Baaghi TV

Category: سکھر

  • ڈی آئی جی سکھر رینج کی 14 ماہ کی شاندار کارکردگی رپورٹ جاری

    ڈی آئی جی سکھر رینج کی 14 ماہ کی شاندار کارکردگی رپورٹ جاری

    سکھر (باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق علی لغاری) نومبر 2024 سے دسمبر 2025 تک ڈی آئی جی سکھر رینج کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ کی قیادت میں سکھر رینج پولیس نے امن و امان کے قیام، جرائم کے خاتمے اور عوام دوست پولیسنگ کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔

    14 ماہہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق سکھر رینج کے تینوں اضلاع میں کچا ایریا آپریشنز کے دوران 579 پولیس مقابلے ہوئے، جن میں 40 انتہائی خطرناک ملزمان ہلاک، 182 زخمی، 864 گرفتار جبکہ 263 جرائم پیشہ گینگز کا خاتمہ کیا گیا، 25 ملزمان نے ہتھیار ڈال کر خود کو قانون کے حوالے کیا۔

    پولیس نے قتل سمیت مختلف مقدمات میں 1700 سے زائد اشتہاری و مفرور ملزمان کو گرفتار کیا جبکہ 6 انعام یافتہ خطرناک ڈاکوؤں کو ہلاک کیا گیا۔ منشیات کے خلاف کارروائیوں میں 1383 مقدمات درج، 1586 گرفتار اور بھاری مقدار میں منشیات و گٹکا ماوا برآمد کیا گیا۔

    چوری شدہ 9 کروڑ 56 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی پراپرٹی، 693 موٹر سائیکلیں اور 63 گاڑیاں برآمد ہوئیں، جبکہ ناجائز اسلحہ کے خلاف 649 مقدمات میں سینکڑوں جدید و بھاری ہتھیار ضبط کیے گئے۔

    اغوا برائے تاوان کے خلاف کارروائیوں میں 70 مغوی بغیر تاوان بازیاب ہوئے اور 1781 افراد کو ہنی ٹریپ اغوا سے بچایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سکھر رینج میں اغوا برائے تاوان کا کوئی بھی کیس زیر التوا نہیں۔

    اندرونی احتساب کے تحت 96 اہلکاروں کو میجر اور 175 کو مائنر سزائیں دی گئیں، جبکہ بہتر کارکردگی پر 360 اہلکاروں کو کیش ایوارڈ اور تعریفی اسناد دی گئیں۔ کمپلینٹ سیلز کے ذریعے 8190 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 7174 حل کی گئیں۔

    پولیس شہداء اور ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز جاری کیے گئے، ہیلتھ انشورنس کارڈ سے ہزاروں اہلکاروں و اہل خانہ نے مفت علاج کی سہولت حاصل کی۔ ماڈل پولیس اسٹیشنز، ہائی وے ہالٹنگ پوائنٹس، آئی ٹی سسٹمز اور تھانہ جاتی اصلاحات پر بھی نمایاں پیش رفت کی گئی۔

    ڈی آئی جی فیصل عبداللہ چاچڑ کے چارج سنبھالنے کے وقت اغوا برائے تاوان کے 9 کیسز موجود تھے جو اب صفر ہو چکے ہیں، جبکہ موٹروے اور شاہراہوں پر جرائم میں واضح کمی آئی ہے۔ گزشتہ برس ڈاکوؤں کے خلاف آپریشنز میں پولیس کی صرف 4 شہادتیں ہوئیں جو گزشتہ کئی برسوں میں کم ترین تعداد ہے۔

    سکھر رینج میں امن و امان کی بہتری پر مختلف مکاتب فکر، تاجر تنظیموں اور میڈیا کی جانب سے ڈی آئی جی سکھر رینج کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا گیا۔

  • گھوٹکی پولیس کی کارروائیاں، چوری شدہ سامان سمیت ایک ملزم گرفتار

    گھوٹکی پولیس کی کارروائیاں، چوری شدہ سامان سمیت ایک ملزم گرفتار

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق علی لغاری) ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران کی ہدایات پر گھوٹکی پولیس نے روپوش، اشتہاری اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیاں تیز کر دیں۔

    تھانہ یارو لنڈ پولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم سجاد علی ولد حضور بخش عرف محمد بخش مھر، سکنہ گاؤں لانڈھیوں مھر کو واپڈا کی چوری شدہ تاریں، موٹر سائیکلوں کے چوری شدہ مختلف پارٹس اور دیگر سامان سمیت گرفتار کر لیا، جبکہ ملزم کا بھائی بھار ولد محمد بخش مھر پولیس کو دیکھتے ہی فرار ہو گیا۔ گرفتار اور فرار ملزمان کے خلاف کرائم نمبر 01/2026 دفعہ 379، 411 تعزیراتِ پاکستان کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔

    اسی تھانے کی ایک اور کارروائی میں خفیہ اطلاع پر غلام یاسین عرف پپو ولد محمد اکرم کھوکر کی کباڑ کی دکان پر چھاپہ مارا گیا، تاہم ملزم اپنے ایک نامعلوم ساتھی کے ہمراہ فرار ہو گیا۔ پولیس نے موقع سے موٹر سائیکلوں کے چوری شدہ مختلف پارٹس برآمد کر لیے، جبکہ فرار ملزمان کے خلاف کرائم نمبر 02/2026 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔

    دوسری جانب تھانہ داد لغاری پولیس نے کینجھر پتافی اسٹاپ پر کارروائی کرتے ہوئے محمد اسماعیل ولد صابر پتافی کی کباڑ کی دکان پر چھاپہ مارا، جہاں سے چوری شدہ واپڈا کی تاریں، لوہے کی جالیاں اور موٹر سائیکلوں کے مختلف چوری شدہ پارٹس برآمد کیے گئے، تاہم ملزم فرار ہو گیا۔ فرار ملزم کے خلاف کرائم نمبر 03/2026 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔

    گھوٹکی پولیس کے مطابق گرفتار اور نامزد ملزمان بجلی کی تاروں، ٹرانسفارمر کوائلز اور موٹر سائیکلوں کے چوری شدہ پارٹس کی خرید و فروخت میں ملوث ہیں، عوام ایسے عناصر سے ہوشیار رہیں۔

  • میرپورماتھیلو: تھانہ داد لغاری پولیس نے مطلوب ملزم صفدر علی کو واپڈا کی چوری شدہ تاروں سمیت گرفتار کر لیا

    میرپورماتھیلو: تھانہ داد لغاری پولیس نے مطلوب ملزم صفدر علی کو واپڈا کی چوری شدہ تاروں سمیت گرفتار کر لیا

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران کی ہدایات پر گھوٹکی پولیس نے روپوش، اشتہاری اور دیگر جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

    تھانہ داد لغاری کے ایس ایچ او ذوالفقار علی مھر اور ان کے عملے نے دورانِ گشت خفیہ اطلاع پر کاروائی کرتے ہوئے نرلی پل کے قریب کرائم نمبر 69/2025 دفعہ 379 ت پ اور کرائم نمبر 72/2025 دفعہ 382 ت پ کے مقدمات میں مطلوب ملزم صفدر علی ولد علی اصغر ملک سکنہ نزد درگاہ دین شاہ تعقلہ میرپورماتھیلو کو واپڈا کی چوری شدہ تاروں سمیت گرفتار کر لیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے اور اس کے ممکنہ دیگر جرائم کی چھان بین بھی کی جا رہی ہے۔

  • میرپورماتھیلو:جروار کے گاؤں میں بارش بنی ابر زحمت،راستے بند، عوام محصور،نمائندے غائب

    میرپورماتھیلو:جروار کے گاؤں میں بارش بنی ابر زحمت،راستے بند، عوام محصور،نمائندے غائب

