Baaghi TV

Category: شوبز

  • خلیل الرحمن کی عورت مارچ کے بیان پر حامد میر پرشدید تنقید

    خلیل الرحمن کی عورت مارچ کے بیان پر حامد میر پرشدید تنقید

    ڈرامہ نگار اور مصنف خلیل الرحمن قمر نے معروف اینکر پرسن حامد میر کو عورت مارچ کے حوالے سے کی گئی ٹویٹ پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں پہلے ہی دنیا آپکو غداری پر فخر سے میڈل لیتے دیکھ چکی ہے

    باغی ٹی وی: سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر خلیل الرحمن قمر نے ایک ٹویٹ کی جس میں انہوں نے حامد میر کے عورت مارچ کے حوالے سے ریمارکس لکھے ،بیٹی کے ہمراہ میرا جسم میری مرضی ،، مارچ میں شرکت کرونگا حامد میر
    https://twitter.com/KrqOfficiaI/status/1236289658054529024?s=19
    حامد میر کے ان ریمارکس کا جواب دیتے ہوئے ڈرامہ نگار نے لکھا انتظار کروں گا بیٹی کے ہمراہ وہی گھٹیا بینرز اٹھا کر تصویر لگانا جو ایک غیور باپ نہیں لگا سکتا مگر آپ کچھ بھی کر سکتے ہو

    انہوں نے مزید حامد میر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا پہلے ہی دنیا آپکو غداری پر فخر سے گولڈ میڈل لیتے دیکھ چکی ہے

    خلیل الرحمن قمر نے ٹویٹر صارفین اور اپنے چاہنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا صاحبان محبت ان کو ٹیگ کر کے بینرز دکھا دیں

    واضح رہے کہ خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں نے آج یعنی 8 مارچ کوعالمی یوم خواتین پرملک بھر میں عورت مارچ منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا تھا اور عدالت نے بھی خواتین کو اپنے حقوق کے لیے مارچ کرنے کی اجازت دے دی تھی عدالت نے عورت مارچ کرنے کی اجازت دیتے ہوئے مارچ کے منتظمین کو ہدایت کی وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مارچ کے دوران نامناسب نعروں اور بینرز کا استعمال نہیں کیا جائے گا

    عورت مارچ پر ملک بھر میں عام جلسوں سیاسی سماجی رہنماؤں سمیت ہر کسی نے اپنی رائے کا اظہار کیا اور سوشل میڈیا پر بھی عورت مارچ بحث کا موضوع بنا ہوا ہے اور یہ موضوع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب نجی ٹی وی چینل کے ایک براہ راست شو میں خلیل الرحمن قمر نے خواتین کے حقوق کی علمبردار خاتون ماروی سرمد کے لئے نازیبا الفاظ کا استعما ل کیا س کے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ایک طوفان برپا ہو گیا

    جس پر متعدد معروف شخصیات نے خلیل الرحمن قمر کو اس رد عمل پر شدید تنقید کا نشانہ بنا یا اور ٹی وی چینلز سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کا سکرین پر بائیکاٹ کریں ان شخصیات میں حامد میر سمیت کئی معروف شخصیات شامل ہیں

    عامر لیاقت نے خلیل الرحمن قمر پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ان کے انداز کو جاہلانہ قرار دیدیا

  • عورت مارچ کے حوالے سے اسلام پسندوں کا نمائندہ موقف

    عورت مارچ کے حوالے سے اسلام پسندوں کا نمائندہ موقف

    عورت مارچ کے بارے میں اسلام پسندوں نے اپنے موقف میں کہا کہ یہ مارچ اپنی ہی ذات کے اندر نہ عقلی ہے نہ منطقی ہے اور نہ ہی اس کو شریعت کی پشت پناہی حاصل ہے

    باغی ٹی وی: عورت مارچ کے بارے میں علامہ حشام الہی ظہیر نے اپنے موقف میں کہا کہ میرا جسم میری مرضی کے حوالے سے ہونے والے مارچ میں یہ نعرہ اپنی ہی ذات کے اندر نہ عقلی ہے نہ منطقی ہے نہ ہی اس کو شریعیت کی پشت پناہی حاصل ہے عام فہم بات یہ ہے کہ انسان کا اپنے جسم اور اپنے اوپر اختیار کتنا ہے

    فیروز خان نے عورت مارچ کے خلاف قرآن پاک کی آیت پیش کر دی


    انہوں نے کہا جن لوگوں کے گھر آپ پیدا ہوئے کیا آپ کو اختیار دیا گیاتھا کہ آپ کے والدین کون ہوں گے یہ اختیار ہے کہ آپ اپنی مرضی سے والدین بہن بھائی بلڈ گروپ وطن کنبہ خاندان قبیلہ چن لیں یہ اب انسان کے پاس اللہ کی امانت ہیں

