Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • رواں سال کا  پہلا سورج   گرہن  آج  ہوگا

    رواں سال کا پہلا سورج گرہن آج ہوگا

    رواں سال کا پہلا سورج گرہن آج ہوگا-

    باغی ٹی وی : ائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جامعہ کراچی اورماہر فلکیات پروفیسرجاویداقبال کے مطابق رواں سال کا پہلا سورج گرہن آج ہوگا سورج گرہن شمالی ایشیا،یورپ اورامریکا،روس،گرین لینڈاورشمالی کینیڈا کے اکثر علاقوں میں اس کا جزوی نظارہ مکمل طور پر دیکھا جائے گا-

    رواں سال کا پہلا سورج گرہن 10 جون کو ہوگا لیکن یہ پاکستان میں نظر نہیں آئے…

    جبکیہ جزوی گرہن کا کچھ حصہ منگولیا ، چین ،روس اور کینیڈا کے کچھ علاقے فن لینڈ ، لندن اور امریکہ کے کچھ علاقوں میں گرہن جزوی طور پر دیکھا جا سکے گا لیکن یہ گرہن پاکستان میں نظر نہیں آئے گا-

    ماہر فلکیات پروفیسرجاویداقبال کے مطابق سورج گرہن دوران رنگ آف فائردیکھاجائےگا سور ج گرہن کا کل دورانیہ 6 گھنٹے کے قریب ہو گا-

    ماہر فلکیات پروفیسرجاویداقبال نے بتایا کہ سورج گرہن پاکستانی سٹینڈرڈ وقت کےمطابق دوپہرایک بج کر 12منٹ اور 20 سیکنڈ پرہوگا ، 3 بج 42 منٹ پرسورج گرہن اپنےعروج پرہوگا اور 4 بجکر34 منٹ پرسورج گرہن کا زوال ہو گا جبکہ شام 6 بج کر 11 منٹ اور 19 سیکنڈ پر گرہن ختم ہو جائے گا-

    سال 2021 کا پہلا چاند گرہن 26 مئی کو لگے گا ،گرہن کیا ہوتا ہے اس کی کتنی اقسام…

  • واٹس ایپ پر دوستوں کیساتھ  ماضی کے بہترین گیمزکھیلیے

    واٹس ایپ پر دوستوں کیساتھ ماضی کے بہترین گیمزکھیلیے

    پغام رسانی کی مقبول ترین ایپ واٹس ایپ پر اب صارفین دوستوں کے ساتھ 90 کی دہائی کے گیمز بھی کھیل سکتے ہیں-

    باغی ٹی وی :موبائل پرزیادہ ترلوگوں کا اولین مشغلہ گیم کھیلنا ہوتا ہے، لیکن موبائل گیمز کے شیدائیوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ موبائل میں جگہ کا بھی ہوتا ہے لیکن کچھ کھیل ایسے ہیں جنہیں آپ بنا انسٹال کیے کھیل سکتے ہیں بلکہ بعض اوقات تو موبائل میں وائرس بھی آجاتا ہے جس کی وجہ سے موبائل فونز خراب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

    کچھ گیمز ایسے بھی ہیں جنہیں آپ انسٹال کیے بغیر بھی اپنی دوستوں اور فیملی کے ساتھ باآسانی کھیل سکتے ہیں واٹس ایپ کو محض پیغام رسانی کے لیے مختص ایپ سمجھا جاتا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس ایپ کے ذریعے آپ اپنے دوستوں اور گھروالوں کے ساتھ ماضی کے بہترین گیم کھیل سکتے ہیں۔

    آئیے جانتے ہیں ہیں کہ دوستوں کے ساتھ واٹس ایپ پر کھیلے جانے والے گیمز کون سے ہیں –

