Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • ہوشیار : انسٹاگرام پرہیکرز کا گروہ سرگرم

    ہوشیار : انسٹاگرام پرہیکرز کا گروہ سرگرم

    انسٹاگرام دنیا کے مقبول ترین سوشل نیٹ ورکس میں سے ایک ہے۔ یہ حقیقت استعمال نہیں کرسکتی تھی لیکن ہیکنگ استعمال کنندہ کے اکاؤنٹوں کی تعداد کو متاثر کرتی ہے۔

    باغی ٹی وی : آج کل شوبز اور معروف شخصیات کو انسٹاگرام اکاؤنٹ ہیک ہونے جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے متعدد شوبز، کھیل اور سیاست سے وابستہ شخصیات کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہوچکے ہیں جن میں پاکستانی اور بھارتی اداکار شامل ہیں-

    تاہم اب سوشل میڈیا پر ایک اکاؤنٹ کا اسکرین شاٹ وائرل ہو رہا ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ اکاؤنٹ یہاں صارف نام W.malincm کے ساتھ ایک پروفائل ہے۔

    یہ پروفائل کئی وجوہات کی بنا پر ہیکنگ کر رہا ہے جس میں انجانے میں لوگ شامل ہیں صارف نے کہا کہ نہ صرف میرا لیکن یہاں تک کہ میرے دوستوں کے فالوورز وغیرہ بھی اسے ایک تشویشناک صورت حال دی جانی چاہیے۔


    اسکرین شاٹ میں بتایا گیا کہ ہو سکتا ہے آپ نے اس W.malincm نامی اکاؤنٹ کو فالو کیا ہو یہ شخص ہیکر ہے اور میرے انسٹاگرام پر تقریباً 50 لاگ اسے فالو کرتے ہیں مہربانی کر کے اس اکاؤنٹ کو ان فالو کریں اور اس کی رپورٹ کریں –

    صارف نے لکھا کہ میری اسٹوری پر اس اکاؤنٹ کا اسکرین شاٹ دیکھ کر اس کو اپنے فالوورز میں اس اکاؤنٹ کو چیک کریں-

    صارف نے خواتین سے اپیل کرتے ہوئے لکھا کہ اپنے اکاؤنٹ پر اسے چیک کریں اور فوری طور پر ان فالو کریں تاکہ آپ کا اکاؤنٹ اور ڈیٹا ہیک ہونے سے بچ سکے-

    واضح رہے کہ اکاؤنٹ ہیک کرنے کی وجوہات مختلف ہوسکتی ہیں: بہت آسان پاس ورڈ ، عوامی وائی فائی نیٹ ورکس سے کنکشن ، وائرس کی سرگرمی۔

  • سوشل میڈیا پرعالمی وبا کورونا وائرس سے متعلق غلط معلومات دی جارہی ہیں     امریکی صدر

    سوشل میڈیا پرعالمی وبا کورونا وائرس سے متعلق غلط معلومات دی جارہی ہیں امریکی صدر

    امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا سے عالمی وبا کورونا وائرس سے متعلق غلط معلومات دی جارہی ہیں۔

    باغی ٹی وی : وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جوبائیڈن نے کہا ہے کہ غلط معلومات دینے والے لوگوں کو مار رہے ہیں، کورونا اب صرف غیر ویکسین شدہ افراد کے درمیان رہ گیا ہےفیس بک کو اپنا طرز عمل بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

    غیر ملکی نشریاتی ادارے "رائٹرز” کے مطابق جمعرات کو وائٹ ہائوس کے پریس سیکرٹری جین ساکی کا کہنا ہے کہ فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا ادارے ان غلط معلومات کی روک تھام کیلئے مناسب اقدامات نہیں کر رہے ہیں۔ اور ہر کسی کو کردار ادا کرنا چاہیے کہ جو بھی معلومات دی جارہی ہیں وہ سچ پر مبنی ہوں۔

    ساکی نے کہا کہ فیس بک ، جو انسٹاگرام اور واٹس ایپ کا مالک ہے ، کو اپنے پلیٹ فارم سے ویکسین کی غلط معلومات کو دور کرنے کے لئے زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر انسداد ویکسین کی 65 فیصد غلط معلومات کے لئے 12 افراد ذمہ دار ہیں۔ اس کا پتہ سینٹر فار کاؤنٹر ڈیجیٹل ہیٹ نے مئی میں کیا تھا ، لیکن فیس بک نے اس طریقہ کار کو متنازع کردیا ہے۔

