Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • ہنی ٹریپ کے ذریعے بلیک میل کرنے والا ملزم گرفتار

    ہنی ٹریپ کے ذریعے بلیک میل کرنے والا ملزم گرفتار

    کوئٹہ: ایف آئی اے (فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی) کے سائبر کرائم سرکل نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے ہنی ٹریپ کے ذریعے شہری کو بلیک میل کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔

    ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق ملزم کی شناخت محمد بلال کے نام سے ہوئی ہے۔ ملزم نے خود کو خاتون ظاہر کر کے متاثرہ شہری کو اپنے جال میں پھنسایا۔ ملزم نے فیس بک کے ذریعے متاثرہ شخص سے رابطہ کیا اور خاتون بن کر ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ بعدازاں، ملزم نے متاثرہ شخص کو اپنے گھر بلا کر زبردستی نازیبا ویڈیوز ریکارڈ کیں۔ملزم ان ویڈیوز کے حوالے سے متاثرہ شخص کو بلیک میل کر رہا تھا اور اس نے دھمکی دی کہ اگر رقم نہ دی گئی تو وہ ویڈیوز کو وائرل کر دے گا۔ ملزم نے 15 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا تھا۔ایف آئی اے کے ترجمان نے بتایا کہ ملزم کو جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کوئٹہ سے گرفتار کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ملزم کے زیرِ استعمال ڈیجیٹل ڈیوائسز بھی قبضے میں لے لی گئیں۔ ان ڈیوائسز سے قابلِ اعتراض مواد اور بلیک میلنگ کے شواہد بھی برآمد کر لیے گئے ہیں۔

    ترجمان کے مطابق ملزم سے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے، اور اس سے نیٹ ورک میں ملوث دیگر افراد اور ممکنہ متاثرین کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ ایف آئی اے نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ اس قسم کی سائبر کرائمز کے حوالے سے آگاہ رہیں اور اس طرح کے جرائم کی اطلاع فوراً دیں۔

  • بلوچستان کے ضلع آواران میں پہلا گرلز انٹر کالج فعال

    بلوچستان کے ضلع آواران میں پہلا گرلز انٹر کالج فعال

    پاک فوج اور ضلعی انتظامیہ کی مشترکہ کاوشوں سے بلوچستان کے ضلع آواران میں پہلا گرلز انٹر کالج فعال کر دیا گیا۔ اس اہم اقدام سے آواران میں تعلیمی ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی اور یہاں کی بچیوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بہترین مواقع ملیں گے۔

    آواران میں گورنمنٹ گرلز انٹر کالج کا قیام ایک سنگ میل ثابت ہوگا، جو خطے کی طالبات کے لیے علم کے دروازے کھولے گا۔ یہ کالج نہ صرف تعلیمی ترقی کے لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے بلکہ اس کے ذریعے بلوچستان کی بیٹیوں کو تعلیمی میدان میں مزید مواقع ملیں گے اور وہ اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکیں گی۔

    کالج کے افتتاح کے موقع پر ایک تعلیمی سیمینار منعقد کیا گیا جس میں مختلف اہم شخصیات نے شرکت کی۔ سیمینار میں ڈپٹی کمشنر عائشہ زہری، عسکری حکام، مقامی عمائدین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے۔ سیمینار کا مقصد تعلیمِ نسواں کی اہمیت پر روشنی ڈالنا تھا۔ اس دوران طالبات کو کتابوں کا تحفہ بھی پیش کیا گیا، تاکہ ان کی تعلیمی ترغیب بڑھ سکے۔اس تاریخی اقدام سے آواران میں تعلیمی انقلاب کا آغاز ہو رہا ہے، اور یہ بلوچستان کے عوام کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ اب آواران کی طالبات کو اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، اور وہ اپنے مستقبل کے لیے ایک بہتر اور روشن راہ منتخب کر سکیں گی۔

    سپیشل افراد کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب کے خصوصی اقدامات