    علامہ حشام نے کہا جبکہ افسوس اور دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ عورتیں علماء اور مولویوں کو ایسے ایسے القابات سے نوازتی ہیں اور کہتی ہیں یہ ہمیں گھروں میں بند کرنا چاہتے ہیں لیکن اللہ پاک فرماتا ہے تو تم اپنے گھروں میں قرار پکڑو یہ اللہ کا قول ہے کسی مولوی کا نہیں اگر عورتوں کے بارے میں یہ قول ہے تو ہمارا تعلق اس مذہب اور شریعت سے ہے جس میں ہمارے نبی پاک نے ایک صحابی سے کہا کہ گھروں میں قرار پکڑو مردوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دیا چوکوں اور چوراہوں پر نظریں جھکانے کا حکم دیا

    مسلمان کے پروٹوکول کے بارے میں تو اللہ نے آسمان سے ناذل کیا ہے کہ عورت کیسے رہے گی اس کے حقوق کیا ہوں گے

    یہ عورتیں چاہتی کیا ہیں میرا جسم میری مرضی جیسے نعرے لگا کر مردوں کے برابری کے حقوق کے نعرے لگا کر کیا یہ مردوں کی برابری کر سکتی ہیں کیا یہ مردوں جتنی مشقت والی مزدوری کر سکتی ہیں یہ سب کچھ نہیں کر سکتیں

    مذہبی سکالر نے کہا یہ جو مافیا یہ تو عورت بریگیڈ ہے اس قبیلے کی عورت کو الو کی پٹھی جیسا خطاب ایک صاحب نے ٹی وی پر بیٹھ کر دیا اس تہذیب کے منہ پر ایک چانٹا رسید کر کہ اس الو کی پٹھی کا حلیہ بگاڑ دے، یہ کونسی سوچ اور فکر ہے یہ کونسا فلسفہ اور منطق ہے میں آپ کو شرح صدر یہ بات کہتا ہوں کہ ان عورتوں کا کردار ان عورتوں کا کلچر اُن عورتوں کی طرح جو بازار میں نچیوں کی جسم فروشی کر کے اپنے گھروں کی دال روٹی اور روزی کماتی ہیں یہ درندہ صفت عورتیں ہیں

    مولانا خادم رضوی خلیل الرحمن قمر کی حمایت میں سامنے آ گئے


    علامہ صاحب نے کہا ملک کے اندر ریپ کی سزا کے اوپر اسلامی طبقہ جب بھی سزائے موت کی بات اٹھاتا ہے تو یہی لبرل مافیا موم بتی مافیا جو عورتوں کے حقوق کی بات کرتا ہے درمیان میں آجاتا ہے تب ان کو عورتوں کے حقوق کا یہ حق نظر نہیں آتاکہ ان کی عصمت دری نہ ہو ریپ نہ ہو یہ اپنی زیرنگرانی جسم فروشی کے اڈے چلانے والی عورتیں ہیں

    مذہبی سکال نے کہا آج یورپ کی مسلمان بیٹی حجاب کی جنگ لڑ رہی ہے اور یہ پاکستان کی مغرب زدہ عورتیں ہیں یہ بے نقابی اور بے حجابی کی جنگ لڑنا چاہتی ہیں اسلامی شعور کا تمسخر اڑاتی ہیں اگر یہ عورتوں سے مخلص ہوں تو یہ ایمنداری سے ریپ کے سلسلے میں سزائے موت دینے پر ہم آواز نہ ہوں یہ جسم فروشی کے اڈے بند کرنا چاہیں یا نہ چاہیں یہ اصل میں عورتوں کی آزادی کی جنگ نہیں ہے یہ عورتوں تک آزادی کی جنگ ہے عورتوں تک رسائی کا کلچر ہے یہ ان عورتوںً کو پروموٹ کر کے اپنا کاروبار چلانا چاہتی ہیں

    امر باالمعروف میں ہے کہ کسی ظلم یا برائی کو ہاتھ سے روکیں اگر نہ روک سکتے ہوں تو زبان سے روکیں یہ بھی نہ کر سکتے ہوں تو دل میں بُرو کہہ لیں افسوس کے ساتھ آج اگر ہم ایمان کی کمزوری میں ہیں اگر اپنے ہاتھ سے اس قسم کے مارچ کو روک نہیں سکتے تو آواز تو اٹھا سکتے ہیں

    یہ قانون دان یہ منصف کیسے قانون پڑھے ہوئے لوگ ہیں پاکستان کا آئین اسلامی اقدار کی حفاظت کی گارنٹی دیتا ہے اسلامی اقدار کو پروموٹ کرنے کی گارنٹی دیتا ہے اسلام اور اسلامی تعلیمات کی حوصلہ افزایی کرتا ہے کیا یہ ملک سیکولرزم کے نام پر بنایا گیا تھا اگر اس ریاست کو سیکولر ریاست بنانا تھی تو ہنوستان سے علیحدہ ہونے کی ضرورت ہی کیا تھی قائداعظم اور ان کے ساتھیوں نے یہ ملک کلمے کی بنیاد پر حاصل کیا اسلامی قوانین کے مطابق زندگیاں گزارنے کے لئے حاصل کیا ہے