    ساکی نے کہا ، "یہ سبھی فیس بک پر سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیس بک کو بھی "نقصان دہ خلاف ورزی پوسٹوں کو دور کرنے کے لئے زیادہ تیزی سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔”

    امریکی سرجن جنرل وویک مورتی نے بھی کووڈ 19 اور اس سے متعلق ویکسینزکے بارے میں غلط معلومات کی بڑھتی لہر پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ، اور کہا کہ یہ وبائی امراض کا مقابلہ کرنا اور جان بچانا مشکل بنا رہا ہےانہوں نے ایک بیان میں کہا ، "امریکی جانوں کو خطرہ ہے۔

    صدر جو بائیڈن کی سربراہی میں ملک کے اعلی ڈاکٹر کی حیثیت سے اپنے پہلے مشورے میں ، مورتی نے ٹیک کمپنیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے الگورتھم کو موڑ دیں تاکہ غلط معلومات کو مزید تخفیف کی جاسکے اور محققین اور حکومت کے ساتھ مزید ڈیٹا شیئر کریں تاکہ اساتذہ ، صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں اور میڈیا کو غلط معلومات سے لڑنے میں مدد ملے۔

    یشنل پبلک ریڈیو کے ذریعہ اطلاع دی گئی کہ”صحت سے متعلق غلط معلومات عوامی صحت کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے۔ اس سے الجھن پیدا ہوسکتی ہے ، عدم اعتماد کو بویا جاسکتا ہے ، لوگوں کی صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور صحت عامہ کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ صحت سے متعلق غلط معلومات کے پھیلاؤ کو محدود رکھنا اخلاقی اور معاشرتی طور پرلازمی امر ہے-

    دوسری جانب فیس بک نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حقائق کے برخلاف الزامات سے پریشان نہیں ہوں گے۔

    فیس بک کے ترجمان نے کہا کہ کمپنی نے "کمپنی نے کوویڈ 19 کے بارے میں غلط معلومات اور عوامی صحت کی حفاظت کے لئے ویکسین کے خلاف جارحانہ اقدام اٹھانے” کے لئے سرکاری ماہرین ، صحت کے حکام اور محققین کے ساتھ شراکت کی ہے۔

    ترجمان نے مزید کہا ، "اب تک ہم نے کوویڈ کی غلط معلومات کے 18 ملین سے زائد اکاؤنٹس بلاک کر دیئے ہیں ان قوانین کو بار بار توڑنے والے اکاؤنٹس کو ہٹا دیا ہے ، اور 2 ارب سے زائد افراد کو ہمارے ایپس میں کووید 19 اور ویکسین کے بارے میں قابل اعتماد معلومات سے مربوط کیا ہے۔”

    فیس بک نے وبا اور اس کی ویکسین کے بارے میں کچھ غلط دعوے کرنے کے خلاف قوانین متعارف کرائے ہیں۔ پھر بھی ، محققین اور قانون سازوں نے طویل عرصے سے سائٹ پر مواد کی سست روی کے بارے میں شکایت کی ہے۔

    مورتی نے وائٹ ہاؤس کی پریس بریفنگ میں کہا کہ وبا کی غلط معلومات زیادہ تر ان افراد کی طرف سے آتی ہیں جو شاید یہ نہیں جانتے ہیں کہ وہ جھوٹے دعوے پھیلارہے ہیں –

    ان کی ایڈوائزری لوگوں سے یہ بھی درخواست کرتی ہے کہ وہ آن لائن آن لائن مشکوک معلومات کو نہ پھیلائیں۔ سینٹر فار کاؤنٹر ڈیجیٹل ہیٹ کے سربراہ ، ایک گروپ جو وبا کے بارے غلط معلومات پر آن لائن پر نظر رکھتا ہے ، نے کہا کہ یہ ناکافی ہے۔

  • ٹک ٹاک نے ویڈیو کا دورانیہ بڑھا دیا، اب صارفین طویل دورانیے کی ویڈیوز بنا سکیں گے

    ٹک ٹاک نے ویڈیو کا دورانیہ بڑھا دیا، اب صارفین طویل دورانیے کی ویڈیوز بنا سکیں گے

