Baaghi TV

Category: سکھر

  • سکھر: کچے میں پولیس آپریشن، 12 مغوی بازیاب، ڈاکو فرار

    سکھر: کچے میں پولیس آپریشن، 12 مغوی بازیاب، ڈاکو فرار

    سکھر (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) ڈی آئی جی سکھر کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ کی ہدایت پر سکھر اور خیرپور پولیس کی جانب سے بھاگڑجی کے کچے کے علاقے میں دو روز سے جاری پولیس آپریشن میں ڈاکوؤں پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ تابڑ توڑ کارروائیوں سے بوکھلاہٹ کا شکار ڈاکوؤں نے گزشتہ شب جوابی کارروائی کے طور پر سکھر سے تین اور خیرپور سے نو افراد کو اغوا کر لیا تھا۔

    ایس ایس پی سکھر اظہر خان کی قیادت میں پولیس نے کچے کے علاقے میں فوری ٹارگٹڈ آپریشن کیا، جس کے دوران مغویوں کو باحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اغوا کار مغویوں کو دوسری جگہ منتقل کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ پولیس سے آمنا سامنا ہو گیا، جس کے نتیجے میں فائرنگ کے تبادلے میں دو ڈاکو زخمی ہوئے۔

    ڈاکوؤں نے بھاری ہتھیاروں سے پولیس کی بکتر بند اے پی سی گاڑیوں پر فائرنگ کی، جس سے گاڑی کو نقصان پہنچا۔ تاہم پولیس کے مؤثر ردعمل کے بعد ڈاکو مغویوں کو چھوڑ کر رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جنگلات کی طرف فرار ہو گئے۔ پولیس کی جانب سے ڈاکوؤں کا تعاقب جاری ہے۔

    بازیاب ہونے والے مغوی افراد میں 9 کا تعلق ضلع خیرپور جبکہ 3 کا تعلق ضلع سکھر سے ہے۔ بازیاب نوجوانوں میں وہ تین افراد بھی شامل ہیں جنہیں گزشتہ شب بچل شاہ میانی کے علاقے سے اغوا کیا گیا تھا اور جن کا تعلق سولنگی برادری سے ہے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور سکھر رینج پولیس کے حوصلے بلند ہیں۔ ڈاکوؤں کے خاتمے تک یہ آپریشن جاری رکھا جائے گا۔

  • گھوٹکی: بھارتی ڈرون حملے میں شہید شہری کے لواحقین کو معاوضے کی سفارش

    گھوٹکی: بھارتی ڈرون حملے میں شہید شہری کے لواحقین کو معاوضے کی سفارش

    گھوٹکی،باغی ٹی وی (نامہ نگارمشتاق لغاری) بھارتی ڈرون حملے میں شہید شہری کے لواحقین کو معاوضے کے لیے حکومتِ سندھ کو سفارش

    تفصیل کے مطابق ڈپٹی کمشنر گھوٹکی ڈاکٹر سید محمد علی نے بھارتی ڈرون کے تباہ ہونے سے شہید ہونے والے شہری مختیار احمد لغاری کے لواحقین کو معاوضہ فراہم کرنے کے لیے حکومت سندھ کو مراسلہ ارسال کر دیا۔ یہ سفارش سیکریٹری داخلہ سندھ کو بھجوائی گئی ہے تاکہ متاثرہ خاندان کی مالی معاونت ممکن بنائی جا سکے۔

    تفصیلات کے مطابق 8 مئی کو تحصیل ڈہرکی کے نواحی گاؤں الہوسایو لغاری میں بھارتی ڈرون کے گرنے سے مختیار احمد لغاری شہید اور ان کے والد عیدن لغاری زخمی ہو گئے تھے۔ شہید کے پسماندگان میں ایک بیوہ، دو بیٹیاں (عمر بالترتیب پانچ اور سات سال) اور ایک تین سالہ بیٹا شامل ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ مختیار احمد کی شہادت قومی قربانی کی علامت ہے، اور حکومت کو چاہیے کہ وہ متاثرہ خاندان کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے تاکہ ان کے دکھ میں کمی لائی جا سکے۔