    علامہ حشام الہی ظہیر کے مطابق کچھ قانون دانوں اور منصف دانوں کو یہ تک نہیں پتہ کہ پاکستان کے آئین میں لکھا ہے اسلامی اقدار کو فروغ دیا جائے گا آپ کو چاہیئے تھا آپ اس مارچ کو رکوانے کے لئے آرڈر جاری کرتے یہ اسلام کے ساتھ مذاق ہے یہ اسلام کا تمسخر اڑا رہی ہیں یہ کسی مولوی کا قول نہیں کہ گھروں میں قرار پکڑو یہ اللہ کا قول ہے یہ اسلامی اقدار اسلامی معاشرت اور اسلامی شریعیت کے بنیادی قوانین ہیں آپ ان پر پابندی لگانے کی بجائے ان کو اجازت دے رہے ہیں

    عورت مارچ کا خواتین کے حقوق سے کیا تعلق ہے? دعا بھٹو

  • اسٹیج فنکارہ روپ چوہدری شوہر کے ہاتھوں قتل،شوہربھی جان دے گیا

    اسٹیج فنکارہ روپ چوہدری شوہر کے ہاتھوں قتل،شوہربھی جان دے گیا

    ساہیوال:اسٹیج فنکارہ روپ چوہدری شوہر کے ہاتھوں قتل،شوہربھی جان دے گیا ، وجہ جان کرہرکوئی ہل کررہ گیا ،اطلاعات کےمطابق پنجاب کی معروف اسٹیج فنکارہ روپ چوہدری کو ان کے شوہر نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔

    ذرائع کے مطابق ساہیوال کے فرینڈز تھیٹر میں جمعے کی رات روپ چوہدری کا شو تھا، شو کے بعد روپ چوہدری کا ان کے شوہر سے کسی بات پر جھگڑا ہوا۔یہ جھگڑا اس انتہا کوپہنچ گیا کہ خاوند اپنے جزبات پرقابونہ پاسکا

    روپ چوہدری اور ان کے شوہر کے درمیان تُوتُو میں میں بڑھ کر ہاتھا پائی پر جاپہنچی اور پھر شوہر نے پہلے روپ چوہدری کو فائرنگ کرکے قتل کیا اور پھر خود کو بھی گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کردیا جائے گا، تھیٹر کو سیل کرکے واقعے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔پولیس ان ہلاکتوں کے محرکات جاننے کی بھرپورکوشش کررہی ہے،

    روپ چوہدری کا اصل نام سمیرا تھا اور سٹیج کی دنیا میں انہیں روپ چوہدری کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ان کا تعلق بہاولپور سے تھا

  • عورت مارچ کا خواتین کے حقوق سے کیا تعلق ہے? دعا بھٹو

    عورت مارچ کا خواتین کے حقوق سے کیا تعلق ہے? دعا بھٹو

    میں عورت مارچ کے مخالف ہوں عورت مارچ کا خواتین کے حقوق سے کیا لینا دینا پی ٹی آئی جوائنٹ سیکرٹری سندھ دعا بھٹو

    باغی ٹی وی: عورت مارچ کے‌حوالے سے پی ٹی آئی جوائنٹ سیکرٹری سندھ دعا بھٹو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنا ایک ویڈیو پیغام شئیر کیا


    انہوں نے کہا کہ اس مارچ میں ایک عزت دار عورت آپ کا بالکل ساتھ نہیں دے گی پی ٹی آئی کارکن نے کہا کہ ہمارے والد صاحب ہمارے فخر ہیں پمارا بھائی ہمارا غرور ہیں ہمارا شوہر ہمارا مسیحا ہے یہ ہیں تو ہم ہیں ہم ہیں تو یہ ہیں

    انہوں نے مزید کہا کہ آپ کس طرح کی آزادی چاہتے ہیں? اور اس کو میں سپورٹ کیسے کروں گی ?ہاں آپ نکلیں آپ پر تیزاب پھینکا جاتا اس کے لئے نکلیں آپ جہیز کے لئے نکلیں جہیز کے لئے مارا جاتا ہے زیادتی کی جاتی ہے ظلم کئے جاتے ہیں ایسے سلوگنز لکھیں تو ہر عورت آپ کا ساتھ دے گی میں آپکا ساتھ دوں گی

    انہوں نے کہا ہر سیاسی عورت ہر طبقے کی عورت آپ کا ساتھ دے گی ایسے ظلم کے لئے آپ آواز اٹھاتے ان کو آپ ٹاپ ٹرینڈ رکھتے لیکن اگر آپ بے حیائی کو تاپ ٹرینڈ رکھیں تو آپکا بالکل بھی کوئی ساتھ نہیں دے گا