    دنیا بھر میں مقبول چینی ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک نے ویڈیوز کا دورانیہ تین منٹ کردیا ہے جو پہلے دورانیے سے تین گنا زیادہ ہے ۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹک ٹاک کی جانب سے یہ اعلان گزشتہ روز کیا گیا ہے دنیا بھر میں ٹک ٹاک کے صارفین کی تعداد ایک ارب کے قریب پہنچ چکی ہے جن میں سے دس کروڑ صرف امریکہ میں ہیں۔

    ٹک ٹاک کے پروڈکٹ مینجر ڈریوکرچوف نے بتایاکہ طویل ویڈیوز کے ذریعے ٹک ٹاکرز کو اس پلیٹ فارم پر بہتر مواد بنانے کا موقع ملے گا۔

    انہوں نے کہا کہ پہلے دورانیہ کم تھا لیکن اب صارفین طویل دورانیے کی ویڈیوز بنا سکیں گے۔

    واضح رہےکہ اس سے قبل ٹک ٹاک نے ایک نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا کہ ہم اس فیچر کے لئے بہت پُرجوش ہیں جو صارفین کو اپنی ویڈیو میں منی ایپس ایمبیڈ کرنے کی سہولت فراہم کرے گا۔

    اس فیچر کو جمپس کا نام دیا گیا ہے، مثال کے طور پر اگر کوئی صارف کھانا پکانے کی ویڈیو بناتا ہے تو وہ ریسیپی ایپ ویشک کے لنک کو اس میں ایمبیڈ کرسکتا ہے، جس سے ناظرین ایک بٹن کلک کرکے اس ترکیب کو ٹک ٹاک کے اندر ہی دیکھ سکیں گے۔

    یہ فیچر اس وقت آزمائشی مراحل سے گزر رہا ہے اور مخصوص ٹک ٹاکرز کو ہی دستیاب ہے، مگر ٹک ٹاک کہنا ہے کہ اس فیچر کو مزید افراد کو ٹیسٹنگ کے لیے فراہم کیا جائے گا۔

    جب جمپ فیچر سے لیس کسی ویڈیو کو دیکھا جائے گا تو ناظرین کو اسکرین کے نیچے ایک بٹن نظر آئے گا جو ٹک ٹاک کے اندر ایک نئی اسکرین میں مواد کو اوپن کرے گا اس کی ایک جھلک ٹک ٹاک کی جانب سے ایک ویڈیو میں بھی جاری کی گئی کہ اسے کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    ٹک ٹاک کے مطابق اس وقت ویشک، وکی پیڈیا اور ٹیبیلوگ کو اس فیچر کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ جلد بزفیڈ اور دیگر کو بھی اس کا حصہ بنایا جائے گا۔

    ٹک ٹاک صارفین کے لئے کون سا نیا فیچر لارہا ہے؟

  • ایپل کمپنی کو نوجوان لڑکی کی برہنہ تصاویر لیک کرنے پر بھاری ہرجانہ

    ایپل کمپنی کو نوجوان لڑکی کی برہنہ تصاویر لیک کرنے پر بھاری ہرجانہ

    ایپل کمپنی کو لڑکی کی برہنہ تصاویر لیک کرنے پر بھاری ہرجانہ ادا کرنا پڑا-

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا رپورٹ مطابق ایپل کمپنی کے ملازم نے نوجوان لڑکی کے آئی فون سے اس کی برہنہ تصاویر لیک کردیں جب کہ کمپنی نے ملازم کو نوکری سے نکال کر لڑکی کو ہرجانہ ادا کردیا۔

    رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ 2016 میں پیش آیا جب امریکی ریاست کیلفورنیا کے شہر اریگون کی 21 سالہ لڑکی نے اپنے آئی فون میں معمولی خرابی پر اپنا موبائل ایپل کمپنی کو مرمت کے لیے دیا تاہم کچھ دن بعد لڑکی کی کلاس فیلو نے اسے بتایا ’تمہاری فیس بک پروفائل سے تمہاری 10 برہنہ تصاویر شیئر ہوئی ہیں۔


    متاثرہ لڑکی کے مطابق میں نے فوراً سے وہ تصاویر ڈیلیٹ کردی تاہم تب تک متعدد لوگ اسے اپنے پاس محفوظ کرچکے تھے جس پر میں نے ’ایپل‘ کے خلاف عدالت سے رجوع کیا-

