Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • فرانس نے بھی چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی لگا دی

    فرانس نے بھی چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی لگا دی

    فرانس نے بھی چینی ایپلیکیشن ٹک ٹاک پر پابندی لگا دی-

    باغی ٹی وی: فرانس کی پبلک سیکٹر ٹرانسفارمیشن اور سول سروسز کی وزارت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق حکومت کی طرف سے عائد کی گئی پابندی پر فوری عمل درآمد کیا جائے گا فرانس نے جمعہ کو اعلان کیا کہ اس نے ڈیٹا کی ناکافی حفاظتی اقدامات کے بارے میں تشویش کی وجہ سے پابند ی عائد کی جا رہی ہے-

    یہ اقدام مقبول ویڈیو شیئرنگ ایپ کے بارے میں خدشات کے درمیان جمہوری ممالک میں ٹِک ٹاک پر اسی طرح کی پابندیوں کے بعد ہے۔ لیکن فرانسیسی فیصلے میں دوسرے پلیٹ فارمز کو بھی شامل کیا گیا جو بڑے پیمانے پر سرکاری عہدیداروں، قانون سازوں اور خود صدر ایمانوئل میکرون کے ذریعہ استعمال ہوتے ہیں۔

    فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین اور انتظامیہ کی سائبر سکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے حکومت کی جانب سے ملازمین کے پروفیشنل فون پر ٹک ٹاک جیسی ’ری کریئشنل‘ ایپلی کیشنز کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    فرانسیسی وزیر برائے تبدیلی اور پبلک ایڈمنسٹریشن، سٹینسلاس گورینی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’تفریحی‘‘ ایپس اتنی محفوظ نہیں ہیں کہ ریاستی انتظامی خدمات میں استعمال کیے جا سکیں یہ ڈیٹا کے تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں-

    پابندی کی نگرانی فرانس کی سائبر سیکیورٹی ایجنسی کرے گی بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کن ایپس پر پابندی ہے لیکن یہ نوٹ کیا گیا کہ یہ فیصلہ دیگر حکومتوں کی جانب سے ٹِک ٹاک کو نشانہ بنانے کے اقدامات کے بعد آیا۔

    گورینی کے دفتر نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ پابندی میں ٹویٹر، انسٹاگرام، نیٹ فلکس، کینڈی کرش جیسی گیمنگ ایپس اور ڈیٹنگ ایپس بھی شامل ہوں گی۔

    حکام کے مطابق فرانس کے یورپی اور بین الاقوامی پارٹنرز کی جانب سے چینی ایپلی کیشن ٹک ٹاک کی ڈاؤن لوڈنگ اور استعمال پر پابندی عائد کی گئی تھی، سکیورٹی خدشات کے بنا پر فرانس نے بھی ایپلی کیشن پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے تاہم پروفیشنل معاملات میں ایپلی کیشن کے استعمال کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکا، کینیڈا، برطانیہ، نیدرلینڈ، بیلجیئم اور نیوزی لینڈ سمیت دیگر ممالک کی جانب سے ٹک ٹاک کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

  • بل گیٹس کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے متعلق خطرناک خدشے کا اظہار

    بل گیٹس کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے متعلق خطرناک خدشے کا اظہار

    واشنگٹن: مائیکروسافٹ کمپنی کے بانی بل گیٹس کا کہنا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس انسانی آبادی کو اپنا دشمن سمجھ کر اس پر حملہ کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔

    باغی ٹی وی: برطانوی ویب سائٹ "مرر” کے مطابق مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے شعبے میں ہونے والی ترقی سے پرجوش اور متاثر ہیں تاہم انہیں خدشہ ہے کہ اے آئی فورسز دنیا پر حکمرانی کے لیے روبوٹس تعینات کر سکتی ہیں اگر "اچھے” کے لیے استعمال کیا جائے تو وہ تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، کاروبار اور طرز زندگی کو فروغ دے سکتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ عالمی عدم مساوات اور غربت کو بھی کم کر سکتا ہے۔

    امریکی ریاست مسی سپی میں تباہ کن طوفان اور بگولہ،23 افراد ہلاک اور درجنوں لاپتا

    اے آئی ٹیکنالوجی کئی ملازمتوں میں انسانوں کی جگہ لے رہی ہے اور اس ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ہر روز نت نئے استعمالات سامنے آرہے ہیں لیکن مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کی جانب سے اے آئی ایک خطرناک رُخ لے سکتی ہے –

    اگراے آئی غلط ہاتھوں میں آجاتا ہے تو ان کو حقیقی زندگی کے جیمز بانڈ طرز کے ولن اپنے بٹے ہوئے اہداف کو فروغ دینے کے لیے جوڑ توڑ کر سکتے ہیں، جو کہ اتنا اچھا نہیں لگتا تاہم دوسری طرف، بل گیٹس کا یہ بھی ماننا ہے کہ اے آئی یہ فیصلہ کر نے کی بھی اہلیت رکھتی ہے کہ انسان ایک خطرہ ہیں اور ہم پر حملہ آور ہوسکتی ہے۔