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق علی لغاری) تحصیل میرپور ماتھیلو کے شہر جروار کے قریب گاؤں خدا بخش لغاری میں حالیہ بارشوں کے بعد صورتحال انتہائی تشویشناک ہو گئی ہے۔ موسلادھار بارش کے باعث گاؤں کی تمام کچی گلیوں اور سڑکوں میں ایک سے ڈیرھ فٹ پانی کھڑا ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں شہریوں کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے اور وہ گھروں میں محصور ہیں۔

    علاقہ مکینوں نے بتایا کہ سردی کے موسم میں کھڑا پانی چلنے پھرنے میں شدید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ بزرگ، بچے اور خواتین روزمرہ ضروریات کے لیے بھی گھروں سے نکلنے سے قاصر ہیں۔ گندے پانی کی موجودگی سے نزلہ، بخار، کھانسی اور دیگر خطرناک بیماریاں پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جس سے والدین خوف زدہ ہیں۔

    مقامی لوگوں کے مطابق کچی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور کیچڑ، بدبو اور گندگی نے ماحول کو مزید آلودہ کر دیا ہے۔

    علاقہ مکینوں نے ضلعی انتظامیہ، میونسپل ادارے اور منتخب نمائندوں پر شدید تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ شکایات اور درخواستوں کے باوجود کسی بھی ذمہ دار نے گاؤں کا دورہ نہیں کیا۔

    گاؤں خدا بخش لغاری کے رہائشیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو عوام کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی اور صورتحال ناقابلِ برداشت ہو جائے گی۔

  • میرپور ماتھیلو: نو روز سے اندھیرا، جروار سے بجلی مستقل غائب کردی گئی، شہری شدید متاثر

    میرپور ماتھیلو: نو روز سے اندھیرا، جروار سے بجلی مستقل غائب کردی گئی، شہری شدید متاثر

    میرپورماتھیلو(باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق علی لغاری)گھوٹکی تحصیل میرپور ماتھیلو کے شہر جروار اور گرد و نواح میں بجلی کے بحران نے ایس ڈی او واپڈا کے ظالمانہ رویے کے باعث سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے۔ گزشتہ نو روز سے مسلسل اندھیرے میں ڈوبے ہوئے شہریوں کو اس وقت شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا جب بجلی بحال کرنے کے بجائے محض چند لمحوں کے لیے بجلی کے جھٹکے دے کر دوبارہ بند کر دی گئی۔ اس صورتحال پر ایس ڈی او میرپور ماتھیلو کی جانب سے مبینہ طور پر یہ تکبرانہ پیغام دیا گیا کہ بجلی ان کی ذاتی مرضی سے چلے گی اور جب وہ چاہیں گے تب ہی فراہم کی جائے گی۔ افسران کی اس کھلی من مانی اور عوامی حقوق کی پامالی نے جروار کے شہریوں کا صبر لبریز کر دیا ہے، جو پہلے ہی کاروبار کی بندش، پانی کی قلت اور زرعی نقصانات کی وجہ سے شدید پریشان ہیں۔

    نو دن گزرنے کے باوجود بجلی کی مستقل بحالی نہ ہونا محکمہ واپڈا کی نااہلی اور عوامی دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے جس نے جروار کی مارکیٹوں کو ویران اور صنعتی یونٹس کو بنجر بنا دیا ہے۔ رات کے وقت مکمل بلیک آؤٹ کے باعث شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ اعلیٰ حکام کی خاموشی نے ایس ڈی او جیسے افسران کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ عوام نے سندھ حکومت اور سکھر ڈویژن کے اعلیٰ بجلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایس ڈی او میرپور ماتھیلو کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کی جائے اور بجلی کی فراہمی کو فی الفور یقینی بنایا جائے۔ شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ ناروا سلوک بند نہ ہوا تو وہ ضلعی ہیڈ کوارٹر گھوٹکی میں بڑے پیمانے پر احتجاج اور دھرنا دیں گے جس کی ذمہ داری براہ راست انتظامیہ پر ہوگی۔