    تحقیقات میں امکشاف ہوا کہ ایپل کے دو تکنیکی ماہرین نے اس کی 10 تصاویر "کپڑے اتارنے کے مختلف مراحل میں اور ایک ویڈیو” اپنے ذاتی فیس بک پیج پر شائع کیں ، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے خود انھیں پوسٹ کیا تھا۔

    تاہم بعد ازاں کمپنی نے خاتون کے وکیل سے رابطہ کرکے انہیں ہرجانہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے معاملہ عدالت کے باہر ہی حل کردیا۔

    ’ایپل‘ کی جانب سے لڑکی کو دیےے جانے والے معاوضے کی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں البتہ لڑکی کے وکیل کی جانب سے 5 ملین ڈالر کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

    دوسری جانب کمپنی کے ترجمان نے رازداری کی خلاف ورزی کو "قابل فہم” قرار دیتے ہوئے بتایا کہ کمپنی نے اسے "انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے۔”

    ترجمان کا کہنا تھا کہ لڑکی کے جذبات کو جو ٹھیس پہنچی اس کی تلافی ہم نے معاوضہ دے کر کی اور کوتاہی کرنے والے ملازم کو بھی نوکری سے نکال دیا ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ کسٹمرز کی رازداری کا خیال رکھتے ہیں اور ان کے ڈیٹا کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہوتی ہے-

  • رواں سال کا  پہلا سورج   گرہن  آج  ہوگا

    رواں سال کا پہلا سورج گرہن آج ہوگا

    رواں سال کا پہلا سورج گرہن آج ہوگا-

    باغی ٹی وی : ائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جامعہ کراچی اورماہر فلکیات پروفیسرجاویداقبال کے مطابق رواں سال کا پہلا سورج گرہن آج ہوگا سورج گرہن شمالی ایشیا،یورپ اورامریکا،روس،گرین لینڈاورشمالی کینیڈا کے اکثر علاقوں میں اس کا جزوی نظارہ مکمل طور پر دیکھا جائے گا-

    رواں سال کا پہلا سورج گرہن 10 جون کو ہوگا لیکن یہ پاکستان میں نظر نہیں آئے…

    جبکیہ جزوی گرہن کا کچھ حصہ منگولیا ، چین ،روس اور کینیڈا کے کچھ علاقے فن لینڈ ، لندن اور امریکہ کے کچھ علاقوں میں گرہن جزوی طور پر دیکھا جا سکے گا لیکن یہ گرہن پاکستان میں نظر نہیں آئے گا-

    ماہر فلکیات پروفیسرجاویداقبال کے مطابق سورج گرہن دوران رنگ آف فائردیکھاجائےگا سور ج گرہن کا کل دورانیہ 6 گھنٹے کے قریب ہو گا-

    ماہر فلکیات پروفیسرجاویداقبال نے بتایا کہ سورج گرہن پاکستانی سٹینڈرڈ وقت کےمطابق دوپہرایک بج کر 12منٹ اور 20 سیکنڈ پرہوگا ، 3 بج 42 منٹ پرسورج گرہن اپنےعروج پرہوگا اور 4 بجکر34 منٹ پرسورج گرہن کا زوال ہو گا جبکہ شام 6 بج کر 11 منٹ اور 19 سیکنڈ پر گرہن ختم ہو جائے گا-

    سال 2021 کا پہلا چاند گرہن 26 مئی کو لگے گا ،گرہن کیا ہوتا ہے اس کی کتنی اقسام…

  • واٹس ایپ پر دوستوں کیساتھ  ماضی کے بہترین گیمزکھیلیے

    واٹس ایپ پر دوستوں کیساتھ ماضی کے بہترین گیمزکھیلیے

    پغام رسانی کی مقبول ترین ایپ واٹس ایپ پر اب صارفین دوستوں کے ساتھ 90 کی دہائی کے گیمز بھی کھیل سکتے ہیں-

