Baaghi TV

Category: راولپنڈی

  • راولپنڈی: جرگے کے حکم پرخاتون کاقتل، کیس میں گرفتار باپ، بھائی اور سابق شوہر نےاعتراف جرم کرلیا

    راولپنڈی: جرگے کے حکم پرخاتون کاقتل، کیس میں گرفتار باپ، بھائی اور سابق شوہر نےاعتراف جرم کرلیا

    راولپنڈی میں قتل کے جرم میں گرفتار باپ، بھائی اور سابق شوہر کا عدالت نے چار روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا، ملزمان نے جرم کا اعتراف کیا ہے۔

    پنڈی میں سترہ سالہ لڑکی سدرہ کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کے جرم میں گرفتار چھ ملزمان کو پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ کڑے پہرے میں سول جج قمرعباس تارڑ کی عدالت میں پیش کردیا گیا،ان ملزمان میں قتل کا حکم دینے والا جرگے کے سربراہ عصمت اللہ، مقتولہ کے والد عرب گل، بھائی ظفر گل، پہلے شوہر ضیاء الرحمان، مقتولہ کے چچا مانی سسر سلیم شامل ہیں،ملزمان کو دیکھنے کے لئے شہریوں کی بڑی تعداد عدالت کے باہر پہنچ گئی تاہم پولیس ان تمام ملزمان کے چہرے ڈھانپ کر لائی تھی۔

    پشاور ہائیکورٹ: علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری معطل

    تفتیشی آفیسر نے کہا کہ ابتدائی تفتیش میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، تمام ملزمان نے قتل کا اعتراف کرلیا ہے، ملزمان سے گلا دبا کر مارنے والا تکیہ اور دیگر آلات برآمد کرنے ہیں سات دن کا ریمانڈ دیا جائے، ملزمان سے تفتیش کرنی ہے تفتیش میں تمام ملزمان سے ان کے تحریری بیانات لیے جائیں گے،عدالت نے تمام ملزمان کا 4 دن کا جسمانی ریمانڈ دے دیا اور تفتیش مکمل کرکے یکم اگست کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

    عمران خان کی ضمانت کی 8 اپیلیں کل سماعت کیلئے مقرر

  • راولپنڈی غیرت کے نام پر قتل کیسں میں نئےانکشافات

    راولپنڈی غیرت کے نام پر قتل کیسں میں نئےانکشافات

    راولپنڈی: غیرت کے نام پر قتل کی جانے والی خاتون کے کیس میں،پولیس نے انکشافات کئے ہیں۔

    سی پی او راولپنڈی سید خالد ہمدانی نے کہا کہ راولپنڈی میں غیرت کے نام پر لڑکی سے متعلق اطلاع اسی دن مل گئی تھی کہ ایک لڑکی کی غیر فطری موت ہوئی ہے تاہم اہلخانہ نے پولیس کا دھیان ہٹانے کے لیے 3 دن بعد اغوا کی درخواست دی، خاتون کو گھر میں قتل کرکے اسی رات شدید بارش کے دوران اسے دفنایا گیا اور قبرکا نشان تک بھی مٹایا گیا تھا مگر پولیس نے قتل کا پتا لگایا، جب ملزمان کو تفتیش کا شک ہوا تو اس پر سے دھیان ہٹانے کے لیے پہلی شادی اور اغوا وغیرہ کی باتیں کی گئیں مگر یہ سیدھا سیدھا قتل کا کیس ہے۔

    راولپنڈی غیرت کے نام پر قتل: خاتون کی قبر کشائی آج ہوگی

    واضح رہے کہ 17 اور 18 جولائی کی درمیانی شب راولپنڈی کے پیر ودھائی تھانے کی حدود میں شادی شدہ خاتون کو گلہ دبا کر قتل کر دیا گیا تھا اور پھر راتوں رات تدفین بھی کر دی گئی تھی،خاتون کے قتل کے معاملے میں اب تک 8 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جب کہ مقتولہ کے دوسرے شوہر عثمان نے گزشتہ رات خود کو پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔

    پاکستان کا نیا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ 31 جولائی کو خلا میں روانہ کیا جائے گا

  • راولپنڈی: پوسٹمارٹم میں خاتون  کو گلا دبا کر قتل کرنے کی تصدیق

    راولپنڈی: پوسٹمارٹم میں خاتون کو گلا دبا کر قتل کرنے کی تصدیق

    راولپنڈی : جرگے کے فیصلے پر لڑکی کے مبینہ قتل اور قبر غائب کرنے کا معاملے پر عدالت نے قبر کشائی کے لئے آج کا دن مقرر کیا ، عدالتی حکم پر چھتی قبرستان پیرودھائی میں قبر کشائی کی گئی۔

    قبر کشائی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ایلیٹ فورس اہلکار قبرستان میں تعینات رہے جب کہ قبر کے اردگرد قناتیں اور شامیانے لگا ئے گئے تھےہولی فیملی اسپتال کی لیڈی ڈاکٹر مصباح کی سربراہی میں میڈیکل ٹیم موقع پر موجود رہی، عدالتی مجسٹریٹ کے معائنے کے بعد ٹی ایم اے کے عملے نے قبر کھودنے کا عمل شروع کیا اس موقع پر 2 ملزمان، گورکن راشد اور قبرستان کمیٹی کے سیکرٹری سیف الرحمٰن کو بھی نشاندہی کے لیے لایا گیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق لڑکی کی قبر کشائی کے لئے متعلقہ افراد کو آگاہ کر دیا گیا تھا، پولیس نے تین ملزمان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا ہے، پولیس حکام کاکہنا تھا قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم مجسٹریٹ کی موجودگی میں ہوگا اور اس دوران ہولی فیملی ہسپتال کا میڈیکل بورڈ اور فرانزک ماہرین نمونے حاصل کریں گےپوسٹ مارٹم کے بعد سدرہ کی نعش دوبارہ وہیں دفن کردی جائے گی، پولیس کی جانب سے قبرستان کے اطراف میں سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں، اور قبر کے ارد گرد حفاظتی حصار بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ کوئی غیر متعلقہ شخص قبر کے قریب نہ آسکے۔

    لڑکی کے پوسٹ مارٹم میں گلا دبا کر قتل کرنے کی تصدیق ہوگئی، پولیس نے جرگے کے سربراہ عصمت اللہ سمیت مزید 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔لڑکی کے سر اور چہرے پر تشدد کے نشانات تھے، منہ نیلا ہوچکا تھا،

    واضح رہے کہ راولپنڈی کی مقامی عدالت نے قبر کشائی کے لیے آج 28 جولائی کا دن مقرر کیا تھاپولیس ذرائع نے بتایا تھا کہ راولپنڈی پولیس نے گورکن، رکشہ ڈرائیور سمیت 8 افراد کو حراست میں لیا، جن سے تفتیش جاری ہے مقتولہ سدرہ کو 17جولائی کو جرگے کے حکم پر قتل کردیا گیا تھا۔

    پہلگام حملہ، سابق بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے پاکستان کے ملوث ہونے کو مسترد کر دیا

    باغی ٹی وی،اپووا کے اشتراک سے یومِ آزادی کے موقع پر تحریری مقابلہ کا اعلان

    مقتولہ سدرہ کا دوسرا نکاح 14 جولائی کو مظفر آباد میں عثمان کے ساتھ ہوا تھا، مقتولہ کے سسر محمد الیاس کا ویڈیو بیان سامنے آیا تھا، جس کے مطابق اس کا بیٹا عثمان پیر ودھائی میں بطور مکینک کام کرتا تھا، بیٹا سدرہ کو اپنے ساتھ گھر لے آیا جس پر دونوں کا نکاح کروایا تھا۔

