Baaghi TV

Category: راولپنڈی

  • عمران خان کی آج رات اڈیالہ جیل سے کسی بھی وقت شفا اسپتال منتقلی کا امکان

    عمران خان کی آج رات اڈیالہ جیل سے کسی بھی وقت شفا اسپتال منتقلی کا امکان

    پی ٹی آئی عمران خان کی آج رات اڈیالہ جیل سے شفا اسپتال منتقلی کا امکان ہے، اس سلسلے میں اسپتال میں سیکیورٹی پلان تشکیل دے دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق عمران خان کی اسپتال منتقلی کے پیش نظر سیکیورٹی اداروں اور جیل انتظامیہ کی جانب سے انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں، منتقلی سے قبل اسپتال کے کمرے اور دیگر سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ مکمل کرلیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق شفا اسپتال میں پولیس، ایف سی اور رینجرز کے اہلکار تعینات ہوں گے، جب کہ عمران خان کے کمرے کی سیکیورٹی جیل انتظامیہ کے اہلکار سنبھالیں گے،اسپتال کے کمرے میں بھی جیل رولز پر عمل درآمد کیا جائے گا، جب کہ سکیورٹی اداروں اور جیل انتظامیہ کے اہلکار اسپتال میں موجود رہیں گے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی منتقلی سے قبل اسپتال کے کمرے کی سیکیورٹی چیک کرلی گئی ہے اور کمرے سمیت اسپتال کی مجموعی سیکیورٹی کا جائزہ لے کر انتظامات مکمل کیے گئے ہیں، عمران خان کو آج رات کسی بھی وقت اڈیالہ جیل سے شفا اسپتال منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی صحت اور علاج سے متعلق درخواست پر حکم جاری کرتے ہوئے انہیں دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے عدالت نے حکومت کو بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری سے اب تک کا مکمل میڈیکل ریکارڈ بھی پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

    عدالت نے شفا انٹرنیشنل اسپتال کی انتظامیہ سے مشاورت کے بعد میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے، جس میں جنرل سرجن، ماہر امراضِ داخلی، ماہر امراضِ چشم اور ماہر امراضِ قلب شامل ہوں گے، ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بھی طبی معائنے اور علاج کے عمل سے منسلک رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

    سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی سے اہلخانہ کی ہفتے میں ایک ملاقات اور بیٹوں سے ہفتے میں دو مرتبہ ٹیلی فون پر بات کرانے کی ہدایت بھی کی ہے، عدالت نے حکم دیا ہے کہ آئندہ سماعت تک اہلخانہ، سیاسی جماعت کے ارکان یا وکلا طبی رپورٹس یا صحت سے متعلق معلومات میڈیا یا عوام کے ساتھ شیئر نہیں کریں گے۔

  • عمران خان سے نورین نیازی کی ملاقات کرادی گئی

    عمران خان سے نورین نیازی کی ملاقات کرادی گئی

    اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی ہمشیرہ نورین نیازی کے درمیان ملاقات ہوئی ہے، جو قریباً 45 منٹ تک جاری رہی۔

    میڈیا رپورٹس مطابق ملاقات کانفرنس روم میں ہوئی، جس دوران عمران خان کی صحت سمیت دیگر امور پر گفتگو کی گئی،نورین نیازی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو سپریم کورٹ کے حالیہ حکم سے بھی آگاہ کیا۔

    ملاقات کے بعد نورین نیازی داہگل ناکے پہنچیں، جہاں میڈیا نمائندوں نے ان سے گفتگو کی کوشش کی تاہم انہوں نے تفصیلی بات چیت سے گریز کیا،صحافی کے سوال پر نورین نیازی نے صرف ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات ہوگئی ہے،بعد ازاں علیمہ خان اور عظمیٰ خان بھی نورین نیازی کی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوگئیں۔

    عمران خان کی تینوں بہنیں اڈیالہ روڈ پر پہنچی تھیں علیمہ خان نے داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ان کی ایک بہن کی عمران خان سے ملاقات ہوجائے گی۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے رکھا ہے،عدالت نے عمران خان کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور انہیں سخت سیکیورٹی میں اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے،عدالتی حکم کے مطابق اسپتال میں عمران خان کے ہمراہ ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی ہوں گے، اخراجات عمران خان کی فیملی خود برداشت کرے گی جبکہ میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائیگی۔