    نام، چیز، جگہ، جانور:
    نام، چیز، جگہ، جانور ایک ایسا معروف کھیل ہے جسے 90 کی دہائی میں پیدا ہونے والے بچے خوب شوق سے کھیلا کرتے تھے لیکن جب انٹرنیٹ اور اسمارٹ فونز ہماری زندگیوں میں آئے توانہوں نے بچپن کے اس خوب صورت کھیل کو نئی نسل سے دور کردیا تاہم ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں بھی آپ اس کھیل سے بخوبی لطف اندوز ہوسکتے ہیں، اس کے لیے آپ کو واٹس ایپ پر ایک گروپ بنانا ہوگا جس میں آپ اُن تمام افراد کو شامل کرسکتے ہیں جن کے ساتھ آپ یہ کھیل کھیلنا چاہتے ہیں۔

    اُس کے بعد آپ گروپ میں ویڈیو کال کرکے کوئی بھی ایک حروف تہجی (الفابیٹ) بتائیں گے اور بولیں گے کہ اس سے شروع ہونے والے نام، چیز، جگہ اور جانور کو گروپ میں لکھنے کا کہیں گے جو سب سے پہلے تمام نام لکھ دے گا وہ اس کھیل کا فاتح ہوگا۔

    دی نیلم شو گیم:
    یہ کھیل بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان اور اداکارہ کاجول کی مقبول ترین فلم ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ میں بھی کھیلا گیا تھا، یہ ایک بہت سادہ سا کھیل ہے جس میں کھلاڑی بنا سوچھے سمجھے ایک لفظ کہتا ہے اور دوسرے کھلاڑی کو جواب دینا ہوتا ہے کہ اس لفظ کو سن /پڑھ کر اس کے ذہن میں سب سے پہلے کیا چیز آئی ہے یہ کھیل بھی آپ واٹس ایپ پر گروپ کی شکل میں کھیل سکتے ہیں۔

    انتاکشری:
    انتاکشری بھی ماضی کو ایک مقبول ترین کھیل ہے جو ناصرف عام روٹین میں کھیلا جاتا ہے بلکہ شادی بیاہ کے موقع پر بھی مختلف تقاریب میں اس کھیل کا خصوصی طور پر انعقاد کیا جاتا ہے اس کھیل میں دو ٹیمز بنائی جاتی ہے، اس کھیل میں گانے کے آخری لفظ سے شروع ہونے والا کوئی بھی گانا گانا ہوتا ہے جو ٹیم گانا گالیتی ہے وہ جیت جاتی ہے آپ اس گیم کو واٹس ایپ پر گروپ بناکر کھیل سکتے ہیں اور ماضی کی یادوں کو خوب انجوائے کرسکتے ہیں۔

  • ابتدائی جملے جو یوٹیوب پر سب سے زیادہ بولے جاتے ہیں

    ابتدائی جملے جو یوٹیوب پر سب سے زیادہ بولے جاتے ہیں

    کیلیفورنیا: یوٹیوب نے ویڈیو کلپس میں سب سے زیادہ بولے جانے والے الفاظ کا ایک چارٹ بنایا ہے۔

    باغی ٹی وی : یوٹیوب نے ایک دلچسپ تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اکثر ویڈیوز اور شارٹ کلپس بناتے وقت میزبان پس منظر یا پیش منظر دونوں میں ہی کچھ خاص ابتدائی کلمات یا خوش آمدید وغیرہ کے لفظ ادا کرتا ہے۔

    یوٹیوبر کا کہنا ہے کہ ابتدائی کلمات یا خوش آمدید کے الفاظ بہت اہم ہوتے ہیں یوٹیوبر ایسے جملے بہت سوچ سمجھ کر بولتے ہیں جو بعد میں ان کی پہچان اور برانڈ بن جاتے ہیں لیکن حیرت انگیز طور پر ایک ابتدائی جملہ ایسا ہے جو سب سے زیادہ بولا جاتا ہے اور وہ ہے Hey Guys ہے۔

    یوٹیوب کی تازہ ترین رپوٹس میں دس لاکھ ویڈیو کلپس کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ تمام کلپس بہت مشہور یوٹیوبر کے ہیں اور ان میں بولے جانے والے ابتدائی جملوں کی استعمال کے لحاظ سے درجہ بندی کی گئی ہے۔

