Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • وادی سوات میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت

    وادی سوات میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت

    سوات: پاکستانی اور اطالوی ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی ایک ٹیم نے وادی سوات کے شہر بریکوٹ میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت کرلی ہے –

    باغی ٹی وی : پریس ریلیز کے مطابق اگرچہ اس علاقے کے دوسرے آثارِ قدیمہ 150 اور 100 سال قبلِ مسیح کے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ بدھ مت کی یہ عبادت گاہ ان سے بھی زیادہ قدیم ہےان کا خیال ہے کہ یہ تیسری صدی قبلِ مسیح میں چندرگپت موریا کے زمانے میں تعمیر کی گئی تھی۔ تاہم اس خیال کی حتمی تصدیق ریڈیو کاربن تاریخ نگاری کے بعد ممکن ہوگی جس میں کچھ وقت لگے گا۔

    دنیا میں درختوں کی 9000 سے زائد انواع آج تک نامعلوم ہیں، ماہرین

    بریکوٹ (Barikot) اس زمانے میں علاقہ گندھارا تہذیب کے اہم شہروں میں بھی شامل تھا جسے قدیم یونانی اور اطالوی مؤرخین نے ’’بزیرا‘‘ اور ’’واراستھانا‘‘ بھی لکھا ہے اپنے منفرد ماحول کی بنا پر یہاں سال میں دومرتبہ گندم اور چاول کی فصلیں اگائی جاتی تھیں یہ فصلیں اتنی زیادہ ہوتی تھیں کہ ان کی اضافی پیداوار دوسرے علاقوں میں بھی فروخت کی جاتی تھی۔

    قدیم بدھ مت کے اہم مراکز میں شامل ہونے کے باوجود، اب تک یہ پوری طرح واضح نہیں کہ بریکوٹ میں بدھ مت کی آمد کیسے ہوئی اور وہ کس طرح یہاں مقبول سے مقبول تر ہوتا چلا گیا ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ بدھ مت کے قدیم ترین مقبرے سے اس بارے میں جاننے میں بھی بہت مدد ملے گی۔

    گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

    مؤرخین لکھتے ہیں کہ سکندرِ اعظم جب چوتھی صدی قبلِ مسیح میں ہندوستان پر حملہ کرنے کےلیے یہاں سے گزرا تو زرخیز مقام دیکھ کر اس نے پہلے بریکوٹ پر قبضہ کیا اور اپنی فوج کےلیے وافر مقدار میں گندم اور دیگر اناج جمع کرنے کے بعد آگے بڑھا۔

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت


    واضح رہے کہ پاکستانی اور اطالوی ماہرین کے وسیع البنیاد اشتراک سے پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں گندھارا تہذیب کے آثارِ قدیمہ پر 1955 سے کام جاری ہے جسے متعدد ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی ثقافتی اداروں کی سرپرستی بھی حاصل ہےیہ ایشیا میں آثارِ قدیمہ کا سب سے پرانا عالمی مشن بھی ہے جسے 67 سال ہونے والے ہیں۔ اس کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر لیوکا ماریا ہیں جن کا تعلق کفوسکاری یونیورسٹی، وینس سے ہے بریکوٹ میں آثارِ قدیمہ کی تلاش کا یہ سلسلہ اس سال بھی جاری رہے گا کیونکہ ماہرین کو یہاں سے مزید دریافتوں کی پوری امید ہے۔

    مصر سے ابوالہول جیسے 3,400 سال پرانےدو مجسمے دریافت

    خیال رہے کہ قبل ازیں گزشتہ برس پاکستان میں بدھ مت کے دور کی پینٹنگز دریافت ہوئی تھیں جو ماہرین کے مطابق دو ہزار سال قدیم ہیں یہ پینٹنگز فریسکو آرٹ میں بنائی گئی ہیںریسکو آرٹ کا آغاز کیسے ہوا، اس بارے میں کوئی واضح تحقیق موجود نہیں ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ فریسکو اطالوی زبان کا لفظ ہے اور فریسکو پینٹنگز کا آغاز اٹلی میں تیرھویں صدی عیسوی میں ہوا یعنی آج سے تقریباً سات سو سال قبل ہوا تھا اس بارے میں مزید یہ بھی کہا جاتا ہے کہ فریسکو آرٹ 3300 قبل عیسوی یعنی زمانہ قدیم میں پایا جاتا ہے لیکن اس کی کوئی پینٹنگز کا ذکر سامنے نہیں آیا۔

    سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

    پاکستان میں بدھ مت کی مذکورہ دریافت میں ایسے نایاب فن پارے ملے تھے جو تقریباً دو ہزار سال قدیم ہیں۔ اس دریافت کے بعد یہ واضح ہو جاتا ہے کہ فریسکو آرٹ کا آغاز اس خطے میں بدھ مت کے دور میں ہو چکا تھا جبکہ مصر میں زمانہ قدیم میں اس فن کے آثار پائے جاتے تھے پاکستان میں خیبر پختونخوا کے علاقے سوات کے قریب عباس چینہ میں بدھ مت دور کا ایک بڑا کمپلیکس دریافت ہوائے یعنی یہ تخت بھائی کی طرح ایک بڑا علاقہ ہے جہاں پر متعدد ایسے آثار ملے ہیں جو دو ہزار سال قدیم ہیں۔