  • میرپور ماتھیلو: ایس ڈی او کی غفلت سے جروار اور مضافات 8 روز سے اندھیرے میں ڈوب گئے

    میرپور ماتھیلو: ایس ڈی او کی غفلت سے جروار اور مضافات 8 روز سے اندھیرے میں ڈوب گئے

    میرپور ماتھیلو(باغی ٹی وی ،نامہ نگارمشتاق علی لغاری( ایس ڈی او کی غفلت سے جروار اور مضافات 8 روز سے اندھیرے میں ڈوب گئے

    تفصیلات کے مطابق ضلع گھوٹکی کی تحصیل میرپور ماتھیلو میں محکمہ بجلی کے افسران کی مبینہ غفلت اور نااہلی کے باعث شہر جروار اور اس کے گرد و نواح کے درجنوں دیہات گزشتہ ایک ہفتے سے زائد عرصے سے بجلی سے محروم ہیں، جس نے عوامی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ آٹھ روز گزرنے کے باوجود بجلی کی بحالی کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہ کیے جانے پر شہریوں اور دیہاتیوں کا پیمانہ صبر لبریز ہو چکا ہے اور علاقے میں شدید اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بجلی کی طویل بندش کے باعث جروار شہر کی مارکیٹیں ویران اور کاروباری مراکز بند ہو چکے ہیں، جبکہ دیہاتوں میں پانی کی شدید قلت اور زرعی سرگرمیاں معطل ہونے سے کسانوں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔ رات کے وقت مکمل اندھیرے کے باعث عوام میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے، مگر ایس ڈی او میرپور ماتھیلو اور دیگر متعلقہ حکام نے اس سنگین صورتحال پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

    علاقہ مکینوں اور تاجر برادری نے ضلعی انتظامیہ گھوٹکی اور بجلی حکام کے خلاف سخت احتجاج کا انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ افسران کی ناکامی کی سزا عوام کو دی جا رہی ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ تحصیل میرپور ماتھیلو سے جروار کو آنے والی بجلی کی فراہمی فوری بحال کی جائے اور آٹھ روز تک عوام کو اذیت میں رکھنے والے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر چوبیس گھنٹوں کے اندر بجلی بحال نہ ہوئی تو وہ ضلعی ہیڈکوارٹر گھوٹکی میں مرکزی شاہراہوں پر دھرنا دیں گے اور احتجاج کا دائرہ کار وسیع کر دیا جائے گا۔ عوامی حلقوں نے حکومتِ سندھ، چیف سیکریٹری اور صوبائی وزیر توانائی سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین بحران کا فوری نوٹس لیں اور میرپور ماتھیلو کے بجلی افسران کو عوام کی جان بوجھ کر تذلیل کرنے پر جوابدہ ٹھہرائیں۔

  • طلبہ نے عملی زندگی میں قوم کی خدمت کرنی ہے،بلاول

    طلبہ نے عملی زندگی میں قوم کی خدمت کرنی ہے،بلاول

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، سندھ کے تعلیمی اداروں میں بہتری کی بہت گنجائش ہے۔

    شہید بےنظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے 7ویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج صرف اسناد کی تقسیم کا دن نہیں، بلاتعطل علاج کی فراہمی بھی ہے، فارغ التحصیل طلبہ نے اب عملی زندگی میں قوم کی خدمت کرنی ہے، آپ نے اپنے صوبے کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دینی ہیں، مشکل گھڑی میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف قوم کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں، آپ نے بلاتفریق انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنانا ہے، ہمیں صحت کے شعبے میں مکمل تیار رہنا چاہیے، ملک کو جب بھی کسی دباؤ کا سامنا ہوا ہمارے ڈاکٹرز اور نرسوں نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا، ادارے صرف بلڈنگ اور جدید مشینری سے کامیاب نہیں ہوتے، جب آپ آئیں گے اور کام کریں گے تو ادارے کامیاب ہوں گے، آپ اچھے ڈاکٹرز کے ساتھ ساتھ اچھے انسان بننے کے لیے بھی محنت کریں،لاڑکانہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ یہ ناانصافی کے خلاف مزاحمت کی علامت ہے، صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، ہیلتھ کیئر سسٹم میں بہتری ہماری ترجیح ہے، 18ویں ترمیم کے بعد سندھ میں صحت کے شعبے میں نمایاں اقدامات کیے گئے۔