    باغی ٹی وی :موبائل پرزیادہ ترلوگوں کا اولین مشغلہ گیم کھیلنا ہوتا ہے، لیکن موبائل گیمز کے شیدائیوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ موبائل میں جگہ کا بھی ہوتا ہے لیکن کچھ کھیل ایسے ہیں جنہیں آپ بنا انسٹال کیے کھیل سکتے ہیں بلکہ بعض اوقات تو موبائل میں وائرس بھی آجاتا ہے جس کی وجہ سے موبائل فونز خراب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

    کچھ گیمز ایسے بھی ہیں جنہیں آپ انسٹال کیے بغیر بھی اپنی دوستوں اور فیملی کے ساتھ باآسانی کھیل سکتے ہیں واٹس ایپ کو محض پیغام رسانی کے لیے مختص ایپ سمجھا جاتا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس ایپ کے ذریعے آپ اپنے دوستوں اور گھروالوں کے ساتھ ماضی کے بہترین گیم کھیل سکتے ہیں۔

    آئیے جانتے ہیں ہیں کہ دوستوں کے ساتھ واٹس ایپ پر کھیلے جانے والے گیمز کون سے ہیں –

    نام، چیز، جگہ، جانور:
    نام، چیز، جگہ، جانور ایک ایسا معروف کھیل ہے جسے 90 کی دہائی میں پیدا ہونے والے بچے خوب شوق سے کھیلا کرتے تھے لیکن جب انٹرنیٹ اور اسمارٹ فونز ہماری زندگیوں میں آئے توانہوں نے بچپن کے اس خوب صورت کھیل کو نئی نسل سے دور کردیا تاہم ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں بھی آپ اس کھیل سے بخوبی لطف اندوز ہوسکتے ہیں، اس کے لیے آپ کو واٹس ایپ پر ایک گروپ بنانا ہوگا جس میں آپ اُن تمام افراد کو شامل کرسکتے ہیں جن کے ساتھ آپ یہ کھیل کھیلنا چاہتے ہیں۔

    اُس کے بعد آپ گروپ میں ویڈیو کال کرکے کوئی بھی ایک حروف تہجی (الفابیٹ) بتائیں گے اور بولیں گے کہ اس سے شروع ہونے والے نام، چیز، جگہ اور جانور کو گروپ میں لکھنے کا کہیں گے جو سب سے پہلے تمام نام لکھ دے گا وہ اس کھیل کا فاتح ہوگا۔

    دی نیلم شو گیم:
    یہ کھیل بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان اور اداکارہ کاجول کی مقبول ترین فلم ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ میں بھی کھیلا گیا تھا، یہ ایک بہت سادہ سا کھیل ہے جس میں کھلاڑی بنا سوچھے سمجھے ایک لفظ کہتا ہے اور دوسرے کھلاڑی کو جواب دینا ہوتا ہے کہ اس لفظ کو سن /پڑھ کر اس کے ذہن میں سب سے پہلے کیا چیز آئی ہے یہ کھیل بھی آپ واٹس ایپ پر گروپ کی شکل میں کھیل سکتے ہیں۔

    انتاکشری:
    انتاکشری بھی ماضی کو ایک مقبول ترین کھیل ہے جو ناصرف عام روٹین میں کھیلا جاتا ہے بلکہ شادی بیاہ کے موقع پر بھی مختلف تقاریب میں اس کھیل کا خصوصی طور پر انعقاد کیا جاتا ہے اس کھیل میں دو ٹیمز بنائی جاتی ہے، اس کھیل میں گانے کے آخری لفظ سے شروع ہونے والا کوئی بھی گانا گانا ہوتا ہے جو ٹیم گانا گالیتی ہے وہ جیت جاتی ہے آپ اس گیم کو واٹس ایپ پر گروپ بناکر کھیل سکتے ہیں اور ماضی کی یادوں کو خوب انجوائے کرسکتے ہیں۔

  • ابتدائی جملے جو یوٹیوب پر سب سے زیادہ بولے جاتے ہیں

    ابتدائی جملے جو یوٹیوب پر سب سے زیادہ بولے جاتے ہیں

    کیلیفورنیا: یوٹیوب نے ویڈیو کلپس میں سب سے زیادہ بولے جانے والے الفاظ کا ایک چارٹ بنایا ہے۔

    باغی ٹی وی : یوٹیوب نے ایک دلچسپ تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اکثر ویڈیوز اور شارٹ کلپس بناتے وقت میزبان پس منظر یا پیش منظر دونوں میں ہی کچھ خاص ابتدائی کلمات یا خوش آمدید وغیرہ کے لفظ ادا کرتا ہے۔

