Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • آزادی مارچ کے اسلام آباد پہنچنے سے قبل وزیراعظم خودکشی کر لیں، مولانا عبدالغفور حیدری

    آزادی مارچ کے اسلام آباد پہنچنے سے قبل وزیراعظم خودکشی کر لیں، مولانا عبدالغفور حیدری

    وزیراعظم عزت سے استعفیٰ دے دیں ورنہ انہیں ذلت سے استعفیٰ دینا پڑے گا، مولانا عبدالغفور حیدری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جمعیت علماء اسلام کے رہنما سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم  آزادی مارچ کے اسلام آباد پہنچنے سے قبل خود کشی کر لیں وزیراعظم نے کہا تھا کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس گئے تو خود کشی کر لیں گے .

    مولانا عبدالغفور حیدری کا مزید کہنا تھا کہ قوم موجودہ حکومت پر مطمئن نہیں، وزیراعظم کو استعفیٰ دینا چاہئے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت عزت سے نہیں بلکہ ذلت سے استعفیٰ دے گی، آزادی مارچ مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا.

    مولانا دیکھتے رہ گئے. نواز شریف کے داماد نے آزادی مارچ کا افتتاح کر دیا

    شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کی پیشکش……..ملکی سیاست میں کھلبلی مچ گئی

    جیل جا کر بڑے بڑے سیدھے ہو جاتے ہیں، مریم نواز بھی جیل جا کر”شریف” بن گئیں

    مریم نواز کی تاریخ پیدائش کیا ہے؟ عدالت نے پوچھا تو مریم نے کیا جواب دیا؟

    مولانا عبدالغفور حیدری نے مزید کہا کہ صوبہ بلوچستان سے آزادی مارچ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہوں گے، بلوچستان سے قافلے جے یو آئی کے مقامی رہنماؤں کی سرپرستی میں چار دن قبل روانہ ہوں گے، قافلوں کی سیکورٹی ہمارے پر امن کارکنان کریں گے، ہم ریاستی اداروں کا احترام کرتے ہین لیکن اگر آزادی مارچ کو روکا گیا تو پھر تمام ذمہ داری حکومت پر ہو گی.امید ہے حکومت ایسی حماقت نہیں کرے گی.

    آزادی مارچ، جے یو آئی نے بھی بڑا یوٹرن لے لیا، شیخ رشید بھی مسکرائے بغیر نہ رہ سکے

  • بلوچستان یونیورسٹی کی تفصیلی خبر.

