Baaghi TV

Category: راولپنڈی

  • راولپنڈی خواتین سے زیورات چھیننے والا گروہ گرفتار

    راولپنڈی خواتین سے زیورات چھیننے والا گروہ گرفتار

    راولپنڈی: نوبیاہتا جوڑوں سے نقدی اور طلائی زیورات چھیننے والا بین الصوبائی عرفانی ڈکیت گینگ کا سرغنہ 3ساتھیوں سمیت گرفتار،ملزمان سے وہ ”کٹر“ بھی بر آمد جس سے وہ لڑکیوں کے ہاتھوں میں پہنے طلائی کڑے کاٹ لیتے تھے،ملزمان کو پڑھے لکھے ہونے کا انکشاف،ملزمان سے درجنوں وارداتیں اور کروڑوں روپے کے مسروقہ زیورات بر آمد ہونے کا امکان،تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں خواتین سے طلائی زیورات چھیننے،”کٹر“ سے طلائی کڑے کاٹنے اور نقدی چھیننے کی وارداتوں میں اضافہ ہو گیا تھا،سٹی پولیس آفیسر ڈی آئی جی محمد فیصل رانا نے ایس پی صدر رائے مظہر اقبال کو اس گینگ کی گرفتاری کا خصوصی ٹاسک دیا،جنہوں نے اس کام کے لئے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی،جس نے جدید سائنسی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے شہر کے مختلف بازاروں میں خصوصی طور پران دوکانوں پر سی سی ٹی وی کیمروں کو فنگشنل کروایا جہاں پر خواتین بڑی تعداد میں خریداری کے لئے آتی تھیں،سی پی او فیصل رانا ان اقدامات کی براہ راست نگرانی کر رہے تھے،پولیس نے منظم منصوبہ بندی سے بدنام زمانہ عرفانی گینگ کے سرغنہ عرفان عرف عرفانی اس کے ساتھیوں فرحان،فیضان اور فرحان نصیر کو گرفتار کر لیا،ملزمان سے موٹر سائیکل،اسلحہ کے علاوہ وہ ”کٹر“ بھی بر آمد کر لیا جو خواتین کے ہاتھوں میں پہنے ہوئے طلائی کڑے کاٹنے کے لئے استعمال ہوتا تھا،بتایا جاتا ہے کہ ملزمان نو بیاہتا جوڑوں کو اسلحہ کے زور پر روکتے،نقدی اور طلائی زیورات چھینتے ملزمان لڑکیوں کے ہاتھوں میں پہنے طلائی کڑے دیکھتے جو جلدی میں نہ اترے جانے کے باعث ”کٹر“ سے کاٹ لیتے،ملزمان کے حوالے سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ وہ پڑھے لکھے ہیں،وہ دیکھنے میں بظاہر معزز دکھائی دیتے ہیں،پولیس نے جب ملزمان کو گرفتار کیا تو ملزمان نے انگلش زبان میں بڑی روانی سے گفتگو کی،ان ملزمان کی گرفتاری سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے عمل میں آئی،سی پی او فیصل رانا نے اس طرح کی وارداتوں کے بعد حکم دے رکھا تھا کہ جائے وقوعہ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کو چیک کیا جائے،اس نوعیت کی واردات کے بعد سی پی او خود متحرک ہوتے اور ڈویژنل ایس پیز سے ہر گھنٹے کے بعد وراداتوں کے ٹریس ہونے سے متعلق پوچھتے،ایس پی صدر رائے مظہر اقبال کا کہنا ہے کہ ملزمان کی تفتیش سے راولپنڈی میں ہونے والی درجنوں وارداتیں ٹریس ہوں گی جن میں ملزمان نے خواتین سے طلائی زیوارات چھینے،کڑے کاٹے،سی پی او فیصل رانا نے پولیس افسران کو ہدائت کی کہ وہ ان سہولت کاروں کو بھی گرفتار کریں جن کے پاس ملزمان مسروقہ طلائی زیور ات فروخت کرتے تھے،سی پی او نے کہا کہ مسروقہ مال بر آمد کر کے قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد اسے اصل مالکان تک پہنچایا جائے،سی پی او نے بدنام زمانہ گینگ گرفتار کرنے والے ایس پی صدر رائے مظہر اقبال و دیگر افسران کو دفتر بلا کر شاباش دی،انہوں نے کہا کہ اس گینگ سے تفتیش کے تمام مراحل سے مجھے روزانہ کی بنیاد پر آگاہ رکھا جائے۔