    ان میں 36 فیصد ویڈیوز میں ہے گائز کا لفظ استعمال کیا گیا ہے دوسرے نمبر پر واٹس ایپ کے الفاظ کا زیادہ استعمال کیا گیا ہے صحت و فٹنس کے چینل میں واٹس ایپ کے الفاظ زیادہ دیکھے گئے ہیں –

    جبکہ سفر و تفریح کے چینلز ’گڈ مارننگ‘ کے الفاظ پر زور دیتے نظر آئے شاید وہ گڈ مارننگ سے زندگی کی شروعات اور ممکنات کی جانب اشارہ کرتے ہیں اس کے علاوہ ہائے گائز، آل رائٹ، ہے ایوری ون، ہیلو ایوری ون، لیڈیز اینڈ جنٹلمین اور دیگر الفاظ یوٹیوبر کے پسندیدہ جملے ہیں۔

  • دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت

    دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت

    پولینڈ کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے 2 ہزار سال قدیم ممی کے اسکین کے بعد دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت کی ہے یہ اپنی طرز کی واحد دریافت ہے-

    باغی ٹی وی : جمعرات کو جرنل آف آرکیالوجیکل سائنس میں چھپنے والی ایک مضمون کے مطابق یہ دریافت وارسا ممی پراجیکٹ کے محققین نے کی ہے۔

    2015 میں شروع ہونے والے پراجیکٹ میں وارسا کے نیشنل میوزیم میں رکھے گئے نوادرات کی جانچ پڑتال کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہےپہلے خیال تھا کہ یہ کسی مرد پجاری کی ممی ہے جو پہلی صدی قبل از مسیح یا پہلی صدی عیسوی کے درمیان زندہ تھے لیکن سکین سے پتہ چلا کہ یہ کسی عورت کی ممی ہے جو حمل کے آخری مراحل میں تھی۔

    اس منصوبے کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کسی ایسی خاتون کی باقیات ہیں جو 20 اور 30 سال کی عمر کے پیٹے میں تھی اور اس کا تعلق کسی اونچے خاندان سے تھا، جو پہلی صدی قبل مسیح کے دوران وفات پا گئی تھی۔

    جرنل میں چھپنے والے مضمون میں انہوں نے اپنی دریافت کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ پیش ہے ایک حنوط شدہ حاملہ عورت کی ممی کی پہلی مثال اور اس طرح کے جنین کی پہلی ریڈیولوجیکل تصاویر۔

    جنین کے سر کے گھیرے سے انھوں اندازہ لگایا کہ جب ماں کی موت نامعلوم وجوہات کی بنا پر ہوئی تو اس وقت اس کی عمر 26 اور 30 ​​ہفتوں کے درمیان ہو گی۔

    منصوبے میں شامل پولینڈ اکیڈمی کے سائنسدان ووجیچ ایجسمنڈ نے کہا کہ ‘ہم نہیں جانتے کہ ماں کے پیٹ سے ممی بنائے جانے کے وقت ان بچوں کو کیوں نہیں نکالا گیا’، انہوں نے مزید کہا کہ ‘اسی لیے یہ ممی منفرد نوعیت کی ہے، ہم نے اس سے پہلے اس طرح کے کیسز نہیں دیکھے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری دریافت دنیا کی پہلی حاملہ ممی ہے۔

    سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ اسے کیوں نہیں نکالا گیا اور الگ کیا گیا، لیکن ان کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس کا تعلق بعد کی زندگی یا اسے نکالنے میں مشکلات سے ہو۔

    وزیرک سزیلک نے اندازہ لگایا ہے کہ شاید حمل ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہو یا پھر اس کا تعلق اس وقت کے دوبارہ جنم لینے کے عقائد سے متعلق ہوسکتا ہے۔

    سائنسدانوں کو اب یقین ہے کہ یہ اس سے بھی قدیم زمانے سے تعلق رکھتی ہے اور وہ اب اس کی ہلاکت کی وجوہات تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ممی کھولی نہیں گئی ہے تاہم اسکین میں عورت کے لمبے گھنگریالے بال اس کے کندھے پر دیکھے جاسکتے ہیں۔