    صدر مملکت آصف زرداری کی پرتگال میں ترک صدر سے ملاقات

  • سیکورٹی اداروں کی کاروائی،خضدار سے اغوا ہونیوالی لڑکی بازیاب

    سیکورٹی اداروں کی کاروائی،خضدار سے اغوا ہونیوالی لڑکی بازیاب

    بلوچستان کے خضدار شہر میں اغوا ہونے والی نوجوان لڑکی عاصمہ جتک کو بلوچستان انتظامیہ اور خفیہ اداروں کی انتھک محنت کے نتیجے میں بازیاب کروا لیا گیا۔ اس کامیاب کارروائی میں ڈی سی خضدار یاسر اقبال دشتی، ڈی آئی جی سہیل خالد، ایس ایس پی خضدار جاوید زہری، اور اسسٹنٹ کمشنر خضدار عبدالحفیظ نے مشترکہ پریس کانفرنس کی اور تفصیلات فراہم کیں۔

    سرکاری افسران نے بتایا کہ وزیر اعلی بلوچستان میرسرفراز بگٹی کی سخت نگرانی اور ہدایات کے تحت خضدار اور سوراب کی پولیس اور لیویز فورس نے دو راتوں کے دوران ایک کامیاب آپریشن کیا، جس میں 16 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ آپریشن کے دوران چھاپہ مار ٹیم کو تمام تکنیکی سہولتیں فراہم کی گئیں تاکہ کاروائی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔آپریشن کے دوران، عاصمہ جتک کو زہری شہر سے 4 بجے کے قریب بازیاب کر لیا گیا۔ حکومت بلوچستان کے افسران نے اس بات کا یقین دلایا کہ جب تک مرکزی ملزم گرفتار نہیں ہوتا، انتظامیہ چین سے نہیں بیٹھے گی۔ عاصمہ جتک کو پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا تاکہ لوگوں کو اس کارروائی کی کامیابی کا علم ہو سکے۔

    واضح رہے کہ خضدار میں این 25 شاہراہ سے متصل شہزاد سٹی میں واقعہ پیش آیا، جہاں 6 جنوری کو مسلح افراد نے عنایت اللہ جتک کے گھر پر حملہ کر کے ان کی بیٹی عاصمہ کو اغوا کر لیا۔ اغوا کے بعد، متاثرہ خاندان نے خضدار میں احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے تھے اور این 25 شاہراہ کو دو مقامات پر بند کر دیا تھا۔ پولیس نے مظاہرین سے مذاکرات کی کوشش کی، مگر مذاکرات ناکام ہو گئے۔بعد میں، اغوا ہونے والی عاصمہ جتک اور مرکزی ملزم ظہور احمد کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی، جس میں عاصمہ نے کہا کہ اسے اغوا نہیں کیا گیا بلکہ وہ اپنی مرضی سے ظہور احمد کے ساتھ گئی تھی۔ اس ویڈیو میں ظہور احمد نے بھی یہی بیان دیا کہ عاصمہ نے خود اسے بلایا تھا اور وہ اپنی مرضی سے اس کے ساتھ گئی۔ تاہم، عاصمہ کی بہن نے اس ویڈیو کے جواب میں ایک اور ویڈیو جاری کی، جس میں اس نے ملزم کے بیانات کو مسترد کیا اور حکومت و انتظامیہ پر تنقید کی۔

    بلوچستان حکومت اور انتظامیہ نے اس معاملے میں مزید کارروائیاں کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ جب تک ملزمان کی گرفتاری نہیں ہو جاتی، وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ اس سلسلے میں مزید چھاپے مارے جائیں گے تاکہ تمام ملزمان کو گرفتار کیا جا سکے اور انصاف کا عمل مکمل ہو سکے۔

    یہ واقعہ بلوچستان میں عوامی تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے حوالے سے انتظامیہ کی کامیاب حکمت عملی کا غماز ہے اور عاصمہ جتک کی بازیابی سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ بلوچستان انتظامیہ اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔

    پنجاب اسمبلی میں منعقدہ دولت مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن کی کانفرنس اختتام پذیر

    ہتھیار کو ہمارے اوپر استعمال کرو گے تو ہتھیار ہمارے پاس بھی ہیں،گنڈاپور کی دھمکی

  • پشین،  ڈی سی کملیکس کے باہر خودساختہ بم برآمد

    پشین، ڈی سی کملیکس کے باہر خودساختہ بم برآمد

    پشین شہر میں ڈی سی کملیکس کے باہر ایک خودساختہ بم برآمد ہونے کی اطلاع ملی۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ (بی ڈی ایس) نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر بم کو ناکارہ بنانے کا عمل شروع کیا۔ خودساختہ بم سیمنٹ کے بلاک میں نصب کیا گیا تھا، جسے انتہائی مہارت سے ناکارہ بنایا گیا۔

