گوجرخان (قمرشہزاد) جہاں ایک طرف وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صوبے میں اصلاحات اور گڈ گورننس کے ذریعے عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور تمام تر بنیادی سہولیات باہم دہلیز تک پہنچانے کے لیے دن رات کوشاں ہیں، وہیں گوجرخان کے حلقہ پی پی 8 میں منتخب قیادت کی پراسرار خاموشی اور مسائل سے مسلسل چشم پوشی کی بنا پر متعلقہ اداروں کے افسران وزیر اعلیٰ کے اس ویژن کو زمین بوس کرنے اور ان کی ساکھ کو سبوتاژ کرنے کے مشن پر گامزن دکھائی دیتے ہیں۔
گوجرخان سٹی میں پانی کے بحران کی گھمبیر صورتحال کی بنا پر جماعت اسلامی گوجرخان کے جنرل سیکرٹری راجہ عمیر نے اپنا شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹینڈرز کے اجرا میں تاخیر اور پانی کے سنگین بحران نے بلدیہ گوجرخان اور متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے افسران جان بوجھ کر عوامی غیظ و غصب کو ہوا دے رہے ہیں تاکہ حکومت کے خلاف نفرت پیدا کی جا سکے۔ اہلیانِ گوجرخان نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر حلقہ پی پی 8 کی صورتحال کا سختی سے نوٹس لیں اور ترجیح بنیادوں پر درپیش مسائل کو حل کروانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں اور انکے ویژن کو زمین بوس کرنے والے اداروں کے افسران اور ملازمین کو فوری طور پر ضلع بدر کیا جائے۔ گوجرخان میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، گیس کا زیرو پریشر جبکہ ریونیو دفاتر میں جاری لوٹ مار اور ٹی ایچ کیو ہسپتال میں آئے روز کے اسکینڈلز درجہ چہارم کے ملازمین کی غنڈہ گردی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں قانون نہیں بلکہ افسر شاہی کا راج ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ہمیں افسوس ہے کہ سی ایم پنجاب تو اصلاحات لانا چاہتی ہیں، مگر بیوروکریسی کے ماتحت ادارے مبینہ طور پر اپنی جیبیں بھرنے اور حلقہ پی پی 8 کی قیادت عوامی مسائل سے چشم پوشی کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ افسران گڈ گورننس کے دشمن ہیں اور عوامی مینڈیٹ کی توہین کر رہے ہیں۔ جبکہ عوامی حلقوں کا پانی کے بحران پر 10 فروری بروز منگل بلدیہ دفتر کے سامنے ہونے والے مظاہرے کے متعلق کہنا ہے کہ اب محض ایک احتجاج نہیں بلکہ ان سفید ہاتھیوں کے خلاف اعلانِ جنگ ہوگا جو عوام کا خون چوس رہے ہیں۔








