Baaghi TV

Category: شوبز

  • سوشل میڈیا پر فیروز خان کا  مداحوں کے لئے خصوصی پیغام

    سوشل میڈیا پر فیروز خان کا مداحوں کے لئے خصوصی پیغام

    اسلام کی خاطر شوبز انڈسٹری سے کنارہ کشی اختیار کرنے والے پاکستان شوبزانڈسٹری کے معروف اداکار فیروز خان نے اپنی 30ویں سالگرہ کے موقع پر سوشل میڈیا پر مداحوں کے لیے خصوصی پیغام جاری کیا ہے۔

    باغی ٹی وہ : سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر فیروز خان نے اپنی ایک تصویر پوسٹ کرتے ہوئے کیپشن میں اپنے مداحوں کے لیے دعا کرتے ہوئے لکھا کہ اللہ نہایت مہربان رہا اور اس کو حقیقی رکھا میں ہمیشہ آپ سب کے لیے بھی اللہ تعالی سے وہی دُعا کرتا ہوں جو اپنے لیے کرتا ہوں کیونکہ دوستو آپ میرے لیے بہت عزیز ہیں۔
    https://www.instagram.com/p/CCedgSaBdcN/

    اُنہوں نے لکھا کہ اللہ آپ سب کی اور آپ کی جان اور آپ کے اہل خانہ، آپ کی شہرت اور زندگی اور ہر چھوٹی بڑی چیز کی حفاظت کرے۔

    فیروز خان نے لکھا کہ کبھی بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نااُمید نہ ہونا، کبھی نہیں ! لڑو اور جیتو اور شکرکرواور اگر شکست کھا کر گر جاتے ہو تو دوبارہ کھڑے ہو اور کوشش کرتے رہو لیکن کبھی مایوس نہ ہونا اور کوشش کرتے رہنا۔

    فیروز خان نے خود کو 30 ویں سالگرہ کی مبارک باد دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شُکر ادا کیا-

    فیروز خان کی پوسٹ پرجہاں مداحوں نے بھی اداکار کو سالگرہ کی مبارجباد دیتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا وہیں اداکارہ و ماڈل سنیتا مارشل اور طوبیٰ صدیقی نے بھی کمنٹ کرکے اُنہیں سالگرہ کی مبارکباد دی۔

  • امیتابھ بچن کے بعد  ابھیشیک بچن کرونا وائرس کا شکارہوگئے

    امیتابھ بچن کے بعد ابھیشیک بچن کرونا وائرس کا شکارہوگئے

    نئی دہلی : امیتابھ بچن کے بعد ابھیشیک بچن کرونا وائرس کا شکارہوگئے ،اطلاعات کے مطابق ولی وڈ کے مقبول ترین اداکار امیتابھ بچن اور ان کے بیٹے ابھیشیک بچن میں نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد ہسپتال میں داخل ہوگئے ہیں۔

     

    پہلے 77 سالہ اداکار نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے خاندان اور ذاتی عملے کے بھی ٹیسٹ ہورہے ہیں۔معروف بھارتی اداکارامیتھا بچن کرونا وائرس کا شکارہوگئے

    معروف بھارتی اداکارامیتھا بچن کرونا وائرس کا شکارہوگئے،باغی ٹی وی کےمطابق معروف بھارتی اداکار،فنکاربالی ووڈ کی ہردل عزیزشخصیت امیتھا بچن کو کرونا وائرس ہوگیا ہے ،اس بات کی اطلاع انہوں نے خود دی ہے

    باغی ٹی وی کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپراپنے پیغام میں امیتھا بچن نے کہا ہےکہ ان کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے اور،یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ان کوہسپتال منتقل کردیا گیا ہے ،


    باغی ٹی وی کے مطابق بھارتی فلم انڈسٹری کی معروف سخصیت امیتھا بچن کے ملازموں کا بھی ٹیسٹ کیا جارہا ہے تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جاسکے کہ کہیں وہ تو کرونا کا شکارنہیں ہوگئے

    امیتابھ بچن نے بتایا ‘مجھ میں کووڈ کی تشخیص ہوئی ہے اور ہسپتال منتقل ہوگیا ہوں، خاندان اور عملے کے افراد کے بھی ٹیسٹ ہورہے ہیں اور نتائج کا انتظار ہے، گزشتہ 10 دن کے دوران میرے قریب رہنے والوں سے درخواست ہے کہ وہ اپنے ٹیسٹ کروالیں’۔

  • معروف بھارتی اداکارامیتھا بچن کرونا وائرس کا شکارہوگئے

    معروف بھارتی اداکارامیتھا بچن کرونا وائرس کا شکارہوگئے

    نئی دہلی :معروف بھارتی اداکارامیتھا بچن کرونا وائرس کا شکارہوگئے،باغی ٹی وی کےمطابق معروف بھارتی اداکار،فنکاربالی ووڈ کی ہردل عزیزشخصیت امیتھا بچن کو کرونا وائرس ہوگیا ہے ،اس بات کی اطلاع انہوں نے خود دی ہے

    باغی ٹی وی کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپراپنے پیغام میں امیتھا بچن نے کہا ہےکہ ان کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے اور،یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ان کوہسپتال منتقل کردیا گیا ہے ،


    باغی ٹی وی کے مطابق بھارتی فلم انڈسٹری کی معروف سخصیت امیتھا بچن کے ملازموں کا بھی ٹیسٹ کیا جارہا ہے تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جاسکے کہ کہیں وہ تو کرونا کا شکارنہیں ہوگئے

    یہ بھی بتایا جارہا ہےکہ ملازمین اورگھر کے دوسرے افراد کے ٹیسٹ کی حتمی رپورٹ آنے میں دس دن لگ سکتے ہیں

