حکومت ملک کے اصل تشخص اور ثقافت کو اجاگر کرنے کی ہر کوشش کی مکمل حمایت کرے گی وزیراعظم عمران خان
باغی ٹی وی : نجی ٹی وی چینل ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی فلم انڈسٹری اور سنیما کی بحالی سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح پاکستانیت کو اجاگر کرنا اور ہمارے معاشرے کی ثقافت اور اقدار کا تحفظ کرنا اور انہیں فروغ دینا ہے
اجلاس میں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز سید ذوالفقار بخاری، سیکریٹری اطلاعات اکبر حسین درانی، فراز چوہدری، پیر سعد احسن الدین اور زوریز لاشاری نے شرکت کی
اجلاس کے شرکا نے وزیراعظم کو ملک میں فلم انڈسٹری اور سنیما کی بحالی سے متعلق مختلف تجاویز پیش کیں
اس حوالے سے نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے زوریز لاشاری نے کہا کہ اس حوالے سے دوسرا اجلاس آج لاہور میں سیکریٹری ثقافت فلم پروڈیوسرز ڈائریکٹرز اور سنیما مالکان کے ساتھ ہوگا جس میں فلم انڈسٹری کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مختلف تجاویز پیش کی جائیں گی
وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ حکومت نے فلم اور سینما کو صنعت کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے
باغی ٹی وی :لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں فردوس اعوان نے کہاکہ نئی فلم پالیسی سے متعلق اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت ہوئی ہےجس میں فلم ،سینما کو صنعت کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے
انہوں نے کہاکہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد مختلف صوبوں نے سینسر بورڈ قائم کیے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بغیر نہ کوئی پالیسی بن سکتی ہے نہ اس پر عمل ہوسکتاہے
فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ نئی فلم پالیسی میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز شامل کی جائیں گی فلم صنعت کی بحالی کےلیے حکومت ہر ممکن تعاون کرے گی آج نوجوانوں کے پاس تفریح کے مواقع نہیں ہیں معیشت کو چلانے کےلیے فلم پروڈیوسرز بھی اپنا کردار ادا کریں
معاون خصوصی کا کہنا تھاکہ پاکستان کا روشن چہرہ عالمی سطح پر لانے کیلئے سینما کی بحالی ضروری ہےفلمی صنعت کے ذریعے تہذیب اقدار اور ثقافت کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں حکومت ملک کے اصل تشخص اور ثقافت کو اجاگر کرنے کی ہر کوشش کی مکمل حمایت کرے گی
فردوس اعوان نےمزید کہاکہ فلم کو سینسر کرنےکا اختیار فیڈرل سینسر بورڈ کےپاس ہوگا صوبائی حکومت کی مشاورت سے فیڈرل سینسر بورڈ تشکیل دیاجائےگا
ڈرامہ نگار اور مصنف خلیل الرحمن قمر نے معروف اینکر پرسن حامد میر کو عورت مارچ کے حوالے سے کی گئی ٹویٹ پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں پہلے ہی دنیا آپکو غداری پر فخر سے میڈل لیتے دیکھ چکی ہے