    مقامی حکام کے مطابق، یہ بم خطرناک طریقے سے اس مقام پر نصب کیا گیا تھا، لیکن بروقت اطلاع اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کی کوششوں سے کسی بھی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ بم کی موجودگی سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا، مگر فوراً کارروائی کرکے خطرے کو ٹال دیا گیا۔حکام نے اس واقعہ کی تحقیقات شروع کردی ہیں تاکہ بم نصب کرنے والوں کی شناخت اور ان کے مقاصد کا پتا چلایا جا سکے۔ بلوچستان میں اس نوعیت کے واقعات میں اضافے کے پیش نظر، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور عوام کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    پشین پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے اس کارروائی میں حصہ لیا، اور سیکیورٹی کی صورتحال کو مزید مستحکم کرنے کے لیے گلی گلی میں سرچ آپریشنز بھی شروع کر دیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

  • پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار ،5 افراد گرفتار

    پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار ،5 افراد گرفتار

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں متعدد شہریوں نے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کردیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 90 افراد نے پولیو کے قطرے پلانے سے صاف انکار کیا جس پر حکام نے کارروائی کرتے ہوئے 5 افراد کو گرفتار کرلیا۔

    ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے مطابق، انکار کرنے والے 60 والدین کو قائل کرکے اُن کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے ہیں۔ تاہم، جن والدین نے قطرے پلانے سے انکار کیا، ان کے خلاف مزید سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ پولیو کے قطرے نہ پلانے والے والدین کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور ان کو گرفتار کرکے جیل بھیجا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے یہ اقدامات ضروری ہیں تاکہ بچوں کو اس خطرناک بیماری سے محفوظ رکھا جا سکے۔

    پولیو کے خاتمے کے لیے کوئٹہ میں مہم جاری ہے اور حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلائیں تاکہ اس موذی مرض کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے۔

    بنگلہ دیش،حسینہ واجد کے گھر پرمظاہرین کا حملہ،گھر جلا کر گرا دیا

  • بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے، وزیراعلٰی بلوچستان

    بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے، وزیراعلٰی بلوچستان

    کوئٹہ: وزیراعلٰی بلوچستان سرفرازبگٹی کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف تقریریں کرکے اپنی شناخت بناتے ہیں جو مناسب رویہ نہیں ہے۔

    باغی ٹی وی : وزیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی نے بلوچستان اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے قلات میں دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت کی اوراس حوالے سے پیش کی جانے والی قرارداد کی حمایت کی، سرفرازبگٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک حقیقت ہے جسے تشدد کے ذریعے نہیں توڑا جا سکتا ریاست سیاست سے زیادہ اہم ہے اور ہمیں ان عناصر کے خلاف اقدام کرنا ہوگا، جو بندوق کی زبان بولتے ہیں۔

    بلوچستان اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں سچ بولنے سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئیے، مگرسیاسی مجبوریوں اور فائدوں کی وجہ سے اکثرحقائق بیان نہیں کئے جاتے، کچھ لوگ سوشل میڈیا پراداروں کے خلاف تقریریں کرکے اپنی شناخت بناتے ہیں جو منا سب رویہ نہیں ہے۔

    مظفر گڑھ میں پیکا قانون کے تحت پہلا مقدمہ درج ، ملزم گرفتار

    وزیراعلٰی بلوچستان نے بلوچستان میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی صرف بلوچستان کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہےانہوں نے بلوچستان کو آئینی حقوق دیئے جانے کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ ترقی پورے ملک کا مسئلہ ہے جس پر سب کو مل کر کام کرنا ہوگاسرفراز بگٹی نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے تاکہ ارکان بلاخوف اپنی بات کہہ سکیں۔

    خاتون نے بھینسوں کا گوبر چوری کرنے پر مقدمہ درج کروا دیا

  • وزیرِ اعظم   کی سی ایم ایچ کوئٹہ آمد  ،  زخمی  سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی عیادت