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ بےنظیر بھٹو نے 1989 میں یونیورسٹی کا خواب دیکھا تھا جو 2009 میں مکمل ہوا۔ چانڈکا میڈیکل کالج کی بنیاد 1973 میں رکھی گئی تھی، چیئرمین پیپلز پارٹی کے مشکور ہیں جنہوں نے اپنی والدہ کے خواب کو پورا کیا، ڈاکٹرز کی کمٹمنٹ سے علاج ممکن ہے، صرف انفرا اسٹرکچر سے علاج ممکن نہیں، یہ ڈگری صرف آپ کی نہیں ان مریضوں کی اُمید ہے جن کا آپ علاج کریں گے۔

  • بینظیر بھٹو کی برسی،ن لیگی وفد سکھر پہنچ گیا

    بینظیر بھٹو کی برسی،ن لیگی وفد سکھر پہنچ گیا

    سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلزپارٹی کی قائد محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی برسی کے موقع پر شرکت کے لیے اعلیٰ سطح کا حکومتی وفد سکھر پہنچ گیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر یہ وفد برسی کی مرکزی تقریب میں شرکت کرے گا اور شہید رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرے گا۔

    حکومتی وفد کی قیادت اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کر رہے ہیں، جبکہ وفد میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری اور متعدد اراکین قومی اسمبلی شامل ہیں۔ وفد اپنے دورے کے دوران پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت سے ملاقاتیں بھی کرے گا، جن میں ملکی سیاسی صورتحال، جمہوری استحکام اور قومی امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔برسی کی تقریب کے موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپنے پیغام میں کہا کہ آج ہم پاکستان کی عظیم بیٹی، پہلی خاتون وزیراعظم اور جمہوریت کی علمبردار محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی برسی منا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں خواتین کے کردار کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا اور سیاست میں خواتین کی نمائندگی کو ایک نئی جہت دی۔

    سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو شہید نے پاکستان میں رواداری، برداشت، قانون کی حکمرانی اور عوامی فلاح کے اصولوں کو فروغ دیا۔ انہوں نے جمہوری اقدار کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور ہمیشہ عوامی حقوق، سماجی انصاف اور آئین کی بالادستی کے لیے جدوجہد کی۔ برسی کی تقریبات کے دوران قرآن خوانی، فاتحہ خوانی اور مختلف سیاسی و سماجی شخصیات کی جانب سے شہید رہنما کو خراجِ عقیدت بھی پیش کیا جا رہا ہے۔

  • میرپورماتھیلو:ریاست کہاں ہے؟ جروار تھانے پر قبائلی قبضے کے دعوے، دھرنے اور احتجاج جاری

    میرپورماتھیلو:ریاست کہاں ہے؟ جروار تھانے پر قبائلی قبضے کے دعوے، دھرنے اور احتجاج جاری

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار: مشتاق علی لغاری):جروار تھانے پر بالادستی کے دعوؤں نے علاقے کی صورتحال کو تشویشناک حد تک کشیدہ بنا دیا ہے، جہاں بوزدار اور گبول برادری آمنے سامنے آ گئی ہیں اور دونوں جانب سے تھانے پر اپنی اپنی “حکومت” قائم ہونے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ اس غیر معمولی صورتحال نے نہ صرف پولیس کی غیر جانبداری بلکہ ریاستی رٹ پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    علاقائی ذرائع کے مطابق، بوزدار برادری کا مؤقف ہے کہ جروار تھانے پر ان کا اثر و رسوخ تسلیم کیا جائے، جبکہ گبول برادری بھی یہی دعویٰ کر رہی ہے کہ تھانے کا کنٹرول ان کے پاس ہونا چاہیے۔ اس کشمکش نے علاقے میں بے چینی کو جنم دے دیا ہے اور عوام میں شدید اضطراب پایا جا رہا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس امر کی عکاس ہے کہ آیا تھانے قانون کے ماتحت ہیں یا قبائلی جاگیروں میں تبدیل ہو چکے ہیں؟ اگر ہر برادری اپنی مرضی کا نظام نافذ کرے گی تو قانون کی حکمرانی کہاں باقی رہے گی؟