  • شاہد خاقان عباسی پھنس گئے، قریبی ساتھی وعدہ معاف گواہ بن گئے

    شاہد خاقان عباسی پھنس گئے، قریبی ساتھی وعدہ معاف گواہ بن گئے

    اسلام آباد:سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے قریبی ساتھیوں نے وعدہ معاف گواہ بننے کا فیصلہ کر لیا ہے، ایل این جی اسکینڈل کیس میں وزرات پٹرولیم کے سابق سیکرٹری عابد سعید شاہد خاقان عباسی کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں ۔

    قومی احتساب بیورو(نیب ) حکام کے مطابق ایل این جی اسکینڈل کیس میں وزرات پٹرولیم کے سابق سیکرٹری عابد سعید بھی شامل تفتیش ہیں اور وہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے.عابد سعید کے علاوہ اور کرداروں کےمتعلق معلوم ہو ا ہے کہ وہ وعدہ معاف گواہ بننے کے لیے تیار ہوگئے ہیں.

    ایل این جی معاہدے سے جڑے 4اداروں کے سربراہوں پر بھی تلوار لٹکنے لگی اور شعبہ پٹرولیم کنسیشن انٹر اسٹیٹ گیس سسٹم اور ایل این جی لیمیٹڈ کے سربراہوں کو بھی شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

  • راولپنڈی میڈیکل کالج, قدیمی درخت کاٹ کر فروخت کرنے کا انکشاف

    راولپنڈی میڈیکل کالج, قدیمی درخت کاٹ کر فروخت کرنے کا انکشاف

    راولپنڈی :راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی میں تعینات وائس چانسلر نے وزیراعظم عمران خان کے احکامات ہوا میں اُڑا دئیے ہیں جبکہ کلین گرین پاکستان کی کامیاب کمپین کے باوجود پروفیسر عمر کے آشرباد سے یونیورسٹی کے سب انجینئر اکرام ستی اور آفیسر انچارج ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر منور کی مبینہ ملی بھگت سے یونیورسٹی کے گارڈن میں لگے سینکڑوں قدیمی درخت کاٹنے کا انکشاف ہوا ہے جس کی قیمتی لکڑی کو مختلف مارکیٹوں میں غیر قانونی طور پر فروخت کردیا گیا ہے جبکہ ماضی میں بھی یونیورسٹی سے سینکڑوں درخت چوری ہو چکے ہیں جس کے خلاف آج تک کوئی بھی انکوائری عمل میں نہیں لائی گئی ہیں ۔ درختوں کی لکڑے بارے لے جاتے وقت سب انجینئر اکرام ستی کی گاڑی کو گیٹ پر کھڑے سیکورٹی گارڈ نے روک لیا جس نے اکرام ستی سے سامان باہر لے کر جانے کا پاس طلب کیا تاہم بعدازاں بحث تکرار کے بعد سیکورٹی گارڈ نے گاڑی باہر لیکر جانے کی اجازت دیدی جبکہ اگلے دن سیکورٹی انچارج نے اکرام ستی سے بحث و تکرار کی اور مستقبل میں بغیر انٹری پاس سامان یونیورسٹی سے باہر نہ لے کر جانے کی ہدایت کی ہے تاہم یونیورسٹی کے اعلیٰ حکام نے معاملے کو دبا دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی میں مبینہ طور پر عرصہ دراز سے لگے قیمتی درخت کاٹنے کا انکشاف ہوا ہے جس کی لکڑی کو شہر کی مختلف مارکیٹوں میں آنے پونے داموں فروخت کردیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ کئی سالوں سے یونیورسٹی میں بطور سب انجینئر تعینات اکرام ستی اور آفیسر انچارج ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر منور نے مبینہ ملی بھگت کر کے درختو ں کو غیر قانونی طور پر کاٹ کر فروخت کیا ہے جبکہ ان دونوں کو یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی آشرباد بھی حاصل ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان دونوں افراد نے درخت کاٹ کر پیسے آپس میں تقسیم کر لیے ہیں تاہم ماضی میں بھی سینکڑوں درخت یونیورسٹی سے کٹ چکے ہیں جس پر تاحال کوئی کارروائی نہ ہونا سوالات کو جنم دیتا ہے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عمرنے کہا کہ میرے علم میں نہیں ہے میں اس حوالے سے چیک کرتاہوں جبکہ آفیسر انچارج ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر منور نے بتایا کہ کٹائی ضرور ہوئی ہے مگر وہ درختوں کی نہیں تھے چند پودے کاٹے گئے تھے تاہم جب ان سے درختوں کی تصویروں کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ ٹال مٹول سے کام لینے لگے اور کوئی بھی مثبت جواب نہ دے سکیں تاہم رابطہ کرنے پر سب انجینئر اکرام ستی نے بتایاکہ میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے مجھے اس حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہے میں نے درخت نہیں کاٹے ہیں۔