  • لاکھوں کی صفائی دو بارشوں میں بہہ گئی مرکزی نالا بپھرا، گھروں میں کئی فٹ گندا پانی

    لاکھوں کی صفائی دو بارشوں میں بہہ گئی مرکزی نالا بپھرا، گھروں میں کئی فٹ گندا پانی

    96 لاکھ کہاں لگے؟ نالا بپھرا تو سوال اٹھا طارق ضیا کے دور کی انکوائری رکی کیوں، کس کی پشت پناہی؟
    عوام ڈوبتے رہے، جواب دہی کہاں؟ طارق ضیا کے دور کے فنڈز کا حساب دو، سانحے سے پہلے انکوائری کرو

    گوجرخان (قمرشہزاد) گزشتہ شب کے دو موسلا دھار بارشی سپیلوں نے گوجرخان کے مرکزی نالے کی صفائی کے دعووں کا پول کھول دیا۔ نالا بپھرا تو ملحقہ آبادیوں میں کئی کئی فٹ پانی گھس گیا، گھروں کا قیمتی سامان برباد ہوگیا جبکہ نالے کا گندا پانی شہریوں کی بورنگز میں داخل ہونے سے صاف پانی کے ذخائر بھی آلودہ ہونے لگے۔ذرائع و شہری حلقوں کے مطابق سابق سی او بلدیہ طارق ضیا کے دور میں مرکزی نالے کی صفائی پر 96 لاکھ روپے خرچ کیے گئے، مگر دو بارشوں نے اس صفائی کا عملی نتیجہ سب کے سامنے رکھ دیا۔ شہریوں نے دوٹوک سوال اٹھایا ہے کہ اگر نالا واقعی صاف کیا گیا تھا تو معمول کی شدید بارش میں ہی یہ بپھر کر آبادیوں کو ڈبونے پر کیوں اتر آیا؟نالے کی صفائی کے دوران بھی ناقص صفائی اور فوٹو سیشن کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مسلسل آوازیں اٹھتی رہیں اور معاملہ میڈیا کی زینت بنتا رہا، مگر تاحال نہ مؤثر انکوائری ہوئی، نہ کمیٹی بنی اور نہ ہی اخراجات کا شفاف آڈٹ سامنے آیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ خاموشی نے سوالات ختم نہیں کیے بلکہ مزید گہرے کر دیے ہیں۔ عوامی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا سابق سی او بلدیہ طارق ضیا اتنے بااثر ہیں کہ کروڑوں نہیں تو لاکھوں کے سرکاری اخراجات بھی جواب دہی سے بالاتر ہیں، یا کوئی بااثر حلقہ ان کے پیچھے کھڑا ہے؟ اگر ایسا نہیں تو پھر 96 لاکھ روپے کی صفائی، اس کے معیار اور نگرانی کا حساب لینے میں تاخیر کیوں؟

    متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ گھروں میں داخل ہونے والے گندے پانی سے ہونے والے نقصانات کا ذمہ دار کون ہے؟ عوام کے خون پسینے کی کمائی سے خرچ ہونے والے پیسے کا حساب کون دے گا اور ناقص منصوبہ بندی یا ناقص صفائی سے پیدا ہونے والی مشکلات کا ازالہ کون کرے گا؟ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ سابق سی او بلدیہ طارق ضیا کے دورِ تعیناتی کے تمام ترقیاتی فنڈز، منصوبوں اور بالخصوص نالوں کی صفائی کے اخراجات کا فوری، غیرجانبدارانہ اور خصوصی آڈٹ کرایا جائے، حقائق سامنے لانے کے لیے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری خزانہ کسی افسر یا ٹھیکیدار کی جاگیر نہیں، عوام کی امانت ہے، اس امانت کا حساب دینا ہوگا۔ حکام کو کسی بڑے سانحے کا انتظار کرنے کے بجائے ابھی حرکت میں آنا ہوگا، کیونکہ دو بارشوں نے صرف نالا نہیں بپھیر ا—سرکاری صفائی کے دعووں پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