  • کسی بھی کام کو کرنے میں جلد بازی نہ کریں ہر کام کو پُرسکون انداز میں سرانجام دیں   عمران عباس

    کسی بھی کام کو کرنے میں جلد بازی نہ کریں ہر کام کو پُرسکون انداز میں سرانجام دیں عمران عباس

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اور خوبرو اداکار عمران عباس نے اپنے مداحوں کو سوشل میڈیا پر ایک کوبصورت پیغام دیا ہے

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر عمران عباس نےاپنی ایک تصویر پوسٹ کی جس میں اداکار اپنے گھر کےلان میں بیٹھے ہیں اور ہمیشہ کی طرح خبرو اور پُرکشش نظر آرہے ہیں۔

    پوسٹ کے کیپشن میں اداکار نے لکھا کہ امن ایک ایسا عمل ہے جو روزانہ، ہفتہ وار اور ماہانہ کیا جاتا ہے جس کے ذریعے ہم آہستہ آہستہ اپنی منفی رائے کو بدلتے ہیں اور اپنے مقصد میں آنے والی رکاوٹوں کو ختم کر دیتے ہیں۔

    عمران عباس نے لکھا کہ اور پھر اپنے مقصد کے لیے نیا ڈھانچی تعمیر کرتے ہیں جو ہمارے لیے مفید ہوتا ہے۔

    اداکار نے لکھا کہ اسی لیے آپ کسی بھی کام کو کرنے میں جلد بازی نہ کریں، ہر کام کو پُرسکون انداز میں سرانجام دیں تاکہ آپ کو کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    اُنہوں نے لکھا کہ جب بھی آپ کوئی کام کریں تو آپ خود کو اندرونی طور پر بھی پُرسکون رکھیں چاہے آپ کے سامنے دُنیا کی کتنی ہی بڑی پریشانی کیوں نہ ہوں کبھی بھی صبر کا دامن نہ چھوڑیں۔

    اس سے قبل عمران عباس نے اپنی ایک انسٹاگرام پوسٹ میں مداحوں کو نصیحت کرتے ہوئے لکھا تھا کہ چاہے جیسے بھی حالات ہوں ہمیشہ مثبت رہیں اور اپنی زندگی کے روشن پہلو دیکھیں آپ اپنے کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جتنی زیادہ محنت کریں گے تو آپ اُس کو حاصل کرنے کے بعد خود پر اُتنا ہی زیادہ فخر محسوس کریں گے۔

    ہر حال میں مثبت رہیں اور زندگی کے روشن پہلو دیکھیں

  • آیا صوفیہ کی بحالی اور ترکی کا نیا ارطغرل  تحریر : عشاء نعیم

    آیا صوفیہ کی بحالی اور ترکی کا نیا ارطغرل تحریر : عشاء نعیم

    آیا صوفیہ کی بحالی اور ترکی کا نیا ارطغرل
    تحریر : عشاء نعیم

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے استنبول کی تاریخی اہمیت کی حامل عمارت آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے صدارتی حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔
    جمعہ کے مبارک دن مسلمانوں کے لیے جب ہر طرف سے افسوس ناک اور رنجیدہ کر دینے والی خبریں سننے کو مل رہی ہیں اور مسلمان بے بسی کی تصویر بنے نظر آتے ہیں
    یہ ایک عظیم خوش خبری تھی ۔
    جبکہ مزید طیب اردگان نے کہا
    "آیا صوفیہ کا دوبارہ مسجد میں تبدیل ہونا ،مسجد اقصی کے دوبارہ فتح ہونے کا پہلا قدم ہے”
    اردگان کی یہ بات مسلمانوں کی روح کو تسکین دے گئی ۔
    1934 میں جب کمال اتاترک جیسے ملحد نے جہاں ترکی سے خلافت ختم کی وہیں اللہ کے گھر آیا صوفیہ کو مسجد سے عجائب گھر میں تبدیل کر دیا ۔
    یاد رہے اس ملحد نے ترکی سے اسلام کامکمل خاتمہ کردیا تھا ۔
    سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ کر کے ترکی میں ہر اسلامی شعار پہ پابندی، نماز ،قرآن اور اذان ہر چیز پہ پابندی ہی نہیں لگائی بلکہ ترکی زبان میں شامل عربی الفاط بھی ختم کردیئے ۔
    پردے پہ پابندی لگا دی اور اپنے مغربی آقاوں کی خوب غلامی کرتے ہوئے اسلام سے غداری کی ۔
    لوگ چھپ چھپ کر نماز پڑھتے تھے اور وہاں پولیس گھر گھر جاکر تلاشی لیتے تھی کسی کے گھر سے جائے نماز یا قرآن نکل آتا تو اسے پکڑ کر لے جاتے تھے ۔
    ترکی نے اس کے بعد خوب مادی ترقی کی اور ایک سازش کے تحت لوگوں کے ذہن بھی بدل دیئے گئے ۔
    اب ترکی کا اسلام سے واسطہ نظر نہیں آتا تھا بلکہ ترکش لوگ یورب میں شامل ہونے کے لیے ہلکان ہوئے جاتے تھے ۔
    مغربی لباس ہی نہیں بلکہ تہذیب اور ہر رنگ مغرب کے رنگ میں رنگ گیا ۔
    لیکن اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس کے دل میں بس جائے پھر نکالنا آسان نہیں ہوتا ۔
    کیونکہ یہ سچا آفاقی مذہب ہے جو عین فطرت کے مطابق ہے ۔
    ترکی میں بھی لوگ چھپ چھپ کر نماز قرآن پڑھتے رہے اور اپنی اولاد کو بھی اسلام سے آگاہ کرتے ہوئے اپنے اسلاف ست روشناس کرواتے رہے ۔
    ان کے دل سے کوئی اسلام نہ نکال سکا ۔
    کچھ لوگ تو محض ڈر کی وجہ سے بظاہر ایسا روپ دھارے ہوئے تھے جو مغربی یا سیکولر تھا لیکن دل پکا مسلمان تھا۔
    انھیں اسلام پسند لوگوں میں ایک احمد اردگان بھی تھا جس نے اپنے بیٹے کو نہ صرف اسلام سے روشناس کروایا بلکہ اسے نسل و حسب پہ فخر کرنا بھی بتایا کہ غیر معنی ہے اور اصل چیز تقوی ہے ۔
    طیب اردگان کی زندگی پہ بحث الگ چیز ہے فی الحال آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس نے ترکی کی باگ ڈور سنبھالتے ہی مذہب پہ پابندی کا قانون معطل کردیا اور حجاب پہ لگی پابندی کا خاتمہ کر دیا ۔اس کی اپنی بیوی بھی حجاب لیتی ہے ۔
    اس سے اسلام پسند حلقے میں جہاں ترکی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی وہاں پوری دنیا کے مسلمانوں نے مسرت کا اظہار کیا ۔
    اس کے بعد طیب اردگان کے کئی اسلامی کارنامے سامنے آئے ۔
    جن میں کونٹنٹ وار میں شامل ہونے کے لیے ارطغرل جیسا دنیا کا مقبول ترین ڈرامہ اور اب سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان غازی بھی شامل ہے ۔
    اس کے علاوہ نئی نسل کو اپنے اپنی تاریخ سے آگاہ کرنے کے لیے شاندار ماضی کو دکھانے کے لیے آخری خلیفہ عبدالحمید جیسے ڈرامے بھی بنائے ۔
    بظاہر یہ ڈرامے ہیں لیکن ان ڈراموں نے مسلمان بچوں کے ذہن بدل کر رکھ دئیے ہیں ۔
    تو بات ہو رہی تھی آیا صوفیہ کی جسے مسجد سے عجائب گھر اور عجائب گھر سے مسجد میں تبدیل کیا گیا ہے ۔
    یہ شروع میں ایک عیسائیوں کی عبادت گاہ تھی جسے
    1453 میں سلطان فاتح محمد نے اسے مسجد میں تبدیل کرتے ہوئے یہاں پانچ وقت رب کی عبادت کے لیے وقف کردیا ۔
    بعد میں اس کی عمارت کو باقاعدہ مسجد کی طرز میں تبدیل کردیا گیا اور مشہور عثمانی ماہرِ تعمیر سنان نے اس عمارت کے گنبد کے ساتھ چار مینار تعمیر کیے اور مسجد کے اندر تصاویر ہٹا کر ان کی جگہ اسلامی خطاطی کی تھی۔

    پھر 1934 میں سینکڑوں سال اذان کی آواز گونجتی کو بند کردیا گیا تھا ۔
    اور اسے عجائب گھر قرار دے دیا گیا ۔
    موجودہ ترک صدر شروع ہی سے اسے مسجد بنانے کے لیے پرعزم تھے۔ سال 1994 میں جب وہ  استنبول کے ناظم کا انتخاب لڑ رہے تھے تو انہوں نے اس عمارت کو نماز کے لیے کھولنے کا وعدہ کیا تھا جبکہ 2018 میں وہ یہاں قرآن کی تلاوت بھی کرچکے ہیں۔