  • جماعت اسلامی پنجاب کے امیر طارق سلیم  نے بزدار کو مزاحیہ کردار قرار دیدیا

    جماعت اسلامی پنجاب کے امیر طارق سلیم نے بزدار کو مزاحیہ کردار قرار دیدیا

    راولپنڈی:امیرجماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹرطارق سلیم نے کہاکہ وفاق سمیت صوبوں کے حکمران مزاحیہ کردارہیں اپنی نااہلی کو کریڈٹ بناکرپیش کرنے والوں کی عقل پرماتم ہی کیا جاسکتا ہے،موسم برسات سے قبل نشیبی علاقوں میں سیلاب کے سدباب کیلئے اقدامات کی بجائے پانی میں ڈوبی لاہورکی سڑکوں پرکیمرہ سیشن اور خواتین کوٹیکسی سروس دینا وزیراعلی پنجاب عثمان بزدارکی ذمہ داری نہیں،حکمرانوں نے پاکستان کوپوری دنیا میں مذاق بنادیا۔ کپتان عوام کوریلیف دینے کی بجائے عذاب بن گئے جماعت اسلامی 19جولائی کولیاقت باغ راولپنڈی میں عظیم الشان اورتاریخی عوامی مارچ منعقد کرے گی جس میں مردوخواتین،نوجوان اوربچے شریک ہوں گے۔ عوامی مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں منعقدہ ورکرزکنونشن سے خطاب کرتے ہوئے امیرصوبہ نے کہاکہ قوم نے بھٹوکی بیٹی اور دامادناکام ہوتے دیکھا،نوازشریف اورپرویزمشرف ناکام ہوئے اوراب قوم کوٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کرانھیں گھٹاٹوپ اندھیروں میں دھکیلنے والے،نوازوزرداری اورپرویزمشرف کے وزراء اورممبران اسمبلی کو ساتھ ملاکرحکومت بنانے والے کپتان عوام کوریلیف دینے کی بجائے ان کیلئے عذاب بن چکے،قوم کے مسائل اوردکھوں کاعلاج صرف اسلامی نظام میں ہے جس کے نفاذ کی صلاحیت جماعت اسلامی کی دیانتداراوراہل قیادت کے پاس ہے،قوم نے سب کوآزما لیا لیکن سانپوں نے ہمیشہ عوام کوڈسااب قوم کے پاس جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں،راولپنڈی واسلام آباد کے عوام 19جولائی کوگھروں سے نکلیں اور عوام پر مہنگائی وبے روزگاری مسلط کرنے والے آئی ایم ایف کی غلامی میں جکڑے حکمرانوں کے خلاف امیرجماعت اسلامی سینیٹرسراج الحق کی شانہ بشانہ اپنا احتجاجی مارچ میں حصہ لیں