    مقتولہ کے سسر کے مطابق لڑکی نے بتایا وہ قرآن کی حافظہ ہے، اور اس کا والد فوت ہوگیا ہے جبکہ اس کی والدہ نے چچا سے شادی کرلی ہے، سسر کے مطابق سدرہ نے بتایا کہ چچا اس کی شادی بڑی عمر کے شخص سےکروانا چاہتا ہے، لڑکی نے اہل خانہ کی دھمکیوں سے متعلق آگاہ کیا تھا، نکاح کے 3 دن بعد 8 سے 10 مسلح افراد ہمارے گھر مظفر آباد آئے اور دھمکیاں دیں۔

    انہوں نے کہا کہ گھر آئے مسلح افراد سدرہ کو اپنے ساتھ زبردستی راولپنڈی لے آئے اور بعد میں قتل کر دیا تھا۔

    ننکانہ صاحب کے ہونہار طالب علم فیضان رضا ایک دن کے لیے اعزازی ڈپٹی کمشنر مقرر

  • راولپنڈی غیرت کے نام پر قتل: گرفتار گورکن نے تہلکہ خیز انکشافات

    راولپنڈی غیرت کے نام پر قتل: گرفتار گورکن نے تہلکہ خیز انکشافات

    راولپنڈی:پیرودہائی کے علاقہ میں 18سالہ خاتون کو جرگے کے فیصلہ پر غیرت کے نام پر قتل کرنے کے کیس میں گرفتار گورکن نے سنسنی خیز انکشافات،کئےہیں-

    چھتی قبرستان کے گرفتار گورکن نے پولیس کو بتایا ہے کہ لڑکی کو قتل کرنے کے بعد 17جولائی صبح ساڑھے 5 بجے دفن کیا گیا، قبرستان کمیٹی کے ممبر گل بادشاہ نے فون پر ایک گھنٹے میں قبر تیار کرنے کی ہدایت کی، شدید بارش اور صبح سویرے مزدوروں کے عدم دستیابی کے باعث قبر تیارنہ ہونے کا جواب دیا، پونے 6 بجے گل بادشاہ 25 افراد کے ساتھ قبرستان آیا جنہوں نے میرے ساتھ قبر کھود کر تیار کی۔

    پی آئی اے کا اربعین کے لیے خصوصی فلائٹ آپریشن چلانے کا اعلان

    گورکن کے مطابق مقتولہ کی لاش لوڈر رکشے پر لائی گئی جس پر سرخ رنگ کی ترپال پڑی ہوئی تھی جبکہ قبر تیار ہونے تک رکشہ قبرستان میں ہی کھڑا رہا اور قبر تیار ہونے پر تمام افراد نے لڑکی کی تدفین کی تمام افراد نے قبر کو ہموار کیا اور قبر کا نشان تک ختم کر دیا، گورکن کے مطابق اس نے قبر کی رسید نمبر 78 ممبر قبرستان گل بادشاہ کے بیٹے کو دی، جس پر گل بادشاہ نے لڑکی کا نام سدرہ دختر عرب گل تحریر کرایا، 18جولائی کو سیکریٹری قبرستان کمیٹی سیف الرحمن میرے پاس آیا اور رسید بک لے گیا، تھوڑی دیر بعد رسید بک واپس کی گئی جس میں 78 نمبر رسید کا ریکارڈ موجود نہیں تھا۔

    محکمہ بلدیات پنجاب میں 9 کروڑ 45 لاکھ روپے کاغبن

  • راولپنڈی:شادی شدہ خاتون  کے قتل کا فیصلہ کس نےسنایا؟

    راولپنڈی:شادی شدہ خاتون کے قتل کا فیصلہ کس نےسنایا؟

    راولپنڈی میں مبینہ طور پر جرگے کے حکم پر غیرت کے نام پر قتل ہونے والی شادی شدہ خاتون کے نکاح کی دستاویزات اور سسر کا بیان سامنے آگیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق لڑکی کے قتل کا فیصلہ جرگہ سربراہ عصمت اللہ نے دیا تھا، خاتون کی نماز جنازہ بھی عصمت اللہ نے گھر پر پڑھائی تھی،11 سے 16 جولائی کے درمیان جرگے میں عصمت اللہ پیش پیش رہا، جرگے کے سربراہ عصمت اللہ کی بازار میں ہوائی فائرنگ کی وڈیو بھی سامنے آئی تھی، ویڈیو میں عصمت اللہ کو فائرنگ کرتے دیکھا گیا تھا، جرگے کا سربراہ عصمت اللہ خان گرفتارہے۔