    وزیرِ اعظم کی سی ایم ایچ کوئٹہ آمد ، زخمی سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی عیادت

    وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے سی ایم ایچ کوئٹہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں دہشتگردوں کے ساتھ لڑتے ہوئے زخمی ہونے والے سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی عیادت کی۔

    دورے کے دوران وزیرِ اعظم نے زخمی جوانوں سے ملاقات کی اور ان کی قربانیوں اور وطن کی حفاظت کے لیے غیر متزلزل عزم کی تعریف کی۔ وزیرِ اعظم نے کہا، "آپ سب قوم کے ہیروز ہیں اور ہم سب کو آپ کی قربانیوں اور آپ کے اہل خانہ پر فخر ہے۔” انہوں نے مزید کہا، "جب تک قوم کا تحفظ ایسے بہادر جوانوں کے سپرد ہے، دشمن پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔”وزیرِ اعظم نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے افواج پاکستان اور پاکستانی عوام ایک ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے بلوچستان میں دہشت و شر کی فضاء پھیلانے والے عناصر کو ترقی کے دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ "بلوچستان کے عوام کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی فورسز شر پسند عناصر کے سد باب کے لیے دن رات مصروف عمل ہیں۔”

    اس موقع پر وزیرِ اعظم نے بلوچستان میں امن، ترقی اور خوشحالی کے دشمنوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کا عزم بھی ظاہر کیا۔ وزیرِ اعظم کے ہمراہ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور وزیرِ بجلی اویس لغاری بھی موجود تھے۔

    قبل ازیں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے ہیں۔ وزیرِ اعظم کوئٹہ پہنچنے پر گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

    اس دورے میں وزیرِ اعظم کے ہمراہ نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، وزیرِ دفاع خواجہ آصف، وزیرِ اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ اور وزیرِ بجلی اویس لغاری بھی موجود ہیں۔وزیرِ اعظم کے دورے کا مقصد بلوچستان کی موجودہ سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینا ہے۔ اس دوران وزیرِ اعظم کو امن و امان کی صورتِ حال پر بریفنگ دی جائے گی تاکہ بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور امن کے قیام کے حوالے سے اقدامات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

    مزید برآں، وزیرِ اعظم شہباز شریف وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور صوبائی قیادت سے ملاقات کریں گے تاکہ بلوچستان کے مسائل اور ترقی کے حوالے سے باہمی مشاورت کی جا سکے۔ یہ دورہ صوبے کی ترقی اور امن کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

    وزیرِ اعظم کے اس دورے کے حوالے سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ بلوچستان میں امن و سکون کے قیام میں معاون ثابت ہوگا اور حکومت کی جانب سے اس صوبے کی ترقی کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

    پنکی گوگی اور کپتان لوٹ کر کھا گئے پاکستان، نحوست کا سایہ چھٹ چکا،عطا تارڑ

    لاہور ،گولیاں چل گئیں، گھر کے دروازے پر وکیل قتل

  • دوست نما دشمن کچھ بھی کر لیں، انہیں شکست ہو گی، آرمی چیف

    دوست نما دشمن کچھ بھی کر لیں، انہیں شکست ہو گی، آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ دوست نما دشمن کچھ بھی کر لیں، انہیں شکست ہو گی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے بلوچستان کا دورہ کیا۔آرمی چیف کو بلوچستان کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر ایک جامع بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں سینئر سیکیورٹی اور انٹیلی جنس حکام نے بھی شرکت کی۔آرمی چیف، گورنر اور وزیر اعلیٰ بلوچستان نے شہیدوں کی نماز جنازہ ادا کی اور کمبائنڈ ملٹری اسپتال کوئٹہ میں زخمی فوجیوں کی عیادت کی۔جنرل عاصم منیر نے دوست نما دشمن عناصر کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی آقاؤں کے آلہ کار بن کر دہشت گردی کو ہوا دینے والے دوغلے عناصر سے آگاہ ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ “شکار کے لیے شکاری کے ساتھ اور بچاؤ کے لیے شکار کے ساتھ” چلنے والے ہمارے لیے کوئی اجنبی نہیں۔ دوست نما دشمن کچھ بھی کر لیں، انہیں عظیم قوم اور مسلح افواج کی استقامت کے ہاتھوں شکست ہو گی۔آرمی چیف نے کہا کہ مادر وطن اور عوام کے دفاع کے لیے ہم ہر قیمت پر جواب دیں گے۔ اور جہاں بھی ضرورت پڑی دشمنوں کا پیچھا کر کے انہیں انجام تک پہنچایا جائے گا۔آئی ایس پی آر کے مطابق عسکری و سیاسی قیادت نے مادر وطن کے ہر قیمت پر دفاع کے لیے سپاہیوں کے غیر متزلزل عزم اور جذبے کو سراہا۔