باغی ٹی وی: سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر خلیل الرحمن قمر نے ایک ٹویٹ کی جس میں انہوں نے حامد میر کے عورت مارچ کے حوالے سے ریمارکس لکھے ،بیٹی کے ہمراہ میرا جسم میری مرضی ،، مارچ میں شرکت کرونگا حامد میر
https://twitter.com/KrqOfficiaI/status/1236289658054529024?s=19
حامد میر کے ان ریمارکس کا جواب دیتے ہوئے ڈرامہ نگار نے لکھا انتظار کروں گا بیٹی کے ہمراہ وہی گھٹیا بینرز اٹھا کر تصویر لگانا جو ایک غیور باپ نہیں لگا سکتا مگر آپ کچھ بھی کر سکتے ہو
انہوں نے مزید حامد میر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا پہلے ہی دنیا آپکو غداری پر فخر سے گولڈ میڈل لیتے دیکھ چکی ہے
خلیل الرحمن قمر نے ٹویٹر صارفین اور اپنے چاہنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا صاحبان محبت ان کو ٹیگ کر کے بینرز دکھا دیں
واضح رہے کہ خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں نے آج یعنی 8 مارچ کوعالمی یوم خواتین پرملک بھر میں عورت مارچ منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا تھا اور عدالت نے بھی خواتین کو اپنے حقوق کے لیے مارچ کرنے کی اجازت دے دی تھی عدالت نے عورت مارچ کرنے کی اجازت دیتے ہوئے مارچ کے منتظمین کو ہدایت کی وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مارچ کے دوران نامناسب نعروں اور بینرز کا استعمال نہیں کیا جائے گا
عورت مارچ پر ملک بھر میں عام جلسوں سیاسی سماجی رہنماؤں سمیت ہر کسی نے اپنی رائے کا اظہار کیا اور سوشل میڈیا پر بھی عورت مارچ بحث کا موضوع بنا ہوا ہے اور یہ موضوع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب نجی ٹی وی چینل کے ایک براہ راست شو میں خلیل الرحمن قمر نے خواتین کے حقوق کی علمبردار خاتون ماروی سرمد کے لئے نازیبا الفاظ کا استعما ل کیا س کے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ایک طوفان برپا ہو گیا
جس پر متعدد معروف شخصیات نے خلیل الرحمن قمر کو اس رد عمل پر شدید تنقید کا نشانہ بنا یا اور ٹی وی چینلز سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کا سکرین پر بائیکاٹ کریں ان شخصیات میں حامد میر سمیت کئی معروف شخصیات شامل ہیں
عورت مارچ کے بارے میں اسلام پسندوں نے اپنے موقف میں کہا کہ یہ مارچ اپنی ہی ذات کے اندر نہ عقلی ہے نہ منطقی ہے اور نہ ہی اس کو شریعت کی پشت پناہی حاصل ہے
باغی ٹی وی: عورت مارچ کے بارے میں علامہ حشام الہی ظہیر نے اپنے موقف میں کہا کہ میرا جسم میری مرضی کے حوالے سے ہونے والے مارچ میں یہ نعرہ اپنی ہی ذات کے اندر نہ عقلی ہے نہ منطقی ہے نہ ہی اس کو شریعیت کی پشت پناہی حاصل ہے عام فہم بات یہ ہے کہ انسان کا اپنے جسم اور اپنے اوپر اختیار کتنا ہے