    بلوچستان یونیورسٹی میں طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی شکایات سامنے آنے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)نے تحقیقات شروع کر دی ہیں ایف آئی اے حکام کے مطابق یونیورسٹی آف بلوچستان، کوئٹہ کے سکیورٹی انچارج سمیت درجنوں اہلکاروں سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور تحقیقات میں ہراساں کرنے سے متعلق شواہد بھی ملے ہیں یونیورسٹی کے اساتذہ کی تنظیم کا کہنا ہے کہ صرف طلبہ و طالبات ہی نہیں خواتین و مرد اساتذہ کو بھی ہراساں اور بلیک میل کیا جا رہا ہے۔عرب ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے کے کوئٹہ میں ایک سینئر آفیسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ تحقیقات کا یہ عمل بلوچستان ہائی کورٹ کے احکامات اور طالبات کی ویڈیوز بنا کر انہیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کی شکایات ملنے کے بعد شروع کیا گیا ہے۔اس سلسلے میں ایف آئی اے کی سائبر کرائم ٹیم نے کوئٹہ کے سریاب روڈ پر واقع یونیورسٹی آف بلوچستان کے سکیورٹی برانچ اور ہاسٹل سمیت مختلف شعبوں پر چھاپے بھی مارے ہیں۔ایف آئی اے آفیسر کے مطابق چھاپے کے دوران ایسے شواہد ملے ہیں جن سے ثابت ہو رہا ہے کہ طالبات کو واقعی ہراساں کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کی ٹیم کو یونیورسٹی میں واش روم سمیت مختلف مقامات سے خفیہ کیمرے ملے ہیں جو بجلی کے سوئچ بورڈ یا اس جیسے دیگر خفیہ مقامات پر نصب کیے گئے تھے۔ایف آئی اے آفیسر کے بقول یونیورسٹی کے سکیورٹی اور سرویلنس برانچ کے انچارج، آفیسروں اور اہلکاروں سمیت درجنوں افراد کو شامل تفتیش کیا گیا ہے اور ان میں سے بعض اہلکاروں کے موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیوائسز قبضے میں لے کر ان کا فارنزک کرایا جا رہا ہے۔ تاہم اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔انہوں نے مزید بتایا کہ یونیورسٹی میں انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی انتظامات کے تحت نصب کیے گئے کلوز سرکٹ کیمروں کا ریکارڈ بھی حاصل کیا جا رہا ہے جن کا جائزہ لے کر تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جائیگا۔ایف آئی اے آفیسر کے مطابق تحقیقاتی ٹیم جلد تحقیقات مکمل کرنے کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ ہائیکورٹ نے اس مہینے کے آخری ہفتے تک اس معاملے کی رپورٹ مانگی ہے۔یونیورسٹی آف بلوچستان کے ترجمان امیر حمزہ نے عرب ویب سائٹ کو بتایا کہ ایف آئی اے کی ٹیم نے گذشتہ روز یونیورسٹی کا دورہ کیا اور جن اہلکاروں کے خلاف شکایات تھیں ان کے بیانات قلمبند کیے۔ان اہلکاروں نے اپنے موبائل فون اور دیگر ڈیوائسز بھی ایف آئی اے کے حوالے کر دی ہیں اور وہ تحقیقات میں تعاون کر رہے ہیں۔بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار)کے صوبائی صدر اور یونیورسٹی آف بلوچستان میں ایم فل کے طالب علم گورگین بلوچ نے الزام لگایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کے بعض اہم عہدیدار اور اساتذہ طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کر رہے ہیں۔ہم سے کئی متاثرہ طالبات نے رابطہ کیا اور بتایا کہ طالبات کو خفیہ کیمروں سے بنائی گئی ویڈیوز وٹس ایپ کرکے کہا جاتا ہے کہ ہمارے پاس آئیں ورنہ یہ ویڈیوز عام کر دی جائیں گی یا پھر آپ کے والدین کو بھیجی جائیں گی۔گورگین بلوچ نے الزام لگایا کہ تین دن قبل گریجویٹ سٹڈیز آفس (جی ایس او)کے ایک سینئر عہدیدار کو ایم فل کی طالبہ کو بلیک میل کرکے ٹیچر ہاسٹل لے جاتے ہوئے پکڑا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ طالبات کو امتحان میں ناکام کرنے کی بھی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ یونیورسٹی میں پڑھنے والی طالبات اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتی ہیں۔ متاثرہ طالبات ایسے معاملات کو سامنے لانے سے خوفزدہ ہیں کیونکہ انہیں ہراساں کرنے والے طاقتور لوگ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم مسلسل ایسے معاملات کو سامنے لا رہے ہیں مگر اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا جارہا ہے۔ 2017 میں بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن اور ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن سمیت دیگر طلبہ تنظیموں نے احتجاجی کیمپ لگایا اور مطالبہ کیا کہ خفیہ کیمروں کے ذریعے طلبہ و طالبات کو بلیک میل کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے مگر حکومت نے کوئی توجہ نہیں دی۔اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے نائب سربراہ فرید خان اچکزئی نے بات کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی میں یہ سلسلہ اب سے نہیں بلکہ دو تین سالوں سے چل رہا ہے۔ ہم کافی عرصے سے محسوس کر رہے تھے کہ یونیورسٹی میں آخری حد تک غیر اخلاقی سرگرمیاں پروان چڑھ رہی ہیں۔ان کے بقول ہمیں طلبہ و طالبات کے ساتھ ساتھ مرد و خواتین اساتذہ کی طرف سے شکایات مل رہی تھیں کہ انہیں بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ ہم نے اس سلسلے میں گورنر بلوچستان اور وائس چانسلر تک اپنے تحفظات پہنچائے مگر کسی نے اس کا نوٹس نہیں لیا۔فرید اچکزئی کے مطابق اب جب ایک وفاقی تفتیشی ادارے نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے ہم اسے خوش آئند کہتے ہیں۔ ہم ان کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس معاملے کی ساری تفتیش غیر جانبدارانہ اور بلا تفریق ہونی چاہیے چاہے اس میں کوئی استاد ملوث ہو، آفیسر یا کوئی ملازم۔ جو بھی مجرم ثابت ہوں اسے قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس غیر اخلاقی عمل میں یونیورسٹی کے نچلے گریڈ کے اہلکار نہیں بلکہ بڑے افسران اور بڑی مچھلیاں ملوث ہیں، انہیں بھی شامل تفتیش ہونا چاہیے اور یہ معلوم کیا جانا چاہیے کہ یہ سب کچھ کس کی ایما پر اور کس لیے کیا جا رہا تھا۔ چوتھے گریڈ کا اہلکار کبھی بھی خفیہ کیمرہ لگانے کی جرات نہیں کر سکتا جب تک اسے کسی بڑے آفیسر کی پشت پناہی حاصل نہ ہو۔

  • زیارت ریزیڈنسی حملہ کیس.