    خالصتان تحریک پراحتجاج،بھارت نے نئی دہلی میں برطانوی ہائی کمیشن کی سیکیورٹی کم کردی

  • روزہ اور سائنس

    روزہ اور سائنس

    رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں دنیا بھر کے مسلمان روزے رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنا زیادہ تر وقت عبادت میں گزارتے ہیں سارا دن بھوکے پیاسے رہتے ہیں جہاں اس کی دینی اعتبار سے فضیلت ہے وہیں آج سائنس بھی اس طریقہ کار کی متعرف ہے، مختلف تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سال بھر میں صرف 1 ماہ کے لئے انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کی جائے تو اس کے صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    افطاری میں تربوز کھانے کے فوائد

    انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے دوران اس عادت کو اپنایا جاتا ہےکہ دن میں 16 گھنٹے تک بنا کچھ کھائے پیے گزارتے ہیں دنیا بھر کے مسلمان ماہ رمضان میں صبح صادق سے سورج ڈھلنے تک کم و بیش 11 سے 15 گھنٹے تک بھوکے اور پیاسے رہتے ہیں جبکہ بقیہ اوقات میں کھانا کھاتے ہیں۔

    رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں،ماہرین

    برطانوی ماہر غذائیت ریچل کلارکسن کے مطابق کھانے میں وقفہ بڑھانے کا طریقہ وزن میں کمی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اس کے علاوہ کھانے میں وقفے کا عمل جسم کے ایک ایسے اندرونی عمل کی شروعات کرتا ہے جس کو ’آٹو فیگی‘ کہا جاتا ہے آٹو فیگی کے دوران انسانی جسم اندرونی خلیوں کی از سر نو تعمیر شروع کر دیتا ہے خصوصاً وہ جگہ جہاں ڈی این اے موجود ہوتا ہے یعنی نیوکلیئس، اس کے ساتھ مائیٹوکونڈریا جہاں انسانی خلیوں کو درکار توانائی مہیا کرنے والے کیمیائی مواد بنتا ہے اور لائسوسومز جو خلیوں سے فضلہ خارج کرتے ہیں، ان میں بھی یہ عمل اندرونی طور پر انھیں توانا کرتا ہے۔

    روزہ اور صحت مند غذائی عادات

    اس عمل کے دوران نئے سرے سے انسانی جسم کے خلیے جنم لیتے ہیں اور کچھ ایسا مواد بھی پیدا ہوتا ہے جس کے ذریعے انسانی جسم کے خلیوں کی زندگی بڑھ جاتی ہے اب تک ہونے والی سائنسی تحقیقات کے مطابق آٹو فیگی انسانی جسم کے مدافعتی نظام میں بہتری لاتی ہے –

  • شکر گزاری کا جذ بہ شدید ذہنی تناؤ کو کم کر سکتا ہے،تحقیق

    شکر گزاری کا جذ بہ شدید ذہنی تناؤ کو کم کر سکتا ہے،تحقیق

    ماہرین کا کہنا ہے کہ شکر کرنا شدید ذہنی تناؤ کی کیفیت کو کم کرسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: مغربی دنیا میں اس موضوع پر بڑی تحقیق ہوئی ہے۔ اور اس سلسلے میں لکھنے یا تحقیق کرنے والے دو باتوں پر متفق نظر آتے ہیں۔ پہلی بات کہ شکرگزاری ایک ایسی اخلاقی قدر یا نیکی ہے جس کو بہت کمتر یا بے معنی سمجھا جاتا ہے اور دوسری بات کہ دنیا کے تمام عظیم انسانوں میں یہ خوبی عام لوگوں کی نسبت بہت زیادہ پائی جاتی ہے جس کا وہ برملا اظہار کرتے ہیں۔

    اس ضمن میں ایک چھوٹے سے گروہ پر تحقیق کی گئی ہے لیکن اس کی اہمیت نظرانداز نہیں کی جاسکتی سائنسدانوں نے نے 18 سے 57 سال کے 68 افراد کو بھرتی کیا جن میں 24 مرد اور 44 خواتین شامل تھی اس کے لیے تجربہ گاہ میں ایک فرضی ماحول بنایا گیا تھا ڈیزائن کے تحت تجربہ گاہ میں کچھ ایسے کام کئے گئے جو تناؤ کی وجہ بنے اور اس کے بعد شرکا کے دل کے ردِ عمل اور بحالی کو نوٹ کیا گیا۔ اس طرح پوری ترتیب کے ساتھ یہ تجربہ انجام دیا گیا۔

    مطالعے میں نوٹ کیا گیا کہ جو لوگ اسٹریس سے گزرے لیکن شکر کا دامن تھامے رکھا تب بھی ان کا بلڈ پریشر معمول کے تحت تھا۔ یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ اکیوٹ سائیکولوجیکل اسٹریس کی صورت میں قلبی ردِ عمل اور بحالی میں جذبہ تشکر ایک دیوار کی طرح حائل رہا۔

