بلوچستان سے رجوع کیا۔ نیب نے تحقیقات مکمل کر کے احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا۔
    کافی ثبوتوں کی روشنی میں ملزم نے تمام لوٹی گئی رقم کی واپسی کے لئے پلی بارگین کی درخواست دی جسے عدالت نے منظور کر لیا ہے۔ قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد تمام رقم متاثرین کے حوالے کر دی جائے گی۔

  • آزادی مارچ، مولانا کے لئے بلوچستان میں بھی بڑی مشکل

    آزادی مارچ، مولانا کے لئے بلوچستان میں بھی بڑی مشکل

    مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے لئے ایک اور مشکل ، بلوچستان حکومت نے ایسا فیصلہ کیا کہ اپوزیش جماعتوں نے سر پکڑ لیے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ بلوچستان نے آزادی مارچ کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ،بلوچستان کے صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو کا کہنا ہے کہ ملکی حالات کے پیش نظر آزادی مارچ کی اجازت نہیں دی جاسکتی ،ہمسایہ ملک کی جانب سے دہشت گردی کی دھمکیاں موجود ہیں،

    آزادی مارچ کا قصہ ہوا تمام، مولانا فضل الرحمان 27 اکتوبرکو ہوں گے پاکستان سے فرار

    مولانا وزیراعظم کی خواہش پر اسلام آباد آ رہے ہیں، خبر نے کھلبلی مچا دی

    صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو نے مزید کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر عوام کو اکٹھا ہونے نہیں دیا جاسکتا،جمعرات کواجلاس میں باقاعدہ طور پر آزادی مارچ روکنے کا فیصلہ کیا جائےگا،صوبائی حکومت اپنےعوام کوخطرے میں نہیں ڈال سکتی ہے،

    آزادی مارچ مولانا کا پلان بی تو حکومت کا پلان سی سامنے آ گیا

    نواز اور شہباز میں ختم نہ ہونے والی جنگ چھڑ گئی

    آزادی مارچ کی ابھی تیاریاں جاری اور حکومت کےاستعفے آنا شروع ہو گئے، کس نے استعفیٰ دیا؟ اہم خبر

    واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان حکومت کے خلاف 27 اکتوبر کو اسلام آباد میں آزادی مارچ لے کر آ رہے ہیں جو 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہو گا، مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے مولانا کے آزادی مارچ کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اسلام آباد میں جلسہ کریں گے

    بلاول حمایت کا اعلان تو کرتے ہیں لیکن مارچ میں شامل نہیں ہوتے مسلم لیگ ن بھی شدید اختلافات کا شکار ہے، نوا زشریف مولانا کو آزادی مارچ میں شرکت کے لئے خط لکھ دیتے ہیں تو شہباز شریف قمر درد کا بہانہ بنا کر نواز شریف سے ملنے جیل نہیں جاتے.

    اسلام آباد میں اب یہ کام نہیں ہو سکتا…آزادی مارچ سے قبل حکومت نے لگائی بڑی پابندی