  • گھوٹکی: سرکاری ملازمین کی چھٹیاں منسوخ، حفاظتی اقدامات کی تیاری

    گھوٹکی: سرکاری ملازمین کی چھٹیاں منسوخ، حفاظتی اقدامات کی تیاری

    میرپورماتھیلو،باغی ٹی وی(نامہ نگارمشتاق لغاری)ملک کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر ضلع گھوٹکی کے سرکاری ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں، اور حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے لیے تمام انتظامات مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اسٹاف اور میونسپل عملے کو الرٹ رہنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر گھوٹکی ڈاکٹر سید محمد علی کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں ایس ایس پی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو، رینجرز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران، محکمہ صحت، میونسپل، تعلیم، لوکل گورنمنٹ، سول ڈیفنس، سوشل ویلفیئر، ٹرانسپورٹ اور اطلاعات کے افسران سمیت صنعتی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔

    ڈپٹی کمشنر نے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر حفاظتی اقدامات کو انتہائی ضروری قرار دیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔ اس سلسلے میں تمام متعلقہ محکموں کے ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں اور انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ حفاظتی انتظامات کو یقینی بنائیں۔

    انہوں نے ڈی ایچ او کو ہدایت کی کہ تمام ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو الرٹ رکھا جائے اور ایمبولینسز اور ضروری ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورت حال میں عوام کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔

    اس کے علاوہ، اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے اپنے تحصیل سطح پر جامع کنٹیجنسی پلان تیار کریں اور یونین کونسل سطح پر سائرن سسٹم کو فعال کریں۔ صنعتی اداروں کے نمائندوں سے کہا گیا کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اسٹاف، ایمبولینسز اور فائر بریگیڈ کی تفصیلات فراہم کریں تاکہ ان کو پلان میں شامل کیا جا سکے۔

    اجلاس میں ایس ایس پی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو نے عوام کو اطمینان دلایا کہ خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممکنہ ہنگامی حالات کے لیے تیاریاں صرف احتیاطی تدابیر ہیں، اور عوام کو سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی افواہوں سے گریز کرنا چاہیے اور خبروں کی تصدیق کرنی چاہیے تاکہ کسی بھی من گھڑت اطلاعات سے بچا جا سکے۔ اس موقع پر بھارتی جارحیت کے دوران شہید ہونے والوں کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

  • شکارپور: صحافی جان محمد مہر کا قاتل پولیس مقابلے میں مارا گیا

    شکارپور: صحافی جان محمد مہر کا قاتل پولیس مقابلے میں مارا گیا

    میرپورماتھیلو،باغی ٹی وی (نامہ نگارمشتاق لغاری)شکارپور میں صحافی جان محمد مہر کا قاتل پولیس مقابلے میں مارا گیا

    تفصیلات کے مطابق شکارپور کے کچے کے علاقے میں پولیس کی کارروائی کے دوران معروف صحافی جان محمد مہر کا مبینہ قاتل شیرو مہر ہلاک ہوگیا۔ شیرو مہر پر الزام تھا کہ وہ 14 اگست 2023ء کو سکھر میں پیش آنے والے صحافی کے بہیمانہ قتل میں مرکزی کردار تھا۔ شکارپور پولیس نے ڈرون کی مدد سے کارروائی کی جس کے نتیجے میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور شیرو مہر مارا گیا۔

    ذرائع کے مطابق مقابلے میں شیرو مہر کا بیٹا، ایک خاتون اور نصر جتوئی کا بھائی سراج عرف سرو جتوئی بھی زخمی ہوئے۔ واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ سندھ پولیس نے صحافی کے قاتل کو اس کے انجام تک پہنچا دیا، یہ کارروائی قانون کی بالادستی کے لیے ایک اہم قدم ہے۔

    وزیر توانائی سندھ ناصر حسین شاہ نے بتایا کہ پولیس کی بھرپور کوشش تھی کہ ملزم کو زندہ گرفتار کیا جائے تاہم مزاحمت کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب نے تصدیق کی کہ شیرو مہر مارا گیا، جبکہ اس کے بیٹے کی ہلاکت کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ پولیس آپریشن کے دوران متعدد ڈاکوؤں کے زخمی ہونے کی بھی خبریں ہیں۔