    محققین کےمطابق اگرکوئی شخص شدید نفسیاتی تناؤ (اکیوٹ سائیکولوجیکل اسٹریس) کا شکار ہے تو بھی شکر کا جذبہ اسے کیفیت سے تحفظ فراہم کرتا ہےچونکہ دماغ جسم کا صدر مقام ہے تو ڈپریشن اور تناؤ پورے جسم کومتاثرکرتا ہےپھر اس سے بلڈ پریشر، ذیابیطس اور امراضِ قلب میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اسی لیےماہرین اسٹریس بفر یعنی تناؤ سے مزاحم عوامل بہت زور دیتے ہیں۔

    یونیورسٹی آف مے نوتھ سے وابستہ برائن لیوی اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ اگرچہ شکراورڈپریشن میں کمی میں تعلق پر بہت تحقیق ہوئی ہے لیکن حقیقی طور پر نفسیاتی تناؤ اور امراضِ قلب سے بحالی پر بہت کم تحقیق کی گئی ہے۔

    جذبہ شکرایک طاقتورکیفیت ہے جو ہمیں بہت سے مسائل سے بچاتی ہے۔ 2010 میں کی گئی تحقیق کے مطابق شکر کے چھوٹے چھوٹے عمل ہماری صحت کو بہتر کرتی ہے۔ اسی طرح 2016 میں امراضِ قلب کے شکار افراد سے شکرانے کی ڈائری لکھنے کو کہا تو ان کی کیفیت بہتر ہونے لگی اور وہ تیزی سے بحال ہوئے-

    رابرٹ ایمنذ ، میک کلااور ان کے کئی ایک ساتھیوں نے شکرگزاری کے موضوع پر کافی تحقیق کی ہے ۔ان کے مطابق دنیا کے تمام مذاہب میں شکرگزاری ایک ایسی نیکی ہے جوبہترین انسانی کردار کی ضمانت کے طور پر جانی جاتی ہے یہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کا لازمی جز وہ خوشگوار احساس ہے جو نعمت پہنچانے والے کے ساتھ منسلک ہوتاہے ۔

    پچھلی دو دہائیوں میں نفسیات کے میدان میں انسانی جذبات اور انہیں سمجھنے پر کافی تحقیق ہوئی ہے اور اس موضوع پر لکھی گئی کئی ایک کتابیں اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ ایک اہم انسانی صفت ہے جسے ما ہرِ نفسیات اور فلاسفرز مختلف انداز میں بیان کرتے ہیں شکرگزاری کی تعریف کئی مشہور شخصیات سے منسوب ہے ڈیوڈ ہارنیڈ (1997) کے مطابق شکر گزاری ایک ایسےرویے کو ظاہر کرتا ہے جوبذاتِ خود نعمت یا تحفے کی طرف اور نعمت دینے والے کی طرف اس عزم کے ساتھ ہوتا ہے کہ اس نعمت یا احسان یا تحفے کو دینے والے کی مرضی کے مطابق بہترین انداز میں استعمال کیا جائے ۔

    ۔اوپرا ونفری امریکہ کی مشہور ایکٹریس، مصنفہ اور ٹاک شو ہوسٹ ہے، اس کے مطابق اگر’’ہم اس (نعمت)کے شکر گزار ہیں جو ہمارے پاس ہے تو ہمیں مزید ملے گا‘‘۔امریکہ ہی کے مشہور روحانی پیشوا نارمن ونسنٹ پیل کے مطابق’’ ایک بنیادی قانون (یہ ہے کہ) جتنا زیادہ تم شکر ادا کرو گے اتنے زیادہ تمہیں شکر ادا کرنے کے موقعے ملتے رہیں گے‘‘۔

    سیلف ہیلپ پر کئی کتابیں لکھنے والی مصنفہ میلوڈی بیٹی کے مطابق ، ’’شکر گزاری ماضی کو قابلِ فہم، آج کو پرسکون اور آنے والے کل کو مقاصد تخلیق کرنے کے قابل بناتی ہے-

    فرانسیسی جرنلسٹ اور ناولسٹ الفونسی کار شکرگزاری کے جذبے کے تحت زندگی کو مثبت انداز میں دیکھنے کے عادی ہے اور کہتے ہیں کہ کچھ لوگ شکایت کرتے ہیں کہ گلاب کے پھولوں کے ساتھ کانٹے ہوتے ہیں جبکہ میں اس بات کا شکر ادا کرتا ہوں کہ کانٹوں کے ساتھ گلاب ہیں-

    ۔رابرٹ ایمنذ اپنی کتاب، ’شکریہ‘ میں تحریر کرتے ہیں کہ وہ لوگ جو شکر ادا کرنے والے یا شکرگزاری کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں وہ دوسروں سے محبت کرنے والے، آسانی سے معاف کرنے والے، پرجوش اور خوشی کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں۔ یہی جوش اور خوشی انہیں کامیابیوں سے ہمکنار کرتا ہے۔