انہوں نے کہا جن لوگوں کے گھر آپ پیدا ہوئے کیا آپ کو اختیار دیا گیاتھا کہ آپ کے والدین کون ہوں گے یہ اختیار ہے کہ آپ اپنی مرضی سے والدین بہن بھائی بلڈ گروپ وطن کنبہ خاندان قبیلہ چن لیں یہ اب انسان کے پاس اللہ کی امانت ہیں
علامہ حشام نے کہا جبکہ افسوس اور دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ عورتیں علماء اور مولویوں کو ایسے ایسے القابات سے نوازتی ہیں اور کہتی ہیں یہ ہمیں گھروں میں بند کرنا چاہتے ہیں لیکن اللہ پاک فرماتا ہے تو تم اپنے گھروں میں قرار پکڑو یہ اللہ کا قول ہے کسی مولوی کا نہیں اگر عورتوں کے بارے میں یہ قول ہے تو ہمارا تعلق اس مذہب اور شریعت سے ہے جس میں ہمارے نبی پاک نے ایک صحابی سے کہا کہ گھروں میں قرار پکڑو مردوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دیا چوکوں اور چوراہوں پر نظریں جھکانے کا حکم دیا
مسلمان کے پروٹوکول کے بارے میں تو اللہ نے آسمان سے ناذل کیا ہے کہ عورت کیسے رہے گی اس کے حقوق کیا ہوں گے
یہ عورتیں چاہتی کیا ہیں میرا جسم میری مرضی جیسے نعرے لگا کر مردوں کے برابری کے حقوق کے نعرے لگا کر کیا یہ مردوں کی برابری کر سکتی ہیں کیا یہ مردوں جتنی مشقت والی مزدوری کر سکتی ہیں یہ سب کچھ نہیں کر سکتیں
مذہبی سکالر نے کہا یہ جو مافیا یہ تو عورت بریگیڈ ہے اس قبیلے کی عورت کو الو کی پٹھی جیسا خطاب ایک صاحب نے ٹی وی پر بیٹھ کر دیا اس تہذیب کے منہ پر ایک چانٹا رسید کر کہ اس الو کی پٹھی کا حلیہ بگاڑ دے، یہ کونسی سوچ اور فکر ہے یہ کونسا فلسفہ اور منطق ہے میں آپ کو شرح صدر یہ بات کہتا ہوں کہ ان عورتوں کا کردار ان عورتوں کا کلچر اُن عورتوں کی طرح جو بازار میں نچیوں کی جسم فروشی کر کے اپنے گھروں کی دال روٹی اور روزی کماتی ہیں یہ درندہ صفت عورتیں ہیں
علامہ صاحب نے کہا ملک کے اندر ریپ کی سزا کے اوپر اسلامی طبقہ جب بھی سزائے موت کی بات اٹھاتا ہے تو یہی لبرل مافیا موم بتی مافیا جو عورتوں کے حقوق کی بات کرتا ہے درمیان میں آجاتا ہے تب ان کو عورتوں کے حقوق کا یہ حق نظر نہیں آتاکہ ان کی عصمت دری نہ ہو ریپ نہ ہو یہ اپنی زیرنگرانی جسم فروشی کے اڈے چلانے والی عورتیں ہیں
مذہبی سکال نے کہا آج یورپ کی مسلمان بیٹی حجاب کی جنگ لڑ رہی ہے اور یہ پاکستان کی مغرب زدہ عورتیں ہیں یہ بے نقابی اور بے حجابی کی جنگ لڑنا چاہتی ہیں اسلامی شعور کا تمسخر اڑاتی ہیں اگر یہ عورتوں سے مخلص ہوں تو یہ ایمنداری سے ریپ کے سلسلے میں سزائے موت دینے پر ہم آواز نہ ہوں یہ جسم فروشی کے اڈے بند کرنا چاہیں یا نہ چاہیں یہ اصل میں عورتوں کی آزادی کی جنگ نہیں ہے یہ عورتوں تک آزادی کی جنگ ہے عورتوں تک رسائی کا کلچر ہے یہ ان عورتوںً کو پروموٹ کر کے اپنا کاروبار چلانا چاہتی ہیں
امر باالمعروف میں ہے کہ کسی ظلم یا برائی کو ہاتھ سے روکیں اگر نہ روک سکتے ہوں تو زبان سے روکیں یہ بھی نہ کر سکتے ہوں تو دل میں بُرو کہہ لیں افسوس کے ساتھ آج اگر ہم ایمان کی کمزوری میں ہیں اگر اپنے ہاتھ سے اس قسم کے مارچ کو روک نہیں سکتے تو آواز تو اٹھا سکتے ہیں