  • وزیراعلیٰ بلوچستان تقریب سے خطاب۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ بلوچستان متبادل ذرائع سے توانائی کی پیداوار کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، گڈانی میں 1320میگاواٹ بجلی کا پیداواری منصوبہ اہم پیشرفت ہے، چینی سرمایہ کار ماہی گیری، زراعت، معدنیات اور بلوچستان کے دیگر شعبوں میں بھی منافع بخش سرمایہ کاری کریں، سرمایہ کاروں کی سہولت کے لئے لسبیلہ میں اکنامک زون کا قیام عمل میں لایا جائے گا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گڈانی میں 1320میگاواٹ پاور پلانٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعظم عمران خان تھے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ چائنا پاور حب جنریشن کمپنی لمیٹڈ کا یہ منصوبہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ترجیحی منصوبوں میں شامل ہے اور سی پیک میں فلیگ شپ منصوبے کی حیثیت رکھتا ہے جو پاکستان کی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پورا کرنے میں موثر کردار ادا کرے گا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ سی پیک کے ترجیحی منصوبوں میں بلوچستان کے صرف دو منصوبے شامل تھے جن میں سے ایک کا افتتاح ہورہا ہے، بدقسمتی سے سی پیک کے آغاز میں بلوچستان کو وہ اہمیت نہ مل سکی جس کا وہ مستحق تھا تاہم ہمیں یہ یقین ہے کہ وزیراعظم اس کمی کو پورا کرنے کے لئے اپنا بھرپور کردار اداکریں گے کیونکہ بلوچستان کی ترقی وزیراعظم کی ترجیحات میں شامل ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی اور اقتصادی استحکام کے لئے وزیراعظم کا وژن، پالیسیاں اور اقدامات کسی سے ڈھکے چھے نہیں، وزیراعظم نے ملک کو ورثہ میں ملنے والے معاشی اور اقتصادی چیلنجز کا جرا¿ت اور کامیابی سے مقابلہ کرتے ہوئے پاکستان کو معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کردیا ہے، غربت کے خاتمے، ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے، ماحولیاتی مسائل کے حل، بدعنوانی کے تدارک، مسئلہ کشمیر پر دوٹوک موقف، کامیاب خارجہ اور معاشی پالیسی اور درست فیصلوں سے آئندہ چند برسوں میں پاکستان بحرانوں سے نکل آئے گا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان ملک کے معاشی اور اقتصادی استحکام کے لئے بھرپور کردار کا حامل صوبہ ہے اور ہم بلوچستان کے وسائل کو صوبے اور ملک کی ترقی کے لئے بروئے کار لانے کے لئے پرعزم ہیں، خاص طور سے شمسی اور دیگر متبادل ذرائع کوبروئے کارلاکر ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کیا جاسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان آئندہ چند برسوں میں سرمایہ کاری کا مرکز بننے جارہا ہے، جہاں اربوں روپے کی سرمایہ کاری ہوگی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت بلوچستان بھی توانائی کے شعبے کی ترقی کی جانب خصوصی توجہ دے رہی ہے، رواں مالی سال کے بجٹ میں متبادل ذرائع سے بجلی کی پیداوار کے منصوبوں کے لئے 1220ملین روپے جبکہ دیہاتوں کو بجلی کی فراہمی کے منصوبوں کے لئے 4226ملین روپے مختص کئے گئے ہیں، صوبائی حکومت نے اسکولوں، زرعی اور آبپاشی کے ٹیوب ویلوں اور اسٹریٹ لائٹس کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے منصوبوں کا آغاز کیا ہے جن کی تکمیل سے ہماری توانائی کی ضروریات پوری ہوں گی اور صوبہ سماجی اور معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے گا۔ تقریب میں وفاقی اور صوبائی وزرائ، چینی سفیر اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔

  • بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی دوبارہ کاروائیوں کا آغاز۔

    بلوچستان فوڈ اتھارٹی کا ناقص ،غیر معیاری ومضر صحت اشیاء خوردونوش کی تیاری و فروخت کے خلاف دوبارہ کاروائیوں کا آغاز۔

    بلوچستان یونیورسٹی میں قائم مختلف کینٹینز فوڈ پوائنٹس کی چیکنگ غیر معیاری اور مضر صحت اشیاء کی فروخت پر تین کینٹینز و فوڈ پوائنٹس سیل ،دیگرکو وارننگ نوٹسزجاری بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے ناقص و غیر معیاری اشیاء خوردنوش کی تیاری و فروخت کے خلاف دوبارہ کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے۔ ڈائریکٹر آپریشنز بی ایف اے غلام مرتضٰی کی سربراہی میں پیر کے روز کی جانے والی کارروائی کے دوران معائنہ ٹیم نے بلوچستان یونیورسٹی میں قائم مختلف فوڈ پوائنٹس، کینٹینزاورجنرل ا سٹورز میں کھانے پینے کی اشیاء کے معیار اور صفائی کے انتظامات کا جائزہ لیا۔کارروائی کے دوران ایک کینٹین اور ایک فوڈ پوائنٹ کو صفائی کی ناقص صورتحال، کھانے پینے کی اشیاء ڈھکی ہوئی و ان پر لیبلنگ نہ ہونے اور زائدالمیعاد اشیاء کی موجودگی، ایک اور کینٹین و جنرل ا سٹور کو گندگی،مضر صحت اشیاء اور گٹکا پان پراگ کی موجودگی وفروخت پر سیل کر دیا گیا جبکہ ان کھانے پینے کے مراکز سے برآمد ہونے والی مضر صحت اور غیر معیاری اشیاء کو موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔۔علاوہ ازیں فوڈ اتھارٹی حکام کی جانب سے یونیورسٹی میں قائم دیگرکینٹینز و فوڈ پوائنٹس کو وارننگ نوٹسز جاری کیے گئے جبکہ ان مراکز کے مالکان اور عملے کو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق اشیاء خوردونوش کی تیاری و فروخت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی جبکہ انہیں بی ایف اے کے وضع کردہ اسٹینڈرڈز سے متعلق خصوصی ہدایات نامے بھی دیے گئے.