    یوٹیوبر کا کہنا ہے کہ ابتدائی کلمات یا خوش آمدید کے الفاظ بہت اہم ہوتے ہیں یوٹیوبر ایسے جملے بہت سوچ سمجھ کر بولتے ہیں جو بعد میں ان کی پہچان اور برانڈ بن جاتے ہیں لیکن حیرت انگیز طور پر ایک ابتدائی جملہ ایسا ہے جو سب سے زیادہ بولا جاتا ہے اور وہ ہے Hey Guys ہے۔

    یوٹیوب کی تازہ ترین رپوٹس میں دس لاکھ ویڈیو کلپس کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ تمام کلپس بہت مشہور یوٹیوبر کے ہیں اور ان میں بولے جانے والے ابتدائی جملوں کی استعمال کے لحاظ سے درجہ بندی کی گئی ہے۔

    ان میں 36 فیصد ویڈیوز میں ہے گائز کا لفظ استعمال کیا گیا ہے دوسرے نمبر پر واٹس ایپ کے الفاظ کا زیادہ استعمال کیا گیا ہے صحت و فٹنس کے چینل میں واٹس ایپ کے الفاظ زیادہ دیکھے گئے ہیں –

    جبکہ سفر و تفریح کے چینلز ’گڈ مارننگ‘ کے الفاظ پر زور دیتے نظر آئے شاید وہ گڈ مارننگ سے زندگی کی شروعات اور ممکنات کی جانب اشارہ کرتے ہیں اس کے علاوہ ہائے گائز، آل رائٹ، ہے ایوری ون، ہیلو ایوری ون، لیڈیز اینڈ جنٹلمین اور دیگر الفاظ یوٹیوبر کے پسندیدہ جملے ہیں۔

  • دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت

    دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت

    پولینڈ کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے 2 ہزار سال قدیم ممی کے اسکین کے بعد دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت کی ہے یہ اپنی طرز کی واحد دریافت ہے-

    باغی ٹی وی : جمعرات کو جرنل آف آرکیالوجیکل سائنس میں چھپنے والی ایک مضمون کے مطابق یہ دریافت وارسا ممی پراجیکٹ کے محققین نے کی ہے۔

    2015 میں شروع ہونے والے پراجیکٹ میں وارسا کے نیشنل میوزیم میں رکھے گئے نوادرات کی جانچ پڑتال کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہےپہلے خیال تھا کہ یہ کسی مرد پجاری کی ممی ہے جو پہلی صدی قبل از مسیح یا پہلی صدی عیسوی کے درمیان زندہ تھے لیکن سکین سے پتہ چلا کہ یہ کسی عورت کی ممی ہے جو حمل کے آخری مراحل میں تھی۔

    اس منصوبے کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کسی ایسی خاتون کی باقیات ہیں جو 20 اور 30 سال کی عمر کے پیٹے میں تھی اور اس کا تعلق کسی اونچے خاندان سے تھا، جو پہلی صدی قبل مسیح کے دوران وفات پا گئی تھی۔

    جرنل میں چھپنے والے مضمون میں انہوں نے اپنی دریافت کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ پیش ہے ایک حنوط شدہ حاملہ عورت کی ممی کی پہلی مثال اور اس طرح کے جنین کی پہلی ریڈیولوجیکل تصاویر۔

    جنین کے سر کے گھیرے سے انھوں اندازہ لگایا کہ جب ماں کی موت نامعلوم وجوہات کی بنا پر ہوئی تو اس وقت اس کی عمر 26 اور 30 ​​ہفتوں کے درمیان ہو گی۔

    منصوبے میں شامل پولینڈ اکیڈمی کے سائنسدان ووجیچ ایجسمنڈ نے کہا کہ ‘ہم نہیں جانتے کہ ماں کے پیٹ سے ممی بنائے جانے کے وقت ان بچوں کو کیوں نہیں نکالا گیا’، انہوں نے مزید کہا کہ ‘اسی لیے یہ ممی منفرد نوعیت کی ہے، ہم نے اس سے پہلے اس طرح کے کیسز نہیں دیکھے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری دریافت دنیا کی پہلی حاملہ ممی ہے۔

    سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ اسے کیوں نہیں نکالا گیا اور الگ کیا گیا، لیکن ان کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس کا تعلق بعد کی زندگی یا اسے نکالنے میں مشکلات سے ہو۔

    وزیرک سزیلک نے اندازہ لگایا ہے کہ شاید حمل ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہو یا پھر اس کا تعلق اس وقت کے دوبارہ جنم لینے کے عقائد سے متعلق ہوسکتا ہے۔

    سائنسدانوں کو اب یقین ہے کہ یہ اس سے بھی قدیم زمانے سے تعلق رکھتی ہے اور وہ اب اس کی ہلاکت کی وجوہات تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ممی کھولی نہیں گئی ہے تاہم اسکین میں عورت کے لمبے گھنگریالے بال اس کے کندھے پر دیکھے جاسکتے ہیں۔

    اشاعت کے مطابق یہ محفوظ کی گئی حاملہ خاتون کی دریافت کا پہلا کیس ہے، اس کے ذریعے قدیم وقتوں میں حمل اور زچگی سے متعلق نئے ممکنات پر تحقیق کے موقع ملیں گے-

    فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق یونیورسٹی آف وارسا کی ماہر بشریات (anthropologist) اور ماہر آثار قدیمہ (archaeologist) مرزینہ اوزیرک سزیلک نے صحافیوں کو بتایا کہ ‘میرے شوہر اسٹینسلا، ایک ماہر مصری آثار قدیمہ، اور میں نے ممی کا ایکسرے دیکھا جس میں مردہ حاملہ عورت (ممی) کے پیٹ میں تین بچوں کے آثار دیکھائی دیئے-

    انھوں نے بتایا کہ ٹیم امید کرتی ہے کہ اب وہ ممی کے جسم میں سے کچھ ٹشو حاصل کر کے حنوط شدہ خاتون کی موت کی وجہ کا بھی تعین کرے گی۔

    محققین کے مطابق ممی بہت اچھی حالت میں محفوظ‘ ہے لیکن اس کی گردن کے گرد کپڑے کو پہنچنے والے نقصان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسا کسی وقت قیمتی سامان ڈھونڈنے والوں نے کیا تھا۔

    ماہرین کہتے ہیں کہ کم از کم 15 اشیا جن میں ممی کی طرح کے تعویذ کا ایک ’مہنگا سیٹ‘ بھی شامل ہے، ممی کے اندر لپٹا ہوا برآمد ہوا ہے۔

    مذکورہ ممی کو 19ویں صدی میں پولینڈ منتقل کیا گیا تھا اور اسے وارسا یونیورسٹی کے نوادرات کے کلیکشن کا حصہ بنایا گیا تھا اس ممی کو 1917 میں نیشنل میوزیم میں رکھا گیا جسے علامتی تابوت کے ساتھ عوام کے دیکھنے کے لیے پیش کیا گیا۔

  • فیس بک نے پہلی بار آسکر ایوارڈ اپنے نام کر لیا

    فیس بک نے پہلی بار آسکر ایوارڈ اپنے نام کر لیا

    دنیا بھر میں مقبول سماجی رابطے کی سب سے بڑے پلیٹ فارم فیس بک نے اپنا پہلا آسکر ایوارڈ جیت لیا ۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے ورائٹی کے مطابق 93 ویں اکیڈمی ایوارڈز کی تقریب میں فیس بک کی زیرملکیت اوکیولوس رئیلٹی ہیڈ سیٹس اور ای ایز ریسپان انٹرٹینمنٹ گیم اسٹوڈیو کی تیار کردہ مختصر دستاویزی فلم نے 25 اپریل کو ڈاکومینٹری شارٹ کیٹیگری کا آسکر ایوارڈ اپنے نام کیا۔

    یہ پہلی بار ہے جب گیم انڈسٹری کے ایک پراجیکٹ نے آسکر ایوارڈ جیتا ہے۔

    فوٹو بشکریہ ورائٹی

    25 منٹ کی یہ فلم ‘کولیٹی’ فرنچ ریزیزٹنس کی سابق ممبر کولیٹی مارین کیتھرین کے گرد گھومتی ہے جو 74 سال میں پہلی بار جرمنی کا سفر کرتی ہیں اس فلم کو دوسری عالمی جنگ کے حوالے سے تیار کی جانے والی وی آر ویڈیو گیم میڈل آف آنر کے لیے بنایا گیا تھا۔