یہ قانون دان یہ منصف کیسے قانون پڑھے ہوئے لوگ ہیں پاکستان کا آئین اسلامی اقدار کی حفاظت کی گارنٹی دیتا ہے اسلامی اقدار کو پروموٹ کرنے کی گارنٹی دیتا ہے اسلام اور اسلامی تعلیمات کی حوصلہ افزایی کرتا ہے کیا یہ ملک سیکولرزم کے نام پر بنایا گیا تھا اگر اس ریاست کو سیکولر ریاست بنانا تھی تو ہنوستان سے علیحدہ ہونے کی ضرورت ہی کیا تھی قائداعظم اور ان کے ساتھیوں نے یہ ملک کلمے کی بنیاد پر حاصل کیا اسلامی قوانین کے مطابق زندگیاں گزارنے کے لئے حاصل کیا ہے
علامہ حشام الہی ظہیر کے مطابق کچھ قانون دانوں اور منصف دانوں کو یہ تک نہیں پتہ کہ پاکستان کے آئین میں لکھا ہے اسلامی اقدار کو فروغ دیا جائے گا آپ کو چاہیئے تھا آپ اس مارچ کو رکوانے کے لئے آرڈر جاری کرتے یہ اسلام کے ساتھ مذاق ہے یہ اسلام کا تمسخر اڑا رہی ہیں یہ کسی مولوی کا قول نہیں کہ گھروں میں قرار پکڑو یہ اللہ کا قول ہے یہ اسلامی اقدار اسلامی معاشرت اور اسلامی شریعیت کے بنیادی قوانین ہیں آپ ان پر پابندی لگانے کی بجائے ان کو اجازت دے رہے ہیں
ساہیوال:اسٹیج فنکارہ روپ چوہدری شوہر کے ہاتھوں قتل،شوہربھی جان دے گیا ، وجہ جان کرہرکوئی ہل کررہ گیا ،اطلاعات کےمطابق پنجاب کی معروف اسٹیج فنکارہ روپ چوہدری کو ان کے شوہر نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔
ذرائع کے مطابق ساہیوال کے فرینڈز تھیٹر میں جمعے کی رات روپ چوہدری کا شو تھا، شو کے بعد روپ چوہدری کا ان کے شوہر سے کسی بات پر جھگڑا ہوا۔یہ جھگڑا اس انتہا کوپہنچ گیا کہ خاوند اپنے جزبات پرقابونہ پاسکا
روپ چوہدری اور ان کے شوہر کے درمیان تُوتُو میں میں بڑھ کر ہاتھا پائی پر جاپہنچی اور پھر شوہر نے پہلے روپ چوہدری کو فائرنگ کرکے قتل کیا اور پھر خود کو بھی گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کردیا جائے گا، تھیٹر کو سیل کرکے واقعے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔پولیس ان ہلاکتوں کے محرکات جاننے کی بھرپورکوشش کررہی ہے،
روپ چوہدری کا اصل نام سمیرا تھا اور سٹیج کی دنیا میں انہیں روپ چوہدری کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ان کا تعلق بہاولپور سے تھا
میں عورت مارچ کے مخالف ہوں عورت مارچ کا خواتین کے حقوق سے کیا لینا دینا پی ٹی آئی جوائنٹ سیکرٹری سندھ دعا بھٹو
باغی ٹی وی: عورت مارچ کےحوالے سے پی ٹی آئی جوائنٹ سیکرٹری سندھ دعا بھٹو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنا ایک ویڈیو پیغام شئیر کیا
میں عورت مارچ کی مخالف ہوں عورت مارچ کا خواتین کےحقوق سےکیاتعلق ہے؟کھاناخودگرم کرو، میرا جسم میری مرضی اورفحش سلوگنز؟نہیں عورت کا باپ اسکامان ہےاسکابھائی اسکارکھوالااسکاشوہراسکی عزت ہےاورعورت کےحقوق وراثت میں حصہ ہے معاشرےمیں مقام ہے#WeRejectMeraJismMeriMrzipic.twitter.com/CTly58vUNW