    اشاعت کے مطابق یہ محفوظ کی گئی حاملہ خاتون کی دریافت کا پہلا کیس ہے، اس کے ذریعے قدیم وقتوں میں حمل اور زچگی سے متعلق نئے ممکنات پر تحقیق کے موقع ملیں گے-

    فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق یونیورسٹی آف وارسا کی ماہر بشریات (anthropologist) اور ماہر آثار قدیمہ (archaeologist) مرزینہ اوزیرک سزیلک نے صحافیوں کو بتایا کہ ‘میرے شوہر اسٹینسلا، ایک ماہر مصری آثار قدیمہ، اور میں نے ممی کا ایکسرے دیکھا جس میں مردہ حاملہ عورت (ممی) کے پیٹ میں تین بچوں کے آثار دیکھائی دیئے-

    انھوں نے بتایا کہ ٹیم امید کرتی ہے کہ اب وہ ممی کے جسم میں سے کچھ ٹشو حاصل کر کے حنوط شدہ خاتون کی موت کی وجہ کا بھی تعین کرے گی۔

    محققین کے مطابق ممی بہت اچھی حالت میں محفوظ‘ ہے لیکن اس کی گردن کے گرد کپڑے کو پہنچنے والے نقصان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسا کسی وقت قیمتی سامان ڈھونڈنے والوں نے کیا تھا۔

    ماہرین کہتے ہیں کہ کم از کم 15 اشیا جن میں ممی کی طرح کے تعویذ کا ایک ’مہنگا سیٹ‘ بھی شامل ہے، ممی کے اندر لپٹا ہوا برآمد ہوا ہے۔

    مذکورہ ممی کو 19ویں صدی میں پولینڈ منتقل کیا گیا تھا اور اسے وارسا یونیورسٹی کے نوادرات کے کلیکشن کا حصہ بنایا گیا تھا اس ممی کو 1917 میں نیشنل میوزیم میں رکھا گیا جسے علامتی تابوت کے ساتھ عوام کے دیکھنے کے لیے پیش کیا گیا۔

  • فیس بک نے پہلی بار آسکر ایوارڈ اپنے نام کر لیا

    فیس بک نے پہلی بار آسکر ایوارڈ اپنے نام کر لیا

    دنیا بھر میں مقبول سماجی رابطے کی سب سے بڑے پلیٹ فارم فیس بک نے اپنا پہلا آسکر ایوارڈ جیت لیا ۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے ورائٹی کے مطابق 93 ویں اکیڈمی ایوارڈز کی تقریب میں فیس بک کی زیرملکیت اوکیولوس رئیلٹی ہیڈ سیٹس اور ای ایز ریسپان انٹرٹینمنٹ گیم اسٹوڈیو کی تیار کردہ مختصر دستاویزی فلم نے 25 اپریل کو ڈاکومینٹری شارٹ کیٹیگری کا آسکر ایوارڈ اپنے نام کیا۔

    یہ پہلی بار ہے جب گیم انڈسٹری کے ایک پراجیکٹ نے آسکر ایوارڈ جیتا ہے۔

    فوٹو بشکریہ ورائٹی

    25 منٹ کی یہ فلم ‘کولیٹی’ فرنچ ریزیزٹنس کی سابق ممبر کولیٹی مارین کیتھرین کے گرد گھومتی ہے جو 74 سال میں پہلی بار جرمنی کا سفر کرتی ہیں اس فلم کو دوسری عالمی جنگ کے حوالے سے تیار کی جانے والی وی آر ویڈیو گیم میڈل آف آنر کے لیے بنایا گیا تھا۔

    کولیٹی نے اس کیٹیگری میں دیگر 4 فلموں کو شکست دی اس مختصر فلم کو انتھونی Giacchino نے تحریر کرنے کے ساتھ ڈائریکٹ کیا کولیٹی مارین کیتھرین کو اپنے ماضی کی جانب سے لوٹنے کے لیے ایک طالبعلم نے تیار کیا تھا جس نے انہیں قائل کیا کہ وہ اس کیمپ میں جائے جہاں نازیوں نے ان کے بھائی کو قتل کیا تھا۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم میں دکھائی جانے والی مرکزی کردار کی 92 ویں سالگرہ بھی 25 اپریل کو تھی۔