  • آتشزدگی آلات کی تنصیب نہ کرنے پر ہوٹل مالکان کو بھاری جرمانے اور نوٹس جاری

    آتشزدگی آلات کی تنصیب نہ کرنے پر ہوٹل مالکان کو بھاری جرمانے اور نوٹس جاری

    راولپنڈی : محکمہ شہری دفاع نے آتشزدگی کے آلات کی تنصیب نے کرنے والے ہوٹلز مالکان کے خلاف کریک ڈاون کرتے ہوئے 19افراد کو بھاری جرمانے اور اظہاروجوہ کے نوٹسز جاری کئے ہیں۔
    باغی ٹی وی کی تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز راولپنڈی کے تھانہ صدر بیرونی اور تھانہ مورگاہ کی حدود میں واقع ہوٹلز،بیکرز اور دیگر ریفرشمنٹ سنٹر میں سول ڈیفنس کے افسران نے پولیس کے ہمراہ انسپیکشن کی جس دوران 19افراد کو ہزاروں روپے جرمانہ کیا ہے اور متنبہ کیا گیا کہ اپنے ہوٹلز میں آتشزدگی پر قابوپانے والے آلات کی فوری تنصیب کی جائے ،طالب حسین نے بتایا ہے کہ نوٹسز کی مدت پوری ہونے کے بعد فائرسیفٹی آلات کی تنصیب نہ کرنے والے عمارتوں اور تجارتی مراکز کو سربمہر کر دیا جائے گا

  • پولیس ملازم قانون شکنی کرے گا تو وہ بھی سزا پائے گا, سی پی او

    پولیس ملازم قانون شکنی کرے گا تو وہ بھی سزا پائے گا, سی پی او

    راولپنڈی:سٹی پولیس آفیسر ڈی آئی جی محمد فیصل رانا نے کہا ہے کہ تھانہ ویسٹریج میں لاہور کے شہری کی درخواست پر چوکی انچارج و دیگر پولیس ملازمین کے خلاف مقدمہ ایس پی پوٹھوہار اور ڈی ایس پی کینٹ کی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد درج کیاگیا،پولیس ملازمین جیسے ہی مقدمہ میں نامزد ہوئے انہیں معطل کر دیا گیا،چوکی انچارج کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی گئی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اس مقدمہ کے حوالے سے بلائے گئے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،سی پی او نے کہا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے،جس طرح کی شکایت ملی اور اعلیٰ پولیس افسران نے ابتدائی تحقیقات میں جو رپورٹ دی اس کے بعد اغواء برائے تاوان کی دفعہ کے تحت مقدمہ کا اندراج اس بات کا ثبوت ہے کہ راولپنڈی پولیس صرف اور صرف قانون کی تابع ہے قانون شکنی کرنے والا اگر پولیس ملازم یا آفیسر بھی ہو گا تو اس کے خلاف قانون اسی طرح حرکت میں آئے گا جس طرح عام آدمی کے لئے قانون متحرک ہوتا ہے،انہوں نے کہا کہ قانون کے محافظ جب قانون شکنی پر اتر آئیں تو عام آدمی کا پولیس پر اعتماد ختم ہونا فطری امر بن جاتا ہے لیکن اگر قانون شکن پولیس ملازمین کے خلاف فوری کارروائی اور وہ بھی اسی دفعہ کے تحت مقدمہ درج ہو جس نوعیت کی قانون شکنی کا متاثرہ فریق کی درخواست میں تقاضا کیا گیا ہو تو پھر عوام کو پولیس پر اعتماد پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے،انہوں نے کہا کہ ہم نے پولیس ملازمین کی طرف سے بدترین قانون شکنی کی شکایت پر تھانہ ویسٹریج میں اغواء برائے تاوان کی دفعہ365اے کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے،ایس ایس پی انوسٹی گیشن اس مقدمہ کی تفتیش کی نگرانی کریں گے جبکہ میں خود روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ لوں گا،سی پی او نے کہا کہ ایک طرف مقدمہ کی تفتیش ہو گی تو دوسری طرف ملزمان پولیس ملازمین کے خلاف محکمانہ احتساب کی کارروائی ہو گی،مقدمہ میں نامزد پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی ہو گی اگر جرم ثابت ہو گیا تو سب ملزمان ملازمین یقینی طور پر ملازمت سے برخاست ہوں گے،سی پی او نے کہا کہ قانون پر عمل در آمد کروانے والوں کو سب سے پہلے قانون پر عمل کرنا ہو گا،اس مقدمہ میں اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ اگر اس مقدمہ میں کوئی شخص پولیس ملازمین اور افسران کا سہولت کار ہے تو اسے بھی گرفتار کر کے ملزمان کے ساتھ چالان کیا جائے۔