    مقتولہ کے نکاح کی دستاویزات کے مطابق خاتون نے مظفر آباد میں 12 جولائی کو عثمان نامی لڑکے سے نکاح کر لیا تھامقتولہ خاتون کا خاوند عثمان چہلہ بانڈی مظفرآباد کا رہائشی ہے اور راولپنڈی میں ملازمت کرتا ہے، مقتولہ نے جوڈیشل مجسٹریٹ مظفرآباد کے روبرو اپنا بیان بھی جمع کرایا تھا اور عدالت سے تحفظ بھی مانگا تھا،مقتولہ نے عدالت میں عثمان کے ساتھ مرضی سے نکاح کرنے کا بیان جمع کرایا تھا اور اپنی جان کے خطرے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

    پی سی بی میں 6 ارب روپے کی بدعنوانی، مالی بے ضابطگیاں ،سوالات اٹھ گئے

    مقتولہ نے عدالت کے روبرو بیان میں کہا کہ اس کا والد فوت ہو چکا ہے اور والدہ نے دوسری شادی کی ہے، مقتولہ نے اپنی والدہ کو بتایا تھا کہ اس کے پہلے شوہر نے اس کو زبانی طلاق دے دی ہے، جس کے بعد خاتون نے عثمان سے نکاح کیا۔

    مقتولہ کے سسر اور شوہر عثمان کے والد محمد الیاس نے اپنے بیان میں بتایا کہ میرا بیٹا عثمان پیرودھائی بس سٹینڈ ورکشاپ میں کام کرتا ہے، ہم لوگ مزدوری کرکے مشکل سے گزر بسر کرتے ہیں، مقتولہ نے تحفظ مانگا تو 30،40 ہزار روپے کا بندوبست کرکے میں ان کو عدالت لے گیا، میں نے نکاح کرایا اور عدالت میں بیانات جمع کرائے، نکاح کے 4 دن بعد 10 لوگ ہمارے گھر اسلحے سمیت داخل ہوئے اور ہمیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں، مقتولہ کے گھر والوں نے کہا اب نکاح ہو گیا ہے ہم اس کو رخصت کریں گے۔

    محمد الیاس نے بتایا کہ ہم نے لڑکی کو اس کی فیملی کے حوالے کر دیا، 2 دن بعد معلوم ہوا لڑکی کا قتل ہوا ہے، لڑکی کے قتل کا سن کر ہم اور ڈر گئے، قتل کا الزام میرے بیٹے پر نہ آئے اس لیے میں نے اس کو خود پولیس کے حوالے کیا ، میری درخواست ہے ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

    عافیہ صدیقی کے معاملہ پر حکمران دوغلی پالیسی ترک،مؤقف واضح کریں،خالد مسعود سندھو

    واضح، رہے کہ 17 اور 18 جولائی کی درمیانی شب راولپنڈی کے پیر ودھائی تھانے کی حدود میں شادی شدہ خاتون کو گلہ دبا کر قتل کر دیا گیا تھا اور پھر راتوں رات تدفین بھی کر دی گئی تھی،خاتون کے قتل کے معاملے میں اب تک 8 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ مقتولہ کے دوسرے شوہر عثمان نے گزشتہ رات خود کو پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔

  • نشانِ حیدر حاصل کرنیوالی پاکستان کی پہلی شخصیت،کیپٹن سرور شہید کا77واں یومِ شہادت

