Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • جوان اپنے بچو ں کو یتیم کرکے لاکھوں بچوں کو یتیم ہونے سے بچا رہے ہیں،وزیراعظم

    جوان اپنے بچو ں کو یتیم کرکے لاکھوں بچوں کو یتیم ہونے سے بچا رہے ہیں،وزیراعظم

    کوئٹہ:وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کو رمضان میں بچوں، خواتین اور بزرگوں کا ذرا بھی خیال نہیں آیا، ایسا واقعہ شاید پاکستان کی تاریخ میں کبھی پیش نہیں آیا –

    باغی ٹی وی : وزیراعظم شہباز شریف نے کوئٹہ میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تین دن پہلے بولان میں دہشتگردوں نے ایک ٹرین جس میں 400 سے زائد پاکستانی سفر کر رہے تھے انہیں یرغمال بنایا اور متعدد کو شہید کردیا۔

    انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کو رمضان میں بچوں، خواتین اور بزرگوں کا ذرا بھی خیال نہیں آیا، ایسا واقعہ شاید پاکستان کی تار یخ میں کبھی پیش نہیں آیا اور اس ویرانے میں بے یار و مددگار مسافر بیٹھے ہوئے تھے جو عید منانے کے لیے پنجاب، خیبرپختونخوا اور دیگر علاقوں کی طرف جا رہے تھے، ان میں فوجی جوان بھی شامل تھےسیکیورٹی فورسز نے 339 یرغمالیوں کو رہا کردیا جبکہ 33 دہشت گردوں کو واصل جہنم کیا۔

    امدای سامان پر مشتمل 450 سے زائد گاڑیوں کا قافلہ پارہ چنار روانہ

    وزیراعظم نے کہا کہ آج تو ہم نے ان بے رحم درندوں سے معصوم پاکستانیوں کی جان چھڑالی مگر خدا نخواستہ پاکستان ہم سب کسی ایسے دوسرے حادثے کے متحمل نہیں ہوسکتے، اس کے لیے ہمیں سب کو مل کر حصہ ڈالنا ہے، بلوچستان کی حکومت، اکابرین، عوام، وفاقی حکومت اور سب کو مل کر اپنا حصہ ڈالنا ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی اور خوش حالی جب تک دیگر صوبوں کے ہم پلہ نہیں ہوگی تب تک پاکستان کی ترقی اور خوش حالی نہیں ہوگی، اسی طرح جب تک صوبہ کے پی اور بلوچستان میں دہشت گردی مکمل طور پر ختم نہیں ہوگی، پاکستان میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔

    صدر پاکستان کے خطاب پر بات کرنا چاہتا تھا مگر نہیں کرنا چاہتا،فاروق ستار

    انہوں نےکہا کہ 2018 میں دہشتگردی کا خاتمہ ہوگیا تھا، 80 ہزار پاکستانیوں کی قربانی کا نذرانہ پیش کرنا پڑا اور 30 ارب ڈالر کی معیشت کو تباہ کن نقصان پہنچا، اس وقت نواز شریف وزیراعظم تھے، فوج، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی قربانیوں سے یہ امن قائم ہوا تھا۔

    دہشت گردی پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دوبارہ اس دہشت گردی کے ناسور نے سر کیوں اٹھایا، اس کا سر جو کچلا جاسکتا تھا، یہ وہ سوال ہے جو کئی بار اٹھا ہے، کسی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جو طالبان سے اپنے دل کا رشتہ جوڑ نے اور بتانے میں تھکتے نہیں، انہوں نے ہزاروں طالبان کو دوبارہ چھوڑا یہاں تک کہ ایسے گھناؤنے کردار جو بالکل کالا چہرہ ہے ان کو بھی چھوڑا گیا، اس وقت فوج کے جوان اور افسر خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دن رات قربانیاں دے رہے ہیں اور وہ افسر اور جوان اپنے بچو ں کو یتیم کرکے لاکھوں بچوں کو یتیم ہونے سے بچا رہے ہیں۔