    واضح رہے کہ سندھ حکومت نے صحافی کے قتل میں مطلوب مرکزی ملزم کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کی تھی۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے 7 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بھی بنائی گئی تھی جس میں آئی ایس آئی، ایم آئی، رینجرز، ایف آئی اے اور دیگر حساس اداروں کے افسران شامل تھے۔

  • سکھر: کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس، تین پولیس اہلکار برطرف

    سکھر: کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس، تین پولیس اہلکار برطرف

    سکھر(باغی ٹی وی نامہ نگار) کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس، تین پولیس اہلکار برطرف

    سکھر میں پولیس کے اعلیٰ افسران کی جانب سے کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ ڈی آئی جی سکھر کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ نے آئی جی سندھ غلام نبی میمن کے واضح پالیسی احکامات کی روشنی میں ضلع سکھر کے تین اہلکاروں کے خلاف سخت تادیبی اقدامات اٹھائے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق، سب انسپیکٹر عبدالرحمان کاکیپوٹو، ہیڈ کانسٹیبل ضمیر قاضی اور پولیس کانسٹیبل حضور بخش ملک پر کرپشن، غیر قانونی سرگرمیوں اور اختیارات سے تجاوز سمیت سنگین الزامات عائد تھے۔ ان الزامات پر ڈی آئی جی سکھر نے شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے سکھر رینج کے ایک سینئر آفیسر کو میرٹ کی بنیاد پر محکمہ جاتی انکوائری کا حکم دیا تھا۔

    انکوائری آفیسر کی رپورٹ کا بغور جائزہ لینے کے بعد ڈی آئی جی سکھر نے اردلی روم کے دوران اہم فیصلے صادر کیے۔ سب انسپیکٹر عبدالرحمان کاکیپوٹو پر تمام الزامات ثابت ہونے پر انہیں میجر پنشمنٹ کے تحت ایک سال کی سروس سے برخاست کر دیا گیا۔ اسی طرح ہیڈ کانسٹیبل ضمیر قاضی پر بھی الزامات ثابت ہونے پر انہیں ایک سال کی سروس سے برخاست کرتے ہوئے تعلقہ پنو عاقل میں دوبارہ تعیناتی پر پابندی عائد کر دی گئی۔ تاہم، پولیس کانسٹیبل حضور بخش ملک کو تنبیہ کرتے ہوئے آئندہ محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی۔

    علاوہ ازیں، برطرف کیے گئے پولیس کانسٹیبل منصور پتافی کی نوکری پر بحالی کی اپیل منظور کر لی گئی جبکہ ایک اور برطرف کانسٹیبل جاوید احمد کلهوڑو کی بحالی کی اپیل مسترد کر دی گئی۔ ڈی آئی جی سکھر نے ایک انسپیکٹر اور چار اسسٹنٹ سب انسپیکٹرز کی تبادلوں کی درخواستوں پر بھی احکامات جاری کیے۔

    اپنے پیغام میں ڈی آئی جی سکھر نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی غفلت، مجرمانہ سرگرمیوں، اختیارات سے تجاوز یا سماجی برائیوں میں ملوث افسران و اہلکار کسی رعایت کے مستحق نہیں ہوں گے اور ان کے خلاف سخت ترین قانونی و محکمہ جاتی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان سخت اقدامات سے سکھر پولیس میں کرپشن کے خلاف ایک واضح پیغام دیا گیا ہے۔

  • سکھر جیل روڈ پر پیپلز پارٹی کے نثار کھوڑو کی گاڑی پر پتھراؤ

    سکھر جیل روڈ پر پیپلز پارٹی کے نثار کھوڑو کی گاڑی پر پتھراؤ

    سکھر جیل روڈ کے مقام پر پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نثار کھوڑو کی گاڑی پر پتھراؤ کیا گیا۔ اس واقعے میں گاڑی کے پچھلے حصے کا شیشہ ٹوٹ گیا۔