  • مزید چار اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف۔

    سول سنڈیمن اسپتال سے ایڈمن و ٹیکنیکل اسٹاف سمیت مزید چار اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا نوٹیفکیشن جاری برطرف ملازمین عادی غیر حاضر تھے جو اسلام آباد، لاہور اور دیگر شہروں میں گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرتے رہے برطرفی سے قبل بارہا مرتبہ تحریری و زبانی تنبیہ اور نوٹس اظہار وجوہ کے باوجود غیر حاضری سے باز نہیں آئے برطرف ملازمین میں پیسنگ لیب ٹیکنیشن شہریار ،الیکٹریشن محمد قاسم، الیکٹرو میڈیکل ٹیکنیشن مشتاق، اور جونئیر کلرک عمران خان شامل ہیں ایمرجنسی سروسز میں غیر حاضری اور فرائض میں غفلت قابل برداشت نہیں بلا امتیاز کارروائی جاری رکھیں گے اہلکار گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرتے رہیں جبکہ مریض دھکے کھاتے پھریں ایسا عمل قطعی برداشت نہیں کرسکتے تنخواہیں لینی ہیں تو ڈیوٹی بھی کرنی ہوگی جو اہلکار ڈیوٹی نہیں کرسکتے ریٹائرمنٹ لے لیں غریب مریضوں کی بددعائیں نہ لیں ایم ایس سول سنڈیمن اسپتال ڈاکٹر محمد سلیم ابڑو ۔

  • بلوچستان یونیورسٹی پر "اخلاقی خودکش” حملہ.