    دعا بھٹو نے کہا کہ ہمارے ملک میں اور بہت بڑی بڑی مثالیں ہیں جن کو آزادی دی گئی جو آزاد ہیں جو آزادی سے گھوم پھر رہے ہیں تو اگر آپ ایسے سلوگنز لے کر آزادی مانتے ہیں تو کس طرح کی آزادی مانگتے ہیں یہ سب جانتے ہیں کہ آپ کس طرح کی آزادی مانگتے ہیں عزت دار عورت اس چیز میں کبھی بھی آپکا ساتھ نہیں دے گی اور میں تو بالکل بھی نہیں دون گی

    انہوں نے ویڈیو پیغام کے کیپشن میں لکھا کہ میں عورت مارچ کے خلاف ہوں عورت مارچ کا خواتین کے حقوق سے کیا تعلق ہے کھان خود گرم کرو اور میرا جسم میری مرضی فحش سلوگنز نہیں عورت کا باپ اس کا مان ہے اس کا بھائی اس کا رکھوالا اور اس کا شوہر اس کی عزت ہے اور عورت کے حقوق وراثت میں حصہ ہے معاشرے میں مقام ہے

    انہوں نے ہیش ٹیگ ووئی ریجیکٹڈ میرا جسم میری مرضی استعمال کیا

    واضح رہے کہ خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں نے 8 مارچ کوعالمی یوم خواتین پرملک بھر میں عورت مارچ منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے اور عدالت نے بھی خواتین کو اپنے حقوق کے لیے مارچ کرنے کی اجازت دے دی ہے عدالت نے عورت مارچ کرنے کی اجازت دیتے ہوئے مارچ کے منتظمین کو ہدایت کی وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مارچ کے دوران نامناسب نعروں اور بینرز کا استعمال نہیں کیا جائے گا

    مجھے اچھا لگتا ہے جب مرد احترام میں خواتین کو نشست دیتے ہیں جویریہ صدیقی


    عورت مارچ پر ملک بھر میں عام جلسوں سیاسی سماجی رہنماؤں سمیت ہر کوئی اپنی رائے کا اظہار کرتا دکھائی دیتا ہےاور سوشل میڈیا پر بھی عورت مارچ بحث کا موضوع بنا ہوا ہے اور یہ موضوع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب نجی ٹی وی چینل کے ایک براہ راست شو میں خلیل الرحمن قمر نے خواتین کے حقوق کی علمبردار خاتون ماروی سرمد کے لئے نازیبا الفاظ کا استعما ل کیا س کے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ایک طوفان برپا ہو گیا سوشل میڈیا پر ہر کوئی اپنی رائے کے مطابق اس مسئلے پر بات کر رہا ہے

    کسی بھی فورم پر عورت کی تذلیل ناقابل قبول رویہ ہے فردوس عاشق اعوان

  • مولانا خادم رضوی خلیل الرحمن قمر کی حمایت میں سامنے آ گئے

    مولانا خادم رضوی خلیل الرحمن قمر کی حمایت میں سامنے آ گئے

    معروف مذہبی سکالر اور عالم دین علامہ خادم حسین رضوی نے کہا کہ خلیل الرحمن ان مولوں اور پیروں سے آگے نکل گیا ہے جو دین کا کھاتے ہیں اور اس کی بات نہیں کرتے

    باغی ٹی وی : گذشتہ چند روز قبل میرا جسم میری مرضی نعرہ لگانے پر خلیل الرحمن قمر نے مارقی سرمد کو نجی ٹی وی چینل کے لائیو شو میں کھری کھری سناتے ہوئے ان کے جسم پر تنقید کی تھی اور نازیبا الفاظ استعمال کئے تھے جس کے بعد عورت مارچ اور ان کی لڑائی کو لے کر سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہو گیا ہے

    کچھ لوگوں نے خلیل الرحمن قمر کر تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کا ٹی وی چینلز پر بائیکاٹ کرنےے کا مطالبہ کیا جبکہ اکثر لوگوں نے خلیل الرحمن قمر کو سپورٹ کیا اور ان کے اس رد عمل کو سراہا ان میں معروف عالم دین علامہ خا دم رضوی بھی ہیں جو خلیال الرحمن قمر می حمایت میں سامنے آ گئے ہیں

    عالم دین نے اپنی ایک تقریر میں خلیل الرحمن کے اس ردعمل کی تعریف کرتے ہوئے مذہبی علماء کو تنقید کا نشانہ بنایا انہوں نے کہا کہ خلیل قمر ان لاکھوں مولویوں اور پیروں سے آگے نکل گیا ہے جو دین کے نام کا کھاتے ہیں اور اس کی بات نہیں کرتے لیکن خلیل قمر کسی بات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اسلام کے لئے اس بات پر اس عورت سے الجھ پڑا وہ دین کی خاطر الجھا