    آسکرملنے پر ایک ٹوئٹ میں فلم ساز نے ہر ایک کا شکریہ ادا کیا لکھا کہ اکیڈمی ایوارڈ کا اور اس منصوبے پر اعتماد کرنے کے لئے۔ آپ سب کا شکریہ جو اس فلم کا حصہ بنے-

    اسی طرح ایک بلاگ میں پروڈکشن ٹیم کا کہنا تھا کہ اس کامیابی کی اصل ہیرو کولیٹی ہی ہیں جنہوں نے اپنی کہانی شیئر کی،فلم میں نے ہم نے دیکھا تھا کہ مزاحمت کے لیے جرات کی ضروروت ہوتی ہے، مگر کسی کے لیے اپنے تکلیف دہ ماضی میں واپس جانا اس سے بھی زیادہ مشکل کام ہے۔

    آسکرز 2021:فلم "نومیڈ لینڈ” نے بہترین اداکارہ سمیت 6 ایوارڈز اپنے نام…

  • عوام سے رابطے بڑھانے کے لئے برطانوی ایجنسی نے سوشل میڈیا کا سہارا لے لیا

    عوام سے رابطے بڑھانے کے لئے برطانوی ایجنسی نے سوشل میڈیا کا سہارا لے لیا

    لندن: برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو نے انسٹا گرام پر اپنا اکائونٹ بنالیا جس پر معلومات شیئر کی جائیں گی ۔

    باغی ٹی وی : اس ضمن میں برطانیہ کی ʼایم آئی فائیو نے جمعرات کو فوٹو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام کی دنیا میں قدم رکھ دیا ہے ایم آئی فائیو کا انسٹاگرام پر آفیشل اکاؤنٹ ʼایم آئی فائیو آفیشل کے نام سے ہے۔

    تفصیلات کے مطابق برطانوی میڈیا کے مطابق برطانوی خفیہ ایجنسی اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ کے ذریعے ادارے سے متعلق قیاس آرائیاں دور کرنے کے ساتھ ساتھ ایسا مواد بھی عوام کے ساتھ شیئر کرے گی جو اس سے قبل منظر عام پر نہیں لایا گیا تھا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایم آئی فائیو انسٹاگرام پر حاضر سروس انٹیلی جنس آفیسرز کے ساتھ آن لائن سوال و جواب کے سیشن کا انعقاد کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے جبکہ وہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے ملازمت کے مواقع کو بھی فروغ دے گی۔​

    برطانیہ کی خفیہ ʼایجنسی ایم آئی فائیو اب سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا استعمال کر کے عوام سے رابطے میں رہنے کا آغاز کر رہی ہے۔ایم آئی فائیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام کا سہارا لیتے ہوئے عوام تک ایسی معلومات پہنچائے گی جس سے وہ لا علم ہیں۔

    ایم آئی فائیو لندن میں اپنے ہیڈ کوارٹر کے تہہ خانے میں موجود میوزیم کی تاریخی نمائشوں سے متعلق معلومات بھی پہلی مرتبہ اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کرے گی۔

    خفیہ ایجنسی کی جانب سے انسٹاگرام کے ذریعے عوام تک معلومات فراہم کرنے کا یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ʼایم آئی فائیو کے نئے ڈائریکٹر جنرل کین میک کیلم نے گزشتہ برس اکتوبر میں پہلی میڈیا بریفنگ میں کہا تھا کہ وہ خفیہ ایجنسی میں نئے طریقے آزماتے ہوئے انہیں سب کے سامنے لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