    ترک صدر رجب طیب اردوغان نے یونیسکو کے عالمی تاریخی ورثے میں شامل اس مقام کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنے کی تجویز دی تھی۔ آیا صوفیہ مسیحی بازنطینی اور مسلمان سلطنت عثمانیہ دونوں کے لیے بنیادی اہمیت کی حامل رہی ہے۔
     آیا صوفیہ دنیا کی مشہور ترین عمارتوں میں سے ایک جو 537 میں تعمیر ہوئی اور سیاحوں کے لیے انتہائی کشش کی حامل تاریخی عمارت ہے۔ ترکی میں سیاح سب سے زیادہ اس جگہ کو دیکھنے آتے ہیں۔
     1400 سال قدیم عمارت ترکی کی سیکولر بنیادیں محفوظ بنانے کے حامیوں اور صدر کی خواہشات کے درمیان کشمکش کا مرکز ہے۔عدالت کا فیصلہ آنے سے پہلے ہی یونان، روس اور امریکی حکام اس پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ روس میں مشرقی آرتھوڈاکس کلیساؤں کے وفاق کے سربراہ نے کہا تھا کہ انہیں ترک حکومت کے اس اقدام پر تشویش ہے۔
    واضح رہے کہ آیا صوفیہ تعمیر کے بعد سے کئی صدیوں تک مشرقی آرتھوڈاکس کلیسا کے طور پر استعمال کی جاتی رہی ہے۔ روسی مذہبی رہنما نے کہا کہ آج قدیم کلیسا کے ہر روسی پیروکار کے لیے آیا صوفیہ ایک عظیم عیسائی عبادت گاہ ہے اور اس کی موجودہ حیثیت میں کوئی بھی رد و بدل روسی عوام کے دکھ کا باعث ہو گا۔
     انہوں نے ترک حکومت سے درخواست کی تھی کہ وہ اس معاملے میں احتیاط سے کام لیں۔ یونیسکو نے بھی ایک بیان میں اس اقدام پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
    یونان کی وزیر ثقافت لینا منڈونی نے اس عدالتی فیصلے کو مہذب دنیا کے لیے ‘کھلی اشتعال انگیزی’ قرار دیتے ہوئے کہا ‘آج کا فیصلہ، جو صدر اردوغان کی سیاسی خواہش کا نتیجہ ہے، مہذب دنیا کے لیے کھلی اشتعال انگیزی ہے، جو اس یادگار کو اتحاد کی علامت سمجھتی اور اس کی منفرد خصوصیت کو جانتی ہے
    یونیسکو کی جانب سے اس عمارت کو 1985 میں عالمی تاریخی ورثے میں شامل کیا گیا۔ ہر سال لاکھوں سیاح آیا صوفیہ کو دیکھنے کے آتے ہیں۔ یہ 2019 میں 38 لاکھ سیاحوں کے ساتھ ترکی کا معروف ترین مقام تھا۔
    الحمداللہ جمعہ کے دن ترکی کی عدالت نے تاریخ ساز فیصلہ دیتے ہوئے اسے مسجد میں تبدیل کردیا ۔
    وہاں سالوں بعد گونجتی اذان مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑا گئی تو امید کی کرن بھی نظر آئی کہ کہیں مسلمان بھی ہیں جو کچھ کر سکتے ہیں ۔
    اور اللہ کا حکم پورا کرتے ہوئے دنیا کے ہر حکم کو ٹھوکر پہ رکھ سکتے ہیں۔
    دوسری طرف ہمارا پیارا پاکستان جس کے وزیر اعظم صاحب نے ریاست مدینہ کا دل نشیں نعرہ لگا کر پاکستانی عوام کے دل رو جیت لیے لیکن اقدامات انتہائی افسوس ناک ہیں ۔
    گستاخ رسول کی رہائی ،علما کی گرفتاریاں اور بہت کچھ دوسرا ہونے کے ساتھ اب پاکستان کی عدالت کا اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حق میں فیصلہ اور وزیر اعظم صاحب کی منظوری نے پاکستانی عوام کے دل توڑ دیئے ہیں ۔
    ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کہ ایک لا الہ الا اللہ کی بنیاد پہ بننے والے ملک میں کس طرح ممکن ہے کفر و شرک کی عمارت کی تعمیر وہ بھی اسلامی ملک کی حکومت اپنے خرچے پہ کرے اور عوام کی رائے کو بھی رد کردے ۔
    جبکہ اسلام بھی اس کی اجازت نہیں دیتا ۔
    علما کا فتوی واضح ہے ۔
    اس سلسلے میں بودے خیالات اور دنیا کے نظریات پیش کیے جاتے ہیں۔
    اسے انسانی حقوق اور روشن خیالی قرار دینا انتہائی جہالت ہے کیونکہ اسلام خالق کائنات کا اتارا ہوا مذہب ہے اور اسی نے اس کی اجازت نہیں دی تو میری اور آپ کی عقل کیا اللہ سے بڑھ گئی ہے ؟
    ہمیں زیادہ معلوم ہے کہ انسانوں کے حقوق کیا ہیں؟
    وہ جو ستر ماؤں سے بڑھ کر انسان سے پیار کرتا ہے اسے نہیں معلوم کہ انسان کو کیا حق دینا ہے ؟
    اور بطور مسلمان ہم کیسے اپنے رب کے ساتھ بتوں کو شریک بنانے کے لئے خود اپنے خرچے سے عمارت بنا کر دینے پہ راضی ہو سکتے ہیں ؟
    خان صاحب!اگر طیب اردگان آیا صوفیہ کو واپس مسجد میں تبدیل کر سکتا ہے تو پاکستان بھی مندر بنانے سے انکار کر سکتا ہے جبکہ اس کی ضرورت تو ہندووں کو بھی ہرگز نہیں ہے ۔ کیونکہ اسلام آباد میں پہلے سے کئی مندر موجود ہیں ۔
    باقی اتنے دلائل دیتے ہیں آپ ریاست مدینہ کے والی کے اقدامات کے ،کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کوئی مذہبی عبادت گاہ بنا کر دی کسی قوم کو ؟
    کیا فتح مکہ کے موقع پہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لطف و کرم کی انتہا ،ہر دشمن کو معاف کردیا تھا ،یہود و بت پرستوں کے لیے کسی عبادت گاہ کی تعمیر کا بھی اعلان کیا تھا ؟
    یقینا ایسا نہیں تھا کیونکہ اسلام تو آیا ہی کفر و شرک مٹانے ہے۔
    انسانوں کو پتھروں سے ہٹا کر رب کی عبادت پہ لگانے اور اسی کی غلامی سکھانے ۔

    سو خان صاحب ! ہمارا مطالبہ ہے اپنا فیصلہ واپس لیجئے ،اس رب کے سامنے جھک جائیے اور جان لیں اگر ساری دنیا مل کر بھی آپ کو فائدہ دینا چاہے تو اس وقت تک نہیں دے سکتی جب تک میرا رب نہ چاہے اور اگر ساری دنیا مل کر بھی آپ کو نقصان پہنچانا چاہے تو نہیں پہنچا سکتی جب تک میرا رب نہ چاہے ۔
    اور وہی ہوگا جو میرا رب چاہے گا ۔ بیرونی دنیا کا پریشر تو طیب اردگان پہ بھی تھا ۔لیکن اس نے ہمت کی اور کامیاب ہوا ۔
    سو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرو یقینا دنیا و آخرت میں کامیاب ہو جاو گے ۔ ان شاء اللہ

  • آج کے ڈراموں میں معاشرتی مسائل پیش کرنے کا مقصد انہیں حل کرنا نہیں بلکہ ان سے فائدہ اٹھانا رہ گیا ہے  ثانیہ سعید کی پاکستانی ڈراموں پر تنقید

    آج کے ڈراموں میں معاشرتی مسائل پیش کرنے کا مقصد انہیں حل کرنا نہیں بلکہ ان سے فائدہ اٹھانا رہ گیا ہے ثانیہ سعید کی پاکستانی ڈراموں پر تنقید

    پاکستان کی معروف اداکارہ ثانیہ سعید کا کہنا ہے کہ آج کے ڈراموں میں معاشرتی مسائل پیش کرنے کا مقصد انہیں حل کرنا نہیں بلکہ ان سے فائدہ اٹھانا رہ گیا ہے

    باغی ٹی وی : اداکارہ ثانیہ سعید عفت عمر کے یوٹیوب پروگرام ’سے اِٹ آل وِد عفت عمر‘‘ میں جلوہ گر ہوئیں اور اپنی زندگی اور فنئ کیرئیر کے دلچسپ سوالات کے جوابات دینے کے ساتھ ساتھ آج کے دور میں بنائے جانے والوں ڈراموں کے بارے میں بھی اپنی رائے کا اظہار کیا۔

    1989 سے اپنے فنی کیرئیر کا آغاز کرنے والی اداکارہ ثانیہ سعید نے اسٹیج اور ٹی وی کے درجنوں ڈارموں میں اپنی شاندار اداکاری کے جوہر دکھائے تاہم آج کل وہ چھوٹے پردے سے بالکل غائب ہیں۔

    عفت عمر کے پروگرام میں ثانیہ سعید نے موجودہ پاکستانی ڈراموں کی کئی خامیوں پر بات کرتے ہوا کہا کہ پہلے کسی ڈرامے کی کہانی کا مقصد سماجی مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں سمجھنا اور حل کرنے کی کوشش کرنا ہوا کرتا تھا۔ لیکن اب یہ سوچ بدل چکی ہے۔

    ثانیہ سعید کے مطابق، آج کے پاکستانی ڈراموں میں صرف وہی مسائل پیش کئے جاتے ہیں جو ہم سب پہلے ہی جانتے ہیں اور شاید ان کا سامنا بھی کرچکے ہیں۔ آج کے ڈراموں میں ایسے مسائل پیش کرنے کا مقصد صرف اور صرف فائدہ اٹھانا رہ گیا ہے انہوں نے کہا کہ ’یہ سوچ درست نہیں‘

    ثانیہ سعید نے مزید کہا کہ آج کے اداکار بھی عام لوگوں سے زیادہ میل جول نہیں رکھتے اس لیے نہ تو وہ عام لوگوں سے کچھ خاص واقفیت رکھتے ہیں اور نہ ہی اپنے کام میں انسانی جذبات کا صحیح طور پر اظہار کرپاتے ہیں۔

    اداکارہ نے پاکستانی ڈراموں کو بہتر بنانے کےلیے اسٹوڈیوز، آلات اور ایسی جگہوں کی ضرورت پر زور دیا جہاں ٹیکنیکل اسٹاف کو تربیت کی غرض سے بھیجا جاسکے۔

    ثانیہ سعید نے کہا کہ ہمیں اپنے لوگوں اور انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری کی بھی اشد ضرورت ہے-‘

    واضح رہے کہ ثانیہ سعید ماضی میں آہٹ، ستارہ اور مہرالنساء، وعدہ، خاموشیاں، کلموہی، زرد موسم، اسیر زادی، کتنی گرہیں باقی ہیں، تلاش، چوبیس گھنٹے، پُتلی نگر، فرار، اب تم جاسکتے ہو اور ساتواں آسمان جیسے ڈراموں اور ٹیلی فلمز کے علاوہ فلم ’’منٹو‘‘ میں بھی صفیہ منٹو کے کردار میں جلوہ گر ہوچکی ہیں۔

    اداکارہ ثانیہ سعید بہترین اداکاری کےلیے 1991 میں پی ٹی وی ایوارڈ کے علاوہ چار مرتبہ ’لکس اسٹائل ایوارڈ‘ بھی اپنے نام کرچکی ہیں۔

    کم عمر پاکستانی یو ٹیوب اسٹار نے بڑا اعزاز اپنے نام کر لیا

  • غیر کی زبان تحریر:جویریہ بتول

    غیر کی زبان…!!!
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    (مزاح و اصلاح)۔
    کچھ عرصہ پہلے وطنِ عزیز میں ایک آواز اُٹھی کہ ارود زبان کی ترویج کے لیئے سنجیدہ کوششیں کی جائیں تاکہ تمام طبقات آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور قومی زبان ذریعہ تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے ذہین لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں…
    یہ بات واقعی سچ ہے کہ غیر کی زبان میں تعلیم آدھی تعلیم ہے اور ہم اُن چیزوں کی گہرائی تک پہنچ ہی نہیں پاتے جو ہمیں پڑھائی جا رہی ہوتی ہیں…
    بلکہ ان کا سرسری جائزہ لینا بھی مشکل ہو جاتا ہے…
    کسی بھی قوم نے غیر کی زبان میں ترقی نہیں کی…
    انبیاء و رسل جن جن اقوام کی جانب بھیجے گئے انہی کی زبانوں میں صحیفے اور کتب بھی نازل ہوئیں…
    وجہ کیا تھی؟
    کہ وہ اس پیغام کو بخوبی سمجھ سکیں…
    قرآن حکیم جیسی کتاب عربی زبان میں نازل ہوئی کیونکہ اس کے اولین مخاطب عربی تھے…
    اللّٰہ تعالٰی نے قرآن کی تعلیمات کے منکرین پر حجت تمام کرتے ہوئے انہیں چیلنج کیا کہ ہم نے قرآن عربی زبان میں اس لیئے نازل فرمایا ہے تاکہ تم بہانہ نہ کر سکو کہ ہم تو عربی تھے اور قرآن عجمی زبان میں ہے…
    آپ اس بات کو مذید یوں سمجھیں کہ ہم آج بھی قرآنی احکامات کو سمجھنے کے لیئے اس کے اردو تراجم اور تفاسیر کا مطالعہ کرتے ہیں تاکہ قرآن فہمی پر عبور حاصل ہو…
    صرف عربی پڑھ لینے سے شاید ہمارے پلے کچھ بھی نہ پڑے…
    آج بھی جدید دنیا کا جائزہ لیا جائے تو وہ اپنی ہی زبان میں تعلیم حاصل کر کے،اپنی ہی زبان کو فروغ دے کر اس کی عالمی سطح پر ایک پہچان بنا چکی ہیں…!!!
    لیکن ہمارے یہاں انگلش میڈیم کی بھر مار نے ہمارے طلباء و طالبات کے ذہنوں میں بوریت اور الجھن کے بیج بو دیئے ہیں…
    بھاری بھر کم کتابوں کو رٹا لگا کر امتحان تو پاس کر ہی لیئے جاتے ہیں،مگر ایک تبدیلی اور انقلابی سوچ بہت کم نظر آتی ہے بلکہ آہستہ آہستہ نوجوان ارود سے بیزار ہو رہے ہیں اور انگریزی کے چند جملے باعثِ فخر سمجھے جاتے ہیں…
    انگریزی کو بطور زبان سیکھنا کوئی جرم نہیں ہے بلکہ اسے سیکھ کر ہی ہم دیگر اقوام کی تحقیقات اور تجربات سے آگاہ ہو سکتے ہیں…
    اپنا پیغام ان تک پہنچا سکتے ہیں لیکن انگریزی میں تعلیم دینا اپنی پہچان ختم کرنے کے مترادف ہے…
    یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ جس جگہ اور ماحول میں پیدا ہوتا ہے اور رہتا ہے،وہ زبان اسے فطری طور پر اپنانا ہوتی ہے…
    اس کے ارد گرد ماحول کا اس پر اثر پڑتا ہے اور اسے انہی مثالوں کے ذریعے بتایا اور سمجھایا جا سکتا ہے…!!!
    اردو کی اہمیت سے انکار کر کے در حقیقت ہم اپنی پہچان کھو رہے ہیں،دنیا کی چوتھی اور رابطے کی دوسری بڑی زبان سے ناطہ توڑ رہے ہیں جو اپنے اندر دیگر زبانوں کا وسیع ذخیرہ سموئے ہوئے ہے…
    اور پورے ملک میں بولی اور سمجھی جانے والی زبان ہے…
    ماہرین نفسیات اس بات پر متفق ہیں کہ بچوں کو ان کی اپنی زبان میں تعلیم ان کی ذہنی استعداد اور تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتی ہے…
    اور غیر کی زبان میں تعلیم آدھی تعلیم ہے…
    اس بات کا مشاہدہ اکثر و بیشتر کرنے کا بھی موقع ملتا رہتا ہے…
    کہ جب بچے کسی انگریزی کتاب کو بوجھ سمجھ کر اور ذہن پر دباؤ سوار کر کے پڑھ رہے ہوتے ہیں…
    اور پھر ابتداء سے ہی ان پر یہ نفسیاتی دباؤ بڑھا دینا کوئی مثبت پیشرفت نہیں ہے…
    ایک دفعہ ایک بچہ میرے پاس پڑھنے آیا…
    کافی ذہین،مشاہدہ اور غور کی صلاحیت رکھتا تھا…
    اردو کی کتابوں کا سبق فورًا سنا دیتا اور تیکھے سوال بھی کرتا تھا…
    جبکہ یہی طبع آزمائی انگریزی کی کتاب پر بھی جاری رہتی تھی…
    ایک دن میں نے اسے سمجھایا کہ امرود کو انگریزی میں کہتے ہیں:
    Guava…
    آج یہ سبق یاد کرنا ہے…
    لیکن لگتا تھا اسے بھی انگریزی سے بلا کی نفرت تھی…
    مجھے امرود کی فضیلتیں تو بہت سنائیں کہ ہم گھر امرود لاتے ہیں…
    مجھے بہت پسند ہے…
    میں امرود کھاؤنا اے…
    لیکن لفظ گواوا تو یاد نہ کرنے کی اس نے بھی قسم کھا رکھی تھی…
    ہر زاویے سے میں نے اسے سمجھانا چاہا مگر اس نے بات ختم کرتے ہوئے مجھے گہری سوچ میں ڈال دیا کہ ہمارے اندر سمجھنے کی صلاحیتیں ارد گرد ماحول کے مشاہدہ اور مثالوں سے بآسانی سمجھ آتی ہیں یا غیر کی زبان میں بات کر کے…؟؟؟
    بچے نے گھر کے ماحول میں جانوروں کا خوب مشاہدہ اور آزمائش کر رکھی تھی…
    جب میں نے سبق سنا تو جھٹ بولا: وہ والا ” گتاوہ” جو گایوں اور مجہوں کو دیتے ہیں…؟
    میری تو ہنسی ہی چھوٹ گئی کہ بچے نے اتنی دیر کی تگ و دو کے بعد اپنے ارد گرد غور و فکر کرتے ہوئے گواوا کو جانوروں کو ڈالے جانے والے چوکر،کھل اور چارہ کے مجموعہ پنجابی میں مستعمل لفظ سے جا ملایا…
    جب کہ لفظ امرود کو وہ بخوبی سمجھ اور پہچان چکا تھا…
    اردو کی نظمیں فرفر سناتا،جبکہ انگریزی میں دو چار لائنوں کے بعد خاموش…
    بچے چونکہ اپنے ارد گرد مشاہدات،تجربات،گھریلو ماحول اور مذہبی تعلیمات سے بہت کچھ سیکھتے ہیں،
    لیکن ان پر ایک ہی بھوت سوار کر دینے سے ان کی ذہنی استعداد کمزور پڑ جاتی ہے…!!!
    ہمارے ہاں یہ المیہ رہا ہے کہ آئین میں موجود قومی زبان کے درجہ والی اردو کی بجائے انگریزی کو ذہانت کا معیار مانا جاتا ہے،اور جسے انگریزی نہیں آتی چاہے وہ کتنی ہی خداداد صلاحیتوں کا مالک کیوں نہ ہو،آگے بڑھنے کا مجاز نہیں ہے…
    اسی طرح ملک کے اندر اگر میڈیا بھی مقبول ہے تو وہ بھی اردو زبان میں…
    انگریزی چینلز عوام میں کوئی خاص پذیرائی حاصل نہیں کر پاتے…
    ہمیں فرنگی تہذیب سے مرعوب ہو کر اپنا نظام انگریزی میں منتقل کرنے کی بجائے اردو کی ترقی کے لیئے سنجیدہ کوششیں کرنی چاہیئیں…
    اپنی نسلوں کو انگریزی سے مرعوبیت کی بجائے اردو کی آگہی فراہم کرنی چاہئے…
    اردو ادب کی کتابیں…اردو زبان میں دینی کتب کا اصلاحی ذخیرہ، اور قابلِ قدر نامور ادیبوں اور شعراء کی تحریروں کا مطالعہ کروا کر اردو پر ان کی گرفت کو مضبوط کرنا ہو گا…
    تاکہ وہ اردو بولتے،پڑھتے اور سمجھتے سمجھاتے ہوئے احساسِ کمتری کی بجائے برتری محسوس کریں…
    دار التراجم قائم کر کے اہم چیزوں کو اردو میں ترجمہ کر کے عوام تک پہنچایا جائے تاکہ انگریزی کی توصیف میں مصروف قوم کا مستقبل ذہنی طور پر محروم نہ رہ جائے،اور اس سوچ کی حوصلہ افزائی بھی کی جانی چاہیئے…!!!!
    =============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • کم عمر پاکستانی یو ٹیوب اسٹار نے بڑا اعزاز اپنے نام کر لیا