    ترجمان پیپلز پارٹی سندھ کے مطابق، حملہ اس وقت کیا گیا جب نثار کھوڑو کی گاڑی میں صوبائی جنرل سیکریٹری وقار مہدی اور سکھر ضلع کے جنرل سیکریٹری ویرم مہر بھی موجود تھے۔ترجمان نے مزید بتایا کہ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور تمام رہنما محفوظ رہے۔ یہ حملہ ایک غیر متوقع واقعہ تھا جس کی فوراً مذمت کی گئی ہے۔ پیپلز پارٹی سندھ کے رہنماؤں نے واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی،اس واقعے کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت نے کہا ہے کہ وہ اس قسم کی ہراسانی اور تشویش پھیلانے والی کارروائیوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ان کے عزم اور حوصلے کو توڑنا ہے، لیکن وہ کسی بھی طور پر اپنے عوامی مفاد کے کاموں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    پولیس نے واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور علاقے میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے تاکہ آئندہ اس قسم کے حملوں سے بچا جا سکے۔

  • سندھو دریا ہمارا ہے یا اس دریا میں ہمارا پانی بہے گا یا تمہارا خون ,بلاول بھٹو زرداری

    سندھو دریا ہمارا ہے یا اس دریا میں ہمارا پانی بہے گا یا تمہارا خون ,بلاول بھٹو زرداری

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھارتی جارحیت پر سخت جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھو دریا ہمارا ہے یا اس دریا میں ہمارا پانی بہے گا یا تمہارا خون ،چاروں صوبے مل کر مودی کو منہ توڑ جواب دیں گے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سکھر میں پی پی پی کے جلسے خطاب میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت نے یک طرفہ فیصلہ کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو معطل کیا ہے جس کے تحت بھارت تسلیم کرچکا کہ سندھو پاکستان کا ہے۔ میں یہاں سکھر میں سندھو کے پاس کھڑے ہوکر بھارت کو یہ کہنا چاہوں گا کہ سندھو ہمارا ہے اور سندھو ہمارا رہے گا یا تو اس سندھو میں پانی بہہ گا یا پھر ان کا خون۔بھارت سن لے، سندھو ہمارا ہے اور ہمارا ہی رہے گا، سندھو پر ڈاکا نا منظور، نامنظور، ہم سندھو کے وارث اور محافظ ہیں، ہرپاکستانی سندھو کا سفیر ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مودی نے پاکستان پر جھوٹے الزامات لگائے، پاک فوج بھارت کو منہ توڑ جواب دے گی، ہم بہادر لوگ ہیں اور بھارت کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ چاروں صوبے مل کر مودی کو منہ توڑ جواب دیں گے، پورے پاکستان کو ایک ہو کر بھارت کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ یکم مئی کو میرپورخاص میں پیپلزپارٹی کا جلسہ ہوگا۔

    بھارتی آبی جارحیت اور پاکستان کا دو ٹوک جواب ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    مقبوضہ کشمیر میں غیرقانونی قید 3 پاکستانی جیل سے غائب، فیک انکاونٹر کا خدشہ

    غیر قانونی کرنسی ایکسچینج چلانے والا ملزم گرفتار، 14ہزار امریکی ڈالر برآمد

    بھارتی فضائیہ بوکھلاہٹ کا شکار، اپنی ہی آبادی پر بم گرا دیا

  • خیرپور: رانا ثناء اللہ کا ببرلو دھرنا قائدین سے رابطہ، مذاکرات کی پیشکش

    خیرپور: رانا ثناء اللہ کا ببرلو دھرنا قائدین سے رابطہ، مذاکرات کی پیشکش

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق لغاری)خیرپور کے علاقے ببرلو میں جاری دھرنے کے حوالے سے وزیر اعظم کے مشیر برائے امور داخلہ رانا ثناء اللہ نے دھرنے کے قائدین سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔ یہ رابطہ مسلم لیگ (ن) سندھ کے صدر بشیر میمن کے ذریعے قائم کیا گیا، جس میں رانا ثناء اللہ نے ہائی کورٹ کراچی بار کے صدر بریسٹر سرفراز میتلو سے گفتگو کی۔

    رانا ثناء اللہ نے دھرنے کے خاتمے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ "معاملات بیٹھ کر حل کیے جا سکتے ہیں، دھرنے کے باعث نہ صرف مسافر پریشان ہیں بلکہ ملکی معیشت کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہے اور بات چیت کے ذریعے آگے بڑھنا چاہتی ہے۔