  • رئیل می کی 8 سیریز کا 5 جی اسمارٹ فون متعارف

    رئیل می کی 8 سیریز کا 5 جی اسمارٹ فون متعارف

    رئیل می نے اپنی 8 سیریز میں 8 فائیو جی اسمارٹ فون متعارف کرادیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : واضح رہے کہ رئیل می نے کچھ ماہ پہلے 7 سیریز کے فونز متعارف کرائے تھے اور مارچ 2021 میں اس کی اپ ڈیٹ ورژن 8 سیریز کو پیش کیا گیا مگر اس وقت رئیل می 8 سیریز میں 5 جی سپورٹ فراہم نہیں کی گئی تھی۔

    کمپنی کے مطابق کچھ صارفین نے 5 جی نہ ہونے پر ڈیوائس کو لینے سے انکار کیا تھا یہی وجہ ہے کہ اب رئیل می 8 فائیو جی کو متعارف کرادیا گیا ہے –

    فوٹو بشکریہ رئیل می
    رئیل می 8 فائیو جی میں سپورٹ فراہم کرنے والا ڈیمینسٹی 700 پراسیسر موجود ہے جو 2.77 جی بی پی ایس اسیڈ تک انٹرنیٹ چلانے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جبکہ 4 جی ماڈل میں ہیلیو جی 95 پرایسسر موجود ہے۔

    فوٹو بشکریہ رئیل می
    رئیل می 8 فائیو جی میں 6.5 انچ کا ایل سی ڈی ڈسپلے 90 ہرٹز ریفریش ریٹ کے ساتھ دیا گیا ہے جبکہ 4 سے 8 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج دی گئی ہے جس میں مائیکرو ایس ڈی سے ایک ٹی بی تک اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

    فوٹو بشکریہ رئیل می
    فون کے بیک پر 48 میگا پکسل مین کیمرا، 2 میگا پکسل میکرو اور 2 میگا پکسل ڈیپتھ کیمروں پر مشتمل سیٹ موجود ہے جبکہ فرنٹ پر 16 میگا پکسل کیمرا پنچ ہول ڈیزائن میں چھپا ہوا ہے۔

    فون کے اندر 5000 ایم اے ایچ کی طاقتور بیٹری ہے جو کمپنی کے مطابق 21 گھنٹے مسلسل ویڈیو چلاسکتی ہے یا کئی دن تک میوزک پلے بیک کیا جاسکتا ہے فون کے ساتھ 18 واٹ چارجر دیا گیا ہے جبکہ 4 جی ماڈل کے ساتھ 30 واٹ چارجر دیا جارہا ہے۔

    اس فون کو سب سے پہلے تھائی لینڈ میں فروخت کے لیے پیش کیا جارہا ہے جہاں اس کی قیمت 320 ڈالرز ( 49 ہزار روپے) رکھی گئی ہے۔

  • پاکستانی طلبہ نے نابینا افراد کے لئے دنیا کی سستی ترین ڈیجیٹل اسٹک تیار کر لی

    پاکستانی طلبہ نے نابینا افراد کے لئے دنیا کی سستی ترین ڈیجیٹل اسٹک تیار کر لی

    لیاری یونیورسٹی کے انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈپارٹمنٹ کے طلبہ نے نابینا افراد کے لئے دنیا کی سستی ڈیجیٹل اسٹک متعارف کرادی ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق لیاری یونیورسٹی کے طلباء کی ٹیم نے اپنے سپروائزر ڈاکٹر شفیق اعوان کی زیر نگرانی جدید چھڑی صرف تین ہزار روپے کی لاگت سے تیار کی ہے جو موبائل ایپلی کیشن سے منسلک ہے۔

    یہ ایپلی کیشن نابینا افراد کو اردو کے علاوہ انگریزی، سندھی پنجابی میں راستے میں آنے والی رکاوٹوں سے آواز کے ذریعے آگاہ کرتی ہے اور دیگر کسی بھی زبان کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ بصارت سے محروم افراد اس جادو کی چھڑی کا صرف ایک بٹن دباکر اپنے اہل خانہ یا دوستوں کو اپنی لوکیشن سے آگاہ کرسکتے ہیں۔

    یہ اسٹک تیار کرنے والے نوجوانوں کی ٹیم میں شہزاد غلام مصطفی، شہزاد منیر اور محمد حمزہ علی شامل ہیں جن کا تعلق مڈل کلاس گھرانوں سے ہے اور انہوں نے اپنے بی ایس آئی ٹی کے فائنل پراجیکٹ کے طور پر یہ چھڑی تیار کی ہے جس کی موبائل ایپلی کیشن بھی خود ڈویلپ کی گئی ہے۔

    اگر حکومتی سطح پر اس پراجیکٹ کی سرپرستی کی جائےتو یہ اسٹک صرف ایک ہزار روپے میں تیار کرسکتے ہیں-

    شہزاد غلام مصطفی نے بتایا کہ کرونا کی وبا کے دوران جہاں تعلیمی ادارے بند تھے ہم نے اپنے سپروائزر ڈاکٹر شفیق اعوان کی نگرانی میں تین ماہ کی مدت میں یہ ایپلی کیشن اور اسٹک تیار کی جو چار جدید الٹراسانک سینسرز پر مشتمل ہے، اسٹک کو ایک مرتبہ چارجنگ کے بعد ایک ہفتہ تک استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    شہزاد غلام مصطفی نے بتایا کہ اسٹک کو کمرشل بنیادوں پر تیار کرنے کے خواہش مند ہیں تاہم مالی وسائل آڑے آرہے ہیں، اگر حکومتی سطح پر اس پراجیکٹ کی سرپرستی کی جائے اور کمپونینٹس کی درآمد میں مدد فراہم کی جائے تو وہ بصارت سے محروم افراد کو یہ اسٹک صرف ایک ہزار روپے میں تیار کرکے دے سکتے ہیں ، یہ اسٹک ایکسپورٹ کرکے پاکستان کا نام دنیا میں روشن کرسکتے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ وہ اس اسٹک کی افادیت کو مزید بڑھانے کے لیے اس کو اپ گریڈ کررہے ہیں جلد ہی اس اسٹک میں کیمرا بھی نصب کیا جائے گا جو مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کی تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے بصارت سے محروم افراد کو ان کے اردگر موجود اشیا یا افراد کی شناخت کرکے آگاہ کریگی کہ سامنے سے ٹرک، کار سائیکل یا کوئی فرد آرہا ہے اسی طرح گوگل میپ کے ذریعے مطلوبہ مقام تک پہنچنے میں بھی رہنمائی فراہم کی جائیگی۔ش

    ہزاد غلام مصطفی نے بتایا کہ اگلا ورژن ایک جدید عینک پر مشتمل ہوگا جس میں کیمرا اور سینسرز نصب کیے جائیں گے۔ جادو کی اس چھڑی کو اپ گریڈ کرنے کے لیے الٹراسانک سینسرز کی جگہ جدید لیزر سینسرز استعمال ہوں گے جن کی رینج اور ایکوریسی زیادہ ہوگی-

  • 90 فیصد تک جھوٹ اور سچ کا صحیح تعین کرنے والی مشین

    90 فیصد تک جھوٹ اور سچ کا صحیح تعین کرنے والی مشین

    سائنسدانوں نے جھوٹ پکڑنے والی ایسی مشین ایجاد کرلی –

    باغی ٹی وی : غیر ملکی ویب سائٹ کے مطابق امریکا کی ایک ٹیکنالوجی فرم کونویرس نے 90 فیصد تک جھوٹ اور سچ کا صحیح تعین کرنے والی ایک لائی مشین متعارف کروائی ہے۔

    امریکہ میں ایجاد کی جانے والی مشین آنکھ کی پتلیوں کی حرکت ریکارڈ کرے گی جس سے سچ اور جھوٹ کا 90 فیصد تک بالکل صحیح تعین ہوسکے گا۔

    اس مشین کی آئی ڈیٹیکٹ ٹیکنالوجی انسانوں کی دل کی دھڑکن، سانس لینے یا پھر پسینہ آنے کا جائزہ لینے والی مشینوں سے بالکل ہٹ کر ہے۔