    انہوں نے کہا کہ ہماری محبت اور دشمنی دونوں اللہ کے لئے ہیں ایک عورت ہمارے معاشرے میں کیچڑ پھیلانا چاہتی ہے اور گھروں میں بیٹھی ہوئیں اسلامی بچیاں اس عورت مارچ کے لئے اپنے والدین یہ کہیں گی کہ ہمارا جسم ہماری مرضی جو اس نے بات کی ہے وہ ٹھیک کہی ہے کہ تم ہمارے معاشرے میں کیوں گندگی پھیلا رہی ہو تمہیں یہ حق کس نے دیا ہے

    انہوں نے کہا کہ برض دفعہ ایک جملہ بھی انسان کو بہت اوپر لے جاتا ہے جو کہ خلیل قمر نے کیا اس نے اسلام کے لئے جو بات کی اللہ اس پر دنیا و آخرت میں ضرور رحم فرمائے گا

    انہوں نے اسلامی جماعتوں اور علماء کو تنقید کا نشںانہ بناتے ہوئے کہا کہ بڑے بڑے جبہ دستاروں اور بڑی بڑی اسلامی جماعتیں بنا کر ساٹھ ساٹگھ لاکھ مرید بنا کر بھی یہ اسلام کی غیرت کی بات نہیں کرتے ا ن کو اخلاقیات کی پڑی ہوتی ہے انہوں نے مزید کہا کہ بزدلو کبھی غیرت کی بات نہیں کی اور اپنی اس بے شرمی کو اخلاقیات کا نام دیتے ہو

    انہوں نے کہا کہ جن حضور کی غیرت اور دین کی بات کی جائے تو خلیل قمر کی طرح ہی بات کرنی چاہیئے اس نے اس موزوں پر بالکل اسی مزوں کے مطابق ہی بات کی ہے علامہ خادم رضوی نے کہا کہ میں نے آج مسھم بات کی کیونکہ خلیل الرحمن قمر نے سب کی طرف سے قرض اتار دیا ہے بات وہ ہوتی ہے جو وقت پر کی جائے اور جیسا خلیل قمر نے کیا

    انہوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ریاست مدینہ کے سربراہ صاحب کو پتہ ہی نہیں کیا ہو رہا ہے انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ریاست مدینہ میں یہ سب کچھ ہوتا ہے جو یہاں ہو رہا ہے کیا وہاں کی عورتیں مدینے کی سڑکوں پر نکل کر ایسے نعرے لگاتی ہیں انہوں نے کہا ریاست مدینہ سے تمہاری مراد کونسی ریاست ہے

    مذہبی سکالر نے مزید کہا کہ کسی نے بتایا ہو گا کہ مدینہ کا مطلب شہر ہوتا ہے تو جونسا مرضی شہر لگالو اگر اس سے مراد مدینہ پاک ہوتا تو کیا عورتیں آپکے ملک میں میرا جسم میری مرضی نعرے لگا سکتیں کیا ایک مسلمان ایسی بات کر سکتا ہے نہیں یہ سوال ہی پیدا نہیں پوتا اسلام میں ان سب چیزوں کی اجازت نہیں

    اسلام نے ساڑھے چوہ سو سال پہلے ہمیں عورت کا احترام سکھا دیا تھا ویسٹ سے کوئی نئے وظیفے لا کر نہ سکھائے علی محمد خان


    انہوں نے کہا کہ عورت کو تو صفا مروہ کے درمیان بھاگنے کی اجازت اسلام نہیں دیتا اتنی پاکیزہ جگہ پر جہاں حضرت ہاجرہ دوڑیں وہاں پر خواتین کو بھاگنے کی اجازت نہیں تو سڑکوں پر عورتوں کو نکلنے کی بھاگنے کی اسلام اجازت کیسے دیتا ہے

    انہوں نے کہا کہ اللہ کے عذاب سے ڈرو مزید اللہ کے عذاب کو دعوت نہ دو اللہ بے نیاز ہے انہوں نے کہا جب انسان کھلم کھلا ننگا ہو جائے تو اللہ معاف فرما دیتا ہے لیکن جب بے باک ہو جائےتو اس کی گرفت بہت بُری ہے

    فیروز خان نے عورت مارچ کے خلاف قرآن پاک کی آیت پیش کر دی


    انہوں نے مزید کہا کہ علامہ اقبال نے فرمایا تھا کہ جب بھی مسلمان خواتین کی نگاہ اٹھے تو مغرب کے میدانوں تہذیب و تمدن اور یورپ کی جدیدیت کی طفر نی اٹھے بلکہ سیدہ فاطمہ الزاہرہ کے اسوہ حسنہ کی طرف جائے