  • دنیا بھر میں ماحولیاتی خطرے سے بچاؤ کی آخری وارننگ جاری

    دنیا بھر میں ماحولیاتی خطرے سے بچاؤ کی آخری وارننگ جاری

    نیویارک: سائنسدانوں نے دنیا بھر میں ماحولیاتی خطرے سے بچاؤ کی آخری وارننگ جاری کر دی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی”دی گارڈین” کے مطابق سائنسدانوں نے آب و ہوا کے بحران پرایک "حتمی انتباہ” پیش کیا ہے، کیونکہ بڑھتے ہوئے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج نے دنیا کو ناقابل تلافی نقصان کے دہانے پر دھکیل دیا ہے جسے صرف تیز اور سخت کارروائی ہی روک سکتی ہے بین الحکومتی پینل آن کلائمیٹ چینج (آئی پی سی سی)، جو کہ دنیا کے سرکردہ موسمیاتی سائنسدانوں پر مشتمل ہے، نے پیر کو8,000 صفحات پرمشتمل اپنی بڑی چھٹی تشخیصی رپورٹ کا حتمی حصہ مرتب کیا۔

    جنگلات کےساتھ مشروم کی افزائش موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات کم کر سکتی ہے،تحقیق

    دنیا کے معروف سائنس دانوں نے بین الحکومتی پینل کی چوتھی اور آخری قسط میں خبردار کیا ہے کہ سیارہ قریب قریب میں صنعتی سطح سے پہلے کی سطح کےبعدسے 1.5 سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا "زیادہ امکان” ہے،جس کے نتیجے میں "بڑھتے ہوئے ناقابل واپسی نقصانات” ہوں گے 8,000 صفحات پر مشتمل رپورٹ جسے سنتھیسس رپورٹ کہا جاتا ہےکو اب تک مرتب کی گئی موسمیاتی تبدیلی کا سب سے زیادہ جامع، بہترین دستیاب سائنسی جائزہ سمجھا جاتا ہے۔

    اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا یے کہ دنیا تیزی سے تباہ کن گرمی کی جانب بڑھ رہی ہےاور بروقت اقدامات نہ کیے گئےتو ہم بین الاقوامی ماحول کے اہداف سےبہت دور ہو جائیں گےدنیا کےسینکڑوں سائنسدان اس رپورٹ کی تیاری میں 8 برس سے مصروف تھے تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ موسمیاتی بحران کس طرح سامنے آ رہا ہے۔

    سائنسدانوں نے بین الاقوامی ماحولیاتی نتائج پر کہا ہے کہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے موسمیاتی بحران کس طرح سے سامنے آ رہا ہے۔ دنیا بھر کے موسم میں شدت آ رہی ہے،گرمی کی شدت سے ہزاروں اموات ہو چکی ہیں جبکہ قحط اور سیلاب سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں زمین کو گرم کرنے والی آلودگی کے اثرات بہت زیادہ شدید ہیں اور ہم تیزی سے خطرناک نتائج کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

    مسلسل بڑھتا درجہ حرارت،برطانیہ اور آئرلینڈ کے 53 فیصد مقامی پودے تنزلی کا شکار

    رپورٹ میں کہا گیا کہ زمین کو گرم کرنے والی آلودگی کے اثرات پہلے ہی توقع سے زیادہ شدید ہیں اور ہم تیزی سے خطرناک نتائج کی طرف بڑھ رہے ہیں،فضا میں کاربن کی آلودگی 20 لاکھ سالوں سے اپنی بلند ترین سطح پر ہے اور گزشتہ نصف صدی کے دوران درجہ حرارت میں اضافے کی شرح 2 ہزار سالوں میں سب سے زیادہ ہےموسمیاتی تبدیلی کے زیادہ اثرات غریب اور کمزور ممالک پر زیادہ پڑ رہے ہیں۔

    اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوئتریس نے پیر کو موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے رپورٹ پر بین الحکومتی پینل کے آغاز کے موقع پر کہا کہ انسانیت پتلی برف پر ہے اور وہ برف تیزی سے پگھل رہی ہے ماحولیاتی بہتری کے لیے ہر ملک کو ہر شعبے میں کوشش کرنا ہو گی۔

    کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک کی فہرست جاری

    فرینڈز آف دی ارتھ انٹرنیشنل میں پروگرام کوآرڈینیٹر سارہ کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ موسمیاتی تبدیلیوں سے پیش آنے والے خطرات کا اندازہ لگانے کے حوالےسے اب تک کی سب سے زیادہ خوفناک اور پریشان کن رپورٹ ہے۔

  • جامعہ فلوریڈا کے ایک پروفیسر100 دن  زیر آب رہیں گے

    جامعہ فلوریڈا کے ایک پروفیسر100 دن زیر آب رہیں گے

    فلوریڈا: جامعہ جنوبی فلوریڈا کے ایک پروفیسر نے سائنسی تحقیق کے لیے 100 دن زیرآب رہنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: جنوبی فلوریڈا یونیورسٹی کے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر 100 دن پانی کے اندر رہ کر عالمی ریکارڈ توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جوزف ڈٹوری اس بات کا مطالعہ کر رہے ہیں کہ انسانی جسم پر انتہائی دباؤ کے طویل مدتی اثرات کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں-