    ترکی :11 ہزار سال پرانے تھری ڈی مجسمے دریافت

  • ابو ظبی: شہریوں کے لیے بغیر ڈرائیور ٹیکسی سروس کا آغاز

    ابو ظبی: شہریوں کے لیے بغیر ڈرائیور ٹیکسی سروس کا آغاز

    ابوظبی میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس شہریوں کے لیے بغیر ڈرائیور ٹیکسی سروس کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :خلیج ٹائمزکے مطابق خودکار ٹیکسی کار سروس تفریحی مقام یاس آئی لینڈ میں متعارف کرائی گئی ہے، جہاں فارمولا ون ریس کا ٹریک اور فیراری ورلڈ تھیم پارک بھی موجود ہیں۔

    مذکورہ سروس بیانت، جی 42 گروپ کا حصہ ہے، نے کہا کہ ڈرائیور کے بغیر سواری شیئرنگ سروس کے ٹرائل اس ماہ ابوظہبی میں شروع ہوں گے، جس کا مقصد بالآخر متحدہ عرب امارات میں ٹیکنالوجی کو متعارف کرانا ہے محکمہ بلدیات اور ٹرانسپورٹ نے خود مختار گاڑیوں کے آزمائشی استعمال کی قیادت کرنے کے لیے بیانت کے ساتھ شراکت داری کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

    بحری جہاز کو دھکیلنے والی دنیا کی پہلی پیرافوائل پتنگ کا کامیاب تجربہ

    اس حوالے سےانتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ سروس 24 گھنٹے مہیا ہو گی، جسے گوگل پلے اور آئی او ایس ایپ سٹو پر موجود ایک خصوصی ایپ کے ذریعے بک کرایا جا سکے گا۔

    سروسز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حسن الحوسنی نے بتایا کہ یاس آئی لینڈ میں خود کار ٹیکسی سروس کا پہلا مرحلہ شروع کیا گیا جس کے شروع میں مسافر مفت ایپ کا استعمال کر سکیں گے۔

    دنیا کی پہلی الیکڑک کار کب بنائی گئی؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    انھوں نے بتایا کہ ایپ سے باآسانی ٹیکسی بک کرائی جا سکے گی، لیکن ابھی یہ صرف نو مقامات کے لیے چلائی گئی ہے۔ دوسرے مرحلے میں مزید 10 گاڑیاں مختلف علاقوں میں چلائی جائیں گی۔

    حسن الحوسنی نے کہا، "ہائی ٹیک پروجیکٹ کے پہلے مرحلے میں تین الیکٹرک اور دو ہائبرڈ سیلف ڈرائیونگ گاڑیاں ہوں گی جس سے کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں مدد ملے گی یہ گاڑیاں یاس مال میں ہوٹلوں، ریستورانوں، شاپنگ مالز اور دفاتر سے مفت ٹرانسپورٹ خدمات فراہم کرتی ہیں۔”

    ایلون مسک کی کمپنی کا پاکستان میں سیٹلائٹ براڈ بینڈ انٹرنیٹ شروع کرنے کا فیصلہ

    انھوں نے بتایا کہ "ہم جامع حفاظتی ٹیسٹ کروا رہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ گاڑیاں ٹریفک کے ضوابط کے مطابق چلتی ہیں۔ ہم تمام سڑکوں پر گاڑیاں چلانے سے پہلے ہر قدم پر مکمل حفاظت اور ضوابط کے خواہاں ہیں ہم اپنے مستقبل کا تعین کرنے کے لیے ہمیشہ سرگرم رہتے ہیں۔”

    حکام کےمطابق ابوظہبی میں انٹیگریٹڈ ٹرانسپورٹ سینٹر (آئی ٹی سی) ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کے اندر خود سے چلنے والی گاڑیوں کے استعمال کے لیے ضروری انفراسٹرکچر قائم کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔

    "خودکش مشین” کو استعمال کرنے کی قانونی منظوری مل گئی

  • جیک ڈورسے کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان،ٹوئٹر کا نیا سی ای او کون ہوگا؟

    جیک ڈورسے کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان،ٹوئٹر کا نیا سی ای او کون ہوگا؟

    سماجی رابطے کی معروف ترین ویب سائٹ ٹوئٹر کے شریک بانی جیک ڈورسے نے کمپنی کے سی ای او کی حیثیت سے الگ ہونے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : حلا ہی میں سی این بی سی نے سب سے پہلے ایک رپورٹ میں جیک ڈورسے کے عہدہ چھوڑنے سے متعلق انکشاف کیا گیا تھا تاہم ، جس کی بعد ازاں کمپنی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سی ٹی وی پراگ اگروال سی ای او کا عہدہ سنبھالیں گے جبکہ جیک ڈورسے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں موجود رہیں گے اوربریٹ ٹیلر بورڈ کے نئے چیئرمین کا عہدہ سنبھالیں گے۔

    "سافٹ بلاک” ٹوئٹر کا صارفین کے لئے نیا پرائیویسی فیچر

    جیک ڈورسے کو اس سے قبل بھی 2008 میں ٹوئٹر سی ای او کا عہدہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا مگر وہ 2015 میں دوبارہ سی ای او بنے جیک ڈورسے اسکوائر نامی کمپنی کے سی ای او کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔


    ایک بیان میں انہوں نے بتایا میں نے ٹوئٹر کو چھوڑنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ میرا ماننا ہے کہ کمپنی اب اپنے بانیوں کے بغیر آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے، پراگ پر ٹوئٹر کے سی ای او کے طور پر میرا اعتماد بہت زیادہ ہے، گزشتہ 10 برسوں کے دوران ان کا کام کمپنی کو بدل دینے والا تھا’۔