    نشانِ حیدر حاصل کرنیوالی پاکستان کی پہلی شخصیت،کیپٹن سرور شہید کا77واں یومِ شہادت

    نشانِ حیدر حاصل کرنے والی پاکستان کی پہلی شخصیت، کیپٹن محمد سرور شہید کا آج 77 واں یومِ شہادت عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے-

    گوجر خان میں کیپٹن محمد سرورشہید کے77 واں یوم شہادت کے موقع پر مزار پر پھول رکھنے اور فاتحہ خوانی کی تقریب منعقد کی گئی،تقریب کے مہمانِ خصوصی میجر جنرل عاکف اقبال (ہلالِ امتیاز ملٹری) تھے، جنہوں نے مزار پر پھول چڑھائے اور شہید کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔

    کیپٹن محمد سرور شہید نے 27 جولائی 1948 کو پہلی کشمیر جنگ میں دشمن کے خلاف جامِ شہادت نوش کیا وہ پاک فوج کے پہلے سپوت ہیں جنہیں جرات و بہادری کے اعتراف میں نشانِ حیدر سے نوازا گیاافواجِ پاکستان اور پوری قوم نے عظیم ہیرو کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جنہوں نے وطن کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ دے کر بہادری کی نئی تاریخ رقم کی۔

    غزہ میں بھوک اور تکلیف دل دہلا دینے والی ہے، امریکی سینیٹر

    صدر مملکت آصف زرداری نے کیپٹن محمد سرور شہید کے یوم شہادت پر اپنے پیغام میں کہا کہ کیپٹن سرور شہید نے کشمیر کی پہلی جنگ میں مادرِ وطن کیلئے جان کا نذرانہ پیش کیا، قوم کو ان کی جرات، استقامت اور عظیم قربانی پر فخر ہے،آج کا محفوظ پاکستان ہمارے ہیروز کی عظیم قربانیوں کا نتیجہ ہے ، شہداء کی قربانیاں ملکی دفاع اور قومی استحکام کی بنیاد ہیں،قوم کیپٹن محمد سرور شہید کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ کیپٹن سرور نے جموں و کشمیر پر دشمن کے قبضے کو ناکام بنایا اور جام شہادت نوش کیا، قوم اپنے شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔

    کیپٹن محمد سرور شہید ضلع راولپنڈی کے ایک گاؤں سنگھوری میں 10 نومبر 1910 میں پیدا ہوئے محمد سرور شہید نے اپنی ابتدائی تعلیم فیصل آباد سے حاصل کی، 1929 میں انہوں نے فوج میں بطور سپاہی شمولیت اختیار کی، 1944میں پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا،انہوں نے برطانیہ کی جانب سے دوسری عالمی جنگ میں حصہ لیا، شاندار فوجی خدمات کے پیشِ نظر 1946 میں انہیں مستقل طور پر کیپٹن کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔

    قیام پاکستان کے بعد سرور شہید نے پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔ 1948ء میں جب وہ پنجاب رجمنٹ کے سیکنڈ بٹالین میں کمپنی کمانڈر کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے، انہیں کشمیر میں آپریشن پر مامور کیا گیا27 اکتوبر 1959 کو انہیں نشانِ حیدر کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا گیا، انہیں پہلا نشانِ حیدر پانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

    شرح تبادلہ کے نرخوں پر غور : اسٹیٹ بینک نے بینکوں کا اجلاس کل طلب کرلیا

  • راولپنڈی:غیرت کے نام پر قتل 17 سالہ لڑکی کی پورٹ عدالت میں پیش

    راولپنڈی:غیرت کے نام پر قتل 17 سالہ لڑکی کی پورٹ عدالت میں پیش

    راولپنڈی میں غیرت کے نام پر 17 سالہ سدرہ کے قتل کیس میں عدالت نے مقتولہ کی قبر کشائی کا حکم جاری کر دیا۔

