Baaghi TV

Category: راولپنڈی

  • گوجرخان میں ایل پی جی مافیا بے لگام، فی کلو قیمت 500 روپے سے متجاوز

    گوجرخان میں ایل پی جی مافیا بے لگام، فی کلو قیمت 500 روپے سے متجاوز

    گوجرخان (قمر شہزاد مغل) گوجرخان اور گردونواح میں ایل پی جی مافیا نے غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی، گیس کی فی کلو قیمت 500 روپے کی ریکارڈ سطح سے بھی تجاوز کر گئی۔ اوگرا کی جانب سے جاری کردہ سرکاری نرخ نامہ صرف کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ گیا ہے، جبکہ پلانٹ مالکان اور ڈسٹری بیوٹرز نے قانون کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے من مانے ریٹس وصول کرنا شروع کر دیے ہیں۔

    شہریوں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمر توڑ مہنگائی کے اس دور میں اب گیس سلنڈر بھروانا ایک خواب بن چکا ہے۔ مقامی و ضلعی انتظامیہ گراں فروشوں کے خلاف کارروائی کرنے میں بری طرح ناکام نظر آتی ہے، جس سے یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ مافیا کو اعلی حکام کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ شہریوں نے حکومتِ پاکستان اور اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ گوجرخان میں ایل پی جی کی سرکاری نرخوں پر فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور عوامی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے والے پلانٹ مالکان اور ڈسٹری بیوٹرز کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری نوٹس نہ لیا گیا تو وہ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے۔

  • خواتین کی ویڈیوز بنانے والے سیاہ کار کو نوازنے کا انکشاف،انکوائری کا مطالبہ

    خواتین کی ویڈیوز بنانے والے سیاہ کار کو نوازنے کا انکشاف،انکوائری کا مطالبہ

    گوجرخان (قمر شہزاد) ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی کی کارکردگی پر اس وقت سوالیہ نشان لگ گیا جب ایک ایسے بدنامِ زمانہ اہلکار کو رورل ہیلتھ سنٹر دولتالہ میں تعینات کر دیا گیا جس پر تحصیل کہوٹہ کے سرکاری ہسپتال میں خاتون سے زیادتی اور نازیبا ویڈیوز وائرل کرنے جیسے سنگین الزامات کا سائبر کرائم میں انکوائری نمبر 1541/25 مکمل ہونے کے بعد مقدمہ نمبر 90/25 درج ہوا۔ اس شرمناک تعیناتی نے عوامی و سماجی حلقوں میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ سی ای او ہیلتھ راولپنڈی کی جانچ پڑتال کے نظام پر بھی سنگین شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق مذکورہ اہلکار نہ صرف سنگین اخلاقی جرائم میں ملوث ہے بلکہ اسی کیس میں 8 ماہ اڈیالہ جیل کی ہوا بھی کھا چکا ہے اور تاحال ٹرائل کا سامنا کر رہا ہے، جس پر رواں ماہ ہی فردِ جرم عائد ہونی ہے۔ سوشل میڈیا پر عوامی احتجاج اور شدید دباؤ کے بعد اگرچہ سی ای او ہیلتھ نے مبینہ طور پر یہ احکامات منسوخ کر دیے ہیں، مگر شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا اتنے بڑے عہدے پر بیٹھے افسر کو تعیناتی سے قبل اپنے عملے کے ریکارڈ کا علم نہ تھا؟ یا پھر سب کچھ جانتے بوجھتے کسی خاص مفاد کے تحت خاموشی اختیار کی گئی؟ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ جب سے موجودہ سی ای او نے چارج سنبھالا ہے، ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی کے زیر سایہ چلنے والے سرکاری ہسپتال مبینہ طور پر اسکینڈلز کا گڑھ بن چکے ہیں۔ کبھی ہسپتالوں کے واش رومز میں خواتین کی ویڈیوز بننے کے واقعات سامنے آتے ہیں تو کبھی عملے کی بدتمیزی اور منظورِ نظر افراد کو نوازنے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔

    عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس مجرمانہ غفلت کا فوری نوٹس لیا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں کو درندوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے والے غیر ذمہ دار سی ای او راولپنڈی کو فی الفور عہدے سے ہٹا کر کسی فرض شناس افسر کو تعینات کیا جائے اور اس پورے معاملے کی شفاف انکوائری کر کے ذمہ داروں کو عبرت کا نشان بنایا جائے تاکہ سرکاری ہسپتالوں میں آنے والی مائیں بہنیں خود کو محفوظ تصور کر سکیں۔

  • گوجرخان کے ڈاکٹر میاں بیوی انسانی اسمگلنگ  نیٹ ورک کے سہولت کار نکلے

    گوجرخان کے ڈاکٹر میاں بیوی انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کے سہولت کار نکلے

    گوجرخان (قمر شہزاد) وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل لاہور نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے گوجرخان کے رہائشی ڈاکٹر جوڑے کو، جو انسانی اسمگلنگ اور کروڑوں روپے کے فراڈ میں ملوث پائے گئے، بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کے دوران اسلام آباد ایئرپورٹ سے گرفتار کر لیا۔ ملزمان ڈاکٹر راجہ زاہد حسین اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر ص زاہد، جو شہر میں زارا میڈیکل سنٹر کے نام سے ہسپتال چلاتے تھے، نے مسیحائی کے لبادے میں شہریوں کو لوٹنے کا گھناؤنا کاروبار سجا رکھا تھا۔ ایف آئی اے کی انکوائری نمبر 3368/2025 میں ہوش ربا انکشافات سامنے آئے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق، ان سفید پوش نوسربازوں نے مدعی محمد ایوب خان سکنہ گلبرگ لاھور اور ان کے ساتھیوں سمیت کل 10 افراد کو پرتگال میں سیٹل کروانے اور وہاں پرکشش ملازمتیں دلوانے کا جھانسہ دیا۔ ملزمان نے مکاری کا جال پھیلاتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے بینک اکاؤنٹس اور نقد رقم کی صورت میں مجموعی طور پر 13 کروڑ 26 لاکھ روپے بٹورے تھے۔ رقم ہضم کرنے کے بعد جب ملزمان نے نہ تو متاثرین کو بیرون ملک بھیجا اور نہ ہی رقم واپس کی، تو ایف آئی اے نے تحقیقات کا آغاز کیا۔ ابتدائی انکوائری میں جرم ثابت ہونے پر ایمیگریشن آرڈیننس 1979 کی دفعہ 17/22 کے تحت مقدمہ نمبر 275/26 درج کیا گیا۔ ملزمان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیے گئے تھے۔ جیسے ہی ان اشتہاری ملزمان نے اسلام آباد ایئرپورٹ سے قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک کر فرار ہونے کی کوشش کی تو ایف آئی اے حکام نے انہیں دھر لیا۔ عوامی حلقوں نے ایف آئی اے کی اس بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے لٹیروں کو نشانِ عبرت بنایا جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی شہریوں کی مجبوریوں کا سودا نہ کر سکے۔

  • شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج ہلاک

    شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج ہلاک

    سیکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام بنانے کے لیے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 8 دہشت گرد ہلاک کردیے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یکم اپریل 2026ء کو شمالی وزیرستان کے علاقے میں پاک افغان سرحد کے ساتھ بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج کے دہشت گردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت دیکھی گئی سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے خارجیوں کے اس گروہ کو نشانہ بنایا درست اور مہارت سے کی گئی اس کارروائی کے نتیجے میں بھارتی حمایت یافتہ فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 8 خارجی دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے کارروائی کے دوران ہلاک دہشتگردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس جھڑپ سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا کہ افغان طالبان حکومت اپنی سرحدی ذمہ داریوں کو مؤثر طریقے سے نبھانے میں ناکام رہی ہے افغان طالبان حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملکی سرحدوں کے دفاع کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں مزید خارجی دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے جبکہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظور کردہ مہم عزم استحکام کے تحت دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے شمالی وزیرِ ستان میں پاک افغان سرحدی علاقے میں فتنۃ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پذیرائی کی ہے۔