  • گوجر خان میں پسند کی شادی کرنے پر بہن کو قتل کرنے والا ملزم گرفتار

    گوجر خان میں پسند کی شادی کرنے پر بہن کو قتل کرنے والا ملزم گرفتار

    راولپنڈی کے شہر گوجر خان میں 2 روز قبل اپنی بہن کو مبینہ طور پر قتل کرنے والے ملزم کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔

    پولیس کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ اس نے پسند کی شادی کرنے پر اپنی بہن کو فائرنگ کرکے قتل کیا۔ واقعے کا مقدمہ مقتولہ کے والد کی مدعیت میں تھانہ گوجر خان میں درج کیا گیا ہے۔مقتولہ کے والد نے پولیس کو بتایا کہ ان کی بیٹی کو ان کے بیٹے نے فائرنگ کرکے قتل کیا۔والد کے مطابق مقتولہ نے رواں سال جنوری میں اپنی رخصتی کے روز گھر سے فرار ہوکر پسند کی شادی کی تھی اور اپنے شوہر کے ساتھ کراچی میں رہائش پذیر تھی۔

    انہوں نے بتایا کہ واقعے سے 4 روز قبل مقتولہ کا بھائی صلح صفائی کے بعد اسے کراچی سے واپس گھر لے کر آیا تھا، تاہم 2 روز بعد اسے فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا۔پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے واقعے کی مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔

  • تحصیل آفس گوجرخان میں افسران کی عدم تعیناتی، رجسٹریاں اور آراضی معاملات ٹھپ

    تحصیل آفس گوجرخان میں افسران کی عدم تعیناتی، رجسٹریاں اور آراضی معاملات ٹھپ

    تحصیلدار سمیت 4 اہم نشستیں خالی، شہری سرکاری فیسیں جمع کراکے بھی خوار
    ایک ماہ سے انتظامی خلا، پنجاب حکومت کی گڈ گورننس پر سوالیہ نشان فوری تعیناتی کا مطالبہ
    گوجرخان (قمرشہزاد) تحصیل آفس گوجرخان میں گزشتہ ایک ماہ سے تحصیلدار اور متعدد نائب تحصیلداروں کی نشستیں خالی ہونے کے باعث رجسٹریوں سمیت اراضی کے دیگر اہم معاملات شدید متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ دور دراز علاقوں سے آنے والے شہری کاغذات مکمل اور سرکاری فیسیں جمع کرانے کے باوجود کام نہ ہونے پر شدید ذہنی کوفت کا شکار ہیں۔ تحصیل آفس میں اس وقت صرف ایک نائب تحصیلدار موجود ہے، جبکہ تحصیلدار سمیت تین نائب تحصیلداروں کی نشستیں تاحال خالی پڑی ہیں۔ ذرائع کے مطابق تحصیل آفس میں تعینات تحصیلدار کورس پر جانے کے باعث کئی روز قبل خالی ہونے والی نشست پر تاحال متبادل تحصیلدار تعینات نہیں کیا جا سکا، جبکہ نائب تحصیلداروں کی خالی نشستوں پر بھی تقرری نہ ہونے سے انتظامی امور کا بوجھ محدود عملے پر پڑ گیا ہے۔ تحصیلدار کی عدم موجودگی کے باعث متعدد رجسٹریاں التوا کا شکار ہیں بعض شہریوں کی سرکاری فیسیں بھی جمع ہو چکی ہیں اور کاغذات مکمل ہونے کے باوجود صرف مجاز افسر کی عدم موجودگی کے باعث ان کی رجسٹریاں آگے نہیں بڑھ رہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ زمینوں کی خرید و فروخت، انتقالات اور دیگر معاملات میں تاخیر سے نہ صرف انہیں بار بار تحصیل آفس کے چکر لگانا پڑ رہے ہیں بلکہ مالی اور ذہنی مشکلات بھی بڑھ رہی ہیں۔ ایک ماہ کے قریب عرصہ گزرنے کے باوجود اہم انتظامی نشستوں پر افسران کی تعیناتی نہ ہونا باعث تشویش ہے۔ شہری حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر ایک تحصیل میں اتنے اہم عہدے خالی ہوں اور عوام کے بنیادی ریونیو معاملات متاثر ہو رہے ہوں تو متعلقہ حکام کی جانب سے فوری متبادل انتظام کیوں نہیں کیا گیا۔شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گوجرخان تحصیل آفس کی صورتحال کا فوری نوٹس لے کر تحصیلدار اور خالی تمام نائب تحصیلداروں کی نشستوں پر بلا تاخیر تعیناتیاں عمل میں لائی جائیں تاکہ رجسٹریوں اور اراضی سے متعلق زیرالتوا معاملات نمٹائے جا سکیں اور عوام کو غیرضروری دفتری چکروں، ذہنی اذیت اور مالی نقصان سے نجات مل سکے۔ شہریوں کے مطابق موجودہ صورتحال انتظامی کارکردگی اور حکومت پنجاب کی گڈ گورننس کے دعوؤں پر بھی سوالیہ نشان بن رہی ہے۔