    تحریر
    پروفیسر نیلم مومل
    مرکزی جوائٹ سیکرٹری براہوئی اکیڈمی۔

    کچھ دنوں سے بلوچستان یونیورسٹی میں ادارے کی تاریخ کا بدترین اسکینڈل میڈیا اور عوام الناس میں زیر بحث ہے۔ یہ اخلاقی پستی کی اعلی’ مثال قائم کرتا ہوا اسکینڈل شاید اپنی سنگینی میں اُس معاشی بحران سے بھی سنگین ہے، جس سے مادر علمی آج کل دوچار ہے۔ معاشی بحران کی تو شاید دیر بدیر کہیں سے بھر پائی ھو جائے، لیکن طلباء و طالبات کو غیر اخلاقی اور نازیبا ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کرنے پر مبنی یہ اسکینڈل یونیورسٹی کو ایک ایسا زخم ھے
    جس سے برسون خون رستے رہنے کا امکان ہے۔ جس کے آثار ابھی سے بلوچستان کے تمام طبقات کی طرف سے شدید مذمت اور والدین میں پائی جانے والی تشویش کی صورت میں ابھی سے نظر آرہی ہے *بلوچستان، جہاں مجموعی طور پر تعلیمی اعداد و شمار پہلے ہی کچھ اچھی نہیں وہاں لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم تو ایک ایسا راستہ ہے جو کہ کئی طوفانوں سے ھو کر گذرتا ہے ۔بلوچستان جس کی مجموعی معاشی اور تعلیمی ترقی کے اینڈیکیٹر پہلے ہی کمزور ہیں۔ ایک طرف یہاں وسائل کی کمی ہے تو دوسری طرف یہاں تعلیم کی صورتحال pathetic ہے. یہاں عمومن” 5 ویں تک لڑکی کو تعلیم دے کر کہا جاتا ہے کے بہت ہو گئی یہ تعلیم ، اب اسے کسی کے پلو باندھ کر رخصت کر دیا جانا چاہئے ۔بہت کم لڑکیاں fA/BAتک تعلیم حاصل کر پاتی ہیں۔کچھ پڑھے لکھے باشعور گھرانے اور افراد اپنی بچیوں کو آگے پڑھنے کے لیے یونیورسٹی کی اجازت دیتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں اگر یونیورسٹی پر اخلاقی "خود کش” حملہ کیا جائے تو اُس کی لہریں بڑی دور تک جانے کا امکان لاحق ھو جاتا ہے۔ انتہائی دکھ اور قرب سے کہنا پڑتا ہے کہ مادر علمی پر وہ افتاد آن پڑی ہے، یا پھر اسے جان بوجھ کر اس بدناموسی سے دوچار کیا گیا ہے۔ یہ حملہ نہ فقط ایک ایسے عظیم ادارے پر کیا گیا کہ جس نے اپنی کوکھ سے بلوچستان کے متعدد تعلیمی اداروں کو جنم دیا ہے، بلکہ یہ حملہ صوبے کہ دوردراز علاقوں میں بسنے والے باہمت والدین اور طلبہ و طالبات پر کیا گیا ہے جنہوں نے تمام تر روایتوں کی قیود اور رکاوٹوں کو پار کرتے ھوئے، اس درسگاہ کو تعلیم اور آگاہی کا ابھرتا مرکز بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ گذشتہ برسوں میں بلوچستان یونیورسٹی میں طالبات کی تعداد بڑھ کر کل تعداد کا چالیس فی صد ہونا، اس بات کا واضع ثبوت ہے کہ کس طرح ہماری بچیوں اور بہنوں نے آگے بڑھ کر اپنے گھرانوں اور اقوام کی شان کو اونچا کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔
    گو کہ مجموعی طور پر ہمارے لئے یہ بڑی شرمندگی اور درد کا مقام ہے، لیکن باشعور اقوام ہر قسم کے بحرانوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے حقوق کے حاصلات اور ترقی کی راہیں دوبارہ سے متعین کرتے ہیں۔
    یہ وقت مایوس ھونے اور منہ چھپانے کا نہیں بلکہ مقابلہ کرنے اور یونیورسٹی کے چہرے کو داغدار کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا ہے۔ حکومت وقت، تمام سیاستی و سماجی تنظیموں ، اُدبا، دانشوروں اور والدین کو سامنے آکر اپنے بچوں خاص طور پر بہنوں اور بیٹیوں کے مستقبل کا دفاع کرنا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کے چند افراد اس اِشو کو سیڑھی بنا کر بچیوں کی حوصلہ افزائی کرنے اور ان کے قدم مضبوط کرنے کے برعکس، ان پر تعلیم کے دروازے بند کرنے کے درپے ہیں جو کے اس یونیورسٹی کے واقعے سے زیادہ افسوسناک ہے۔ کسی انسانی آبادی میں اگر کچھ "بیھڑئیے” گھس آئیں اور انسانوں کو اپنی بھوک کا شکار بنائیں تو ان سے خوفزدہ ھو کر آبادیاں خالی نہیں کی جاتیں*
    *بلکہ ان بھیڑیوں کا موئثر تدارک کیا جاتا ھے۔پوری دنیا میں اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں مگر معاشرے ایک نئے اور جوش ولولے کے ساتھ اس کا مقابلہ کر کے یہ ثابت کرتے ہیں کے ایسے عناصر ہمارہ راستہ نہیں روک سکتی ۔میں اپنی بہنوں اور بچیوں کی ہر ممکنہ مدد کا یقین دلاتے ہوئے کہنا چاہتی ہوں کے وہ اپنے حوصلے بلند رکھیں اور اپنی تعلیم کی راہ میں آنے والی ہر روکاوٹ کو عبور کرتے ہوئے اپنے منزل مقصود تک پھنچیں کیونکہ ایک عورت ہی آنے والی نسل کی سوچ تبدیل کرسکتی ہے۔ جس طرح سردار بھادر خان یونیورسٹی پر خونی خودکش حملے سے ھمارے بچیوں کے حوصلے پست ھونے کہ بجائے اور بلند ھوئے تھے، میں امید کرتی ھوں کہ ھماری مادر علمی بلوچستان یونیورسٹی بھی اس "اخلاقی خود کش” حملے سے نبردآزما ھوکر تعلیم، ترقی اور آگاھی کی نئی راہیں متعین کرے گی۔

  • چہلم امام حسینؓ کا جلوس صبح برآمد ہوگا

    چہلم امام حسینؓ کا جلوس کل صبح 8 بجے علمدار روڈ سے برآمد ہوگا, جلوس مختلف راستوں سے گزرتا ہوا بہشت زینب قبرستان پر اختام پزیز ہوگا, جلوس کے روٹ اور اطراف کی تمام دکانیں سیل کر دی گئی، شہر میں صبح 7 بجے سے رات 9 بجے تک سروس بھی معطل رہے گی چہلم امام حسین کے سلسلے میں مرکزی جلوس کل صبح 8 بجے عملدار روڈ سے برآمد ہوگا، جلوس کی سربراہی بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر داود آغا کریں گے جلوس مختلف راستوں سے ہوتا ہوا شام کو بحشت زینب قبرستان پہنچے گا جہاں مختلف علماء کرام خطاب کریں گے اور نواسہ رسولؐ حضرت امام حسین اور انکے اصحاب کی قربانیوں پر روشنی ڈالیں گے جس کے بعد جلوس اختتام پزیز ہوجائے گا، ضلعی انتظامیہ کے مطابق جلوس کے روٹ اور اطراف کے تمام روڈ اور دُکانیں سیل ہونگی جبکہ ایف سی، بلوچستان پولیس، RRG, بی سی، اسپیشل برانچ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان جلوس کی سیکورٹی کے انتظامات سنبھالیں گے، جلوس کے فضائی نگرانی بھی کی جائے گی جبکہ کسی بھی ناخوشگوار واقع سے بچنے کے لیے موبائل سروس صبح 7بجے سے رات 9 بجے تک بند رہے گی۔