    انسداد دہشت گردی عدالت نے زیارت ریزیڈنسی حملہ کیس میں نامزد تمام ملزمان کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔
    کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے زیارت میں قائم قائد اعظم ریزیڈنسی حملہ کیس میں نامزد تمام ملزمان کو بری کردیا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج جسٹس رحیم داد خلجی نے اس کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
    اے ٹی سی نے فریقین کے تمام دلائل سننے کے بعد ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر رہا بری کرنے کا حکم دیا۔ واضح رہے کہ کیس میں 13 ملزمان نامزد تھے، جس میں سے 10 ملزمان ضمانت پر تھے۔
    اس سے قبل کیس میں حربیار مری سمیت 33 ملزموں پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔
    واضح رہے کہ سال 2013 میں زیارت میں دہشت گردوں نے قائداعظم محمد علی جناح کی آخری قیام گاہ زیارت ریزیڈنسی میں بم سے تباہ کرنے کی کوشش کی، جب کہ آتشزدگی کے باعث لکڑی کی بنی عمارت کا آدھے سے زیادہ حصہ مکمل طور پر جل گیا تھا۔ دہشت گردوں نے ریزیڈنسی میں ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکار کو بھی فائرنگ کرکے شہید کیا تھا۔
    حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم کی جانب سے قبول کی گئی تھی۔ 4 سال قبل بلوچستان کے علاقے سنگان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران کالعدم تنظیم کے 10 دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے جن میں ریذیڈنسی حملے میں ملوث کمانڈر اسلم اچھو بھی شامل تھا،12دہشت گردوں کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔

  • زیارت ریزیڈنسی حملہ کیس: تمام ملزمان بری

    انسداد دہشت گردی عدالت نے زیارت ریزیڈنسی حملہ کیس میں نامزد تمام ملزمان کو بری کرنے کا حکم دے دیا کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے زیارت میں قائم قائد اعظم ریزیڈنسی حملہ کیس میں نامزد تمام ملزمان کو بری کردیا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج جسٹس رحیم داد خلجی نے اس کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
    اے ٹی سی نے فریقین کے تمام دلائل سننے کے بعد ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر رہا بری کرنے کا حکم دیا۔ واضح رہے کہ کیس میں 13 ملزمان نامزد تھے، جس میں سے 10 ملزمان ضمانت پر تھے۔
    اس سے قبل کیس میں حربیار مری سمیت 33 ملزموں پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔
    واضح رہے کہ سال 2013 میں زیارت میں دہشت گردوں نے قائداعظم محمد علی جناح کی آخری قیام گاہ زیارت ریزیڈنسی میں بم سے تباہ کرنے کی کوشش کی، جب کہ آتشزدگی کے باعث لکڑی کی بنی عمارت کا آدھے سے زیادہ حصہ مکمل طور پر جل گیا تھا۔ دہشت گردوں نے ریزیڈنسی میں ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکار کو بھی فائرنگ کرکے شہید کیا تھا۔
    حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم کی جانب سے قبول کی گئی تھی۔ 4 سال قبل بلوچستان کے علاقے سنگان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران کالعدم تنظیم کے 10 دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے جن میں ریذیڈنسی حملے میں ملوث کمانڈر اسلم اچھو بھی شامل تھا،12دہشت گردوں کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔

  • پولیس کی کامیاب کارروائی،بھاری مقدار میں منشیات برآمد

    پولیس کی کامیاب کارروائی،بھاری مقدار میں منشیات برآمد

    جیکب آباد۔ (اے پی پی) جیکب آباد پولیس کی کامیاب کارروائی،بھاری مقدار میں منشیات برآمد،اسمگلنگ میں ملوث 03 اسمگلر/ ملزمان گرفتار۔تفصیلات کے مطابق جیکب آبادپولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے تھانہ صدر کی حدود شمبے شاہ چوک پوسٹ سے بلوچستان سے براستہ بائے پاس جیکب آباد میں داخل ہونے والی ایک کارBCH-687 میں چیکنگ کے دوران کار کے خفیہ حصوں میں فٹ کیا ہوا 260 کلو گرام چرس برآمدکرلیا، جبکہ 03 ملزماں عابد احمد بنگلزئی، محمد یونس کاکڑ مسمات ندا بنت بھٹی کو گرفتار کرلیا گیا، تھانہ صدر پہ مقدمہ درج کردیا گیاہے۔