    کم عمر پاکستانی یو ٹیوب اسٹار نے بڑا اعزاز اپنے نام کر لیا

    پاکستان کے کم عمر یوٹیوب اسٹار احمد شاہ نے یوٹیوب کا سلور گولڈن پلے بٹن حاصل کرلیا احمد اپنے مزاحیہ اور منفرد انداز میں ڈائیلاگز کے حوالے سے مشہور ہیں اور یو ٹیوب پر ان کے مداحوں کی تعداد لاکھوں میں ہے-

    باغی ٹی وی : یوٹیوب اسٹار احمد شاہ نے یوٹیوب کا سلور گولڈن پلے بٹن حاصل کرلیا احمد شاہ کو یوٹیوب کی جانب سے مذکورہ اعزاز محض 5 سال کی عمر میں دیا گیا سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر احمد شاہ نے اپنے دونوں بھائیوں کے ہمراہ سلور اور گولڈ پلے بٹن تھامے ایک خوبصورت تصویر شیئر کی۔
    https://www.instagram.com/p/CCa9ggVJH1p/
    کم عمر یوٹیوب اسٹار نے اپنی پوسٹ میں بتایا کہ ما شا اللہ وہ 5 سال کی عمر میں سلور اور گولڈ پلے بٹن حاصل کرنے والے نوجوان پاکستانی یوٹیوبر بن گئے ہیں-

    احمد شاہ نے مذکورہ اعزاز ملنے پر یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو بھی شیئر کی اور مداحوں کا شکریہ ادا کیا۔

    یو ٹیوب کی جانب سے یہ اعزاز10 لاکھ سے زائد سبسکرائبرز ہونے پر دیا جاتا ہے جبکہ احمد شاہ کی صرف 84 ویڈیوز کے ساتھ ان کے سبسکرائرز کی تعداد 11 لاکھ 40 ہزار سے زائد ہے۔

    احمد نہ صرف یوٹیوب بلکہ دیگر سوشل میڈیا سائٹس انسٹاگراماور فیس بک پر بھی کافی مقبول ہیں اور لاکھوں صارفین انہیں فالو کرتے ہیں-

    واضح رہے کہ یوٹیوب کی جانب سے سلور پلے بٹن چینل بنانے والے کو اس وقت دیا جاتا ہے جب کوئی چینل ایک لاکھ سبسکرائبر کی حد کو عبور کرتا ہے اور گولڈن پلے بٹن اس وقت دیا جاتا ہے جب یوٹیوب پر چینل کے سبسکرائبرز کی حد 10 لاکھ سے زیادہ ہو جائے۔

    احمد شاہ کو مذکورہ دونوں بٹن ایک ساتھ دیئے گئے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ احمد شاہ کا یوٹیوب چینل کافی مشہور ہے۔

  • سُپر ماڈل ایان علی نئے گانوں کی ریلیز کے لئے تیار

    سُپر ماڈل ایان علی نئے گانوں کی ریلیز کے لئے تیار

    منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت پر رہا ہونے والی پاکستان کی سُپر ماڈل ایان علی طویل عرصے بعد ایک دو نہیں بلکہ سات نئے گانوں کی ریلیز کے لئے تیار ہیں-