    ڈورسے نے پیر کو عملے کو ای میل میں مزید کہا کہ "وہ کمپنی اور اس کی ضروریات کو کتنی گہرائی سے سمجھتے ہیں اس کے پیش نظر وہ کچھ عرصے سے میری پسند رہا ہے۔ پیراگ ہر اس اہم فیصلے کے پیچھے رہا ہے جس نے اس کمپنی کو تبدیل کرنے میں مدد کی،”

    واٹس ایپ،فیسبک، انسٹاگرام ڈاؤن: ٹوئٹر خوش، معروف کمپنیوں کے دلچسپ ٹوئٹس

    انہوں نے کہا کہ وہ بورڈ آف ڈائریکٹر کے طور پر ٹیم کے لیے کام جاری رکھیں گے۔


    پراگ اگروال نے 2011 میں ایڈ انجنیئر کے طور پر کمپنی میں شمولیت اختیار کی تھی اور 2018 میں سی ٹی او بن گئے تھے پراگ اگروال نے بھی ایک ٹوئٹ میں اپنے ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا-

    درحقیقت یہ دوسرا موقع ہے جب ڈورسے ٹوئٹر کے سی ای او کے عہدے سے دستبردار ہو رہے ہیں۔

    ڈورسے نے 2006 میں بز اسٹون اور ایون ولیمز کے ساتھ مل کر ٹوئٹر کی بنیاد رکھی، اور وہ سوشل میڈیا کمپنی کے پہلے سی ای او تھے۔ وہ 2008 میں کمپنی کے بورڈ میں چیئرمین کے عہدے پر منتقل ہوگئے، اور اس وقت کے سی ای او ڈک کوسٹولو کی رخصتی کے بعد 2015 میں سی ای او کے عہدے پر واپس آئے۔

    ان کی قیادت میں ٹویٹر نے بہت سے تفریحی اداروں کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کیے، بشمول خصوصی پروگرامنگ اور لائیو کوریج کے ساتھ ساتھ اولمپکس اور فیفا ورلڈ کپ جیسے ایونٹس کے ارد گرد اشتہارات کی فروخت کی شراکت داری۔ لیکن وہ ایک متنازعہ رہنما بھی تھے-

    ٹوئٹر کی اپنے صارفین کے لئے نئے پرائیوسی فیچر کی آزمائش

  • متحدہ عرب امارات  کا بارش کے لیے ڈرونز کا استعمال

    متحدہ عرب امارات کا بارش کے لیے ڈرونز کا استعمال

    متحدہ عرب امارات خاص طور پر ارواں برس شدید گرمی سے سخت متاثر ہوا ہے ، اس جون میں 51.8 ° C ریکارڈ کیا گیا ۔ اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ دبئی میں سالانہ 4 انچ بارش ہوتی ہے ، جس سے گرمیاں ناقابل برداشت اور زراعت تقریبا ناممکن ہو جاتی ہیں (ملک اپنی خوراک کا 80 فیصد سے زیادہ درآمد کرتا ہے)۔

    باغی ٹی وی :متحدہ عرب امارات ایک صحرائی ملک ہے جہاں بارشیں کبھی کبھار ہی ہوتی ہیں، پر اب شاید یہ صورتحال تبدیل ہونے والی ہے اور ایسا اس لیے ہے کیونکہ یہ ملک اب ایسے ڈرون آزمانے جا رہا ہے جو اڑتے ہوئے بادلوں تک پہنچیں گے اور انھیں بجلی کے جھٹکے دے کر انھیں بارش برسانے پر ’مجبور کریں گے۔‘


    امارات پہلے ہی بارش برسانے کے لیے کلاؤڈ سیڈنگ ٹیکنالوجی استعمال کر رہا ہے جس کے تحت بادلوں پر نمک گرایا جاتا ہے تاکہ وہ بارش برسائیں مگر چونکہ امارات میں اب بھی سالانہ بارش صرف 100 ملی میٹر تک ہی ہوتی ہے، اس لیے یہاں مزید بارشوں کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

    دنیا کی کم عمر ماہر فلکیات

    سنہ 2017 میں حکومت نے بارش بڑھانے کے نو مختلف منصوبوں کے لیے ڈیڑھ کروڑ ڈالر فراہم کیے تھے اور ان میں سے ایک ٹیم کی سربراہی یونیورسٹی آف ریڈنگ کے سائنسدان کر رہے ہیں۔

    اس پراجیکٹ پر کام کرنے والے پروفیسر مارٹین ایمبام نے بی بی سی کو بتایا کہ اس پراجیکٹ کا مقصد بادلوں کے قطروں میں موجود برقی چارج کے توازن کو بدلنا ہے متحدہ عرب امارات میں زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے کم ہو رہی ہے اور اس کا مقصد بارشوں میں مدد دینا ہے۔‘

    ’لیکن ملک میں بادلوں کی کوئی کمی نہیں اس لیے مقصد یہ ہے کہ ان میں موجود قطرے آپس میں جڑیں جب قطرے آپس میں ملیں گے اور کافی بڑے ہو جائیں گے تو یہ بارش کی طرح برسے گے۔‘

    علیا المزروعی اس پروگرام کی ڈائریکٹر ہیں اُنھوں نے عرب نیوز کو بتایا تھا کہ ان ڈرونز پر برقی چارج چھوڑنے والے آلات اور مخصوص سینسرز ہوں گے اور یہ ڈرونز کم اونچائی پر اڑتے ہوئے ہوا کے مالیکیولز کو برقی چارج فراہم کریں گے جس سے بارش ہونی چاہیے۔