  • بلوچستان میں کتوں کے کتنے کے واقعات بڑھ گئے

    بلوچستان میں کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے اور ایک سال کے دوران 19 ہزار سے زائد مریضوں کو سول ہسپتال لایا گیا بیشتر مریضوں کا تعلق کوئٹہ جبکہ باقی صوبے کے مختلف علاقوں سے ہیں جس پر محکمہ بلدیات حکام نے فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے کتا مار مہم نہیں چلائی جاسکی لیکن واقعات کی روک تھام کیلئے کتا مار مہم ضروری ہے جب کے انتظامیہ کی طرف سے انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

  • کوئٹہ ڈیزل پیٹرول پر لگی پابندی

    کوئٹہ چیف سیکرٹری بلوچستان نے ایرانی ڈیزل پیٹرول کی اوپن اسمگلنک پر پابندی لگادی جس پر
    بلوچستان کے غریب عوام نے ایرانی پیٹرولیم کی سمگلنگ پر پابندی کی مزمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پابندی کے بجائے سنگل روڈوں کودوریہ کیا جائے ایکسیڈنٹ کی آڑ میں بلوچستان کی پسماندہ صوبے کی غریب عوام پر روزگار کی دروازے بند کرنا زندہ لوگوں کا معاشی قتل ہے روز روز کی ایکسڈنٹ سے بچنے کیلیے حکومت کویٹہ کراچی شہراہ کو دوریہ کرنے پر توجہ دی جائے ،،،،
    اور چیف سیکرٹری بلوچستان ڈیزل پر پابندی پر نظر ثانی کی جائے ،،،

  • ہسپتال میں ڈاکٹر نہیں،کچرے کے ڈھیر پر بچے کی پیدائش

    ہسپتال میں ڈاکٹر نہیں،کچرے کے ڈھیر پر بچے کی پیدائش

    ہسپتال کے گیٹ کے بعد اب کچرے کے ڈھیر پر بچے کی پیدائش

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تنگوانی میں خاتون نے کچرے کے ڈھیر پر بچے کو جنم دے دیا ۔ نومولود بچے کی حالت نازک ہے ۔خاتون کے ورثہ نے بتایا کہ ڈیلیوری کے لیے سرکاری ہسپتال گئے تھے مگر ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کے باعث نجی اسپتال جا رہے تھے کہ بچے کا جنم ہوا ۔

    خاتون کے ہاں بیک وقت چار بچوں کی پیدائش پر والد نے کیا اپیل کر دی؟ جانیے تفصیل میں

    بگٹی قبیلے سے تعلق رکھنے والے خاتون نے تنگوانی میں کچرے کے ڈھیر پر نومولود بچے کو جنم دے دیا بچے کی حالت نازک ہونے پر پہلے انہیں نجی اسپتال داخل کرا لیا گیا جہاں انہیں گیس کی سہولت دینے کے بعد بچے کو ورثہ اپنے ساتھ آبائی گاؤں بھٹائی کالونی لے گئے ۔ خاتون کی ڈلیوری کے وقت پر لوگ آتے اور جاتے رہے مگر کسی کو خاتون پر رحم نہیں آیا ۔

    خاتون کے ورثہ نے آن کیمیرا موقف اور میڈیا کوریج کرنے سے انکار کردیا ۔ جبکہ اس سلسلے میں تنگوانی رولر ہیلتھ سینٹر کے ایم ایس ڈاکٹر شاہنواز ڈاہانی سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ہسپتال میں ڈلیوری کے لیے کوئی خاتون نہیں پہنچی ۔ ایم ایس نے بتایا کہ اسپتال میں لیڈی ڈاکٹر اور ڈاکٹرز موجود ہیں مگر ڈلیوری کے لیے یہاں کوئی بھی خاتون نہیں آئی۔

    تنگوانی رولر ہیلتھ سینٹر کے ایم ایس ڈاکٹر شاہنواز ڈاہانی نے بھی اپنا موقف آن کیمرا دینے سے صاف صاف انکار کردیا ۔ بکہ ڈی ایچ او کندھکوٹ نذیر احمد عوان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے اس بارے میں کچھ بھی علم نہیں ہے ۔