    دوسری جانب بریسٹر سرفراز میتلو نے مؤقف اختیار کیا کہ "ہم اپنے موقف پر قائم ہیں لیکن ڈائیلاگ کے دروازے بند نہیں کیے۔ جب تک کینال منصوبے کی منسوخی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوتا، دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا۔”

    بریسٹر سرفراز کے مطابق وفاقی حکومت نے بشیر میمن کے ذریعے دھرنا قائدین سے باضابطہ رابطہ کیا ہے اور آج اس حوالے سے اہم اجلاس بلایا گیا ہے جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

  • سکھر :ڈی آئی جی کی زخمی پولیس اہلکاروں سے ملاقات، ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی

    سکھر :ڈی آئی جی کی زخمی پولیس اہلکاروں سے ملاقات، ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی

    میرپورماتھیلو،باغی ٹی وی (نامہ نگارمشتاق لغاری) ڈی آئی جی سکھر کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ نے گزشتہ رات کشمور کے گاؤں نائیچ میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے ایس ایچ او کشمور انسپکٹر زیاد نوناری اور دیگر اہلکاروں کی ضیاء الدین ہاسپٹل سکھر میں عیادت کی۔ ان کے ہمراہ ایس ایس پی سکھر اظہر خان مغل اور ڈپٹی کمشنر سکھر ایم بی دھاریجو بھی موجود تھے۔

    ڈی آئی جی سکھر نے زخمی اہلکاروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی اور ویلفیئر انچارج کو ان کی فیملیز کے ساتھ مکمل رابطے میں رہنے کا حکم دیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں ڈاکوؤں سے بہادری سے لڑنے والے افسران اور جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پولیس ان کے ساتھ کھڑی ہے اور واقعے میں ملوث ڈاکوؤں کو جلد گرفتار کیا جائے گا۔

  • میرپورماتھیلو:خانپور مہر میں فائرنگ سے کورائی قبیلے کے 4 افراد جاں بحق، پولیس حدود میں الجھ گئی

    میرپورماتھیلو:خانپور مہر میں فائرنگ سے کورائی قبیلے کے 4 افراد جاں بحق، پولیس حدود میں الجھ گئی

    میرپور ماتھیلو (نامہ نگارمشتاق لغاری) خانپور مہر کے نواحی علاقے ہیکل پٹ میں ایک افسوسناک واقعے میں مسلح افراد نے کورائی برادری کے گھروں پر دھاوا بول دیا۔ اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔

    پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی شناخت گلشیر کورائی، ان کے بھائی گل میر کورائی، گلشیر کی بیوی شریفاں اور ان کی والدہ اختیاراں کورائی کے ناموں سے ہوئی ہے۔ مسلح افراد نے گھر میں گھس کر ان پر براہ راست فائرنگ کی، جس سے موقع پر ہی ان کی موت واقع ہو گئی۔

    واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق اطلاع دینے کے باوجود پولیس کافی دیر تک جائے وقوعہ پر نہیں پہنچ سکی، جس کے باعث مقتولین کی لاشیں کھلے آسمان تلے پڑی رہیں۔ اس تاخیر پر علاقہ مکینوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔

    ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ تھانہ مبارک پور اور تھانہ خانپور مہر کی پولیس کے درمیان علاقے کی حدود کے تعین پر تنازعہ پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کس تھانے کی پولیس جائے وقوعہ کی ذمہ داری لے گی۔ اس مبینہ تنازعے کے باعث مقتولین کی نعشیں کئی گھنٹوں تک جائے وقوعہ پر پڑی رہیں۔

    بعد ازاں اعلیٰ پولیس حکام نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، پولیس حکام نے اس واقعے کو پرانی دشمنی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ تاہم، انہوں نے مزید تفتیش کی یقین دہانی کرائی ہے تاکہ حقائق کو مکمل طور پر واضح کیا جا سکے۔

    اس دلخراش واقعے نے علاقے میں سوگ کی فضا طاری کر دی ہے اور مقتولین کے لواحقین گہرے صدمے سے دوچار ہیں۔ علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