    لاہور، سندھ اور بلوچستان ہائیکورٹ سے 3 ججز کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں تبادلہ

  • بچے کی پیدائش  پرمٹھائی  مانگنے پر ہسپتال کے 4اہلکار معطل

    بچے کی پیدائش پرمٹھائی مانگنے پر ہسپتال کے 4اہلکار معطل

    کوئٹہ :بچے کی پیدائش پرمٹھائی طلب کرنے والے ہسپتال کے 4اہلکار وں کو معطل کر دیا گیا،جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا-

    باغی ّی وی: نوٹیفکیشن کے مطابق سول ہسپتال کوئٹہ کی تین خواتین سمیت چار اہلکاروں کو معطل کیا گیا،معطل کئے جانے والے اہلکار گائنی وارڈ میں بچوں کی پیدائش پر شیرینی کے نام پر پیسے طلب کرتے تھے ، معطل ہونے والے اہلکاروں میں تین آیا اور ایک سیکورٹی گارڈ شامل ہیں-

    نوٹیفکیشن میں معطل کیے جانے والے اہلکاروں کو انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی گائنی وارڈ میں بچوں کی پیدائش پر پیسوں کی ڈیمانڈ کرتے تھے-

    محصولات میں اضافہ اور ٹیکس بیس کی توسیع ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے،وزیراعظم

    واشنگٹن فضائی حادثہ،یقین ہو گیا کوئی زندہ نہیں بچا،ریکوری آپریشن جاری،حکام کی بریفنگ

    شازیہ مری کا یوٹیلٹی اسٹورز کی بندش پر حکومتی یوٹرن پر تشویش کا اظہار

  • نامناسب ویڈیوز بنانے پر والد نے بیٹی کی جان لے لی

    نامناسب ویڈیوز بنانے پر والد نے بیٹی کی جان لے لی

    کوئٹہ میں امریکا سے آئی ہوئی لڑکی کے قتل کیس کا معمہ حل ہوگیا ہے

    پولیس کے مطابق کوئٹہ کی بلوچی اسٹریٹ میں 13سال کی لڑکی کےقتل کیس میں اس کے والد اور ماموں کو گرفتار کرلیا گیا ہے،پولیس کے مطابق لڑکی کے والد نے سالے کے ساتھ مل کربیٹی کو فائرنگ کرکے جان لے لی،
    ملزمان نے اپنے بیان میں بتایا کہ مقتولہ نامناسب ویڈیوز بنانے لگی تھی جس پر اسے قتل کیا ، لڑکی کے قتل کاکیس سیرئس کرائم انوسٹی گیشن ونگ منتقل کردیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق ا س سے پہلے لڑکی کے والد نے بتایا تھا کہ وہ 28سال سے امریکا میں تھا اور 15جنوری کوبچوں کے ہمراہ لاہور اور پھر 22جنوری کو کوئٹہ آیا جہاں گھر کے باہر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے بیٹی جاں بحق ہو گئی ہے، والد نے مقدمہ درج کروایا تھا تا ہم پولیس نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا تو والد نے ہی اپنی بیٹی کی جان لی، والد کے مطابق بیٹی کو کئی بار سمجھایا تھا تا ہم وہ رک نہیں رہی تھی جس کی وجہ سے اسے بیٹی کو گولی مارنی پڑی،

    آئی جی خیبر پختونخوا اور ڈی جی ایف آئی اے کو ہٹا دیا گیا

    فخر ہے کہ بیٹا وطن کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوا،والدہ حوالدار شوکت شہید