بایومیٹرک مانیٹرنگ کا سنسنی خیز انکشاف 40 ہزار تنخواہ کے بدلے 26 ہزار کیوں؟ غیر حاضر ملازمین کا احتجاج کے نام پر بلیک میلنگ کا دھندہ بے نقاب
عوامی حلقوں کا شدید غم و غصہ گلیاں گندگی سے تعفن زدہ، سوزوکیوں پر چکر لگا کر غائب ہونے والے بھوت ورکرز کے خلاف فوری انکوائری اور برطرفی کا مطالبہ
گوجرخان(قمرشہزاد)حکومتِ پنجاب کا اربوں روپے کا ستھرا پنجاب پروگرام گوجرخان میں افسر شاہی، سینیٹری ورکرز کی کام چوری اور مبینہ بلیک میلنگ کی نذر ہو گیا۔ ایک طرف صفائی ملازمین نے تنخواہوں کی کٹوتی اور اعزازیہ نہ ملنے کا رونا رو کر سڑکوں پر احتجاج شروع کر رکھا ہے، تو دوسری طرف شہر کی گلی محلے اور تجارتی مراکز کچرا کنڈی کا منظر پیش کر رہے ہیں، جس نے حکومتی دعووں کے پرخچے اڑا دیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق احتجاجی ورکرز کا مؤقف ہے کہ ان کی تنخواہ 40 ہزار روپے مقرر ہے مگر انہیں صرف 26 ہزار روپے دیے جا رہے ہیں، جو ان کے معاشی استحصال کے مترادف ہے۔ دوسری جانب آپریشنل مینیجر بابر شکیل نے اس احتجاج کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے سنسنی خیز حقائق سامنے رکھ دیے۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ 40 ہزار روپے کی پوری تنخواہ کے لیے ماہانہ 26 دن کی حاضری لازمی ہے، جبکہ تمام ورکرز کی حاضری کا نظام مکمل طور پر بائیومیٹرک ہے۔ اس ڈیجیٹل حاضری کی مانیٹرنگ براہِ راست اعلیٰ حکام کر رہے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ تنخواہیں صرف ان ورکرز کی کاٹی گئی ہیں جو ڈیوٹی سے غائب رہتے ہیں اور جن کی حاضری پوری نہیں ہے۔
دوسری جانب، اس سارے ڈرامے پر گوجرخان کے شہریوں کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ عوامی حلقوں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے چشم کشا حقائق سے پردہ اٹھایا ہے کہ احتجاج کرنے والے یہ مٹھی بھر ورکرز کبھی گلیوں یا سڑکوں پر صفائی کرتے نظر نہیں آئے۔ صفائی کے نام پر صرف یہ ہوتا ہے کہ سرکاری سوزوکیاں اتی ہیں، ورکرز چکر لگا کر غائب ہو جاتے ہیں اور گندگی کے ڈھیر جوں کے توں پڑے رہتے ہیں جب ان پر سختی کی جائے یا کام لیا جائے تو یہ لوگ افسران کو بلیک میل کرنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے اپنائے ہیں۔شہر کی سماجی و عوامی تنظیموں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور مانیٹرنگ حکام سے اس سنگین معاملے پر فوری اور سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی اعلیٰ سطحی انکوائری ہونی چاہیے۔ اگر افسران ورکرز کا حق مار رہے ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے، لیکن اگر بائیومیٹرک ریکارڈ کے مطابق ورکرز کی حاضری کم ہے اور وہ محض اپنی کام چوری چھپانے کے لیے شہر کو یرغمال بنا رہے ہیں، تو ایسے اشتعال انگیز، شر پسند اور بلیک میلر ڈیلی ویجز و سرکاری ملازمین کو فوری طور پر نوکریوں سے برخاست کیا جائے۔ گوجرخان کے عوام نے دوٹوک کہا ہے کہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ کام چوروں اور بلیک میلروں کی جیبوں میں جانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔
