Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • رئیل می کی 8 سیریز کا 5 جی اسمارٹ فون متعارف

    رئیل می کی 8 سیریز کا 5 جی اسمارٹ فون متعارف

    رئیل می نے اپنی 8 سیریز میں 8 فائیو جی اسمارٹ فون متعارف کرادیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : واضح رہے کہ رئیل می نے کچھ ماہ پہلے 7 سیریز کے فونز متعارف کرائے تھے اور مارچ 2021 میں اس کی اپ ڈیٹ ورژن 8 سیریز کو پیش کیا گیا مگر اس وقت رئیل می 8 سیریز میں 5 جی سپورٹ فراہم نہیں کی گئی تھی۔

    کمپنی کے مطابق کچھ صارفین نے 5 جی نہ ہونے پر ڈیوائس کو لینے سے انکار کیا تھا یہی وجہ ہے کہ اب رئیل می 8 فائیو جی کو متعارف کرادیا گیا ہے –

    فوٹو بشکریہ رئیل می
    رئیل می 8 فائیو جی میں سپورٹ فراہم کرنے والا ڈیمینسٹی 700 پراسیسر موجود ہے جو 2.77 جی بی پی ایس اسیڈ تک انٹرنیٹ چلانے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جبکہ 4 جی ماڈل میں ہیلیو جی 95 پرایسسر موجود ہے۔

    فوٹو بشکریہ رئیل می
    رئیل می 8 فائیو جی میں 6.5 انچ کا ایل سی ڈی ڈسپلے 90 ہرٹز ریفریش ریٹ کے ساتھ دیا گیا ہے جبکہ 4 سے 8 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج دی گئی ہے جس میں مائیکرو ایس ڈی سے ایک ٹی بی تک اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

    فوٹو بشکریہ رئیل می
    فون کے بیک پر 48 میگا پکسل مین کیمرا، 2 میگا پکسل میکرو اور 2 میگا پکسل ڈیپتھ کیمروں پر مشتمل سیٹ موجود ہے جبکہ فرنٹ پر 16 میگا پکسل کیمرا پنچ ہول ڈیزائن میں چھپا ہوا ہے۔

    فون کے اندر 5000 ایم اے ایچ کی طاقتور بیٹری ہے جو کمپنی کے مطابق 21 گھنٹے مسلسل ویڈیو چلاسکتی ہے یا کئی دن تک میوزک پلے بیک کیا جاسکتا ہے فون کے ساتھ 18 واٹ چارجر دیا گیا ہے جبکہ 4 جی ماڈل کے ساتھ 30 واٹ چارجر دیا جارہا ہے۔

    اس فون کو سب سے پہلے تھائی لینڈ میں فروخت کے لیے پیش کیا جارہا ہے جہاں اس کی قیمت 320 ڈالرز ( 49 ہزار روپے) رکھی گئی ہے۔

  • پاکستانی طلبہ نے نابینا افراد کے لئے دنیا کی سستی ترین ڈیجیٹل اسٹک تیار کر لی

    پاکستانی طلبہ نے نابینا افراد کے لئے دنیا کی سستی ترین ڈیجیٹل اسٹک تیار کر لی

    لیاری یونیورسٹی کے انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈپارٹمنٹ کے طلبہ نے نابینا افراد کے لئے دنیا کی سستی ڈیجیٹل اسٹک متعارف کرادی ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق لیاری یونیورسٹی کے طلباء کی ٹیم نے اپنے سپروائزر ڈاکٹر شفیق اعوان کی زیر نگرانی جدید چھڑی صرف تین ہزار روپے کی لاگت سے تیار کی ہے جو موبائل ایپلی کیشن سے منسلک ہے۔

    یہ ایپلی کیشن نابینا افراد کو اردو کے علاوہ انگریزی، سندھی پنجابی میں راستے میں آنے والی رکاوٹوں سے آواز کے ذریعے آگاہ کرتی ہے اور دیگر کسی بھی زبان کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ بصارت سے محروم افراد اس جادو کی چھڑی کا صرف ایک بٹن دباکر اپنے اہل خانہ یا دوستوں کو اپنی لوکیشن سے آگاہ کرسکتے ہیں۔

    یہ اسٹک تیار کرنے والے نوجوانوں کی ٹیم میں شہزاد غلام مصطفی، شہزاد منیر اور محمد حمزہ علی شامل ہیں جن کا تعلق مڈل کلاس گھرانوں سے ہے اور انہوں نے اپنے بی ایس آئی ٹی کے فائنل پراجیکٹ کے طور پر یہ چھڑی تیار کی ہے جس کی موبائل ایپلی کیشن بھی خود ڈویلپ کی گئی ہے۔

    اگر حکومتی سطح پر اس پراجیکٹ کی سرپرستی کی جائےتو یہ اسٹک صرف ایک ہزار روپے میں تیار کرسکتے ہیں-

    شہزاد غلام مصطفی نے بتایا کہ کرونا کی وبا کے دوران جہاں تعلیمی ادارے بند تھے ہم نے اپنے سپروائزر ڈاکٹر شفیق اعوان کی نگرانی میں تین ماہ کی مدت میں یہ ایپلی کیشن اور اسٹک تیار کی جو چار جدید الٹراسانک سینسرز پر مشتمل ہے، اسٹک کو ایک مرتبہ چارجنگ کے بعد ایک ہفتہ تک استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    شہزاد غلام مصطفی نے بتایا کہ اسٹک کو کمرشل بنیادوں پر تیار کرنے کے خواہش مند ہیں تاہم مالی وسائل آڑے آرہے ہیں، اگر حکومتی سطح پر اس پراجیکٹ کی سرپرستی کی جائے اور کمپونینٹس کی درآمد میں مدد فراہم کی جائے تو وہ بصارت سے محروم افراد کو یہ اسٹک صرف ایک ہزار روپے میں تیار کرکے دے سکتے ہیں ، یہ اسٹک ایکسپورٹ کرکے پاکستان کا نام دنیا میں روشن کرسکتے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ وہ اس اسٹک کی افادیت کو مزید بڑھانے کے لیے اس کو اپ گریڈ کررہے ہیں جلد ہی اس اسٹک میں کیمرا بھی نصب کیا جائے گا جو مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کی تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے بصارت سے محروم افراد کو ان کے اردگر موجود اشیا یا افراد کی شناخت کرکے آگاہ کریگی کہ سامنے سے ٹرک، کار سائیکل یا کوئی فرد آرہا ہے اسی طرح گوگل میپ کے ذریعے مطلوبہ مقام تک پہنچنے میں بھی رہنمائی فراہم کی جائیگی۔ش

    ہزاد غلام مصطفی نے بتایا کہ اگلا ورژن ایک جدید عینک پر مشتمل ہوگا جس میں کیمرا اور سینسرز نصب کیے جائیں گے۔ جادو کی اس چھڑی کو اپ گریڈ کرنے کے لیے الٹراسانک سینسرز کی جگہ جدید لیزر سینسرز استعمال ہوں گے جن کی رینج اور ایکوریسی زیادہ ہوگی-

  • 90 فیصد تک جھوٹ اور سچ کا صحیح تعین کرنے والی مشین

    90 فیصد تک جھوٹ اور سچ کا صحیح تعین کرنے والی مشین

    سائنسدانوں نے جھوٹ پکڑنے والی ایسی مشین ایجاد کرلی –

    باغی ٹی وی : غیر ملکی ویب سائٹ کے مطابق امریکا کی ایک ٹیکنالوجی فرم کونویرس نے 90 فیصد تک جھوٹ اور سچ کا صحیح تعین کرنے والی ایک لائی مشین متعارف کروائی ہے۔

    امریکہ میں ایجاد کی جانے والی مشین آنکھ کی پتلیوں کی حرکت ریکارڈ کرے گی جس سے سچ اور جھوٹ کا 90 فیصد تک بالکل صحیح تعین ہوسکے گا۔

    اس مشین کی آئی ڈیٹیکٹ ٹیکنالوجی انسانوں کی دل کی دھڑکن، سانس لینے یا پھر پسینہ آنے کا جائزہ لینے والی مشینوں سے بالکل ہٹ کر ہے۔

    فوٹو بشکریہ کونویرس
    فرم کے چیئرمین ٹوڈ میکلسن کا کہنا ہے کہ انسانوں کے اپنی سانس پر کنٹرول کرنے، پرسکون رہنے اور پسینہ نہ آنے سے سچ اور جھوٹ کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔

    آئی ڈیٹیکٹ کو تقریباً ایک سو مختلف عناصر کے ہمراہ پتلیوں کے سائز میں تبدیلی کو ریکارڈ کرنے کے لیے استعمال میں لایا جائے گا۔

    یوٹاہ یونیورسٹی کے عالمی سطح پر نامور سائنس دانوں نے 2003 میں یہ ٹیکنالوجی تیار کی اور وسیع تر تحقیق کے ذریعے ،اس میں بہترین تبدیلی لائی گئی ہے-

    کمپنی کے مطابق ایوارڈ یافتہ آئی آڈٹیکٹ ٹیکنالوجی صرف 15 سے 30 منٹ میں ملازمت کے درخواست دہندگان ، ملازمین ، مریضوں ، منشیات کے استعمال کنندہ ، کھلاڑیوں ، مجرموں کے مشتبہ افراد اور دیگر مخصوص معاملات یا جرائم کے بارے میں درست جانچ کرتی ہے۔

    آئی ڈیٹیکٹ کو عام عنوانات پر اسکریننگ ٹیسٹوں کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اور ، اس کا استعمال مجرمانہ یا سول مقدمات میں تشخیصی (واحد مسئلہ) ٹیسٹ کے لئے کیا جاسکتا ہے۔ یہ جھوٹ کا پتہ لگانے کی صنعت میں ایک حقیقی گیم چینجر ہے۔

  • سام سنگ  سستا ترین 5 جی اسمارٹ فون متعارف کرانے کے لیے تیار

    سام سنگ سستا ترین 5 جی اسمارٹ فون متعارف کرانے کے لیے تیار

    اسمارٹ فون کمپنی سام سنگ اپنا سستا ترین 5 جی اسمارٹ فون گلیکسی ایم 42 متعارف کرانے کے لیے تیار ہے۔

    باغی ٹی وی : سام سنگ کمپنی اپنا گلیکسی اے 52 اور اے 72 کے فائیو جی ماڈلز متعراف کرانے کے بعد اب اپنا سستا ترین 5 جی اسمارٹ فون گلیکسی ایم 42 اپریل کے آخر میں متعارف کرارہی ہے یہ فون 28 اپریل کو سب سے پہلے بھارت میں پیش کیا جائے گا۔

    ایم سیریز کے اس فون میں امولیڈ ڈسپلے دیئے جانے کا امکان ہے جس میں فنگرپرنٹ اسکینر اسکرین کے اندر نصب ہوگا۔

    فون میں اسنیپ ڈراگون 750 جی پراسیسر موجود ہوگا جبکہ امکان ہے کہ اس میں 4 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج دیا جائے گا جس میں ایس ڈی کارڈ سے مزید اضافہ کیا جاسکے گا۔

    فون کے بیک پر 4 کیمروں کا سیٹ اپ ہوگا جس میں مین کیمرا 64 میگا پکسل ہوسکتا ہے ،ایک الٹرا وائیڈ، ایک میکرو اور ایک ڈیتھ سنسنگ کیمرا ہوگا، جبکہ اینڈرائیڈ 11 کا امتزاج ون یو آئی 3.1 سے کیا جائے گا۔

    فون میں 6000 ایم اے ایچ کی طاقتور بیٹری موجود ہوگی تاہم فاسٹ چارجنگ سپورٹ کتنی ہوگی ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔

    اندازے کے مطابق اس فون کی بھارتی روپے میں 20 سے 25 ہزار ($270-335) پاکستانی روپے کے مطابق قیمت 40 سے 50 ہزار روپے ہوسکتی ہے جس کا انحصار ریم اور اسٹوریج پر ہوگا۔

    فوٹو بشکریہ گز چائنہ

  • واٹس ایپ میں نئی سیکیورٹی خامی کی نشاندہی ،لاکھوں صارفین کے اکاؤنٹس نشانے پر

    واٹس ایپ میں نئی سیکیورٹی خامی کی نشاندہی ،لاکھوں صارفین کے اکاؤنٹس نشانے پر

    انٹرنیٹ سیکیوریٹی کے ماہرین نے واٹس ایپ میں ایک نئی سیکیورٹی خامی کی نشاندہی کر دی ہے، واٹس ایپ میں موجود اس خامی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کوئی بھی فرد آپ کے علم میں لائے بنا آپ کا اکاؤنٹ بند کراسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : بزنس جریدے فاربس میں میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی ریسرچر لوئیس مارکوئز کارپنٹیرو اوور ارنیسوٹو کینالیز کا کہنا ہے کہ کوئی بھی فرد متعدد مرتبہ 2FA( ٹو فیکٹر آتھینٹیکیشن کوڈ) غلط ڈال کر واٹس ایپ کے کسی بھی استعمال کنندہ کو آسانی سے لاک آؤٹ کرسکتا ہے۔

    واٹس ایپ کی اس نئی خامی کو استعمال میں لانے کے لیے ہیکرز دو مختلف ویکٹرزکا استعمال کرتاہے، نئی ڈیوائس پر واٹس ایپ انسٹال کرنے کے بعد چیٹ سروس فعال کرنے لیے ہیکر آپ کا نمبر ڈالتا ہے تاہم ٹو-فیکٹر اتھینٹیکیشن سسٹم کے سبب وہ اس کی تصدیق نہیں کرپاتا۔

    کیونکہ واٹس ایپ اپنے صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے لیے ایپ پر لاگ ان کے لیے ٹو-فیکٹر اتھینٹیکیشن کا طریقہ کار فراہم کرتا ہے اور یہ ایک 6 ہندسوں کا کوڈ ہے جو ہیکر کو موصول نہیں ہوپاتا۔

    متعدد بار 2FA کوڈ ڈالنے پر واٹس ایپ آپ کا اکاؤنٹ 12 گھنٹے کے لیے لاک کردیتا ہے۔ اس کے بعد ہیکر واٹس ایپ اکاؤنٹ کے ساتھ ایک نیا ای میل ایڈریس بنا کر واٹس ایپ سپورٹ ٹیم کو بذریعہ ای میل صارف کا نمبر اپنا ہونے کا دعویٰ کرسکتا ہے اور کہہ سکتا ہے کہ آپ کا فون گم گیا ہے یا پھر چوری ہوگیا ہے لہٰذا اکاؤنٹ کو غیر فعال کرنے کی ضرورت ہے۔

    کہہ کر اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنے کی درخواست کرتے ہیں اور واٹس ایپ سپورٹ ٹیم کسی تصدیقی عمل کے اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر سکتی ہے جب کہ ہیکر اس عمل کو دوبارہ یقینی بنائے گا تاکہ مکمل طور پر آپ کا اکاؤنٹ غیر فعال کروایا جاسکے۔یہ سب کرنے کے لیے ہیکر کو صرف آپ کا موبائل فون نمبر اور زیرو’ ہیکنگ اسکلز‘ درکار ہوں گی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرکے ہیکرز کو آپ کے ذاتی ڈیٹا تک رسائی تو حاصل نہیں ہوگی، لیکن آپ ڈیٹا کے ساتھ ساتھ اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹ سے ہمیشہ کے یے محروم ہوسکتے ہیں اور پھر آپ کو واٹس ایپ استمال کرنے کے لیے نیا اکاؤنٹ کھولنا ہوگا۔

    یاد رہے کہ واٹس ایپ نے اکاؤنٹ ہیکنگ اور کسی صارف کے علم میں لائے بنا استمال کرنے کی خامی کی وجہ سے 2FA ویری فیکیشن متعارف کروائی تھی، تاہم اس سیکیورٹی فیچر سے ہیکر آپ کے ڈیٹا تک تو رسائی حاصل نہیں کرسکتے لیکن آپ کو ہمیشہ کے لیے واٹس ایپ اکاؤنٹ سے محروم کرسکتے ہیں-

    دوسری جانب واٹس ایپ انتظامیہ اس مسئلے کے حل کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے لیکن فی الحال اس مسئلہ کا کوئی حل موجود نہیں ہے۔

    واٹس ایپ نے اینڈرائیڈ اور آئی او ایس صارفین کو خوشخبری سنا دی

    واٹس ایپ ایک اور نیا دلچسپ فیچر متعارف کرانے کے لئے تیار

    واٹس ایپ کا وائس میسج کیلئے نیا فیچر متعارف کرانے کا فیصلہ

    پاکستانی طالب علم نے واٹس ایپ طرز کی ایپ بنالی

  • تجربہ گاہ میں انسان اور بندر کا ہائبرڈ بنانے کی تیاری

    تجربہ گاہ میں انسان اور بندر کا ہائبرڈ بنانے کی تیاری

    چینی اور امریکی سائنسدانوں نے ایک مشترکہ تجربے کے دوران انسان اور بندر کے انتہائی بنیادی خلیوں پر مشتمل زندہ ایمبریو تیار کیے ہیں۔

    باغی ٹی وی : واضح رہے کہ انسانوں اور حیوانوں کے خلیات میں ملاپ کی کوششیں کم از کم پچھلے بیس سال سے جاری ہیں جن میں سؤر اور بھیڑ کے خلیوں کو انسانی خلیات سے ملایا جاچکا ہے یہ کوششیں ’’زینو ٹرانسپلانٹیشن‘‘ (Xenotransplantation) کا حصہ ہیں، جس کا مقصد کسی جانور کے جسم میں انسانی اعضاء ’’اُگا کر‘‘ دوبارہ اسی شخص میں پیوند کرنا ہے۔

    زینوٹرانسپلانٹیشن میں کامیابی کی بدولت یہ ممکن ہوجائے گا کہ ایک انسان کے جسمانی خلیات کسی جانور میں داخل کرکے مطلوبہ عضو کی ہوبہو اور جیتی جاگتی نقل اس جانور میں ’’کاشت‘‘ کرلی جائے، جسے واپس اسی انسان کے جسم میں پیوند کردیا جائے۔

    اس طرح متاثرہ افراد کےلیے عطیہ کردہ اعضاء اور ان سے وابستہ دیگر مسائل بھی ختم کرنے میں بہت مدد ملے گی۔

    بھیڑ اور سؤر کے مقابلے میں انسان اور بندر میں مماثلت خاصی زیادہ ہے اسی بناء پر سائنسدانوں کے سامنے سوال تھا کہ اگر انسان اور بندر کے انتہائی بنیادی خلیے آپس میں ملادیئے جائیں تو کیا وہ ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ رہتے ہوئے نشوونما حاصل کر پائیں گے؟

    ایکسپریس نے آن لائن ریسرچ جرنل ’’سیل‘‘ کے تازہ ترین شمارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ چینی صوبے ینان کی کنمنگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور امریکی ریاست کیلیفورنیا میں سالک انسٹی ٹیوٹ فار بایولاجیکل اسٹڈیز کے ماہرین نے یہ اہم تحقیق مشترکہ طور پر انجام دی ہے۔

    انسان اور بندر کا ہائبرڈ بنانے کےلیے مکاک بندروں کے ایمبریو لیے گئے جو ’’بلاسٹوسسٹ‘‘ مرحلے پر تھے، یعنی وہ مرحلہ کہ جس میں جنین صرف چند خلیوں والی ایک کھوکھلی گیند کی شکل میں ہوتا ہے۔

    مکاک بندر کے بلاسٹوسسٹ میں انتہائی بنیادی اور ’’ہر فن مولا‘‘ قسم کے انسانی خلیاتِ ساق (stem cells) داخل کیے گئے، جو تقسیم در تقسیم اور تفریق در تفریق کے مرحلوں سے گزر کر کسی بھی عضو کے خلیات میں بدلنے کی قدرتی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق، ان تجربات میں بندر کے ہر بلاسٹوسسٹ میں 25 انسانی خلیاتِ ساق (hEPSCs) داخل کیے گئے۔

    فلوریسنٹ ٹیگنگ کی مدد سے سائنسدانوں نے بندر اور انسان کے خلیوں میں ملاپ کے بعد ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھی۔ انہیں معلوم ہوا کہ ابتدائی طور پر بندر کے 132 جنین اور انسانی خلیات بڑی کامیابی سے آپس میں مربوط ہوگئے ان میں سے 103 مخلوط جنین دس دن بعد تک زندہ رہے اور نشوونما کے مراحل طے کرتے رہے۔

    البتہ، اس مرحلے کے بعد یہ مخلوط جنین زیادہ تیزی سے ختم ہونے لگے، یہاں تک کہ 19ویں روز تک صرف 3 مخلوط جنین ہی زندہ بچ پائے تاہم، تجربے کی حدود/ تقاضوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے، یہ جنین بھی تلف کردیئے گئے۔

    بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے ، یونیورسٹی آف ایسٹ اینجلیہ کے نوروچ میڈیکل اسکول میں بائیو میڈیکل اخلاقیات کی لیکچرر اور محقق ، ڈاکٹر انا سمجاڈور نے کہا کہ اس کے "اہم اخلاقی اور قانونی چیلینجز” ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا: "اس تحقیق کے پیچھے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ چیمریک جنین نئے مواقع پیش کرتے ہیں ، کیوں کہ ‘ہم انسانوں میں کچھ خاص قسم کے تجربات کرنے سے قاصر ہیں’۔ لیکن یہ جنین انسانی ہیں یا نہیں ، یہ تجربات سوالات کے جوابات جاننے کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہے۔”

    آکسفورڈ اوہیرو سینٹر برائے عملی اخلاقیات کے ڈائریکٹر اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے سنٹر برائے اخلاقیات اور انسانیت کے شریک ڈائریکٹر پروفیسر جولین سیوولسکو نے کہا کہ تحقیق کی بدولت یہ ممکن ہوجائے گا کہ ایک انسان کے جسمانی خلیات کسی جانور میں داخل کرکے مطلوبہ عضو کی ہوبہو اور جیتی جاگتی نقل اس جانور میں ’’کاشت‘‘ کرلی جائے، جسے واپس اسی انسان کے جسم میں پیوند کردیا جائے۔

    پروگریسو ایجوکیشنل ٹرسٹ کی ڈائریکٹر ، سارہ نورکراس نے کہا کہ جبکہ بران اور اسٹیم سیل ریسرچ میں "خاطر خواہ ترقی” کی جارہی ہے ، جو اتنے ہی کافی فائدہ اٹھاسکتی ہے ، "اخلاقی اور ضابطہ کار کے بارے میں عوامی بحث و مباحثے کی واضح ضرورت ہے۔ اسی لئے ان چیلنجوں کوقبول کیا گیا "۔

    جینیاتی تجزیوں کی تکنیکوں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نشوونما پاتے دوران اس مخلوط جنین میں خلیوں کے مابین رابطے کے انداز بھی بدل چکے تھے۔

  • اوپو نے اپنی اے سیریز کا نیا اسمارٹ فون متعارف کرادیا

    اوپو نے اپنی اے سیریز کا نیا اسمارٹ فون متعارف کرادیا

    سمارٹ فون کمپنی اوپو نے اپنی اے سیریز کا نیا اسمارٹ فون اوپو اے 35 متعارف کرادیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اوپو اے 35 نامی یہ اسمارٹ فون پہلے چین میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا اور یہ 3 رنگوں میں دستیاب ہوگا۔

    اوپو اے 35 فون میں میڈیا ٹیک کا ہیلیو پی 35 پراسیسر دیا جارہا ہے جبکہ اینڈرائیڈ 10 آپریٹنگ سسٹم کا امتزاج کلر او ایس 7.2 سے کیا گیا ہے۔

    فون کے اندر 4 جی بی ریم ریم اور 128 جی بی اسٹوریج موجود ہے جس میں ایس ڈی کارڈ سے 256 جی بی تک اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

    فون کی ایچ ڈی پلس ایل سی ڈی ڈسپلے 6.5 انچ ہو گی جس میں واٹر ڈراپ نوچ میں 8 میگا پکسل سیلفی کیمرا چھپا ہوا ہے۔

    فون کے بیک پر 3 کیمروں کا سیٹ اپ موجود ہے فون کا مین کیمرا 13 میگا پکسل کا ہے جس کے ساتھ 2 میگا پکسل میکرو اور 2 میگا پکسل ڈیپتھ کیمرے موجود ہیں۔

    فون میں 4230 ایم اے ایچ بیٹری دی گئی ہے جس کے ساتھ 10 واٹ فاسٹ چارجنگ سپورٹ دی گئی ہے۔

    کمپنی کی جانب سے فی الحال ڈیوائس کی دستیابی کی تاریخ اور قیمت کا اعلان نہیں کیا گیا-

  • سام سنگ اپنی فلیگ شپ گلیکسی ایس 21 سیریز کا سستا اسمارٹ فون متعارف کرانے کے لیے تیار

    سام سنگ اپنی فلیگ شپ گلیکسی ایس 21 سیریز کا سستا اسمارٹ فون متعارف کرانے کے لیے تیار

    سام سنگ اپنی فلیگ شپ گلیکسی ایس 21 سیریز کا ایک نیا اور سستا اسمارٹ فون متعارف کرانے کے لیے تیار ہے۔

    باغی ٹی وی : گلیکسی ایس 21 ایف ای (فین ایڈیشن) کی پہلی جھلک سامنے آئی ہے تصاویر سے گلیکسی ایس 21 جیساکیمرا سیٹ اپ بیک پر دیکھا جاسکتا ہے تاہم رئیر کیمرا پینل بیک کور کی رنگت جیسا ہے۔

    فوٹو بشکریہ آنلیکس
    درحقیقت پہلی نظر میں تو یہ نیا اسمارٹ فون گلیکسی ایس 21 جیسا ہی نظر آتا ہے، مگر یہ کچھ بڑا اور چوڑا ہوگا کیونکہ گلیکسی ایس 21 میں 6.2 انچ اسکرین دی گئی ہے کیونکہ گلیکسی ایس 21 ایف ای میں 6.4 انچ کا فلیٹ پینل امولیڈ ڈسپلے موجود ہوسکتا ہے۔

    فون میں فرنٹ پر ایک کیمرا پنچ ہول ڈیزائن میں ہوگا جبکہ بیک پر 3 کیمروں کا سیٹ اپ ہوگا بیک کیمرا سیٹ اپ 12 میگا پکسل مین، 64 میگا پکسل ٹیلی فوٹو اور 12 میگا پکسل الٹرا وائیڈ کیمروں پر مشتمل ہوگا جیسا گلیکسی ایس 21 میں موجود ہے۔

    فوٹو بشکریہ آنلیکس
    اس سے قبل گزشتہ سال گلیکسی ایس 20 ایف ای کوایس 20 کے مقابلے میں زیادہ سستا ہونے کے باوجود فلیگ شپ فیچرز کی موجودگی کی وجہ سے بہت زیادہ پسند کیا گیا تھا-

    اس بار بھی سام سنگ کی جانب سے اس فارمولے کو ایف 21 ایف ای پر بھی آزمایا جائے گا جس کی قیمت 700 ڈالرز (ایک لاکھ 6 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) ہونے کا امکان ہے۔

  • غیر ملکی ڈیجیٹل اتھارٹی نے مفت وائی فائی استعمال کرنے والوں کو خبر دار کر دیا

    غیر ملکی ڈیجیٹل اتھارٹی نے مفت وائی فائی استعمال کرنے والوں کو خبر دار کر دیا

    متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ریاست ابوظبی کی انتظامیہ نے شہریوں کو مفت وائی فائی سروس کے استعمال سے خبردار کردیا۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ابوظبی کی انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ عوامی مقامات پر مفت وائی فائی انٹرنیٹ سروس استعمال کرنے سے صارفین ہیکرز کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق عوامی مقامات پر مفت انٹرنیٹ کی سروس یوں تو باآسانی میسر ہوتی ہے مگر اس کے بے حد نقصانات ہوتے ہیں۔


    ابوظبی کی ڈیجیٹل اتھارٹی (اے ڈی ڈی اے) نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے پیغام میں بتایا کہ صارفین مفت وائی فائی کے استعمال سے قبل وی پی این کا استعمال کریں تاکہ ان کا ڈیٹا محفوظ رہ سکے۔

    انہوں نے بتایا کہ سائبر کرائم کرنے والے افراد بھی اکثر ایسے ہی وائی فائی کا استعمال کررہے ہوتے ہیں تاکہ لوگوں کو دھوکا دے سکیں۔


    انہوں نے کہا کہ احتیاط ہی سائبر خطرات سے آپ کو محفوظ رکھ سکتی ہے محتاط رہیں ، محفوظ رہیں۔

  • انسانی بالوں سے مضبوط سولر سیلوں کی تیاری

    انسانی بالوں سے مضبوط سولر سیلوں کی تیاری

    ماہرین کے مطابق انسانی بال میں موجود قدرتی اجزا کی بنا پر اب ایسے سولرسیلوں کو مضبوط اور بہتر بنایا جاسکتا ہے-

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ شمسی سیل روایتی سلیکان سیل کے مقابلے میں زیادہ بجلی خارج کرتے ہیں انہیں پرووسکائٹ شمسی سیل کہا جاتا ہے۔

    گزشتہ عشرے سے روایتی مونوکرسٹلائن سلیکان شمسی سیل کی بجائے پرووسکائٹ شمسی سیلوں کی افادیت سامنے آئی ہے لیکن پرووسکائٹ شمسی سیل بہت نازک اور غیرپائیدار ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اب تک پرووسکائٹ شمسی سیل تجارتی پیمانے پر تیار نہیں کیے جاسکے ہیں۔ لیکن اب انسانی بالوں میں اس کا حل سامنےآیا ہے۔

    اس سے قبل یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ کے سائنسدان انسانی بال سے اخذ کردہ اجزا سے اوایل ای ڈی بناتے رہے ہیں اب پرووسکائٹ شمسی سیلوں میں انہیں استعمال کیا جارہا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی بال میں کاربن اور نائٹروجن کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے جو روشنی خارج کرنے والے انجینیئرنگ نظاموں کےلیے بہت ضروری ہوتی ہے۔

    اس کے لئے پہلے انسانی بالوں کو 240 درجے سینٹی گریڈ پر جلایا گیا تاکہ وہ مزید سادہ اجزا میں تقسیم ہوجائیں اور ان سے نائٹروجن اور کاربن کو الگ کرلیا جائے۔

    اب کوئنز یونیورسٹی کی ٹیم نے انسانی بالوں سے کاربن نینو ڈاٹس حاصل کیے ہیں اور انہیں شمسی سیلوں پر لگایا ہے انہوں نے شمسی سیلوں پر اس کی باریک تہہ چڑھائی جو ایک لہردار صورت اختیار کرگئی لیکن اسی پرت نے سولر سیل کو مضبوطی اور تحفظ فراہم کیا۔

    پروفیسر ہونگشیا وینگ نے کہا کہ اس طرح کی پرت ایک حفاظتی دیوار کی طرح کام کرتی ہے جو پرووسکائٹ کو نمی اور دیگر ماحولیاتی اثر سے بچا کر اس کی ٹوٹ پھوٹ کو روکتی ہے۔

    سائنسدانوں نے دیکھا کہ انسانی بال سے بنے کاربن نینوڈاٹس سے نہ صرف پرووسکائٹ شمسی سیل مضبوط ہوئے بلکہ دھوپ سے بجلی بنانے میں ان کی افادیت بھی بڑھ گئی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ 20 برس سے پرووسکائٹ شمسی سیلوں کی تیاری میں ان کی نزاکت ہی مرکزی رکاوٹ تھی توقع ہے کہ اگر یہ تدبیر کارگر رہتی ہے تو نہایت مؤثر پرووسکائٹ شمسی سیلوں کی تجارتی پیمانے پر تیاری کی راہ ہموار ہوسکے گی۔