    مریم نواز کا گردےعطیہ کرنیوالے تمام افراد کو خراج تحسین

  • وزیراعظم شہباز شریف کا کوئٹہ کا دورہ، سیکیورٹی صورتحال پر اعلیٰ سطحی اجلاس

    وزیراعظم شہباز شریف کا کوئٹہ کا دورہ، سیکیورٹی صورتحال پر اعلیٰ سطحی اجلاس

    کوئٹہ(باغی ٹی وی) وزیراعظم میاں شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے، جہاں وہ سانحہ جعفر ایکسپریس کے تناظر میں سیکیورٹی صورتحال پر اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کریں گے۔

    وزیراعظم کی کوئٹہ آمد پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ان کا استقبال کیا۔ ان کے ہمراہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احسن اقبال، عطاء تارڑ اور خالد مگسی بھی موجود ہیں۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم کو بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال، جعفر ایکسپریس حملے، اور دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر بھی اجلاس میں شرکت کے لیے کوئٹہ پہنچیں گے۔

    وزیراعظم شہباز شریف سیاسی رہنماؤں اور قبائلی عمائدین سے ملاقات کے علاوہ سانحہ جعفر ایکسپریس کے شہداء کی نماز جنازہ میں بھی شرکت کریں گے۔

    واضح رہے کہ سیکیورٹی فورسز نے جعفر ایکسپریس حملے میں ملوث 33 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے، جبکہ اس افسوسناک واقعے میں 21 مسافر اور 4 جوان شہید ہوئے تھے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق دہشت گردوں نے ٹرین کو بولان کے علاقے اوسی پور میں دھماکے سے نشانہ بنایا اور یرغمال بنائے گئے مسافروں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔

    بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے پیش نظر وزیراعظم کے اس دورے کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں سیکیورٹی حکمت عملی سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں۔

  • جعفر ایکسپریس کے بازیاب مسافروں کا پاک فوج اور ایف سی کو خراج تحسین

    جعفر ایکسپریس کے بازیاب مسافروں کا پاک فوج اور ایف سی کو خراج تحسین

    جعفر ایکسپریس پر دہشتگردانہ حملے میں بازیاب ہونے والے مسافروں کا کہنا ہے کہ ایف سی کے جوانوں نے ہمارا بہت خیال رکھا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق بازیاب مسافر نے کہا کہ پنیر ریلوے سٹیشن سے ہم مال گاڑی کے ذریعے مشک آئیں ہیں، ایف سی کے جوانوں نے ہماری بہت خدمت کی ہے ہمارا روزہ بھی کھلوایا ہے، مشک میں ہمیں کھانا بھی دیا گیا اور یہاں بھی ہماری بڑی خدمت کی گئی ہے۔ایک بازیاب مسافر نے کہا کہ ” جعفر ایکسپریس سانحہ کے بعد ہمیں پاک آرمی اور ایف سی نے یہاں سبی پہنچایا گیا ہے جہاں سے ہمیں پنجاب روانہ کیا جائے گا“۔

    بازیاب مسافر نے کہا کہ جعفر ایکسپریس میں اچانک دھماکا ہوا اور اس کے بعد فائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں، ایف سی نے ہمیں فوری ریسکیو کیا، آٹھ نمبر ٹنل کے قریب کچھ دہشتگردوں نے حملہ کیا، بم دھماکا بھی کیا جس سے ٹریک کو بھی نقصان پہنچا، ایف سی کے جوانوں نے بہت اچھا ردعمل دیا اور دہشتگردوں کی قید سے ڈیڑھ دو سو مسافروں کو رہا کرا لیا ہے۔

    جعفر ایکسپریس حملہ آپریشن مکمل، 33 دہشتگرد جہنم واصل، 21 مسافر، 4 ایف سی جوان شہید

    جعفر ایکسپریس حملہ، امریکا، چین، روس، ایران، ترکیہ اور یورپی یونین کی شدید مذمت

    وزیراعظم کا کل کوئٹہ کے دورے کا امکان

    سرفراز احمد کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کےٹیم ڈائریکٹر مقرر