  • مجھے اچھا لگتا ہے جب مرد  احترام میں خواتین کو نشست دیتے ہیں جویریہ صدیقی

    مجھے اچھا لگتا ہے جب مرد احترام میں خواتین کو نشست دیتے ہیں جویریہ صدیقی

    معروف ملٹی میڈیا جرنلسٹ جویریہ صدیقی نے کہا انہیں اچھا لگتا ہے جب مرد احترام میں اپنی نشست خواتین کو دے دیتے ہیں

    باغی ٹی وی: معروف جرنلسٹ مونا خان نے عورت مارچ کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کیا تھا جہ مجھے اچھا لگتا ہے اپنے مرد سے مقابلہ نہ کرنا اور اس سے ایک درجہ کمزور رہنا جب وہ مجھے ٹھنڈک لگ جانے کے ڈر سے اپنا کوٹ اتار کر میرے شانوں پر ڈال دیتا ہے جب وہ ہر قدم پر اپنے ساتھ ہونے کا یقین دلاتا ہے مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ اپن احق جتاتے ہوئے کہتا ہے کہ تم میری ہو


    ان کی اس ٹویٹس کا جواب دیتے ہوئے نادیہ مرزا نے لکھا تھا کہ مجھے اچھا لگتا ہے جب ای ٹی ایم یا بینک کی لمبی لائن میں کھڑے مرد عورت کے احترام میں اسے اپنی جگہ دیتے ہوئے سائیڈ پر ہو جاتے ہیں

    ان کے اس ٹویٹ کا کمنٹ مونا خان نے کچھ اس طرح کیا تھا کہ جی بالکل اکثر ایسا ہوا ہے بینک میں بل جمع کروانے جاؤ تو وہ بھی ترجیحی بنیادوں پر ہو جاتا ہے بغیر انتظار کئے


    اب جرنلسٹ جویریہ صدیقی نے بھی نادیہ مرزا کی ٹویٹ کا ری ٹویٹ کیا اور عورت مارچ اور آزادی کے بارے میں اور مردوں کا عورتوں کو معاشرے میں دیئے جانے والے احترام کو اجاگر کرتے ہوئے لکھا کہ مجھے اچھا لگتا ہے جب مرد احترام میں اپنی نشست خواتین کو دے دیتے ہیں

    ان کے اس ٹویٹس پر لوگوں نے بھی مخلتف کمنٹس کئے ان کو سراہا اور بعض صارفین نے اس حوالے سے اپنے اپنے تجربات بھی لکھے

    ایک صارف نے لکھا کہ ہم پنجاب پولیس سے اپیل کرتے ہیں وہ عورت مارچ کے دوران خواتین پر لاٹھی چارج کر کے انہیں مردوں کے برابر ہونے کا پہلا حقوق دیا جائے

    جرنلسٹ نادیہ مرزا کا عورت مارچ کے بارے میں رائے کا اظہار

    معروف جرنلسٹ مونا خان کا عورت مارچ کے حوالے سے خوبصورت پیغام

    فیروز خان نے عورت مارچ کے خلاف قرآن پاک کی آیت پیش کر دی

  • جرنلسٹ نادیہ مرزا کا عورت مارچ کے بارے میں رائے کا اظہار

    جرنلسٹ نادیہ مرزا کا عورت مارچ کے بارے میں رائے کا اظہار

    اینکر پرسن اور جرنلسٹ نادیہ مرزا نے کہا کہ مجھے اچھا لگتا ہے جب بینک میں لمبی لائن میں کھڑے مرد عورت کو احترام میں اسے اپنی جگہ دیتے ہوئے سائیڈ پر ہو جاتے ہیں

    باغی ٹی وی: معروف جرنلسٹ مونا خان نے عورت مارچ کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کیا تھا جہ مجھے اچھا لگتا ہے اپنے مرد سے مقابلہ نہ کرنا اور اس سے ایک درجہ کمزور رہنا جب وہ مجھے ٹھنڈک لگ جانے کے ڈر سے اپنا کوٹ اتار کر میرے شانوں پر ڈال دیتا ہے جب وہ ہر قدم پر اپنے ساتھ ہونے کا یقین دلاتا ہے مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ اپن احق جتاتے ہوئے کہتا ہے کہ تم میری ہو


    مونا خان کی اس ٹویٹ کو جرنلسٹ نادیہ مرزا نے ری ٹویٹ کیا اور اپنے خیالات کا اظہار مونا خان کے ہی الفاظ میں کیا انہوں نے لکھا کہ مجھے اچھا لگتا ہے جب ای ٹی ایم یا بینک کی لمبی لائن میں کھڑے مرد عورت کے احترام میں اسے اپنی جگہ دیتے ہوئے سائیڈ پر ہو جاتے ہیں

    مونا خان نے ان کی اس ٹویٹ کی تائید ک اور لکھا کہ جہ بالکل اکثر ایسا ہوا ہے بینک میں بل جمع کروانے جاؤ تو وہ بھی ترجیحی بنیادوں پر ہو جاتا ہے بغیر انتظار کئے

    ا ن کے علاوہ بھی صارفین نے نادیہ مرزا کی ٹویٹ کو سراہا اور مختلف کمنٹس کئے

  • فیروز خان نے عورت مارچ کے خلاف قرآن پاک کی آیت پیش کر دی

    فیروز خان نے عورت مارچ کے خلاف قرآن پاک کی آیت پیش کر دی

    اسلام کی خاطر شوبز کو خیر باد کہہ دینے والے اداکار فیروز خان نے عورت مارچ کے حوالے سے قرآن پاک کی ایک آیت شئیر کر دی

    باغی ٹی وی: گذشتہ روز اسلام کی خاطر شوبز کو خیر باد کہہ دینے والے اداکار فیراز خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر حالیہ زیر بحث موزوں عورت مارچ کے حوالے سے ایک آیت شئیر کر کے اپنے خیالات کا اظہار کیا


    فیروذ خان نے قرآن پاک کی سورۃ احزاب کی عورتوں کے پردے کے حوالے سے آیت نمبرانسٹھ شئیر ترجمہ: اے نبی! اپنی بیبیوں صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دو کہ اپنی چادر کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو تو ستائی نہ جائیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

    یہ آیت فیروزخان نے حالیہ زیر بحث موزوں عورتوں کے حقوق کے لئے کئے جانے والے عورت ذادی مارچ کی مناسبت سے کی ہے

    واضح رہے کہ فیروز خان نے شوبز انڈسٹری کو خیر باد کہہ دیا،بقیہ زندگی اسلامی تعلیمات کےمطابق گزارنے کا اعلان بھی کردیاہے

    فیروز خان کی فلم ٹچ بٹن رواں سال عیدالفطر پر ریلیز ہوگی جس میں اداکار و گلوکار فرحان سعید اور ایمان اور زارا ان کے ساتھ مرکزی کرداروں میں نظر آئیں گے

  • امان اللہ میراثی تھا ہمارے قبرستان میں میراثیوں کے لئے کوئی جگہ نہیں

    امان اللہ میراثی تھا ہمارے قبرستان میں میراثیوں کے لئے کوئی جگہ نہیں

    کامیڈین امان اللہ میراثی تھا میراثیوں کے لئے ہمارے قبرستان میں کوئی جگہ نہیں پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی لاہور

    باغی ٹی وی :گذشتہ روز سٹیج فلم اور ٹی وی کے معروف کامیڈین امان اللہ پھیپڑوں اور گردوں کے عارضے کے باعث انتقال کر گئے تھے ان کے آخری قیام گاہ کا انتظام پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی کے قبرستان میں کیا گیا

    لیکن اس دوران افسوسناک بات تب ہوئی جب سوسائٹی کی انتظامیہ نے کامیڈین امان اللہ کو قبر کی جگہ دینے سے انکار کر تے ہوئے قبر کی کھدائی رکوا دی اور کہا کہ امان اللہ میرثی تھا اور میراثیوں کے لئے ہمارے قبرستان میں کوئی جگہ نہیں

    مرحوم کے لواحقین نے وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان کو فون کر دیا جس پر فیاض الحسن چوہان کے بروقت وہاں پر پہنچنے پر سوسائٹی کی انتظامیہ نے ترتیب کا بہانہ بنا لیا
    https://www.youtube.com/watch?v=qMlEHgZrrUQ&feature=youtu.be
    یہاں پر افسوسناک اور پریشانی کی بات یہ ہے کہ یہ آج کا ہمارا معاشرہ ہے جہاں مردے کی قبر کی جگہ تک پر سوسائٹیاں اپنا قبضہ جمائے ہوےئ ہیں

    واضح رہے کہ امان اللہ کافی عرصے سے گردوں اور پھیپھڑوں کے عارضے میں مبتلا تھے گذشتہ کئی روز سے لاہور کے اسپتال میں داخل تھے گذشتہ روز 70 سال کی عمر میں انتقال کر گئے

  • معروف جرنلسٹ مونا خان کا عورت مارچ کے حوالے سے خوبصورت پیغام

    معروف جرنلسٹ مونا خان کا عورت مارچ کے حوالے سے خوبصورت پیغام

    معروف جرنلسٹ مونا خان کا کہنا ہے کہ مجھے اچھا لگتا ہے اپنے مرد سے مقابلہ نہ کرنا اور اس سے ایک درجہ کمزور رہنا

    باغی ٹی وی: خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں نے 8 مارچ کوعالمی یوم خواتین پرملک بھر میں عورت مارچ منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے اور عدالت نے بھی خواتین کو اپنے حقوق کے لیے مارچ کرنے کی اجازت دے دی ہے عدالت نے عورت مارچ کرنے کی اجازت دیتے ہوئے مارچ کے منتظمین کو ہدایت کی وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مارچ کے دوران نامناسب نعروں اور بینرز کا استعمال نہیں کیا جائے گا