  • گوجرخان تھانے میں ٹاؤٹ مافیا کی آمدورفت، طویل تعینات اہلکار وں کےفوری تبادلوں کا مطالبہ

    گوجرخان تھانے میں ٹاؤٹ مافیا کی آمدورفت، طویل تعینات اہلکار وں کےفوری تبادلوں کا مطالبہ

    گوجرخان میں منشیات کا مبینہ پھیلاؤ ٹھکانے بدلنے کا سلسلہ جاری نو تعینات ایس ایچ او کیلئے منشیات و قبضہ مافیا بڑا چیلنج
    منشیات و قبضہ مافیا سے نجات کیلئے مؤثر کریک ڈاؤن ناگزیر شہریوں کا طویل تعیناتیوں کا جائزہ لینے اور قانون کی عملداری یقینی بنانے پر زور
    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان میں منشیات کے مبینہ پھیلاؤ، قبضہ مافیا اور دیگر جرائم کے خلاف مؤثر کارروائی کے حوالے سے شہریوں کی نظریں پولیس پر مرکوز ہیں، تاہم تھانہ گوجرخان میں مبینہ ٹاؤٹ مافیا کی آمدورفت اور کئی کانسٹیبلز و ہیڈ کانسٹیبلز کی طویل عرصے سے تعیناتی شہری حلقوں کیلئے سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ تھانے میں ایسے افراد کی مسلسل آمدورفت جو عوامی سطح پر ٹاؤٹ مافیا سے منسوب کیے جاتے ہیں، پولیس حکام کی توجہ کا متقاضی معاملہ ہے، جبکہ کئی اہلکاروں کی سالہا سال ایک ہی تھانے میں تعیناتی کے باعث بھی عوامی سطح پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تھانہ گوجرخان میں طویل عرصے سے تعینات کانسٹیبلز، ہیڈ کانسٹیبلز اور دیگر اہلکاروں کی تعیناتی کا محکمانہ طور پر جائزہ لے کر پالیسی اور انتظامی تقاضوں کے مطابق ان کے تبادلے کیے جائیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ طویل تعیناتی کسی اہلکار کے خلاف الزام یا جرم کا ثبوت نہیں، تاہم اہلکاروں کی باقاعدہ روٹیشن سے شفافیت، غیرجانبداری اور عوامی اعتماد کو تقویت ملتی ہے۔ دوسری جانب شہریوں کے مطابق منشیات فروشوں نے مبینہ طور پر اپنے ٹھکانے تبدیل کرکے شہر کے مختلف وارڈز اور علاقوں میں منشیات کی سپلائی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جس سے نوجوان نسل کے مستقبل کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔ شہریوں نے منشیات کے خلاف محض وقتی کارروائیوں کے بجائے سپلائی نیٹ ورک کے خلاف مستقل اور بلاامتیاز کریک ڈاؤن کا مطالبہ کیا ہے۔ نو تعینات ایس ایچ او تھانہ گوجرخان کیلئے منشیات فروشوں، قبضہ مافیا اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں ایک بڑا امتحان قرار دی جا رہی ہے۔ شہریوں کو امید ہے کہ نئے ایس ایچ او قانون کی عملداری، شفافیت اور بلاامتیاز کارروائی کو یقینی بناتے ہوئے شہر کو منشیات اور قبضہ مافیا جیسے مسائل سے نجات دلانے کیلئے مؤثر اقدامات کریں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نو تعینات ایس ایچ او اس چیلنج سے کس حد تک کامیابی سے نمٹتے ہیں۔ شہریوں نے اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی شکایات کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جائے، مقامی و غیر مقامی ہیڈ کانسٹیبلز اور کانسٹیبلز کی طویل تعیناتیوں کے معاملے کو محکمانہ پالیسی کے مطابق دیکھا جائے اور گوجرخان میں قانون کی عملداری اور عوامی اعتماد کو ہر صورت مقدم رکھا جائے۔