    انہوں نے کامیاب کارروائی میں 8 خارجیوں کو جہنم رسید کرنے پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رکھیں گے، مجھ سمیت پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ کے غیر متزلز ل عزم میں افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے-

  • پاک فوج کے جوانوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت، جرات کے نشان کا شاندار ٹیزر جاری

    پاک فوج کے جوانوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت، جرات کے نشان کا شاندار ٹیزر جاری

    پاک فوج کے دلیر جوانوں کی لازوال قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جرات کے نشان کا شاندار ٹیزر جاری کر دیا گیا۔

    ٹیزر میں شہید میجر سید علی رضا اور حوالدار نثار احمد کی بہادری اور قربانی کے جذبہ کو شاندار انداز میں پیش کیا گیا ہے،ٹیزر ملکی سرحدوں کی حفاظت کے لیے سینہ سپر پاک فوج کے جوانوں کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے،پاک فوج کے بہادر جوان فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان سمیت دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا رہے ہیں،قوم ہر محاذ پر پاک فوج کے شہداء کی غیر معمولی بہادری کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔

    https://x.com/BaaghiTV/status/2038514661105311944?s=20

  • بشریٰ بی بی بھی آنکھ کی تکلیف میں مبتلا، اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ

    بشریٰ بی بی بھی آنکھ کی تکلیف میں مبتلا، اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ کیا گیا، انہوں نے دائیں آنکھ میں تکلیف کی شکایت کی تھی۔

    جیل ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی کا پمز اسپتال کے سربراہ شعبہ چشم ڈاکٹر محمد عارف خان نے معائنہ کیا بشریٰ بی بی کو دائیں آنکھ سے دھندلا نظر آرہا تھا، مریضہ نے سر درد کی شکایت بھی کی تھی، پمز اسپتال کے ڈاکٹر محمد عارف خان نے جیل میں پہنچ کر بشریٰ بی بی کا تفصیلی معائنہ کیاڈاکٹرز نے بشریٰ بی بی کو مخصوص آئی ڈراپس اور ادویات تجویز کر دی ہیں، بشریٰ بی بی کو ڈاکٹر نے مختلف احتیاط تجویز کی ہیں، ڈاکٹر نے بشریٰ بی بی کو ہدایت کی کہ وہ مطالعے کے لیے روشن جگہ کا استعمال کریں تاکہ آنکھوں پر دباؤ کم ہو، 4 ہفتوں بعد دوبارہ معائنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • 26 نومبر احتجاج کیس: بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع

    26 نومبر احتجاج کیس: بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع

    راولپنڈی:انسداد دہشت گردی عدالت نے 26 نومبر احتجاج کیس میں بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں 9 اپریل تک توسیع کر دی۔

    کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی، سماعت کے دوران بشریٰ بی بی کے وکیل فیصل ملک عدالت میں پیش ہوئے،وکیل صفائی نے عدالت سے استدعا کی کہ بشریٰ بی بی کو تمام مقدمات میں شامل تفتیش کیا جائے، مؤقف اختیار کیا گیا کہ پولیس نے تاحال انہیں کسی بھی مقدمے میں شامل تفتیش نہیں کیا،جس پر عدالت نے حکم دیا کہ 29 مقدمات میں بشریٰ بی بی کو شوہر اور وکلا کی موجودگی میں شامل تفتیش کیا جائے۔

    دریں اثنا انسداد دہشت گردی عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت بغیر کسی کارروائی کے 7 اپریل تک ملتوی کردی-

    کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی جبکہ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اور شیریں مزاری عدالت میں پیش ہوئے، دیگر ملزمان کی عدالت میں حاضری کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

    سماعت کے دوران آج بھی اڈیالہ جیل اور عدالت کے درمیان ویڈیو لنک سسٹم فعال نہ ہو سکا جس کے باعث کارروائی آگے نہ بڑھ سکی عدالت نے آئندہ سماعت پر ویڈیو لنک سسٹم کو فعال بنانے کی ہدایت جاری کر دی،عدالت کو بتایا گیا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی جیل روبکار پر حاضری لگائی گئی کیس میں اب تک 119 گواہوں میں سے 44 کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔

    وکیل صفائی کے مطابق ویڈیو لنک ٹرائل سے متعلق نوٹیفکیشن کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے، جس پر آئندہ سماعت میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔

  • مری میں بارش،عوام کو احتیاط کا مشورہ

    مری میں بارش،عوام کو احتیاط کا مشورہ

    مری میں گزشتہ 48گھنٹوں سےمسلسل بارش ہورہی ہے جس کے باعث عوام کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    ڈی پی او مری نے ہدایت کی ہے کہ ژالہ باری اور بارش سے سڑکیں پھسلن کا شکار ہیں، شہری،سیاح غیرضروری سفر سےمکمل اجتناب کریں، ژالہ باری کےباعث حادثات کےخطرات میں اضافہ ہوا ہے،ڈی پی او مری کا کہنا ہے کہ مری میں پھسلن کےباعث ڈرائیونگ انتہائی خطرناک ہوچکی ہے، موسم کی شدت میں اضافے پرمری میں سفر پرمزید پابندیاں لگائی جارہی ہیں،ڈی پی او مری کے مطابق مری میں موجود سیاح غیرضروری نقل وحرکت سےگریز کریں، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ٹیمیں ہائی الرٹ ہیں، دھند،بارش اور ژالہ باری کےباعث مختلف مقامات پرحدِ نگاہ کم ہے،ڈی پی او کے مطابق سیاح سفرسےپہلےموسم اور روڈ کنڈیشن ضرور چیک کریں،سیاح اور عوام پولیس اورانتظامیہ کےساتھ مکمل تعاون کریں۔

    ڈی پی او مری کا کہنا ہے کہ شہری پہاڑی اور ڈھلوانی سڑکوں پر سفر سےپرہیز کریں،شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہےانتہائی ضرورت کےعلاوہ سفر نہ کریں،

  • گوجرخان جعلی رجسٹریوں کے ذریعے شہریوں کی قیمتی زمینیں ہتھیانے والے گروہ کا انکشاف

    گوجرخان جعلی رجسٹریوں کے ذریعے شہریوں کی قیمتی زمینیں ہتھیانے والے گروہ کا انکشاف

    عبید علی ملک کی درخواست پر ڈی جی اینٹی کرپشن اور اے سی گوجرخان کا ایکشن، تحقیقات شروع
    جعلسازی ثابت ہونے پر رجسٹری منسوخ اور ملوث افراد کو جیل بھیجیں گے اسسٹنٹ کمشنر خضر ظہور

    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان میں جعلی رجسٹریوں کے ذریعے شہریوں کی قیمتی جائیدادیں ہتھیانے والے ایک منظم گروہ کا انکشاف ہوا ہے۔ موضع بھگانہ کے رہائشی عبید علی ملک نے ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب اور اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان کو تحریری درخواست دے دی ہے، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تحصیل آفس کے عملے کی مبینہ ملی بھگت سے ان کی آبائی زمین کی جعلی رجسٹری کروائی گئی ہے۔

    درخواست گزار کے مطابق، مذکورہ پارٹی کے پاس زمین کا کوئی ملکیتی ثبوت، فرد یا قبضہ موجود نہیں، اس کے باوجود ملی بھگت سے کاغذات تیار کیے گئے۔ متعلقہ پٹواری نے بھی اس حوالے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رجسٹری پر اس کے دستخط یا مہر موجود نہیں ہے۔ اس حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان خضر ظہور گورائیہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ درخواست موصول ہو چکی ہے اور معاملے کی باریک بینی سے انکوائری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ اگر رجسٹری جعلی ثابت ہوئی تو اسے فوری منسوخ کر دیا جائے گا اور جعل سازی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کچہری میں متحرک اس جعل ساز گروہ کا قلع قمع کیا جائے جو سادہ لوح شہریوں کی جائیدادیں ہتھیا کر انہیں فروخت کرنے کے دھندے میں مصروف ہے، تاکہ لوگ اپنی جمع پونجی اور چھت سے محروم نہ ہوں۔