  • راولپنڈی پولیس نے شرانگیزوں کے خلاف اہم اقدامات اٹھا لیے

    راولپنڈی پولیس نے شرانگیزوں کے خلاف اہم اقدامات اٹھا لیے

    راولپنڈی:سٹی پولیس آفیسر ڈی آئی جی محمد فیصل رانا نے کہا ہے کہ فرقہ وارانہ نفرتیں پھیلانے والے ریاست اور قانون کی طاقت کو چیلنج کرتے ہیں،شرانگیز تقاریر ہوں،نفرت آمیز لٹریچر ہو یا اکسانے والی وال چاکنگ اس نوعیت کی قانون شکنی کرنے کے عادی افراد کو نظر بند کروانے کے اقدامات کئے جائیں،نفرت اورشر انگیزی کی چنگاری کو سلگنے سے پہلے ٹھندا کرنے اور سلگانے والوں کو جیل میں پہنچانا پولیس کی ذمہ داری ہے اس میں سستی اور کوتاہی بھی شرانگیزوں کی سہولت کاری کے زمرے میں آئے گی،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پولیس افسران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،سی پی او فیصل رانا نے کہا کہ ملکی حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ داخلی حوالے سے اتحاد و یگانگت کی فضا کو مضبوط سے مضبوط تر کیا جائے،قانون داخلی اتحاد کو فروغ دے رہا ہو اور کوئی شر انگیز تقریر یا تحریر سے اسے سبوتاژ کر رہا ہو تو اس شر انگیز نے قانون کو چیلنج کیا،اور قانون کو چیلنج کرنے والوں کے ساتھ قانون اپنے دائرہ اختیار میں جنگ کرتا ہے جس میں جیت ہر حال میں قانون کی ہی ہونا ہوتی ہے،انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار رائے کا حق سب کو ہے لیکن جس اظہار سے معاشرے میں بدامنی پھیلے،آگ لگے اور امن و امان تہہ و بالا ہو وہ اظہار رائے بدترین قانون شکنی ہے،سی پی او نے کہا کہ ضلع راولپنڈی کے تمام تھانے قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر ایسے اقدامات پیشگی اٹھا لیں جس سے اس نوعیت کے حالات پید اہی نہ ہوں،انہوں نے کہا کہ شر انگیز کسی بھی مکتب فکر،سکول آف تھاٹ یا مذہب سے ہو اسے یا تو شرانگیزی سے ہمیشہ کے لئے تائب ہونا پڑے گا یا پھر اسے ہمیشہ جیل میں رہنا ہو گا ایسے امن دشمنوں کو ہم کھلا نہیں چھوڑ سکتے،ایسے شرانگیزوں کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کی انسداد دہشت گری ایکٹ کے تحت مقدمات بھی درج ہوں گے،پولیس ان لوگوں کو نظر بند کروانے کے لئے بھی اقدامات اٹھائے،انہوں نے کہا کہ معاشرتی امن قائم رکھنے کے لئے میری پولیسنگ سیدھی سادھی ہے کہ قانون ہی سب سے زیادہ طاقتور،طاقتور اور طاقتور ہے قانون سے بڑا کوئی طاقتور نہیں پولیس بھی قانون کے تحت دئیے گئے اختیارات کی وجہ سے ہی قانون پر عمل داری کے لئے ہی طاقتور ہے،سی پی او نے کہا کہ راولپنڈی پولیس کے تمام ڈویژنز کے ایس پیز روزانہ کی بنیاد پر مجھے فرقہ وارانہ شر انگیزی میں ملوث افراد کے حوالے سے بریفنگ دیں گے،افسران سی پی او آفس کی سیکورٹی برانچ کو ہمہ وقت اپ ڈیٹ رکھیں گے،جس طرح معمول کی پولیسنگ24/7ہے اسی طرح شر انگیزوں کے خلاف پولیسنگ بھی غیر معمولی حالات میں 24/7ہی ہو گی،دن کا کوئی وقت یا رات کا کوئی پہر،شر انگیزوں کے خلاف اقدامات اٹھانے کے حوالے سے پولیس افسران مجھے سے براہ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔

  • جہلم : موسلا دھار بارش سے نئی تعمیر ہونے والی سڑک بہہ گی

    جہلم : موسلا دھار بارش سے نئی تعمیر ہونے والی سڑک بہہ گی

    جہلم: جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان روڈ کو تعمیر ہوئے ایک سال ابھی مکمل نہیں ہوا کہ آج ہونے والی موسلا دھار بارش سے نئی تعمیر ہونے والی سڑک بہہ گی جس سے تحصیل ہیڈکوارٹر پنڈدادنخان کاضلعی ہیڈکوارٹر سے رابطہ منقطع ہوگیا.جس دونوں طرف کی ٹریفک رک گئی ہے

    ایک سال قبل نئی تعمیر ہونے والی جہلم پنڈدادنخان روڈ کی تعمیر کا کام مکمل کیاجا چکا ہے۔ تاہم آج کی موسلا دھار بارش نے سڑک میں ناقص وغیرمعیاری میٹریل کے استعمال کی قلی کھول دی ،

    ذرائع کے مطابق نصف گھنٹہ ہونے والی بارش کے پانی سے سڑک بہہ گئی جس کی وجہ سے تحصیل پنڈدادنخان کے سینکڑوں دیہاتوں کا ضلعی ہیڈکوارٹر سے رابطہ منقطع ہو گیا جبکہ مسافروں کوبھی سخت مشکلات کا سامنا ہے ۔سڑک کے دونوں طرف گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں۔