    شرجیل میمن سے برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنرکی ملاقات

  • جعفر ایکسپریس حملہ، 104 مسافرباحفاظت باز یاب، 16دہشت گرد ہلاک

    جعفر ایکسپریس حملہ، 104 مسافرباحفاظت باز یاب، 16دہشت گرد ہلاک

    کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملے اور 500 مسافروں کو یرغمال بنانے کے بعد کلیئرنس آپریشن میں 16 دہشت گرد ہلاک ہوگئے جبکہ فورسز نے 104 مسافروں کو رہا کروالیا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹس کے مطابق آج صبح ساڑھے نو بجے ٹرین کوئٹہ سے روانہ ہوئی، جب ٹرین گڈالار اور پیرو کنری کے علاقے سے گزری تو وہاں نامعلوم مسلح افراد نے ٹرین پر فائرنگ کردی، جس نتیجے میں ڈرائیور شدید زخمی ہوگیا جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا، ساتھ ہی متعدد مسافر بھی جاں بحق ہوچکے ہیں۔عینی شاہدین اور لیویز ذرائع کے مطابق مچھ کی پہاڑیوں کے درمیان یہ واقعہ پیش آیا ہے، جہاں جعفر ایکسپریس کو روک دیا گیا بعدازاں فائرنگ کی آوازیں کافی دیر تک آتی رہیں۔

    80 مسافر بازیاب

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کلیئرنس آپریشن کے دوران 80 یرغمال مسافروں کو سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں سے رہا کروا لیا، جن میں 43 مرد، 26 عورتیں اور 11 بچے شامل ہیں۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق باقی مسافروں کی با حفاظت رہائی کے لئے سیکیورٹی فورسز کوشاں ہیں، دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔

    13 دہشت گرد ہلاک

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جعفر ایکسپریس حملہ می ملوث 13 دہشت گردوں کو کلیئرنس آپریشن کے دوران ہلاک کردیا گیا ہے جبکہ آپریشن کے باعث دہشت گرد چھوٹی ٹولیوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ذرائع نے بتایا کہ زخمی مسافروں کو قریبی ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا جبکہ سیکیورٹی فورسز کی اضافی نفری علاقے میں آپریشن میں حصہ لے رہی ہے۔ریلوے پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریل وہیں روک دی گئی ہے، ٹرین میں کم از کم 500 مسافر سوار ہیں، کئی مسافروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں تاہم تصدیق کا عمل جاری ہے۔

    ڈی ایس ریلوے کے پی آر او کے مطابق تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، سبی سے ایمبولینسز جائے وقوع روانہ کردی ہیں۔سیکیورٹی فورسز کے ذرائع کے مطابق یہ مچھ کی پہاڑیوں کا درمیانی علاقہ ہے جس کا سیکیورٹی فورسز نے محاصرہ کرلیا ہے، مزید کانوائے روانہ کردیے گیے ہیں۔ملزمان کے فرار ہونے کی فی الحال کوئی اطلاعات نہیں ہیں بلکہ اطلاعات یہ آرہی ہیں کہ ملزمان نے مسافروں کو یرغمال بنالیا ہے اور قابض ہوکر بیٹھ گئے ہیں اور علاقے میں وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

    دھماکے سے پٹڑی تباہ کرکے ٹرین روکی گئی

    ذرائع کے مطابق ریلوے لائن کو پہلے دھماکا خیز مواد سے تباہ کرکے ٹرین کو روکا گیا پھر فائرنگ کی گئی جس میں ڈرائیور سمیت کئی مسافر جاں بحق ہوئے۔ریلوے حکام کا کہنا ہےکہ ٹرین جہاں پر موجود ہے وہاں موبائل نیٹ ورک کام نہیں کرتا اس لیے رابطے میں مشکلات کا سامنا ہے، جعفر ایکسپریس 9 بوگیوں پر مشتمل ہے جس میں 500 کے قریب مسافر سوار ہیں، مسافروں اور عملے سے رابطے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    دہشت گردوں نے معصوم مسافروں کو یرغمال بنایا

    دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ آج بولان پاس، ڈھاڈر کے مقام پر کالعدم بی ایل اے کے دہشت گردوں نے جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے معصوم شہریوں کو ٹارگٹ کیا، جس میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں، دہشت گردوں نے جعفر ایکسپریس کو ٹنل میں روک کر مسافروں کو یرغمال بنایا ہوا ہے، انتہائی دشوار گزار اور سڑک سے دور ہونے کے باوجود، سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے معصوم مسافروں کو یرغمال بنا رکھا ہے جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے، دہشت گرد بیرون ملک اپنے سہولت کاروں سے رابطے میں ہیں، دہشت گردوں کے خاتمے تک کلیئرنس آپریشن جاری رہے گا۔دہشت گردوں کا معصوم مسافروں کو نشانہ بنانا اس بات کی غمازی کرتا ہے کے ان دہشت گردوں کا دین اسلام، پاکستان اور بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان کا 90 فیصد سے زائد علاقہ ہے، جہاں لیویز فورس تعینات ہے۔ فورس کی صرف 40 فیصد نفری حاضر رہتی ہے، جبکہ باقی سرداروں کی ذاتی ملازمت میں ہے۔ پولیس فورس کا دائرہ کار بھی صرف 10 فیصد علاقوں تک محدود ہے۔لیویز فورس کے 83,000 اہلکاروں کو 92 ارب روپے کا خطیر بجٹ دیا جاتا ہے لیکن ان کی کارکردگی اب تک غیر تسلی بخش رہی ہے۔ فورس کی تربیت اور استعداد میں سنگین خامیاں موجود ہیں، جو سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں ناکامی کی بڑی وجہ ہیں۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بولان ایک انتہائی دشوار گزار اور دور دراز علاقہ ہے، جہاں سڑکوں کا مناسب نظام موجود نہیں، اس وقت سیکیورٹی فورسز علاقے میں کلیئرنس آپریشن کر رہی ہیں تاکہ دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔

    انفارمیشن ڈیسک قائم

    جعفر ایکسپریس واقعے کے بعد مسافروں کی معلومات کیلیے ہیلپ ڈیسک قائم کردیا ہے جبکہ پشاور اور کوئٹہ سے جانے والی ٹرینوں کو سبی کے مقام پر روک دیا گیا ہے۔حملے کے ماسٹر مائنڈ افغانستان سے رابطے میں ہیں.سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جعفر ایکسپریس پر بزدلانہ حملے کے دہشت گرد، افغانستان میں اپنے ماسٹر مائنڈ سے رابطے میں ہیں جنہوں نے عورتوں اور بچوں کو ڈھال بنایا ہوا ہے، سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا گھیراؤ کر لیا ہے اور فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔

    ذرائع کے مطابق عورتوں اور بچوں کو ڈھال بنائے جانے، مشکل علاقہ ہونے کی وجہ سے پیچیدہ آپریشن انتہائی اختیاط سے کیا جا رہا ہے، سیکیورٹی فورسز آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رکھیں گی۔

    ’حملے کے بعد سوشل میڈیا پر بھارتی پروپیگنڈا کیا جارہا ہے‘

    دوسری جانب بھارتی میڈیا اور بھارتی حکومت اس واقعے پر کھل کر جشن منارہے ہیں اور بھارتی میڈیا بھرپور انداز میں اس حملے کی رپورٹنگ کر رہا ہے۔بھارتی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بی ایل اے کے پروپیگنڈے اور جعلی خبروں کو ہوا دینے میں مصروف ہیں۔ اس بزدلانہ حملے کے پیچھے بھارت کی مکمل پشت پناہی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اطلاعات کے مطابق بی ایل اے کے دہشت گرد اس وقت بھی اپنے بھارتی اور دیگر غیر ملکی آقاؤں سے رابطے میں ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ جعفر ایکسپریس پر دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے کے بعد انڈین اور ملک دشمن سوشل میڈیا غیر معمولی طور پر متحرک ہے اور گمراہ کن معلومات پھیلا کر جھوٹا پروپیگنڈا پھیلاجارہا ہے۔پروپیگنڈا اور فیک نیوز پھیلانے میں پرانی ویڈیوز، اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز، پرانی تصاویر، فیک واٹس ایپ پیغامات اور پوسٹرز کے ذریعے ہیجان پیدا کرنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق مذموم سوشل میڈیا مہم کے ذریعے لوگوں میں ہیجان پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے، دہشت گردوں سے جڑے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی پاکستان مخالف زہر اگلنے میں ہندوستانی میڈیا کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہندوستانی میڈیا پاکستان سے باہر بیٹھے خود ساختہ بھگوڑے بلوچ رہنماؤں کے تجزیے دیکھا کر لوگوں کو گمراہ کرنے میں مصروف ہے، عوام سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے گمراہ کن اور من گھڑت پروپیگنڈا کی بجائے مستند ذرائع سے دی جانے والی معلومات پر اکتفا کریں۔