  • زیارت ریزیڈنسی حملہ کیس کا فیصلہ عدالت نے سنا دیا

    زیارت ریزیڈنسی حملہ کیس کا فیصلہ عدالت نے سنا دیا

    انسداد دہشت گردی عدالت کوئٹہ نے زیارت ریزیڈنسی حملہ کیس کا فیصلہ سنا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت کوئٹہ نے زیارت ریزیڈنسی حملہ کیس کا فیصلہ سنا دیا ،انسداد دہشت گردی عدالت نےعدم ثبوت کی بناپر تمام ملزمان کو بری کردیا ،

    زیارت ریزیڈنسی نذرآتش کیس میں 15ملزمان نامزد تھے ،انسداددہشت گردی عدالت کے جج رحیم داد خلجی نے کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، آج عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا اور تمام ملزمان کو بری کر دیا، عدالت نے رواں ماہ ہی فیصلہ محفوظ کیا تھا

    کے پی ٹورازم ڈیپارٹمنٹ نے پاکستان کی پہلی ٹورازم موبائل ایپ متعارف کرا دی

    سیاحت کے فروغ کے لئے عمران خان کی آزاد کشمیر حکومت کو ہدایت

    استغاثے کے مطابق زیارت ریزیڈ نسی نذرآتش کیس میں 13ملزمان شامل تفتیش ہیں، جن میں سے 2 زیرحراست جبکہ 11 ضمانت پر ہیں۔ زیارت ریزیڈنسی نذرآتش کا واقعہ 2013ء میں پیش آیا تھا۔عمارت پر قریبی پہاڑوں سے راکٹ حملہ کیا گیا تھا جس سے تاریخی عمارت جل گئی تھی،

    مرنا ، جینا کشمیریوں کے ساتھ ، محکمہ سیاحت پنجاب نے بھی کشمیریوں سے یکجہتی کا بھرپور اظہار کیا

  • کوئٹہ،کسٹمز بلوچستان کے رویئے کیخلاف تاجر برادری کا اجلاس

    کوئٹہ:-(رپورٹ)آل بلوچستان ایکسپورٹرز،امپورٹرز ،کلئیرنگ ایجنٹس اور اسٹیک ہولڈرز نے چیف کلکٹر کسٹم کوئٹہ بلوچستان چوہدری ذوالفقار اور کلکٹر پروینٹو کسٹم کے ناروا روئیے کے خلاف غیر معینہ مدت تک کاروباری سرگرمیاں معطل رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے اس سلسلے میں احتجاج،میڈیا، لیگل،پولیٹیکل اورٹرانسپورٹ کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں۔ اتوار کے روز ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان میں آل بلوچستان ا یکسپورٹرز،امپورٹرز ،ٹرانسپورٹر اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کا مشترکہ اجلاس چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے صدر حاجی غلام فاروق کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہو ہے صدر چیمبر آف کامرس حاجی غلام فاروق نے کہا کہ چیف کلکٹر کسٹم چوہدری ذوالفقار اور کلکٹر پروینٹو کسٹم کوئٹہ کے ناروا روئیے اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے صوبے میں آج چھٹے روز بھی تمام تر کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں بلکہ آج ہم اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ آل بلوچستان ایکسپورٹرز ،امپورٹرز ،ٹرانسپورٹرز ،کلئیرنگ ایجنٹس اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کا احتجاج مطالبات تسلیم ہونے تک جاری رہے گا انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو احتجاج کے دوران مثالی اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ صنعت و تجارت کسی طور بھی صوبے میں قانونی تجارت پر قد غن کو برداشت نہیں کر ے گی، انہوں نے کہا کہ صوبے میں قانونی تجارت کا واضح ثبوت صنعت و تجارت و دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کا سالانہ بنیادوں پر قومی خزانے میں 25 سے 30 ارب روپے جمع کرنا ہے ،انہوں نے کہا کہ قانونی کاروبار کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کا بہر صورت راستہ روکا جائے گا ۔حاجی غلام فاروق نے حاجی فوجان بڑیچ کی سربراہی میں احتجاج (ہڑتال) کمیٹی،صلاح الدین خلجی کی سربراہی میں میڈیا کمیٹی،صمد موسی خیل کی سربراہی میں لیگل کمیٹی،فدا بلوچ کی سربراہی میں سیاسی کمیٹی اور ٹرانسپورٹ کمیٹی کا اعلان کیا اور ہدایت کی کہ کمیٹی سربراہان اپنی مرضی کے رضاکاران کے نام آج پیر تک فائنل کر کے دیں تاکہ ان کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جا سکیں انہوں نے کہا کہ آل بلوچستان ایکسپورٹ،امپورٹ،ٹرانسپورٹ ،کلئیرنگ ایجنٹس و دیگر اسٹیک ہولڈرز اس احتجاج کو منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔انہوں نے کہا کہ کسٹم و دیگر نے ایک ایک کر کے تمام آئٹمز کے امپورٹ اور ایکسپورٹ کو ہمارے لئے تقریباً ناممکن بنا دیا ہے اب یہاں کے تجارت سے وابستہ افراد صرف چند گنے چنے آئٹمز کا ہی کاروبار کر رہے ہیں ہماب مزید کسی کو بھی صوبے میں قانونی تجارت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر نے کی اجازت نہیں دیں گے ،انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں تجارت سے وابستہ افراد کو مثالی اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہیں۔