    دوسری جانب، گاؤں میر خان گبول کے رہائشیوں، سیاسی و سماجی کارکنوں نے جروار کے مین چوک پر کئی گھنٹوں سے دھرنا دے رکھا ہے۔ مظاہرین کا واضح اور دوٹوک مؤقف ہے کہ جب تک متعلقہ پولیس اہلکار دھرنے کی جگہ پر آ کر عوام سے معافی نہیں مانگتے، اس وقت تک احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔

    دھرنے کے باعث جروار مین چوک پر ٹریفک مکمل طور پر جام ہو چکی ہے، جبکہ کاروباری سرگرمیاں معطل اور روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ حالات میں مسلسل کشیدگی بڑھ رہی ہے، جس کے باعث کسی بھی وقت ناخوشگوار واقعے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    علاقے کے باشعور شہریوں، وکلا اور سماجی حلقوں نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی، ایس ایس پی گھوٹکی اور ضلعی انتظامیہ سے فوری اور سخت نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت مداخلت نہ کی گئی تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔

    عوامی حلقوں نے زور دیا ہے کہ تھانے کو ہر قسم کے قبائلی اور سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کر کے قانون کی بالادستی قائم کی جائے، تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ریاستی رٹ پر اٹھنے والے سوالات کا عملی جواب دیا جا سکے۔

  • میرپور ماتھیلو: جروار میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ، کاروباری طبقہ اور عوام سراپا احتجاج

    میرپور ماتھیلو: جروار میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ، کاروباری طبقہ اور عوام سراپا احتجاج

    میرپور ماتھیلو سے باغی ٹی وی کے نامہ نگار مشتاق علی لغاری کی رپورٹ کے مطابق، تحصیل میرپور ماتھیلو کے شہر جروار اور قریبی دیہی علاقوں میں بجلی کی مسلسل اور طویل لوڈشیڈنگ نے شہریوں اور کاروباری طبقے کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ علاقے میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ روزانہ سات گھنٹے تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث نہ صرف مارکیٹیں اور صنعتی یونٹس غیر فعال ہو چکے ہیں بلکہ گھریلو زندگی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی غیر منظم بندش کی وجہ سے اسکول، اسپتال اور دفاتر میں کام کاج ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے، جبکہ تاجر برادری نے دہائی دی ہے کہ روزانہ کی آمدنی متاثر ہونے سے وہ ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے کے قابل بھی نہیں رہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جروار شہر سمیت سندھ کے دیگر بڑے شہروں کراچی، حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ میں بھی اسی طرز کی بدترین لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینا محال کر رکھا ہے۔

    مقامی شہریوں اور تاجروں نے اس سنگین صورتحال پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ڈی سی گھوٹکی، ایس ڈی او میرپور ماتھیلو اور سیپکو (SEPCO) حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ جروار اور مضافاتی علاقوں میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سات گھنٹے تک جاری رہنے والی یہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے اور اگر فوری طور پر اصلاحِ احوال نہ کی گئی تو عوام سڑکوں پر نکل کر بھرپور احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ مظاہرین نے حکومتِ سندھ اور متعلقہ سرکاری اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاور ڈسٹریبیوشن کمپنیوں کی من مانیوں کا نوٹس لیں اور کاروباری و شہری طبقے کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے جائیں۔