    آنے والی نسلیں شدید موسمی اثرات کا سامنا کریں گی ، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    اس کے بعد اس مطالعے کا تجزیہ کیا جائے گا تاکہ زیادہ فنڈنگ حاصل کر کے طیارے سے یہ کام لیا جائے تاکہ زیادہ بارش برسائی جا سکے۔

    دوسری جانب فوربز کی رپورٹ کے مطابق چونکہ لوگ کمروں میں ہائیڈریٹ رہنے کی پوری کوشش کرتے ہیں ، ملک کے قومی مرکز موسمیات کے ماہرین نے ایک نئی ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے جو لیزر بیم کے ذریعے بارش کو برسانے کے لئے ڈرون کا استعمال ہے-

    سائنس کو کلاؤڈ سیڈنگ کہا جاتا ہے ، اور یہ کئی دہائیوں سے مختلف شکلوں میں موجود ہے۔ موجودہ بادلوں میں کچھ مادے یا کیمیائی مادے ، جیسے سلور آئیوڈائڈ ، شامل کرنا بارش یا برف کا باعث بن سکتا ہے۔

    یہ دیکھتے ہوئے کہ موسم بدلنے والے ان مشنوں کے ضمنی پروڈکٹس لفظی طور پر لوگوں کے سروں ، فصلوں اور پینے کے پانی پر برس رہے ہوں گے ، کلاؤڈ سیڈنگ کے گرد حفاظتی خدشات بہت زیادہ ہیں۔ کچھ لوگوں کو خدشہ ہے کہ جمع شدہ ذرات تاخیر کا شکار ہوسکتے ہیں ، جو بالآخر انسانوں کے لیے سرطان پیدا کرنے والے یا مقامی ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت

    متحدہ عرب امارات نے برسوں میں 9 ملی میٹر ‘بارش بڑھانے کے منصوبوں’ پر 15 ملین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے ، جن میں سے پہلے 8 روایتی کلاؤڈ سیڈنگ طریقوں کو استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ملک اب پانی کی حفاظت کے لیے ان کی جستجو میں ایک مختلف انداز اختیار کر رہا ہے۔

    روایتی کلاؤڈ بیجنگ کی طرح ذرات کو منتشر کرنے کے بجائے ، اماراتی ویدر سنٹر ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے ہوا کو ‘زپ’ کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے یہ ڈرون مخصوص بادلوں کو نشانہ بنانے کے لیے بنائے گئے ہیں اور حراستی لیزرز کے ذریعے بجلی کے کو ہوا میں پانی کی بوندوں کو زبردستی جمع کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ، اس طرح مطلوبہ بارش شروع ہوتی ہے۔

    سوال یہ ہے کہ کیا باقی دنیا ان کی مثال پر عمل کرے گی؟ کلاؤڈ سیڈنگ کی روایتی شکل امریکہ میں پہلے ہی آٹھ مغربی ریاستوں کی طرف سے استعمال کی جاتی ہے ، خاص طور پر بالائی کولوراڈو ندی بیسن میں۔ ویدر موڈیفیکیشن انک جیسی کمپنیاں ہیں جو کہ بھاری بارش یا برف کو متحرک کرنے کے لیے سلور آئوڈائڈ کے استعمال میں مہارت کا دعویٰ کرتی ہیں۔ حال ہی میں – اور اب بھی ، کسی حد تک – ایسے منصوبوں کی افادیت کا تعین مشکل رہا ہے۔

    دو سے تین سالوں کے دوران نظام شمسی سے باہر زندگی کے آثار دریافت کر لیں گے…

    اگر ڈرون کا ایک بیڑا قابل عمل ، لاگت سے مؤثر طریقے سے خشک سالی سے نمٹ سکتا ہے ، تو ممکنہ طور پر دنیا کو بدلنے والے فوائد کو لکھنا غلطی ہوگی۔ اس نے کہا ، اس طرح کے فوائد طاقتور ٹیکنالوجی کے ساتھ ہوا کو پوری طرح احتیاط برتنے کی وجہ نہیں ہیں۔ بل گیٹس کے سورج کو مدھم کرنے کی سازشوں کے مقابلے میں عام لوگوں کے لیے بارش کے خطرات کم واضح ہیں ، لیکن کچھ ماہرین پریشان ہیں کہ یہ عمل نادانستہ طور پر سیلاب کا باعث بن سکتا ہے۔
    https://www.youtube.com/watch?v=9aEJFM4Opdg

  • فری لانسنگ کیا ہے؟  تحریر:اقصٰی یونس

    فری لانسنگ کیا ہے؟ تحریر:اقصٰی یونس


    ‎فری لانسنگ ایک ایسا لفظ ہے جس کو سنتے ہی ہر شخص شیخ چلی کی طرح خیالات کی دوڑ میں دوڑتا چلا جاتا ہے اور اسے دوڑ میں وہ ڈالروں کی بارش میں خود کو مکمل طور پر ڈوبا ہوا محسوس کرتا ہے ۔ اور سوچتا ہے کہ بس اب تو راوی چین ہی چین لکھے گا اور زندگی بڑی پرسکون گزر جائے۔اگر آپ ایسا سوچتے ہیں تو مبارک ہو، آپ کے خیالات بھی باقی نئے فری لانسز جیسے ہی ہیں