  • احتجاج کے نام پر سڑکیں بند کرنا غیرقانونی عمل ہے,سی پی او راولپنڈی

    احتجاج کے نام پر سڑکیں بند کرنا غیرقانونی عمل ہے,سی پی او راولپنڈی

    راولپنڈی:سٹی پولیس آفیسر ڈی آئی جی محمد فیصل رانا نے کہا ہے کہ احتجاج حق ضرور ہے لیکن احتجاج کے نام پرسڑکوں کو بند کر کے ہزاروں افراد کے حقوق کی پامالی بھی غیر قانونی ہے،ایس ایچ اوز،ایس ڈی پی اوز اور ڈویژنل ایس پیز عوام کے جان و مال کے تحفظ اور حصول انصاف کے حوالے سے ایسی پولیسنگ کریں کہ احتجاج کی نوبت ہی نہ آئے،شوقین،دیہاڑی باز اور مخصوص مفادات کے تحت احتجاج کے نام پر سڑکیں بند کرنے والے قانون کی نظر میں کسی رو رعایت کے مستحق نہیں،پولیس راولپنڈی کے سڑکوں پر24/7ٹریفک کی روانی معمول کے مطابق رکھنے کے لئے اقدامات اٹھائے،ایک لمحہ کے لئے بھی ٹریفک کی بندش قابل برداشت نہیں چاہے یہ احتجاج کے نام پر ہی کیوں نہ ہو،ان خیالات کا اظہار انہوں نے سی پی او آفس میں پولیس افسران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،سی پی او نے کہا کہ پولیس کی اولین ذمہ داری امن و امان کی ایسی صورتحال کو برقرار رکھنا ہے جس میں عام آدمی اپنی زندگی بلا خوف و خطر اور کسی کے خلل ڈالے بغیر گزار سکے،جب کچھ لوگ احتجاج کے نام پر سڑکوں کو بلاک کر دیتے ہیں تو اس سے عام آدمی کی زندگی میں خلل پڑتا ہے جو قانون کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے،اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ حصول انصاف اور کسی بھی زیادتی کے خلاف احتجاج انسان کا حق ہے لیکن اس حق کے ا ستعمال کے لئے بھی قانون نے حدیں مقرر کی ہیں،قانون کسی کو اس بات کی قطعی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اپنی ساتھ ہونے والی زیادتی کے نام پر ہزاروں عوام کی زندگی میں خلل ڈال کر سڑکوں کو بند کر دے،سی پی او نے کہا کہ احتجاج کے نام پر سڑکوں کا بند ہونا متعلقہ پولیس کی نااہلی ہے،سڑکوں کی احتجاج کے نام پر ہونے والی بندش پرجہاں ایسا کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو گی وہاں پر متعلقہ پولیس آفیسر سے بھی اس بات کا حساب لیا جائے گا جس کی نا اہلی کی وجہ سے سڑک یا سڑکیں بند ہوئیں اور عوام کو اذیت کا سامنا کرنا پڑا،انہوں نے کہاکہ میں تو ملکہ کوہسار مری میں ٹریفک کے رش کی وجہ سے سڑکوں کی بندش برداشت نہیں کرتا،یہ کیسے برداشت کروں گاکہ لوگ احتجاج کے نام پر سڑکوں کو بند کر دیں،سی پی او نے کہا کہ تھانہ میں اگر کسی کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے یا اسے انصاف نہیں ملتا توایس ڈی پی او،ایس پیز اور سی پی او کے دفاتر موجود ہیں وہاں پر شکایت کی جائے اگر کوئی براہ راست مجھ سے بات کرنا چاہتا ہے یا ملنا چاہتا ہے تو اس کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں،لیکن یہ بات قطعی ناقابل برداشت ہے کہ احتجاج کے نام پر سڑکوں کو بند کر دیا جائے ایسی ایکسرسائیز معاشرتی امن کے لئے خطرہ ہے،جتنی دیر سڑک بند رہے عام آدمی کی زندگی میں خلل رہے ا سکا مطلب ہے کہ اتنے وقت کے لئے قانون بے بس ہے،سی پی او نے کہا کہ قانون کو بے بس کرنے والی کسی طاقت کے وجود کو میں سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتا، انہوں نے کہا کہ بعض افراد کا مشغلہ اور دیہاڑی اسی بات میں ہوتی ہے کہ وہ احتجاج پر لوگوں کواکسائیں،سڑکوں پر لائیں،ایسے افراد ہی امن و امان کے دشمن اور قانون شکنوں کے پہلے سہولت کار ہوتے ہیں،سی پی او نے کہا کہ اگر معاشرے میں کسی سے زیادتی ہوئی اسے انصاف نہ ملے تو مجھے اس سے ہمدردی ہے لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انصاف کا نہ ملنا یا کسی کے ساتھ زیادتی ہونا متاثرہ فریق کو قانون شکنی کی اجازت دے،سڑکوں کی بندش بدترین قانون شکنی ہے اسے ہر صورت روکنا ہے،جس تھانہ کی حدود میں احتجاج کے نام پر سڑک بند ہوئی اس تھانے کا ایس ایچ او اپنے منصب پر نہیں رہے گا جبکہ ناقص مانیٹرنگ پر متعلقہ ایس ڈی پی او اور ڈویژنل ایس پی سے بھی سخت محکمانہ باز پرس ہو گی،سی پی او نے دو ٹوک انداز میں ہدایت کی کہ احتجاج کے نام پر سڑکیں بند کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق مقدمات درج کئے جائیں اور ان کے ساتھ قانون کی طاقت سے اس طرح نمٹا جائے کہ کسی کو سڑک بند کرنے کی سوچنے کی ہمت بھی نہ ہو۔