  • ٹی ایچ کیو گوجرخان میں صفائی کا جنازہ، عملہ تین ماہ سے تنخواہ سے محروم

    ٹی ایچ کیو گوجرخان میں صفائی کا جنازہ، عملہ تین ماہ سے تنخواہ سے محروم

    سفارشی صفائی اہلکاروں کی من پسند ڈیوٹیاں، نجی کمپنی کا نظام ناکام ہسپتال گندگی کے نرغے میں مریضوں کی صحت داؤ پر
    واش رومز بدبودار فرشوں پر خون کی دھبے نجی کنٹریکٹ ختم کرکے محکمہ صحت کے براہِ راست ماتحت صفائی عملہ بھرتی کرنے کا عوامی مطالبہ
    گوجرخان (قمرشہزاد) تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال گوجرخان میں صفائی کا نظام سوالیہ نشان بن گیا، نجی کمپنی کے صفائی عملے کو مبینہ طور پر تقریباً تین ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے کے باعث مالی مشکلات اور احتجاج کا سامنا ہے، جبکہ دوسری جانب شہری ہسپتال کی ابتر صفائی صورتحال پر پھٹ پڑے۔ شہریوں کے مطابق فرشوں کی باقاعدہ ڈیپ کلیننگ کا فقدان ہے اور بعض مقامات پر مبینہ طور پر خون کے دھبے تک دکھائی دیتے ہیں، جو انفیکشن کنٹرول کے حوالے سے سنگین تشویش کا باعث ہیں واش رومز میں بدبو اور تعفن پھیلا ہوتا ہے۔ ذرائع نے صفائی عملے میں مبینہ سفارشی بھرتیوں اور من پسند تعیناتیوں کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض بااثر افراد کے سفارشی اہلکار مبینہ طور پر اپنی مرضی کی جگہوں اور ڈیوٹیوں کا انتخاب کرتے، سہولت کے مطابق کام کرتے اور مطلوبہ ذمہ داریاں پوری نہیں کرتے، جس سے صفائی کا نظام مزید متاثر ہو رہا ہے۔ شہریوں کے مطابق تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے بعد ہڑتال، دباؤ اور پھر وقتی صلح کا سلسلہ بھی مسئلے کا مستقل حل ثابت نہیں ہو سکا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ملازمین کو اجرت نہ ملنا ظلم ہے، مگر مریضوں کو ناقص صفائی کے حوالے کرنا بھی کسی صورت قابل قبول نہیں۔ اگر نجی کمپنی نہ بروقت تنخواہیں دے پا رہی ہے اور نہ صفائی کا معیار برقرار رکھ پا رہی ہے تو ایسے نظام کی افادیت پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نجی صفائی کمپنیوں کے کنٹریکٹس کا فوری جائزہ لے کر انہیں ختم کیا جائے اور اسپتالوں میں صفائی کا عملہ براہِ راست محکمہ صحت کے ماتحت میرٹ پر بھرتی کیا جائے، جبکہ ضلعی سطح پر کمشنر اور سی ای او ہیلتھ کو حاضری، ڈیوٹی، کارکردگی اور تنخواہوں کی براہِ راست نگرانی کا پابند بنایا جائے۔ ساتھ ہی صفائی عملے کی بھرتیوں، حاضری، ڈیوٹی روسٹر، کمپنی کو ہونے والی ادائیگیوں اور تنخواہوں کا مکمل آڈٹ کرکے مبینہ سفارشی کلچر کی تحقیقات کی جائیں۔ شہریوں کا دوٹوک مؤقف ہے کہ اسپتال علاج گاہ ہے، گندگی اور جراثیم پھیلانے کی جگہ نہیں، ٹھیکوں، سفارشوں، من پسند ڈیوٹیوں اور وقتی ہڑتالوں کے بجائے ایسا شفاف نظام دیا جائے جس میں صفائی بھی نظر آئے اور ذمہ دار بھی۔