انہوں نے کہا کہ اس مارچ میں ایک عزت دار عورت آپ کا بالکل ساتھ نہیں دے گی پی ٹی آئی کارکن نے کہا کہ ہمارے والد صاحب ہمارے فخر ہیں پمارا بھائی ہمارا غرور ہیں ہمارا شوہر ہمارا مسیحا ہے یہ ہیں تو ہم ہیں ہم ہیں تو یہ ہیں
انہوں نے مزید کہا کہ آپ کس طرح کی آزادی چاہتے ہیں? اور اس کو میں سپورٹ کیسے کروں گی ?ہاں آپ نکلیں آپ پر تیزاب پھینکا جاتا اس کے لئے نکلیں آپ جہیز کے لئے نکلیں جہیز کے لئے مارا جاتا ہے زیادتی کی جاتی ہے ظلم کئے جاتے ہیں ایسے سلوگنز لکھیں تو ہر عورت آپ کا ساتھ دے گی میں آپکا ساتھ دوں گی
انہوں نے کہا ہر سیاسی عورت ہر طبقے کی عورت آپ کا ساتھ دے گی ایسے ظلم کے لئے آپ آواز اٹھاتے ان کو آپ ٹاپ ٹرینڈ رکھتے لیکن اگر آپ بے حیائی کو تاپ ٹرینڈ رکھیں تو آپکا بالکل بھی کوئی ساتھ نہیں دے گا
دعا بھٹو نے کہا کہ ہمارے ملک میں اور بہت بڑی بڑی مثالیں ہیں جن کو آزادی دی گئی جو آزاد ہیں جو آزادی سے گھوم پھر رہے ہیں تو اگر آپ ایسے سلوگنز لے کر آزادی مانتے ہیں تو کس طرح کی آزادی مانگتے ہیں یہ سب جانتے ہیں کہ آپ کس طرح کی آزادی مانگتے ہیں عزت دار عورت اس چیز میں کبھی بھی آپکا ساتھ نہیں دے گی اور میں تو بالکل بھی نہیں دون گی
انہوں نے ویڈیو پیغام کے کیپشن میں لکھا کہ میں عورت مارچ کے خلاف ہوں عورت مارچ کا خواتین کے حقوق سے کیا تعلق ہے کھان خود گرم کرو اور میرا جسم میری مرضی فحش سلوگنز نہیں عورت کا باپ اس کا مان ہے اس کا بھائی اس کا رکھوالا اور اس کا شوہر اس کی عزت ہے اور عورت کے حقوق وراثت میں حصہ ہے معاشرے میں مقام ہے
انہوں نے ہیش ٹیگ ووئی ریجیکٹڈ میرا جسم میری مرضی استعمال کیا
واضح رہے کہ خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں نے 8 مارچ کوعالمی یوم خواتین پرملک بھر میں عورت مارچ منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے اور عدالت نے بھی خواتین کو اپنے حقوق کے لیے مارچ کرنے کی اجازت دے دی ہے عدالت نے عورت مارچ کرنے کی اجازت دیتے ہوئے مارچ کے منتظمین کو ہدایت کی وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مارچ کے دوران نامناسب نعروں اور بینرز کا استعمال نہیں کیا جائے گا
عورت مارچ پر ملک بھر میں عام جلسوں سیاسی سماجی رہنماؤں سمیت ہر کوئی اپنی رائے کا اظہار کرتا دکھائی دیتا ہےاور سوشل میڈیا پر بھی عورت مارچ بحث کا موضوع بنا ہوا ہے اور یہ موضوع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب نجی ٹی وی چینل کے ایک براہ راست شو میں خلیل الرحمن قمر نے خواتین کے حقوق کی علمبردار خاتون ماروی سرمد کے لئے نازیبا الفاظ کا استعما ل کیا س کے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ایک طوفان برپا ہو گیا سوشل میڈیا پر ہر کوئی اپنی رائے کے مطابق اس مسئلے پر بات کر رہا ہے
معروف مذہبی سکالر اور عالم دین علامہ خادم حسین رضوی نے کہا کہ خلیل الرحمن ان مولوں اور پیروں سے آگے نکل گیا ہے جو دین کا کھاتے ہیں اور اس کی بات نہیں کرتے
باغی ٹی وی : گذشتہ چند روز قبل میرا جسم میری مرضی نعرہ لگانے پر خلیل الرحمن قمر نے مارقی سرمد کو نجی ٹی وی چینل کے لائیو شو میں کھری کھری سناتے ہوئے ان کے جسم پر تنقید کی تھی اور نازیبا الفاظ استعمال کئے تھے جس کے بعد عورت مارچ اور ان کی لڑائی کو لے کر سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہو گیا ہے
کچھ لوگوں نے خلیل الرحمن قمر کر تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کا ٹی وی چینلز پر بائیکاٹ کرنےے کا مطالبہ کیا جبکہ اکثر لوگوں نے خلیل الرحمن قمر کو سپورٹ کیا اور ان کے اس رد عمل کو سراہا ان میں معروف عالم دین علامہ خا دم رضوی بھی ہیں جو خلیال الرحمن قمر می حمایت میں سامنے آ گئے ہیں
عالم دین نے اپنی ایک تقریر میں خلیل الرحمن کے اس ردعمل کی تعریف کرتے ہوئے مذہبی علماء کو تنقید کا نشانہ بنایا انہوں نے کہا کہ خلیل قمر ان لاکھوں مولویوں اور پیروں سے آگے نکل گیا ہے جو دین کے نام کا کھاتے ہیں اور اس کی بات نہیں کرتے لیکن خلیل قمر کسی بات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اسلام کے لئے اس بات پر اس عورت سے الجھ پڑا وہ دین کی خاطر الجھا
انہوں نے کہا کہ ہماری محبت اور دشمنی دونوں اللہ کے لئے ہیں ایک عورت ہمارے معاشرے میں کیچڑ پھیلانا چاہتی ہے اور گھروں میں بیٹھی ہوئیں اسلامی بچیاں اس عورت مارچ کے لئے اپنے والدین یہ کہیں گی کہ ہمارا جسم ہماری مرضی جو اس نے بات کی ہے وہ ٹھیک کہی ہے کہ تم ہمارے معاشرے میں کیوں گندگی پھیلا رہی ہو تمہیں یہ حق کس نے دیا ہے
انہوں نے کہا کہ برض دفعہ ایک جملہ بھی انسان کو بہت اوپر لے جاتا ہے جو کہ خلیل قمر نے کیا اس نے اسلام کے لئے جو بات کی اللہ اس پر دنیا و آخرت میں ضرور رحم فرمائے گا
انہوں نے اسلامی جماعتوں اور علماء کو تنقید کا نشںانہ بناتے ہوئے کہا کہ بڑے بڑے جبہ دستاروں اور بڑی بڑی اسلامی جماعتیں بنا کر ساٹھ ساٹگھ لاکھ مرید بنا کر بھی یہ اسلام کی غیرت کی بات نہیں کرتے ا ن کو اخلاقیات کی پڑی ہوتی ہے انہوں نے مزید کہا کہ بزدلو کبھی غیرت کی بات نہیں کی اور اپنی اس بے شرمی کو اخلاقیات کا نام دیتے ہو
انہوں نے کہا کہ جن حضور کی غیرت اور دین کی بات کی جائے تو خلیل قمر کی طرح ہی بات کرنی چاہیئے اس نے اس موزوں پر بالکل اسی مزوں کے مطابق ہی بات کی ہے علامہ خادم رضوی نے کہا کہ میں نے آج مسھم بات کی کیونکہ خلیل الرحمن قمر نے سب کی طرف سے قرض اتار دیا ہے بات وہ ہوتی ہے جو وقت پر کی جائے اور جیسا خلیل قمر نے کیا
انہوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ریاست مدینہ کے سربراہ صاحب کو پتہ ہی نہیں کیا ہو رہا ہے انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ریاست مدینہ میں یہ سب کچھ ہوتا ہے جو یہاں ہو رہا ہے کیا وہاں کی عورتیں مدینے کی سڑکوں پر نکل کر ایسے نعرے لگاتی ہیں انہوں نے کہا ریاست مدینہ سے تمہاری مراد کونسی ریاست ہے