    سول جج قمر عباس تارڑ نے قبر کشائی کا حکم دیا اور قبر کشائی کے لیے 28 جولائی بروز پیر کی تاریخ مقرر کردی، عدالت نے پولیس کی درخواست منظور کرتے ہوئے ہولی فیملی اسپتال کا میڈیکل بورڈ مقرر اور مجسٹریٹ بھی تعینات کردیا۔میونسپل کارپوریشن کا عملہ قبر کشائی کرے گا، گرفتار 3 ملزمان کا 3 دن کا جسمانی ریمانڈ بھی منظور کرلیا گیا۔

    ملزمان راشد گورکن سیکریٹری قبرستان سیف الرحمان، رکشہ ڈرائیور خیال محمد کو منگل 29 جولائی پیش کرنے کا حکم دیا گیا، مقدمہ میں مجموعی طور 32 ملزمان نامزد ہیں۔

    جرگہ کے تمام ممبران بھی ملزم نامزد کر دئیے گئے، مقتولہ کا والد، سسر، بھائی والدہ بہن دو چچیاں بھی ملزمان کی فہرست شامل ہیں-عدالت میں پیش رپورٹ کے مطابق مقتولہ کی جنوری 2025 میں شادی کے 4 ماہ بعد زبانی طلاق ہوئی، طلاق کے بعد مقتولہ نے عثمان سے دوسری شادی کی مگر جرگہ پھر اسے چھین لایا۔

    راولپنڈی:غیرت کے نام پر قتل 17 سالہ لڑکی کی پورٹ عدالت میں پیش

    مقتولہ سے دوسری شادی کرنے والا عثمان بھی گرفتار ہے، رپورٹ کے مطابق بغیر کفن اور بغیر جنازہ کے گڑھا کھود کر دفنایا گیا، جرگہ کا چئرمین سابق یونین کونسل بھی گرفتار ہوگیا-قبر کشائی کے بعد میڈیکل بورڈ ہوگا، ڈاکٹرز وجہ قتل کی رپورٹ دینگے، مقتولہ کے جسم کے اعضا فرانزک لیب ٹیسٹ کیلئے لاہور فرانزک کے لئے بھیجے جائیں گےرکشہ ڈرائیور خیال محمد نے اعتراف جرم کر لیا، گورکن راشد محمود نے بھی بغیر جنازہ، بغیر قبر بنائے زمین برابر کرنے کا اعتراف کرلیا۔

    وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے بھی غیرت کے نام پر اس قتل کی رپورٹ طلب کر لی، تھانہ ذرائع نے کہا کہ تھانہ تفتیشی ٹیم نے جرم کو درست قرار دیتے آئی جی پنجاب کو رپورٹ بھیج دیفتیشی رپورٹ کے مطابق ملزمان نے پہلے سر پر تکیہ رکھ رکھا، پھر چند سانس باقی تھے گلا دبایا۔

    ہمایوں سعید شوٹنگ کے دوران شدید زخمی

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ گورکن کا کام قبر چھپانا نہیں بنتا، رکشہ میں دو گھنٹے ڈیڈ باڈی کیوں رکھی گئی؟ پھر مٹی ڈال کر قبر برابر کر دی، سچ اور حقیقت تک پہنچنے کے لیے قبر کشائی ضروری ہے،تفتیشی آفیسر نے کہا کہ پوسٹ مارٹم، فرانزک لیب ٹیسٹ سے کیس واضح ہو جائے گا، عدالت نے منگل 29 جولائی قبر کشائی مکمل کر کے رپورٹ دینے کا حکم دیدیا،مقتولہ سدرہ کا خاندان 45 سال قبل 1980 میں مہمند ایجنسی سے فوجی کالونی پیرودھائی راولپنڈی آباد ہوا، مقتولہ کا والد عرب گل، والدہ بفر بی بی، بہن نائلہ بی بی، بھائی ظفر شامل ہیں۔

    گورنر پنجاب نے وزیراعلیٰ مریم نواز کو خط لکھ دیا

  • سرکاری ہسپتال کے باتھ روم میں خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنانے والا پولیس اہلکار رنگے ہاتھوں گرفتار

    سرکاری ہسپتال کے باتھ روم میں خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنانے والا پولیس اہلکار رنگے ہاتھوں گرفتار

    گوجرخان (باغی ٹی وی رپورٹ) تحصیل گوجرخان کے سول ہسپتال میں ایک انتہائی شرمناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں پولیس کا ایک اہلکار خواتین کے باتھ روم میں نازیبا ویڈیوز اور تصاویر بناتا ہوا رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا۔ واقعہ نے نہ صرف ہسپتال انتظامیہ بلکہ سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اُس وقت سامنے آیا جب ایک شہری بلال حسین نے ہسپتال کے باتھ روم اور دیگر مقامات پر ایک مشکوک شخص کو خواتین کی ویڈیوز بناتے دیکھا۔ شہری نے شک کی بنیاد پر فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ شخص کو قابو میں لے لیا اور اس کا موبائل فون چیک کیا، جس میں متعدد خواتین کی نازیبا تصاویر اور ویڈیوز موجود تھیں۔ ملزم کو موبائل سمیت فوری طور پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

    پولیس نے مقدمہ بلال حسین کی مدعیت میں درج کر لیا ہے، جس نے اپنی شکایت میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ علاج کے لیے سول ہسپتال گوجرخان آیا تھا جہاں اس نے ایک شخص کو خواتین کے باتھ روم کے قریب مشکوک انداز میں گھومتے دیکھا۔ شک ہونے پر جب اس سے باز پرس کی گئی تو اس کے موبائل فون سے خواتین کی نازیبا ویڈیوز اور تصاویر برآمد ہوئیں، جو بظاہر ہسپتال کے باتھ روم اور دیگر مقامات پر خفیہ طور پر بنائی گئی تھیں۔

    پولیس نے ملزم کی شناخت عقیل عباس کے نام سے کی ہے، جو راجگان کا رہائشی اور پولیس ٹریننگ ونگ لاہور سے وابستہ بتایا جا رہا ہے۔ حیرت انگیز طور پر ملزم اہلکار سادہ کپڑوں میں ملبوس تھا تاکہ کسی کو شک نہ ہو اور وہ بآسانی خواتین کے قریب جا سکے۔

    گوجرخان پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے عقیل عباس کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 354 (خواتین کی عزت پر حملہ) اور 292 (فحش مواد کی تیاری و اشاعت) کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مقدمے کے اندراج کے بعد ملزم سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

    ایس پی صدر نبیل کھوکھر نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرفتار اہلکار کا تعلق پولیس ٹریننگ ونگ لاہور سے ہے اور اس واقعے کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے گھناونے فعل میں ملوث کسی بھی شخص کو قطعاً معاف نہیں کیا جائے گا اور ملزم کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے گی تاکہ آئندہ کوئی اہلکار وردی کے وقار کو داغدار نہ کر سکے۔

    ادھر شہری حلقوں، سماجی تنظیموں اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان نے واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس محکمے میں ایسے عناصر کی سختی سے چھان بین کی جائے اور اسپتالوں سمیت عوامی مقامات پر سیکیورٹی کو بہتر بنایا جائے تاکہ خواتین محفوظ رہ سکیں۔

    یہ واقعہ نہ صرف پولیس کے نظامِ احتساب کے لیے لمحہ فکریہ ہے بلکہ معاشرے میں خواتین کے تحفظ پر جاری مباحثے کو مزید شدت دے گیا ہے۔ عوامی مطالبہ ہے کہ ایسے واقعات میں ملوث مجرموں کو نہ صرف نشانِ عبرت بنایا جائے بلکہ ادارہ جاتی اصلاحات بھی فوری نافذ کی جائیں۔