    ایکواڈوراورپیرو میں زلزلہ،15 افراد ہلاک اور 125 سے زائد زخمی،بلوچستان میں بھی زلزلے کے جھٹکے

    اس سے قبل وہ زیرِ آب بلبلے نما مرکزمیں وہ 16 روز 22 میٹرگہرائی میں گزارکر تحقیق کرچکے ہیں۔ تاہم گنیزبک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق 2014 میں بروس سینٹرل اور جیسیکا فائن جولس انڈر سی لاج میں 73 دن تک رہ کر عالمی ریکارڈ بناچکے ہیں اب پروفیسر جوزف طویل تحقیق کے ساتھ یہ ریکارڈ بھی توڑنا چاہتے ہیں۔

    اس دوران وہ پورے مشن میں تنہا رہیں گے جبکہ اس کے طالبعلم ان کے لیے ضروری سامان پہنچاتے رہیں گے۔ 2012 میں وہ امریکی نیوی سے ریٹائرہونے کے بعد اب مزید تحقیق کرنا چاہتے ہیں۔ وہ فلوریڈا کے پاس کی لارگو لگون کے پاس 22 فٹ گہرائی میں بنے بلبلہ نما گھر میں رہیں گے اور آبی حیات پر تحقیق کریں گے۔

    ایک طبی ٹیم معمول کے مطابق ان کے رہائش گاہ میں غوطہ لگا کر 55 سالہ شخص کی صحت کو نوٹ کرے گی ایک ماہر نفسیات ایک طویل مدت تک الگ تھلگ،محدود ماحول میں رہنے کےذہنی اثرات کو بھی نوٹ کریں گےپروجیکٹ سے پہلے، اس کے دوران اور بعد میں،ڈیٹوری نفسیاتی، کےاور طبی ٹیسٹ کئے جائینگے جس میں بلڈ پینلز، الٹراساؤنڈز اور الیکٹروکارڈیوگرامس کے ساتھ ساتھ اسٹیم سیل ٹیسٹ بھی شامل ہیں۔

    سائنسدانوں نے کورونا وائرس کو پھیلانے والے ممکنہ جانور کی شناخت کرلی

    اس منصوبے کو ’پروجیکٹ نیپچون‘ کا نام دیا گیا ہے۔ جو ڈیٹوری چاہتے ہیں کہ ایک جانب وہ سمندر کی گہرائی میں رہ کر نئی دریافتیں کریں تو دوسری جانب وہ اتنے طویل عرصے تک پانی نے اندر رہ کر خود اپنے جسم پر اس کے اثرات دیکھنا چاہتے ہیں۔

    ڈیٹوری نے کہا کہ انسانی جسم کبھی بھی اتنے لمبے عرصے تک پانی کے اندر نہیں رہا، اس لیے میری نگرانی کی جائے گی۔” "یہ مطالعہ اس سفر کے میرے جسم پر اثر انداز ہونے والے تمام طریقوں کا جائزہ لے گا، لیکن میرا مفروضہ یہ ہے کہ بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے میری صحت میں بہتری آئے گی۔

    ڈیٹوری ایک تحقیق میں پائے جانے والے نتائج کو آگے بڑھا رہے ہیں، جہاں بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کرنے والے خلیات پانچ دنوں کے اندر دوگنا ہو جاتے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ بڑھتا ہوا دباؤ انسانوں کو اپنی لمبی عمر بڑھانے اور بڑھاپے سے وابستہ بیماریوں کو روکنے میں مدد دیتا ہے-

    دنیا کے خوش ترین ممالک کی فہرست جاری،پاکستان کا کونسا نمبر؟

  • سائنسدانوں نے کورونا وائرس کو پھیلانے والے ممکنہ جانور کی شناخت کرلی

    سائنسدانوں نے کورونا وائرس کو پھیلانے والے ممکنہ جانور کی شناخت کرلی

    کورونا وائرس کے حوالے سے سائنسدان ابھی تک جاننے کی تگ و دو میں ہیں کہ آخر یہ بیماری کس طرح کیسے اور کہاں سے پھیلی،اب تک اس حوالے سے سائدسدانوں نے دو خیالات کا اظہار کیا تھا ایک تو یہ تھا کہ کسی لیبارٹری سے وائرس لیک ہوا اور دوسرا یہ کہ کسی جنگلی جانور سے یہ انسانوں میں منتقل ہوا۔

    باغی ٹی وی : سائنسدانوں کا شروع سے ماننا ہےکہ یہ وائرس چین کے شہر ووہان کی وائلڈ لائف مارکیٹ سےکسی جانورکےذریعے انسانوں میں منتقل ہوکر پھیلنا شروع ہوا مگر اب تک اس کا ثبوت نہیں مل سکا تھا۔