    صدر مملکت اوروزیراعظم کی حملے کی شدید مذمت

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے جعفر ایکسپریس پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نہتے مسافروں پر حملے غیر انسانی اور مذموم عمل ہے، بلوچ قوم ایسے عناصر اور حملوں کو مسترد کرتی ہے۔وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی ڈھاڈر، بولان پاس میں جعفر ایکسپریس پر بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری کاروائی میں سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکار بہادری و پیشہ ورانہ مہارت سے انکا سدباب کر رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ دشوار گزار راستوں کے باوجود آپریشن میں شامل سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کے حوصلے بلند ہیں، سیکورٹی فورسز بروقت کاروائی اور بہادری سے بزدل دہشت گردوں کو پسپائی کی جانب دھکیل رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکار بہت جلد اس آپریشن میں کامیاب ہونگے اور بزدل دھشتگردوں کو انکے انجام تک پہنچائیں گے، بزدلانہ حملہ کرنے والے حیوان صفت دہشت گرد کسی رعایت کے مستحق نہیں اور یہ بلوچستان کی ترقی کے دشمن ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردوں کا رمضان المبارک کے پر امن اور بابرکت مہینے میں معصوم مسافروں کو نشانہ بنانا اس بات کی واضح عکاسی ہے کہ ان دہشت گردوں کا دین اسلام، پاکستان اور بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کی عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے، پاکستان میں بد امنی و انتشار پھیلانے والی ہر سازش کو ناکام بنائیں گے۔ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے، دہشت گردی کی اس جنگ میں پوری قوم اپنی سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

    پنجاب: اسکول ایجوکیشن کیلئے“سی ایم ایجوکیشن کارڈ“ متعارف کرانے کا فیصلہ

    میری ٹائم وزارت میں زمین کے گھپلے کے بعد ایک اور بڑا اسکینڈل

  • وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا محکمہ زکوٰۃ کو ختم کرنے کا اعلان

    وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا محکمہ زکوٰۃ کو ختم کرنے کا اعلان

    وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بلوچستان میں محکمہ زکوٰۃ کے خاتمے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محکمہ زکوٰۃ سالانہ 30 کروڑ روپے مستحقین میں تقسیم کرتا ہے، لیکن اس پر خرچ ہونے والے اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ سرفراز بگٹی نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ زکوٰۃ پر 1 ارب 60 کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں تاکہ صرف 30 کروڑ روپے مستحقین تک پہنچ سکیں۔

    وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ محکمہ زکوٰۃ کے پاس اس رقم کی تقسیم کے لیے 80 گاڑیاں موجود ہیں، مگر پچھلے 2 سالوں سے مستحقین میں زکوٰۃ کی رقم تقسیم نہیں کی گئی۔ سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نظام مؤثر نہیں ہے اور عوامی پیسے کا ضیاع ہو رہا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ اب یہ 30 کروڑ روپے ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے غریبوں میں تقسیم کرائے جائیں گے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ اس عمل کو مزید شفاف اور مؤثر بنایا جائے، تاکہ غریبوں تک زکوٰۃ کی رقم براہ راست پہنچ سکے۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان کے اس فیصلے کے بعد صوبے میں محکمہ زکوٰۃ کے کردار اور مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عوامی فلاح کے لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ وسائل کا بہتر استعمال ہو سکے۔