  • گوجرخان،قصاب مافیا کی دھونس ،سرکاری نرخنامہ مندر کا گھنٹہ بن گیا

    گوجرخان،قصاب مافیا کی دھونس ،سرکاری نرخنامہ مندر کا گھنٹہ بن گیا

    قصابوں نے ہڑتال کے بعد من مانے نرخ نافذ کر دیے ریٹ لسٹ کو کھلے عام جوتے کی نوک پر رکھ کر پنجاب حکومت قانون کی رٹ کو کھلا چیلنج کر دیا
    شہریوں کے شدید تحفظات کا اظہار کیا بااثر قصابوں اور مقامی سیاسی شخصیات کا گٹھ جوڑ انتظامیہ کو خاموش رکھے ہوئے ہے؟
    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان میں گوشت فروشوں نے انتظامیہ کی رٹ کو کھلے عام چیلنج کرتے ہوئے سرکاری نرخنامے کو عملاً ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے۔ شہر بھر میں قصاب من مانے نرخوں پر گوشت فروخت کر رہے ہیں جبکہ انتظامیہ مکمل طور پر بے بس دکھائی دے رہی ہے۔ شہریوں کے مطابق گوجرخان میں تیار کیا جانے والا سرکاری نرخنامہ اب محض ایک رسمی کاغذ بن کر رہ گیا ہے جو بازاروں میں ایسے لٹکا ہوا ہے جیسے کسی مندر کا گھنٹہ، جس کا دل چاہے بجا دے۔ چند روز قبل گوشت کی قیمتوں کے معاملے پر قصابوں نے ہڑتال کر دی تھی جس کے بعد انتظامیہ کی جانب سے واضح ہدایات جاری کی گئیں کہ گوشت صرف سرکاری ریٹ لسٹ کے مطابق فروخت کیا جائے گا۔

    تاہم چند دن دکانیں بند رکھنے کے بعد جب قصابوں نے کاروبار دوبارہ شروع کیا تو صورتحال مزید خراب ہو گئی اور قیمتیں پہلے سے بھی زیادہ بڑھا دی گئیں۔ اس وقت گوجرخان میں گائے اور بچھڑے کا گوشت تقریباً 1300 سے 1400 روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ اس سے قبل یہ 1200 روپے میں دستیاب تھا، حالانکہ سرکاری نرخنامے میں اس کی قیمت 900 روپے فی کلو مقرر ہے۔ اسی طرح بکرے کا گوشت 2400 سے 2500 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ سرکاری ریٹ لسٹ میں اس کی قیمت 1800 روپے فی کلو درج ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہڑتال کے بعد قصاب طبقہ مزید منہ زور ہو گیا ہے اور اب کھلے عام سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مہنگے داموں گوشت فروخت کر رہا ہے۔ بازاروں میں سرکاری ریٹ لسٹ تو آویزاں ہے مگر اس پر عملدرآمد کہیں نظر نہیں آ رہا۔ شہر کے رہائشیوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی پہلے ہی عام آدمی کی کمر توڑ چکی ہے اور اب گوشت بھی متوسط اور دیہاڑی دار طبقے کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ کچھ شہریوں کا دعویٰ ہے کہ شہر کے قصاب بااثر ہیں اور ان کا مضبوط ووٹ بینک ہے جبکہ مقامی سیاسی شخصیات کے ساتھ مبینہ روابط کے باعث انتظامیہ ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے سے گریزاں ہے، جس کے نتیجے میں قصاب طبقہ مزید دلیر ہو کر قانون کو چیلنج کر رہا ہے۔ شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر وہ کون سی پوشیدہ قوتیں ہیں جن کے سامنے گوجرخان انتظامیہ بھی بے بس دکھائی دیتی ہے اور سرکاری نرخنامہ محض نمائشی کاغذ بن کر رہ گیا ہے۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکریٹری پنجاب اور راولپنڈی ڈویژن کی انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناجائز منافع خوری اور مہنگائی کے خلاف جاری حکومتی مہم کا عملی نفاذ یقینی بنایا جائے اور گوجرخان میں سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد کرایا جائے تاکہ عام شہریوں کو ریلیف مل سکے۔