    تو اصل میں فری لانسر دو الفاظ کا مجموعہ ہے یعنی فری اور لانسر ۔ مگر ان کے اصطلاحی معنی قدرے مختلف ہیں
    ‎۔ free مطلب مفت نہیں، یہاں free
    ‎اور lancer انگریزی میں اس فوجی کو کہتے ہیں جو ایک لمبا نیزہ لیے جنگ کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔۔
    ‎اس لحاظ سے فری لانسنگ کا مطلب ہوا، آزاد فوجی۔
    جی بالکل ایک آزاد فوجی جو اپنے کام میں مکمل آزاد ہو ۔یعنی
    ‎آپ فری لانسر نہیں ہیں آپ ایک آزاد فوجی ہیں جس نے ایک جنگ پر جانا ہے۔
    مگر اپنی رضامندی اور پوری مرضی کے ساتھ ۔

    ‎ایک عام فوجی اپنے ہتھیار لیے ، اپنے افسر کے حکم کا تابع ہو تا ہے، یہاں افسر نے جنگ کا حکم آنے سے لے کر جنگ لڑنے تک اور اسکے بعد کے تمام احکامات میں آپ افسر بالا کے پابند ہیں ۔ اسکی مثال آفس کی نوکری سے لی جا سکتی ہے یعنی آپ کام کرتے ہوئے اپنے سے اعلی افسر کے پابند ہوتے ہیں
    ‎جس میں روزانہ آپ کو روزانہ حکم بجا لاتے ہوئے ہدایت کے مطابق کام کرنا ہوتا ہے اور مہینے کے اختتام پر آپ کو اپنی تنخواہ مل جاتی ہے

    اس طرح آزاد فوجی وہ ہوا جسے اپنی جنگ کیلئے نہ تو کسی کا حکم کا انتظار ہے اور نہ وہ کسی کے حکم کا پابند ۔ اسے اس جنگ کی تیاری بھی خود کرنی ہے اپنی کمر کو کس کر میدان میں بھی خودی اترنا ہے اور آخر میں جنگ لڑنی بھی خود ہی ہے۔ تو آپکا جو بھی کام ہے وہ جنگ ہی ہوا نہ ۔

    فائیور پہ اکائنٹ بنانے سے لے کر اپنا پہلا آدڑد مکمل کر لینے تک آپ کے کئے گئے سارے کام جنگ کے زمرے میں ہی آتے ہیں ۔ اتنے سارے فری لانسرز کی دوڑ میں آرڑد لینا بھی تو کسی جنگ سے کم نہیں مگر آپ اس جنگ میں کسی کے پابند نہیں آپ اپنا آرڈر دن کو مکمل کریں یا رات کے وقت ۔ آپ اسے اپنے بیڈ روم میں بیٹھ کر کریں یا ڈرائنگ روم میں آپ آزاد ہیں ۔

    اس جنگ میں آپ اپنے ہتھیار یعنی سکلز بھی اپنی مرضی سے چنتے ہیں ۔ آپ چاہے ڈیزائینر بننا چاہیں چاہیے ایک کنٹینٹ رائیٹر ۔ یہ تمام باتیں بھی مکمل طور پہ آپ کی مرضی پہ منحصر ہیں ۔

    بس اس جنگ میں آپ کو محنت لگن اور جذبے کی ضرورت ہے اپنے آپ کو اور اپنے ہتھیاروں کو زنگ لگنے سے بچانا ہے اور اس جنگ میں محنت لگن ایمانداری سے اپنی فتح کے جھنڈے گاڑنے ہیں ۔
    <Writer Aqsa Younas


     Aqsa Younas

    Aqsa Younas is a Freelance Journalist Content Writer, Blogger/Columnist and Social Media Activist. He is associated with various leading digital media sites in Pakistan and writes columns on political, international as well as social issues. To find out more about her work on her Twitter account

      

     


    https://twitter.com/AqsaRana890

  • چین دنیا کی سب سے بڑی ونڈ ٹربائن کے پروٹوٹائپ کی آزمائشیں اگلے سال شروع کر دے گا

    چین دنیا کی سب سے بڑی ونڈ ٹربائن کے پروٹوٹائپ کی آزمائشیں اگلے سال شروع کر دے گا

    بیجنگ: چینی کمپنی ’’مِنگ یانگ اسمارٹ انرجی‘‘ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے سال سے دنیا کی سب سے بڑی ونڈ ٹربائن کے پروٹوٹائپ کی آزمائشیں شروع کرے گی جسے 2024 ءتک تجارتی پیمانے پر فروخت کےلیے پیش کردیا جائے گا۔ یہ وِنڈ ٹربائن ساحل سے دور سمندر میں نصب کی جائے گی۔مائی ایس ای 16.0-242 (MySE 16.0-242) کہلانے والی یہ ونڈ ٹربائن 242 میٹر (794 فٹ) بلند ہوگی اور سالانہ 80 گیگاواٹ آور کی شرح سے بجلی بناسکے گی۔

    آسان الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ 25 سال تک اتنی بجلی پیدا کرسکے گی کہ جو 20 ہزار گھروں کی ضروریات پوری کرنے کےلیے کافی ہوگی۔ فی الحال دنیا کی سب سے بڑی وِنڈ ٹربائن کا اعزاز امریکا کی ’’ہیلی ایڈ ایکس‘‘ کے پاس ہے جسے ’’جنرل الیکٹرک‘‘ نے تیار کیا ہے۔ 853 فٹ اونچی یہ ونڈ ٹربائن 2023 تک مکمل ہوگی جس کی ہر پنکھڑی یعنی ’’بلیڈ‘‘ کی لمبائی 107 میٹر (351 فٹ) ہوگی۔