  • موبائل فونزبرآمد ، اڈیالہ جیل کے 3 قیدی اٹک جیل منتقل، 5 جیل ملازمین معطل

    موبائل فونزبرآمد ، اڈیالہ جیل کے 3 قیدی اٹک جیل منتقل، 5 جیل ملازمین معطل

    موبائل فونزبرآمد ہونے پر اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں کو اٹک جیل بھجوا دیاگیا، جبکہ غفلت برتنے پر 5 جیل ملازمین کو معطل کردیاگیا۔

    جیل ذرائع کے مطابق تلاشی کے دوران اڈیالہ جیل میں پابند سلاسل ٹریفک وارڈن کے قتل کیس کے سزا یافتہ راجہ رعد، محکمہ جیل خانہ جات پنجاب کے ملازم کے قتل کیس میں قید ملک حماد اور ایک قیدی شازیب ولد اکرم سے موبائل فونز برآمد ہوئے تھے،موبائل فون برآمد ہونے پر 3 قیدیوں کو اڈیالہ جیل سے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا جبکہ غفلت برتنے کے الزام میں 5 پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا۔

  • راولپنڈی: شادی کا جھانسہ دے کر بنکاک کی خاتون سے مبینہ زیادتی، ملزم گرفتار

    راولپنڈی: شادی کا جھانسہ دے کر بنکاک کی خاتون سے مبینہ زیادتی، ملزم گرفتار

    راولپنڈی میں شادی کا جھانسہ دے کر بنکاک سے پاکستان لائی گئی خاتون سے مبینہ زیادتی کے الزام میں پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا۔

    پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کی مدعیت میں تھانہ روات میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق خاتون کی تقریباً دو سال قبل بنکاک میں ملزم سے ملاقات ہوئی، جس کے بعد دونوں میں دوستی ہوگئی۔خاتون نے پولیس کو دی گئی درخواست میں الزام عائد کیا کہ ملزم نے تقریباً چار ماہ قبل راولپنڈی کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں کرائے پر فلیٹ حاصل کیا اور وہاں رہائش اختیار کی۔ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر متعدد مرتبہ زیادتی کا نشانہ بنایا، جبکہ شادی کے مطالبے پر وہ مسلسل ٹال مٹول سے کام لیتا رہا۔متاثرہ خاتون نے الزام لگایا کہ ملزم اسے فلیٹ سے باہر جانے کی اجازت بھی نہیں دیتا تھا۔ خاتون کے مطابق واقعے کے روز ملزم نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور جاتے ہوئے اس کے پیسے بھی اپنے ساتھ لے گیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد کیس کی تفتیش ایس ایس آئی او یونٹ کے سپرد کردی گئی ہے، جبکہ گرفتار ملزم سے واقعے سے متعلق مزید تفتیش جاری ہے۔پولیس کے مطابق مقدمے میں عائد الزامات کی مزید قانونی کارروائی اور شواہد کی روشنی میں تحقیقات کی جارہی ہیں۔

  • یومِ استحصالِ کشمیر :آئی ایس پی آر کا نیا ملی نغمہ “آزادی” جاری

    یومِ استحصالِ کشمیر :آئی ایس پی آر کا نیا ملی نغمہ “آزادی” جاری

    : یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے نیا ملی نغمہ “آزادی” جاری کر دیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق معروف گلوکار واجد سعید کی آواز میں پیش کیے گئے اس نغمے میں کشمیری عوام کے عزم، امید اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے،نغمے کے بول “تمہارے ساتھ تھے اور ساتھ ہم رہیں گے” پاکستان اور کشمیری عوام کے درمیان اظہارِ یکجہتی اور حمایت کے پیغام کو اجاگر کرتے ہیں، دھن اور شاعری میں کشمیری عوام کی ثابت قدمی، حوصلے اور بہتر مستقبل کی امید کو نمایاں کیا گیا ہے۔

    ویڈیو میں وادیٔ کشمیر کے مناظر کے ساتھ کشمیری عوام کی مشکلات اور ان کے حقِ خودارادیت کے مطالبے کو بھی موضوع بنایا گیا ہےآئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ نغمہ کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے اور اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا۔