    کولیٹی نے اس کیٹیگری میں دیگر 4 فلموں کو شکست دی اس مختصر فلم کو انتھونی Giacchino نے تحریر کرنے کے ساتھ ڈائریکٹ کیا کولیٹی مارین کیتھرین کو اپنے ماضی کی جانب سے لوٹنے کے لیے ایک طالبعلم نے تیار کیا تھا جس نے انہیں قائل کیا کہ وہ اس کیمپ میں جائے جہاں نازیوں نے ان کے بھائی کو قتل کیا تھا۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم میں دکھائی جانے والی مرکزی کردار کی 92 ویں سالگرہ بھی 25 اپریل کو تھی۔


    آسکرملنے پر ایک ٹوئٹ میں فلم ساز نے ہر ایک کا شکریہ ادا کیا لکھا کہ اکیڈمی ایوارڈ کا اور اس منصوبے پر اعتماد کرنے کے لئے۔ آپ سب کا شکریہ جو اس فلم کا حصہ بنے-

    اسی طرح ایک بلاگ میں پروڈکشن ٹیم کا کہنا تھا کہ اس کامیابی کی اصل ہیرو کولیٹی ہی ہیں جنہوں نے اپنی کہانی شیئر کی،فلم میں نے ہم نے دیکھا تھا کہ مزاحمت کے لیے جرات کی ضروروت ہوتی ہے، مگر کسی کے لیے اپنے تکلیف دہ ماضی میں واپس جانا اس سے بھی زیادہ مشکل کام ہے۔

    آسکرز 2021:فلم "نومیڈ لینڈ” نے بہترین اداکارہ سمیت 6 ایوارڈز اپنے نام…

  • عوام سے رابطے بڑھانے کے لئے برطانوی ایجنسی نے سوشل میڈیا کا سہارا لے لیا

    عوام سے رابطے بڑھانے کے لئے برطانوی ایجنسی نے سوشل میڈیا کا سہارا لے لیا

    لندن: برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو نے انسٹا گرام پر اپنا اکائونٹ بنالیا جس پر معلومات شیئر کی جائیں گی ۔

    باغی ٹی وی : اس ضمن میں برطانیہ کی ʼایم آئی فائیو نے جمعرات کو فوٹو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام کی دنیا میں قدم رکھ دیا ہے ایم آئی فائیو کا انسٹاگرام پر آفیشل اکاؤنٹ ʼایم آئی فائیو آفیشل کے نام سے ہے۔

    تفصیلات کے مطابق برطانوی میڈیا کے مطابق برطانوی خفیہ ایجنسی اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ کے ذریعے ادارے سے متعلق قیاس آرائیاں دور کرنے کے ساتھ ساتھ ایسا مواد بھی عوام کے ساتھ شیئر کرے گی جو اس سے قبل منظر عام پر نہیں لایا گیا تھا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایم آئی فائیو انسٹاگرام پر حاضر سروس انٹیلی جنس آفیسرز کے ساتھ آن لائن سوال و جواب کے سیشن کا انعقاد کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے جبکہ وہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے ملازمت کے مواقع کو بھی فروغ دے گی۔​

    برطانیہ کی خفیہ ʼایجنسی ایم آئی فائیو اب سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا استعمال کر کے عوام سے رابطے میں رہنے کا آغاز کر رہی ہے۔ایم آئی فائیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام کا سہارا لیتے ہوئے عوام تک ایسی معلومات پہنچائے گی جس سے وہ لا علم ہیں۔

    ایم آئی فائیو لندن میں اپنے ہیڈ کوارٹر کے تہہ خانے میں موجود میوزیم کی تاریخی نمائشوں سے متعلق معلومات بھی پہلی مرتبہ اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کرے گی۔

    خفیہ ایجنسی کی جانب سے انسٹاگرام کے ذریعے عوام تک معلومات فراہم کرنے کا یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ʼایم آئی فائیو کے نئے ڈائریکٹر جنرل کین میک کیلم نے گزشتہ برس اکتوبر میں پہلی میڈیا بریفنگ میں کہا تھا کہ وہ خفیہ ایجنسی میں نئے طریقے آزماتے ہوئے انہیں سب کے سامنے لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