    اس کے مقابلے میں چینی کمپنی منگ یانگ کی ونڈ ٹربائن کی اونچائی ضرور کم رکھی جائے گی لیکن اس کا ہر بلیڈ 118 میٹر (387 فٹ) لمبا ہوگا، جو ہیلی ایڈ ایکس ونڈ ٹربائن بلیڈ سے 11 میٹر زیادہ لمبا ہوگا۔کمپنی پریس ریلیز کے مطابق، جب ونڈ ٹربائن کے تینوں بلیڈ گھومنا شروع کریں گے تو یہ مجموعی طور پر 46 ہزار مربع میٹر کا رقبہ گھیریں گے جو فٹبال کے چھ میدانوں سے بھی زیادہ بڑا ہوگا۔

    دلچسپی کی بات یہ ہے کہ منگ یانگ کمپنی کی پچھلی سب سے بڑی وِنڈ ٹربائن (MySE 11.0-203) کی نسبت یہ ونڈ ٹربائن اگرچہ صرف 19 فیصد بڑی ہوگی لیکن یہ متوقع طور پر اس کے مقابلے میں 45 فیصد زیادہ بجلی بنانے کے قابل ہوگی۔نئی ونڈ ٹربائن کو نہ صرف سمندر کے بیچوں بیچ کوئی مضبوط ستون گاڑ کر نصب کیا جاسکے گا، بلکہ ضرورت پڑنے پر یہ کسی تیرتے ہوئے وسیع پلیٹ فارم پر بھی لگائی جاسکے گی۔

    واضح رہے کہ چین اس وقت دنیا میں ہوا سے بجلی بنانے والا سب سے بڑا ملک ہے جس نے 2020ء میں کورونا وبا کے باوجود ہوا سے بجلی کی پیداوار (وِنڈ انرجی پروڈکشن) میں 71.6 گیگاواٹ کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 281 گیگاواٹ تک پہنچایا۔

  • ہوشیار : انسٹاگرام پرہیکرز کا گروہ سرگرم

    ہوشیار : انسٹاگرام پرہیکرز کا گروہ سرگرم

    انسٹاگرام دنیا کے مقبول ترین سوشل نیٹ ورکس میں سے ایک ہے۔ یہ حقیقت استعمال نہیں کرسکتی تھی لیکن ہیکنگ استعمال کنندہ کے اکاؤنٹوں کی تعداد کو متاثر کرتی ہے۔

    باغی ٹی وی : آج کل شوبز اور معروف شخصیات کو انسٹاگرام اکاؤنٹ ہیک ہونے جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے متعدد شوبز، کھیل اور سیاست سے وابستہ شخصیات کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہوچکے ہیں جن میں پاکستانی اور بھارتی اداکار شامل ہیں-

    تاہم اب سوشل میڈیا پر ایک اکاؤنٹ کا اسکرین شاٹ وائرل ہو رہا ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ اکاؤنٹ یہاں صارف نام W.malincm کے ساتھ ایک پروفائل ہے۔

    یہ پروفائل کئی وجوہات کی بنا پر ہیکنگ کر رہا ہے جس میں انجانے میں لوگ شامل ہیں صارف نے کہا کہ نہ صرف میرا لیکن یہاں تک کہ میرے دوستوں کے فالوورز وغیرہ بھی اسے ایک تشویشناک صورت حال دی جانی چاہیے۔


    اسکرین شاٹ میں بتایا گیا کہ ہو سکتا ہے آپ نے اس W.malincm نامی اکاؤنٹ کو فالو کیا ہو یہ شخص ہیکر ہے اور میرے انسٹاگرام پر تقریباً 50 لاگ اسے فالو کرتے ہیں مہربانی کر کے اس اکاؤنٹ کو ان فالو کریں اور اس کی رپورٹ کریں –

    صارف نے لکھا کہ میری اسٹوری پر اس اکاؤنٹ کا اسکرین شاٹ دیکھ کر اس کو اپنے فالوورز میں اس اکاؤنٹ کو چیک کریں-

    صارف نے خواتین سے اپیل کرتے ہوئے لکھا کہ اپنے اکاؤنٹ پر اسے چیک کریں اور فوری طور پر ان فالو کریں تاکہ آپ کا اکاؤنٹ اور ڈیٹا ہیک ہونے سے بچ سکے-

    واضح رہے کہ اکاؤنٹ ہیک کرنے کی وجوہات مختلف ہوسکتی ہیں: بہت آسان پاس ورڈ ، عوامی وائی فائی نیٹ ورکس سے کنکشن ، وائرس کی سرگرمی۔

  • سوشل میڈیا پرعالمی وبا کورونا وائرس سے متعلق غلط معلومات دی جارہی ہیں     امریکی صدر

    سوشل میڈیا پرعالمی وبا کورونا وائرس سے متعلق غلط معلومات دی جارہی ہیں امریکی صدر

    امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا سے عالمی وبا کورونا وائرس سے متعلق غلط معلومات دی جارہی ہیں۔

    باغی ٹی وی : وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جوبائیڈن نے کہا ہے کہ غلط معلومات دینے والے لوگوں کو مار رہے ہیں، کورونا اب صرف غیر ویکسین شدہ افراد کے درمیان رہ گیا ہےفیس بک کو اپنا طرز عمل بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