    فوٹو بشکریہ کونویرس
    فرم کے چیئرمین ٹوڈ میکلسن کا کہنا ہے کہ انسانوں کے اپنی سانس پر کنٹرول کرنے، پرسکون رہنے اور پسینہ نہ آنے سے سچ اور جھوٹ کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔

    آئی ڈیٹیکٹ کو تقریباً ایک سو مختلف عناصر کے ہمراہ پتلیوں کے سائز میں تبدیلی کو ریکارڈ کرنے کے لیے استعمال میں لایا جائے گا۔

    یوٹاہ یونیورسٹی کے عالمی سطح پر نامور سائنس دانوں نے 2003 میں یہ ٹیکنالوجی تیار کی اور وسیع تر تحقیق کے ذریعے ،اس میں بہترین تبدیلی لائی گئی ہے-

    کمپنی کے مطابق ایوارڈ یافتہ آئی آڈٹیکٹ ٹیکنالوجی صرف 15 سے 30 منٹ میں ملازمت کے درخواست دہندگان ، ملازمین ، مریضوں ، منشیات کے استعمال کنندہ ، کھلاڑیوں ، مجرموں کے مشتبہ افراد اور دیگر مخصوص معاملات یا جرائم کے بارے میں درست جانچ کرتی ہے۔

    آئی ڈیٹیکٹ کو عام عنوانات پر اسکریننگ ٹیسٹوں کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اور ، اس کا استعمال مجرمانہ یا سول مقدمات میں تشخیصی (واحد مسئلہ) ٹیسٹ کے لئے کیا جاسکتا ہے۔ یہ جھوٹ کا پتہ لگانے کی صنعت میں ایک حقیقی گیم چینجر ہے۔

  • سام سنگ  سستا ترین 5 جی اسمارٹ فون متعارف کرانے کے لیے تیار

    سام سنگ سستا ترین 5 جی اسمارٹ فون متعارف کرانے کے لیے تیار

    اسمارٹ فون کمپنی سام سنگ اپنا سستا ترین 5 جی اسمارٹ فون گلیکسی ایم 42 متعارف کرانے کے لیے تیار ہے۔

    باغی ٹی وی : سام سنگ کمپنی اپنا گلیکسی اے 52 اور اے 72 کے فائیو جی ماڈلز متعراف کرانے کے بعد اب اپنا سستا ترین 5 جی اسمارٹ فون گلیکسی ایم 42 اپریل کے آخر میں متعارف کرارہی ہے یہ فون 28 اپریل کو سب سے پہلے بھارت میں پیش کیا جائے گا۔

    ایم سیریز کے اس فون میں امولیڈ ڈسپلے دیئے جانے کا امکان ہے جس میں فنگرپرنٹ اسکینر اسکرین کے اندر نصب ہوگا۔

    فون میں اسنیپ ڈراگون 750 جی پراسیسر موجود ہوگا جبکہ امکان ہے کہ اس میں 4 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج دیا جائے گا جس میں ایس ڈی کارڈ سے مزید اضافہ کیا جاسکے گا۔

    فون کے بیک پر 4 کیمروں کا سیٹ اپ ہوگا جس میں مین کیمرا 64 میگا پکسل ہوسکتا ہے ،ایک الٹرا وائیڈ، ایک میکرو اور ایک ڈیتھ سنسنگ کیمرا ہوگا، جبکہ اینڈرائیڈ 11 کا امتزاج ون یو آئی 3.1 سے کیا جائے گا۔

    فون میں 6000 ایم اے ایچ کی طاقتور بیٹری موجود ہوگی تاہم فاسٹ چارجنگ سپورٹ کتنی ہوگی ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔

    اندازے کے مطابق اس فون کی بھارتی روپے میں 20 سے 25 ہزار ($270-335) پاکستانی روپے کے مطابق قیمت 40 سے 50 ہزار روپے ہوسکتی ہے جس کا انحصار ریم اور اسٹوریج پر ہوگا۔

    فوٹو بشکریہ گز چائنہ