  • جنرل ساحر شمشاد مرزا سے تاجکستان کے چیف آف جنرل اسٹاف کی ملاقات

    جنرل ساحر شمشاد مرزا سے تاجکستان کے چیف آف جنرل اسٹاف کی ملاقات

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا سے تاجکستان کے چیف آف جنرل اسٹاف نے ملاقات کی

    آئی ایس پی آر کے مطابق جوائنٹ اسٹاف ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا، نشانِ امتیاز (ملٹری) سے تاجکستان کے چیف آف جنرل اسٹاف آف دی آرمڈ فورسز اور پہلے نائب وزیر دفاع میجر جنرل سعیدزودا بوبوجون عبدالقادر نے ملاقات کی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں علاقائی سیکیورٹی کی بدلتی ہوئی صورتحال اور باہمی اسٹریٹجک مفادات پر تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں عسکری رہنماؤں نے پاکستان اور تاجکستان کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا اور دو طرفہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر گفتگو کی، میجر جنرل سعیدزودا بوبوجون عبدالقادر نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی قربانیوں کا اعتراف کیا۔

    فرانس کا فلسطین کو باضابطہ طور خود مختار ریاست تسلیم کرنے پر امریکا اور اسرائیل سیخ پا

    آئی ایس پی آر کے مطابق قبل ازیں میجر جنرل سعیدزودا بوبوجون عبدالقادر جب جوائنٹ اسٹاف ہیڈکوارٹرز پہنچے تو تینوں مسلح افواج کے چاق چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔

    دہشتگرد واٹس ایپ سمیت سوشل میڈیا چلا رہے،بندکیا جائے،طلال چوہدری

  • راولپنڈی: لڑکی کا  جرگے کے فیصلے پر قتل،پولیس نے قبر کشائی کی اجازت طلب کر لی

    راولپنڈی: لڑکی کا جرگے کے فیصلے پر قتل،پولیس نے قبر کشائی کی اجازت طلب کر لی

    بلوچستان میں دوہرے قتل کے بعد راولپنڈی کے علاقے پیرودھائی میں بھی پسند کی شادی کرنے والی نوجوان لڑکی سدرہ کو مبینہ طور پر جرگے کے فیصلے پر گلا گھونٹ کر قتل کر دیا گیا۔

    پولیس کے مطابق واردات 17 جولائی کو ہوئی،سدرہ کو اس کی پسند کی شادی پر شدید دباؤ کا سامنا تھا وہ کشمیر فرار ہو گئی تھی لیکن بعد میں اسے واپس لاکر قتل کیا گیامقتولہ کو خاموشی سے رات کے اندھیرے میں دفنا دیا گیا اور اس کی قبر کا نشان بھی مٹا دیا گیا تاکہ شواہد چھپائے جا سکیں واقعے میں قبرستان کمیٹی کے سابق چیئرمین اور گورکن کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق سدرہ کے شوہر ضیاءالرحمان کی مدعیت میں ایک مقدمہ درج کیا گیا جس میں مقتولہ سدرہ پر زیورات اور نقدی لے کر فرار ہونے کا الزام لگایا گیا ہے، ایف آئی آر میں لڑکی پر عثمان نامی لڑکے کے ساتھ بھاگ جانے کا الزام بھی لگایا گیااب پولیس نے عدالت سے مقتولہ کی قبر کشائی کی اجازت طلب کی ہے تاکہ قتل کی تصدیق اور شواہد حاصل کیے جا سکیں، ذرائع کے مطابق عدالت نے قبر کشائی کے حوالے سے فیصلہ کل سنانے کا عندیہ دے دیا ہے، معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

    نوجوان نسل پاکستان کا اصل اثاثہ ،سیاست کیلئے آگے بڑھیں، سیف اللہ قصوری

    پاک فضائیہ کا گلگت بلتستان میں ریسکیو مشن کامیابی سے مکمل

    سیاح موسم بہتر ہونےتک سیلاب متاثرہ علاقوں کاسفر نہ کریں،چیف سیکرٹری گلگت