مذہبی سکالر نے مزید کہا کہ کسی نے بتایا ہو گا کہ مدینہ کا مطلب شہر ہوتا ہے تو جونسا مرضی شہر لگالو اگر اس سے مراد مدینہ پاک ہوتا تو کیا عورتیں آپکے ملک میں میرا جسم میری مرضی نعرے لگا سکتیں کیا ایک مسلمان ایسی بات کر سکتا ہے نہیں یہ سوال ہی پیدا نہیں پوتا اسلام میں ان سب چیزوں کی اجازت نہیں
انہوں نے کہا کہ عورت کو تو صفا مروہ کے درمیان بھاگنے کی اجازت اسلام نہیں دیتا اتنی پاکیزہ جگہ پر جہاں حضرت ہاجرہ دوڑیں وہاں پر خواتین کو بھاگنے کی اجازت نہیں تو سڑکوں پر عورتوں کو نکلنے کی بھاگنے کی اسلام اجازت کیسے دیتا ہے
انہوں نے کہا کہ اللہ کے عذاب سے ڈرو مزید اللہ کے عذاب کو دعوت نہ دو اللہ بے نیاز ہے انہوں نے کہا جب انسان کھلم کھلا ننگا ہو جائے تو اللہ معاف فرما دیتا ہے لیکن جب بے باک ہو جائےتو اس کی گرفت بہت بُری ہے
انہوں نے مزید کہا کہ علامہ اقبال نے فرمایا تھا کہ جب بھی مسلمان خواتین کی نگاہ اٹھے تو مغرب کے میدانوں تہذیب و تمدن اور یورپ کی جدیدیت کی طفر نی اٹھے بلکہ سیدہ فاطمہ الزاہرہ کے اسوہ حسنہ کی طرف جائے
معروف ملٹی میڈیا جرنلسٹ جویریہ صدیقی نے کہا انہیں اچھا لگتا ہے جب مرد احترام میں اپنی نشست خواتین کو دے دیتے ہیں
باغی ٹی وی: معروف جرنلسٹ مونا خان نے عورت مارچ کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کیا تھا جہ مجھے اچھا لگتا ہے اپنے مرد سے مقابلہ نہ کرنا اور اس سے ایک درجہ کمزور رہنا جب وہ مجھے ٹھنڈک لگ جانے کے ڈر سے اپنا کوٹ اتار کر میرے شانوں پر ڈال دیتا ہے جب وہ ہر قدم پر اپنے ساتھ ہونے کا یقین دلاتا ہے مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ اپن احق جتاتے ہوئے کہتا ہے کہ تم میری ہو
مجھے اچھا لگتا ہے جب اے ٹی ایم یا بینک کی لمبی لاٸن میں کھڑے مرد عورت کے احترام میں اسے اپنی جگہ دیتے ہوۓ ساٸیڈ پر ہوجاتے ہیں۔ https://t.co/oTEy9ZDiEe
ان کی اس ٹویٹس کا جواب دیتے ہوئے نادیہ مرزا نے لکھا تھا کہ مجھے اچھا لگتا ہے جب ای ٹی ایم یا بینک کی لمبی لائن میں کھڑے مرد عورت کے احترام میں اسے اپنی جگہ دیتے ہوئے سائیڈ پر ہو جاتے ہیں
ان کے اس ٹویٹ کا کمنٹ مونا خان نے کچھ اس طرح کیا تھا کہ جی بالکل اکثر ایسا ہوا ہے بینک میں بل جمع کروانے جاؤ تو وہ بھی ترجیحی بنیادوں پر ہو جاتا ہے بغیر انتظار کئے
اب جرنلسٹ جویریہ صدیقی نے بھی نادیہ مرزا کی ٹویٹ کا ری ٹویٹ کیا اور عورت مارچ اور آزادی کے بارے میں اور مردوں کا عورتوں کو معاشرے میں دیئے جانے والے احترام کو اجاگر کرتے ہوئے لکھا کہ مجھے اچھا لگتا ہے جب مرد احترام میں اپنی نشست خواتین کو دے دیتے ہیں
ان کے اس ٹویٹس پر لوگوں نے بھی مخلتف کمنٹس کئے ان کو سراہا اور بعض صارفین نے اس حوالے سے اپنے اپنے تجربات بھی لکھے