    مگر اب سائنسدانوں کی بین الاقوامی ٹیم نے اب اس وائرس کو پھیلانے والے ممکنہ جانور کی شناخت کرلی ہے ان سائنسدانوں نے ووہان کی اس مارکیٹ میں موجود جانوروں کےجینیاتی نمونوں کےڈیٹاکا تجزیہ کیا اور ان کےخیال میں جو جانوراس عالمی وبا کوپھیلانےوالے وائرس کا باعث بنا وہ ریکون ڈوگ نامی ایک ممالیہ جاندار ہے۔

    سائنس دانوں نے ووہان، چین کی مارکیٹ سے نئے جینیاتی شواہد دریافت کیے ہیں، جہاں 2019 کے آخر میں کوویڈ کےکیسز پہلی بار کلسٹر ہوئے تھے۔ ان نتائج سے SARS-CoV-2 کے جانوروں کی اصل میں مدد ملتی ہے، یہ وائرس جو کوویڈ کا سبب بنتا ہے۔ انہیں اس ہفتے کے شروع میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی طرف سے بلائے گئے ایک مشاورتی گروپ کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔

    وائرل آر این اے پر مشتمل نمونے، جو 2020 کے اوائل میں ہوانان سمندری غذا کی ہول سیل مارکیٹ میں جمع کیے گئے تھے، ان میں ایک قسم کا جانور کتوں کا جینیاتی مواد بھی شامل تھا، جو بظاہر بازار میں فروخت ہونے والی لومڑی کی طرح کی کینیڈ کے ساتھ ساتھ دوسرے جانوروں پر مشتمل تھا۔ جینیاتی مواد مارکیٹ کے انہی علاقوں سے آیا جہاں SARS-CoV-2 پایا گیا تھا-

    اس مارکیٹ کو وائرس کے پھیلاؤ کے بعد یکم جنوری 2020 کو بند کر دیا گیا تھا اور وہاں موجود جانوروں کے جینیاتی نمونے اس بندش کے 2 ماہ بعد اکٹھے کیے گئے تھے اس ڈیٹا کو گزشتہ سال چینی سائنسدانوں نے عالمی ڈیٹابیس کے لیے جاری کیا تھا۔

    تحقیقی ٹیم نے اس ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد ریکون ڈوگ کے نمونوں میں کوویڈ 19 کی تصدیق کیدیگر ممالیہ جاندار جیسے civets کے نمونوں میں بھی کورونا وائرس کو دریافت کیا گیا اس دریافت سے یہ ٹھوس طور پر ثابت نہیں ہوتا کہ ریکون ڈوگ کی وجہ سے کووڈ کی وبا متحرک ہوئی مگر محققین کا ماننا ہے کہ زیادہ امکان اسی بات کا ہے۔

    سائنسدانوں نے اپنی تحقیقی کام کو عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ماہرین کے سامنے پیش کیا ہے اس تحقیقی ٹیم میں شامل سائنسدانوں نے بتایا کہ اس ڈیٹا سے ووہان کی مارکیٹ سے وائرس کے آغاز کے خیال کو تقویت ملتی ہےانہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ چینی سائنسدانوں نے اس جینیاتی ڈیٹا کو پہلے جاری کیوں نہیں کیا۔

    سائنسدانوں کے مطابق وہ اس دریافت پر ایک رپورٹ مرتب کر رہے ہیں جس کو جلد عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا ان کا کہنا تھا کہ ریکون ڈوگ میں وائرس کی موجودگی سے اس امکان کو تقویت ملتی ہے کہ کورونا وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا۔

    عالمی ادارہ صحت نے اس دریافت پر کہا ہے کہ اس سے وبا کے آغاز کے حوالے ٹھوس جواب تو نہیں ملتا مگر یہ ڈیٹا بہت اہم ہے، کیونکہ اس سے ہم جواب کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

    فرانسیسی نیشنل سینٹر فار سائنٹیفک ریسرچ کی ایک ارتقائی ماہر حیاتیات فلورنس ڈیبارے نے وائرس کے جینیاتی سلسلے دریافت کیے جنہیں چین میں محققین نے جن کی سربراہی چائنیز سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے سابق سربراہ جارج گاؤ کر رہے تھےنے ایک عوامی جینومک ڈیٹا بیس پر اپ لوڈ کیا تھا۔

  • جنگلات کےساتھ مشروم کی افزائش موسمیاتی  تبدیلی کے نقصانات کم کر سکتی ہے،تحقیق

    جنگلات کےساتھ مشروم کی افزائش موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات کم کر سکتی ہے،تحقیق

    ایک نئی تحقیق میں ماہرین نے معلوم کیا ہے کہ درختوں کے ساتھ خوردنی مشروم کی افزائش جہاں لاکھوں افراد کی غذا بن سکتی ہے تو دوسری جانب اس سے آب وہوا میں تبدیلی کے نقصانات کم کئے جاسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: یونیورسٹی آف اسٹرلنگ کی فیکلٹی آف نیچرل سائنسز میں بطور اعزازی پروفیسر کام کرنے والے پال تھامس گزشتہ دو سالوں سے مائیکوفاریسٹری کے ابھرتے میدان میں ہونے والے مطالعات کا ڈیٹا دیکھ رہے ہیں۔