  • کوئٹہ،ہزار گنجی میں گیس لیکج کے باعث دھماکا، 2 خواتین کی موت

    کوئٹہ،ہزار گنجی میں گیس لیکج کے باعث دھماکا، 2 خواتین کی موت

    کوئٹہ: ہزار گنجی کے علاقے میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں گیس لیکج کے باعث دھماکے میں ماں اور بیٹی جاں بحق ہوگئیں، جبکہ ایک بچہ زخمی ہوگیا۔

    ہزار گنجی کے علاقے کلی خزاں میں رہائشی ہمایوں خان کے گھر میں گیس بھر جانے کی وجہ سے دھماکا ہوا۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ قریبی گھروں میں بھی اس کی آواز سنائی دی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حادثے میں ہمایوں خان کی اہلیہ اور 10 سالہ بیٹی بی بی زویا موقع پر ہی دم توڑ گئیں، جبکہ ان کا بیٹا رئیس خان زخمی ہوگیا۔ زخمی بچے کو فوری طور پر سول اسپتال کے برنس وارڈ منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد اسے گھر بھیج دیا گیا۔واقعے کے بعد پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں مکمل کیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گھر میں رات کے وقت گیس لیک ہونے کے باعث کمرے میں گیس بھر گئی، اور جیسے ہی صبح چولہا جلایا گیا تو دھماکا ہوگیا۔

    پولیس نے مزید بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں گھر کا کچھ حصہ بھی متاثر ہوا ہے۔ حکام کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ سردیوں میں گیس لیکج کے واقعات سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور رات کے وقت گیس ہیٹر یا چولہے بند کرنا نہ بھولیں۔

  • افغان دراندازی کے مزید شواہد سامنے آگئے

    افغان دراندازی کے مزید شواہد سامنے آگئے

    بلوچستان میں پاک افغان سرحد کے قریب سیکیورٹی فورسز نے ایک اہم آپریشن میں کامیابی حاصل کی ہے، جس کے دوران افغانستان سے دہشت گردوں کی پاکستان میں دراندازی کے مزید شواہد سامنے آئے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں افغان دہشت گردوں کی ملوثیت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، اور افغانستان سے دہشت گردوں کی پاکستان میں دراندازی میں شدت آئی ہے۔ مختلف دہشت گرد تنظیمیں افغان طالبان کی مکمل حمایت، سہولت کاری اور سرپرستی حاصل کر رہی ہیں۔

    5 مارچ 2025 کو بلوچستان کے علاقے ٹوبہ کاکڑی میں سیکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب آپریشن کے دوران 4 اہم دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔ ان دہشت گردوں کے قبضے سے کلاشنکوفیں، دستی بم اور دیگر آتشیں اسلحہ برآمد ہوا۔ گرفتار دہشت گردوں نے دہشت گردی کی بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کا اعتراف کیا ہے۔ ایک دہشت گرد نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ "میرا نام اسام الدین ہے، والد کا نام گلشاد ہے، اور میں افغانستان سے آیا ہوں۔ ہمارا نظریہ ہماری ٹریننگ ہے۔ میرے پاس دو بندوقیں، دو کلاشنکوف، ایک گرنیڈ، اور دیگر اسلحہ تھا۔ ہم افغانستان سے 3 دن پہلے پاکستان میں داخل ہوئے اور سرحدی باڑ کے ذریعے رات میں پاکستان میں گھسے تھے۔ ہمارا مقصد پشین جانا تھا۔”