    غیر ملکی نشریاتی ادارے "رائٹرز” کے مطابق جمعرات کو وائٹ ہائوس کے پریس سیکرٹری جین ساکی کا کہنا ہے کہ فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا ادارے ان غلط معلومات کی روک تھام کیلئے مناسب اقدامات نہیں کر رہے ہیں۔ اور ہر کسی کو کردار ادا کرنا چاہیے کہ جو بھی معلومات دی جارہی ہیں وہ سچ پر مبنی ہوں۔

    ساکی نے کہا کہ فیس بک ، جو انسٹاگرام اور واٹس ایپ کا مالک ہے ، کو اپنے پلیٹ فارم سے ویکسین کی غلط معلومات کو دور کرنے کے لئے زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر انسداد ویکسین کی 65 فیصد غلط معلومات کے لئے 12 افراد ذمہ دار ہیں۔ اس کا پتہ سینٹر فار کاؤنٹر ڈیجیٹل ہیٹ نے مئی میں کیا تھا ، لیکن فیس بک نے اس طریقہ کار کو متنازع کردیا ہے۔

    ساکی نے کہا ، "یہ سبھی فیس بک پر سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیس بک کو بھی "نقصان دہ خلاف ورزی پوسٹوں کو دور کرنے کے لئے زیادہ تیزی سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔”

    امریکی سرجن جنرل وویک مورتی نے بھی کووڈ 19 اور اس سے متعلق ویکسینزکے بارے میں غلط معلومات کی بڑھتی لہر پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ، اور کہا کہ یہ وبائی امراض کا مقابلہ کرنا اور جان بچانا مشکل بنا رہا ہےانہوں نے ایک بیان میں کہا ، "امریکی جانوں کو خطرہ ہے۔

    صدر جو بائیڈن کی سربراہی میں ملک کے اعلی ڈاکٹر کی حیثیت سے اپنے پہلے مشورے میں ، مورتی نے ٹیک کمپنیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے الگورتھم کو موڑ دیں تاکہ غلط معلومات کو مزید تخفیف کی جاسکے اور محققین اور حکومت کے ساتھ مزید ڈیٹا شیئر کریں تاکہ اساتذہ ، صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں اور میڈیا کو غلط معلومات سے لڑنے میں مدد ملے۔

    یشنل پبلک ریڈیو کے ذریعہ اطلاع دی گئی کہ”صحت سے متعلق غلط معلومات عوامی صحت کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے۔ اس سے الجھن پیدا ہوسکتی ہے ، عدم اعتماد کو بویا جاسکتا ہے ، لوگوں کی صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور صحت عامہ کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ صحت سے متعلق غلط معلومات کے پھیلاؤ کو محدود رکھنا اخلاقی اور معاشرتی طور پرلازمی امر ہے-

    دوسری جانب فیس بک نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حقائق کے برخلاف الزامات سے پریشان نہیں ہوں گے۔

    فیس بک کے ترجمان نے کہا کہ کمپنی نے "کمپنی نے کوویڈ 19 کے بارے میں غلط معلومات اور عوامی صحت کی حفاظت کے لئے ویکسین کے خلاف جارحانہ اقدام اٹھانے” کے لئے سرکاری ماہرین ، صحت کے حکام اور محققین کے ساتھ شراکت کی ہے۔

    ترجمان نے مزید کہا ، "اب تک ہم نے کوویڈ کی غلط معلومات کے 18 ملین سے زائد اکاؤنٹس بلاک کر دیئے ہیں ان قوانین کو بار بار توڑنے والے اکاؤنٹس کو ہٹا دیا ہے ، اور 2 ارب سے زائد افراد کو ہمارے ایپس میں کووید 19 اور ویکسین کے بارے میں قابل اعتماد معلومات سے مربوط کیا ہے۔”

    فیس بک نے وبا اور اس کی ویکسین کے بارے میں کچھ غلط دعوے کرنے کے خلاف قوانین متعارف کرائے ہیں۔ پھر بھی ، محققین اور قانون سازوں نے طویل عرصے سے سائٹ پر مواد کی سست روی کے بارے میں شکایت کی ہے۔

    مورتی نے وائٹ ہاؤس کی پریس بریفنگ میں کہا کہ وبا کی غلط معلومات زیادہ تر ان افراد کی طرف سے آتی ہیں جو شاید یہ نہیں جانتے ہیں کہ وہ جھوٹے دعوے پھیلارہے ہیں –

    ان کی ایڈوائزری لوگوں سے یہ بھی درخواست کرتی ہے کہ وہ آن لائن آن لائن مشکوک معلومات کو نہ پھیلائیں۔ سینٹر فار کاؤنٹر ڈیجیٹل ہیٹ کے سربراہ ، ایک گروپ جو وبا کے بارے غلط معلومات پر آن لائن پر نظر رکھتا ہے ، نے کہا کہ یہ ناکافی ہے۔

  • ٹک ٹاک نے ویڈیو کا دورانیہ بڑھا دیا، اب صارفین طویل دورانیے کی ویڈیوز بنا سکیں گے

    ٹک ٹاک نے ویڈیو کا دورانیہ بڑھا دیا، اب صارفین طویل دورانیے کی ویڈیوز بنا سکیں گے