    عورت مارچ پر ملک بھر میں عام جلسوں سیاسی سماجی رہنماؤں سمیت ہر کوئی اپنی رائے کا اظہار کرتا دکھائی دیتا ہےاور سوشل میڈیا پر بھی عورت مارچ بحث کا موضوع بنا ہوا ہے اور یہ موضوع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب نجی ٹی وی چینل کے ایک براہ راست شو میں خلیل الرحمن قمر نے خواتین کے حقوق کی علمبردار خاتون ماروی سرمد کے لئے نازیبا الفاظ کا استعما ل کیا س کے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ایک طوفان برپا ہو گیا

    سوشل میڈیا پر ہر کوئی اپنی رائے کے مطابق اس مسئلے پر بات کر رہا ہے


    معروف جرنلسٹ مونا خان نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر عورت مارچ کے حوالے سے ایک ٹویٹ کیا جس میں انہوں نے لکھا کہ مجھے اچھا لگتا ہے اپنے مرد سے مقابلہ نہ کرنا اور اس سے ایک درجہ کمزور رہنا جب مجھے وہ ٹھنڈ لگ جانے کے ڈر سے اپنا کوٹ اتار کر میرے شانوں پر ڈال دیتا ہے جب وہ ہر قدم پر اپنے ساتھ ہونے کا یقین دلاتا ہے مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ حق جتاتے ہوئے کہتا ہے کہ تم صرف میری ہو

    مونا خان کی اس ٹویٹ پر صارفین کی طرف سے ملا جلا ردعمل موصول ہوا کسی نے تنقید کا نشانہ بنایا تو کسی نے انہیں سراہا

    ایک صارف وقاص نے لکھا کہ کچھ مطالعہ پاکستان کو حرف آخر سمجھنے والے نرگیست کے مریض دیکھنے کو ملتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو رومانیت کے خوابوں میں رہتے ہیں یہ بھی انہی میں سے لگتی ہیں

    ایک صارف نے لکھا کہ ابھی آپ خوابوں کی دنیا میں ہو اصل زندگی شروع ہوگی تو پتہ چلے گا کہ کمزور رہنا کیسا لگتا ہے اور کتنی بار اپنا کوٹ دیتا ہے آپ کو

    ایک صارف نے ان کے اس ٹویٹ کے ساترھ اختلاف کرتے ہوئے لکھا کہ آپ کو بالکل اچھا نہیں لگے گا جب آپ کو کھانے میں نمک زیادہ ہوے ی وجہ سے تھپڑ پڑجائے لگاتار دو چار لڑکیاں پیدا کرنے پر کھانا بند کر دیا جائے شادی سے انکار پرآپ پر تیزاب پھینکا جائے برادری کے فیسلے پر آپکے گلے میں رسی ڈال کر کسی کی بھی کھونٹی سے باندھ دیا جائے

    جہاں لوگوں نے مونا خان کی ٹویٹ سے اختلاف کیا وہیں کچھ لوگوں نے سراہا بھی

    ایک صارف راشد ملک نے ان کے خیالات کی تعریف کی اور کہا کہ بہت ہی اچھی سوچ ہے

    ایک صارف نے کہا کہ ایک مہذب عورت ہی ایسا سوچ سکتی ہے

    حنا نازش بنامی صارف نے کہا کہ عورت کو اتنی ہی آزادی ملنی چاہیئے جتنی فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دی

    اسلام نے ساڑھے چوہ سو سال پہلے ہمیں عورت کا احترام سکھا دیا تھا ویسٹ سے کوئی نئے وظیفے لا کر نہ سکھائے علی محمد خان


    ایک صارف جبین نامی صارف نے کہا کہ آپ کچھ اچھا کرنے جا رہی ہیں اللہ آپ کی مدد کرے

    آصف وزیر صارف نے پی ٹی آئی رکن جویریہ صدیقی کی عورت مارچ کے حوالے سے ایک بیان شئیر کیا میں بھائی باپ شوہر کے لئے کھانا بھی خود گرم کروں گی موزا بھی خود ڈھونڈوں گی مردون کا احترام نھی کروں گی خواتین کے حقوق کے لئے جدو جہد بھی خود ہی کروں گی میں ایک خود مختار خاتون ہوں لیکن مجھے اپنے دین اور معاشرتی اقدار سے بڑھ کر آزادی درکار نہیں

    اصل فیمنسٹ کام پر توجہ دیتے ہیں حقوق پر چیخنے میں وقت ضیاع نہیں کرتے قرۃ العین بلوچ

    میرا جسم میرے اللہ کی مرضی ہے نہ کہ میری رابی پیر زادہ