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کی کامیابی میں مقامی لوگوں کا اہم کردار تھا، جنہوں نے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی۔ گرفتار دہشت گردوں کو مزید تفتیش کے لیے ایک نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی کئی افغان دہشت گرد سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک یا گرفتار ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والے افغان دہشت گردوں میں افغان صوبے باغدیس کے گورنر کا بیٹا خارجی بدرالدین بھی شامل تھا، جو 28 فروری 2025 کو ہلاک ہوا۔ اسی طرح، 28 فروری 2025 کو ہلاک ہونے والا افغان دہشت گرد مجیب الرحمان، جو افغانستان کی حضرت معاذ بن جبل نیشنل ملٹری اکیڈمی میں کمانڈر تھا، بھی اس کارروائی کا شکار ہوا۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی لوگوں کا دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ لڑنا ایک خوش آئند امر ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی لہر میں اضافے کی بنیادی وجہ افغانستان کی سرزمین پر پنپنے والی دہشت گرد تنظیمیں ہیں۔ افغانستان دہشت گردوں کا آماجگاہ بن چکا ہے، اور اس پر بین الاقوامی سطح پر فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے ساتھ پاکستان میں داخل ہونے والے زیادہ تر افغان شہری یا تو مارے جاتے ہیں یا پکڑے جاتے ہیں۔ پاکستان کے بار بار شواہد دینے کے باوجود افغان عبوری حکومت کی خاموشی دراصل دہشت گردوں کی حمایت ہے۔

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن اور مقامی لوگوں کی مدد سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی یہ کامیابی ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس آپریشن نے نہ صرف دہشت گردوں کی دراندازی کو روکنے میں مدد دی بلکہ عالمی سطح پر افغانستان میں پناہ گزین دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔

  • سیکیورٹی فورسز کی کارروائی،پشین میں دہشت گردی کا منصوبہ ناکام

    سیکیورٹی فورسز کی کارروائی،پشین میں دہشت گردی کا منصوبہ ناکام

    پشین: سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے توبہ کاکڑی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنادیا۔ کارروائی کے دوران چار خطرناک دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

    لیویز حکام کے مطابق، گرفتار دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔ برآمد شدہ اسلحے میں راکٹ لانچر، اینٹی ٹینک مائنز، خودکش جیکٹس میں استعمال ہونے والے آلات، مختلف اقسام کا بارود اور دیگر بارودی مواد شامل ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کو مزید تفتیش کے لیے ایک خفیہ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، گرفتار دہشت گردوں کا تعلق افغانستان سے ہے اور وہ بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے متعدد واقعات میں ملوث رہے ہیں۔سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف ایک ممکنہ بڑے دہشت گرد حملے کو ناکام بنایا بلکہ علاقے میں امن و امان کو یقینی بنانے کی کوششوں کو مزید مضبوط کیا ہے۔ اس کامیاب آپریشن پر عوامی حلقوں کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کی بھرپور تعریف کی جارہی ہے۔

    دہشت گردوں کی گرفتاری کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں مزید سرچ آپریشن بھی شروع کردیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا بروقت سدباب کیا جاسکے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوراً قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں تاکہ ملک دشمن عناصر کے عزائم کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔

  • خضدار میں بم دھماکہ، تین افراد ہلاک، سات زخمی

    خضدار میں بم دھماکہ، تین افراد ہلاک، سات زخمی

    خضدار: بلوچستان کے ضلع خضدار کی تحصیل نال کے بازار میں ہونے والے بم دھماکے میں تین افراد ہلاک اور سات زخمی ہوگئے۔ دھماکا نال بازار میں ہوا جس کے نتیجے میں ایک گاڑی اور متعدد موٹر سائیکلیں تباہ ہوگئیں۔

    ڈپٹی کمشنر خضدار یاسر اقبال دشتی نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملے کا ہدف صمد سمالانی نامی شخص تھا، تاہم وہ دھماکے میں محفوظ رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ بم دھماکے کی نوعیت اور اس کے پیچھے محرکات کی تحقیقات جاری ہیں۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں تین افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، جبکہ سات افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی طبی مراکز منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد شدید زخمیوں کو مزید علاج کے لیے خضدار کے گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال بھیج دیا گیا۔واقعے کے فوراً بعد لیویز اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا۔ بم دھماکے کے ذمہ دار عناصر کی تلاش کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ دھماکے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، اور مقامی دکانداروں نے اپنی دکانیں بند کر دیں۔ مقامی انتظامیہ نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے اور مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع فورسز کو دینے پر زور دیا ہے۔