    چوہے بھی کورونا وائرس کے ایلفا، ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹس سے متاثر ہو سکتے ہیں،تحقیق

    ان کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جنگلات میں کھانے کے قابل ’ایکومائیکورِزل فنجائی‘ (ای ایم ایف) کی کاشت سے ممکنہ طور پر سالانہ 12.8 ٹن فی ہیکٹر کاربن ختم کی جاسکتی ہےجبکہ اس فنجائی کو درختوں سے قریب اگانے کی صورت میں سالانہ 1 کروڑ 90 لاکھ افراد کے لیے غذا کا بند و بست بھی کیا جاسکتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ درختوں کے ساتھ اگنے والی فنجائی کو لگنے والے نئے درختوں سے حاصل ہونے والی غذائی فصل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہےجبکہ اس نظام کو استعمال کرتے ہوئے فنجائی کی پیداوار گرین ہاؤس گیس کو جذب کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے مشروم سے حاصل ہونے والا یہ ایک بہت بڑا فائدہ ہے غذا کی پیداوار ہمیں موسمیاتی تغیر کو ختم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

    مسلسل بڑھتا درجہ حرارت،برطانیہ اور آئرلینڈ کے 53 فیصد مقامی پودے تنزلی کا شکار

    فی الوقت اس حوالے سے عالمی سطح پر زمین کے استعمال سے متعلق ایک تنازعاتی بحث جاری ہے کہ آیا جنگلات لگائے جائیں یا بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے کھیتی باڑی کی جائے ڈیٹا کے مطابق 2010 سے 2020 تک ہر سال 47 لاکھ ہیکٹر کے وسیع رقبے تک جنگلات کاٹے گئے ہیں۔زرعی زمین کی بڑھتی ہوئی مانگ کو جنگلات کے ختم ہونے کا سب سے بڑا سبب قرار دیا جارہا ہے۔

    پروفیسر تھامس کے مطابق درختوں کے ساتھ مشروم کا اگایا جانا نہ صرف جنگلات کے کٹاؤ کی ضرورت کو کم کرے گا بلکہ درختوں کی افزائش کی بھی حوصلہ افزائی کرے گا۔

    مشروم کی ساخت مسام دار اور گوشت کی طرح ہوتی ہے۔ مشروم ایک قدرتی فنگس ہے جو کہ ہمارے کھانوں میں الگ پہچان رکھتا ہے مشروم کی زیادہ تر اقسام میں بہت کم کیلوریز ہوتی ہیں۔ ان میں وافر مقدار میں وٹامن ڈی اور بہت سارے اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔

    مشروم کے روٹین میں استعمال سے وزن کم اور قوت مدافعت میں مدد ملتی ہے۔ یہ گلوکوز لیول کا برقرار رکھنے میں بھی مدد کرتا ہے۔

    اسمارٹ فون بند کر کے سونا حاملہ خواتین میں ذیابیطس کے خطرات کو کم کر …

  • ماؤنٹ ایورسٹ پر صدیوں سے کوہ پیماؤں کی کھانسی اور چھینک کے جراثیم محفوظ، تحقیق

    ماؤنٹ ایورسٹ پر صدیوں سے کوہ پیماؤں کی کھانسی اور چھینک کے جراثیم محفوظ، تحقیق

    امریکی یونیورسٹی کی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پہاڑوں پر جمی برف میں انسان کے کھانسنے اور چھینکنے کے جراثیم صدیوں تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی:"ڈیلی میل” کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی یونیورسٹی آف کولاراڈو کے محققین نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سے حاصل کردہ مٹی کے نمونوں کا تجزیہ کیا جس میں انسانوں سے وابستہ جراثیم پائے گئے۔

    پانی کی عام بوتلوں میں کسی ٹوائلٹ سے بھی 40 ہزار گنا زیادہ جراثیم موجود …

    ماضی میں محققین نے زمین پر سرد ترین علاقوں میں مٹی کا مطالعہ کیا لیکن اس میں انسانوں سےوابستہ جراثیم کی تعداد نہ ہونے کے برابر پائی گئی اب آرکٹک، انٹارکٹک، اور الپائن ریسرچ میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق میں امریکی ٹیم نے جدید ترین جین ترتیب دینے والی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے مٹی کا تجزیہ کیانیہ مٹی کے نمونے 2019 میں ایورسٹ مہم کےدوران ماؤنٹ ایورسٹ کےساؤتھ کول سے جمع کیے گئے تھے۔

    ساؤتھ کول ماؤنٹ ایورسٹ اور لوٹسے چوٹی کے درمیان ایک چٹانی فاصلہ ہے،جو کوہ پیماؤں کے لیے دنیا کے بلند ترین پہاڑ پر اپنا سفر شروع کرنے سے پہلے آخری اسٹاپ ہے۔