ایک صارف نے لکھا کہ ہم پنجاب پولیس سے اپیل کرتے ہیں وہ عورت مارچ کے دوران خواتین پر لاٹھی چارج کر کے انہیں مردوں کے برابر ہونے کا پہلا حقوق دیا جائے
اینکر پرسن اور جرنلسٹ نادیہ مرزا نے کہا کہ مجھے اچھا لگتا ہے جب بینک میں لمبی لائن میں کھڑے مرد عورت کو احترام میں اسے اپنی جگہ دیتے ہوئے سائیڈ پر ہو جاتے ہیں
باغی ٹی وی: معروف جرنلسٹ مونا خان نے عورت مارچ کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کیا تھا جہ مجھے اچھا لگتا ہے اپنے مرد سے مقابلہ نہ کرنا اور اس سے ایک درجہ کمزور رہنا جب وہ مجھے ٹھنڈک لگ جانے کے ڈر سے اپنا کوٹ اتار کر میرے شانوں پر ڈال دیتا ہے جب وہ ہر قدم پر اپنے ساتھ ہونے کا یقین دلاتا ہے مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ اپن احق جتاتے ہوئے کہتا ہے کہ تم میری ہو
مجھے اچھا لگتا ہے جب اے ٹی ایم یا بینک کی لمبی لاٸن میں کھڑے مرد عورت کے احترام میں اسے اپنی جگہ دیتے ہوۓ ساٸیڈ پر ہوجاتے ہیں۔ https://t.co/oTEy9ZDiEe
مونا خان کی اس ٹویٹ کو جرنلسٹ نادیہ مرزا نے ری ٹویٹ کیا اور اپنے خیالات کا اظہار مونا خان کے ہی الفاظ میں کیا انہوں نے لکھا کہ مجھے اچھا لگتا ہے جب ای ٹی ایم یا بینک کی لمبی لائن میں کھڑے مرد عورت کے احترام میں اسے اپنی جگہ دیتے ہوئے سائیڈ پر ہو جاتے ہیں
مونا خان نے ان کی اس ٹویٹ کی تائید ک اور لکھا کہ جہ بالکل اکثر ایسا ہوا ہے بینک میں بل جمع کروانے جاؤ تو وہ بھی ترجیحی بنیادوں پر ہو جاتا ہے بغیر انتظار کئے
ا ن کے علاوہ بھی صارفین نے نادیہ مرزا کی ٹویٹ کو سراہا اور مختلف کمنٹس کئے
اسلام کی خاطر شوبز کو خیر باد کہہ دینے والے اداکار فیروز خان نے عورت مارچ کے حوالے سے قرآن پاک کی ایک آیت شئیر کر دی
باغی ٹی وی: گذشتہ روز اسلام کی خاطر شوبز کو خیر باد کہہ دینے والے اداکار فیراز خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر حالیہ زیر بحث موزوں عورت مارچ کے حوالے سے ایک آیت شئیر کر کے اپنے خیالات کا اظہار کیا
فیروذ خان نے قرآن پاک کی سورۃ احزاب کی عورتوں کے پردے کے حوالے سے آیت نمبرانسٹھ شئیر ترجمہ: اے نبی! اپنی بیبیوں صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دو کہ اپنی چادر کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو تو ستائی نہ جائیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے
یہ آیت فیروزخان نے حالیہ زیر بحث موزوں عورتوں کے حقوق کے لئے کئے جانے والے عورت ذادی مارچ کی مناسبت سے کی ہے
واضح رہے کہ فیروز خان نے شوبز انڈسٹری کو خیر باد کہہ دیا،بقیہ زندگی اسلامی تعلیمات کےمطابق گزارنے کا اعلان بھی کردیاہے
فیروز خان کی فلم ٹچ بٹن رواں سال عیدالفطر پر ریلیز ہوگی جس میں اداکار و گلوکار فرحان سعید اور ایمان اور زارا ان کے ساتھ مرکزی کرداروں میں نظر آئیں گے