  • راولپنڈی پولیس کانسٹیبل قتل, قاتل بھانجا نکلا

    راولپنڈی پولیس کانسٹیبل قتل, قاتل بھانجا نکلا

    راولپنڈی: تھانہ صدر واہ میں تعینات کانسٹیبل کے اندھے قتل کی واردات ٹریس،مقتول کی اہلیہ کے مقتول کے بھانجے کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے،ملزم بھانجے نے مامی کے عشق میں مبتلا ہو کر حقیقی ماموں کو قتل کر کے ڈکیتی کا ڈرامہ رچا دیا،سی پی او فیصل رانا نے شواہد دیکھ کر پولیس کو ڈائیریکشن دی کہ معلوم ہوتا ہے کہ قتل کا ملزم یا ملزمان گھر پر ہیں،پولیس نے مقتول کی اہلیہ سے تفتیش کی تو اس نے قتل کا اعتراف کر لیا،پولیس نے مرکزی ملزم زاہد کو بھی گرفتار کر لیا،باغی ٹی وی کو موصول تفصیلات کے مطابق ایس پی صدر رائے مظہر اقبال نے میڈیا کو بتایا کہ چند روز قبل تھانہ واہ صدر میں تعینات پولیس کانسٹیبل اظہر حسین کو تھانہ چونترہ کے علاقہ میں واقع اس کے گھر میں قتل کر دیا گیا،قتل کی واردات کے بعد ورثاء کی جانب سے ڈارمہ رچایا کہ یہ ڈکیتی قتل ہے،جائے وقوعہ پر سی پی او ڈی آئی جی فیصل رانا بھی گئے جنہوں نے متوجہ کیا کہ کرائم سین سے جو شواہد ملتی ہیں اس کے پیش نظر قوی امکانات ہیں کہ قتل کی اس واردات کا ملزم یا ملزمان گھر میں ہی ہیں،سی پی او کی طرف سے دی گئی اس لیڈ پر پولیس نے تفتیش کی،مقتول کی تدفین کے بعد اس کی اہلیہ سے تفتیش کی گئی تو اس نے قتل کی اس واردات کا اعتراف کر لیا،ملزمہ سمیرا نے بتایا کہ اس کے مقتول کے بھانجے زاہد کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے جس کی وجہ سے میرے کہنے پر زاہد نے اپنے حقیقی ماموں کانسٹیبل اظہر حسین کو قتل کر دیا،ایس پی نے بتایا کہ قتل کے مرکزی ملزم زاہد کو بھی گرفتار کر لیا گیا جسے مقامی عدالت میں پیش کر کے اس سے تفتیش کر کے آلہ قتل اور اس کے سہولت کاروں کو گرفتار کیا جائے گا،انہوں نے کہا کہ سی پی او فیصل رانا کی پروفیشنل پولیسنگ اور عمدہ کمانڈ کی وجہ سے قتل کی اندھی وارداتیں ٹریس ہو رہی ہیں،ادھر عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ سی پی او ڈی آئی جی فیصل رانا ایک تجربہ کار فیلڈ آفیسر اور پروفیشنل پولیس کمانڈر ہیں جنہوں نے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کر کے کانسٹیبل کے اندھے قتل کی واردات ٹریس کر لی،اگر راولپنڈی پولیس فیصل رانا کی کمانڈ میں اسی طرح کام کرتی رہی تو یہاں کی ہر بلائنڈ واردات ٹریس ہو گی ملزمان گرفتار ہوں گے اور متاثرین کا انصاف ملے گا۔