    چوہے بھی کورونا وائرس کے ایلفا، ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹس سے متاثر ہو سکتے ہیں،تحقیق

    تحقیق کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ کی مٹی کے نمونوں میں ملنے والے یہ جراثیم (Staphylococcus جو کہ فوڈ پوائزننگ اور نمونیا سے منسلک ہے) اور (Streptococcus جو گلے کی سوزش کا سبب بنتا ہے) کے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔

    محقیقن کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ کی مٹی میں جو جراثیم پائےگئے ان میں سے زیادہ تر کو غیر فعال سمجھا جاتا تھا لیکن یہ برفانی حصے میں انسانی سرگرمیوں کے قریب کافی وقت سے محفوظ رہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے حاصل کردہ نتائج سے یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ دنیا سے باہر دوسرے منجمد سیاروں پر زندگی کے آثار موجود ہو سکتے ہے۔

    تحقیق میں معلوم ہوا کہ اس مٹی سے جو انسانی جراثیم پائے گئے وہ کوہ پیماؤں کے چھینکنے اور کھانسنے کی صورت میں وہاں محفوظ رہے۔

    کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک کی فہرست جاری

  • اسمارٹ فون بند کر کے سونا حاملہ خواتین میں ذیابیطس کے خطرات کو کم کر سکتا ہے

    اسمارٹ فون بند کر کے سونا حاملہ خواتین میں ذیابیطس کے خطرات کو کم کر سکتا ہے

    امریکی ماہرین کے مطابق سوتے وقت اسمارٹ فون کا بند کیا جانا اور روشنی کا کم کیا جانا حاملہ خواتین میں جیسٹیشنل ذیابیطس کے خطرات کو کم کر سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی ماہرین کے مطابق سوتے وقت اسمارٹ فون بند کرنے اور روشنی کو مدھم کرنے سے حاملہ خواتین میں حمل ذیابیطس کے خطرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔

    سماجی طور پر الگ تھلگ رہنے والوں میں ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ بڑھ جاتا …

    رائل کالج آف اوبسٹیٹریشینزاینڈ گائناکالوجسٹ کے مطابق، حمل کے دوران 100 میں سے کم از کم چار سے پانچ خواتین کو حمل کی ذیابیطس متاثر ہوتی ہے۔ اگر اسے اچھی طرح سے کنٹرول نہیں کیا جاتا ہے تو یہ پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے، بشمول بچے کے لیے صحت کے مسائل-

    اب امریکن جرنل آف اوبسٹیٹرکس اینڈ گائناکولوجی میٹرنل فیٹل میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن حاملہ خواتین کو سونے سے تین گھنٹے پہلے زیادہ روشنی کی روشنی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان کے حمل کے دوران ذیابیطس ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

    جیسٹیشنل ذیا بیطس ایک قسم کی ذیا بیطس ہےجو حمل کے دوران ہوتی ہے اور تقریباً پانچ فی صد حاملہ خواتین اس سے متاثر ہوتی ہیں اکثر حمل معمول کے مطابق ہوتے ہیں اور بچے کی پیدائش کے بعد معاملات معمول کے مطابق ہو جاتے ہیں لیکن اس صورت میں مبتلا ہونے کا تعلق قبل از وقت پیدائش اور غیر معمولی جسامت کےبچوں کی پیدائش سےاورخواتین کے ٹائپ 2 ذیا بیطس میں مبتلا ہونےکےانتہائی خطرات سے ہوتا ہے۔

    گلیشیئرز پگھلنے سے پاکستان اور بھارت کوشدید خطرہ

    ایک تحقیق کے مطابق وہ خواتین جن پر سونے سے تین گھنٹے پہلے تک زیادہ روشنی افشا ہوتی ہے ان میں جیسٹیشنل ذیا بیطس کے خطرات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

    تحقیق میں محققین نے 741 ایسی خواتین کا مطالعہ کیا جو حمل کے دوسرے سہ ماہی میں تھیں۔ ان کی کلائی پر ایک آلا لگایا گیا جس نے لگاتار سات دنوں تک ان پر افشا ہونے والی روشنی کی پیمائش کی۔

    تحقیق میں دیکھا گیا کہ خواتین سونے سے تین گھنٹے قبل معمولی، تیز روشنی (10 lux)میں کتنا وقت گزارتی ہیں۔ آلے نے دھیمی روشنی میں گزارے جانے والے وقت کی بھی پیمائش کی۔lux روشنی کی شدت کی پیمائش کرنے والی ایک اکائی ہوتی ہے۔

    محققین نے ان خواتین کو تین گروہوں میں تقسیم کیا۔ وہ خواتین جن پر سب سے زیادہ معمول کی روشنی افشا ہوئی تھی(اوسطاً ایک گھنٹا اور 19 منٹ) ان کے جیسٹیشنل ذیا بیطس میں مبتلا ہونے کے ساڑھے پانچ گُنا زیادہ امکانات تھے۔