    دنیا بھر میں مقبول چینی ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک نے ویڈیوز کا دورانیہ تین منٹ کردیا ہے جو پہلے دورانیے سے تین گنا زیادہ ہے ۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹک ٹاک کی جانب سے یہ اعلان گزشتہ روز کیا گیا ہے دنیا بھر میں ٹک ٹاک کے صارفین کی تعداد ایک ارب کے قریب پہنچ چکی ہے جن میں سے دس کروڑ صرف امریکہ میں ہیں۔

    ٹک ٹاک کے پروڈکٹ مینجر ڈریوکرچوف نے بتایاکہ طویل ویڈیوز کے ذریعے ٹک ٹاکرز کو اس پلیٹ فارم پر بہتر مواد بنانے کا موقع ملے گا۔

    انہوں نے کہا کہ پہلے دورانیہ کم تھا لیکن اب صارفین طویل دورانیے کی ویڈیوز بنا سکیں گے۔

    واضح رہےکہ اس سے قبل ٹک ٹاک نے ایک نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا کہ ہم اس فیچر کے لئے بہت پُرجوش ہیں جو صارفین کو اپنی ویڈیو میں منی ایپس ایمبیڈ کرنے کی سہولت فراہم کرے گا۔

    اس فیچر کو جمپس کا نام دیا گیا ہے، مثال کے طور پر اگر کوئی صارف کھانا پکانے کی ویڈیو بناتا ہے تو وہ ریسیپی ایپ ویشک کے لنک کو اس میں ایمبیڈ کرسکتا ہے، جس سے ناظرین ایک بٹن کلک کرکے اس ترکیب کو ٹک ٹاک کے اندر ہی دیکھ سکیں گے۔

    یہ فیچر اس وقت آزمائشی مراحل سے گزر رہا ہے اور مخصوص ٹک ٹاکرز کو ہی دستیاب ہے، مگر ٹک ٹاک کہنا ہے کہ اس فیچر کو مزید افراد کو ٹیسٹنگ کے لیے فراہم کیا جائے گا۔

    جب جمپ فیچر سے لیس کسی ویڈیو کو دیکھا جائے گا تو ناظرین کو اسکرین کے نیچے ایک بٹن نظر آئے گا جو ٹک ٹاک کے اندر ایک نئی اسکرین میں مواد کو اوپن کرے گا اس کی ایک جھلک ٹک ٹاک کی جانب سے ایک ویڈیو میں بھی جاری کی گئی کہ اسے کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    ٹک ٹاک کے مطابق اس وقت ویشک، وکی پیڈیا اور ٹیبیلوگ کو اس فیچر کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ جلد بزفیڈ اور دیگر کو بھی اس کا حصہ بنایا جائے گا۔

    ٹک ٹاک صارفین کے لئے کون سا نیا فیچر لارہا ہے؟

  • ایپل کمپنی کو نوجوان لڑکی کی برہنہ تصاویر لیک کرنے پر بھاری ہرجانہ

    ایپل کمپنی کو نوجوان لڑکی کی برہنہ تصاویر لیک کرنے پر بھاری ہرجانہ

    ایپل کمپنی کو لڑکی کی برہنہ تصاویر لیک کرنے پر بھاری ہرجانہ ادا کرنا پڑا-

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا رپورٹ مطابق ایپل کمپنی کے ملازم نے نوجوان لڑکی کے آئی فون سے اس کی برہنہ تصاویر لیک کردیں جب کہ کمپنی نے ملازم کو نوکری سے نکال کر لڑکی کو ہرجانہ ادا کردیا۔

    رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ 2016 میں پیش آیا جب امریکی ریاست کیلفورنیا کے شہر اریگون کی 21 سالہ لڑکی نے اپنے آئی فون میں معمولی خرابی پر اپنا موبائل ایپل کمپنی کو مرمت کے لیے دیا تاہم کچھ دن بعد لڑکی کی کلاس فیلو نے اسے بتایا ’تمہاری فیس بک پروفائل سے تمہاری 10 برہنہ تصاویر شیئر ہوئی ہیں۔


    متاثرہ لڑکی کے مطابق میں نے فوراً سے وہ تصاویر ڈیلیٹ کردی تاہم تب تک متعدد لوگ اسے اپنے پاس محفوظ کرچکے تھے جس پر میں نے ’ایپل‘ کے خلاف عدالت سے رجوع کیا-

    تحقیقات میں امکشاف ہوا کہ ایپل کے دو تکنیکی ماہرین نے اس کی 10 تصاویر "کپڑے اتارنے کے مختلف مراحل میں اور ایک ویڈیو” اپنے ذاتی فیس بک پیج پر شائع کیں ، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے خود انھیں پوسٹ کیا تھا۔

    تاہم بعد ازاں کمپنی نے خاتون کے وکیل سے رابطہ کرکے انہیں ہرجانہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے معاملہ عدالت کے باہر ہی حل کردیا۔

    ’ایپل‘ کی جانب سے لڑکی کو دیےے جانے والے معاوضے کی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں البتہ لڑکی کے وکیل کی جانب سے 5 ملین ڈالر کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

    دوسری جانب کمپنی کے ترجمان نے رازداری کی خلاف ورزی کو "قابل فہم” قرار دیتے ہوئے بتایا کہ کمپنی نے اسے "انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے۔”

    ترجمان کا کہنا تھا کہ لڑکی کے جذبات کو جو ٹھیس پہنچی اس کی تلافی ہم نے معاوضہ دے کر کی اور کوتاہی کرنے والے ملازم کو بھی نوکری سے نکال دیا ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ کسٹمرز کی رازداری کا خیال رکھتے ہیں اور ان کے ڈیٹا کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہوتی ہے-