    باغی ٹی وی :پاکستان کی سُپر ماڈل ایان علی طویل عرصے بعد شوبز میں واپسی کے لئے تیار ہیں جس کا اعلان انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کیا-
    https://twitter.com/AYYANWORLD/status/1281665112416362496?s=20
    ایان علی نے اپنے ٹویٹ میں اپنی کاروں کے مابین ایک تصویر شئیر کی اور لکھا اب وقت آگیا ہے اور اپنے پسندیدہ پرانی لیمبوروگھینی میں اپنے اگلے 7 گانے سنوں۔ میں اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہوں کہ وہ بہت اچھے لگیں۔

    ایان علی نے لکھا کہ وہ گذشتہ 5 سالوں سے ان گانوں کے لئے سخت محنت کر رہی تھیں جن سے اب ہر کوئی لطف اٹھا سکتا ہے۔ انہوں نے لکھا ، تمام گانے ایک یا دو ہفتے میں ریلیز ہوں گے۔-

    اس سے قبل ، مارچ 2020 میں ، ایان علی نے لکھا تھا کہ 5 سال قبل گایا گیا "ارتھ کوئیک” گانا آج بھی شائقین کو پسند ہے۔ میوزک سائٹ ساؤنڈ کلاؤڈ پر یہ گانا 30 ملین سے زیادہ بار سنا جا چکا ہے ، جبکہ یوٹیوب پر اب تک 15 ملین افراد اسے دیکھ چکے ہیں۔
    https://www.instagram.com/p/B9JhnF0J6qk/?utm_source=ig_embed
    ماڈل نے شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا تھا کہ 2009 سے آپ محبت اور مثبت سوچ کا اظہار کر رہے ہیں ، اور میری دعا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں اضافہ ہوگا۔

    اسی دوران ، ماڈل نے اپنے آنے والے پروجیکٹ کے بارے میں عندیہ دیا تھا کہ کہ میں آج کل بہت ساری چیزوں پر کام کررہی ہوں جو بہت جلد منظر عام پر آئیں گی لیکن اس سلسلے میں تفصیلات نہیں بتائیں ، لیکن یقینا انہوں نے اپنے نئے 7 گانوں کا ذکر کیا ہو گا۔

    واضح رہے کہ ایان علی کو 14 مارچ 2015 کو اسلام آباد بے نظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے 5 لاکھ سے زائد ڈالرز دبئی اسمگل کرتےہوئے گرفتار کیاگیا تھا بعد ازاں عدالت نے انہیں ضمانت پر رہاکیا جس کے بعد وہ بیرون ملک چلی گئیں 2 سال تک ایان علی عدالت میں پیش ہوتی رہیں تاہم 2017 میں بیرون ملک جانے کے بعد سے وہ عدالت کی سماعتوں میں غیر حاضر رہیں جس کے باعث انہیں کو اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے اور ان کا اپارٹمنٹ بھی ضبط کیا جا چکا ہے-

    ایان علی کی لمبے عرصے بعد سوشل میڈیا پر واپسی

  • بلال سعید اور ٹک ٹاک جنت مرزا کا گانا ریلیز

    بلال سعید اور ٹک ٹاک جنت مرزا کا گانا ریلیز

    پاکستان میوزک اندسٹری کے معروف گلوکار بلال سعید کا نیا گانا ’شاعر‘ ریلیز ہو گیا-

    باغی ٹی وی : گذشتہ روز بلال سعید کا نیا گانا ’شاعر‘ ریلیز ہو گیا ہے اس گانے کی ویڈیو میں ٹک ٹاک اسٹار جنت مرزا اور محمد علی جوش بھی نظر آئے ہیں جبکہ گلوکار سرمد قدیر نے اس گانے کو تحریر اور کمپوز کیا ہے۔

    یہ گانا 5 منٹ 8 سیکنڈز پر مشتمل ہے جس میں ایک ایسی کہانی دکھائی گئی ہے جہاں ایک نوجوان شاعر خوبصورت اداکارہ سے یک طرفہ محبت کرتا ہے اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ یہ محبت دو طرفہ محبت میں بدل جاتی ہے۔

    بلال سعید کے ’شاعر‘ کو مداحوں کی طرف سے خوب پسند کیا جا رہا ہے اس کا اندازہ اس بتا سے ہوتا ہے کہ گانے کو 18 گھنٹوں پر مشتمل مختصر دورانیہ میں یوٹیوب پر ایک لاکھ سے زائد افراد دیکھ چُکے ہیں-

    واضح رہے کہ اس سے قبل گلوکار عاصم اظہر کا گانا ’تُم تُم‘ ریلیز ہوا تھا اس گانے کی مرکزی کردار معروف ٹک ٹاک اسٹار اریکا حق نے ادا کیا تھا جبکہ گانے میں عاصم اظہر، اُردو ریپ سانگ کے گلوکار رامس، طلحہ یونس، طلحہ انجم اور گلوکار و اداکار تیمور صلاح الدین عرف مورو نے بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے تھے اور گانے کے آخر میں اداکارہ ہانیہ عامر بھی نظر آئیں تھیں۔

    اریکا حق کے بعد ٹک ٹاک سٹار جنت مرزا گلوکار بلال سعید کے نئے گانے کی ویڈیو میں شامل

    صبا قمر ٹک ٹاک اسٹار اریکا حق کی حمایت میں بول پڑیں

    لوگ پہلے ڈپریشن اور مینٹل ہیلتھ پر لیکچر دیتے ہیں اور کچھ دن بعد خود کسی کو اپنی نفرت سے ڈپریشن کا شکار بنا دیتے ہیں عاصم اظہر

    عاصم اظہر اور ٹک ٹاک اسٹار ارکا حق کے گانے کا ٹیزر جاری