  • قلات خود کش حملہ،خاتون کیسے بمبار بنی؟

    قلات خود کش حملہ،خاتون کیسے بمبار بنی؟

    بلوچستان کے ضلع قلات میں ہونے والے حالیہ خودکش حملے میں ملوث لڑکی کی شناخت گنجاتون عرف بارمش کے طور پر ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، وہ گوادر کے رہائشی میران بخش کی بیٹی تھی اور چھ بھائیوں اور تین بہنوں کے ساتھ ایک بڑے اور معاشی طور پر کمزور خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کا والد مزدور تھا، لیکن نشے کا عادی ہونے کے بعد اس نے اپنے گھر اور بچوں پر توجہ دینا چھوڑ دی، جس کی وجہ سے خاندان شدید غربت کا شکار ہو گیا۔

    گنجاتون کی کہانی شہری بلوچ، ماہل بلوچ اور عدیلہ بلوچ سے مختلف نہیں ہے۔مشکل حالات کے باوجود، گنجاتون نے اپنی تعلیم جاری رکھی اور کالج میں اچھے نمبر حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ اس کے بعد اس نے گوادر یونیورسٹی میں داخلہ لیا، جہاں اس کی ملاقات کامران ولد حسن سے ہوئی، جو کہ تعلیم کے شعبے کا طالب علم تھا اور مبینہ طور پر بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) سے بھی وابستہ تھا۔یونیورسٹی میں دونوں کے درمیان دوستی بڑھی، اور وہ اکثر کلاسز سے غیر حاضر رہنے لگے۔ نتیجتاً، گنجاتون نے پہلے ہی سمسٹر میں تعلیمی مسائل کا سامنا کیا اور آخرکار یونیورسٹی چھوڑ دی، جبکہ کامران نے بھی تیسرے سمسٹر میں تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔

    کامران نے گنجاتون کی کئی ذاتی ویڈیوز خفیہ طور پر ریکارڈ کیں اور بعد میں اسے بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔ اس دباؤ کے نتیجے میں، گنجاتون کو مجبور کیا گیا کہ وہ بلوچ یکجہتی کونسل (BYC) کے احتجاجی مظاہروں میں شامل ہو۔ وہ جلد ہی بلوچ یکجہتی تحریک کا حصہ بن گئی اور مبینہ طور پر اس کے نظریاتی اثر میں آ گئی۔ذرائع کے مطابق، کامران کی بلیک میلنگ کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ بعد میں اس نے گنجاتون کو BLA کے ایک کمانڈر کے حوالے کر دیا، جس نے مبینہ طور پر اس کا جنسی استحصال کیا۔ اطلاعات کے مطابق، کامران کو اس "سہولت کاری” کے عوض 1 لاکھ روپے کی رقم دی گئی۔بار بار بلیک میلنگ اور استحصال کے باعث گنجاتون شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئی۔ اس ذہنی کیفیت میں، اسے شدت پسند تنظیم کی طرف سے خودکش حملہ آور بننے کی ترغیب دی گئی۔ مبینہ طور پر، اسے یقین دلایا گیا کہ یہ راستہ اس کی نجات کا ذریعہ بن سکتا ہے اور وہ اپنی زندگی کو ایک "قومی مقصد” کے لیے قربان کر کے عزت حاصل کر سکتی ہے۔

    آخرکار، گنجاتون نے شدت پسند تنظیم کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے قلات میں خودکش حملہ کیا، جس میں متعدد جانیں ضائع ہوئیں۔ یہ واقعہ بلوچستان میں جاری عسکریت پسندی، شدت پسندی اور نوجوانوں کے استحصال کے ایک اور تاریک پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔

    قلات خود کُش بمبار کا نام گنجاتون ولد میراں بخش ہے۔ گوادر کی رہنے والی ہے۔ باپ نشے کا عادی، فیملی بڑی اور ایک قومیت پسند لڑکے سے "دوستی”۔ پھر وہی سٹوری: نا زیبا ویڈیوز، جنسی بلیک میل، بلوچ یکجہتی کے راجی مچی میں ذہن سازی اور پھر کمانڈر کے ہاتھوں جنسی استحصال۔ آخر میں وطن پر قربانی میں نجات کی بہانہ!

    balochistan