  • مزدا ٹرک اور رکشے میں تصادم سے  ایک شخص جاں بحق،دوسرا زخمی

    مزدا ٹرک اور رکشے میں تصادم سے ایک شخص جاں بحق،دوسرا زخمی

    کوئٹہ(اے پی پی)کراچی سے کوئٹہ آنے والے مزدا ٹرک اور رکشے میں تصادم سے ایک شخص جاں بحق اوردوسرا زخمی ہوگیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ہفتے کو کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر کراچی سے کوئٹہ آنے والے تیز رفتار مزدا ٹرک اور رکشے کے درمیان تصادم کے نتیجے میں دوافراد شدید زخمی ہوگئے جنہیں پولیس نے نزدیک واقع گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال خضدار پہنچایا جہاں طبی امداد کے دوران رکشہ ڈرائیور اسامہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا جبکہ زخمی احمد کو طبی امداد دی جارہی ہے۔ پولیس نے مزدا ڈرائیور محمد ابراہیم کو گرفتار کرکے واقعے سے متعلق مزید تفتیش شروع کردی ہے۔

  • سابق ایم ڈی واسا کرپشن کیس میں اہم پیشرفت.

    سابق ایم ڈی واسا حامد لطیف رانا کرپشن کیس میں ٹھیکدار کی جانب سے اہم بیان سامنے آگیا، ٹھیکدار نورالحق نے ایک کروڑ ستر لاکھ کا ٹھیکہ حاصل کرنے کے عوض سابق ایم ڈی واسا کو 36 لاکھ رشوت دینے کا اعتراف کرلیا ہے، ٹھیکدار کا احتساب عدالت میں بیان قلمبند۔
    احتساب عدالت ون کے جج پزیر بلوچ کی عدالت میں حامد لطیف رانا کرپشن کیس کی کاروائی کے دوران ٹھیکدار نور الحق نے اپنا بیان قلمبند کراتے ہوئے معزز عدالت کو بتایا کہ اسے سرکاری ٹھیکہ حاصل کرنے کے لئے مجبوراً سابق ایم ڈی واسا کو بھاری رقم ادا کرنا پڑی نیب کی جانب سے سینئر پراسیکیوٹر ضمیر احمد پیش ہوئے اور واضح رہے کہ نیب بلوچستان نے سابق ایم ڈی واسا حامد لطیف رانا سمیت 11ملزمان کے خلاف ضمنی ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کیا ہے۔
    نیب کی تحقیقات کے مطابق سابق ایم ڈی واسا نے اپنے عزیز اقرباء اور دوستوں کی معاونت سے دورانِ ملازمت بڑے پیمانے پر کرپشن کرتے ہوئے 35 کروڑ 40 لاکھ کے غیر قانونی اثاثے بنائے اور قومی احتساب بیورو بلوچستان نے سابق ایم ڈی واسا حامد لطیف رانا کو اگست 2017 میں گرفتار کر کے جیل بھیجوا دیاتھا تاہم غیر قانونی اثاثہ جات کیس میں کچھ مزید شواہد اور معلومات کی روشنی میں مزید اثاثوں کی بھی تحقیقات جاری ہے۔

  • کوئٹہ میں ہوئی بڑھی کروائی

    کوئٹہ میں سی ٹی ڈی اور حساس اداروں نے مشترکہ کاروائی کی جس میں کالعدم تنظیم لشکرجھنگوہ العالمی کا ٹارگٹ کلر گرفتار ہوا امان اللہ نامی ٹارگٹ کلر کو مشرقی بائی پاس سے گرفتار کیا گیا ٹارگٹ کلر پولیس اہلکاروں اور فرقہ ورانہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھا اور بلوچستان حکومت نے ٹارگٹ کلر کی گرفتاری پر 5 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا تھا، ترجمان سی ٹی ڈی۔